Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 238 of 315
چھینک مارنے اور جمائی لینے کا بیان
وَعَن\nهلالِ بن يسَاف قَالَ: كُنَّا مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ: وَعَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ. فَكَأَنَّ الرَّجُلَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ فَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَقُلْ إِلَّا مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلْيَقُلْ لَهُ مَنْ يَرُدُّ عَلَيْهِ: يرحمكَ اللَّهُ وَليقل: يغْفر لي وَلكم رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد\n
ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں ، ہم سالم بن عبید کے ساتھ تھے کہ اتنے میں لوگوں میں سے ایک آدمی نے چھینک ماری تو اس نے کہا : السلام علیکم ! (یہ سن کر) سالم نے کہا : تجھ پر اور تیری ماں پر ، گویا اس آدمی نے اپنے دل میں کچھ ناراضی محسوس کی ، انہوں نے فرمایا : سن لو ! میں نے تمہیں صرف وہی کچھ کہا ہے جو نبی ﷺ نے کہا تھا (ایک دفعہ) ایک آدمی نے نبی ﷺ کے پاس چھینک ماری تو اس نے کہا : السلام علیکم ! نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تجھ پر اور تیری ماں پر ، (پھر آپ ﷺ نے فرمایا ) جب تم میں سے کوئی چھینک مارے تو وہ ((اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ)) کہے ، اور جو اسے جواب دے تو وہ کہے : ((یَرْحَمُکَ اللہُ)) ، اور پھر وہ کہے : اللہ مجھے اور تمہیں بخش دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
چھینک مارنے اور جمائی لینے کا بیان
وَعَن عبيد\nبن رِفَاعَة عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «شَمِّتِ الْعَاطِسَ ثَلَاثًا فَإِنْ زَادَ فَشَمِّتْهُ وَإِنْ شِئْتَ فَلَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب\n
عبید بن رفاعہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ چھینک مارنے والے کو تین مرتبہ دعائیہ جواب دو ، وہ اگر اس سے زیادہ مرتبہ چھینک مارے تو پھر اگر تم چاہو تو اسے دعائیہ جواب دو اور اگر تم چاہو تو (جواب) نہ دو ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
چھینک مارنے اور جمائی لینے کا بیان
وَعَن أبي\nهريرةَ قَالَ: «شَمِّتْ أَخَاكَ ثَلَاثًا فَإِنْ زَادَ فَهُوَ زُكَامٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا أَنَّهُ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ\n
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں :’’ اپنے (مسلمان) بھائی کو (چھینک مارنے کے جواب میں) تین بار دعائیہ جواب دو ، اگر چھینکوں میں اضافہ ہو جائے تو وہ زکام ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔\nاور انہوں (راوی سعید المقبری) نے کہا : میں ان کے متعلق یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے حدیث کو نبی ﷺ کی طرف مرفوع کیا ہے ۔\n
چھینک مارنے اور جمائی لینے کا بیان
عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ إِلَى جَنْبِ ابْن عمَرَ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَأَنَا أَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ وَلَيْسَ هَكَذَا. عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقُولَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
نافع ؒ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر ؓ کے پہلو میں چھینک ماری تو کہا :’’ اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں ، اور رسول اللہ ﷺ پر سلام ہو ، (یہ سن کر) ابن عمر ؓ نے فرمایا : میں بھی کہتا ہوں : ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے ، اور رسول اللہ ﷺ پر سلام ہو ۔ مگر اس طرح کہنا ثابت نہیں ہے ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھایا تھا کہ ہم کہیں : ہر حال پر اللہ کا شکر ہے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عَن عائشةرضي اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ إِنَّمَا كَانَ يتبسم. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو کھلکھلا کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ میں آپ کے حلق کا کوا دیکھ سکوں ، آپ تو صرف مسکرایا کرتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
وَعَن جرير قَالَ: مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ. مُتَّفق عَلَيْهِ
جریر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے جب سے اسلام قبول کیا ہے ، نبی ﷺ نے مجھے (مجلس میں آنے سے) منع نہیں کیا اور آپ جب بھی مجھے دیکھتے تو مسکراتے ۔ متفق علیہ ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّة فيضحكون ويبتسم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَة لِلتِّرْمِذِي: يتناشدون الشِّعْرَ
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ جس جگہ نماز پڑھتے تو وہاں سے طلوعِ آفتاب تک نہیں اٹھتے تھے ، اور جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ کھڑے ہوتے ، اور (اس دوران) صحابہ کرام ؓ باتیں کرتے اور اُمورِ جاہلیت پر گفتگو کیا کرتے اور ہنستے تھے جبکہ آپ ﷺ فقط تبسم فرمایا کرتے تھے ۔\nاور ترمذی کی روایت میں ہے : وہ شعر پڑھا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم و الترمذی ۔\n
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
عبداللہ بن حارث بن جزء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عَن قتادةَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ: هَلْ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ وَالْإِيمَانُ فِي قُلُوبِهِمْ أَعْظَمُ مِنَ الْجَبَلِ. وَقَالَ بِلَالُ بْنُ سَعْدٍ: أَدْرَكْتُهُمْ يَشْتَدُّونَ بَيْنَ الْأَغْرَاضِ وَيَضْحَكُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَإِذَا كَانَ اللَّيْلُ كَانُوا رُهْبَانًا. رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السّنة»
قتادہ ؒ بیان کرتے ہیں ، ابن عمر ؓ سے دریافت کیا گیا : کیا رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہنسا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ! اور ان کے دلوں میں ایمان پہاڑ سے بھی زیادہ عظیم تھا ۔ اور بلال بن سعد ؒ بیان کرتے ہیں ، وہ تیر اندازی کرتے تھے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنستے تھے ، اور جب رات ہو جاتی تو وہ راہب (یعنی تارک دنیا) بن جاتے تھے (اللہ کی عبادت میں مصروف ہو جاتے تھے) ۔ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّمَا دَعَوْتُ هَذَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: «سموا باسمي وَلَا تكنوا بكنيتي» . مُتَّفق عَلَيْهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ بازار میں تھے کہ کسی آدمی نے کہا : ابوالقاسم ! جب نبی ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے کہا : میں نے تو اسے بلایا تھا ، تب نبی ﷺ نے فرمایا :’’ میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت پر کنیت مت رکھو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سموا باسمي وَلَا تكنوا بِكُنْيَتِي فَإِنِّي إِنَّمَا جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ» مُتَّفق عَلَيْهِ
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت مت رکھو ، کیونکہ مجھے تو قاسم بنایا گیا ہے ، میں تمہارے مابین تقسیم کرتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِكُمْ إِلَى اللَّهِ: عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ رَوَاهُ مُسلم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے ناموں میں سے عبداللہ اور عبد الرحمن اللہ کو زیادہ پسند ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: لَا تسمين غُلَاما يسارا وَلَا رباحا ولانجيحا وَلَا أَفْلَحَ فَإِنَّكَ تَقُولُ: أَثَمَّ هُوَ؟ فَلَا يَكُونُ فَيَقُولُ لَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ قَالَ: «لَا تسم غُلَاما رَبَاحًا وَلَا يَسَارًا وَلَا أَفْلَحَ وَلَا نَافِعًا»
سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے غلام (بچے یا غلام) کا نام یسار (آسانی) ، رباح (منافع) ، نجیح (کامیاب) اور افلح (فوز و فلاح) مت رکھو ، کیونکہ تم کہو گے : کیا وہ یہاں ہے ؟ وہ نہیں ہو گا تو کہنے والا کہے گا : وہ نہیں ہے ۔‘‘ اور انہیں کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ اپنے غلام کا رباح ، یسار ، افلح اور نافع نام نہ رکھو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَن جَابر قَالَ أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْهَى عَنْ أَنْ يُسَمَّى بِيَعْلَى وَبِبَرَكَةَ وَبِأَفْلَحَ وَبِيَسَارٍ وَبِنَافِعٍ وَبِنَحْوِ ذَلِكَ. ثُمَّ سَكَتَ بَعْدُ عَنْهَا ثُمَّ قُبِضَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْ ذَلِك. رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ وہ یعلی ، برکہ (برکت) ، افلح ، یسار ، نافع اور اس طرح کے نام رکھنے سے منع فرما دیں ، پھر میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے بعد میں اس سے خاموشی اختیار فرمائی ، پھر آپ ﷺ وفات پا گئے اور اس سے منع نہ فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَخْنَى الْأَسْمَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ يُسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «أَغْيَظُ رَجُلٍ عَلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَخْبَثُهُ رَجُلٌ كَانَ يُسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ لَا مَلِكَ إِلَّا لله»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت اللہ کے ہاں اس شخص کا نام سب سے زیادہ قبیح ہو گا جس کا نام شہنشاہ رکھا گیا ہو ۔‘‘ بخاری ۔\nاور مسلم کی روایت میں ہے فرمایا :’’ روز قیامت اللہ کے ہاں وہ شخص سب سے زیادہ ناراض کن اور خبیث نام والا ہو گا جس کا نام شہنشاہ رکھا گیا ہو گا حالانکہ شہنشاہ تو صرف اللہ ہی ہے ۔ متفق علیہ ۔\n
وَعَن زينبَ بنتِ أبي سلَمةَ قَالَتْ: سُمِّيتُ بَرَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ سَمُّوهَا زَيْنَبَ» . رَوَاهُ مُسلم
زینب بنت ابی سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میرا نام برہ رکھا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اپنی تعریف خود نہ کیا کرو ، تم میں سے جو نیک ہیں ، اللہ انہیں خوب جانتا ہے اس کا نام زینب رکھو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَن ابنِ عبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ اسْمُهَا بَرَّةُ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُقَالَ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِ برة. رَوَاهُ مُسلم
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جویریہ ؓ کا نام برہ تھا ، رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا ، اور آپ ﷺ ناپسند کرتے تھے کے یوں کہا جائے : وہ برہ کے پاس سے چلے گئے ہیں ۔ رواہ مسلم ۔
وَعَن ابْن عمر أَنَّ بِنْتًا كَانَتْ لِعُمَرَ يُقَالُ لَهَا: عَاصِيَةُ فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جميلَة. رَوَاهُ مُسلم
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر ؓ کی ایک بیٹی کو عاصیہ کہا جاتا تھا ، رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام جمیلہ رکھ دیا ۔ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ فَوَضعه على فَخذه فَقَالَ: «وَمَا اسْمه؟» قَالَ: فلَان: «لاولكن اسْمه الْمُنْذر» . مُتَّفق عَلَيْهِ
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، منذر بن ابی اسید جب پیدا ہوئے تو اسے نبی ﷺ کی خدمت میں لایا گیا ، آپ ﷺ نے اسے اپنی ران پر رکھا اور فرمایا :’’ اس کا نام کیا ہے ؟‘‘ اس نے کہا : فلاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ اس کا نام منذر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبدِي وَأمتِي كلكُمْ عباد اللَّهِ وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللَّهِ. وَلَكِنْ لِيَقُلْ: غُلَامِي وَجَارِيَتِي وَفَتَايَ وَفَتَاتِي. وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ: رَبِّي ولكنْ ليقلْ: سَيِّدِي وَفِي رِوَايَةٍ: لِيَقُلْ: سَيِّدِي وَمَوْلَايَ . وَفِي رِوَايَةٍ: لَا يَقُلِ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ: مَوْلَايَ فَإِنَّ مولاكم اللَّهُ . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی یوں نہ کہے : میرے بندے (غلام) میری بندی (لونڈی) ، تم سب اللہ کے بندے اور غلام ہو جبکہ تمہاری سب خواتین اللہ کی لونڈیاں ہیں ، بلکہ تم یوں کہا کرو : میرے لڑکے ، میری لڑکی ، اور غلام بھی یوں نہ کہے : میرے رب ! بلکہ یوں کہے : میرے آقا ۔‘‘\nایک دوسری روایت میں ہے : وہ یوں کہے : میرے سیّد ، میرے مولا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ غلام اپنے آقا سے میرے مولا نہ کہے ، کیونکہ تمہارا مولا اللہ ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔\n