Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,333 hadiths in order · Page 203 of 317
انتقام کے خوف سے سانپ کو نہ مارنے والے کے بارے میں وعید
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما سالمناهم منذ حاربناهم ومن ترك شيئا منهم خيفة فليس منا . رواه أبو داود
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب سے ہم نے سانپوں سے لڑائی شروع کی ہے اس وقت سے ہم نے ان سے مصالحت نہیں کی ہے۔ لہٰذا جو شخص ان سانپوں میں سے کسی سانپ کو ( اس) خوف کی وجہ سے (مارنے) باز رہے ( کہ خود وہ سانپ یا اس کا جوڑا نقصان پہنچائے گا اور بدلہ لے گا، تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ ( ابوداؤد )
تشریح
ایک دوسری روایت میں منذ حار بناہم کے بجائے منذ عا دینا ہم کے الفاظ منقول ہیں۔ یعنی جب سے ہمارے اور سانپوں کے درمیان لڑائی اور دشمنی واقع ہوئی ہے بہر حال مراد یہ ہے کہ انسان اور سانپ کے درمیان دشمنی اور لڑائی ایک طبعی اور جبلی چیز ہے کہ ہر ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتا ہے، اگر انسان سانپ کو دیکھتا ہے تو اس کو ضرور مار ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور اگر سانپ موقع پاتا ہے تو اس کو کاٹے اور ڈسے بغیر نہیں رہتا، بلکہ بعض علماء نے تو یہ کہا ہے کہ اس لڑائی اور دشمنی سے مراد دراصل وہ عداوت ہے جو اولاد آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے بھی پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) اور سانپ کے درمیان قائم ہوئی تھی، جیسا کہ ایک روایت میں بیان کیا جاتا ہے کہ جب ابلیس لعین نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو بہکانے کے لئے جنت میں داخل ہونا چاہا، تو جنت کے داروغہ نے اس کو روک دیا چناچہ یہ سانپ ہی تھا جو ابلیس کا کام آیا اس نے ابلیس کو اپنے منہ کے اندر لے کر جنت میں پہنچا دیا اور پھر ابلیس لعین نے حضرت آدم (علیہ السلام) و حوا کے لئے اپنے مکر و فریب کا جال پھیلا کر ان کو وسوسہ میں ڈال دیا اور ان دونوں نے جنت کے اس درخت سے کھالیا، جس کے پاس جانے سے بھی ان کو منع کردیا تھا اور آخر کار ان دونوں کو جنت سے نکال دیا گیا اور حق تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) و حوا علیھا اور ابلیس و سانپ کو خطاب کر کے فرمایا آیت (اھبطوا بعضکم لبعض عدو )۔ بیان کیا جاتا ہے کہ پہلے سانپ کی شکل و صورت بہت اچھی اور خوشنما تھی مگر اس کے اس سخت جرم کے عذاب میں کہ وہ ابلیس کا آلہ کار بنا اس کی صورت مسخ کردی گئی، لہٰذا سانپ اس کے مستحق ہے کہ اس کے تئیں یہ عداوت و نفرت ہمیشہ باقی رکھی جائے۔ واضح رہے کہ ما سلمانھم منذ حاربنا ہم میں سانپوں کے لئے ذوی العقول کی ضمیر اس لئے استعمال ہوئی ہے کہ ان کی طرف صلح کی نسبت کی گئی ہے جو ذوی العقول کے افعال میں سے ہے۔ جیسے کہ اس آیت کریمہ ( وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ ) 12۔ یوسف 4) میں سورج اور چاند کے لئے ذوی العقول کی ضمیر لائی گئی ہے ورنہ قاعدے کے اعتبار سے ان کے لئے غیر ذوی العقول کی ضمیر استعمال کرتے ہوئے یہ کہنا چاہئے تھا ما سالمنا ہن منذ حاربناہن۔
انتقام کے خوف سے سانپ کو نہ مارنے والے کے بارے میں وعید
وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقتلوا الحيات كلهن فمن خاف ثأرهن فليس مني . رواه أبو داود والنسائي
اور حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمام سانپوں کو قتل کردو اگر کوئی شخص ان کے انتقام سے خوف زدہ ہوا تو وہ مجھ سے نہیں ہے۔ ( ابوداؤد، نسائی )
تشریح
اس حدیث کے ظاہری مفہوم سے تو یہ واضح ہوتا ہے ہر قسم کے سانپوں کو مارنا چاہئے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس عمومی حکم سے عوامر یعنی گھروں میں رہنے والے سانپوں کا استثناء کیا جانا چاہئے یا پھر یہ کہا جائے کہ قتل سے مراد یہ ہے کہ أگاہ کرنے کے بعد مارو، جیسا کہ پہلے حضرت ابوسائب کی حدیث میں بیان ہوا ہے۔
انتقام کے خوف سے سانپ کو نہ مارنے والے کے بارے میں وعید
وعن العباس رضي الله عنه قال : يا رسول الله إنا نريد أن نكنس زمزم وإن فيها من هذه الجنان يعني الحيات الصغار فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بقتلهن . رواه أبو داود
اور حضرت عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے ( ایک دن) عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم زمزم کے کنوئیں کی صفائی کرنا چاہتے ہیں لیکن اس میں سانپ یعنی چھوٹے سانپ ہیں؟ چناچہ رسول کریم ﷺ نے ان سانپوں کو مار ڈالنے کا حکم دے دیا۔ ( ابوداؤد)
تشریح
اس حدیث سے یہ ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہر قسم کے چھوٹے سانپوں کو مار ڈالنے کا حکم دے دیا تھا، لیکن آگے جو حدیث آرہی ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے ان میں سے ایک قسم کے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس موقع پر چاہ زمزم کو صاف کرنا ان سب سانپوں کو مار ڈالنے کے بغیر ممکن نہیں تھا، جب کہ دوسری صورتوں میں ان میں سے بعض قسم کے سانپوں کا استثناء ممکن ہے۔
سفید چھوٹے سانپ کو مارنے کی ممانعت
وعن ابن مسعود رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اقتلوا الحيات كلها إلا الجان الأبيض الذي كأنه قضيب فضة . رواه أبو داود
اور حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمام سانپوں کو مارو علاوہ جان یعنی سفید چھوٹے سانپ کے جو چاندی کی چھڑی کی طرح ہوتا ہے۔ ( ابوداؤد)
تشریح
اس سانپ کو مارنے سے شاید اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ وہ ضرر نہیں پہنچاتا۔
کھانے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اس کو غوطہ دے کر نکال دو
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا وقع الذباب في إناء أحدكم فامقلوه فإن في أحد جناحيه داء وفي الآخر شفاء فإنه يتقي بجناحه الذي فيه الداء فليغمسه كله . رواه أبو داود
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کسی شخص کے برتن میں ( کہ جس میں کھانے پینے کی کوئی چیز ہو) مکھی گرجائے تو اس کو غوطہ دو کیوں کہ اس کے ایک بازو میں بیماری ہے اور دوسرے بازو میں شفاء اور مکھی ( کسی چیز میں) پہلے اپنے اسی بازو کو ڈالتی ہے جس میں بیماری ہے لہٰذا پوری مکھی کو غوطہ دینا چاہئے ( تاکہ شفا والے بازو سے ان جراثیم کا دفعیہ ہوجائے جو بیمار والے بازو کی وجہ سے کھانے پینے کی چیز میں پہنچ گئے ہیں۔ ( ابوداؤد )
کھانے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اس کو غوطہ دے کر نکال دو
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا وقع الذباب في الطعام فامقلوه فإن في أحد جناحيه سما وفي الآخر شفاء وإنه يقدم السم ويؤخر الشفاء . رواه في شرح السنة
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب کھانے میں مکھی گرجائے تو اس کو غوطہ دے لو۔ کیونکہ اس کے ایک بازو میں زہر ہے اور دوسرے بازو میں شفا ہے اور مکھی اپنے زہر والے بازو کو پہلے ڈالتی ہے اور پھر شفا والے بازو کو۔ ( شرح السنۃ )
وہ چار جانور جن کا مارنا ممنوع ہے
وعن ابن عباس قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن قتل أربع من الدواب : النملة والنحلة والهدهد والصرد . رواه أبو داود والدارمي
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ( ان) چار جانوروں کو مارنے سے منع فرمایا ہے چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد اور کلچڑی۔ ( ابوداؤد، دارمی )
تشریح
چیونٹی کو مارنے سے منع کرنے کی مراد یہ ہے کہ اس کو اس وقت تک نہ مارا جائے جب تک کہ وہ نا کاٹے، اگر وہ کاٹے تو پھڑ اس کو مارنا جائز ہوگا۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ جس چیونٹی کو مارنے سے منع فرمایا گیا ہے اس سے وہ بڑی چیونٹی مراد ہے جس کے پیر لمبے لمبے ہوتے ہیں اور اس کو مارنا ممنوع اس لئے ہے کہ اس کے کاٹنے سے ضرر نہیں پہنچتا۔ شہد کی مکھی کو مارنا اس لئے ممنوع ہے کہ اس سے انسان کو بہت زیادہ فوائد پہنچتے ہیں بایں طور کہ شہد اور موم اسی کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ ہدہد ایک پرندہ ہے جس کو کھٹ بڑھئی کہتے ہیں، صرد بھی ایک پرندہ ہے جو بڑے سر، بڑی چونچ اور بڑے بڑے پر والا ہوتا ہے، وہ آدھا سیاہ ہوتا ہے اور آدھا سفید اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ وہ شکاری پرندہ ہوتا ہے جو چڑیوں کا شکار کرتا ہے، ان دونوں پرندوں کو مارنے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ ان کا گوشت کھانا حرام ہے اور جو جانور و پرندہ کھایا نہ جاتا ہو اس کو مارنا ممنوع قرار دیا گیا ہے اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ ہدہد میں بدبو ہوتی ہے اس لئے وہ جلالہ کے حکم میں ہوگا۔ اہل عرب ہدہد اور صرد کے آوازوں کو منحوس اور بدفالی سمجھتے تھے، اس لئے بھی آنحضرت ﷺ نے ان کو مارنے سے منع فرمایا کہ لوگوں کے دلوں سے ان کی نحوست کا اعتماد نکل جائے۔
حلت وحرمت کے احکام میں خواہش نفس کا کوئی دخل نہیں ہونا چاہئے
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال : كان أهل الجاهلية يأكلون أشياء ويتركون أشياء تقذرا فبعث الله نبيه وأنزل كتابه وأحل حلاله وحرم حرامه فما أحل فهو حلال وما حرم فهو حرام وما سكت عنه فهو عفو وتلا ( قل لا أجد فيما أوحي إلي محرما على طاعم يطعمه إلا أن يكون ميتة أو دما ) رواه أبو داود
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ ( اپنی خواہش نفس کے مطابق) کچھ چیزوں کو کھاتے تھے اور کچھ چیزوں کو جھوڑ دیتے تھے، یعنی جن چیزوں سے ان کو نفرت ہوتی ان کو نہیں کھاتے تھے) چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا اور ( ان نبی ﷺ پر اور ان کے ذریعہ ان کی امت پر) اپنی کتاب نازل کی اور اپنی حلال چیزوں کو حلال قرار دیا اور اپنی حرام چیزوں کو حرام قرار دیا ( یعنی یہ بیان کردیا کہ فلاں چیز حلال ہے اور فلاں چیز حرام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو حلال کیا ہے وہی حلال ہے اس کے علاوہ حلال نہیں ہے) اور جس چیز کو حرام کہا ہے وہی حرام ہے اور جس چیز سے سکوت اختیار کیا ( یعنی جس چیز کے بارے میں یہ نہیں بتایا کہ یہ حلال ہے یا حرام) تو وہ چیز معاف ہے ( کہ اس پر مواخذہ نہیں) اور پھر حضرت ابن عباس ؓ نے یہ آیت پڑھی اے محمد ﷺ کہہ دیجئے کہ جو احکام بذریعہ وحی میرے پاس آتے ہیں ان میں تو میں کوئی حرام غذا پاتا نہیں کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھائے مگر یہ کہ وہ مردار ہو یا خون الخ۔۔ ( ابوداؤد)
تشریح
لفظ حلالہ میں مصدر استعمال کیا گیا ہے جو مفعول کے قائم مقام ہے، معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی بعثت اور اپنی کتاب ہدایت ( قرآن مجید) کے نزول کے ذریعہ اس چیز کو ظاہر واضح کردیا جو حلال کی گئی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے جو آیت تلاوت کی وہ پوری یوں ہے ا یت (قُلْ لَّا اَجِدُ فِيْ مَا اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰي طَاعِمٍ يَّطْعَمُه اِلَّا اَنْ يَّكُوْنَ مَيْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِيْرٍ فَاِنَّه رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِه )۔ 6۔ الانعام 145) ( اے محمد ﷺ کہہ دیجئے کہ جو احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ہیں ان میں تو کوئی حرام غذا پاتا نہیں کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھائے مگر یہ کہ وہ مردار ( مرا ہوا جانور) ہو یا بہتا ہوا خون ہو، یا سور کا گوشت ہو کیونکہ وہ بالکل ناپاک ہے یا جو جانور شرک کا ذریعہ ہو کہ غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو۔ یہ آیت کریمہ حضرت ابن عباس ؓ نے ان لوگوں کی تردید میں پڑھی جو محض اپنی خواہش نفس کی بنا پر کسی چیز کی حلت و حرمت کے فیصلہ کرتے تھے، کہ جس چیز کی طرف ان کی طبیعت راغب ہوئی اس کو حلال جان کر کھاتے اور جس چیز سے ان کو کراہت و نفرت ہوتی، اس کو حرام سمجھ کر ترک کردیتے، لہٰذا حضرت ابن عباس ؓ نے ان لوگوں پر اس آیت کے ذریعہ گویا یہ واضح کیا کہ حلال وہی چیز ہے، جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (علیہ السلام) نے حلال قرار دیا ہو اور حرام وہی چیز ہے، جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام قرار دیا ہو نہ کہ حلت و حرمت کا تعلق خواہش نفس سے ہے۔ از قسم جانور و گوشت جن چیزوں کے حرام ہونے کا حکم کتاب اللہ میں بیان کیا گیا ہے، وہ بس یہی ہیں جو اس آیت میں ذکر ہوئی ہیں۔ ان کے علاوہ اور دوسری چیزوں کی حرمت سنت نبوی ﷺ سے ثابت ہوئی ہے۔ اور وہ چونکہ زیادہ ہیں اس لئے حضرت ابن عباس ؓ نے ان کے بارے میں منقول احادیث بیان نہیں کیں، محض اس آیت کی تلاوت پر اکتفا کیا۔
گدھے کا گوشت کھانے کی ممانعت
وعن زاهر الأسلمي قال : إني لأوقد تحت القدور بلحوم الحمر إذ نادى منادي رسول الله صلى الله عليه و سلم : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهاكم عن لحوم الحمر . رواه البخاري
اور حضرت زاہر اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ ( ایک دن) میں اس ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا، جس میں گدھے کا گوشت ( پکنے کے لئے رکھا ہوا) تھا کہ اچانک رسول کریم ﷺ کی طرف سے اعلان کرنے والے نے یہ اعلان کیا کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرماتے ہیں۔ ( بخاری )
وعن أبي ثعلبة الخشني يرفعه : الجن ثلاثة أصناف صنف لهم أجنحة يطيرون في الهواء وصنف حيات وكلاب وصنف يحلون ويظعنون . رواه في شرح السنة
اور حضرت ابوثعلبہ خشنی ؓ بطریق مرفوع نقل کرتے ہیں کہ ( آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنات کی تین قسمیں ہیں، ایک تو وہ جن کے پر ہوتے ہیں اور وہ ہوا میں اڑتے ہیں، دوسری قسم وہ ہیں جو سانپ اور کتے ( کی شکل میں نظر آتے ہیں اور تیسری قسم وہ ہیں جو منزل پر اترتے اور کوچ کرتے ہیں۔ ( شرح السنۃ )
عقیقہ عق سے مشتق ہے، لغت میں عق کے معنی ہیں چیرنا، پھاڑنا اصلاح میں عقیقہ ان بالوں کو کہتے ہیں جو نوزائیدہ کے سر پر ہوتے ہیں۔ ان بالوں کو عقیقہ اس اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ وہ بال ساتویں دن مونڈے جاتے ہیں اور اس مناسبت سے عقیقہ اس بکری کو بھی کہتے ہیں جو بچے کے سر مونڈنے کے وقت ذبح کی جاتی ہے۔ عقیقہ کی شرعی حیثیت عقیقہ کی شرعی حیثیت کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں، ائمہ ثلاثہ یعنی حضرت امام احمد، حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی کے نزدیک عقیقہ سنت ہے اور اکثر احادیث سے بھی اس کا سنت ہونا معلوم ہوتا ہے حضرت امام احمد سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ عقیقہ واجب ہے۔ جہاں تک حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے نزدیک عقیقہ سنت نہیں ہے بلکہ مستحب ہے جو سنت سے ثابت ہے۔ مشہور حنفی مجتہد حضرت امام محمد نے اپنی کتاب مؤطا میں یہ لکھا ہے کہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ عقیقہ ( اصل میں) زمانہ جاہلیت کی ایک رسم تھی جو اسلام کے ابتدائی زمانہ میں بھی رائج رہی مگر پھر قربانی نے ہر اس ذبح ( کے وجوب) کو منسوخ قرار دیا جو قربانی سے پہلے رائج تھا، رمضان کے روزوں نے ہر اس روزے ( کے وجوب) کو منسوخ قرار دیا جو اس سے پہلے رائج تھا، غسل جنابت نے ہر اس غسل ( کے وجوب کو) منسوخ قرار دے دیا جو اس سے پہلے رائج تھا، زکوٰۃ نے ہر اس صدقہ ( کے وجوب) کو منسوخ قرار دے دیا جو اس سے پہلے رائج تھا۔ عقیقہ کے احکام جو احکام و شرائط قربانی کے سلسلے میں منقول و معتبر ہیں وہی احکام و شرائط عقیقہ کے بارے میں بھی مقبول و معتبر ہیں۔
عن سلمان بن عامر الضبي قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : مع الغلام عقيقة فأهريقوا عنه دما وأميطوا عنه الأذى . رواه البخاري
حضرت سلمان بن عامر ضبی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کرنا ( مسنون یا مستحب) ہے لہٰذا اس کی طرف سے جانور ذبح کرو اور اس سے ایذاء ( یعنی اس کے سر کے بال اور میل کچیل) دور کرو )۔ ( بخاری )
وعن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يؤتى بالصبيان فيبرك عليهم ويحنكهم . رواه مسلم
اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ کے پاس ( نو زائیدہ) بچے لائے جاتے چناچہ آپ ﷺ ان کے لئے برکت کی دعا کرتے یعنی ان کے سامنے فرماتے، بارک اللہ علیک اللہ تعالیٰ تجھ پر برکت و رحمت نازل فرمائے) اور ان کے تحنیک کرتے۔ ( مسلم )
تشریح
تحنیک یہ ہے کہ کھجور یا کسی اور میٹھی چیز کو چبا کر بچے کے تالو میں لگایا جائے چناچہ یہ تحنیک ایک مسنون عمل ہے اور بہتر یہ ہے کہ تحنیک کرنے والا کوئی نیک اور صالح آدمی ہو۔
وعن أسماء بنت أبي بكر أنها حملت بعبد الله بن الزبير بمكة قالت : فولدت بقباء ثم أتيت به رسول الله صلى الله عليه و سلم فوضعته في حجره ثم دعا بتمرة فمضغها ثم تفل في فيه ثم حنكه ثم دعا له وبرك عليه فكان أول مولود ولد في الإسلام
حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ مکہ میں عبداللہ ابن زبیر ؓ ان کے پیٹ میں آئے، حضرت اسماء ؓ کہتی ہیں کہ قباء کے مقام پر میرے ولادت ہوئی تو میں ان ( عبداللہ) کو لے کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں آئی اور ان کو آنحضرت ﷺ کی گود میں دے دیا آنحضرت ﷺ نے کھجور منگائی اور اس کو چبایا، پھر اپنا آب دہن ان کے منہ میں ڈالا یعنی آپ ﷺ نے، اس کھجور کو جو آپ ﷺ کے لعاب مبارک کے ساتھ مخلوط ہوگئی تھی، عبداللہ کے منہ میں رکھا اور پھر وہ کھجور ان کے تالو میں لگائی، اس کے بعد آپ ﷺ نے ان کے لئے دعا کی اور برکت چاہی ( یعنی یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس پر برکت نازل فرمائے) چناچہ عبداللہ بن زبیر ؓ پہلے شخص تھے، جو اسلام ( کے عہد) میں پیدا ہوئے۔ ( بخاری ومسلم )
تشریح
قبا مدینہ شہر سے جنوب مغربی سمت تقریبا ڈیڑھ میل کے فاصلے پر ایک آبادی ہے۔ مکہ سے مدینہ کے لئے سفر ہجرت میں آنحضرت ﷺ کی یہ آخری منزل تھی، جہاں آپ ﷺ مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے اترے اور تین دن یا چار دن قیام فرمایا جس جگہ آپ ﷺ نے قیام فرمایا تھا اس جگہ آپ ﷺ نے ایک مسجد کی بنیاد رکھی، جس کو مسجد قبا کہتے ہیں، قبا اگرچہ مدینہ منورہ سے باہر ہے، لیکن اس کا تعلق ایک طرح سے ایسا ہی ہے جیسا کہ محلہ کا ہوتا ہے۔ اس جگہ بڑی شادابی ہے۔ اور مختلف پھلوں اور میووں کے باغات ہیں، اسی قبا میں بئراریس نامی کنواں ہے، جہاں آپ ﷺ نے چند صحابہ کو جنت کی بشارت دی تھی اور جس میں حضرت عثمان ؓ کے عہد میں آنحضرت ﷺ کی وہ انگوٹھی گرگئی تھی، جس سے آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے بعد خلفائے راشدین مہر لگایا کرتے تھے، اس کنویں کا پانی بہت کھارا تھا کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اپنا لعب دہن شامل فرمایا جب سے اس کا پانی میٹھا ہے، مگر اب یہ کنواں خشک ہوگیا ہے۔ عبداللہ بن زبیر ؓ پہلے شخص تھے الخ کا مطلب یہ ہے کہ ہجرت کے بعد مہاجرین میں جو سب سے پہلا بچہ پیدا ہوا وہ عبداللہ بن زبیر ؓ تھے، مہاجرین کی قید اس لئے لگائی گئی کہ ہجرت کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی پیدائش سے بھی پہلے مدینہ میں مسلمانوں کے یہاں سب سے پہلا پیدا ہونے والا بچہ نعمان بن بشیر انصاری ؓ تھے۔
عقیقہ کے جانوروں کی تعداد
عن أم كرز قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أقروا الطير على مكناتها . قالت : وسمعته يقول : عن الغلام شاتان وعن الجارية شاة ولا يضركم ذكرانا كن أو إناثا . رواه أبو داود وللترمذي والنسائي من قوله : يقول : عن الغلام إلا آخره وقال الترمذي : هذا صحيح
حضرت ام کرز ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں قرار دو، ام کرز ؓ کہتی ہیں کہ۔ اور میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ ( عقیقہ میں) لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے اور اس میں تمہارے لئے کوئی نقصان نہیں ہے کہ وہ ( بکری) نر ہو یا مادہ، یعنی اس بات کا لحاظ ضروری نہیں کہ لڑکے کے عقیقہ میں بکرے ذبح کئے جائیں اور لڑکی کے عقیقہ میں بکری ذبح کی جائے ( ابوداؤد، ترمذی) نسائی کی روایت میں یقول عن الغلام سے آخر تک ہے۔ نیز ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
تشریح
مکنات میم کے زبر اور کاف کے زیر اور زبر کے ساتھ ہے اور مشکوٰۃ کے ایک نسخہ میں کاف کے پیش کے ساتھ بھی منقول ہے۔ اس کے معنی مکان کے ہیں۔ اس ارشاد گرامی پرندوں کو ان کے کھونسلوں میں قرار دو کا مطلب یہ ہے کہ ان ( پرندوں) کو ان کے گھونسلوں میں رہنے دو اڑاؤ نہیں۔ اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ مکنات اصل میں جمع ہے مکنۃ کی جس کے معنی سو سمار ( گوہ) کے انڈے کے ہیں، لیکن یہاں یہ لفظ مطلق انڈوں کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے، اس صورت میں اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر پرندے انڈوں پر بیٹھے ہوں تو ان کے گھونسلوں کو ہلا کر ان کو ستاؤ مت۔ یا پھر اس ارشاد گرامی کا تعلق تطیر اور فال بد لینے کی ممانعت سے ہے، جیسا کہ عرب میں لوگوں کا قاعدہ تھا کہ جب کوئی شخص کسی کام کا قصد کرتا، یا کہیں کا سفر کرنے کا ارادہ کرتا، تو پرندے کے گھونسلے پر آتا اور اس کو چھیڑ کر اڑاتا، اگر وہ پرندہ داہنی طرف اڑتا تو مبارک جان کر اور فال نیک سمجھ کر اس کام کو کرتا، یا سفر پر روانہ ہوجاتا اور اگر وہ پرندہ بائیں طرف اڑتا تو اس کو منحوس سمجھ کر اس کام یا سفر سے باز رہتا، اس کو تطیر کہتے ہیں۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ پرندہ جہاں ہو اس کو وہیں رہنے دو کہ اس کو مت اڑاؤ اور نہ اس سے بد فالی لو۔
وعن الحسن عن سمرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الغلام مرتهن بعقيقته تذبح عنه يوم السابع ويسمى ويحلق رأسه . رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي لكن في روايتهما رهينة بدل مرتهن وفي رواية لأحمد وأبي داود : ويدمى مكان : ويسمى وقال أبو داود : ويسمى أصح
اور حضرت حسن بصری ؓ حضرت سمرہ ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر ( بچہ) اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے ( اس کی پیدائش کے) ساتویں دن اس کے ( عقیقہ کے) لئے ( جانور) ذبح کیا جائے ( ساتویں ہی دن) اس کا نام رکھا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے۔ اس روایت کو احمد، ترمذی، نسائی نے نقل کیا ہے لیکن ابوداؤد نسائی کی روایت میں مرتھن کے بجائے رھینۃ ہے اور احمد و ابوداؤد کی ایک روایت میں یسمی کے بجائے و یدمی ہے اور ابوداؤد نے کہا ہے کہ لفظ یسمی ہی زیادہ صحیح ہے۔
تشریح
ظاہر ہے کہ بچہ چونکہ مکلف نہیں ہے کہ اگر اس کا عقیقہ نہ کیا جائے تو اس کے ماخوذ و معتوب ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوگا، اس صورت میں بجا طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر عقیقہ کے عوض بچے کے گروی ہونے کا کیا مطلب ہے؟ چناچہ حضرت امام احمد نے تو اس ارشاد گرامی ﷺ کا مطلب یہ بیان کیا ہے، کہ جس بچے کا عقیقہ نہیں ہوتا اور وہ کم سنی میں مرجاتا ہے تو اس کو اپنے والدین کی شفاعت کرنے سے روک دیا جاتا ہے کہ جب تک والدین اس کا عقیقہ نہ کردیں وہ اس کے حق میں شفاعت کرنے کا اہل نہیں ہوگا۔ بعض حضرات نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ جب تک والدین بچہ کا عقیقہ نہیں کرتے اس کو بھلائیوں سلامتی آفات اور بہتر نشو نما سے باز رکھا جاتا ہے اور پھر اس کے جو برے نتائج پیدا ہوتے ہیں وہ حقیقت میں والدین کے مواخذہ کا سبب بنتے ہیں کہ ترک عقیقہ انہوں نے ہی کیا ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ گروی ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ بچہ اپنے بالوں وغیرہ کی گندگی و اذیت میں مبتلا رہتا ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے۔ فامیطوا عنہ الاذی ( بچے کو اذیت سے ہٹاؤ) یعنی اس کے بال میل کچیل اور خون وغیرہ صاف کرو) لہٰذا جب بچہ کا عقیقہ ہوتا ہے تو وہ گویا سر کے بال وغیرہ صاف ہوجانے سے اس اذیت سے نجات پا جاتا ہے۔ لفظ یدمی۔ یا کے پیش دال کے زبر اور میم مفتوحہ کی تشدید کے ساتھ تدمیہ سے مشتق ہے جس کے معنی، خون آلود کرنے۔ کے ہیں۔ لہٰذا ایک روایت میں ویسمی ( اور اس کا نام رکھا جائے) کی جگہ ویدمی ہے۔ لیکن جیسا کہ ابوداؤد نے کہا ہے کہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ اس جگہ لفظ ویسمی ہی ہونا چاہئے۔ تاہم قتادہ نے ویدمی کی تشریح یہ کی ہے کہ جب عقیقہ کے جانور کو ذبح کیا جائے تو اس کے تھوڑے سے بال لے کر اس کی گردن کے سامنے رکھ دیا جائے تاکہ وہ ( بال) اس کے خون سے آلودہ ہوجائیں جو ذبح کے وقت اس جانور کی گردن کی رگوں سے نکلے اور پھر وہ خون آلودہ بال اس بچے کی چندیا پر اس طرح رکھ دیا جائے کہ خون اس کی چندیا پر ایک لکیر کی صورت میں بہے اور اس کے بعد بچہ کا سر دھو کر منڈوا دیا جائے۔ سفر السعادۃ کے مصنف نے لکھا ہے کہ یہ ( تدمیہ) نہ کیا جائے کیونکہ روایت میں لفظ یدمی دراصل کسی روای کی طرف سے تحریف ہے جس کا آنحضرت ﷺ کے ارشاد سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ آنحضرت ﷺ سے تدمیہ ثابت ہے، چناچہ آنحضرت ﷺ نے حضرت امام حسن ؓ اور حضرت امام حسین ؓ کا عقیقہ کیا، لیکن یہ عملی ( تدمیہ) نہیں کیا تھا، نیز یہ بھی لکھا ہے کہ یہ عمل دراصل زمانہ جاہلیت کی ایک رسم تھی جس کو منسوخ قرار دیا گیا ٫ جیسا کہ اس باب کی تیسری فصل میں آنے والی حدیث سے واضح ہوگا۔ علماء نے لکھا ہے کہ ابوداؤد کی روایت میں لفظ یدمی کا منقول ہونا حدیث کے ایک راوی ہمام کا وہم ہے اور قتادہ نے اس لفظ کی تشریح میں جو کچھ لکھا ہے وہ منسوخ ہے، خطابی نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے بچے کے بدن سے اذیت اور سوکھی پلیدی کو دور کرنے کا حکم فرمایا تو اس کے سر کو تر خون سے آلودہ کر کے نجس کرنے کا حکم کیسے دیا جاسکتا ہے، تاہم بعض علماء نے بچے کے سر کو خون سے آلودہ کرنے کے بجائے خلوق اور زعفران جیسی خوشبوؤں سے لتھیڑنا نقل کیا ہے۔
لڑکے کے عقیقہ میں ایک بکری ذبح کرنے کا مسئلہ
وعن محمد بن علي بن حسين عن علي بن أبي طالب قال : عق رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الحسن بشاة وقال : يا فاطمة احلقي رأسه وتصدقي بزنة شعره فضة فوزناه فكان وزنه درهما أو بعض درهم . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب وإسناده ليس بمتصل لأن محمد بن علي بن حسين لم يدرك علي بن أبي طالب
حضرت محمد بن علی بن حسین ؓ ( یعنی حضرت امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین شہید ؓ حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا رسول کریم ﷺ نے ( اپنے نواسے اور میرے بچے) حسن کے عقیقہ میں ایک بکری ذبح کی تھی اور فرمایا کہ فاطمہ ؓ! اس ( حسن ؓ کا سر مونڈو اور اس کے بال کے ہم وزن چاندی صدقہ کردو۔ چناچہ ہم نے ان بالوں کا وزن کیا تو وہ ایک درہم یا ایک درہم سے کم وزن کے تھے۔ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اور اس کی اسناد متصل یعنی مسلسل نہیں ہے۔ کیونکہ محمد بن علی بن حسین نے حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لڑکے کے عقیقہ میں ایک بکری یا بکرا بھی ذبح کیا جاسکتا ہے، نیز ابوداؤد نے بھی حضرت ابن عباس ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کی طرف سے عقیقہ میں ایک مینڈھا ذبح کیا، یہ حدیث آگے آرہی ہے۔ لیکن نسائی نے حضرت ابن عباس ؓ سے دو دو مینڈھے روایت کئے ہیں اور حضرت بریدہ ؓ نے مطلق نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کی طرف سے عقیقہ کیا۔ سفر السعادۃ کے مصنف نے لکھا ہے کہ اگرچہ ایک بکری کی روایت بھی صحیح ہے۔ لیکن زیادہ مضبوط اور زیادہ صحیح وہی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ لڑکے کے عقیقہ میں دو بکریاں ذبح کی جائیں، کیونکہ اس روایت کو صحابہ کی ایک پوری جماعت نے نقل کیا ہے نیز لڑکے کے عقیقہ میں دو بکری کو ذبح کرنے کو ترجیح دینے کی ایک دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ایک بکری ذبح کرنا آپ ﷺ کے عمل سے ثابت ہے۔ اور دو بکریاں ذبح کرنا آپ ﷺ کے ارشاد سے ثابت ہے اور ظاہر ہے کہ جو چیز قول سے ثابت ہو وہ فعل سے کہیں زیادہ مضبوط اور کہیں زیادہ مکمل سمجھی جاتی ہے، کیوں کہ فعل کے بارے میں یہ بھی احتمال ہوتا ہے کہ وہ کسی مخصوص حالت سے متعلق ہو، جب کہ قول میں عمومیت واکملیت ہوتی ہے اور ایک بات یہ بھی ہے کہ فعل تو محض جواز پر دلالت کرتا ہے اور قول سے جواز کے ساتھ استحباب بھی ثابت ہوتا ہے، ترمذی نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں جن صحابہ کی روایتیں منقول ہیں، وہ یہ ہیں، حضرت علی ؓ عنہ، حضرت عائشہ ؓ، حضرت ام کرز ؓ، حضرت بریدہ ؓ عنہ، حضرت سمرہ ؓ عنہ، حضرت ابوہریرہ ؓ عنہ، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ عنہ، حضرت انس ؓ عنہ، حضرت سلمان بن عامر ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ۔ اور ملا علی قاری نے یہ لکھا ہے، احتمال ہے کہ لڑکے کے حق میں استحباب کا کم سے کم درجہ ایک بکری ہو اور کمال استحباب دو بکری ہو جس حدیث میں ایک بکری یا ایک منڈھے کا ذکر ہے اس کے بارے میں احتمال ہے کہ یہ حدیث کم سے کم درجہ پا اکتفا کرنے کے جواز کو ظاہر کرنے کے لئے ہو یا یہ کہ یہ حدیث دراصل اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ لازم اور ضروری نہیں ہے کہ لڑکے کے عقیقہ میں جو دو بکری یا جو دو منڈھے ذبح کئے جاتے ہیں، وہ دونوں ساتویں ہی دن ذبح ہوں، لہٰذا ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حسن و حسین ؓ کی طرف سے ایک ایک بکری یا ایک ایک مینڈھا تو ان کی پیدائش کے دن ہی ذبح کردیا ہو اور دوسری بکری یا دوسرے منڈھے کو ساتویں دن ذبح کیا ہو اس تاویل و توضیح کی صورت میں تمام روایتوں کے درمیان مطابقت و یکسانیت پیدا ہوجائے گی اور کوئی اشکال باقی نہیں رہے گا، یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک ہی مینڈھا یا ایک بکری کے ذریعہ عقیقہ کیا اور اس کے ساتھ حضرت علی ؓ یا حضرت فاطمہ ؓ کو حکم فرمایا کہ دوسرا مینڈھا یا دوسری بکری وہ ذبح کردیں، لہٰذا جس روایت میں ایک بکری یا ایک منڈھے کا ذکر ہے اس میں تو گویا آنحضرت ﷺ کی طرف یہ نسبت کہ آپ ﷺ نے ایک بکری یا ایک منڈھے کے ذریعہ عقیقہ کیا حقیقت کے اعتبار سے ہے۔ اور جس روایت میں آپ ﷺ کی طرف دو بکری یا دو دنبے کو ذبح کرنے کی نسبت کی گئی ہے وہ مجاز ہے۔ اس کا سر مونڈو۔ یہ حکم یا تو حقیقۃ تھا کہ فاطمہ ؓ تم اپنے ہاتھ سے اس کا سر مونڈو، یا یہ مطلب تھا کہ کسی دوسرے شخص کو حکم دو کہ اس کا سر مونڈ دے۔ یہ امر ( یعنی آنحضرت ﷺ کی طرف سے سر مونڈنے کا حکم دیا جاتا، استحباب کے طور پر ہے۔ اسی طرح بالوں کو وزن کرنے کا حکم بھی بطریق استحباب کے ہے۔
لڑکے کے عقیقہ میں ایک بکری ذبح کرنے کا مسئلہ
وعن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم عق عن الحسن والحسين كبشا كبشا . رواه أبو داود وعند النسائي : كبشين كبشين
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین ؓ کے عقیقہ میں ایک ایک مینڈھا ذبح کیا۔ ( ابوداؤد، نسائی )
بچے کو عقوق سے بچانے کے لئے اس کا عقیقہ کرو
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن العقيقة فقال : لا يحب الله العقوق كأنه كره الاسم وقال : من ولد له ولد فأحب أن ينسك عنه فلينسك عن الغلام شاتين وعن الجارية شاة . رواه أبو داود والنسائي
اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا رسول کریم ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عقوق کو پسند نہیں کرتا۔ گویا آنحضرت ﷺ نے اس فعل کو لفظ عقیقہ سے موسوم کئے جانے کو ناپسند فرمایا۔ اور پھر فرمایا کہ جس شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہو اس کو چاہئے، کہ وہ اس لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ذبح کرے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔ (ابوداؤد و نسائی)
تشریح
اللہ تعالیٰ عقوق کو پسند نہیں کرتا کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کا لڑکا بڑی عمر میں پہنچ کر والدین کے حق میں عاق نہ ہو یعنی والدین کی نافرمانی کرنے والا نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اس کی چوٹی عمر میں عقیقہ (کا جانور) ذبح کرے، کیونکہ والدین کا عقوق ( یعنی والدین کا اپنے بچے کا عقیقہ نہ کر کے گویا ایک طرح کی نافرمانی کرنا) دراصل لڑکے کے عقوق ( یعنی لڑکے کے نافرمانبردار ہوجانے) کا باعث ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو کسی حالت میں پسند نہیں کرتا۔ اس اعتبار سے حدیث کے الفاظ گویا من ولد لہ ( جس شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہو الخ) کی تمہید کے طور پر ہیں۔ گویا آنحضرت ﷺ نے اس فعل کو لفظ عقیقہ سے موسوم کئے جانے کو ناپسند فرمایا۔ روایت کے یہ الفاظ کسی راوی کے اپنے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے عقیقہ کو عقیقہ کے لفظ سے موسوم کئے جانے کو پسند نہیں فرمایا۔ تاکہ یہ گمان نہ ہو کہ یہ عقیقہ عقوق سے مشتق ہے، جس کے معنی والدین سے سرکشی اور ان کی نافرمانی کرنا ہیں) جب کہ آپ ﷺ نے یہ پسند فرمایا کہ اس کو اس سے بہتر نام جیسے ذبیحہ یا نسی کہ سے موسوم کیا جائے ( نہایہ) لیکن تور پشی نے کہا ہے۔ کہ آنحضرت ﷺ کی طرف اس بات کی نسبت کہ ( گویا آپ ﷺ نے عقیقہ کہے جانے کو ناپسند فرمایا) غیر موزوں ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اپنے کتنے ہی ارشادات میں عقیقہ ہی کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ اگر آپ ﷺ کے نزدیک یہ لفظ ناپسندیدہ ہوتا، تو آپ ﷺ اس کا ذکر کیوں فرماتے، لیکن اس سلسلے میں اگر یہ کہا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا۔ کہ یہ احتمال ہے کہ سوال کرنے والے نے یہ گمان کیا ہو کہ مادہ اشتقاق میں عقیقہ اور عقوق کا مشترک ہونا اس بات کا متقاضی ہے کہ حکم کے اعتبار سے عقیقہ کی زیادہ اہمیت نہ ہو۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے اپنے جواب کے ذریعہ یہ واضح کردیا کہ امر واقعی اس کے خلاف ہے۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے نہایہ کی مذکورہ بالا وضاحت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ جن احادیث میں آنحضرت ﷺ کا عقیقہ کا لفظ ذکر کرنا منقول ہے وہ اس کراہت سے پہلے کی ہوں گی۔
بچے کے کان میں اذان دینا مسنون ہے
وعن أبي رافع قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم أذن في أذن الحسن ابن علي حين ولدته فاطمة بالصلاة . رواه الترمذي وأبو داود . وقال الترمذي : هذا حيث حسن صحيح
اور حضرت ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے حسن بن علی ؓ کے کان میں اذان دی، جب کہ حضرت فاطمہ ؓ کے ہاں ان کی ولادت ہوئی اور وہ اذان نماز کی اذان کی طرح تھی۔ ( ترمذی، ابوداؤد، ) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچہ کی پیدائش کے بعد اس کے کان میں اذان دینا سنت ہے۔ مسند ابولیلی موصلی میں حضرت حسین ؓ نے بطریق مرفوع ( یعنی آنحضرت ﷺ کا ارشاد) نقل کیا ہے کہ جس شخص کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اس کے دائیں کان میں اذان دے اور بائیں کان میں تکبیر کہے، تو اس کو ام الصبیان سے ضرر نہیں پہنچے گا۔ نیز امام نووی کے کتاب الروضہ میں لکھا ہے کہ بچے کے کان میں یہ الفاظ کہنے بھی مستحب ہے۔ آیت (انی اعیذھا بک وذریتھا الشیطن الرجیم)۔