عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ مَکَثْنَا ذَاتَ لَےْلَۃٍنَنْتَظِرُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلٰو ۃَ الْعِشَآءِ الْاٰخِرَۃِ فَخَرَجَ اِلَےْنَا حِےْنَ ذَھَبَ ثُلُثُ الَّلےْلِ اَوْ بَعْدَہُ فَلَا نَدْرِیْ اَشَےْئٌ شَغَلَہُ فِیْ اَھْلِہٖ اَوْ غَےْرُ ذَالِکَ فَقَالَ حِےْنَ خَرَجَ اِنَّکُمْ لَتَنْتَظِرُوْنَ صَلٰوۃً مَّا ےَنْتَظِرُھَا اَھْلُ دِےْنٍ غَےْرَکُمْ وَلَوْلَا اَنْ ےَّثْقُلَ عَلٰی اُمَّتِیْ لَصَلَّےْتُ بِھِمْ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ ثُمَّ اَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَصَلّٰی۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک رات ہم عشاء کی نماز کے لئے بہت دیر تک بیٹھے ہوئے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرتے رہے۔ رسول اللہ ﷺ تہائی یا اس سے بھی زیادہ رات جانے کے بعد تشریف لائے اور ہمیں معلوم نہیں کہ آپ ﷺ گھر کے کام میں مشغول رہے تھے (کہ عادت کے مطابق سویرے نماز پڑھنے تشریف نہیں لائے) یا اس کے علاوہ (آپ ﷺ کی ذات اقدس کو کوئی عذر پیش آگیا تھا) آنحضور ﷺ نے آکر فرمایا تم لوگ نماز کا انتظار کر رہے تھے (اور تمہارے لئے یہ مناسب بھی تھا کیونکہ) نماز کا انتظار تو تم ہی لوگ کیا کرتے ہو۔ تمہارے سوا کسی اور دین والوں نے نماز کا انتظار نہیں کیا۔ اور اگر مجھے اپنی امت پر گراں گزرنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اس نماز کو ہمیشہ اسی وقت پڑھا کرتا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے (تکبیر کا) حکم دیا اس نے تکبیر کہی اور آپ ﷺ نے نماز پڑھائی۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ تمہارے سوا کسی بھی دین کے لوگ (یعنی یہود و نصاری) عشاء کی نماز کا انتظار نہیں کرتے تھے کیونکہ یہ نماز تو صرف اسی امت کے ساتھ مخصوص فرمائی گئی ہے اور کسی امت کو نصیب نہیں ہوئی ہے لہٰذا تم اس وقت جب کہ آرام کرنے کا وقت ہے اپنے نفس پر قابو پا کر اور مشقت اٹھا کر نماز کا جتنا زیادہ انتظار کرو گے اتنا ہی زیادہ ثواب پاؤ گے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عشاء کی نماز تہائی رات کے وقت پڑھنا افضل ہے جیسا کہ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک ہے مگر جہاں تک رسول اللہ ﷺ کے عمل کا تعلق ہے تو یہ بھی ثابت ہے کہ جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کا اکثر حصہ اول وقت جمع ہوجاتا تھا تو آپ ﷺ اول وقت ہی نماز پڑھ لیتے تھے اور جو حضرات تاخیر سے جمع ہوتے تھے وہ دیر سے پڑھتے تھے چناچہ حضرت امام احمد بن حنبل (رح) کا مسلک بھی یہی ہے کہ جو نمازی اوّل وقت جمع ہوجائیں اول وقت نماز پڑھ لیں اور جو نمازی تاخیر سے جمع ہوں وہ دیر کر کے پڑھیں۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَقَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یُصَلِّی الصَّلَوٰاتِ نَحْوًا مِنْ صَلٰوتِکُمْ وَکَانَ یُؤَخِّرُالْعَتَمَۃَ بَعْدَ صَلٰوتِکُمْ شَیْعًا وَکَانَ یُخَفِّفُ الصَّلٰوۃَ ( مسلم )
اور حضرت جابر ابن سمرہ ؓ نے (لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ تمہاری نمازوں کے قریب قریب (اوقات میں) نماز پڑھا کرتے تھے مگر عشاء کی نماز تمہاری نماز سے کچھ دیر کر کے پڑھتے تھے اور ہلکی نماز پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
نہی کے باوجود حضرت جابر ؓ نے عشاء کو عتمہ اس لئے کہا ہے کہ شاید اس وقت تک ان کو نہی کا حکم معلوم نہیں ہوا ہوگا یا پھر یہ نام چونکہ اہل عرب میں پہلے سے جانا پہچانا جاتا تھا اس لئے انہوں نے یہ سوچ کر کہ اس نام سے لوگ اس نماز کو اچھی طرح پہچان لیں گے عتمہ ہی کہا۔ بہر حال یہ حدیث بھی اس بات پر بصراحت دلالت کرتی ہے کہ عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنا ہی افضل و مستحب ہے۔ ہلکی نماز پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھا کرتے تھے مگر علامہ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نماز میں چھوٹی چھوٹی سورتیں اس وقت پڑھتے تھے جب کہ امامت فرماتے اور ضعیف و کمزور لوگوں کی رعایت مد نظر ہوتی۔ اور ویسے بھی یہ بات باعتبار اکثر کے فرمائی گئی ہے کیونکہ یہ بھی ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے مغرب کی دونوں رکعتوں میں سورت اعراف بھی پڑھی ہے۔ اور میں تو کہتا ہوں کہ آپ ﷺ کا اتنی بڑی بڑی سورتیں پڑھنا بھی لوگوں پر گراں نہیں گزرتا تھا۔ یعنی آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ایسا کیف و سرور محسوس ہوتا تھا کہ طویل قرأت بھی انہیں ہلکی ہی معلوم ہوتی تھی اور ازراہ شوق طویل قرأت میں زیادتی کے طالب رہتے تھے اس کے برخلاف دوسرے لوگوں کی امامت میں یہ بات حاصل ہونا مشکل ہے۔
وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ صَلَّیْنَا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَاۃَ العَتَمَۃِ فَلَمْ یَخْرُجْ حَتّٰی مَضٰی نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّیْلِ فَقَالَ خُذُوْامَقَاعِدَ کُمْ فَاَخَذْنَا مَقَاعِدَنَا فَقَالَ اِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُوا وَاَخَذُوْا مَضَا جِعَھُمْ وَ اِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوْ افِیْ صَلَاۃٍ مَا انْتَظَرْ تُمُ الصَّلَاۃَ وَلَوْ لَا ضَعْفُ الضَّعِیْفِ وَسَقْمُ السَّقِیْمِ لَاَ خَّرْتُ ھٰذِہِ الصَّلٰوۃَ اِلٰی شَطْرِ اللَّیْلِ۔ (رواہ ابوداؤ والنسائی )
اور حضرت ابوسعید ؓ فرماتے ہیں کہ ہم (ایک دن) رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جماعت کے ساتھ (باجماعت) نماز پڑھنے گئے۔ (اتفاق سے اس روز) رسول اللہ ﷺ آدھی رات کے قریب تک تشریف نہ لائے (بعد ازاں آکر ہم سے) ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہنا، چناچہ ہم اپنی جگہوں (سے اٹھے نہیں بلکہ وہیں) پر بیٹھے رہے (اس کے بعد) آپ ﷺ نے فرمایا دوسرے لوگوں نے نماز پڑھ کر اپنے اپنے بستر سنبھال لئے ہیں اور (تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ) جب تک تم نماز کے انتظار میں رہو گے تمہارا یہ سارا وقت نماز ہی میں شمار کیا جائے گا (یعنی تمہیں اس انتظار کی وجہ سے برابر نماز پڑھنے کا ثواب ملتا رہے گا) اور اگر مجھے ضعیفوں کی کمزوری اور بیماروں کی بیماری کا خیال نہ ہوتا تو میں ہمیشہ یہ نماز آدھی رات تک دیر کر کے پڑھا کرتا۔ (ابوداؤد، سنن نسائی)
تشریح
جیسا کہ پہلے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرز چکا ہے کہ (مسلمانوں کے علاوہ) کسی بھی دوسرے دین کے لوگ عشاء کی نماز کا انتظار نہیں کرتے، لہٰذا اس ارشاد کی روشنی میں حدیث کے الفاظ دوسرے لوگوں نے نماز پڑھ کر اپنے اپنے بستر سنبھال لئے ہیں، کی تشریح یہ کی جائے گی کہ دوسرے دین کے لوگ (مثلاً یہود و نصاری) تو شام کی نماز پڑھ کر یا اپنے مذہب کے مطابق عبادت کر کے اپنے اپنے بستروں پر جا کر نیند کی آغوش میں پہنچ گئے مگر چونکہ تمہارے نصیب میں اس نماز کی سعادت و فضیلت لکھی ہوئی ہے۔ اس لئے تم اب اس سعادت و فضیلت کی تکمیل کی خاطر نماز کی انتظار میں بیٹھے ہوئے ہو۔ اور چونکہ تم اپنا آرام اپنی نیند اور اپنا چین سب اپنے پروردگار کی عبادت کے انتظار میں لٹا چکے ہو اس لئے تمہارا پروردگار بھی اس محنت و مشقت کا صلہ اس طرح تمہیں دے گا کہ تمہارے اس انتظار کے ایک ایک لمحے کو سراپا عبادت و باعث سعادت بنا دے گا بایں طور پر کہ تمہارا یہ جتنا وقت انتظار میں گزرا ہے یا جتنا وقت گزرے گا تو سمجھو کہ وہ نماز ہی میں گزرا ہے یا گزرے گا یعنی جتنا ثواب نماز پڑھنے کا ملتا ہے اتنا ہی ثواب اس انتظار کا بھی ملے گا۔ یا پھر اس جملے کا مطلب یہ ہوگا کہ دوسرے محلوں کے مسلمان جو اس مسجد میں حاضر نہیں ہیں عشاء کی نماز پڑھ کر سو رہے ہیں اور تم لوگ اب تک نماز عشاء کے انتظار میں یہاں بیٹھے ہو اس طرح ان مسلمانوں کے مقابلے میں تم زیادہ ثواب و فضیلت کے حقدار بنو گے، یہی معنی ما بعد کے الفاظ ( وانکم لن ترالو الخ) کے زیادہ قریب اور مناسب ہیں۔ بہر حال۔ یہ حدیث بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عشاء کی نماز میں آدھی رات تک تاخیر جائز ہے بلکہ عبادت کے سلسلے میں زیادہ محنت و مشقت اٹھانے کی وجہ سے مستحب اور افضل ہے۔
وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلماَشَدَّ تَعْجِیْلًا لِلظُّھْرِ مِنْکُمْ وَاَنْتُمْ اَشَدَّ تَعْجِیْلًا لِلْعَصْرِ مِنْہُ۔ (رواہ احمد بن حنبل الترمذی)
اور حضرت ام سلمہ ؓ نے (لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز (گرمی کے علاوہ دوسرے موسموں میں) تم سے بہت زیادہ جلدی پڑھتے تھے اور تم عصر کی نماز پڑھنے میں رسول اللہ ﷺ سے زیادہ جلدی کرتے ہو۔ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی )
تشریح
حضرت ام سلمہ ؓ کا مقصد اتباع سنت پر لوگوں کو رغبت دلانا اور متوجہ کرنا ہے کہ ہر جگہ اور ہر موقع پر رسول اللہ ﷺ کی اتباع کرنے میں ہی بھلائی وسعادت ہے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عصر کی نماز میں تاخیر کرنا مستحب ہے۔ جیسا کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک ہے۔
وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا کَانَ الْحَرُّاَبْرَدَ بِالصَّلَاۃِ وَاِذَا کَانَ الْبَرْدُ عَجَّلَ۔ (رواہ النسائی )
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (ظہر کی) گرمی کے موسم میں ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے اور سردی کے موسم میں جلدی پڑھ لیتے تھے۔ (سنن نسائی)
تشریح
ظہر کے وقت کے سلسلے میں احادیث میں جو تعارض ہے کہ بعض حدیثوں سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ظہر کی نماز دیر (لیٹ) کر کے پڑھتے تھے اور بعض حدیثوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جلدی پڑھ لیتے تھے۔ اس حدیث سے یہ تعارض ختم ہوجاتا ہے بایں طور کہ گرمی کے موسم میں تو آپ ﷺ ظہر کی نماز تاخیر سے پڑھا کرتے تھے اور سردی کے موسم میں جلدی پڑھتے تھے۔
وَعَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلماِنَّھَا سَتَکُوْنُ عَلَیْکُمْ بَعْدِی اُمَرَاءُ یَشْغَلُھُمْ اَشْیَاءُ عَنِ الصَلَاۃِ لِوَ قْتِھَا حَتّٰی یَذْھَبَ وَقْتُھَا فَصَلُّوا الصَّلَاۃَ لِوَقْتِھَا فَقَالَ رَجُلٌ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اُصَلِّیْ مَعَھُمْ قَالَ نَعَمْ۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت عبادہ ابن صامت ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ میرے بعد عنقریب تم پر ایسے (لوگ) حاکم ہوں گے جنہیں دنیا کے چیزیں (یعنی خواہشات نفسانی) وقت (مستحب) پر نماز پڑھنے سے باز رکھیں گی، یہاں تک کہ نماز کا وقت نکل جائے گا (یعنی وقت کراہت آجائے گا) لہٰذا تم اپنی نمازیں وقت پر پڑھتے رہنا (خواہ تنہا ہی کیوں نہ پڑھنی پڑے) ایک آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا پھر (دوبارہ) ان کے ساتھ بھی نماز پڑھیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں! (ان کے ساتھ بھی پڑھ لیا کرنا تاکہ ثواب بھی زیادہ ملے اور حکام کی مخالفت کرنے کی وجہ سے فتنہ و فساد بھی پیدا نہ ہو)۔ (سنن ابوداؤد)
وَعَنْ قَبِیْصَۃَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَکُوْنُ عَلَیْکُمْ اُمَرَاءُ مِنْ بَعْدِی یُؤَخِرُوْنَ الصَّلَاۃَ فَھِیَ لَکُمْ وَھِیَ عَلَیْھِمْ فَصَلُّوْا مَعَھُمْ مَا صَلُّوا الْقِبْلَۃَ۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت قبیصہ ابن وقاص ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے بعد تم پر ایسے حاکم ہوں گے جو نماز (وقت مستحب سے) تاخیر کر کے پڑھیں گے اور وہ نماز تمہارے لئے تو مفید ہوگی اور ان کے لئے وبال ہوگی لہٰذا جب تک وہ قبلہ (یعنی کعبتہ اللہ) کی طرف نماز پڑھتے ہیں تم بھی ان کے ساتھ نماز پڑھتے رہنا۔ (ابوداؤد)
تشریح
فائدہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے وقت مستحب کی فضیلت حاصل کرنے کی خاطر ان کی نماز سے پہلے نماز پڑھ لی۔ اور پھر اس کے بعد ان کے ساتھ بھی پڑھی تو یہ دوسری نماز تمہارے لئے نفل ہوجائے گی جس کی وجہ سے تمہیں بہت زیادہ ثواب ملے گا اور اگر ان کی نماز سے پہلے نماز نہ پڑھی بلکہ ان کے ہمراہ پڑھی تو اس کے لئے تم پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا کیونکہ ان کے ساتھ وقت مکروہ میں تمہارا نماز پڑھنا فتنے کے خوف اور فساد کے دفعیہ کی غرض سے ہوگا۔ اسی طرح وبال کا مطلب یہ ہے کہ وہ نماز ان کے لئے مواخذہ کا باعث ہوگی کہ جب وہ وقت مختار میں نماز ادا کرنے پر قادر تھے تو وقت سے تاخیر کر کے غیر مطلوب وقت میں نماز کیوں پڑھی اور پھر یہ کہ امور دنیا نے انہیں امور عقبی کی انجام دہی سے باز رکھا جو یقینًا کسی مسلمان کے لئے مناسب نہیں۔
عَنْ عُبَےْدِاللّٰہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخَےَّارِ اَنَّہُ دَخَلَ عَلٰی عُثْمَانَ وَھُوَ مَحْصُوْرٌ فَقَالَ اِنَّکَ اِمَامُ عَآمَّۃٍ وَّنَزَلَ بِکَ مَا تَرٰی وَےُصَلِّیْ لَنَااِمَامُ فِتْنَۃٍ وَنَتَحَرَّجُ فَقَالَ الصَّلٰوۃُ اَحْسَنُ مَا ےَعْمَلُ النَّاسُ فَاِذَا اَحْسَنَ النَّاسُ فَاَحْسِنْ مَعَھُمْ وَاِذَا اَسَآءُ وا فَاجْتَنِبْ اِسَآءَ تَھُمْ۔ (صحیح البخاری)
اور حضرت عبیداللہ ابن عدی ابن خیار کے بارے میں منقول ہے کہ وہ حضرت عثمان غنی ؓ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب کہ وہ (اپنی شہادت سے پہلے بغاوت کے ایام میں اپنے مکان کے اندر) محصور تھے چناچہ (عبیدا اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ سے) میں نے عرض کیا کہ آپ ہم سب کے امام (اور امیر) ہیں اور آپ پر جو کچھ مصائب و پریشانیاں) نازل ہوئی ہیں وہ آپ بھی دیکھ رہے ہیں اور (ہمارا حال یہ ہے کہ) ہمیں فتنے و فساد کا ایک امام نماز پڑھاتا ہے (جس کے پیچھے نماز پڑھنا) گناہ سمجھتے ہیں، (یہ سن کر) حضرت عثمان غنی ؓ نے فرمایا کہ نماز پڑھنا لوگوں کے تمام اعمال سے بہتر و افضل ہے۔ لہٰذا جب لوگ نیکی و بھلائی کریں تو تم بھی ان کے ساتھ نیکی و بھلائی کرو اور اگر وہ برائی کریں تو تم ان کی برائیوں سے بچو۔ (صحیح البخاری )
تشریح
فتنہ و فساد کے امام سے مراد باغیوں کا سردار ہے جس کا نام کنانۃ ابن بشیر تھا۔ حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی نیکیوں میں تو شریک رہو یعنی اگر وہ نیک کام کریں تو تم بھی ان کے ساتھ مل کر وہی نیک کام کرو البتہ ان کی بدی میں شریک نہ رہو۔ اور نماز کا پڑھنا نیک ہی عمل ہے اس لئے باغیوں کے سردار کے پیچھے تمام پڑھ سکتے ہو اسے گناہ کی بات نہ سمجھو۔ حضرت عثمان غنی ؓ کے اس ارشاد سے ان کے عدل و انصاف اور ان کے حلم و بردباری کے عظیم وصف پر روشنی پڑتی ہے کہ انہوں نے ایک ایسے سخت موقعہ پر جب کہ باغیوں نے اپنے ظلم و ستم کی انتہا کرتے ہوئے انہیں مکان میں محصور کر رکھا تھا اور ان کے اوپر تکالیف و پریشانیوں کے پہاڑ توڑ رہے تھے تو انہوں نے اس وقت بھی ان کی نیکی اور بھلائی کو از راہ بغض و انتقام برائی سے تعبیر نہیں کیا بلکہ اسے اچھا ہی کہا۔ یہ ارشاد اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ ہر نیک و بد آدمی کے پیچھے نماز جائز ہوجاتی ہے جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے۔
وَعَنْ عُمَارَۃَ بْنِ رُوَےْبَۃَ ص قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ لَنْ ےَّلِجَ النَّارَ اَحَدٌ صَلّٰی قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِھَاےَعْنِی الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ۔ (صحیح مسلم)
حضرت عمارہ ابن رویبہ ؓ ( حضرت عمیرہ رویبہ کے صاحبزادے اور قبیلہ بنی جثم بن ثقیف سے ہیں اور کوفی ہیں ١٢)۔ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے سورج نکلنے اور چھپنے سے پہلے ( دو نمازیں) یعنی فجر اور عصر کی پڑھیں تو وہ دوزخ میں ہرگز داخل نہیں ہوگا۔ (رواہ صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو آدمی ان دونوں نمازوں کو پابندی سے پڑھتا رہے تو وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا۔ بظاہر یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو آدمی ان دونوں نمازوں پر مداومت کرے گا، وہ دوسری نمازوں کو چھوڑنے یا دوسرے گناہوں کے صدور کے سبب دوززخ میں داخل نہیں کیا جائے گا حالانکہ جمہور علماء کرام کے نزدیک یہ بات ثابت ہے کہ نمازیں صغیرہ گناہوں کا کفارہ تو ہوجاتی ہیں۔ کبیرہ گناہوں کا نہیں ہوتیں۔ چناچہ علامہ طیبی نے اس حدیث کی توجیہہ یہ بیان کی ہے کہ چونکہ صبح کا وقت عام طور پر آرام کا ہوتا ہے اسی طرح شام کا تجار وغیرہ کی مشغولیت کا ہوتا ہے لہٰذا جو آدمی ان دونوں موانع کے باجود ان دونوں نمازوں کی مخافظت کرتا ہے تو وہ بزبان حال اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ وہ دوسرے اعمال میں بھی کمی زیادتی کرنے والا نہیں ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔ آیت ( اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَا ءِ وَالْمُنْكَرِ ) 29۔ العنکبوت 45) (بےشک نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے) لہٰذا اس بناء پر وہ بخشش کی سعادت سے نوازا جائے گا اور دوزخ میں داخل نہیں کیا جائے گا۔ اور ظاہر یہ ہے کہ اس حدیث سے ان دونوں نمازوں کی فضیلت و عظمت کے بیان میں مبالغہ مراد ہے کہ ان دونوں نمازوں کی فضیلت و عظمت اس بات کی متقاضی ہے کہ ان کی محافظت کرنے والا آدمی دوزخ میں داخل نہ کیا جائے گا اور باوجودیکہ اللہ تعالیٰ بندوں کے ہر عمل پر جزاء و سزا کا ترتب کرتا ہے مگر وہ چاہے تو ان دونوں نمازوں کے ادا کرنے کے سبب وہ گناہ جو اس کے بندوں سے سرزد ہوئے ہوں بخش سکتا ہے
وَعْن اَبِیْ مُوْسٰی قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ صَلَّی الْبَرْدَےْنِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوموسی ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی ٹھنڈے وقت کی دونوں نمازیں (یعنی فجر و عشاء) پڑھتا رہا تو وہ جنت میں جائے گا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ّص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَتَعَاقَبُوْنَ فِےْکُمْ مَلَائِکَۃٌ بِاللَّےْلِ وَمَلَائِکَۃٌ بِالنَّھَارِ وَےَجْتَمِعُوْنَ فِی صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَصَلٰوۃِ الْعَصْرِ ثُمَّ ےَعْرُجُ الَّذِےْنَ بَاتُوْا فِےْکُمْ فَےَسْأَلُھُمْ رَبُّھُمْ وَھُوَ اَعْلَمُ بِھِمْ کَےْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِیْ فَےَقُوْلُوْنَ تَرَکْنٰھُمْ وَھُمْ ےُصَلُّوْنَ وَاٰتَےْنٰھُمْ وَھُمْ ےُصَلُّوْنَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے پاس (آسمان سے) فرشتے رات دن آتے رہتے ہیں ( جو تمہارے اعمال لکھتے ہیں اور انہیں بارگاہ الوہیت میں پہنچاتے ہیں) اور فجر و عصر کی نماز میں سب جمع ہوتے ہیں اور جو فرشتے تمہارے پاس رہتے ہیں وہ (جس وقت) آسمان پر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بندوں کے احوال جاننے کے باوجود ان سے (بندوں کے احوال و اعمال) پوچھتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ پروردگار! ہم نے تیرے بندوں کو نماز پڑھتے ہوئے چھوڑا ہے اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تو اس وقت بھی وہ نماز ہی پڑھ رہے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ بندوں کے اعمال کو لکھنے اور انہیں اللہ تعالیٰ تک پہنچانے کے لئے (فرشتوں کی دو جماعتیں بندوں کے ہمراہ رہتی ہیں۔ ایک جماعت تو دن کے اعمال لکھتی ہے اور پھر عصر کے بعد واپس جا کر بارگاہ الوہیت میں اپنی رپورٹ پیش کردیتی ہے۔ دوسری جماعت رات کے اعمال لکھتی ہے۔ یہ فجر کی نماز کے بعد واپس جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو بندوں کے رات کے اعمال کی رپورٹ دیتی ہے چناچہ دن اور رات میں دو وقت ایسے ہوتے ہیں جب کہ یہ دونوں جماعتیں جمع ہوتی ہیں۔ ایک مرتبہ تو فجر کے وقت جب کہ رات کے فرشتے واپس جاتے ہیں اور دن کے فرشتے اپنی ڈیوٹی پر اتے ہیں۔ اسی طرح دوسری مرتبہ ان دونوں جماعتوں کا اجتماع عصر کے وقت ہوتا ہے جب کہ دن کے فرشتے اپنی ڈیوٹی پوری کر کے واپس جاتے ہیں اور رات کے فرشتے اپنے کام پر حاضر ہوتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اور اس کا علم زمین و آسمان کے ذرے ذرے کو محیط ہے۔ وہ زمین و آسمانوں کے رہنے والوں کے ایک ایک عمل کو جانتا ہے مگر جب فرشتے بندوں کے اعمال کی رپورٹ لے کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں تو ان سے پوچھتا ہے کہ جب تم اپنی ڈیوٹی پوری کر کے واپس لوٹ رہے تھے تو بتاؤ کہ اس وقت میرے بندے کیا کر رہے تھے؟ اور اس کا یہ پوچھنا (نعوذ با اللہ) علم حاصل کرنے کے لئے نہیں ہوتا بلکہ اس سوال سے اس کا مقصد فرشتوں کے سامنے اپنی بندوں کی فضیلت و عظمت کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں انسان کو بھیجنا چاہا تھا اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تھا تو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ سے کہا تھا کہ پروردگار کیا تو ایسی مخلوق کو پیدا کرنا چاہتا ہے جو دنیا میں فساد اور خون ریزی و غارت گری کا بازار گرم کرے گی۔ اور پھر انہوں نے اپنی برتری و بڑائی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ تیری عبادت کے لئے تو ہم ہی کافی ہیں اور ہم ہی تیری عبادت و پرستش کر بھی سکتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان سے یہ سوال کر کے ان پر ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ دیکھو! جس مخلوق کے بارے میں تمہارا یہ خیال تھا کہ دہ دنیا میں سوائے فتنہ و فساد پھیلانے کے اور کوئی کام نہیں کرے گی اب تم خود یکھ آئے ہو کہ وہ میری عبادت اور میری پرستش کس پابندی اور کس ذوق و شوق سے کرتی ہے۔ بہر حال! اس حدیث کے ذریعے رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو رغبت دلا رہے ہیں کہ ان دونوں اوقات میں ہمیشہ پابندی سے نماز پڑھتے رہو تاکہ وہ فرشتے اللہ کے سامنے تمہارے اچھے اور بہتر اعمال ہی پیش کرتے رہیں اور رب قدوس تمہاری فضیلت و بڑائی اسی طرح فرشتوں کے سامنے ظاہر کرتا رہے۔
وَعَنْ جُنْدُبِ الْقَسْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ صَلّٰی صَلٰوۃَ الصُّبْحِ فَھُوَ فِیْ ذِمَّۃِ اللّٰہِ فَلَا ےَطْلُبَنَّکُمُ اللّٰہُ مِنْ ذِمَّتِہٖ بِشَےْئٍ فَاِنَّہ ُ مَنْ ےَّطْلُبُہ ُ مِنْ ذِمَّتِہٖ بِشَئٍْ ےُّدْرِکْہُ ثُمَّ ےَکُبُّہُ عَلٰی وَجْھِہٖ فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ (رَوَاہُ مُسْلِمٌ)
اور حضرت جندب قسری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے صبح کی نماز پڑھی وہ (دنیا و آخرت میں) اللہ تعالیٰ کے عہد وامان میں ہے لہٰذا ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تم سے اپنے عہد میں کچھ مواخذہ کرے کیونکہ جس سے اس نے عہد وامان میں مواخذہ کیا تو (اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ) کہ اسے پکڑ کر دوزخ کی آگ میں اوندھے منہ ڈال دے گا۔ (صحیح مسلم) اور مصابیح کے بعض نسخوں میں قسری کے بجائے قشیری ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس آدمی نے صبح کی نماز پڑھ لی وہ اللہ تعالیٰ کے عہد وامان میں ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس آدمی سے بدسلوکی نہ کریں، اس کو قتل نہ کریں۔ اس کا مال نہ چھینیں، اس کی غیبت نہ کریں اور اس کو بےآبروئی نہ کریں۔ اگر کسی آدمی نے اس کے ساتھ بدسلوکی کی یا اس کے ساتھ کوئی ایسا رویہ اختیار کیا جو اس کی جان و مال اور اس کی آبرو کے لئے نقصان دہ ہو تو اس کا مطلب ہوگا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے عہد وامان میں خلل ڈالا لہٰذا اللہ تعالیٰ ایسے آدمی سے سخت مواخذہ کرے گا اور جس بدنصیب سے اللہ تعالیٰ نے مواخذہ کیا اس کے لئے نجات کا کوئی ذریعہ نہ ہوگا۔ یا پھر عہد وامان سے مراد نماز ہے کہ صبح کی نماز پڑھنے سے اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں امن دینے کا وعدہ کرلیا ہے، لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ صبح کی نماز ہرگز قضا نہ کریں ورنہ ان کے اور پروردگار کے درمیان جو عہد ہے وہ ٹوٹ جائے گا جس پر اللہ تعالیٰ مواخذہ کرے گا اور اس کے مواخذے سے بچانے کی کوئی ہمت بھی نہیں کرسکتا۔
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَوْ ےَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِی النِّدَآءِ وَالصَّفِّ الْاَوَّلِ ثُمَّ لَمْ ےَجِدُوْا اِلَّا اَنْ ےَّسْتَھِمُوْا عَلَےْہِ لَاسْتَھَمُوْا وَلَوْ ےَعْلَمُوْنَ مَا فِی التَّھْجِےْرِ لَا سْتَبَقُوْا اِلَےْہِ وَلَوْ ےَعْلَمُوْنَ مَا فِی الْعَتَمَۃِ وَالصُّبْحِ لَاَتَوْھُمَا وَلَوْ حَبْوًا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر لوگوں کو اذان کہنے اور (نماز میں) پہلی صف میں کھڑے ہونے کا ثواب معلوم ہوجائے اور بغیر قرعہ ڈالے انہیں یہ حاصل نہ ہو سکے تو وہ ضرور قرعہ ہی ڈالیں (یعنی اگر لوگ اذان دینے اور پہلی صف میں کھڑے ہونے کے لئے آپس میں نزاع کریں اور قرعہ ڈال کر دیکھیں کہ کس کا نام نکلتا ہے تو یہ مناسب ہے) اور اگر ظہر کی نماز کے لئے جلدی آنے کا ثواب جان لیں تو اس نماز میں دوڑتے ہوئے آیا کریں اور اگر عشاء و صبح کی نماز کی فضیلت معلوم ہوجائے (تو فوت نہ ہونے کی حالت میں بھی ان نمازوں کے لئے) سرین کے بل چل کر آئیں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اگر تھجیر کے معنی وہی لئے جائیں جو ترجمہ سے ظاہر ہیں یعنی ظہر کی نماز کے لئے جلدی آنا، تو اس فضیلت کا تعلق گرمی کے علاوہ دوسرے موسموں کی ظہر کی نماز سے ہوگا کیونکہ گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت پڑھنا مستحب ہے۔ یا پھر تہجیر کے معنی طاعت کی طرف جلدی کرنا، ہوں گے اور بعض حضرات نے اس کے معنی نماز جمعہ کے لئے دوپہر کو جانا بھی لکھے ہیں۔ وا اللہ اعلم۔ سرین کے بل چل کر آنے، کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی پاؤں سے چلنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس نماز کی فضیلت حاصل کرنے کے لئے اس طرح گھسٹتا ہوا آئے جس طرح ضعیف و معذور چل کر آتے ہیں۔
وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَےْسَ صَلٰوۃٌ اَثْقَلَ عَلَی الْمُنَافِقِےْنَ مِنَ الْفَجْرِ وَالْعِشَآءِ وَلَوْ ےَعْلَمُوْنَ مَافِےْھِمَا لَاتَوْھُمَا وَلَوْ حَبْوًا (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافقین پر عشاء اور فجر سے زیادہ بھاری کوئی نماز نہیں۔ اگر دونوں کے ثواب وہ جان لیں تو سرین کے بل چلتے ہوئے آیا کریں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
منافقین کے مزاج میں عبادت کے سلسلے میں کسل و سستی بہت ہوتی ہے پھر جو نمازیں وہ پڑھتے ہیں وہ بھی محض اپنی جان بچانے اور مسلمانوں کو دکھانے سنانے کے لئے پڑھتے ہیں۔ فجر اور عشاء یہ دو وقت ایسے ہیں جو اول تو آرام و استراحت اور نیند کی لذت حاصل کرنے کے ہیں۔ نیز جاڑوں کے موسم میں سردی کے ہیں دوسرے یہ کہ ان اوقات میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے کوئی کسی کو کم ہی پہچانتا ہے اس لئے یہ دونوں نمازیں ان بدبختوں پر بہت گراں ہوتی ہیں۔ لہٰذا یہ حدیث اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ مخلص و صادق مومنین کو چاہئے کہ وہ اس خصلت سے بچیں تاکہ منافقین کے ساتھ مشابہت نہ ہو۔
وَعَنْ عُثْمَانَّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ صَلَّی الْعِشَآءَ فِیْ جَمَاعَۃٍ فَکَاَنَّمَا قَامَ نِصْفَ الَّلےْلِ وَمَنْ صَلَّی الصُّبْحَ فِیْ جَمَاعَۃٍ فَکَاَنَّمَا صَلَّی الَّلےْلَ کُلَّہُ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت عثمان غنی ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے عشاء کی نماز جماعت سے پڑھ لی تو گویا اس نے نصف رات کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور جس آدمی نے صبح کی نماز جماعت سے پڑھ لی تو گویا اس نے تمام رات کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اگر حدیث کے ظاہری الفاظ کو دیکھا جائے تو اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صبح کی نماز کا ثواب عشاء کی نماز کے ثواب سے زیادہ ہے کہ جب ہی تو کہا گیا ہے کہ عشاء کی نماز جماعت سے پڑھنے والا، نصف رات تک نماز پڑھنے والے کے برابر ہوتا ہے اور فجر کی نماز جماعت سے پڑھنے والا پوری رات تک نماز پڑھنے والے کے برابر ہوتا ہے۔ یا پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس آدمی نے عشاء کی نماز جماعت سے پڑھی تو اسے آدھی رات تک نماز پڑھنے کا ثواب ملا پھر فجر کی نماز بھی جماعت سے ادا کرلی تو بقیہ نصف رات تک کا ثواب مل گیا اس طرح دونوں نمازوں کے پڑھنے سے پوری رات تک عبادت کرنے والے کے ثواب کا وہ حقدار ہوگیا۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ّص قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا ےَغْلِبَنَّکُمُ الْاَعْرَابُ عَلَی اسْمِ صَلٰوتِکُمُ الْمَغْرِبِ قَالَ وَتَقَوْلُ الْاَعْرَابُ ھِیَ الْعِشَآءُ وَقَالَ لَا ےَغْلِبَنَّکُمُ الْاَعْرَابُ عَلَی اسْمِ صَلٰوتِکُمُ الْعِشَآئئِ فَاِنَّھَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ الْعِشَآءُ فَاِنَّھَا تُعْتِمُ بِحِلَابِ الْاِبِلِ ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دیہاتی لوگ نماز مغرب کے نام لینے میں تم پر غالب نہ آجائیں راوی فرماتے ہیں کہ دیہاتی لوگ ( مغرب کو) عشاء کہتے تھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نماز عشاء کے نام لینے میں بھی دیہاتی لوگ تم پر غالب نہ آجائیں۔ اس نماز کا نام کتاب اللہ میں عشاء ہے (چنانچہ ارشاد ربانی ہے آیت ( وَمِنْ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَا ءِ ) 24۔ النور 58) اور وہ دیہاتی لوگ اونٹنیوں کے دودھ دوہنے کی وجہ سے اس نماز میں تاخیر کردیتے تھے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
دیہاتی لوگوں سے مراد ایام جاہلیت کے دیہاتی لوگ ہیں جو مغرب کو تو عشاء کہتے تھے اور عشاء کو عتمہ، چناچہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو منع فرما دیا کہ یہ نام نہ لئے جائیں کیونکہ اس میں ان کا غالب ہونا لازم آتا ہے اس لئے کہ جب ان لوگوں کا رکھا نام استعمال کیا جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم نے ان کی زبان کو اپنایا جس کی بناء پر وہ تم پر غالب رہے لہٰذا تم وہی نام استعمال کرو جو قرآن و حدیث میں مذکور ہیں یعنی مغرب اور عشاء۔ لہٰذا۔ بظاہر تو اس نہی کا تعلق دیہاتی لوگوں سے ہے کہ وہ غالب نہ ہوں لیکن حقیقت میں اس نہی کا تعلق تمام مسلمانوں سے ہے کہ وہ ان نمازوں کے ناموں کے سلسلے میں دیہاتی لوگوں کی موافقت نہ کریں تاکہ مسلمانوں پر ان کا غالب ہونا لازم نہ آئے۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی زبان اور اپنا کلام اصطلاح شریعت کے مطابق درست کریں اور جو باتیں کفار و فجار کی زبان زد ہوں ان سے پرہیز کریں۔ نہی اور علت نہی بیان فرمانے کے بعد فَاِنَّھَا بِحَلَابِ الْاِبِلِ کہہ کر آپ ﷺ نے عشاء کو عتمہ کہنے کی وجہ کی طرف بھی اشارہ فرما دیا ہے۔ تعتم صحیح روایت میں صیغہ معروف کے ساتھ ہے اور یہ بتایا جا چکا ہے کہ عتمہ تاریکی کو کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ دیہاتی لوگ اونٹنیوں کے دودھ دوہنے کی وجہ سے عشاء کو تاریکی میں پڑھتے تھے بایں طور پر کہ وہ شفق غائب ہونے کے بعد دودھ شروع کرتے تھے پھر اس کے بعد عشاء پڑھتے۔ ایک دوسری روایت میں یہ لفظ صیغہ مجہول کے ساتھ مذکور ہے جس کے معنی یہ ہوں گے۔ اونٹنیوں کا دودھ دوہنے کی وجہ سے عشاء کی نماز تاریکی میں پڑھی جاتی تھی۔ بہر حال ایام جاہلیت میں عرب کے لوگ عتمہ تاریکی کو کہتے تھے۔ جب اسلام کی مقدس روشنی نے عرب کی سر زمین کو کفر و شرک کے اندھیروں سے صاف کیا اور نمازیں مشروع ہوئیں تو عشاء کی نماز کو دیہاتی لوگ صلوۃ العتمہ کہنے لگے چناچہ اس نام سے مسلمانوں کو روکا گیا اور اہل جاہلیت سے مشابہت کی بناء پر اس نام کو مکروہ قرار دے دیا گیا۔ یہ پہلے بھی کئی جگہ بتایا جا چکا ہے کہ جن روایتوں میں بجائے عشاء کی عتمہ کا لفظ آیا ہے وہ روایتیں اس نہی سے قبل کی ہوں گی۔
وَعَنْ عَلِیٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ےَوْمَ الْخَنْدَقِ حَبَسُوْنَا عَنْ صَلٰوۃِ الْوُسْطٰی صَلٰوۃِ الْعَصْرِ مَلَأ اللّٰہُ بُےُوْتَھُمْ وَقُبُوْرَھُمْ نَارًا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ خندق کے روز فرماتے تھے کہ (کافروں نے) ہمیں درمیانی نماز یعنی عصر کے پڑھنے سے روکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں میں آگ بھرے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
غزوہ خندق کو غزوہ احزاب بھی کہتے ہیں جو ٤ ھ یا ٥ ھ میں ہوا تھا۔ اس جنگ کو غزوہ خندق اس لئے کہا جاتا ہے کہ اسی غزوہ کے موقعہ پر حضرت سلمان فارسی ؓ کے مشورہ سے دشمنوں سے بچاؤ کی خاطر مدینہ کے گرد خندق کھودی گئی تھی۔ خندق کھود نے میں تمام مسلمانوں کے ہمراہ خود سرکار دو عالم ﷺ (فداہ ابی وامی) بھی بنفس نفیس شریک تھے۔ جس طرح دیگر مخلص مومنین دن بھر بھوکے پیاسے رہ کر اللہ کے دین کی حفاظت اور اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کے مشن کی کامیابی کے لئے اس محنت و مشقت میں مصروف رہتے تھے اسی طرح آقائے نامدار سرور کائنات فخر دو عالم جناب محمد رسول اللہ ﷺ بھی بڑی بڑی تکالیف برداشت فرما کر مصائب و رنج اٹھا کر بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھ کر سردی کی شدید پریشانی اور زمین کو کھودنے پتھر اکھاڑنے کی سخت محنت جھیل کر اپنے جانثار رفقاء کے ہمراہ خندق کھودتے تھے۔ اسی جنگ میں بسبب تردد اور تیر اندازی رسول اللہ ﷺ کی چار نمازیں قضا گئی تھیں انہیں میں عصر کی نماز بھی تھی رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز کی فضیلت ظاہر کرنے کے لئے یہ بد دعا فرمائی جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح ان کفار و مشرکین نے ہماری نمازیں قضا کرا کر ہمیں سخت روحانی تکلیف و ازیت میں مبتلا کیا ہے، اللہ کرے وہ بھی دنیا و آخرت کے شدید عذاب میں مبتلا کئے جائیں۔ ایک معمولی سا خلجان یہاں واقع ہوسکتا ہے کہ جنگ احد کے موقع پر آپ ﷺ کی ذات اقدس کو جبکہ کفار کی جانب سے بےانتہا تکلیف پہنچائی گئی تو آپ ﷺ نے وہاں بددعا نہیں کی اور یہاں بدعا فرمائی اس کی وجہ کیا ہے؟۔ اس کا مختصر ترین جواب یہ ہے کہ جنگ احد میں رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کا معاملہ تھا وہاں آپ ﷺ کی شان رحمت کا تقاضا تھا کہ اپنے نفس کے معاملہ میں کسی کے لئے بددعا نہ کریں مگر یہاں نماز کا سوال تھا جس کا تعلق آپ ﷺ کی ذات سے نہ تھا بلکہ حقوق اللہ سے تھا اس لئے آپ ﷺ نے بد دع فرمائی۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ صلوٰۃ وسطی عصر کی نماز ہے چناچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین اور تابعین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم میں سے اکثر جلیل القدر حضرات، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام احمد رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم وغیرہ کا قول یہی ہے لہٰذا قرآن شریف کی آیت کریمہ آیت (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى) 2۔ البقرۃ 238) (یعنی محافظت کرو تم سب نمازوں کی اور درمیانی نماز کی) میں وسطی سے عصر کی نماز ہی مراد لی جائے گی۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اس کے تعین میں اکثر صحابہ کرام اور تابعین کا اختلاف رہا ہے تو اس کی وجہ بظاہر یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس وقت تک ان حضرات تک رسول اللہ ﷺ کی وہ حدیث (جو آئندہ فصل میں آرہی ہے) نہیں پہنچی ہوگی جس سے بصراحت معلوم ہوتا ہے کہ صلوٰۃ وسطیٰ سے عصر کی نماز مراد ہے۔ اس لئے وہ حضرات اپنے اجتہاد اور رائے کی بناء پر اس کے تعین میں اختلاف کرتے ہوں گے چناچہ اس حدیث کے صحت کے بعد یہ متعین ہوگیا کہ اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ وا اللہ اعلم۔
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ وَسَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاۃُ الْوُسْطٰی صَلَاۃُ الْعَصْرِ۔ (رواہ الترمذی)
حضرت عبداللہ ابن مسعود اور حضرت سمرہ ابن جندب ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا درمیانی نماز (یعنی قرآن مجید میں جو والصلوۃ الوسطی مذکور ہے وہ) عصر کی نماز ہے۔ (جامع ترمذی )
تشریح
صلوٰۃ وسطیٰ ( یعنی درمیانی نماز) سے عصر کی نماز اس لئے مراد لی جاتی ہے کہ یہی نماز دن کی دونوں نمازوں (یعنی فجر اور ظہر) اور رات کی دونوں نمازوں) یعنی مغرب و عشاء کے درمیان آتی ہے)۔
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرۃَ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْھُوْدً ا قَالَ تَشْھَدُ ہ، مَلَآئِکَۃُ اللَّیْلِ وَمَلَآئِکَۃُ النَّھَارِ۔ (رواہ الترمذی)
حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے قول آیت ( اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا) 17۔ الاسراء 78) (یعنی فجر کی نماز فرشتوں کے حاضر ہونے کا وقت ہے) کی تفسیر میں فرماتے تھے کہ صبح کی نماز میں دن اور رات کے فرشتے حاضر (یعنی جمع) ہوتے ہیں۔ (جامع ترمذی )
تشریح
آیت ( اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا) 17۔ الاسراء 78) کے معنی قرأت قرآن فجر ہیں اور اس سے مراد فجر کی نماز ہے۔ اسے قرآن اس لئے کہا ہے کہ قرأت نماز کا ایک رکن ہے جیسے کہ بعض مقامات پر نماز کو سجدہ یا رکوع کہا گیا ہے۔ بہر حال۔ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں مشہود سے مراد یہ ہے کہ بندوں کے دن اور رات کے اعمال لکھنے والے فرشتے اس نماز میں جمع ہوتے ہیں جیسا کہ اسی باب کی حدیث نمبر تین میں اس کی تفصیل بیان کی جاچکی ہے۔
عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَّعَائِشَۃَ قَالَا اَلصَّلٰوۃُ الْوُسْطٰی صَلَاۃُ الظُّھْرِ رَوَاہُ مَالِکٌ عَنْ زَیْدٍ وَالتِّرْمِذِیٌّ عَنْھُمَا تَعْلِیْقًا۔
حضرت زید ابن ثابت ؓ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ دونوں فرماتے ہیں کہ صلوٰۃ وسطی (یعنی درمیانی نماز) ظہر کی نماز ہے۔ اس روایت کو امام مالک (رح) نے صرف حضرت زید ؓ سے روایت کیا ہے اور امام ترمذی (رح) نے دونوں (یعنی حضرت زید و حضرت عائشہ) سے بطریق تعلیق یعنی بلا سند روایت کیا ہے۔
تشریح
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت زید ابن ثابت ؓ صلوٰۃ وسطی سے ظہر کی نماز اس لئے مراد لیتے تھے کہ یہ نماز دن کے درمیانی حصہ میں ادا کی جاتی ہے۔