Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,333 hadiths in order · Page 204 of 317

4061Mishkaat-al-Masabih

عقیقہ کا دن

عن بريدة قال : كنا في الجاهلية إذا ولد لأحدنا غلام ذبح شاة ولطخ رأسة بدمه فلما جاء الإسلام كنا نذبح الشاة يوم السابع ونحلق رأسه ونلطخه بزعفران . رواه أبو داود وزاد رزين : ونسميه

حضرت بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ہمارا یہ دستور تھا کہ جب ہم میں سے کسی کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا تو وہ بکری ذبح کرتا اور اس ( بکری) کا خون اس ( لڑکے) کے سر پر لگاتا، لیکن جب اسلام کا زمانہ آیا، تو ہم ( بچے کی پیدائش کے) ساتویں دن بکری ذبح کرتے، اس کا سر مونڈتے اور اس کے سر پر زعفران لگاتے ( ابوداؤد) اور زرین کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ہم ( ساتویں ہی دن) اس کا نام رکھتے۔ تشریح واضح رہے کہ اکثر احادیث کے بموجب بچہ کا عقیقہ اس کی پیدائش کے ساتویں دن ہونا چاہئے اور حضرت امام شافعی وحضرت امام احمد یہ فرماتے ہیں کہ اگر ساتویں دن عقیقہ کرنا ممکن نہ ہو سکے تو پھر چودھویں دن کیا جائے، اگر چودھویں دن بھی نہ کرسکے تو اکیسویں دن، ورنہ اٹھائیسویں دن، پھر پینتیسویں دن علی ہذا القیاس۔ ایک روایت میں یہ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنا عقیقہ ظہور نبوت کے بعد کیا تھا، کیوں کہ آپ ﷺ کو یہ علم نہیں ہوسکا تھا کہ پیدائش کے دن آپ ﷺ کا عقیقہ ہوا تھا یا نہیں۔ لیکن اول تو اس روایت کی اسناد ضعیف ہے، دوسرے معنوی طور پر بھی یہ روایت بعد سے خالی نہیں ہے۔ حضرت امام مالک کے نزدیک عقیقہ کی ہڈیاں توڑنی درست نہیں ( بلکہ گوشت نکال کر ہڈیوں کو دفن کردیا جائے، جب کہ حضرت امام شافعی کے نزدیک اس کی ہڈیاں توڑنا درست ہے۔ نیز شوافع کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اگر عقیقہ کا گوشت پکا کر صدقہ کیا جائے تو بہتر ہے اور اگر حلاوت یعنی لڑکے کے اچھے اخلاق و طوار کے ساتھ تفاول کے پیش نظر اس گوشت کو کوئی میٹھی چیز پکا کر صدقہ کی جائے تو اور بہتر ہے۔

4062Mishkaat-al-Masabih

کھانوں کا بیان

کتاب الاطعمہ کے تحت جو ابواب آئیں گے اور ان میں جو احادیث نقل کی جائیں گی ان سے یہ واضح ہوگا کہ آنحضرت ﷺ نے کیا کیا چیزیں کھائی ہیں اور کون کون سی چیزیں نہیں کھائی ہیں، نیز کھانے پینے کے جو آداب و قواعد ہیں وہ بھی ان احادیث سے معلوم ہوں گے۔

4063Mishkaat-al-Masabih

کھانے کے تین آداب

عن عمر بن أبي سلمة قال : كنت غلاما في حجر رسول الله صلى الله عليه و سلم وكانت يدي تطيش في الصفحة . فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم سم الله وكل يمينك وكل مما يليك

حضرت عمر بن ابی سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور رسول کریم ﷺ کی پرورش و تربیت میں تھا ( ایک دن میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا) اور میرا ہاتھ رکابی میں جلدی جلدی گھوم رہا تھا ( یعنی جیسا کہ بچوں کی عادت ہوتی ہے، میں اپنے سامنے سے کھانے کے بجائے ادھر ادھر ہاتھ ڈال رہا تھا) چناچہ رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ بسم اللہ کہو دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اس جانب سے کھاؤ جو تمہارے نزدیک ہے ( یعنی اپنے سامنے سے کھاؤ۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح اس حدیث میں کھانے کے تین بنیادی آداب کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ سب سے پہلا ادب تو یہ ہے کہ کھانے کی ابتداء بسم اللہ کہہ کر ہونی چاہئے۔ دوسرا ادب یہ ہے کہ دائیں ہاتھ سے کھانا چاہئے اور تیسرا ادب یہ ہے کہ کھانے کے برتن میں اپنے سامنے سے کھانا چاہئے۔ جمہور علماء کا رجحان اس طرف ہے کہ اس حدیث میں مذکورہ بالا تینوں باتوں کا جو حکم دیا گیا ہے، وہ استحباب کے طور پر ہے۔ اسی طرح دوسری روایت میں کھانے کے بعد اللہ کی حمد و شکر کا جو حکم دیا گیا ہے وہ بھی مسئلہ ہے کہ اگر ایک دستر خوان پر کئی آدمی کھانے بیٹھیں تو سب لوگ بسم اللہ کہیں! جب کہ بعض علماء کے نزدیک کہ جن میں حضرت امام شافعی بھی شامل ہیں یہ کہتے ہیں کہ محض ایک آدمی کا بسم اللہ کہہ لینا سب کے لئے کافی ہوجائے گا۔ پانی یا دوا وغیرہ پینے کے وقت بسم اللہ کہنے کا بھی وہی حکم ہے جو کھانے کے شروع میں بسم اللہ کہنے کا ہے۔

4064Mishkaat-al-Masabih

کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنے کی اہمیت

وعن حذيفة قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الشيطان يستحل الطعام أن لا يذكر اسم الله عليه . رواه مسلم

اور حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس کھانے پر اللہ کا نام نہ لیا جائے، اس کو شیطان اپنے لئے حلال سمجھتا ہے۔ ( مسلم ) تشریح حلال سمجھتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ( شیطان) اس کھانے پر قادر ہوجاتا ہے ( یعنی کھانے والے کے ساتھ وہ بھی اس میں سے کھاتا ہے) یہ مطلب اس صورت میں ہے جب کہ حدیث کو اس کے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے اور بعض حضرات نے یہ تاویل بیان کی ہے کہ جو کھانا بسم اللہ پڑھ کر نہ کھایا گیا ہو وہ ایسا ہے گویا اس کو شیطان کھا گیا ہے، یا یہ مراد ہو کہ اس کھانے کو اللہ تعالیٰ کی غیر مرضی کی جگہ صرف کرنا ہے۔

4065Mishkaat-al-Masabih

کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنے کی اہمیت

وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا دخل الرجل بيته فذكر الله عند دخوله وعند طعامه قال الشيطان : لا مبيت لكم ولا عشاء وإذا دخل فلم يذكر الله عند دخوله قال الشيطان : أدركتم المبيت وإذا لم يذكر الله عند طعامه قال : أدركتم المبيت والعشاء . رواه مسلم

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب آدمی اپنے گھر ( یعنی اپنی خواب گاہ) میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے ( یعنی بسم اللہ کہہ کر خواب گاہ میں داخل ہوتا ہے) اور پھر کھانا کھاتے وقت ہی اللہ کا نام لیتا ہے تو شیطان ( اپنے تابعداروں سے کہتا ہے کہ اس گھر میں تمہارے لئے نہ کوئی جگہ ہے نہ کھانا ہے۔ اور جب آدمی گھر و خواب گاہ میں داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان اپنے تابعداروں سے) کہتا ہے کہ ( اس گھر میں) تمہیں جگہ مل گئی اور جب آدمی کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا، تو شیطان ( اپنے تابعداروں سے) کہتا ہے کہ ( اس گھر میں تمہیں جگہ بھی مل گئی اور کھانا بھی مل گیا۔ ( مسلم )

4066Mishkaat-al-Masabih

دائیں ہاتھ سے کھانا پینا چاہئے

وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أكل أحدكم فليأكل بيمينه وإذا شرب فليشرب بيمينه . رواه مسلم

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے، تو داہنے ہاتھ سے کھائے اور جب کوئی چیز پئے، تو دائیں ہاتھ سے پئے یعنی پانی وغیرہ کا برتن داہنے ہاتھ سے پکڑے۔ ( مسلم ) تشریح اس حدیث میں جو حکم دیا گیا ہے وہ بظاہر وجوب کے لئے ہے۔ جیسا کہ بعض علماء کا مسلک ہے اس کی تائید صحیح مسلم کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس کو سلمہ ابن اکوع ؓ نے بیان کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے کھاتے دیکھا تو فرمایا کہ دائیں ہاتھ سے کھاو اس شخص نے کہا کہ میں داہنے ہاتھ سے کھانے کی قدرت نہیں رکھتا ( راوی کا بیان ہے کہ اس شخص کا داہنا ہاتھ درست تھا، اس نے محض تکبر سے یہ الفاظ کہے) آنحضرت ﷺ نے فرمایا ( اللہ کرے) تجھے داہنے ہاتھ سے کھانے کی طاقت نصیب نہ ہو۔ چناچہ اس کے بعد وہ شخص ( کبھی بھی) اپنا داہنا ہاتھ اپنے منہ کی طرف نہیں اٹھا سکا اس طرح طبرانی نے یہ روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ( ایک دن) سلبیہ اسلمیہ کو بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے دیکھا تو اس کے لئے بد دعا فرمائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ طاعون میں مبتلا ہو کر مرگئی! تاہم جمہور علماء جن کے نزدیک دائیں ہاتھ سے کھانا کھانے کا حکم وجوب کے طور پر نہیں ہے بطریق استحباب ہے وہ ان روایتوں کو زجر و تنبیہ اور مصالح شریعت پر محمول کرتے ہیں۔

4067Mishkaat-al-Masabih

بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يأكلن أحدكم بشماله ولا يشربن بها فإن الشيطان يأكل بشماله ويشرب بها . رواه مسلم

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ، تم میں سے کوئی شخص بائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھائے اور نہ بائیں ہاتھ سے ( کوئی چیز) پئے کیوں کہ (یہ شیوہ شیطان کا ہے کہ وہ) اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔ (مسلم ) تشریح تورپشتی نے۔ بائیں ہاتھ سے کھاتا اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جو لوگ شیطان کے زیر اثر اور اس کے تابعدار ہوتے ہیں، وہ ان کو بائیں ہاتھ سے کھانے پینے پر ابھارتا ہے جب کہ طیبی نے کہا ہے کہ یہ حدیث اپنے ظاہری معنی پر محمول ہے یعنی حقیقت میں شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے حسن بن سفیان نے اپنی مسند میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے بسند یہ روایت نقل کی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اس کو چاہئے کہ دائیں ہاتھ سے کھائے اور دائیں ہاتھ سے پئے (اگر کسی کو کوئی چیز دے یا کسی سے کوئی چیز لے تو) دائیں ہاتھ سے لے اور دائیں ہاتھ سے دے کیوں کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے۔ بائیں سے پیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے لیتا دیتا ہے۔

4068Mishkaat-al-Masabih

تین انگلیوں سے کھانا اور انگلیاں چاٹنا سنت ہے

وعن كعب بن مالك قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل بثلاثة أصابع ويلعق يده قبل أن يمسحها . رواه مسلم

اور حضرت کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ تین انگلیوں سے ( یعنی انگوٹھے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کے ساتھ) کھانا کھایا کرتے اور ( کھانے سے فراغت کے بعد) اپنا ہاتھ ( کسی رومال وغیرہ سے) پونچھنے ( یا دھو نے) سے پہلے چاٹ لیا کرتے تھے (مسلم ) تشریح نووی کہتے ہیں کہ انگلیوں سے کھانا سنت ہے لہذا ان تینوں کے ساتھ چوتھی اور پانچویں انگلی نہ ملائی جائے الاّ یہ کہ چوتھی اور پانچویں انگلی کو ملانا ضروی ہو۔ ہاتھ کو چاٹنے سے مراد یہ ہے کہ جن انگلیوں سے کھاتے تھے ان کو چاٹ لیا کرتے تھے چناچہ پہلے بیچ کی انگلی کو چاٹتے پھر اس کے پاس کی انگلی کو پھر انگوٹھے کو چاٹتے تھے۔ طبرانی نے عامر بن ربیعہ سے اس طرح نقل کیا ہے کہ أنحضرت ﷺ تین انگلیوں سے کھاتے تھے اور ان کی مدد کے لئے چوتھی انگلی بھی ملا لیا کرتے تھے! نیز ایک حدیث مرسل میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ پانچ انگلیوں سے کھاتے تھے۔ یا تو یہ پتلی چیز کھانے پر محمول ہے یہ کہ آپ ﷺ بیان جواز کی خاطر کبھی کبھی اس طرح بھی کھاتے تھے، لیکن اکثر اوقات تین ہی انگلیوں سے کھانے کی عادت تھی۔ بعض روایت میں یمسحہا کے بعد بشئی کا لفظ بھی منقول ہے اور یہ الفاظ بھی نقل کئے گئے ہیں کہ ثم یغسلہا یعنی (ہاتھ کو چاٹتے اور) پھر اس کو دھو لیتے۔

4069Mishkaat-al-Masabih

تین انگلیوں سے کھانا اور انگلیاں چاٹنا سنت ہے

وعن جابر : أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بلعق الأصابع والصفحة وقال : إنكم لا تدرون : في أية البركة ؟ . رواه مسلم

اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انگلیوں اور رکابی کو چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ تم نہیں جانتے کہ کس انگلی یا نوالے میں برکت ہے۔ (مسلم) تشریح والصحفحۃ میں حرف واو مطلق جمع کے لئے ہے لہٰذا پہلے رکابی وبرتن وغیرہ کو صاف کیا جائے اور پھر انگلی کو چاٹا جائے۔ لفظ ایۃ تاء تانیث کے ساتھ منقول ہے اس لئے ترجمہ انگلی یا نوالہ کیا گیا ہے۔ لیکن بعض نسخوں میں یہ لفظ ہ ( یعنی مذکر) ضمیر کے ساتھ ہے۔ اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ ( تم نہیں جانتے کہ) کس کھانے میں برکت ہے ( آیا اس کھانے میں جو کھاچکے ہو یا اس کھانے میں جو چاٹو گے) اس کی تائید آگے آنے والی حدیث کے ان الفاظ سے بھی ہوتی ہے۔ کہ فانہ لایدری فی ای طعام تکون البرکتہ اس سے معلوم ہوا کہ اصل میں سنت انگلیوں کو چاٹنا ہے اور اس چیز کو صاف کرنا ہے جو انگلیوں کو لگی ہے نہ کہ محض انگلیوں کو بمبالغہ منہ میں داخل کرنا۔

4070Mishkaat-al-Masabih

تین انگلیوں سے کھانا اور انگلیاں چاٹنا سنت ہے

وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : إذا أكل أحدكم فلا يمسح يده حتى يلعقها أو يلعقها

اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم سے کوئی شخص کھانا کھاچکے تو وہ ہاتھ کو اس وقت تک (کسی چیز سے) نہ پونچھے (اور نہ دھوئے) جب تک کہ ہاتھ کی انگلیوں کو چاٹ نہ لے یا چٹوا نہ دے۔ (بخاری ومسلم) تشریح چٹوا نہ دے کا مطلب یہ ہے کہ اگر انگلیوں کو خود نہ چاٹے تو ان لوگوں میں کسی کو چٹوا دے جو اس سے گھن اور کراہت محسوس نہ کریں جیسے بیوی، بچے، لونڈی اور خادم و غلام وغیرہ کیونکہ ان کو اپنے طبعی تعلق و محبت کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ اس سے کوئی گھن اور کراہت محسوس نہیں ہوتی، بلکہ ایک خاص قسم کی لذت محسوسس کرتے ہیں، انہیں کے حکم میں شاگرد اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس کو حصول سعادت سمجھتے ہوں۔

4071Mishkaat-al-Masabih

کھاتے وقت کوئی لقمہ گر جائے تو اس کو صاف کر کے کھا لینا چاہئے

وعن جابر قال : النبي صلى الله عليه وسلم يقول : إن الشيطان يحضر أحدكم عند كل شيء من شأنه حتى يحضره عند طعامه فإذا سقطت من أحدكم لقمة فليمط ما كان بها من أذى ثم ليأكلها ولا يدعها للشيطان فإذا فرع فليلعق أصاب فانه لا يدري : في أي طعامه يكون البركة ؟ . رواه مسلم

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ شیطان تمہارے ہر کام کے وقت تمہارے پاس موجود ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ تمہارے کھانے کے وقت بھی تمہارے پاس موجود رہتا ہے، لہٰذا تم میں سے جب کسی شخص کا کوئی نوالہ گرجائے تو چاہئے کہ ( اس کو اٹھا لے اور از قسم مٹی وغیرہ) جو چیز اس کو لگ گئی ہو اس کو صاف کر کے کھالے، اس کو شیطان کے لئے نہ چھوڑے، نیز جب کھانا کھاچکے تو چاہئے کہ اپنی انگلیاں چاٹ لیں کیونکہ اس کو یہ نہیں معلوم کہ اس کے کون سے کھانے میں (یعنی کھانے کے کس حصہ میں) برکت ہے۔ (مسلم) تشریح اس کو صاف کر کے کھالے لیکن اگر وہ لقمہ کسی نجاست و گندگی پر گرا ہو تو اس کو دھو کر کھائے، بشرطیکہ اس کو دھونا ممکن ہو، یا طبیعت اس پر آمادہ ہو اور اگر یہ ممکن نہ ہو، تو پھر اس کو کتے یا بلی وغیرہ کو کھلا دے۔ اس کو شیطان کے لئے نہ چھوڑے یہ یا تو حقیقت پر محمول ہے کہ وہ واقعۃ کھاتا ہے، یا یہ کنایہ ہے اس لقمہ کو ضائع کرنے اور اس کو حقیر جاننے سے، نیز اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ ایسا کرنا (یعنی اس گرئے ہوئے لقمہ کو حقیر و کمتر جان کر نہ اٹھانا) دراصل متکبر لوگوں کی مشابہت اور ان کی عادت کو اختیار کرنا کیونکہ وہ (متکبر لوگ) گرے ہوئے لقمہ کو اٹھا کر کھانا عار سمجھتے ہیں اور یہ ساری چیزیں (یعنی اس لقمہ کو ضائع کرنا اور اس کو حقیر جاننا اور اس متکبر لوگوں کی عادت اختیار کرنا) شیطانی افعال میں سے ہیں۔ نیز جب کھانا کھاچکے تو الخ یہ اگرچہ ایک علیحدہ حکم ہے۔ مگر حقیقت میں پہلے حکم سے حاصل ہونے والے مفہوم تکبر کو ترک کرنے اور تواضع و انکساری کو اختیار کرنے کو مؤ کد کرنے کے لئے ہے کہ کھانا کھا چکنے کے بعد ہاتھ کو دھونے سے پہلے انگلیوں کو چاٹ لیا جائے تاکہ اللہ کے رزق کے تئیں اپنے کامل احتیاج اور تواضع و انکساری کا اظہار ہو اور تکبر و نخوت کا کوئی شائبہ نہ پایا جائے۔

4072Mishkaat-al-Masabih

ٹیک لگا کر کھانا کھانے کی ممانعت

وعن أبي جحيفة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا آكل متكئا . رواه البخاري

اور حضرت ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھاتا۔ (بخاری) تشریح سفر السعادت کے مصنف نے لکھا ہے کہ کھانا کھاتے وقت ٹیک لگانے کی تین صورتیں ہیں، ایک تو یہ کہ پہلو زمین پر رکھا جائے، دوسرے یہ کہ چار زانو بیٹھا جائے اور تیسرا یہ کہ ایک ہاتھ ٹیک کر بیٹھا جائے اور دوسرے ہاتھ سے کھانا کھایا جائے، یہ تینوں صورتیں مذموم ہیں اور بعض حضرات نے چوتھی صورت یہ بیان کی ہے کہ تکیہ یا دیوار اور اسی طرح کی کسی اور چیز سے ٹیک لگا کر بیٹھا جائے! مسنون یہ ہے کہ کھاتے وقت کھانے کی طرف جھک کر اور متوجہ ہو کر بیٹھا جائے اور اکثر حضرات نے ٹیک لگانے کی وضاحت یہ کی ہے کہ دونوں پہلوؤں میں سے کسی ایک پہلو کی طرف جھک کر اور اس پر سہارا لے کر بیٹھا جائے۔ کھاتے وقت بیٹھنے کی یہ صورت اس لئے غیر مسنون ہے کہ ایسی حالت میں کھانا ضرر پہنچاتا ہے بایں طور کہ وہ بدن میں اپنی جگہ پر ٹھیک طرح سے نہیں پہنچتا، جو طبیعت پر گراں ہو کر سؤ ہضم کی شکایت پیدا کرتا ہے۔ سیوطی نے کتاب عمل الیوم واللیلۃ میں لکھا ہے کہ ٹیک لگا کر، منہ کے بل پڑ کر اور کھڑے ہو کر کھانا نہ کھایا جائے۔ بلکہ اس طرح بیٹھ کر کھائے کہ یا تو دو زانو ہو یا بصورت اقعاء ہو یعنی دونوں کو ل ہے ٹیک لے اور دونوں زانو کھڑے کرلے یا دونوں پاؤں پر بیٹھے اکڑوں اور یا داہنا زانو کھڑا کرلے اور بائیں زانو پر بیٹھ جائے۔

4073Mishkaat-al-Masabih

منبر وچوکی پر کھانا رکھ کر کھانے کا مسئلہ

وعن قتادة عن أنس قال : ما أكل النبي صلى الله عليه وسلم على خوان ولا في سكرجة ولا خبز له مرقق قيل لقتادة : على م يأكلون ؟ قال : على السفر . رواه البخاري

اور حضرت قتادہ ؓ عنہ، حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی خوان پر کھانا نہیں کھایا اور نہ طشتری میں کھایا اور نہ آپ ﷺ کے لئے چپاتی پکائی گئی! حضرت قتادہ ؓ سے پوچھا گیا کہ وہ کس چیز پر کھانا کھاتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ دسترخوان پر۔ (بخاری) تشریح خوان یا خوان کے معنی دسترخوان کے ہیں، لیکن خوان سے مراد چوکی یا میز ہے جس پر کھانا رکھ کر کھایا جائے تاکہ کھانے میں جھکنا نہ پڑے چناچہ یہ مال دار عیش پسند متکبر اور غیر اسلامی تہذیب کے حامل لوگوں کا شیوہ ہے کہ وہ میز پر یا چوکی پر کھانا رکھ کر کھاتے ہیں اسی لئے أنحضرت ﷺ نے کبھی بھی اس طریقہ سے کھانا پسند نہیں فرمایا۔ سکرجۃ یا جیسا کہ بعض حضرات نے سکرجۃ کو زیادہ فصیح کہا ہے کے معنی چھوٹی پیالی یا طشتری کے ہیں جس میں دستر خوان پر چٹنی اچار اور جوارش و مربہ وغیرہ رکھا جاتا ہے اس غرض سے کہ کھانے کے ساتھ اس کو کھاتے جائیں تاکہ بھوک بڑھے کھانے کی طرف رغبت زیادہ ہو اور جو کچھ کھایا جائے ہضم ہو، چناچہ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دسترخوان پر کوئی طشتری یا پیالی نہیں ہوتی تھی جیسا کہ عام طور پر مال دار، عیش پسند اور متکبر لوگوں کے دسترخوان پر ایسی تشتریاں رکھنے کا رواج ہے۔ اور نہ آپ ﷺ کے لئے چپاتی پکائی گئی۔ کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو کبھی خاص طور پر آپ ﷺ کے لئے چپاتی پکائی گئی اور نہ کبھی آپ ﷺ نے چپاتی کھائی، خواہ آپ ﷺ کے لئے پکائی گئی ہو یا دوسروں کے لئے پکائی گئی ہو، جیسا کہ دوسری حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے کبھی بھی چپاتی نہیں کھائی! حضرت شیخ عبد الحق نے کتاب میں اس موقع پر جو قول نقل کیا ہے اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ خاص طور پر آنحضرت ﷺ کے لئے چپاتی نہیں پکائی جاتی تھی لیکن کوئی شخص اپنے چپاتی پکاتا یا پکواتا اور پھر وہ چپاتی آپ ﷺ کے سامنے لاتا تو آپ ﷺ تناول فرما لیتے تھے۔ اس کو کھانے میں سے انکار نہیں فرماتے تھے! مگر یہ آگے آنے والی حدیث کے منافی ہے، جو حضرت انس ؓ نے بیان کی ہے۔ حدیث میں چپاتی کے علاوہ دو چیزوں کی نفی کے بیان کی گئی ہے، ایک تو خوان پر کھانے کی اور دوسری طشتری میں کھانے کی، ان دونوں میں سے طشتری میں کھانے کی نفی کے بیان کے وقت کسی سوال کا کوئی موقع نہ تھا کیوں کہ اس کی نفی مطلق ہے جب کہ خوان پر کھانے کی نفی کے بیان کے وقت سوال کا موقع تھا کہ پھر کھانا کس چیز پر رکھ کر کھاتے تھے آیا خوان کے علاوہ کوئی اور چیز تھی جس پر کھانا رکھا جاتا تھا یا کوئی بھی چیز نہیں ہوتی تھی، چناچہ یہ سوال کیا گیا اور حضرت قتادہ ؓ نے جواب دیا کہ دسترخوان پر۔ چناچہ مسنون طریقہ یہی ہے کہ کھانے والا جہاں بھی بیٹھے وہاں دسترخوان بچھا کر اس پر کھانا رکھ کر کھائے۔ وہ کس چیز پر کھانا کھاتے تھے سے سائل کی مراد صحابہ کے بارے میں معلوم کرنا تھا کیونکہ صحابہ اصل میں آنحضرت ﷺ کی سنت ہی کے پیرو اور آپ ﷺ کے طریقہ پر عامل تھے اس لئے صحابہ کے بارے میں سوال کرنا حقیقت میں آنحضرت ﷺ کے بارے میں سوال کرنا تھا، یا یہ بھی صحیح ہے کہ یاکلون کی ضمیر آنحضرت ﷺ اور صحابہ دونوں کی طرف راجع کی جائے۔ روایت کے آخری جز سے ثابت ہوا کہ دسترخوان پر کھانا رکھ کر کھانا سنت ہے اور خالص اسلامی تہذیب ہے، جب کہ خوان (یعنی میز یا چوکی وغیرہ پر) رکھ کر کھانا بدعت اور تکلفات محض میں سے ہے، ہاں اگر میز و چوکی پر کھانے کی صورت میں کسی تکبر و نخوت کی نیت کار فرما نہ ہو، تو پھر مجبوری کے تحت میز و چوکی پر کھانا رکھ کر کھانا بھی جائز ہوگا۔

4074Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ نے کبھی چپاتی دیکھی بھی نہیں

وعن أنس قال : ما أعلم النبي صلى الله عليه وسلم رأى رغيفا مرققا حتى لحق بالله ولا رأى شاة سميطا بعينه قط . رواه البخاري

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی پتلی روٹی یعنی چپاتی دیکھی ہو، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اللہ سے ملاقات کی (یعنی آپ ﷺ اپنی پوری زندگی میں کبھی چپاتی کی صورت بھی نہیں دیکھی چہ جائیکہ کبھی چپاتی کھائی ہو) اسی طرح آپ ﷺ نے دم پخت بکری بھی کبھی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی۔ (بخاری) تشریح سمیط اس بکری یا بکری کے بچے کو کہتے ہیں جس کو بال صاف کرنے کے بعد چمڑے سمیت پانی کی بھاپ کے ذریعہ بھونا یا پکایا گیا ہو۔ یہ اس زمانہ میں اہل چین کا خاص کھانا تھا جو اپنے دور میں انتہائی متمول و متمدن اور عیش پرست تھے، اسی لئے خاص طور پر اس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے لفظ بعینہ محض تاکید کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کتب بیدہ ( اس نے اپنے ہاتھ سے لکھا) یا مشی برجلہ (وہ اپنے پیروں کے ذریعہ چلا )

4075Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ نے میدہ کی تیار کی ہوئی کوئی چیز نہیں کھائی

وعن سهل بن سعد قال : ما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم النقي من حين ابتعثه الله حتى قبضه الله وقال : ما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم منخلا من حين ابتعثه الله حتى قبضه قيل : كيف كنتم تأكلون الشعير غير منخول ؟ قال : كنا نطحنه وننفخه فيطير ما طار وما بقي ثريناه فأكلناه . رواه البخاري

اور حضرت سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے جب رسول بنایا آپ ﷺ نے اس وقت سے کبھی میدہ کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی روح قبض کی، نیز حضرت سہل ؓ نے کہا کہ رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے جب سے رسول بنایا آپ ﷺ نے اس وقت سے کبھی چھلنی کو نہیں دیکھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کی (یعنی آنحضرت ﷺ مرتبہ رسالت پر فائز ہونے کے وقت اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک میدہ کی تیار کی ہوئی کوئی چیز یا چھلنی کے چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کیا کھاتے کہ کبھی آپ ﷺ نے ان چیزوں کی صورت بھی نہیں دیکھی) حضرت سہیل سے پوچھا گیا پھر آپ لوگ جو (کے بغیر چھنے آٹے کی روٹی) کس طرح کھاتے تھے؟ حضرت سہیل ؓ نے کہا کہ ہم جو کو پیسنے کے بعد اس میں پھونک مارتے، چناچہ اس میں سے جو چیز اڑنے والی ہوتی (یعنی بھوسی) وہ اڑ جاتی اور جو چیز باقی رہتی (یعنی آٹا) اس کو ہم پانی میں گوندھ لیتے، (اور پھر اس کی روٹی پکا کر) کھالیتے۔ ( بخاری) تشریح اللہ تعالیٰ نے جب سے رسول بنایا آپ ﷺ اس وقت سے۔۔۔۔۔ الخ۔ عسقلانی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ حضرت سہل ؓ نے ان الفاظ کے ذریعہ اس زمانہ کو ذکر کرنے سے احتراز کیا ہے، جو مرتبہ رسالت پر فائز ہونے سے پہلے گزرا تھا اور اس احتراز کا سبب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جو دو مرتبہ ملک شام کا تجارتی سفر اختیار فرمایا تھا وہ بعثت رسالت کے قبل کے زمانہ ہی کا واقعہ ہے اور اس سفر کے دوران بحیرہ راہب نے آپ ﷺ کی میزبانی کا شرف حاصل کیا اور آپ ﷺ نے اس کے یہاں دعوت کھائی اور چونکہ وہاں کے لوگ خوش حال و مالدار تھے اس لئے بظاہر یہ امکان ہے کہ آپ ﷺ نے ان کے یہاں چیزیں ضرور دیکھی ہوں گی، لیکن آپ ﷺ نے بعثت رسالت کے بعد سے اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک جو زمانہ گذارا وہ تنگی معاش اور اقتصادی زبوں حالی کے لئے مشہور و معروف ہے ظاہر ہے کہ اس میں ایسی چیزوں کا کیا ذکر تھا۔ یہ حدیث دراصل آنحضرت ﷺ کی سادہ طبیعت اور بےتکلف زندگی کی واضح غماز ہے کہ آپ ﷺ کو اپنے کھانے پینے کا اتنا اہتمام بھی عزیز نہیں تھا، جتنا مالی طور پر ایک معمولی حیثیت کے انسان کے یہاں بھی ہوتا ہے اور یہی وہ بنیادی سبق ہے جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کی طرف متوجہ رہنا محض مقصد آشنا، بیوقوف اور غافل لوگوں کا شیوہ زندگی ہے۔

4076Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کسی کھانے کو برا نہیں کہتے تھے

وعن أبي هريرة قال : ما عاب النبي صلى الله عليه وسلم طعاما قط إن اشتهاه أكله وإن كرهه تركه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے کبھی بھی کسی کھانے کو برا نہیں کہا اگر آپ ﷺ کو رغبت ہوتی تو اس کو کھالیتے اور اگر ناپسند فرماتے تو اس کو چھوڑ دیتے۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ کھانے کی چیزوں کے سلسلہ میں آپ ﷺ کا یہ معمول تھا جو چیز آپ ﷺ کی پسندیدہ ہوتی، اس کو آپ ﷺ رغبت کے ساتھ کھالیتے اور جو چیز آپ ﷺ کو مرغوب و پسندیدہ نہ ہوتی تھی، اس کو نہیں کھاتے تھے، یہ نہیں تھا کہ جو چیز پسندیدہ نہ ہوتی اس کو برا کہتے اس میں عیب نکالتے۔

4077Mishkaat-al-Masabih

مؤمن ایک آنت سے اور کافر سات آنتوں سے کھاتا ہے

وعنه أن رجلا كان يأكل أكلا كثيرا فأسلم فكان يأكل قليلا فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال : إن المؤمن يأكل في معى واحد والكافر يأكل في سبعة أمعاء . رواه البخاري عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضافه ضيف وهو كافر فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بشاة فحلبت فشرب حلابها ثم أخرى فشربه ثم أخرى فشربه حتى شرب حلاب سبع شياه ثم إنه أصبح فأسلم فأمر له رسول الله صلى الله عليه وسلم بشاة فحلبت فشرب حلابها ثم أمر بأخرى فلم يستتمها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : المؤمن يشرب في معى واحد والكافر يشرب في سبعة أمعاء

اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص تھا، جو (پہلے تو) بہت زیادہ کھایا کرتا تھا، مگر جب مسلمان ہوا تو کم کھانے لگا، چناچہ نبی کریم ﷺ کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ مؤمن تو ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ( بخاری) اور مسلم نے اس روایت کو حضرت ابوموسی اور حضرت ابن عمر ؓ سے نقل کیا ہے جس میں (یہ واقعہ مذکور نہیں ہے بلکہ) محض آنحضرت ﷺ کا ارشاد مذکور ہے، لیکن مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک اور روایت نقل کی ہے جس میں یوں ہے کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ کے ہاں ایک مہمان آیا جو کافر تھا، رسول کریم ﷺ نے اس کے لئے ایک بکری دوہنے کا حکم دیا، بکری دوہی گئی اور اس کافر نے اس دودھ کو پی لیا، پھر آپ ﷺ کے حکم سے دوسری بکری دوہی گئی، وہ اس دودھ کو بھی پی گیا، پھر جب صبح ہوئی تو وہ مسلمان ہوگیا، رسول کریم ﷺ نے (اس وقت بھی) اس کے لئے ایک بکری دوہنے کا حکم دیا۔ بکری دوہی گئی اور اس نے اس کا دودھ پی لیا پھر آپ ﷺ نے دوسری بکری دوہنے کا حکم دیا (بکری دوہی گئی) لیکن (اب) وہ اس کا پورا دودھ نہ پی سکا، رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ مؤمن ایک آنت میں میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں۔ تشریح کہا جاتا ہے کہ انسان کے پیٹ میں آنتیں ہوتی ہیں لیکن اس سے قطع نظر یہاں ایک آنت اور سات آنت سے مراد قلب حرص اور کثرت حرص ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کھانے پینے میں کم حرص رکھتا ہے اور کافر زیادہ حرص رکھتا ہے اور یہ بات اکثر و اغلب کے اعتبار سے ہے یا اس مخصوص شخص کی حالت بیان کرنا مراد ہے، جس کا روایت میں ذکر کیا گیا ہے کہ وہ جب مسلمان ہوا تو کم کھانے لگا، لیکن جب کافر تھا تو زیادہ کھاتا، یا کامل الایمان مؤمن مراد ہے، کہ وہ ذکر الہٰی کی برکت اور نور و معرفت ایمان کے سبب ہمہ وقت سیر رہتا ہے کہ اس کو نہ کھانے پینے کی حرص ہوتی ہے اور نہ کھانے پینے کے اہتمام کی طرف رغبت، اس کے برعکس کافر کا حال دوسرا ہوتا ہے! درحقیت اس حدیث میں یہ تنبیہ ہے کہ مؤمن کی شان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ صبر و قناعت کو لازم جانے، زہد و ریاضت کی راہ کو اختیار کرے، خوردونوش کی اسی حد پر اکتفا کرے جو زندگی کی بقاء کے لئے ضروری ہو اور معدے کو اتنا خالی رکھے۔ جو نورانیت دل، صفائی باطن اور شب بیداری وغیرہ کے لئے ممد و معاون ہو۔ منقول ہے کہ ایک مرتبہ ایک فقیر حضرت عمر فاروق ؓ کے پاس آیا اور بہت زیادہ کھا کر اٹھا، حضرت عمر ؓ نے جب اس کو اتنا زیادہ کھاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کے آئندہ اس کو میرے پاس نہ آنے دیا جائے، علماء نے اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ جب اس فقیر نے اس قدر غیر معمولی طور پر کھایا تو گویا وہ کفار کے مشابہ ہوا اور جو شخص کافروں کی مشابہت اختیار کرے اس سے ملنا جلنا ترک کردینا چاہئے، واضح رہے کہ کم کھانے کی عادت اختیار کرنا، عقلاء باہمت اور اہل حقیقت کے نزدیک مستحسن و محمود ہے اور اس کے برعکس مذموم ہے، لیکن وہ بھوک جو حد افراط کو پہنچ جائے، ضعف بدن اور قوائے جسمانی کے اختلال کا باعث ہو اور جس کی وجہ سے دین و دنیا کے امور کی انجام دہی میں رکاوٹ پیدا ہو، وہ ممنوع اور طریقہ حکمت کے منافی ہے۔

4078Mishkaat-al-Masabih

تھوڑے کھانے میں بھی دوسروں کو شریک کرلینا بہتر ہے

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : طعام الاثنين كافي الثلاثة وطعام الثلاثة كافي الأربعة

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کو اور تین کا کھانا چار کو کافی ہوتا ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو کھانا دو آدمیوں کو سیر کردیتا ہے وہ تین آدمیوں کو بھی سیر کردیتا ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس کھانے کو دو آدمی سیر ہو کر کھاتے ہیں۔ وہ تین آدمیوں کے لئے بطور قناعت کافی ہوجاتا ہے کہ وہ تینوں کی بھوک ختم کردیتا ہے ان کو عبادت وطاعت کی طاقت و قوت عطا کردیتا ہے اور ان کے ضعف کو دور کردیتا ہے اس پر مابعد کی عبارت تین آدمیوں کا کھانا چار کو کافی ہوتا ہے کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے، اصل میں حدیث کی غرض اس طرف متوجہ کرنا ہے کہ اگر تمہیں اتنا کھانا میسر ہو جو تمہارا پیٹ پوری طرح بھر سکتا ہے تو اس کو محض اپنے پیٹ بھر نے میں صرف نہ کرو بلکہ درجہ قناعت اختیار کر کے اس میں سے اتنا ہی کھاؤ جو تمہاری غذائی ضرورت کے بقدر ہو، جو تمہاری ضرورت واقعی سے زائد ہو، اس کو کسی دوسرے محتاج کو کھلا دو۔

4079Mishkaat-al-Masabih

تھوڑے کھانے میں بھی دوسروں کو شریک کرلینا بہتر ہے

وعن جابر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : طعام الواحد يكفي الاثنين وطعام الاثنين يكفي الأربعة وطعام الأربعة يكفي الثمانية . رواه مسلم

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو دو کا کھانا چار کو اور چار کا کھانا آٹھ کو کافی ہوتا ہے۔ (مسلم) تشریح اس حدیث میں بھی وہی تاویل ہوگی جو اوپر بیان ہوئی لیکن اوپر کی حدیث میں ثلث و ربع کے حساب سے فرمایا گیا ہے۔ (کہ ایک کا کھانا دو کو اور دو کا تین آدمیوں کو کافی ہوتا ہے) اس حدیث میں بطریق تضاعف (دگنے کے حساب سے) فرمایا گیا ہے (کہ ایک کا کھانا دو کو اور دو کا چار کو کافی ہوتا ہے) یہ اختلاف اشخاص و احوال کے تفاوت کے سبب سے ہے کہ جس جذبہ قناعت اور ایثار کی صورت میں دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کے لئے ہوتا ہے، بعض حالات اور بعض آدمیوں کی صورت میں وہی جذبہ قناعت و ایثار کچھ اور بڑھ کردو آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کے لئے بھی کافی قرار دے دیتا ہے۔ منقول ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک مرتبہ قحط سالی کے دنوں میں فرمایا کہ میرا ارادہ ہے کہ میں ہر گھر والوں کے پاس ان کی تعداد کے بقدر آدمی بھیج دوں، کیونکہ آدمی آدھا پیٹ کھانے سے ہلاک نہیں (حضرت عمر ؓ کا مطلب یہ تھا کہ اس قحط کے زمانہ میں بھی کچھ لوگوں کو اسباب معیشت میسر ہیں اور وہ دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہیں، جب کہ کتنے ہی بندگان اللہ ایسے ہیں جنہیں بقاء زندگی کے بقدر بھی خوارک میسر نہیں ہے میں چاہتا ہوں کہ جن گھروں کو اللہ نے پیٹ بھر کھانے کے بقدر رکھا ہے ان میں سے ہر گھر کے ذمہ اتنے محتاج نادار لوگوں کا کھانا کر دوں، جتنے خود گھر والے ہیں، مثلا جس گھر میں پانچ آدمی ہیں، اس گھر کے ذمہ پانچ ہی ناداروں کا کھانا کر دوں کہ وہ اپنے اتنے ہی کھانے میں کہ جو وہ تیار کرتے ہیں، ان پانچوں ناداروں کو بھی شریک کرلیں، اس طرح وہ اپنا آدھا پیٹ کاٹ کر ان ناداروں کی زندگی کی بقاء کا ذریعہ بن جائیں گے جن کو کچھ بھی کھانے کے لئے میسر نہیں تھا اور ظاہر ہے کہ آدھا پیٹ بھرنے سے جسم کی توانائی میں کچھ کمی بیشک آجائے مگر اس کی وجہ سے آدمی ہلاک نہیں ہوتا۔ بہرحال ان احادیث و روایات کا اصل مقصد غرباء کی خبر گیری اور اپنی تئیں ایثار و قناعت کو اختیار کرنے کی طرف راغب کرنا ہے اور اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یہ نفس امارہ کا تقاضا تو ہوسکتا ہے کہ جو کچھ بھی میسر ہو وہ اپنے پیٹ میں ڈال لیا جائے لیکن انسانیت کا تقاضا یہی ہے کہ اللہ نے تمہیں جو کچھ دیا ہے کہ اس میں ان لوگوں کو بھی شریک کرو، جنہیں کچھ بھی میسر نہیں ہوسکا ہے۔

4080Mishkaat-al-Masabih

تلبینہ بیمار کے لئے بہترین چیز ہے

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : التلبينة مجمة لفؤاد المريض تذهب ببعض الحزن

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تلبینہ بیمار کے دل کو تسکین و قوت دیتا ہے اور بعض غموں کو دور کرتا ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح تلبینہ اس حریرے کو کہتے ہیں، جو آٹے اور دو دھ سے بنایا جاتا ہے کبھی اس میں شہد بھی ملا دیتے ہیں، چونکہ اس حریرہ کا خاص جز دودھ ہوتا ہے اور دودھ کی طرح سفید بھی ہوتا ہے اس لئے اس کو تلبینہ کہتے ہیں لبن (دودھ) سے مشتق ہے۔