Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 262 of 315

5221Mishkaat-al-Masabihصحیح

دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان

وَعَنْ عَبْدِ\nاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «كُلُّ مَخمومُ الْقلب صَدُوق اللِّسَان» . قَالُوا: صدزق اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ؟ قَالَ: «هُوَ النَّقِيُّ التَّقِيُّ لَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَلَا بَغْيَ وَلَا غِلَّ وَلَا حَسَدَ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»\n

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا ، کون سا آدمی سب سے بہتر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر صاف دل ، راست گو ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، ہم راست گو کے متعلق تو جانتے ہیں ، صاف دل سے کیا مراد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ صاف و پاک جس پر کوئی گناہ ہے نہ کوئی ظلم اور نہ ہی کوئی کینہ و حسد ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔

5222Mishkaat-al-Masabihضعیف

دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان

وَعَنْهُ\nأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرْبَعٌ إِذَا كُنَّ فِيكَ فَلَا عَلَيْكَ مَا فَاتَكَ مِنَ الدُّنْيَا: حِفْظُ أَمَانَةٍ وَصِدْقُ حَدِيثٍ وَحُسْنُ خَلِيقَةٍ وَعِفَّةٌ فِي طُعْمَةٍ «. رَوَاهُ أَحْمد وَالْبَيْهَقِيّ فِي» شعب الْإِيمَان\n

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ چار چیزیں ایسی ہیں جب وہ تم میں ہوں تو پھر اگر تمہیں دنیا نہ بھی ملے تو کوئی حرج و مضائقہ نہیں ، حفظ امانت ، صدق کلام ، حسن اخلاق اور (حرام) کھانے سے پرہیز کرنا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔

5223Mishkaat-al-Masabihضعیف

دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان

وَعَنْ مَالِكٍ\nرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّهُ قِيلَ لِلُقْمَانَ الْحَكِيمِ: مَا بَلَغَ بِكَ مَا ترى؟ يَعْنِي الْفَضْلَ قَالَ: صِدْقُ الْحَدِيثِ وَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ وَتَرْكُ مَا لَا يَعْنِينِي. رَوَاهُ فِي «الْمُوَطَّأِ»\n

امام مالک سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے حدیث پہنچی ہے کہ لقمان حکیم سے پوچھا گیا ، جس مقام پر ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں اس مقام پر آپ کو کون سی باتوں نے پہنچایا ؟ انہوں نے فرمایا : راست گوئی ، امانت کی ادائیگی اور فضول باتوں چیز کو چھوڑ دینا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک ۔

5224Mishkaat-al-Masabihضعیف

دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَجِيء الْأَعْمَال فتجيء الصَّلَاة قتقول: يارب أَنَا الصَّلَاةُ. فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ. فَتَجِيءُ الصَّدَقَة فَتَقول: يارب أَنَا الصَّدَقَةُ. فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ ثُمَّ يَجِيء الصّيام فَيَقُول: يارب أَنَا الصِّيَامُ. فَيَقُولُ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ. ثُمَّ تَجِيءُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكَ. يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ. ثُمَّ يَجِيءُ الْإِسْلَامُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَنْتَ السَّلَامُ وَأَنَا الْإِسْلَامُ. فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ بِكَ الْيَوْمَ آخُذُ وَبِكَ أُعْطِي. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ: (وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَة من الحاسرين)\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اعمال (اللہ کے حضور سفارش کرنے کے لیے) آئیں گے ، نماز آئے گی ، اور عرض کرے گی ، رب جی ! میں نماز ہوں ، وہ فرمائے گا : تو خیر پر ہے ، صدقہ آئے گا ، وہ عرض کرے گا ، رب جی ! میں صدقہ ہوں ، وہ فرمائے گا : تو خیر پر ہے ، پھر روزہ آئے گا ، وہ عرض کرے گا : رب جی ! میں روزہ ہوں ، وہ فرمائے گا : تو خیر پر ہے ، پھر اسی طرح اعمال آتے جائیں گے ، اللہ تعالیٰ فرماتا جائے گا : تو خیر پر ہے ، پھر اسلام آئے گا ، وہ عرض کرے گا : رب جی ! تو سلام ہے اور میں اسلام ہوں ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تو خیر پر ہے ، آج میں تیری وجہ سے مؤاخذہ کروں گا اور تیری وجہ سے عطا کروں گا ، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا :’’ جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

5225Mishkaat-al-Masabihصحیح

دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان

وَعَنْ عَائِشَةَ\nرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تَمَاثِيلُ طَيْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:\nيَا عَائِشَةُ حوِّليه فإِني إِذا رَأَيْته ذكرت الدُّنْيَا\n

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہمارا ایک پردہ تھا جس میں پرندوں کی تصویریں تھیں (یہ دیکھ کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عائشہ ! اسے بدل ڈالو ، کیونکہ جب میں اسے دیکھتا ہوں تو میں دنیا یاد کرتا ہوں (مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے) ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد ۔

5226Mishkaat-al-Masabihضعیف

دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان

وَعَنْ أَبِي\nأَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَحل إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: عِظْنِي وَأَوْجِزْ. فَقَالَ: «إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ وَلَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْذِرُ مِنْهُ غَدًا وَأَجْمِعِ الْإِيَاسَ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاس»\n

ابو ایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا ، مجھے مختصر سی وصیت فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تو نماز پڑھے تو ایسے پڑھ جیسے الوداعی نماز ہو ، ایسی بات نہ کر جس کی وجہ سے کل معذرت کرنی پڑے اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے مکمل طور پر ناامید اور لاتعلق ہو جا ۔‘‘ ضعیف ، رواہ احمد ۔

5227Mishkaat-al-Masabihصحیح

دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان

وَعَنْ مُعَاذِ\nبْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ خَرَجَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوصِيهِ وَمُعَاذٌ رَاكِبٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي تَحْتَ رَاحِلَتِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: يَا مُعَاذُ إِنَّكَ عَسَى أَنْ لَا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا وَلَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِي هَذَا وَقَبْرِي فَبَكَى مُعَاذٌ جَشَعًا لِفِرَاقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ نَحْوَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ: «إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِيَ الْمُتَّقُونَ مَنْ كَانُوا وَحَيْثُ كَانُوا» رَوَى الْأَحَادِيث الْأَرْبَعَة أَحْمد\n

معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ نے اسے یمن کی طرف مبعوث فرمایا تو رسول اللہ ﷺ اسے وصیت کرنے کے لیے اس کے ساتھ باہر تشریف لائے اس وقت معاذ ؓ سوار تھے ، جبکہ رسول اللہ ﷺ اس کی سواری کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے ، جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ معاذ ممکن ہے کہ تم اس سال کے بعد مجھ سے ملاقات نہ کر سکو ، شاید کہ تم میری مسجد اور میری قبر کے پاس سے گزرو ۔‘‘ معاذ ؓ رسول اللہ ﷺ کی جدائی کی وجہ سے گھبرا کر رونے لگے ، پھر آپ ﷺ نے مدینہ کی طرف رخ پھیر کر فرمایا :’’ متقی لوگ میری قرابت و شفاعت کے زیادہ حق دار ہیں وہ جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں ۔‘‘ چاروں احادیث امام احمد نے روایت کی ہیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔

5228Mishkaat-al-Masabihضعیف

دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان

وَعَنِ\nابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ)\nفَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ النُّورَ إِذَا دَخَلَ الصَّدْرَ انْفَسَحَ» . فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِتِلْكَ مِنْ عِلْمٍ يُعْرَفُ بِهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ التَّجَافِي مِنْ دَارِ الْغُرُورِ وَالْإِنَابَةُ إِلَى دَارِ الْخُلُودِ وَالِاسْتِعْدَادُ لِلْمَوْتِ قبل نُزُوله»\n

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اللہ جسے ہدایت دینے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نور جب سینے میں داخل ہو جاتا ہے تو سینہ کھل جاتا ہے ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیا اس کی کوئی علامت بھی ہے جس کے ذریعے اس کا پتہ چل سکے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، دھوکے کے گھر (دنیا) سے دوری ، ہمیشہ کے گھر (آخرت) کی طرف رجوع اور موت آنے سے پہلے موت کی تیاری ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5229Mishkaat-al-Masabihضعیف

دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي خَلَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ الْعَبْدَ يُعْطِي زُهْدًا فِي الدُّنْيَا وَقِلَّةَ مَنْطِقٍ فَاقْتَرِبُوا مِنْهُ فَإِنَّهُ يلقى الْحِكْمَة» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»

ابوہریرہ اور ابوخلاد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم بندے کو دیکھو کہ اسے دنیا سے بے رغبتی عطا کی گئی ہے اور وہ کم گو ہے تو اس کا قرب حاصل کرو کیونکہ اسے حکمت عطا کی گئی ہے ۔‘‘ دونوں روایتیں امام بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کی ہیں ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5230Mishkaat-al-Masabihضعیف

دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي خَلَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ الْعَبْدَ يُعْطِي زُهْدًا فِي الدُّنْيَا وَقِلَّةَ مَنْطِقٍ فَاقْتَرِبُوا مِنْهُ فَإِنَّهُ يلقى الْحِكْمَة» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»

ابوہریرہ اور ابوخلاد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم بندے کو دیکھو کہ اسے دنیا سے بے رغبتی عطا کی گئی ہے اور وہ کم گو ہے تو اس کا قرب حاصل کرو کیونکہ اسے حکمت عطا کی گئی ہے ۔‘‘ دونوں روایتیں امام بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کی ہیں ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5231Mishkaat-al-Masabihصحیح

فقرا کی فضیلت اور نبی ﷺ کی گزران کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُبَّ أَشْعَثَ مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ» . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بہت سے پراگندہ بالوں والے جنہیں دروازوں سے دھکیلا جاتا ہے اگر وہ اللہ پر قسم اٹھا لے تو اللہ اسے پوری فرما دیتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5232Mishkaat-al-Masabihصحیح

فقرا کی فضیلت اور نبی ﷺ کی گزران کا بیان

وَعَن مُصعب بن سعدٍ قَالَ: رَأَى سَعْدٌ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تُنْصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ؟» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں ، کہ سعد ؓ نے خیال کیا کہ اسے اپنے سے کم درجہ لوگوں پر (سخاوت کرنے میں) فضیلت و برتری حاصل ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ ہی سے تمہاری مدد کی جاتی ہے اور انہی کی وجہ سے تمہیں رزق دیا جاتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

5233Mishkaat-al-Masabihصحیح

فقرا کی فضیلت اور نبی ﷺ کی گزران کا بیان

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُمْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَكَانَ عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَاكِينَ وَأَصْحَابُ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ غَيْرَ أَنَّ أَصْحَابَ النَّارِ قَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ وَقُمْتُ عَلَى بَابِ النَّارِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخلهَا النِّسَاء» . مُتَّفق عَلَيْهِ

اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں (معراج کی رات) جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس میں زیادہ تر داخل ہونے والے مساکین تھے ، جبکہ صاحب ثروت روک لیے گئے تھے ، اور آگ والوں (یعنی کافروں) کے لیے جہنم کا حکم دے دیا گیا تھا ، اور میں باب جہنم پر کھڑا ہوا اور دیکھا کہ اس میں جانے والوں کی اکثریت عورتوں کی تھی ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5234Mishkaat-al-Masabihصحیح

فقرا کی فضیلت اور نبی ﷺ کی گزران کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ. وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو اس میں اکثریت فقرا کی تھی ، اور میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو میں نے دیکھا کہ وہاں اکثریت عورتوں کی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5235Mishkaat-al-Masabihصحیح

فقرا کی فضیلت اور نبی ﷺ کی گزران کا بیان

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْجَنَّةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا» . رَوَاهُ مُسلم

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مہاجر فقرا ، روز قیامت مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5236Mishkaat-al-Masabihصحیح

فقرا کی فضیلت اور نبی ﷺ کی گزران کا بیان

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ جَالِسٍ: «مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا؟» فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ: هَذَا وَاللَّهِ حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ. قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مر على رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لَا ينْكح. وإِن شفع أَن لَا يُشفَع. وإِن قَالَ أَنْ لَا يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلَ هَذَا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ ﷺ نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص سے فرمایا :’’ اس (شخص) کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟‘‘ اس نے کہا : معزز لوگوں میں سے ہے ، اللہ کی قسم ! یہ اس لائق ہے کہ اگر کہیں پیغام نکاح بھیجے تو اس کی شادی کر دی جائے ، اور اگر کہیں سفارش کرے تو وہ قبول کی جائے ، راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ خاموش رہے ، پھر ایک آدمی گزرا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ اس شخص کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ شخص غریب مسلمانوں میں سے ہے ، یہ اس لائق ہے کہ اگر کہیں پیغام نکاح بھیجے تو اس کی شادی نہ کی جائے اور اگر کہیں سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے اور اگر بات کرے تو اس کی بات نہ سنی جائے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ (تنہا) شخص اس شخص جیسے لوگوں سے بھری زمین سے بہتر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5237Mishkaat-al-Masabihصحیح

فقرا کی فضیلت اور نبی ﷺ کی گزران کا بیان

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا شَبِعَ آل مُحَمَّد من خبر الشَّعِيرِ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . مُتَّفق عَلَيْهِ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، آل محمد (ﷺ) نے دو دن متواتر جو کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے ۔ متفق علیہ ۔

5238Mishkaat-al-Masabihصحیح

فقرا کی فضیلت اور نبی ﷺ کی گزران کا بیان

وَعَن سعيد المَقْبُري عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ فَدَعَوْهُ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ وَقَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَشْبَعْ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

سعید مقبری ؒ ، ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے ان کے سامنے بھنی ہوئی بکری تھی ، انہوں نے انہیں دعوت دی تو انہوں نے اسے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا : نبی ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے اور آپ نے پیٹ بھر کر جو کی روٹی نہیں کھائی ۔ رواہ البخاری ۔

5239Mishkaat-al-Masabihصحیح

فقرا کی فضیلت اور نبی ﷺ کی گزران کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ مَشَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ وَلَقَدْ رَهَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْعًا لَهُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ يَهُودِيٍّ وَأَخَذَ مِنْهُ شَعِيرًا لِأَهْلِهِ وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَا أَمْسَى عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ بُرٍّ وَلَا صَاعُ حَبٍّ وَإِنَّ عِنْدَهُ لَتِسْعُ نِسْوَةٍ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ جو کی روٹی اور رنگت بدلی ہوئی چربی لے کر نبی ﷺ کی طرف گئے جبکہ نبی ﷺ کی زرہ مدینہ میں ایک یہودی کے پاس گروی تھی ، آپ نے اس سے اپنے گھر والوں کے لیے جَو لیے تھے ، اور میں (راوی) نے انسؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا : آل محمد (ﷺ) کے ہاں شام کے وقت نہ ایک صاع گندم ہوتی تھی اور نہ ایک صاع کوئی اور اناج ہوتا تھا جبکہ آپ ﷺ کی نو ازواج مطہرات تھیں ۔ رواہ البخاری ۔

5240Mishkaat-al-Masabihصحیح

فقرا کی فضیلت اور نبی ﷺ کی گزران کا بیان

وَعَن عمر قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِهِ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: ادْعُ اللَّهَ فَلْيُوَسِّعْ عَلَى أُمَّتِكَ فَإِنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ قَدْ وُسِّعَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللَّهَ. فَقَالَ: «أَوَ فِي هَذَا أَنْتَ يَا ابْنَ الْخطاب؟ أُولئكَ قوم عجلت لَهُم طيبتاتهم فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ؟» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور آپ نے کوئی بستر وغیرہ نہیں بچھایا ہوا تھا ، اور اس چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو پر تھے ، اور آپ نے چمڑے کے تکیے پر ٹیک لگائی ہوئی تھی ، جس میں کھجور کے درخت کے پتے بھرے ہوئے تھے ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کے حضور دعا فرمائیں کہ وہ آپ کی امت پر فراخی فرمائے ، کیونکہ فارسیوں اور رومیوں پر بہت نوازشات ہیں ، حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابن خطاب ! کیا تم ابھی تک اسی مقام پر ہو ؟ یہ (کفار) وہ لوگ ہیں کہ انہیں ان کی لذتیں اس دنیا کی زندگی میں جلد عطا کر دی گئی ہیں ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ کیا تم خوش نہیں کہ ان کے لیے دنیا میں ہوں اور ہمارے لیے آخرت میں ۔‘‘ متفق علیہ ۔