Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 264 of 315
فقرا کی فضیلت اور نبی ﷺ کی گزران کا بیان
وَعَنْ\nأَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُبِّبَ إِلَيَّ الطِّيبُ وَالنِّسَاءُ وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ. وَزَادَ ابْنُ الْجَوْزِيِّ بَعْدَ قَوْلِهِ: «حُبِّبَ إِليَّ» منَ الدُّنْيَا\n
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ خوشبو اور عورتیں میرے لیے پسندیدہ بنا دی گئی ہیں ، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے ۔‘‘ احمد ، نسائی ، اور ابن جوزی نے ((حُبَّبَ إلَیَّ)) کے بعد ((مِنَ الدُّنْیَا)) کا اضافہ نقل کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و النسائی ۔
فقرا کی فضیلت اور نبی ﷺ کی گزران کا بیان
وَعَنْ\nمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ بِهِ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ: «إِيَّاكَ وَالتَّنَعُّمَ فَإِنَّ عِبَادَ الله لَيْسُوا بالمتنعمين» . رَوَاهُ أَحْمد\n
معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اسے یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا :’’ زیادہ ناز و نعمت کی زندگی سے بچنا ، کیونکہ اللہ کے (مخلص) بندے زیادہ نعمت گزاران نہیں ہوتے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
فقرا کی فضیلت اور نبی ﷺ کی گزران کا بیان
وَعَنْ عَلِيٍّ\nرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَضِيَ مِنَ اللَّهِ بِالْيَسِيرِ مِنَ الرِّزْقِ رَضِيَ الله مِنْهُ بِالْقَلِيلِ من الْعَمَل»\n
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کی طرف سے ملنے والے تھوڑے سے رزق پر راضی ہو جاتا ہے تو اللہ اس کے تھوڑے عمل سے راضی ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
فقرا کی فضیلت اور نبی ﷺ کی گزران کا بیان
وَعَنِ\nابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَاعَ أَوِ احْتَاجَ فَكَتَمَهُ النَّاسُ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَرْزُقَهُ رِزْقَ سَنَةٍ مِنْ حلالٍ» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»\n
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص بھوک میں مبتلا ہوا یا کسی چیز کا ضرورت مند ہوا اور اس نے اسے لوگوں سے چھپائے رکھا تو اللہ عزوجل پر حق ہے کہ وہ اسے سال بھر کے لیے رزق حلال عطا فرمائے ۔‘‘ دونوں روایتوں کو امام بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
فقرا کی فضیلت اور نبی ﷺ کی گزران کا بیان
وَعَنْ\nعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ الْفَقِيرَ الْمُتَعَفِّفَ أَبَا الْعِيَالِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه\n
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ اپنے اس مومن عیال دار بندے کو پسند کرتا ہے جو ضرورت مند ہونے کے باوجود سوال نہیں کرتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
فقرا کی فضیلت اور نبی ﷺ کی گزران کا بیان
وَعَن زيدِ\nبنِ أسلمَ قَالَ: اسْتَسْقَى يَوْمًا عُمَرُ فَجِيءَ بِمَاءٍ قَدْ شيبَ بعسلٍ فَقَالَ: إِنَّه لطيِّبٌ لكني أَسْمَعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نَعَى عَلَى قَوْمٍ شَهَوَاتِهِمْ فَقَالَ (أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا)\nفَأَخَافُ أَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا فَلَمْ يشربْه. رَوَاهُ رزين\n
زید بن اسلم ؒ بیان کرتے ہیں ، ایک روز عمر ؓ نے پانی طلب کیا تو انہیں شہد ملا پانی پیش کیا گیا ، انہوں نے فرمایا : یہ تو بہت اچھا ہے ، لیکن میں اللہ عزوجل کا فرمان سنتا ہوں کہ اس نے ایک قوم کو ان کی شہوات پر معیوب قرار دیتے ہوئے فرمایا :’’ تم نے اپنی اچھی چیزیں دنیا کی زندگانی میں حاصل کر لیں اور تم نے ان سے استفادہ کر لیا ۔‘‘ میں تو ڈرتا ہوں کہ ہماری نیکیوں کا ثواب دنیا ہی میں نہ دے دیا جائے ، لہذا انہوں نے اسے نہ پیا ۔ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
فقرا کی فضیلت اور نبی ﷺ کی گزران کا بیان
وَعَن\nابنِ عمَرَ قَالَ: مَا شبِعنا من تمر حَتَّى فتحننا خَيْبَرَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ\n
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے فتح خیبر سے پہلے کبھی بھی سیر ہو کر کھجوریں نہیں کھائیں ۔ رواہ البخاری ۔
عَن عبد الله قَالَ: خَطَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا مُرَبَّعًا وَخَطَّ خَطًّا فِي الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْهُ وَخَطَّ خُطُطًا صِغَارًا إِلَى هَذَا الَّذِي فِي الْوَسَطِ مِنْ جَانِبِهِ الَّذِي فِي الْوَسَطِ وفقال: «هَذَا الْإِنْسَانُ وَهَذَا أَجَلُهُ مُحِيطٌ بِهِ وَهَذَا الَّذِي هُوَ خَارِجُ أَمَلِهِ وَهَذِهِ الْخُطُوطُ الصِّغَارُ الْأَعْرَاضُ فَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَسَهُ هَذَا وَإِنْ أخطأه هَذَا نهسه هَذَا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے ایک مربع شکل خط کھینچا اور ایک خط (اس مربع کے) وسط میں اس سے باہر جاتا ہوا کھینچا اور کچھ اس وسط والے خط کے پہلو میں چھوٹے چھوٹے خط اور کھینچے اور فرمایا :’’ یہ انسان ہے اور یہ اس کی اجل (موت) ہے ، جو اسے گھیرے ہوئے ہے اور جو باہر کی طرف نکل رہی ہے یہ اس کی امید ہے ، اور یہ چھوٹے چھوٹے خطوط پیش آمدہ حادثات ہیں ، اگر ایک اس سے خطا کر جاتا ہے تو یہ (دوسرا) اسے دبوچ لیتا ہے ، اور اگر یہ اس سے خطا کر جاتا ہے تو یہ اسے دبوچ لیتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَطَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطُوطًا فَقَالَ: «هَذَا الْأَمَلُ وَهَذَا أَجَلُهُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَهُ الْخَطُّ الأقربُ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے کچھ خط کھینچے تو فرمایا :’’ یہ امید ہے ، اور یہ اس کی موت ہے ، وہ اسی اثنا میں ہوتا ہے تو زیادہ قریب والا خط اچانک اس تک آ پہنچتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَشِبُّ مِنْهُ اثْنَانِ: الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ انسان بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن اس کی دو چیزیں جوان رہتی ہیں ، مال کی حرص اور عمر کی حرص ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَزَالُ قَلْبُ الْكَبِيرِ شَابًّا فِي اثْنَيْنِ: فِي حُبِّ الدُّنْيَا وَطول الأمل . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بوڑھے شخص کا دل دو چیزوں کے بارے میں جوان ہی رہتا ہے : دنیا کی محبت کے بارے میں اور لمبی خواہشوں کے بارے میں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَى امْرِئٍ أَخَّرَ أَجَلَهُ حَتَّى بَلَّغَهُ سِتِّينَ سَنَةً» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے اس شخص سے (توبہ نہ کرنے اور نیک عمل نہ کرنے کا) عذر زائل کر دیا جس کی اجل کو مؤخر کیا حتیٰ کہ اسے ساٹھ سال تک پہنچا دیا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابن عباس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر انسان کے لیے مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرتا ہے ، انسان کے پیٹ کو صرف (قبر کی) مٹی ہی بھرے گی ، اور اللہ توبہ کرنے والے شخص کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ جَسَدِي فَقَالَ: «كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سبيلٍ وعُدَّ نفسَكَ فِي أهل الْقُبُور» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے میرے جسم کے کسی حصے کو پکڑ کر فرمایا :’’ دنیا میں ایسے رہو گویا تم ایک پردیسی یا راہ گیر ہو اور اپنے آپ کو اہل قبور (مُردوں) میں سے شمار کرو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
عَن عبد الله بن عَمْرو قَالَ: مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَأُمِّي نُطَيِّنُ شَيْئًا فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ؟» قُلْتُ شَيْءٌ نُصْلِحُهُ. قَالَ: «الْأَمْرُ أَسْرَعُ مِنْ ذَلِكَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سے گزرے تو میں اور میری والدہ (اپنے مکان کے) کسی حصہ کی لپائی کر رہے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عبداللہ ! کیا ہو رہا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، ہم (مکان کے کسی) حصہ کی مرمت کر رہے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ معاملہ (موت) اس سے زیادہ تیز ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُهَرِيقُ الْمَاءَ فَيَتَيَمَّمُ بِالتُّرَابِ فَأَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَاءَ مِنْكَ قَرِيبٌ يَقُولُ: «مَا يُدْرِينِي لَعَلِّي لَا أَبْلُغُهُ» . رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» وَابْنُ الْجَوْزِيِّ فِي كتاب «الْوَفَاء»
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کبھی پیشاب کرتے تو مٹی سے تیمم کرتے ، میں عرض کرتا ، اللہ کے رسول ! پانی تو آپ کے قریب ہی ہے ، آپ ﷺ فرماتے :’’ مجھے کیا پتہ شاید کہ میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں ۔‘‘ شرح السنہ ، اور ابن جوزی نے کتاب ’’الوفاء‘‘ میں اسے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
عَنْ أَنَسٍ\nأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ» وَوَضَعَ يَدَهُ عِنْدَ قَفَاهُ ثُمَّ بَسَطَ فَقَالَ: «وَثَمَّ أمله» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اپنی گدی کے پاس رکھا ، پھر کھولا تو فرمایا :’’ اور وہاں اس کی آرزوئیں ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
وَعَنْ أَبِي\nسَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَرَزَ عُودًا بَيْنَ يَدَيْهِ وَآخَرَ إِلَى جَنْبِهِ وَآخَرَ أَبْعَدَ مِنْهُ. فَقَالَ: «أَتُدْرُونَ مَا هَذَا؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «هَذَا الْإِنْسَانُ وَهَذَا الْأَجَلُ» أُرَاهُ قَالَ: «وَهَذَا الْأَمَلُ فَيَتَعَاطَى الْأَمَلَ فَلَحِقَهُ الْأَجَلُ دُونَ الْأَمَلِ» . رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السّنة»\n
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے سامنے ایک لکڑی گاڑی ، ایک اس کے پہلو میں اور ایک اس کے دور گاڑی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ انسان ہے اور یہ اجل ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میرا خیال ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ آرزوئیں ہیں ، وہ آرزوئیں حاصل کرنے کے لیے کوشش کرتا ہے تو اس کی آرزو کے پورا ہونے سے پہلے اسے موت آ جاتی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
وَعَنْ أَبِي\nهُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عُمُرُ أُمَّتِي مِنْ سِتِّينَ سَنَةً إِلَى سَبْعِينَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ\n
ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت کی عمر ساٹھ اور ستر سال کے درمیان ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
وَعَنْهُ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ السِتِّينَ إِلَى السَبْعِينَ وَأَقَلُّهُمْ مَنْ يَجُوزُ ذَلِكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ\nوَذُكِرَ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بنِ الشِّخيرِ فِي «بَاب عِيَادَة الْمَرِيض»\n
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت کی عمریں ساٹھ اور ستر سال کے درمیان ہیں ، اور اس (ساٹھ ، ستر) سے تجاوز کرنے والے ان میں سے کم ہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔\n اور عبداللہ بن شخیر سے مروی حدیث باب عیادۃ المریض میں ذکر ہو چکی ہے ۔\n