Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 266 of 315

5301Mishkaat-al-Masabihضعیف

توکل اور صبر کا بیان

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا لَيْسَتْ بِتَحْرِيم وَلَا إِضَاعَةِ الْمَالِ وَلَكِنَّ الزَّهَادَةَ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ بِمَا فِي يَد اللَّهِ وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أَنْتَ أُصِبْتَ بِهَا أَرْغَبَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا أُبْقِيَتْ لَكَ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَعَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ الرَّاوِي مُنكر الحَدِيث

ابوذر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دنیا سے بے رغبتی ، حلال کو حرام کرنے اور مال ضائع کرنے کا نام نہیں ، بلکہ دنیا سے بے رغبتی یہ ہے کہ جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے وہ اس چیز سے ، جو اللہ کے ہاتھوں میں ہے ، زیادہ قابل اعتماد نہ ہو ، اور یہ کہ نہ ہو تو مصیبت کے ثواب میں جب تو اس میں مبتلا کر دیا جائے ، رغبت کرنے والا کہ وہ (مصیبت) تجھے نہ پہنچتی ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور عمرو بن واقد راوی منکر الحدیث ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

5302Mishkaat-al-Masabihصحیح

توکل اور صبر کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ: «يَا غُلَامُ احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ وَإِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ\nلَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ رُفِعَتِ الأقلام وجفَّت الصُّحُف» رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ\n

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے (سواری پر بیٹھا ہوا) تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ لڑکے ! تو اللہ (کے احکام) کی حفاظت کر ، اللہ تیری حفاظت فرمائے گا ، تو اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھ ، تو اسے اپنے سامنے پائے گا ، اور جب تو سوال کرے تو صرف اللہ سے کر ، جب تو مدد طلب کرے تو صرف اللہ سے مدد طلب کر ، اور جان لے کہ اگر پوری امت بھی جمع ہو کر تجھے کچھ فائدہ پہنچانا چاہے تو وہ تجھے اس سے زیادہ کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے ، اور اگر وہ تجھے نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو وہ تجھے اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے ، قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہو گئے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔

5303Mishkaat-al-Masabihضعیف

توکل اور صبر کا بیان

وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ رِضَاهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ تَرْكُهُ اسْتِخَارَةِ اللَّهِ وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ سُخْطُهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ انسان کی سعادت مندی اسی میں ہے کہ وہ اپنے بارے میں اللہ کی قضا و قدر پر راضی ہو ، انسان کی بدنصیبی ہے کہ وہ اللہ سے خیر طلب کرنا ترک کر دے اور انسان کی بدنصیبی ہے کہ وہ اپنے بارے میں اللہ کی قضا و قدر پر راضی نہ ہو ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔

5304Mishkaat-al-Masabihصحیح

توکل اور صبر کا بیان

عَن جَابر أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قبل نجد فَلَمَّا قَفَلَ مَعَهُ فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ فَنَزَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ وَنِمْنَا نَوْمَةً فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا وَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ عَلَيَّ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلتا. قَالَ: مَا يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقُلْتُ: اللَّهُ ثَلَاثًا وَلَمْ يُعَاقِبْهُ وَجلسَ. مُتَّفق عَلَيْهِ

جابر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ نجد کی طرف جہاد کیا ، جب رسول اللہ ﷺ واپس آئے تو وہ بھی آپ کے ساتھ واپس آئے ، صحابہ کرام کو گھنے خار دار درختوں کی وادی میں دوپہر کو نیند (قیلولہ) نے آ لیا ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے (آرام کی غرض سے) یہاں پڑاؤ ڈالا اور صحابہ کرام درختوں کے سائے کی تلاش میں الگ الگ ہو گئے ، رسول اللہ ﷺ نے کیکر کے درخت کے نیچے پڑاؤ ڈالا اور اپنی تلوار اس (درخت) کے ساتھ لٹکا دی ، اور ہم تھوڑی دیر کے لیے سو گئے ، اچانک رسول اللہ ﷺ ہمیں بلانے لگے ، ہم نے دیکھا کہ ایک اعرابی آپ کے پاس ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس نے ، مجھ پر میری تلوار سونت لی جبکہ میں اس وقت آرام کر رہا تھا میں بیدار ہوا تو تلوار اس کے ہاتھ میں سونتی ہوئی تھی ، اس نے کہا : تجھے مجھ سے کون بچائے گا ؟ میں نے تین مرتبہ کہا :’’ اللہ (بچائے گا) ۔‘‘ آپ ﷺ نے اس کی کوئی سرزنش نہیں کی اور آپ بیٹھ گئے ۔ متفق علیہ ۔

5305Mishkaat-al-Masabihصحیح

توکل اور صبر کا بیان

وَفِي رِوَايَةِ\nأَبِي بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيِّ فِي «صَحِيحِهِ» فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: «اللَّهُ» فَسَقَطَ السيفُ من يَده فَأخذ السَّيْفَ فَقَالَ: «مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟» فَقَالَ: كُنْ خَيْرَ آخِذٍ. فَقَالَ: «تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ» . قَالَ: لَا وَلَكِنِّي أُعَاهِدُكَ عَلَى أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ فَخَلَّى سَبِيلَهُ فَأَتَى أَصْحَابَهُ فَقَالَ: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ. هَكَذَا فِي «كتاب الْحميدِي» و «الرياض»\n

اور ابوبکر اسماعیلی نے اپنی صحیح میں یوں روایت کی ہے ، اس نے کہا : تجھے مجھ سے کون بچائے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ ! تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی ، رسول اللہ ﷺ نے تلوار پکڑ کر فرمایا :’’ تجھے مجھ سے کون بچائے گا ؟‘‘ اس نے عرض کیا : آپ بہتر پکڑنے والے ہیں (یعنی معاف کر دیں) ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟‘‘ اس نے کہا : نہیں ، لیکن میں آپ ﷺ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ میں آپ سے نہ تو قتال کروں گا اور نہ آپ سے قتال کرنے والوں کا ساتھ دوں گا ، آپ ﷺ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا (اسے جانے دیا) ، وہ (اعرابی) اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور کہا : میں بہترین شخص کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں ۔ کتاب الحمیدی اور ریاض الصالحین میں اسی طرح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ النووی فی ریاض الصالحین و البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔

5306Mishkaat-al-Masabihضعیف

توکل اور صبر کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ آيَةً لَو أخَذ النَّاسُ بهَا لكفتهم: (من يتق الله يَجْعَل لَهُ مخرجاويرزقه من حيثُ لَا يحتسبُ)\nرَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه والدارمي\n

ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں کہ اگر لوگ اس پر عمل کریں تو وہ ان کے لیے کافی ہو جائے :’’ جو شخص اللہ سے ڈر جائے تو وہ اس کے لیے (تمام مشکلات سے) نکلنے کی راہ پیدا فرما دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق فراہم کرے جس کے بارے میں اسے وہم و گمان بھی نہ تھا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابن ماجہ و الدارمی ۔

5307Mishkaat-al-Masabihصحیح

توکل اور صبر کا بیان

وَعَنِ ابْنِ\nمَسْعُودٍ قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ)\nرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حسن صَحِيح\n

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ آیت سکھائی :’’ بے شک میں ہی رزق عطا کرنے والا ، قوت و طاقت والا ہوں ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔

5308Mishkaat-al-Masabihصحیح

توکل اور صبر کا بیان

وَعَن أنسٍ قَالَ: كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ يَحْتَرِفُ فَشَكا المحترف أَخَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث صَحِيح غَرِيب

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے دور میں دو بھائی تھے ، ان میں سے ایک نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا جبکہ دوسرا کاروبار کیا کرتا تھا ، کاروبار کرنے والے نے اپنے بھائی کی نبی ﷺ سے شکایت کی ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ شاید کے تمہیں اسی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث صحیح غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5309Mishkaat-al-Masabihضعیف

توکل اور صبر کا بیان

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ\nالْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ قَلْبَ ابْنِ آدَمَ بِكُلِّ وَادٍ شُعْبَةٌ فَمَنْ أَتْبَعَ قَلْبَهُ الشُّعَبَ كُلَّهَا لَمْ يُبَالِ اللَّهُ بِأَيِّ وَادٍ أَهْلَكَهُ وَمَنْ تَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ كَفَاهُ الشّعب» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه\n

عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک انسان کے دل کا ہر وادی میں حصہ ہے ، جو شخص اپنے دل کو تمام حصوں کے پیچھے لگاتا ہے تو اللہ کو اس کی پرواہ نہیں خواہ وہ اسے کسی بھی وادی میں ہلاک کر دے ، اور جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے تو وہ تمام حصوں سے کفایت کر جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔

5310Mishkaat-al-Masabihضعیف

توکل اور صبر کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ: لَوْ أَنَّ عَبِيدِي أَطَاعُونِي لَأَسْقَيْتُهُمُ الْمَطَرَ بِاللَّيْلِ وَأَطْلَعْتُ عَلَيْهِمُ الشَّمْسَ بِالنَّهَارِ وَلَمْ أُسْمِعْهُمْ صَوْتَ الرَّعدِ . رَوَاهُ أَحْمد\n

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے رب عزوجل نے فرمایا : اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں رات کے وقت ان پر بارش برساؤں اور دن کے وقت ان پر سورج نکالوں اور انہیں گرج کی آواز بھی نہ سناؤں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

5311Mishkaat-al-Masabihضعیف

توکل اور صبر کا بیان

وَعَنْهُ\nقَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى أَهْلِهِ فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ خَرَجَ إِلَى الْبَرِيَّةِ فَلَمَّا رَأَتِ امْرَأَتُهُ قَامَتْ إِلَى الرَّحَى فَوَضَعَتْهَا وَإِلَى التَّنُّورِ فَسَجَرَتْهُ ثُمَّ قَالَتْ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا فَنَظَرَتْ فَإِذَا الْجَفْنَةُ قَدِ امْتَلَأَتْ. قَالَ: وَذَهَبَتْ إِلَى التَّنُّورِ فَوَجَدَتْهُ مُمْتَلِئًا. قَالَ: فَرَجَعَ الزَّوْجُ قَالَ: أَصَبْتُمْ بَعْدِي شَيْئًا؟ قَالَتِ امْرَأَتُهُ: نَعَمْ مِنْ رَبِّنَا وَقَامَ إِلَى الرَّحَى فَذُكِرَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَرْفَعْهَا لَمْ تَزَلْ تَدور إِلَى يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ أَحْمد\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی اپنے اہل و عیال کے پاس گیا ، جب اس نے ان کی (بھوک کی) ضرورت دیکھی تو وہ (عجز و انکساری کرنے کے لیے) صحرا کی طرف چلا گیا ، جب اس کی اہلیہ نے دیکھا تو وہ چکی کی طرف گئی تو اسے درست کیا اور تندور کی طرف گئی اور اسے جلایا ، پھر اس عورت نے دعا کی ، اے اللہ ! ہمیں رزق عطا فرما ، اس نے دیکھا کہ اچانک ٹب (آٹے سے) بھر چکا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں ، وہ تندور کی طرف گئی تو اسے بھی (روٹیوں سے) بھرا ہوا پایا ، راوی بیان کرتے ہیں ، شوہر واپس آیا تو اس نے کہا ، کیا میرے بعد تمہیں کوئی چیز ملی ہے ؟ اہلیہ نے کہا : جی ہاں ! ہمارے رب کی طرف سے ، وہ چکی کی طرف گیا (تا کہ اسے دیکھے) نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر وہ اس (چکی کے پاٹ) کو نہ اٹھاتا تو وہ روز قیامت تک چلتی رہتی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

5312Mishkaat-al-Masabihضعیف

توکل اور صبر کا بیان

وَعَنْ أَبِي\nالدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الرِّزْقَ لَيَطْلُبُ الْعَبْدَ كَمَا يَطْلُبُهُ أَجَلُهُ» . رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ فِي «الْحِلْية»\n

ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً رزق بندے کو اس طرح تلاش کرتا ہے جس طرح اس کی موت اسے تلاش کرتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابونعیم فی حلیہ الاولیاء ۔

5313Mishkaat-al-Masabihصحیح

توکل اور صبر کا بیان

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ فَأَدْمَوْهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، گویا میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ انبیا ؑ میں سے ایک نبی کا واقعہ بیان کر رہے ہیں ، ان کی قوم نے انہیں مارا اور لہولہان کر دیا اور وہ اپنے چہرے سے خون صاف کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں ، اے اللہ ! میری قوم کی مغفرت فرما ، کیونکہ وہ شعور نہیں رکھتے ۔ متفق علیہ ۔

5314Mishkaat-al-Masabihصحیح

ریا و شہرت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا ينظر إِلَى صوركُمْ وَلَا أموالِكم وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً اللہ تمہاری صورتوں اور اموال کو نہیں دیکھتا ، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5315Mishkaat-al-Masabihصحیح

ریا و شہرت کا بیان

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ هُوَ لِلَّذِي عَمِلَهُ . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں (دوسرے) تمام شریکوں کے مقابلے میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں ، جو کوئی ایسا عمل کرے جس میں وہ میرے ساتھ میرے علاوہ کسی اور کو بھی شریک کرے تو میں اس کو اس کے شرک سمیت چھوڑ دیتا ہوں ۔‘‘\n ایک اور روایت میں ہے :’’ میں اس (عمل کرنے والے) سے بیزار ہوں ، وہ (عمل) اسی کے لیے ہے جس کے لیے اس نے کیا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔\n

5316Mishkaat-al-Masabihصحیح

ریا و شہرت کا بیان

وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللَّهُ بِهِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص شہرت کی خاطر کوئی عمل کرتا ہے تو (روز قیامت) اللہ اس شخص کو (لوگوں کے سامنے) ذلیل فرمائے گا (کہ اس نے اس نیت سے عمل کیا تھا) اور جو دکھلاوا کرتا ہے تو اللہ اسے (لوگوں کو) دکھلا دے گا (کہ یہ شخص ریا کار ہے) ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5317Mishkaat-al-Masabihصحیح

ریا و شہرت کا بیان

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْخَيْرِ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: يُحِبُّهُ النَّاسُ عَلَيْهِ قَالَ: «تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ» . رَوَاهُ مُسلم

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا ، آپ بتائیں ، ایک آدمی نیکی کا کام کرتا ہے ، اس پر لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں ، ایک دوسری روایت میں ہے ، اس پر لوگ اسے پسند کرتے ہیں ، (اس کا کیا حکم ہے ؟) آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ مومن کے لیے پیشگی بشارت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5318Mishkaat-al-Masabihصحیح

ریا و شہرت کا بیان

عَن أبي سعدِ بن أبي فَضَالَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا جَمَعَ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ نَادَى مُنَادٍ: مَنْ كانَ أشركَ فِي عملٍ عملَه للَّهِ أحدا فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ

ابوسعید بن ابی فضالہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب اللہ لوگوں کو روز قیامت ، جس میں کوئی شک نہیں ، (حساب کے لیے) جمع فرمائے گا تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا : جس نے کسی ایسے عمل میں ، جسے اس نے اکیلے اللہ کے لیے کیا تھا ، شریک بنایا تو وہ اپنا ثواب ، اللہ کے علاوہ کسی اور سے طلب کرے ، کیونکہ اللہ (دوسرے) تمام شریکوں کے مقابلے میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔

5319Mishkaat-al-Masabihصحیح

ریا و شہرت کا بیان

وَعَن عبد الله بن عَمْرو أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ أَسَامِعَ خَلْقِهِ وَحَقَّرَهُ وَصَغَّرَهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص اپنے عمل کے متعلق لوگوں کو سناتا ہے تو اللہ اس کے متعلق اپنی مخلوق کے کانوں تک سنا دیتا ہے اور وہ اسے حقیر و ذلیل کر دیتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5320Mishkaat-al-Masabihضعیف

ریا و شہرت کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ طَلَبَ الْآخِرَةِ جَعَلَ اللَّهُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ وَجَمَعَ لَهُ شَمْلَهُ وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ وَمَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ طَلَبَ الدُّنْيَا جَعَلَ اللَّهُ الْفَقْرَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَشَتَّتَ عَلَيْهِ أَمْرَهُ وَلَا يَأْتِيهِ مِنْهَا إِلاَّ مَا كُتِبَ لَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَرَوَاهُ أَحْمد

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کی نیت طلب آخرت ہو تو اللہ اس کے دل کو غنی کر دیتا ہے ، اور اس کے معاملے کو مجتمع فرما دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر اس کے پاس چلی آتی ہے ، اور جس شخص کی نیت طلب دنیا ہو تو اللہ اس کی پیشانی پر فقر ثبت فرما دیتا ہے ، اس کے معاملے کو منتشر کر دیتا ہے اور دنیا اسے اتنی ہی ملتی ہے جتنی اللہ نے اس کے لیے لکھ دی ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔