Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 239 of 315
وَعَنْهُ\nعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَقُولُوا: الْكَرْمُ فَإِنَّ الْكَرْمَ قَلْبُ الْمُؤمن . رَوَاهُ مُسلم\n
ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم (انگور کو) کرم نہ کہو ، کیونکہ کرم تو قلب مؤمن ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَفِي\nرِوَايَةٍ لَهُ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: لَا تَقُولُوا: الْكَرْمُ وَلَكِنْ قُولُوا: الْعِنَبُ والحبلة\n
اور مسلم ہی کی وائل بن حجر ؓ سے مروی حدیث میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم کرم نہ کہو ، بلکہ تم عنب اور حبلہ (انگور) کہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ وَلَا تَقُولُوا: يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدهرُ . رَوَاهُ البُخَارِيّ\n
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم انگور کا نام کرم رکھو نہ زمانے کو برا کہو ، کیونکہ اللہ ہی تو زمانہ ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
وَعَنْهُ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَسُبَّ أَحَدُكُمُ الدَّهْرَ فَإِنَّ اللَّهَ هوَ الدَّهْر» . رَوَاهُ مُسلم\n
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی زمانے کو بُرا بھلا نہ کہے ، کیونکہ اللہ ہی تو زمانہ ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: خَبُثَتْ نَفْسِي وَلَكِنْ لِيَقُلْ: لَقِسَتْ نَفْسِي . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ\nوَذُكِرَ حديثُ أبي هريرةَ: «يُؤذيني ابنُ آدمَ» فِي «بَاب الْإِيمَان»\n
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے : میرا نفس (جی) خبیث ہو گیا بلکہ یوں کہے : میرا نفس بوجھل ہو گیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔\n اور ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث :’’ ابن آدم مجھے ایذا پہنچاتا ہے ۔‘‘ باب الایمان میں ذکر ہو چکی ہے ،\n
عَن شُرَيْح بن هَانِئ عَن أبيهِ أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ قَوْمِهِ سَمِعَهُمْ يُكَنُّونَهُ بِأَبِي الْحَكَمِ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ فَلِمَ تُكَنَّى أَبَا الْحَكَمِ؟» قَالَ: إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ فَرَضِيَ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ بِحُكْمِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَحْسَنَ هَذَا فَمَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ؟» قَالَ: لِي شُرَيْحٌ وَمُسْلِمٌ وَعَبْدُ اللَّهِ\nقَالَ: «فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ؟» قَالَ قُلْتُ: شُرَيْحٌ. قَالَ فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ\n
شریح بن ہانی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ اپنی قوم کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے انہیں سنا کہ وہ میرے والد کو ابوالحکم کی کنیت سے پکارتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلا کر فرمایا :’’ بے شک اللہ ہی حکم ہے اور حکم کا اختیار اسے ہی حاصل ہے ، تمہاری کنیت ابوالحکم کیوں رکھی گئی ؟‘‘ اس نے کہا : جب میری قوم میں کسی چیز میں اختلاف ہو جاتا تو وہ میرے پاس آتے اور میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیتا ہوں تو وہ دونوں فریق میرے فیصلے پر راضی ہو جاتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کتنا اچھا ہے ، تیرے کتنے بچے ہیں ؟‘‘ اس نے کہا : شریح ، مسلم اور عبداللہ ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان میں سے بڑا کون ہے ؟‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے کہا : شریح ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم ابو شریح ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
وَعَن\nمسروقٍ قَالَ: لَقِيتُ عُمَرَ فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ. قَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْأَجْدَعُ شيطانٌ» رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وابنُ مَاجَه\n
مسروق بیان کرتے ہیں ، میں عمر ؓ سے ملا تو انہوں نے فرمایا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : مسروق بن اجدع ، عمر ؓ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اجدع ، شیطان (کا نام) ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
وَعَنْ\nأَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ فَأَحْسِنُوا أسمائكم» رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد\n
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت تمہیں تمہارے اور تمہارے آباء کے نام سے پکارا جائے گا ، اپنے نام اچھے رکھو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
وَعَنْ أَبِي\nهُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ نَهَى أَنْ يَجْمَعَ أَحَدٌ بَيْنَ اسْمه وكُنيتِه وَيُسمى أَبَا الْقَاسِم. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنے نام اور اپنی کنیت کو اس طرح اکٹھا کر کے محمد ابوالقاسم نام رکھ لے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
وَعَنْ\nجَابِرٌ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «إِذَا سَمَّيْتُمْ بِاسْمِي فَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: «مَن تسمَّى باسمي فَلَا يَكْتَنِ بِكُنْيَتِي وَمَنْ تَكَنَّى بِكُنْيَتِي فَلَا يَتَسَمَّ باسمي»\n
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میرے نام پر نام رکھو تو پھر میری کنیت پر کنیت مت رکھو ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور ابوداؤد کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ جس نے میرے نام پر نام رکھا تو وہ میری کنیت نہ رکھے ، اور جس نے میری کنیت پر کنیت رکھی تو وہ میرے نام پر نام نہ رکھے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و ابوداؤد ۔
وَعَنْ\nعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَلَدْتُ غُلَامًا فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا وَكَنَّيْتُهُ أَبَا الْقَاسِمِ فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ تَكْرَهُ ذَلِكَ. فَقَالَ: «مَا الَّذِي أَحَلَّ اسْمِي وَحرم كنيتي؟ أَو ماالذي حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي؟» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ محيي السّنة: غَرِيب\n
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھی ہے ، لیکن مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اسے ناپسند فرماتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کون ہے وہ جس نے حلال قرار دیا میرا نام رکھنا اور حرام کیا میری کنیت رکھنا ، یا کون ہے وہ جس نے حرام کیا میری کنیت رکھنا اور حلال کیا میرا نام رکھنا ؟‘‘ ابوداؤد ، اور محی السنہ ؒ نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَن مُحَمَّد\nبن الحنفيَّةِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وُلِدَ لِي بَعْدَكَ وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n
محمد بن حنفیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں اگر آپ کے بعد میرے ہاں بچہ پیدا ہو تو میں آپ کے نام پر اس کا نام اور آپ کی کنیت پر اس کی کنیت رکھ لوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَن أنس\nقَالَ: كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْه. وَفِي «المصابيح» صَححهُ\n
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ایک بوٹی چنا کرتا تھا ، تو رسول اللہ ﷺ نے اس پر میری کنیت (ابوحمزہ) رکھی ۔ اسے ترمذی نے بیان کیا اور فرمایا : اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں ، اور مصابیح میں ہے کہ اس نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ\nرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ كَانَ يُغَيِّرُ الِاسْم الْقَبِيح. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، کہ نبی ﷺ بُرا نام تبدیل کر دیا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
وَعَن بشير بن مَيْمُون عَن أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ أصْرمُ كانَ فِي النَّفرِ الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا اسْمك؟» قَالَ: «بَلْ أَنْتَ زُرْعَةُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
بشیر بن میمون اپنے چچا اسامہ بن اخدری سے روایت کرتے ہیں کہ اصرم نامی ایک آدمی ان لوگوں میں شامل تھا جو رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارا نام کیا ہے ؟‘‘ اس نے کہا : اصرم ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ تم زرعہ ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
وَقَالَ:\nوَغَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْم الْعَاصِ وعزير وَعَتَلَةَ وَشَيْطَانٍ وَالْحَكَمِ وَغُرَابٍ وَحُبَابٍ وَشِهَابٍ وَقَالَ: تركت أسانيدها للاختصار\n
اور ابوداؤد نے کہا ، اور نبی ﷺ نے عاص ، عزیز ، عتلہ ، شیطان ، حکم ، غراب ، حباب اور شہاب نام بدل دیے تھے ، اور انہوں نے کہا : میں نے اختصار کی خاطر ان کی اسناد بیان نہیں کیں ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَن أبي\nمسعودٍ الأنصاريِّ قَالَ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ أَوْ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لِأَبِي مَسْعُودٍ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي (زَعَمُوا)\nقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: إِنَّ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ حُذَيْفَة\n
ابومسعود انصاری ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے ابو عبداللہ سے یا ابو عبداللہ نے ابو مسعود سے کہا : تم نے لفظ ’’زَعَمُوْا‘‘ (لوگوں کا خیال ہے) کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو کیا فرماتے ہوئے سنا ؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سُنا :’’ آدمی کا ایسے انداز میں گفتگو کرنا بُرا ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، اور انہوں نے کہا : ابو عبداللہ سے مراد حذیفہ ہیں ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَنْ\nحُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ فُلَانٌ وَلَكِنْ قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ فلَان . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد\n
حذیفہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یوں نہ کہا کرو : جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے ، بلکہ یوں کہو : جو اللہ چاہے ، پھر فلاں چاہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
وَفِي رِوَايَةٍ\nمُنْقَطِعًا قَالَ: لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ وَقُولُوا مَا شَاءَ اللَّهُ وحْدَه «. رَوَاهُ فِي» شرح السّنة\n
اور ایک منقطع روایت میں ہے ، فرمایا :’’ یوں نہ کہا کرو : جو اللہ چاہے اور جو محمد (ﷺ) چاہے ، بلکہ یوں کہا کرو : کو اکیلا اللہ چاہے ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
وَعَنْهُ\nعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ سَيِّدٌ فَإِنَّهُ إِنْ يَكُ سَيِّدًا فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبَّكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n
حذیفہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ منافق کے لیے لفظِ سیّد (آقا) نہ کہو ، کیونکہ اگر وہ سیّد (سردار ، آقا) ہے تو تم نے اپنے رب کو ناراض کر دیا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔