Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 240 of 315

4781Mishkaat-al-Masabihصحیح

ناموں کا بیان

عَنْ\nعَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فَحَدَّثَنِي أَنَّ جَدَّهُ حَزْنًا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا اسْمُكَ؟» قَالَ: اسْمِي حَزْنٌ قَالَ: «بَلْ أَنْتَ سَهْلٌ» قَالَ: مَا أَنَا بِمُغَيِّرٍ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي. قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: فَمَا زَالَتْ فِينَا الْحُزُونَةُ بَعْدُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ\n

عبد الحمید بن جبیر بن شیبہ بیان کرتے ہیں ، میں سعید بن مسیّب کے پاس بیٹھا تھا ، انہوں نے مجھے حدیث بیان کی کہ ان کے دادا حزن ، نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا :’’ تمہارا نام کیا ہے ؟‘‘ اس نے کہا : میرا نام حزن ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (نہیں) بلکہ تم سہل ہو ۔‘‘ اس نے کہا : میں اپنے والد کے رکھے ہوئے نام کو تبدیل نہیں کروں گا ، ابن مسیّب نے فرمایا : اس کے بعد ہم میں ’’حزونت‘‘ (سختی) برقرار رہی ۔ رواہ البخاری ۔

4782Mishkaat-al-Masabihضعیف

ناموں کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي وَهَبٍ الْجُشَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَسَمُّوا أَسْمَاءَ الْأَنْبِيَاءِ وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَصْدَقُهَا حَارِثٌ وهمامٌ أقبحها حربٌ ومُرَّة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

ابووہب جشمی بیان کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ انبیاء ؑ کے ناموں پر نام رکھا کرو ، اللہ کے ہاں پسندیدہ نام عبداللہ اور عبد الرحمن ہیں ، سب سے سچا نام حارث اور ہمام ہے جبکہ سب سے قبیح نام حرب اور مرہ ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4783Mishkaat-al-Masabihصحیح

بیان و شعر کا بیان

عَن ابْن عمر قَالَ: قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ لِبَيَانِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، دو آدمی مشرق کی (جانب) سے آئے اور انہوں نے خطاب کیا ، لوگوں نے ان کے بیان پر تعجب کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک بعض بیان جادو کی سی تاثیر رکھتے ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

4784Mishkaat-al-Masabihصحیح

بیان و شعر کا بیان

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک بعض شعر پُر حکمت ہوتے ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

4785Mishkaat-al-Masabihصحیح

بیان و شعر کا بیان

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ» . قَالَهَا ثَلَاثًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تکلف سے کلام کرنے والے ہلاک ہو گئے ۔‘‘ آپ نے تین مرتبہ یہی فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔

4786Mishkaat-al-Masabihصحیح

بیان و شعر کا بیان

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُصَدِّقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا الشَّاعِرُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سب سے زیادہ درست بات جو کسی شاعر نے کہی وہ لبید شاعر کی یہ بات ہے : سن لو ! اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

4787Mishkaat-al-Masabihصحیح

بیان و شعر کا بیان

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَدِفْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ: «هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «هِيهِ» فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا. فَقَالَ: «هيهِ» ثمَّ أنشدته بَيْتا فَقَالَ: «هيه» ثمَّ أنشدته مائَة بَيت. رَوَاهُ مُسلم

عمرو بن شرید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں ایک روز رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تمہیں امیہ بن ابی صلت کا کوئی شعر یاد ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سناؤ !‘‘ میں نے آپ کو ایک شعر سنایا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اور سناؤ !‘‘ پھر میں نے آپ کو ایک اور شعر سنایا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اور سناؤ !‘‘ حتی کہ میں نے آپ کو سو شعر سنائے ۔ رواہ مسلم ۔

4788Mishkaat-al-Masabihصحیح

بیان و شعر کا بیان

وَعَن جُنْدُبٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ الْمَشَاهِدِ وَقَدْ دَمِيَتْ أُصْبُعُهُ فَقَالَ:\nهَلْ أَنْتِ إِلَّا أُصْبُعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ الله مَا لقِيت\nمُتَّفق عَلَيْهِ\n

جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کسی غزوہ میں شریک تھے کہ آپ کی انگلی سے خون نکلنے لگا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک انگلی ہی تو ہو جو خون آلودہ ہوئی ہے اور تجھے جو تکلیف پہنچی ہے وہ اللہ کی راہ میں ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

4789Mishkaat-al-Masabihصحیح

بیان و شعر کا بیان

وَعَن البَراءِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ: «اهْجُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ» وَكَانَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَسَّانَ: «أَجِبْ عَنِّي اللَّهمَّ أيِّدْه بروحِ الْقُدس» . مُتَّفق عَلَيْهِ

براء ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے بنو قریظہ (کے محاصرے) کے دن حسان بن ثابت ؓ سے فرمایا :’’ مشرکوں کی ہجو بیان کرو ، اللہ (کی نصرت) تمہارے ساتھ ہے ۔‘‘ اور رسول اللہ ﷺ حسان ؓ سے فرما رہے تھے :’’ میری طرف سے جواب دو ، اے اللہ ! جبریل ؑ کے ذریعے اس کی مدد فرما ۔‘‘ متفق علیہ ۔

4790Mishkaat-al-Masabihصحیح

بیان و شعر کا بیان

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اهْجُوا قُرَيْشًا فَإِنَّهُ أَشَدُّ عَلَيْهِمْ مِنْ رَشْقِ النَّبْلِ» . رَوَاهُ مُسلم

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ قریش کی ہجو بیان کرو کیونکہ یہ ان پر تیر اندازی سے بھی زیادہ شدید ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

4791Mishkaat-al-Masabihصحیح

بیان و شعر کا بیان

وَعَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَسَّانَ: «إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ لَا يَزَالُ يُؤَيِّدُكَ مَا نَافَحْتَ عَنِ اللَّهِ وَرَسُوله» . سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هَجَاهُمْ حَسَّانُ فَشَفَى وَاشْتَفَى» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو حسان ؓ سے فرماتے ہوئے سنا :’’ جب تک تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دفاع میں مشرکین کی ہجو کرتے رہتے ہو اس وقت تک جبریل ؑ تمہاری مدد کرتے رہتے ہیں ۔‘‘ عائشہ ؓ نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ حسان نے ان کی ہجو بیان کی اور مسلمانوں کو سکون پہنچایا اور خود بھی سکون پایا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

4792Mishkaat-al-Masabihصحیح

بیان و شعر کا بیان

وَعَنِ الْبَرَّاءِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ التُّرَابَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى اغْبَرَّ بَطْنُهُ يَقُولُ:\nوَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صلَّينا\nفأنزلنْ سكينَة علينا وثبِّتِ الْأَقْدَام إِن لاقينا\nإِنَّ الأولى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا\nيَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ: «أَبَيْنَا أَبَيْنَا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ\n

براء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ خندق کے روز مٹی اٹھا رہے تھے حتی کہ ان کا پیٹ غبار آلود ہو گیا ، آپ ﷺ (اشعار) کہہ رہے تھے :’’ اللہ کی قسم ! اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے ، صدقہ دیتے اور نہ ہی نماز پڑھتے ، ہم پر سکینت نازل فرمانا جب ہم ان (دشمنان دین) سے ملیں تو ہمیں ثابت قوم رکھ کیونکہ انہوں نے ہم پر زیادتی کی ہے ، جب بھی انہوں نے فتنے کا ارادہ کیا تو ہم نے انکار کیا ۔‘‘ آپ لفظ ’’ ہم نے انکار کیا ، ہم نے انکار کیا ‘‘ پر آواز بلند فرماتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

4793Mishkaat-al-Masabihصحیح

بیان و شعر کا بیان

وَعَن أنسٍ قَالَ: جَعَلَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ وَيَنْقُلُونَ الترابَ وهم يَقُولُونَ:\nنَحن الذينَ بَايعُوا محمَّداً عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا\nيَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُجِيبُهُمْ:\nاللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ والمهاجرة\nمُتَّفق عَلَيْهِ\n

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، مہاجر و انصار (صحابہ کرام ؓ) خندق کھود رہے تھے ، مٹی اٹھا رہے تھے اور کہہ رہے تھے : ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے تاحیات جہاد کرنے پر محمد (ﷺ) کی بیعت کی ہے ۔ نبی ﷺ ان کے جواب میں فرما رہے تھے :’’ اے اللہ ! زندگی تو آخرت کی زندگی ہے ، انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما ۔‘‘ متفق علیہ ۔

4794Mishkaat-al-Masabihصحیح

بیان و شعر کا بیان

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِأَنَّ يمتلىءَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا يَرِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يمتلئ شعرًا» مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی آدمی کے پیٹ کا پیپ سے بھر کر خراب ہو جانا ، اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ (مذموم) اشعار سے بھر جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

4795Mishkaat-al-Masabihصحیح

بیان و شعر کا بیان

عَن كعبِ بنِ مالكٍ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قد أنزلَ فِي الشعرِ مَا أَنْزَلَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّمَا تَرْمُونَهُمْ بِهِ نَضْحَ النَّبْلِ» رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ\nوَفِي «الِاسْتِيعَابِ» لِابْنِ عَبْدِ الْبَرِّ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا تَرَى فِي الشِّعْرِ؟ فَقَالَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهد بِسَيْفِهِ وَلسَانه»\n

کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے شعر کی مذمت کے بارے میں حکم اتارا ہے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک مومن اپنی تلوار اور اپنی زبان سے جہاد کرتا ہے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! (یہ ہجو اس طرح ہے) گویا تم ان پر تیر اندازی کر رہے ہو ۔‘‘\nاستیعاب لابن عبدالبر میں ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ شعر کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک مومن اپنی تلوار اور اپنی زبان کے ساتھ جہاد کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔\n

4796Mishkaat-al-Masabihصحیح

بیان و شعر کا بیان

وَعَنْ أَبِي\nأُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَيَاءُ وَالْعِيُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الْإِيمَانِ وَالْبَذَاءُ وَالْبَيَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

ابوامامہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ حیا اور کم گوئی ایمان کی شاخیں ہیں ، جبکہ فحش گوئی اور بیان (مبالغہ آرائی) نفاق کی دو شاخیں ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

4797Mishkaat-al-Masabihصحیح

بیان و شعر کا بیان

وَعَن أبي\nثَعلبةَ الخُشنيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مني مساويكم أَخْلَاقًا الثرثارون المتشدقون المتفيقهون» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»\n

ابوثعلبہ خشنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک (دنیا میں) تم میں سے مجھے زیادہ پسند و محبوب اور روزِ قیامت میرے زیادہ قریب وہ شخص ہو گا جو تم میں سے زیادہ بااخلاق ہو گا ، اور تم میں سے (دنیا میں) مجھے سب سے زیادہ ناپسند اور روزِ قیامت مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ شخص ہو گا جو تم میں سے بد اخلاق ، بہت باتیں کرنے والے ، زبان دراز اور گلا پھاڑ کر باتیں کرنے والے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

4798Mishkaat-al-Masabihصحیح

بیان و شعر کا بیان

وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ\nنَحْوَهُ عَنْ جَابِرٍ وَفِي رِوَايَتِهِ قَالُوا: يَا رَسُول الله قد علمنَا الثرثارونَ والمتشدقون فَمَا المتفيقهون؟ قَالَ: «المتكبرون»\n

امام ترمذی نے جابر ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے ، ان کی روایت میں ہے ، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم باتونی اور منہ پھٹ شخص کے متعلق تو جانتے ہیں ، لیکن ’’المتفیھقون‘‘ سے مراد کون ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تکبر کرنے والے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

4799Mishkaat-al-Masabihضعیف

بیان و شعر کا بیان

وَعَنْ\nسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا تَأْكُلُ الْبَقَرَةُ بألسنتها» رَوَاهُ أَحْمد\n

سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ ایک قوم کا ظہور ہو گا وہ اپنی زبانوں کے ذریعے (مدحہ سرائی کر کے مال کما کر) ایسے کھائیں گے جیسے گائے اپنی زبان کے ساتھ کھاتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

4800Mishkaat-al-Masabihصحیح

بیان و شعر کا بیان

وَعَنْ عَبْدِ\nاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْبَلِيغَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ كَمَا يَتَخَلَّلُ الْبَاقِرَةُ بِلِسَانِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب\n

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ چرب زبان اور مبالغے سے کام لینے والے اس شخص سے دشمنی رکھتا ہے جو زبان کی کمائی کھاتا ہے جیسا کہ گائے زبان سے چارہ کھاتی ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔