Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 265 of 315

5281Mishkaat-al-Masabihضعیف

امید اور حرص کا بیان

عَنْ عَمْرِو\nبْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَوَّلُ صَلَاحِ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْيَقِينُ وَالزُّهْدُ وَأَوَّلُ فَسَادِهَا الْبُخْلُ وَالْأَمَلُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان»\n

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس امت کی پہلی صلاح (آخرت کا) یقین اور دنیا سے بے رغبتی ہے ، جبکہ اس کا اول فساد بخل اور (لامحدود) آرزوئیں ہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5282Mishkaat-al-Masabihضعیف

امید اور حرص کا بیان

وَعَنْ سُفْيَانَ\nالثَّوْرِيِّ قَالَ: لَيْسَ الزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا بِلُبْسِ الْغَلِيظِ وَالْخَشِنِ وَأَكْلِ الْجَشِبِ إِنَّمَا الزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا قِصَرُ الْأَمَلِ. رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»\n

سفیان ثوری ؒ نے فرمایا :’’ موٹا ، جھوٹا کپڑا پہننے اور روکھا سوکھا کھانے کا نام دنیا سے بے رغبتی نہیں ، بلکہ آرزوؤں کا کم ہونا دنیا سے بے رغبتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔

5283Mishkaat-al-Masabihضعیف

امید اور حرص کا بیان

وَعَنْ زَيْدِ\nبْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا وَسُئِلَ أَيُّ شَيْءٍ الزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ: طِيبُ الْكَسْبِ وَقِصَرُ الْأَمَلِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان»\n

زید بن حسین ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے امام مالک ؒ سے سنا ، ان سے دریافت کیا گیا ، دنیا سے بے رغبتی سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا : حلال کمائی اور امیدوں کا کم ہونا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5284Mishkaat-al-Masabihصحیح

اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے مال اور عمر سے محبت رکھنے کا بیان

عَن سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ\nوَذُكِرَ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ: «لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَيْنِ» فِي «بَاب فَضَائِل الْقُرْآن»\n

سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ ایسے مالدار کو پسند فرماتا ہے جو پرہیزگار ، گم نام ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔\n اور ابن عمر ؓ سے مروی حدیث :’’ حسد صرف دو آدمیوں پر ہے ‘‘ باب فضائل القرآن میں بیان ہو چکی ہے ۔\n

5285Mishkaat-al-Masabihضعیف

اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے مال اور عمر سے محبت رکھنے کا بیان

عَن أبي بكرةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خيرٌ؟ قَالَ: «مَن طالَ عمُرُه وحسُنَ عَمَلُهُ» . قَالَ: فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ؟ قَالَ: «مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ والدارمي

ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کون سا آدمی بہتر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس کی عمر دراز ہو اور اس کا عمل اچھا (یعنی قرآن و سنت کے مطابق) ہو ۔‘‘ اس شخص نے عرض کیا ، سب سے برا شخص کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس کی عمر دراز ہو اور اس کا عمل برا ہو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الدارمی ۔

5286Mishkaat-al-Masabihصحیح

اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے مال اور عمر سے محبت رکھنے کا بیان

وَعَن عبيد بن خَالِد أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا ثُمَّ مَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ بِجُمُعَةٍ أَوْ نَحْوِهَا فَصَلَّوْا عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا قُلْتُمْ؟» قَالُوا: دَعَوْنَا اللَّهَ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ وَيَرْحَمَهُ وَيُلْحِقَهُ بِصَاحِبِهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ وَعَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ؟» أَوْ قَالَ: «صِيَامُهُ بَعْدَ صِيَامِهِ لِمَا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

عبید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے دو آدمیوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ، ان میں سے ایک اللہ کی راہ میں شہید کر دیا گیا ، پھر دوسرا اس کے تقریباً ایک ہفتے بعد فوت ہو گیا ، صحابہ ؓ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے اس کے لیے کیا دعا کی ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہم نے اللہ سے دعا کی کہ وہ اس کی مغفرت فرمائے ، اس پر رحم فرمائے اور اسے اس کے ساتھی سے ملائے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس کی وہ نمازیں جو اس نے اس کی نمازوں کے بعد پڑھیں وہ کہاں گئیں ؟ اور اس نے اس کے بعد جو عمل کیے وہ کہاں گئے ؟‘‘ یا فرمایا :’’ اس نے اس کے بعد جو روزے رکھے تو وہ کہاں گئے ؟‘‘ ان دونوں کے مابین تو زمین و آسمان کے مابین فاصلے سے زیادہ فاصلہ ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

5287Mishkaat-al-Masabihضعیف

اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے مال اور عمر سے محبت رکھنے کا بیان

وَعَن أبي كبشةَ الأنماريِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ وَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ فَأَمَّا الَّذِي أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ فَإِنَّهُ مَا نَقَصَ مَالُ عَبْدٍ مِنْ صَدَقَةٍ وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ مَظْلِمَةً صَبَرَ عَلَيْهَا إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا عِزًّا وَلَا فَتَحَ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ وَأَمَّا الَّذِي أُحَدِّثُكُمْ فَاحْفَظُوهُ» فَقَالَ: إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نفرٍ: عبدٌ رزقَه اللَّهُ مَالا وعلماً فهوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَيَصِلُ رَحِمَهُ وَيَعْمَلُ لِلَّهِ فِيهِ بِحَقِّهِ فَهَذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ. وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا فَهُوَ صَادِقُ النيَّةِ وَيَقُول: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ فأجرُهما سواءٌ. وعبدٌ رزَقه اللَّهُ مَالا وَلم يَرْزُقْهُ عِلْمًا فَهُوَ يَتَخَبَّطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَلَا يَعْمَلُ فِيهِ بِحَقٍّ فَهَذَا بأخبثِ المنازلِ وعبدٌ لم يرزُقْه اللَّهُ مَالا وَلَا عِلْمًا فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ فِيهِ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَهُوَ نِيَّتُهُ وَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيح

ابو کبشہ انماری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تین خصلتیں ہیں ، میں ان پر قسم اٹھاتا ہوں اور میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں ، تم اسے یاد کر لو ، وہ چیزیں جن پر میں قسم اٹھاتا ہوں یہ ہیں : صدقہ کرنے سے بندے کا مال کم نہیں ہوتا ، جس بندے کی حق تلفی کی جائے اور وہ اس پر صبر کرے تو اس کے بدلے میں اللہ اس کی عزت میں اضافہ فرماتا ہے ، اور بندہ جب کسی سے سوال کرتا ہے تو اللہ اسے فقر میں مبتلا کر دیتا ہے ، رہی وہ بات جو میں تمہیں بتانے جا رہا ہوں اس کو خوب یاد رکھنا ۔‘‘ پس فرمایا :’’ دنیا چار قسم کے لوگوں کے لیے ہے : ایک وہ بندہ جسے اللہ نے مال اور علم عطا کیا ہو اور وہ اس (علم) کے بارے میں اپنے رب سے ڈرتا ہو ، صلہ رحمی کرتا ہو اور وہ اس (علم) کے مطابق اللہ کی خاطر عمل کرتا ہو ، یہ سب سے افضل درجہ ہے ۔ ایک وہ بندہ جسے اللہ نے علم دیا ہو لیکن اسے رزق نہ دیا ہو ، اور وہ نیت کا اچھا ہے ، وہ کہتا ہے : اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں (مالدار) شخص کی طرح خرچ کرتا ، ان دونوں کے لیے اجر برابر ہے ، اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے مال عطا کیا لیکن علم نہیں دیا تو وہ علم کے بغیر اپنے مال کی وجہ سے بے راہ روی کا شکار ہو جاتا ہے ، اور وہ نہ تو اپنے رب سے ڈرتا ہے اور نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی اسے حق کے مطابق خرچ کرتا ہے ، یہ شخص انتہائی برے درجے پر ہے ، اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے مال دیا نہ علم ، وہ کہتا ہے : اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں شخص کی طرح عمل (یعنی خرچ) کرتا ، وہ صرف نیت ہی کرتا ہے جبکہ دونوں کا گناہ برابر ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ سندہ ضعیف ، واہ الترمذی ۔

5288Mishkaat-al-Masabihصحیح

اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے مال اور عمر سے محبت رکھنے کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى إِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ» . فَقِيلَ: وَكَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ الموتِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اسے (اطاعت والے) کاموں پر لگا دیتا ہے ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! وہ اسے کس طرح کام پر لگاتا ہے ؟ فرمایا :’’ موت سے پہلے اسے صالح عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

5289Mishkaat-al-Masabihضعیف

اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے مال اور عمر سے محبت رکھنے کا بیان

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ\n: «الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ. وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ\n

شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دانا شخص وہ ہے جس نے اپنے نفس کا محاسبہ کیا اور موت کے بعد کے لیے عمل کیے ، اور کم عقل شخص وہ ہے جس نے اپنے نفس کو خواہش کے تابع کیا اور اللہ پر امید باندھ لی (کہ وہ غفور و رحیم) ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

5290Mishkaat-al-Masabihضعیف

اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے مال اور عمر سے محبت رکھنے کا بیان

عَنْ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُنَّا فِي مَجْلِسٍ فَطَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرَاكَ طَيِّبَ النَّفْسِ. قَالَ: أَجَلْ. قَالَ: ثُمَّ خَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنِ اتَّقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَالصِّحَّةُ لِمَنِ اتَّقَى خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى وَطِيبُ النَّفس من النَّعيم» رَوَاهُ أَحْمد

نبی ﷺ کے ایک صحابی سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہم ایک مجلس میں تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور آپ کے سر پر پانی (یعنی غسل) کے اثرات تھے ، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم آپ کو خوش طبع دیکھ رہے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ٹھیک ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر لوگوں نے مال داری کے متعلق غور و خوض کرنا شروع کر دیا (کیا وہ جائز ہے یا ناجائز ؟) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ عزوجل سے ڈرتا ہے اس کے لیے مال داری میں کوئی مضائقہ نہیں ، تقویٰ والے شخص کے لیے صحت مال داری سے بہتر ہے ، اور حقیقی خوشی نعمتوں میں سے ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد ۔

5291Mishkaat-al-Masabihضعیف

اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے مال اور عمر سے محبت رکھنے کا بیان

وَعَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ قَالَ كَانَ الْمَالُ فِيمَا مَضَى يُكْرَهُ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَهُوَ تُرْسُ الْمُؤْمِنِ وَقَالَ لَوْلَا هَذِهِ الدَّنَانِيرُ لَتَمَنْدَلَ بِنَا هَؤُلَاءِ الْمُلُوكُ وَقَالَ مَنْ كَانَ فِي يَدِهِ مِنْ هَذِهِ شَيْءٌ فَلْيُصْلِحْهُ فَإِنَّهُ زَمَانٌ إِنِ احْتَاجَ كَانَ أَوَّلَ مَنْ يَبْذُلُ دِينَهُ وَقَالَ: الْحَلَالُ لايحتمل السَّرف. رَوَاهُ فِي شرح السّنة

سفیان ثوری ؒ بیان کرتے ہیں ، ماضی میں مال ناپسندیدہ چیز تھی ، جبکہ آج وہ مومن کی ڈھال ہے ، اور فرمایا : اگر (ہمارے پاس) دینار نہ ہوتے تو یہ بادشاہ ہمیں بے وقعت سمجھتے ، اور فرمایا : جس شخص کے ہاتھ میں مال ہو وہ اسے کارآمد بنائے (ضائع نہ کرے) کیونکہ یہ ایسا دور ہے کہ اگر وہ ضرورت مند ہوا تو وہ پہلا شخص ہو گا جو (حصول دنیا کے لیے) اپنا دین بیچ ڈالے گا ، اور فرمایا : حلال فضول خرچی کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ ضعیف مردود ، رواہ فی شرح السنہ ۔

5292Mishkaat-al-Masabihضعیف

اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے مال اور عمر سے محبت رکھنے کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُنَادِي مُنَادٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ أَبْنَاءُ السِتِّينَ؟ وَهُوَ الْعُمُرُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى [أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تذكَّرَ وجاءكُم النذير] رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت منادی کرنے والا منادی کرے گا : ساٹھ سالے کہاں ہیں ؟‘‘ اور یہ (ساٹھ سال) وہ عمر ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’ کیا ہم نے تمہیں عمر عطا نہیں کی تھی ، جس نے نصیحت پکڑنی تھی وہ نصیحت پکڑتا ، اور تمہارے پاس آگاہ کرنے والے بھی آئے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5293Mishkaat-al-Masabihضعیف

اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے مال اور عمر سے محبت رکھنے کا بیان

وَعَن عبدِ\nالله بنِ شدَّادٍ قَالَ إِنَّ نَفرا من بني عذرةثلاثة أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَكْفِينِيهِمْ؟» قَالَ طَلْحَةُ: أَنَا. فَكَانُوا عِنْدَهُ فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ\nبَعْثًا فَخَرَجَ فِيهِ أَحَدُهُمْ فَاسْتُشْهِدَ ثُمَّ بَعَثَ بَعْثًا فَخَرَجَ فِيهِ الْآخَرُ فَاسْتُشْهِدَ ثُمَّ مَاتَ الثَّالِثُ عَلَى فِرَاشِهِ. قَالَ: قَالَ طَلْحَةُ: فَرَأَيْتُ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةَ فِي الْجَنَّةِ وَرَأَيْتُ الْمَيِّتَ عَلَى فِرَاشِهِ أَمَامَهُمْ وَالَّذِي اسْتُشْهِدَ آخِرًا يَلِيهِ وَأَوَّلَهُمْ يَلِيهِ فَدَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ فَذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: «وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ ذَلِكَ؟ لَيْسَ أَحَدٌ أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ مُؤْمِنٍ يُعَمَّرُ فِي الْإِسْلَام لتسبيحه\nوتكبيره وتهليله»\n

عبداللہ بن شداد ؓ بیان کرتے ہیں ، بنو عذرہ کے تین آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کون ہے جو ان کے (کھانے پینے کی) مجھ سے ذمہ داری اٹھا لے ؟‘‘ طلحہ ؓ نے عرض کیا : میں ، چنانچہ وہ (تینوں) انہیں کہ پاس تھے کہ نبی ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا تو ان میں سے ایک اس لشکر کے ساتھ ہو گیا اور وہ شہید ہو گیا ، پھر آپ نے ایک لشکر روانہ کیا تو دوسرا شخص اس کے ساتھ گیا تو وہ بھی شہید ہو گیا ، پھر تیسرا شخص اپنے بستر پر فوت ہو گیا ، راوی بیان کرتے ہیں ، طلحہ ؓ نے فرمایا : میں نے (خواب میں) تینوں کو جنت میں دیکھا اور بستر پر وفات پانے والے کو ان کے آگے دیکھا ، جو بعد میں شہید ہوا تھا وہ اس کے ساتھ تھا جبکہ پہلے شہید ہونے والا شخص اس دوسرے (شہید) کے ساتھ تھا ، چنانچہ اس سے مجھے اشکال پیدا ہوا تو میں نے نبی ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم کو اس سے کون سی چیز عجیب لگی ؟ اللہ کے ہاں اس مومن سے افضل کوئی شخص نہیں جسے اسلام میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تکبیر اور تہلیل ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ‘‘ کہنے کے لیے طویل عمر دی جائے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

5294Mishkaat-al-Masabihصحیح

اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے مال اور عمر سے محبت رکھنے کا بیان

وَعَنْ مُحَمَّدِ\nبْنِ أَبِي عَمِيرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ عَبْدًا لَوْ خَرَّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمَ وُلِدَ إِلَى أَنْ يَمُوتَ هَرَمًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ لَحَقَّرَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَوَدَّ أَنَّهُ رُدَّ إِلَى الدُّنْيَا كَيْمَا يَزْدَادَ من الْأجر والثَّواب رَوَاهُمَا أَحْمد\n

محمد بن ابی عمیرہ ؓ جو کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے ، ان سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : اگر بندہ اپنے یوم پیدائش سے لے کر بوڑھا ہو کر مرنے تک اللہ کی اطاعت میں سجدہ ریز رہے تو وہ روز قیامت اس کو بھی حقیر سمجھے گا اور وہ آرزو کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تا کہ وہ اجر و ثواب میں اضافہ کر سکے ۔‘‘ دونوں روایات کو امام احمد نے نقل کیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد ۔

5295Mishkaat-al-Masabihصحیح

توکل اور صبر کا بیان

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» مُتَّفق عَلَيْهِ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت کے ستر ہزار افراد حساب کے بغیر جنت میں جائیں گے ، یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم جھاڑ کراتے ہیں اور نہ بدشگونی لیتے تھے اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے تھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5296Mishkaat-al-Masabihصحیح

توکل اور صبر کا بیان

وَعَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ: عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّهْطُ وَالنَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ فَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ أُمَّتِي فَقِيلَ هَذَا مُوسَى فِي قَوْمِهِ ثُمَّ قِيلَ لِي انْظُرْ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ فَقِيلَ لِي انْظُرْ هَكَذَا وَهَكَذَا فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفق فَقيل: هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ وَمَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا قُدَّامَهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ هُمُ الَّذِينَ لَا يَتَطَيَّرُونَ ولايسترقون وَلَا يَكْتَوُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ» . ثُمَّ قَامَ رجل فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَقَالَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ. مُتَّفق عَلَيْهِ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو فرمایا :’’ مجھ پر امتیں پیش کی گئیں ، چنانچہ ایک نبی گزرے ان کے ساتھ ایک آدمی تھا ، ایک اور نبی تھے اور ان کے ساتھ دو آدمی تھے ، اور ایک اور نبی تھے ان کے ساتھ چند آدمی تھے ، جبکہ کسی نبی کے ساتھ کوئی ایک بھی نہیں تھا ، میں نے ایک بڑا گروہ دیکھا جو افق تک پھیلا ہوا تھا ، میں نے امید کی کہ یہ میری امت ہو گی لیکن مجھے بتایا گیا کہ یہ موسیٰ ؑ اپنی قوم کے ساتھ ہیں ، پھر مجھے کہا گیا ، دیکھو ، میں نے بہت بڑا گروہ دیکھا جو افق تک پھیلا ہوا تھا ، مجھے کہا گیا : اس طرف (دائیں ، بائیں) دیکھو ، میں نے بہت بڑا گروہ دیکھا جو افق پر پھیلا ہوا تھا ، مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کی امت ، اور ان کے ساتھ ان کے آگے ستر ہزار ہیں جو حساب کے بغیر جنت میں جائیں گے ، یہ وہ لوگ ہیں جو کہ بدشگونی لیتے تھے نہ دم جھاڑ کراتے تھے اور نہ ہی داغتے تھے اور وہ صرف اپنے رب پر توکل کرتے تھے ۔‘‘ اتنے میں عکاشہ بن محصن ؓ نے کھڑے ہو کر عرض کیا ، اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے ان میں شامل فرمائے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! اس کو ان میں سے کر دے ۔‘‘ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا ، اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے بھی ان میں کر دے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس میں عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5297Mishkaat-al-Masabihصحیح

توکل اور صبر کا بیان

وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم «عجبا لأمر الْمُؤمن كُله خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ» رَوَاهُ مُسلم

صہیب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے ، اس کا ہر معاملہ اس کے لیے باعث خیر ہے ، اور یہ چیز صرف مومن کے لیے خاص ہے ، اگر اسے کوئی نعمت میسر آتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ، اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5298Mishkaat-al-Masabihصحیح

توکل اور صبر کا بیان

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ واستعن بِاللَّه ولاتعجز وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا وَلَكِنْ قُلْ قَدَّرَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عمل الشَّيْطَان»\nرَوَاهُ مُسلم\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قوی مومن ، ضعیف مومن سے بہتر ہے نیز وہ اللہ کو زیادہ پسند ہے ، اور سب (مومنوں) میں خیر ہے ، تو اپنے لیے نفع بخش چیز کے لیے محنت و کوشش کر اور اللہ سے مدد طلب کر اور عاجزی و سستی نہ کر ، اور اگر تجھے کوئی نقصان پہنچے تو ایسے نہ کہو : اگر میں (اس طرح ، اس طرح) کرتا تو اس طرح ، اس طرح ہوتا ، بلکہ ایسے کہو : اللہ نے مقدر کیا اور جو اس نے چاہا سو کیا ، کیونکہ (لفظ) ’’اگر‘‘ عمل شیطان کھولتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5299Mishkaat-al-Masabihصحیح

توکل اور صبر کا بیان

عَن عمر بن الْخطاب قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اگر تم اللہ پر اس طرح توکل کرو جس طرح اس پر توکل کرنے کا حق ہے ، تو وہ تمہیں اس طرح رزق فراہم کرے جس طرح وہ پرندوں کو رزق فراہم کرتا ہے ، وہ صبح کے وقت بھوکے نکلتے ہیں اور شام کے وقت شکم سیر ہو کر واپس آتے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

5300Mishkaat-al-Masabihضعیف

توکل اور صبر کا بیان

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّهَا النَّاسُ لَيْسَ مِنْ شَيْءٍ يُقَرِّبُكُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُكُمْ مِنَ النَّارِ إِلَّا قَدْ أَمَرْتُكُمْ بِهِ وَلَيْسَ شَيْءٌ يُقَرِّبُكُمْ مِنَ النَّارِ وَيُبَاعِدُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا قَدْ نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ وَإِنَّ الرُّوحَ الْأَمِينَ - وَفِي روايةٍ: وإِن رُوحَ الْقُدُسِ - نَفَثَ فِي رُوعِي أَنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا أَلَا فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ وَلَا يَحْمِلَنَّكُمُ اسْتِبْطَاءُ الرِّزْقِ أَنْ تَطْلُبُوهُ بِمَعَاصِي اللَّهِ فَإِنَّهُ لَا يُدْرَكُ مَا عِنْدَ اللَّهِ إِلَّا بِطَاعَتِهِ «. رَوَاهُ فِي» شرح السّنة «وَالْبَيْهَقِيّ فِي» شعب الإِيمان إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: «وَإِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ»

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگو ! ہر وہ چیز جو تمہیں جنت کے قریب کر دے اور تمہیں جہنم سے دور کر دے میں اس کے متعلق حکم دے چکا ہوں ، اور ہر وہ چیز جو تمہیں جہنم کے قریب کر دے اور تمہیں جنت سے دور کر دے میں اس سے تمہیں منع کر چکا ہوں ، بے شک روح الامین ، اور ایک دوسری روایت میں ہے ، بے شک روح القدس نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ کوئی نفس اپنا رزق پورا کیے بغیر فوت نہیں ہو گا ، سن لو ! اللہ سے ڈرو اور اچھے طریقے سے رزق تلاش کرو اور رزق کی تاخیر تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اللہ کی نافرمانی کے ساتھ اسے طلب کرو ، کیونکہ اللہ کے ہاں جو (انعامات) ہیں وہ تو محض اس کی اطاعت کے ذریعے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں ۔‘‘ شرح السنہ ، بیہقی فی شعب الایمان ، البتہ امام بیہقی نے ’’وَاِنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ‘‘ کا ذکر نہیں کیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔