Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 261 of 315
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْيَا عَلَى مَعَاصِيهِ مَا يُحِبُّ فَإِنَّمَا هُوَ اسْتِدْرَاجٌ» ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (فَلَمَّا نسوا ماذكروا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هم مبلسون)\nرَوَاهُ أَحْمد\n
عقبہ بن عامر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم اللہ عزوجل کو دیکھو کہ وہ بندے کو اپنی معصیت کے باوجود دنیا دے رہا ہے جس (معصیت) کو وہ پسند نہیں کرتا تو وہ کوئی تدبیر ہے ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ جب انہوں نے اس چیز کو بھلا دیا جس کے ذریعے انہیں سمجھایا گیا تھا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے ، حتیٰ کہ جب وہ عطا کردہ چیزوں پر خوش ہو گئے تو ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا ، تب وہ متحیر و ناامید ہو گئے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ أَبِي\nأُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ دِينَارًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيَّةٌ» قَالَ: ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ فَتَرَكَ دِينَارَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيَّتَانِ» رَوَاهُ أَحْمَدُ والبيهقيُّ فِي «شعب الإِيمان»\n
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ اہل صفہ میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا تو اس نے ایک دینار چھوڑا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (یہ دینار) ایک داغ (دینے کے باعث) ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر دوسرا آدمی فوت ہوا تو اس نے دو دینار چھوڑے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (یہ دو دینار) دو داغ (دینے کا باعث) ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَن مُعَاوِيَة\nأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى خَالِهِ أَبِي هَاشِمِ بْنِ عتبَة يعودهُ فَبَكَى أَبُو هَاشِمٍ فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ يَا خَالِ؟ أَوَجَعٌ يُشْئِزُكَ أَمْ حِرْصٌ عَلَى الدُّنْيَا؟ قَالَ: كلا ولكنَّ رَسُول الله عهد إِلينا عَهْدًا لَمْ آخُذْ بِهِ. قَالَ: وَمَا ذَلِكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» . وَإِنِّي أَرَانِي قَدْ جَمَعْتُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْن مَاجَه\n
معاویہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنے ماموں ابوہاشم بن عتبہ ؓ کی عیادت کے لیے گئے تو ابوہاشم ؓ رونے لگے ، انہوں نے پوچھا : ماموں جان ! کون سی چیز آپ کو رلا رہی ہے ، کیا کوئی تکلیف تمہیں اضطراب میں ڈال رہی ہے یا دنیا کی حرص ؟ انہوں نے کہا ، ہرگز نہیں ، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں وصیت فرمائی تھی لیکن میں نے اس پر عمل نہ کیا ، انہوں نے فرمایا : وہ (وصیت) کیا تھی ؟ انہوں نے کہا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تمہارے لیے اتنا مال جمع کرنا ہی کافی ہے کہ ایک خادم ہو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے ایک سواری ہو ۔‘‘ اور میں خیال کرتا ہوں کہ میں (مال) جمع کر چکا ہوں ۔ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ أُمِّ\nالدَّرْدَاءِ قَالَتْ: قُلْتُ: لِأَبِي الدَّرْدَاءِ: مَالك لَا تَطْلُبُ كَمَا يَطْلُبُ فُلَانٌ؟ فَقَالَ: أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَمَامَكُمْ عَقَبَةً كَؤُودًا لَا يَجُوزُهَا المثقلون» . فَأحب أَن أتخفف لتِلْك الْعقبَة\n
ام درداء ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے ابودرداء ؓ سے کہا : آپ کو کیا ہے کہ آپ فلاں کی طرح (مال و منصب) طلب نہیں کرتے ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تمہارے آگے ایک دشوار گھاٹی ہے جسے بھاری وزن اٹھانے والے پار نہیں کر سکیں گے ۔‘‘ میں چاہتا ہوں کہ میں اس گھاٹی (سے گزرنے ) کے لیے وزن ہلکا رکھوں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ مِنْ أَحَدٍ يَمْشِي عَلَى الْمَاءِ إِلَّا ابْتَلَّتْ قَدَمَاهُ؟» قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «كَذَلِكَ صَاحِبُ الدُّنْيَا لَا يسلمُ منَ الذُّنُوب» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»\n
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا کوئی ایسا شخص ہے جو پانی پر چلتا ہو لیکن اس کے پاؤں گیلے نہ ہوتے ہوں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دنیا دار شخص اسی طرح ہے ، وہ گناہوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا ۔‘‘ ان دونوں احادیث کو امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَن جُبَير\nبن نفير رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ أَجْمَعَ الْمَالَ وَأَكُونَ مِنَ التَّاجِرِينَ وَلَكِنْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ (سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ. واعبد ربَّك حَتَّى يَأْتِيك الْيَقِين)\nرَوَاهُ فِي\nشَرْحِ السُّنَّةِ» وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي «الْحِلْية» عَن أبي مُسلم\n
جبیر بن نفیر ؒ مرسل روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری طرف یہ وحی نہیں کی گئی کہ میں مال جمع کروں اور تاجروں میں سے ہو جاؤں ، بلکہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ ’’ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں ، اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں حتیٰ کہ آپ وفات پا جائیں ۔‘‘ شرح السنہ ، اور ابونعیم نے ابو مسلم سے حلیہ میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ و فی حلیہ الاولیاء ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ أَبِي\nهُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَلَالًا اسْتِعْفَافًا عَنِ الْمَسْأَلَةِ وَسَعْيًا عَلَى أَهْلِهِ وَتَعَطُّفًا عَلَى جَارِهِ لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَوَجْهُهُ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ. وَمَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَلَالًا مُكَاثِرًا مفاخرا مرائيا لَقِي الله وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي «الْحِلْية»\n
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے حلال طریقے سے ، مانگنے سے بچنے کے لیے ، اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے کے لیے اور اپنے پڑوسی پر مہربانی کرنے کے لیے دنیا طلب کی تو وہ روز قیامت اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح (چمکتا) ہو گا ۔ اور جس شخص نے حلال طریقے سے ، مال میں اضافہ کرنے کے لیے ، باہم فخر کرنے کے لیے اور ریاکاری کے لیے دنیا طلب کی تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْخَيْرَ خَزَائِنُ لِتِلْكَ الْخَزَائِنِ مَفَاتِيحُ فَطُوبَى لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ مِغْلَاقًا لِلشَّرِّ وَوَيْلٌ لَعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلشَّرِّ مِغْلَاقًا لِلْخَيْرِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک یہ خیر کے خزانے ہیں ، ان خزانوں کی چابیاں ہیں ، اس بندے کے لیے خوشخبری ہے جسے اللہ نے خیر کے لیے چابی (کھولنے والا) بنا دیا اور شر کو بند کرنے والا بنا دیا ، اور اس بندے کے لیے ہلاکت ہے جسے اللہ نے شر کھولنے والا اور خیر کو بند کرنے والا بنایا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ عَلِيٍّ\nرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا لَمْ يُبَارَكْ لِلْعَبْدِ فِي مَالِهِ جَعَلَهُ فِي المَاء والطين»\n
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بندے کے کسی مال میں برکت نہ رکھی جائے تو وہ اس مال کو پانی اور مٹی (یعنی تعمیر) پر صرف کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنِ ابْنِ\nعُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اتَّقُوا الْحَرَامَ فِي الْبُنْيَانِ فَإِنَّهُ أَسَاسُ الْخَرَابِ» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَان»\n
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تعمیرات کے سلسلے میں (ارتکاب) حرام سے بچو ، کیونکہ وہ خرابی کی اساس ہے ۔‘‘ دونوں روایات کو امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ\nرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الدُّنْيَا دَارُ مَنْ لَا دَارَ لَهُ وَمَالُ مَنْ لَا مَالَ لَهُ وَلَهَا يَجْمَعُ مَنْ لَا عَقْلَ لَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَان»\n
عائشہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتی ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دنیا اس کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہیں ، اس کا مال ہے جس کا کوئی مال نہیں ، اور اس (دنیا) کے لیے وہی جمع کرتا ہے جو عقل مند نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: «الْخَمْرُ جِمَاعُ الْإِثْمِ وَالنِّسَاءُ حَبَائِلُ الشَّيْطَانِ وَحُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ»\nقَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «أَخِّرُوا النِّسَاءَ حَيْثُ أَخَّرَهُنَّ اللَّهُ» . رَوَاهُ رزين\n
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دوران خطبہ فرماتے ہوئے سنا :’’ شراب تمام گناہوں کا مجموعہ ہے ، عورتیں شیطان کے جال ہیں ، اور دنیا کی محبت ہر گناہ کی اصل و بنیاد ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ عورتوں کو پیچھے رکھو جیسے اللہ نے انہیں پیچھے رکھا ۔‘‘ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وروى اليهقي\nمِنْهُ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا: «حب الدُّنْيَا رَأس كل خَطِيئَة»\n
اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں اسے حسن سے مرسل روایت کیا ہے :’’ دنیا کی محبت تمام گناہوں کی بنیاد ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ جَابِرٍ\nرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وسم: «إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي الْهَوَى وَطُولُ الْأَمَلِ فَأَمَّا الْهَوَى فَيَصُدُّ عَنِ الْحَقِّ وَأما طول الأمل فيُنسي الْآخِرَةَ وَهَذِهِ الدُّنْيَا مُرْتَحِلَةٌ ذَاهِبَةٌ وَهَذِهِ الْآخِرَةُ مُرْتَحِلَةٌ قَادِمَةٌ وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بَنُونَ فَإِنِ اسْتَطَعْتُم أَن لَا تَكُونُوا بَنِي الدُّنْيَا فَافْعَلُوا فَإِنَّكُمُ الْيَوْمَ فِي دَارِ الْعَمَلِ وَلَا حِسَابَ وَأَنْتُمْ غَدًا فِي دَارِ الْآخِرَةِ وَلَا عَمَلَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَان»\n
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے اپنی امت کے متعلق خواہش نفس اور طول آرزو کا سب سے زیادہ اندیشہ ہے ، کیونکہ خواہش نفس حق سے روکتی ہے جبکہ طول آرزو آخرت بھلا دیتی ہے ، اور یہ دنیا (غیر محسوس طریقے سے) چلی جا رہی ہے جبکہ آخرت (اسی طرح) چلی آ رہی ہے ، اور دونوں میں سے ہر ایک کے طلبگار ہیں ، تم دنیا کے طلبگار نہ بنو ، عمل کرتے رہو ، کیونکہ آج تم دارِ عمل میں ہو اور کوئی حساب نہیں ، اور کل دارِ آخرت میں ہو گے اور کوئی عمل نہیں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ عَلِيٍّ\nرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ارْتَحَلَتِ الدُّنْيَا مُدْبِرَةً وَارْتَحَلَتِ الْآخِرَةُ مُقْبِلَةً وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بَنُونَ فَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الْآخِرَةِ وَلَا تَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْيَوْمَ عَمَلٌ وَلَا حِسَابَ وَغَدًا حِسَابٌ وَلَا عَمَلَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ\n
علی ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : دنیا گزر رہی ہے جبکہ آخرت آ رہی ہے ، اور دونوں میں سے ہر ایک کے طلبگار ہیں ، تم آخرت کے طلبگار بنو اور دنیا کے طلبگار نہ بنو کیونکہ آج عمل (کا وقت) ہے اور حساب نہیں جبکہ کل حساب ہو گا اور عمل نہیں ہو گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ عَمْرٍو\nرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: «أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا عَرَضٌ حَاضِرٌ يَأْكُلُ مِنْهُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ أَلا وَإِن الآحرة أَجَلٌ صَادِقٌ وَيَقْضِي فِيهَا مَلِكٌ قَادِرٌ أَلَا وَإِنَّ الْخَيْرَ كُلَّهُ بِحَذَافِيرِهِ فِي الْجَنَّةِ أَلَا وَإِنَّ الشَّرَّ كُلَّهُ بِحَذَافِيرِهِ فِي النَّارِ أَلَا فَاعْمَلُوا وَأَنْتُمْ مِنَ اللَّهِ عَلَى حَذَرٍ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مَعْرُوضُونَ عَلَى أَعْمَالِكُمْ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شرا يره» . للشَّافِعِيّ\n
عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک روز خطبہ ارشاد فرمایا تو آپ ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا :’’ سن لو ! دنیا ایک حاضر مال ہے ، نیک بھی اس سے کھاتا ہے اور فاجر بھی ، سن لو ! آخرت ایک اٹل حقیقت ہے ، اس وقت قادر مطلق بادشاہ (نیک و فاجر کے درمیان) فیصلہ کرے گا ، سن لو ! خیر مکمل طور پر جنت میں ہے اور سن لو ! شر مکمل طور پر جہنم میں ہے ، اور سن لو ! عمل کرتے رہو ، تم اللہ کی طرف سے (وقوع شر کے خوف سے) ڈرتے رہو ، اور جان لو کہ تمہیں تمہارے اعمال پر پیش کیا جائے گا ، جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ بھی اسے دیکھ لے گا ۔‘‘ امام شافعی نے اسے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الشافعی ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ\nشَدَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الدُّنْيَا عَرَضٌ حَاضِرٌ يَأْكُلُ مِنْهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ وَإِنَّ الْآخِرَةَ وَعْدٌ صَادِقٌ يَحْكُمُ فِيهَا مَلِكٌ عَادِلٌ قَادِرٌ يُحِقُّ فِيهَا الْحَقَّ وَيُبْطِلُ الْبَاطِلَ كُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الْآخِرَةِ وَلَا تَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الدُّنْيَا فَإِنَّ كل أم يتبعهَا وَلَدهَا»\n
شداد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ لوگو ! بے شک دنیا حاضر مال ہے ، ہر نیک و فاجر اس سے کھاتا ہے ، آخرت اٹل حقیقت اور سچا وعدہ ہے ، عادل قادر بادشاہ اس وقت فیصلہ فرمائے گا ، وہ اس میں حق کو ثابت کر دے گا اور باطل کو ناپید کر دے گا ، آخرت کے طلبگار بنو ، دنیا کے طلبگار نہ بنو ، بے شک ہر بچہ اپنی ماں کے پیچھے چلتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابونعیم فی حلیہ الاولیاء ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ\nأَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ إِلَّا وَبِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ يُسْمِعَانِ الْخَلَائِقَ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى «رَوَاهُمَا أَبُو نُعَيْمٍ فِي» الْحِلْية\n
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے دونوں کناروں پر دو فرشتے آواز دیتے ہیں ، وہ جنوں اور انسانوں کے سوا ساری مخلوق کو (اپنی آواز) سناتے ہیں : لوگو ! اپنے رب کی طرف آؤ ، جو (مال) تھوڑا اور کافی ہو وہ اس (مال) سے بہتر ہے جو زیادہ ہو اور (اللہ کی یاد سے) غافل کر دے ۔‘‘ دونوں احادیث کو ابونعیم نے الحلیہ میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابونعیم فی حلیہ الاولیاء ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ أَبِي\nهُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ قَالَ: إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: مَا قَدَّمَ؟ وَقَالَ بَنُو آدَمَ: مَا خَلَّفَ؟ «. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي» شعب الْإِيمَان\n
ابوہریرہ ؓ مرفوع روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب فوت ہونے والا فوت ہوتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں : اس نے (اعمال میں سے) آگے کیا بھیجا ہے ؟ اور انسان کہتے ہیں ، اس نے (مال میں سے) پیچھے کیا چھوڑا ہے ؟‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان
وَعَنْ مَالِكٍ\nرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ لُقْمَانَ قَالَ لِابْنِهِ: «يَا بُنَيَّ إِنَّ النَّاسَ قَدْ تَطَاوَلَ عَلَيْهِمْ مَا يُوعَدُونَ وَهُمْ إِلَى الْآخِرَةِ سرَاعًا يذهبون وَإنَّك قداستدبرت الدُّنْيَا مُنْذُ كُنْتَ وَاسْتَقْبَلْتَ الْآخِرَةَ وَإِنَّ دَارًا تسيرإليها أقربُ إِليك من دارٍ تخرج مِنْهَا» . رَوَاهُ رزين\n
امام مالک ؒ سے روایت ہے کہ لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا :’’ بیٹے ! بے شک لوگوں سے جس چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ ان پر دراز ہو چلا ہے ، اور وہ آخرت کی طرف تیز چلے جا رہے ہیں ، اور جب سے تو دنیا میں آیا ہے اس وقت سے تو اسے (آہستہ آہستہ) پیچھے چھوڑ رہا ہے اور آخرت کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے ، بے شک وہ گھر جس کی طرف تو محو سفر ہے ، وہ تیرے اس گھر سے ، جہاں سے تو روانہ ہوا ہے ، زیادہ قریب ہے ۔‘‘ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔