ریا و شہرت کا بیان
وَالدَّارِمِيُّ عَنْ أَبَانٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
امام دارمی نے اسے ابان کی سند سے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الدارمی ۔
All 6,294 hadiths in order · Page 267 of 315
ریا و شہرت کا بیان
وَالدَّارِمِيُّ عَنْ أَبَانٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
امام دارمی نے اسے ابان کی سند سے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الدارمی ۔
ریا و شہرت کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بَيْنَا أَنَا فِي بَيْتِي فِي مُصَلَّايَ إِذْ دَخَلَ عَلَيَّ رَجُلٌ فَأَعْجَبَنِي الْحَالُ الَّتِي رَآنِي عَلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَكَ اللَّهُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ لَكَ أَجْرَانِ: أَجْرُ السِّرِّ وَأَجْرُ الْعَلَانِيَةِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس اثنا میں کہ میں اپنے گھر میں اپنی جائے نماز پر ہوتا ہوں تو اچانک ایک آدمی میرے پاس آتا ہے مجھے وہ اپنی حالت اچھی لگتی ہے جس میں وہ مجھے دیکھتا ہے ، (کیا یہ بھی ریا کاری ہے ؟) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوہریرہ ! اللہ تم پر رحم فرمائے ، تمہارے لیے دگنا اجر ہے ، پوشیدہ کا اجر اور ظاہر کا اجر ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ریا و شہرت کا بیان
وَعَنْهُ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ يَخْتِلُونَ الدُّنْيَا بِالدِّينِ يَلْبَسُونَ لِلنَّاسِ جُلُودَ الضَّأْنِ مِنَ اللِّينِ أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنَ السُّكَّرِ وَقُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الذِّئَابِ يَقُولُ اللَّهُ: «أَبِي يَغْتَرُّونَ أَمْ عليَّ يجترؤون؟ فَبِي حَلَفْتُ لَأَبْعَثَنَّ عَلَى أُولَئِكَ مِنْهُمْ فِتْنَةً تدع الْحَلِيم فيهم حيران» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو دین کے بدلے میں دنیا طلب کریں گے ، وہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے بکری کی کھال پہنیں گے ، ان کی زبانیں (یعنی گفتگو) چینی سے زیادہ میٹھی ہو گی ، اور ان کے دل بھیڑیوں کے دلوں جیسے ہوں گے ، اللہ فرماتا ہے ، وہ دھوکے میں مبتلا ہیں (کہ میں انہیں مہلت دے رہا ہوں) یا وہ میرے خلاف جرأت کرتے ہیں ، میں اپنی قسم اٹھاتا ہوں کہ میں ایسے لوگوں پر انہی میں سے ایک فتنہ برپا کروں گا کہ وہ ان کے حلیم و بردبار شخص کو بھی حیران چھوڑ دے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
ریا و شہرت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ\nعُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ: لَقَدْ خَلَقْتُ خَلْقًا أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنَ السُّكَّرِ وَقُلُوبُهُمْ أَمَرُّ مِنَ الصَّبْرِ فَبِي حَلَفْتُ لَأُتِيحَنَّهُمْ فِتْنَةً تَدَعُ الْحَلِيمَ فِيهِمْ حَيْرَانَ فَبِي يغترّون أم عليَّ يجترؤونَ؟ رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حديثٌ غَرِيب\n
ابن عمر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :’’ میں نے ایک ایسی مخلوق پیدا کی ہے کہ ان کی زبانیں چینی سے زیادہ شیریں اور ان کے دل ایلوے سے زیادہ کڑوے ہیں ، میں اپنی ذات کی قسم اٹھاتا ہوں ! میں انہیں ایک فتنے میں مبتلا کروں گا کہ وہ ان کے حلیم (عقل مند و بردبار) شخص کو بھی حیران چھوڑ دے گا ، کیا وہ میری وجہ سے دھوکے میں مبتلا ہوئے ہیں یا میرے خلاف جرأت کرتے ہیں ؟‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ریا و شہرت کا بیان
وَعَنْ أَبِي\nهُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ شِرَّةٌ وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ فَإِنْ صَاحِبُهَا سَدَّدَ وَقَارَبَ فَارْجُوهُ وَإِنْ أُشِيرَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ فَلَا تعدوه» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک ہر چیز کے لیے رغبت و نشاط ہوتی ہے اور ہر رغبت و نشاط کے لیے ضعف و سستی بھی ہوتی ہے ، اگر اس رغبت رکھنے والے نے میانہ روی رکھی اور افراط سے احتراز کیا تو اس کی (کامیابی کی) امید رکھو اور اگر اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں (اس کی مشہوری ہو جائے) تو اسے شمار نہ کرو ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ریا و شہرت کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ\nعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بِحَسب امريءٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يُشَارَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ فِي دِينٍ أَوْ دُنْيَا إِلَّا مَنْ عَصَمَهُ اللَّهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»\n
انس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی آدمی کے لیے یہی شر کافی ہے کہ اس کے دین یا دنیا کے معاملے میں اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں (اس کی شہرت ہو جائے) مگر وہ شخص جسے اللہ محفوظ رکھے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ریا و شہرت کا بیان
عَن\nأبي تَمِيمَة قَالَ: شَهِدْتُ صَفْوَانَ وَأَصْحَابَهُ وَجُنْدَبٌ يُوصِيهِمْ فَقَالُوا: هَلْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ سَمَّعَ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُنْتِنُ مِنَ الْإِنْسَانِ بَطْنُهُ فَمن اسْتَطَاعَ أَن لَا يَأْكُل إِلا طيبا فَلْيَفْعَلْ وَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ مِلْءُ كَفٍّ مِنْ دَمٍ أَهَرَاقَهُ فَلْيفْعَل. رَوَاهُ البُخَارِيّ\n
ابوتمیمہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں صفوان ؒ اور ان کے ساتھیوں کے پاس موجود تھا اور جندب ؓ انہیں وعظ و نصیحت فرما رہے تھے ، انہوں نے پوچھا : کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص شہرت کی خاطر کوئی عمل کرتا ہے تو روز قیامت اللہ اس کو رسوا کرے گا (کہ یہ اس نیت سے عمل کرتا تھا) اور جو اپنی جان کو مشقت میں ڈالتا ہے تو اللہ روز قیامت اسے مشقت میں مبتلا کر دے گا ۔‘‘ انہوں نے کہا : ہمیں وصیت فرمائیں : انہوں نے فرمایا : انسان کے جسم سے اس کا پیٹ سب سے پہلے خراب ہوتا ہے ، لہذا جو شخص استطاعت رکھتا ہو کہ وہ صرف حلال ہی کھائے گا تو اسے ایسے ہی کرنا چاہیے ، اور جو شخص استطاعت رکھے کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک چلو خون ، جو اس نے ناجائز بہایا ہو وہ حائل نہ ہو تو وہ ضرور ناجائز خون بہانے سے بچے ۔ رواہ البخاری ۔
ریا و شہرت کا بیان
وَعَن\nعمر بن الْخطاب أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمًا إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَاعِدًا عِنْدَ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: يُبْكِينِي شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ يَسِيرَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ وَمَنْ عَادَى لِلَّهِ وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَ اللَّهَ بِالْمُحَارَبَةِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْأَبْرَارَ الْأَتْقِيَاءَ الْأَخْفِيَاءَ الَّذِينَ إِذَا غَابُوا لَمْ يُتَفَقَّدُوا وَإِنْ حَضَرُوا لَمْ يُدْعَوْا وَلَمْ يُقَرَّبُوا قُلُوبُهُمْ مَصَابِيحُ الْهُدَى يَخْرُجُونَ مِنْ كُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»\n
عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک روز رسول اللہ ﷺ کی مسجد کی طرف آئے تو انہوں نے معاذ بن جبل ؓ کو نبی ﷺ کی قبر کے پاس روتا ہوا دیکھ کر ان سے پوچھا : تمہیں کون سی چیز رلا رہی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : مجھے وہ چیز رلا رہی ہے جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ معمولی سی ریا کاری بھی شرک ہے ، اور جس شخص نے میرے کسی دوست سے دشمنی رکھی تو وہ شخص اللہ کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے میدان میں اتر آیا ، بے شک اللہ ایسے نیک ، متقی اور گم نام لوگوں کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ غائب ہوں تو انہیں تلاش نہ کیا جاتا ہو اور اگر موجود ہوں تو انہیں مدعو نہیں کیا جاتا اور نہ انہیں قریب کیا جاتا ہے ۔ ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں ، وہ ہر قسم کے گرد و غبار سے دور ہیں ۔‘‘ (کسی فتنے کا شکار نہیں ہوتے) اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ریا و شہرت کا بیان
وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى فِي الْعَلَانِيَةِ فَأَحْسَنَ وَصَلَّى فِي السِّرِّ فَأَحْسَنَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: هَذَا عَبْدِي حَقًّا . رَوَاهُ ابْن مَاجَه\n
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک بندہ جب علانیہ نماز پڑھتا ہے تو اچھے طریقے سے پڑھتا ہے اور تنہائی میں نماز پڑھتا ہے تو بھی اچھے طریقے سے پڑھتا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : یہ میرا بندہ مخلص ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
ریا و شہرت کا بیان
وَعَنْ مُعَاذِ\nبْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ إِخْوَانُ الْعَلَانِيَةِ أَعْدَاءُ السَّرِيرَةِ» . فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ. قَالَ: «ذَلِكَ بِرَغْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ وَرَهْبَةِ بَعْضِهِمْ من بعض»\n
معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ آخری دور میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے کہ وہ ظاہری طور پر دوست ہوں گے جبکہ باطنی طور پر دشمن ہوں گے ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! یہ کس طرح ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ ایک دوسرے سے رغبت (یعنی مفاد) اور ایک دوسرے سے خوف (یعنی نقصان) کے پیش نظر ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
ریا و شہرت کا بیان
وَعَنْ شَدَّادِ\nبْنِ أَوْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «من صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ» رَوَاهُمَا أَحْمد\n
شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص دکھلاوے کی خاطر نماز پڑھتا ہے تو اس نے شرک کیا ، جو شخص دکھلاوے کی خاطر روزہ رکھتا ہے تو اس نے شرک کیا ، اور جو شخص دکھلاوے کی خاطر صدقہ کرتا ہے تو اس نے شرک کیا ۔‘‘ دونوں احادیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
ریا و شہرت کا بیان
وَعَنْهُ\nأَنَّهُ بَكَى فَقِيلَ لَهُ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: شَيْءٌ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَذَكَرْتُهُ فَأَبْكَانِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «أَتَخوَّفُ على أمتِي الشِّرْكِ وَالشَّهْوَةِ الْخَفِيَّةِ» قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُشْرِكُ أُمَّتُكَ مِنْ بَعْدِكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ أَمَا إِنَّهُمْ لَا يَعْبُدُونَ شَمْسًا وَلَا قَمَرًا وَلَا حَجَرًا وَلَا وَثَنًا وَلَكِنْ يُرَاؤُونَ بِأَعْمَالِهِمْ. وَالشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ أَنْ يُصْبِحَ أَحَدُهُمْ صَائِمًا فَتَعْرِضَ لَهُ شَهْوَةٌ مِنْ شَهَوَاتِهِ فَيَتْرُكَ صَوْمَهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»\n
شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ وہ رونے لگے ، ان سے پوچھا گیا ، تمہیں کون سی چیز رلا رہی ہے ؟ انہوں نے کہا : وہ چیز جو میں نے رسول اللہ ﷺ کی زبانی سنی ، میں نے اسے یاد کیا تو اس نے مجھے رلا دیا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ مجھے اپنی امت کے بارے میں شرک اور مخفی خواہش کا اندیشہ ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتا ہے ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا آپ کے بعد آپ کی امت شرک کرے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، البتہ وہ سورج کی چاند کی پوجا نہیں کریں گے اور نہ ہی پتھر و صنم کی ، بلکہ وہ اپنے اعمال کا دکھلاوا کریں گے ، اور مخفی خواہش یہ ہے کہ ان میں سے کوئی روزے کی حالت میں صبح کرے گا ، لیکن اس کی خواہشات میں سے کوئی خواہش اس کے سامنے آ جائے گی تو وہ اپنا روزہ توڑ دے گا ۔‘‘ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ریا و شہرت کا بیان
وَعَن\nأبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ؟» فَقُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «الشِّرْكُ الْخَفِيُّ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ فَيُصَلِّيَ فَيَزِيدَ صَلَاتَهُ لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ رجلٍ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه\n
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم مسیح دجال کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں اس چیز کے متعلق نہ بتاؤں جس کا مجھے ، تمہارے متعلق ، مسیح دجال سے بھی زیادہ اندیشہ ہے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ضرور بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ شرک خفی ، وہ یہ ہے کہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے اور جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص مجھے دیکھ رہا ہے تو وہ (اسے دکھانے کے لیے) اپنی نماز لمبی کر دیتا ہے (آہستہ آہستہ لمبی قراءت کے ساتھ زیادہ وقت لگاتا ہے) ۔‘‘ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
ریا و شہرت کا بیان
وَعَن مَحْمُود\nبن لبيد أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ» قالول: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ؟ قَالَ: «الرِّيَاءُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَزَادَ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» : يَقُولُ اللَّهُ لَهُمْ يَوْمَ يُجَازِي الْعِبَادَ بِأَعْمَالِهِمْ: اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاؤُونَ فِي الدُّنْيَا فَانْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً وَخَيْرًا؟\n
محمود بن لبید ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے تمہارے متعلق شرک اصغر کا سب سے زیادہ اندیشہ ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! شرک اصغر سے کیا مراد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ریا کاری ۔‘‘\nاور امام بیہقی نے شعب الایمان میں یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ جس روز اللہ بندوں کو ان کے اعمال کی جزا دے گا تو وہ ان (ریاکاروں) کو فرمائے گا : انہی کی طرف چلے جاؤ جن کو تم دنیا میں (اپنے اعمال) دکھایا کرتے تھے ، دیکھو کیا تم ان کے پاس جزا اور خیر و بھلائی پاتے ہو ؟‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔\n
ریا و شہرت کا بیان
وَعَنْ أَبِي\nسَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ رَجُلًا عَمِلَ عَمَلًا فِي صَخْرَةٍ لَا بَابَ لَهَا وَلَا كَوَّةَ خَرَجَ عَمَلُهُ إِلَى النَّاسِ كَائِنا مَا كَانَ»\n
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر کوئی آدمی کسی ایسی چٹان میں کوئی عمل کرتا ہے جس کا کوئی دروازہ اور روشن دان نہیں ، تو اس کا یہ عمل جیسا بھی ہو لوگوں پر آشکار ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ریا و شہرت کا بیان
وَعَن عُثْمَان\nبن عَفَّان قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ سَرِيرَةٌ صَالِحَةً أَوْ سَيِّئَةً أَظْهَرَ اللَّهُ مِنْهَا رِدَاءً يُعْرَفُ بِهِ»\n
عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کی کوئی نیک یا بد خصلت چھپی ہوئی ہو تو اللہ اس سے کوئی علامت ظاہر فرما دے گا جس سے وہ پہچانا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ریا و شہرت کا بیان
وَعَن عمر\nبن الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ كُلَّ مُنَافِقٍ يَتَكَلَّمُ بِالْحِكْمَةِ وَيَعْمَلُ بِالْجَوْرِ» رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»\n
عمر بن خطاب ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے اس امت کے ہر منافق کا اندیشہ ہے کیونکہ وہ بات حکمت کے ساتھ کرتا ہے جبکہ عملی طور پر ظلم کرتا ہے ۔‘‘ امام بیہقی نے تینوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ریا و شہرت کا بیان
وَعَن\nالمهاجرِ بنِ حبيبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنِّي لَسْتُ كُلَّ كلامِ الْحَكِيم أتقبَّلُ وَلَكِنِّي أَتَقَبَّلُ هَمَّهُ وَهَوَاهُ فَإِنْ كَانَ هَمُّهُ وَهَوَاهُ فِي طَاعَتِي جَعَلْتُ صَمْتَهُ حَمْدًا لِي وَوَقَارًا وإِنْ لمْ يتكلَّمْ رَوَاهُ الدَّارمِيّ\n
مہاجر بن حبیب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں دانا کے سارے کلام کو قبول نہیں کرتا ، لیکن میں اس کی نیت اور اس کے ارادے کو قبول کرتا ہوں ، اگر اس کی نیت اور اس کا ارادہ میری اطاعت میں ہے تو میں اس کی خاموشی کو اپنے لیے حمد و وقار قرار دے دیتا ہوں اگرچہ اس نے کلام نہ کیا ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
رونے اور ڈرنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم (نافرمانوں کے عذاب کے متعلق) جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روؤ اور کم ہنسو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔\n
رونے اور ڈرنے کا بیان
وَعَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ لَا أَدْرِي وَاللَّهِ لَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي وبكم» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ام علاء انصاریہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا ، اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا جبکہ میں اللہ کا رسول بھی ہوں کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ؟‘‘ رواہ البخاری ۔