Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,333 hadiths in order · Page 202 of 317

4021Mishkaat-al-Masabih

سانپ کو مار ڈالنے کا حکم

وعن أبي السائب قال : دخلنا على أبي سعيد الخدري فبينما نحن جلوس إذ سمعنا تحت سريره فنظرنا فإذا فيه حية فوثبت لأقتلها وأبو سعيد يصلي فأشار إلي أن أجلس فجلست فلما انصرف أشار إلى بيت في الدار فقال : أترى هذا البيت ؟ فقلت : نعم فقال : كان فيه فتى منا حديث عهد بعرس قال : فخرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الخندق فكان ذلك الفتى يستأذن رسول الله صلى الله عليه و سلم بأنصاف النهار فيرجع إلى أهله فاستأذنه يوما فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : خذ عليك سلاحك فإني أخشى عليك قريظة . فأخذ الرجل سلاحه ثم رجع فإذا امرأته بين البابين قائمة فأهوى إليها بالرمح ليطعنها به وأصابته غيرة فقالت له : اكفف عليك رمحك وادخل البيت حتى تنظر ما الذي أخرجني فدخل فإذا بحية عظيمة منطوية على الفراش فأهوى إليها بالرمح فانتظمها به ثم خرج فركزه في الدار فاضطربت عليه فما يدري أيهما كان أسرع موتا : الحية أم الفتى ؟ قال : فجئنا رسول الله صلى الله عليه و سلم وذكرنا ذلك له وقلنا : ادع الله يحييه لنا فقال : استغفروا لصاحبكم ثم قال : إن لهذه البيوت عوامر فإذا رأيتم منها شيئا فحرجوا عليها ثلاثا فإن ذهب وإلا فاقتلوه فإنه كافر . وقال لهم : اذهبوا فادفنوا صاحبكم وفي رواية قال : إن بالمدينة جنا قد أسلموا فإذا رأيتم منهم شيئا فآذنوه ثلاثة أيام فإن بدا لكم بعد ذلك فاقتلوه فإنما هو شيطان . رواه مسلم

اور حضرت سائب ( جو حضرت ہشام ابن زہرہ کے ازاد کردہ غلام تھے اور تابعی ہیں) کہتے ہیں کہ ( ایک دن) ہم حضرت ابوسعید خدری ؓ کے پاس ان کے گھر گئے، چناچہ جب کہ ہم وہاں بیٹھے ہوئے تھے اچانک ہم نے ان ( ابوسعید) کے تخت کے نیچے ایک سرسراہٹ سنی ہم نے دیکھا تو وہاں ایک سانپ تھا، میں اس کو مارنے کے لئے جھپٹا، مگر حضرت ابوسعید ؓ نماز پڑھ چکے تو انہوں نے مکان کے ایک کمرے کی طرف اشارہ کر کے پوچھا کہ کیا تم نے اس کمرے کو دیکھا ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں! پھر حضرت ابوسعید ؓ نے کہا کہ اس کمرے میں ہمارے خاندان کا ایک نوجوان رہا کرتا تھا جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ حضرت ابوسعید نے کہا کہ ہم سب لوگ ( یعنی وہ نوجوان بھی) رسول کریم ﷺ کے ہمراہ غزوہ خندق میں گئے، ( جس کا محاذ مدینہ کے مضافات میں قائم کیا گیا تھا) ( روزانہ) دوپہر کے وقت رسول کریم ﷺ سے ( گھر جانے کی) اجازت مانگ لیا کرتا تھا ( کیونکہ دلہن کی محبت اس کو اس پر مجبور کرتی تھی) چناچہ ( اجازت ملنے پر) وہ اپنے اہل خانہ کے پاس چلا جاتا ( اور رات گھر میں گزار کر صبح کے وقت پھر مجاہدین میں شامل ہوجاتا) ایک دن حسب معمول، اس نے رسول کریم ﷺ سے اجازت طلب کی تو آنحضرت ﷺ نے ( اس کو اجازت دیتے ہوئے) فرمایا کہ اپنے ہتھیار اپنے ساتھ رکھو، کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں بنو قریظہ تم پر حملہ نہ کردیں ( بنو قریظہ مدینہ میں یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا جو اس موقع پر قریش مکہ کا حلیف بن کر مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک تھا اس نوجوان نے ہتھیار لے لئے اور ( اپنے گھر کو) روانہ ہوگیا) جب وہ اپنے گھر کے سامنے پہنچا تو) کیا دیکھتا ہے کہ اس کی بیوی ( گھر کے) دونوں دروازوں ( یعنی اندر اور باہر کے دروازے) کے درمیان کھڑی ہے، نوجوان نے عورت کو مار ڈالنے کے لئے اس کی طرف نیزہ اٹھایا کیونکہ ( یہ دیکھ کر کہ اس کی بیوی باہر کھڑی ہے) اس کو بڑی غیرت آئی لیکن عورت نے ( جبھی) اس سے کہا کہ اپنے نیزے کو اپنے پاس روک لو اور ذرا گھر میں جا کر دیکھو کہ کیا چیز میرے باہر نکلنے کا سبب ہوئی ہے۔ ( یہ سن کر) وہ نوجوان گھر میں داخل ہوا، وہاں یکبارگی اس کی نظر ایک بڑے سانپ پر پڑی جو بستر پر کنڈلی مارے پڑا تھا۔ نوجوان نیزہ لے کر سانپ پر جھپٹا اور اس کو نیزہ میں پرو لیا پھر اندر سے نکل کر باہر آیا اور نیزے کو گھر کے صحن میں گاڑ دیا، سانپ نے تڑپ کر نوجوان پر حملہ کیا، پھر یہ معلوم نہ ہوسکا کہ دونوں میں سے پہلے کون مرا، سانپ یا نوجوان؟ ( یعنی وہ دونوں اس طرح ساتھ مرے کہ یہ بھی پتہ نہ چل سکا کہ پہلے کس کی موت واقع ہوئی )۔ حضرت ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد ہم رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کے سامنے یہ ماجرا بیان کر کے عرض کیا کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ اس نوجوان کو ہمارے لئے زندہ کر دے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اپنے ساتھی اور رفیق کے لئے مغفرت طلب کرو۔ اور پھر فرمایا کہ۔ ( مدینہ کے ان گھروں میں عوامر یعنی جنات رہتے ہیں ( جن میں مؤمن بھی ہیں اور کافر بھی) لہٰذا جب تم ان میں سے کسی کو ( سانپ کی صورت میں) دیکھو تو تین بار یا تین دن اس پر تنگی اختیار کرو پھر اگر وہ چلا جائے تو فبہا ورنہ اس کو مار ڈالو کیونکہ ( اس صورت میں یہی سمجھا جائے گا کہ) وہ ( جنات میں کا) کافر ہے۔ پھر آپ ﷺ نے انصار سے فرمایا کہ۔ جاؤ اپنے ساتھی کی تکفین و تدفین کرو۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ مدینہ میں ( کچھ) جن ہیں ( اور ان میں وہ بھی ہیں) جو مسلمان ہوگئے ہیں ان میں سے جب تم کسی کو ( سانپ کی صورت میں) دیکھو تو تین دن اس کو خببردار کرو، پھر تین دن کے بعد بھی اگر وہ دکھائی دے تو اس کو مار ڈالو کہ وہ شیطان ہے۔ ( مسلم ) تشریح آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے۔ علماء نے لکھا ہے کہ صحابہ کی یہ روش نہیں تھی کہ وہ اس طرح کی کوئی استدعا آنحضرت ﷺ سے کریں۔ اس موقع پر ان لوگوں کا خیال یہ تھا کہ نوجوان حقیقت میں مرا نہیں ہے بلکہ زہر کے اثر سے بیہوش ہوگیا ہے۔ اس خیال سے انہوں نے آنحضرت ﷺ سے اس دعا کی استدعا کی تھی۔ مغفرت طلب کرو۔ اس ارشاد سے آنحضرت ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ اس کو زندہ کرنے کی دعا کی درخواست کیوں کرتے ہو کیونکہ وہ تو اپنی راہ پر چل کر موت کی گود میں پہنچ گیا ہے جس کے حق میں زندگی کی دعا قطعا فائدہ مند نہیں ہے، اب تو اس کے حق میں سب سے مفید چیز یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت اور بخشش کی درخواست کرو۔ اس پر تنگی اختیار کرو یا اس کو خبردار کرو۔ کا مطلب یہ ہے کہ جب سانپ نظر آئے تو اس سے کہو کہ تو تنگی اور گھیرے میں ہے اب نہ نکلنا اگر پھر نکلے گا تو ہم تجھ پر حملہ کریں گے اور تجھ کو مار ڈالیں گے، آگے تو جان۔ ایک روایت میں آنحضرت ﷺ سے یہ منقول ہے کہ سانپ کو دیکھ کر یہ کہا جائے انشدکم بالعہد الذی اخذ علیکم سلیمان بن داؤد علیماالسلام لا تاذونا ولا تظہروا لنا۔ میں تجھ کو اس عہد کی قسم دیتا ہوں جو حضرت سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے تجھ سے لیا تھا کہ ہم کو ایذاء نہ دے اور ہمارے سامنے مت آ۔ وہ شیطان ہے۔ یعنی خبردار کردینے کے بعد بھی وہ غائب ہوا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ مسلمان جن نہیں ہے بلکہ یا تو کافر جن ہے یہ حقیقت میں سانپ ہے اور یا ابلیس کی ذریات میں سے ہے اس صورت میں اس کو فورا مار ڈالنا چاہئے۔ اس کو شیطان اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ آگاہی کے بعد بھی نظروں سے غائب نہ ہو کر اس نے اپنے آپ کو سرکش ثابت کیا ہے اور عام بات کہ جو بھی سرکش ہوتا ہے خواہ وہ جنات میں کا ہو یا آدمیوں میں کا اور یا جانوروں میں کا اس کو شیطان کہا جاتا ہے۔

4022Mishkaat-al-Masabih

گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم

وعن أم شريك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر بقتل الوزغ وقال : كان ينفخ على إبراهيم

اور حضرت ام شریک ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہ (گرگٹ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر آگ پھونکتا تھا۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح آگ پھونکتا تھا یہ گویا گرگٹ کی خباثت کو بیان کیا گیا ہے کہ جب نمرود نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا تو یہ (گرگٹ) اس آگ کو بھڑکانے کے لئے اس میں پھونک مارتا تھا۔ یوں بھی تجربہ سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ یہ جانور بڑا زہریلا اور موذی ہوتا ہے، اگر کھانے پینے کی چیزوں میں اس کے زہریلے جراثیم پہنچ جائیں تو اس سے لوگوں کو بہت نقصان پہنچ سکتا ہے۔

4023Mishkaat-al-Masabih

گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم

وعن سعد بن أبي وقاص أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر بقتل الوزغ وسماه فويسقا . رواه مسلم

اور حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم دیا اور اس کا نام فویسق رکھا۔ ( مسلم ) تشریح فویسق اصل میں فاسق کی تصغیر ہے جس کے معنی ہیں چھوٹا فاسق۔ گرگٹ کو فویسق یعنی چھوٹا فاسق اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ یہ فواسق خمسہ یعنی ان پانچ بد جانوروں کی قسم سے ہے جن کو ہر حالت میں مار ڈالنے کا حکم ہے خواہ وہ حل میں یعنی حدود حرم سے باہر ہوں یا حرم میں ہوں۔ ویسے لغت میں فسق کے معنی خروج کے ہیں اور شرعی اصطلاح میں فسق سے مراد ہوتا ہے اطاعت حق سے نکل جانا اور صحیح راستہ سے رو گردانی کرنا۔

4024Mishkaat-al-Masabih

گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قتل وزغا في أول ضربة كتبت له مائة حسنة وفي الثانية دون ذلك وفي الثالثة دون ذلك . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص گرگٹ کو ایک ہی وار میں مار ڈالے۔ اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، دوسرے وار میں اس سے کم اور تیسرے وار میں اس سے بھی کم نیکیاں لکھی جائیں گی۔ ( مسلم ) تشریح اس حدیث کے ذریعہ گویا اس بات کی طرف راغب کیا گیا ہے کہ گرگٹ کو جلد سے جلد مار ڈالا جائے۔

4025Mishkaat-al-Masabih

چیونٹی کو مارنے کا مسئلہ

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قرصت نملة نبيا من الأنبياء فأمر بقربة النمل فأحرقت فأوحى الله تعالى إليه : أن قرصتك نملة أحرقت أمة من الأمم تسبح ؟

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ( اللہ کے جو) انبیاء ( پہلے گزر چکے ہیں ان میں سے کسی نبی ( کا واقعہ ہے کہ ایک دن ان کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے چیونٹیوں کے بل کے بارے میں حکم دیا کہ اس کو جلا دیا جائے، چناچہ بل کو جلا دیا گیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ وحی نازل کی کہ تمہیں ایک چیونٹی نے کاٹا تھا اور تم نے جماعتوں میں سے ایک جماعت کو جلا ڈالا جو تسبیح ( یعنی اللہ کی پاکی بیان کرنے) میں مشغول رہتی تھی۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح چناچہ بل کو جلا دیا گیا کے بارے میں بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی نے اس درخت کو جلانے کا حکم دیا تھا جس میں چیونٹیوں کا بل تھا، چناچہ اس درخت کو جلا ڈالا گیا۔ اس واقعہ کا پس منظر یہ روایت ہے کہ ایک مرتبہ ان نبی ﷺ نے بارگاہ رب العزت میں عرض کیا تھا کہ ( پروردگار! تو کسی آبادی کو اس کے باشندوں کے گناہوں کے سبب عذاب میں مبتلا کرتا ہے اور وہ پوری آبادی تہس نہس ہوجاتی ہے، درآنحالیکہ اس آبادی میں مطیع و فرمانبردار لوگوں کی بھی کچھ تعداد ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کرلیا کہ ان کی عبرت کے لئے کوئی مثال پیش ہونی چأہئے۔ چناچہ ان نبی ﷺ پر سخت ترین گرمی مسلط کردی گئی، یہاں تک کہ وہ اس گرمی سے نجات پانے کے لئے ایک سایہ دار درخت کے نیچے چلے گئے، وہاں ان پر نیند کا غلبہ ہوگیا اور وہ سو رہے تھے تو ایک چیونٹی نے ان کو کاٹ لیا، انہوں نے حکم دیا کہ ساری چیونٹیوں کو جلا دیا جائے، کیونکہ ان کے لئے یہ آسان نہیں تھا کہ وہ اس خاص چیونٹی کو پہچان کر جلواتے جس نے ان کو کاٹا تھا یا یہ کہ ان کے نزدیک ساری چیونٹیاں موذی تھیں اور موذی کی پوری جنس کو مار ڈالنا جائز ہے۔ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے لکھا ہے کہ قریۃ نمل سے چیونٹیوں کا بل مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل کی الخ یہ گویا ان نبی پر حق تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ یہ اس بات پر محمول ہے کہ نبی ﷺ کی شریعت میں چیونٹیوں کو مار ڈالنا یا جلا ڈالنا جائز تھا اور عتاب اس سبب سے ہوا کہ انہوں نے ایک چیونٹی سے زیادہ کو جلایا۔ لیکن واضح رہے کہ شریعت محمدی ﷺ میں کسی بھی حیوان و جانور کو جلانا جائز نہیں ہے اگرچہ جوئیں اور کھٹمل وغیرہ ہی کیوں نہ ہوں، نیز موذی جانوروں کے علاوہ دوسرے جانوروں کو مار ڈالنا بھی جائز نہیں ہے۔ چناچہ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے کسی بھی جاندار کو مار ڈالنے سے منع فرمایا ہے الاّ یہ کہ وہ ایذاء پہنچانے والا ہو۔ مطالب المؤمنین میں محمد بن مسلم سے چیونٹی کا مار ڈالنے کے بارے میں یہ نقل کیا گیا ہے کہ اگر چیونٹی نے تمہیں ایذاء پہنچائی ہے تو اس کو مار ڈالو اور اگر اس نے کوئی ایذاء نہیں پہنچائی ہے تو مت مارو، چناچہ فقہاء نے کہا ہے کہ ہم اسی قول پر فتویٰ دیتے ہیں۔ اسی طرح چیونٹی کو پانی میں ڈالنا بھی مکروہ ہے۔ نیز کسی ایک چیونٹی کو ( جس نے ایذاء پہنچائی ہو) مار ڈالنے کے لئے ساری چیونٹیوں کے بل کو نہ جلایا جائے اور نہ تباہ کیا جائے۔

4026Mishkaat-al-Masabih

گھی میں چوہے کے گر جانے کا مسئلہ

عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا وقعت الفأرة في السمن فإن كان جامدا فألقوها وما حولها وإن كان مائعا فلا تقربوه . رواه أحمد وأبو داود

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر گھی میں چوہا گرجائے ( اور مرجائے) اور وہ گھی جما ہوا ہو تو اس چوہے کو اور اس کے چاروں طرف کے گھی کو نکال کر پھینک دو ( اور باقی گھی کھانے کے مصرف میں لاؤ) اور اگر وہ گھی پتلا یعنی پگھلا ہوا ہو تو پھر اس کے نزدیک ( بھی) مت جاؤ یعنی اس کو مطلقا نہ کھاؤ) احمد اور دارمی نے اس روایت کو ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے۔

4027Mishkaat-al-Masabih

سرخاب کا گوشت کھانا جائز ہے

وعن سفينة قال : أكلت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم لحم حبارى . رواه أبو داود

اور حضرت سفینہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کے ساتھ حباری کا گوشت کھایا ہے۔ ( ابوداؤد ) تشریح حباری یعنی تعذری وہ جانور ( پرندہ) ہے جس کے بارے میں عربی میں مشہور ہے کہ وہ احمق ترین پرندہ ہوتا ہے اسی وجہ سے کسی شخص کی حماقت ظاہری کرنے کے لئے حباری کی مثال دی جاتی ہے اردو میں حباری سرخاب کو کہتے ہیں۔

4028Mishkaat-al-Masabih

جلالہ کا گوشت کھانے کی ممانعت

وعن ابن عمر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أكل الجلالة وألبانها . رواه الترمذي وفي رواية أبي داود : قال : نهى عن ركوب الجلالة

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں، رسول کریم ﷺ نے جلالہ کا گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا ہے ( ترمذی) اور ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا۔ آنحضرت ﷺ نے جلالہ پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے۔ تشریح جلالہ اس جانور کو کہتے ہیں۔ جس کا گوشت کھانا حلال ہو، لیکن اس کو نجاست، پلیدی کھانے کی عادت ہو، اس بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ جانور کبھی کبھی نجاست و پلیدی کھاتا ہو تو اس کو جلالہ نہیں کہیں گے اور اس کا گوشت کھانا حرام نہیں ہوگا۔ جیسے مرغی اور اگر وہ جانور ایسا ہو کہ اس کی خوراک ہی عام طور پر نجاست و پلیدی ہو، یہاں تک کہ اس کی وجہ سے اس کے گوشت اور دودھ میں بدبو آنے لگے، تو اس کا گوشت کھانا حلال نہیں ہوگا۔ الاّ یہ کہ اس کو باندھ کر یا بند کر کے رکھا جائے اور اس کو غیر نجس چیزیں کھلائی جائیں تاآنکہ اس کا گوشت اور دودھ ٹھیک ہوجائے تو اس کا گوشت کھانا اور دودھ پینا درست ہوگا۔ یہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام محمد کا قول ہے لیکن حضرت امام مالک فرماتے ہیں کہ اس کے بعد بھی یعنی اس کو بند کر کے رکھنے اور غیر نجس چیزیں کھلانے کے بعد اس کا گوشت مبالغہ کی حد تک دھونا ضروری ہوگا۔ فتاویٰ کبری میں لکھا ہے کہ جب تک مخلات مرغ کو تین روز تک اور جلالہ کو دس روز تک بند کر کے یا باندھ کر نہ رکھا جائے اس وقت تک اس کا گوشت کھانا حلال نہیں ہوگا۔ جلالہ پر سواری کرنے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ اس کا پسینہ جو گوشت کے پیدا ہونے کی وجہ سے گندا اور پلید ہوتا ہے، سوار کے جسم کو لگے گا۔

4029Mishkaat-al-Masabih

گوہ کا گوشت کھانا حرام ہے

وعن عبد الرحمن بن شبل : أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن أكل لحم الضب . رواه أبو داود

اور حضرت عبدالرحمن بن شبل ؓ سے ورایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے گوہ کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ ( ابوداؤد ) تشریح یہ حدیث گوہ کے حرام ہونے پر دلالت کرتی ہے جیسا کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ ؓ کا مسلک ہے۔ اور شاید کہ پہلے گوہ کا کھانا مباح رہا ہو اور پھر بعد میں اس حکم ممانعت کے ذریعہ اس اباحت کو منسوخ قرار دیا گیا ہو۔

4030Mishkaat-al-Masabih

بلی حرام ہے

وعن جابر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن أكل الهرة وأكل ثمنها . رواه أبو داود والترمذي

اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بلی کا گوشت اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ (ابوداؤد، ترمذی) تشریح بلی کا گوشت کھانا تو بالاتفاق تمام علماء کرام کے نزدیک حرام ہے البتہ بلیک و بیچنا اور اس کی قیمت کو کھانے پینے کی چیزوں میں خرض کرنا حرام نہیں ہے بلکہ مکروہ ہے۔

4031Mishkaat-al-Masabih

گھریلو گدھے، خچر اور درندوں اور ذی مخلب پرندوں کا گوشت حرام ہے

وعنه حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم يعني يوم خيبر الحمر الإنسية ولحوم البغال وكل ذي ناب من السباع وكل ذي مخلب من الطير . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے خبیر کے دن گھر میں پلے ہوئے گدھوں، خچر، ہر کچلی والے درندے اور پنجوں سے شکار کرنے والے پرندے کا گوشت حرام قرار دیا تھا امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔

4032Mishkaat-al-Masabih

گھوڑے کا گوشت کھانے کی ممانعت

وعن خالد بن الوليد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن أكل لحوم الخيل والبغال والحمير . رواه أبو داود والنسائي

اور حضرت خالد بن ولید ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے گھوڑے، خچروں اور گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ ( ابوداؤد، نسائی ) تشریح یہ حدیث کہ جس سے گھوڑے کا گوشت کھانے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے ضعیف ہے اس لئے یہ حضرت جابر ؓ کی اس حدیث کے معارض نہیں ہوسکتی جو پہلے گزر چکی ہے اور جس سے گھوڑے کے گوشت کی اباحت ثابت ہوتی ہے، تاہم گھوڑے کے گوشت کھانے کی یہ ممانعت اکثر علماء کے نزدیک اس حدیث کے ذریعہ منسوخ قرار پائی ہے جو پہلے گزر چکی ہے جیسا کہ حضرت جابر ؓ کی روایت کی تشریح میں یہ مسئلہ پوری وضاحت کے ساتھ بیان ہوچکا ہے۔

4033Mishkaat-al-Masabih

معاہدے کے مال کا حکم

nوعنه قال : غزوت مع النبي صلى الله عليه و سلم يوم خيبر فأتت اليهود فشكوا أن الناس قد أسرعوا إلى خضائرهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا لا يحل أموال المعاهدين إلا بحقها . رواه أبو داود

اور حضرت خالد بن ولید ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے ہمراہ خیبر کے دن جہاد میں شریک تھا ( ایک موقع پر) یہودی آپ ﷺ کی خدمت میں آئے اور یہ شکایت کی کہ لوگوں نے ان کی کھجوروں کی طرف جلد روی اختیار کی ہے ( یعنی مسلمانوں نے ہمارے کھجور کے درختوں پر سے پھل توڑ لئے ہیں جب کہ ہم معاہد ہیں) چناچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ خبردار! ان لوگوں کا مال حلال نہیں ہے جس سے عہد و پیمان ہوچکا ہے۔ علاوہ اس حق کے جو اس مال سے متعلق۔ ( ابوداؤد ) تشریح معاہد اس شخص کو کہتے ہیں کہ جس سے عہد و پیمان ہوا ہو، چناچہ اگر وہ معاہد ذمی ہے تو وہ حق جو اس کے مال سے متعلق ہے جزیہ ہے اور اگر وہ معاہد مستامن ہے اور اس کے پاس مال تجارت ہے۔ تو اس کے مال سے جو حق متعلق ہوگا وہ اس پر لاگو ہونے والا عشر ہے۔

4034Mishkaat-al-Masabih

مچھلی، ٹڈی، کلیجی اور تلی حلال ہے

وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أحلت لنا ميتتان ودمان : الميتتان : الحوت والجراد والدمان : الكبد والطحال . رواه أحمد وابن ماجه والدارقطني

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ہمارے لئے دو بغیر ذبح کے مری ہوئی چیزیں اور دو خون حلال ہیں۔ دو بغیر ذبح کے مری ہوئی چیزیں تو مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون کلیجی اور تلی ہیں ( کہ یہ دونوں اصل میں بستہ خون ہیں نہ کہ گوشت۔ (احمد، ابن ماجہ، دارقطنی )

4035Mishkaat-al-Masabih

جو مچھلی پانی میں مر کر اوپر آ جائے اس کا مسئلہ

وعن أبي الزبير عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما ألقاه البحر وجزر عنه الماء فكلوه وما مات فيه وطفا فلا تأكلوه . رواه أبو داود وابن ماجه وقال محيي السنة : الأكثرون على أنه موقوف على جابر

اور حضرت ابوزبیر ؓ عنہ، حضرت جابر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس ( مچھلی) کو دریا نے کنارے پر پھینک دیا ہو، یا پانی سے اس کا ساتھ چھوٹ گیا ہو ( یعنی دریا کا پانی بالکل خشک ہوگیا ہو یا کسی دوسری طرف چلا گیا ہو) تو اس مچھلی کو کھالو اور جو مچھلی دریا میں مر کر پانی کے اوپر آجائے اس کو مت کھاؤ۔ ( ابوداؤد، ابن ماجہ) اور محی السنۃ نے کہا ہے کہ اکثر ( محدثین) اس بات کے قائل ہیں کہ یہ حدیث حضرت جابر ؓ پر موقوف ہے۔ یعنی ان کے نزدیک یہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد نہیں ہے بلکہ حضرت جابر ؓ کا اپنا قول ہے۔ تشریح یہ حدیث حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے اس مسلک کی دلیل ہے کہ طافی مچھلی ( یعنی وہ مچھلی جو پانی میں مر کر اوپر آجائے حرام ہے۔ چناچہ صحابہ کی ایک جماعت سے بھی اسی طرح منقول ہے، لیکن حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی کے نزدیک اس مچھلی کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں، کیوں کہ آنحضرت ﷺ مطلق ( بلا قید اور استثناء کے) احل لکم المیتتان ( تمہارے لئے دو بغیر ذبح کے مری ہوئی چیزیں حلال ہیں، فرمایا ہے لہٰذا میتہ بحر یعنی پانی کی مری ہوئی چیز ( مچھلی) مطلق حلال ہوگی ( خواہ وہ پانی سے نکلنے کے بعد مری ہو، یا پانی میں مر کر اوپر آگئی ہو) جب کہ حنفیہ یہ کہتے ہیں کہ میتہ بحر سے وہ مچھلی مراد ہے جس کو بحر یعنی دریا باہر پھینک دے اور وہ اس کی وجہ سے مرجائے نہ کہ وہ مچھلی مراد ہے جو بغیر کسی آفت کے پانی میں خود مرگئی ہو۔

4036Mishkaat-al-Masabih

ٹڈی کا حکم

وعن سلمان قال : سئل النبي صلى الله عليه و سلم عن الجراد فقال : أكثر جنود الله لا آكله ولا أحرمه . رواه أبو داود وقال محيي السنة : ضعيف

اور حضرت سلمان ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے ٹڈی کے ( کھانے اور اس کی حقیقت کے) بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ٹڈیاں اللہ تعالیٰ کا ( پرندوں میں) سب سے بڑا لشکر ہیں، نہ تو میں اس کو کھاتا ہوں ( کیونکہ طبعا مجھے کراہت محسوس ہوتی ہے) اور نہ ( دوسروں پر) شرعا اس کو حرام قرار دیتا ہوں ( کیوں کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حلال کیا گیا ہے جیسا کہ پہلے یہ حدیث گزری ہے کہ احلت لنا میتتان ابوداؤد ٠! اور محی السنۃ نے کہا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ تشریح ٹڈیاں اللہ تعالیٰ کا لشکر اس اعتبار سے ہیں کہ جب کسی گروہ اور کسی قوم پر غضب آتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی طرف ٹڈیوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیجتا ہے تاکہ وہ اس قوم کی کھیتوں اور ان کے درختوں کو کھا جائیں۔ جس سے ان میں قحط پھیل جائے۔ چناچہ پچھلے زمانوں میں ایسا بارہا ہوا ہے کہ جب کسی جگہ کے کھیتوں اور باغات کو غضب الٰہی کی بنا پر تڈیوں نے نست و نابود کردیا اور اس کی وجہ سے وہاں قحط پھیل گیا تو ایک انسان دوسرے انسان کو کھانے لگا اس طرح وہاں کی پوری کی پوری آبادی تباہ و برباد ہوگئی۔ جہاں تک ٹڈی کا مسئلہ ہے تو اس کا کھانا اکثر احادیث کے بموجب حلال ہے، چناچہ چاروں أئمہ کا یہ مسلک ہے کہ ٹڈی کو کھانا حلال ہے، خواہ وہ خود سے مرگئی ہو یا اس کو ذبح کیا گیا ہو، یا شکار کے ذریعہ مری ہو اور شکار بھی خواہ کسی مسلمان نے کیا ہو، یا مجوسی نے اور خواہ اس میں سے کچھ کاٹا جائے یا نہیں۔

4037Mishkaat-al-Masabih

مرغ کو برا کہنے کی ممانعت

وعن زيد بن خالد قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن سب الديك وقال : إنه يؤذن للصلاة . رواه أبو داود

اور حضرت زید بن خالد ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مرغ کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے۔ نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ بلا شبہ وہ ( مرغ) نماز کے لئے آگاہ کرتا ہے۔ ( شرح السنۃ) تشریح نماز سے تہجد کی نماز مراد ہے! حدیث شریف میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ تہجد کی نماز کے لئے اس وقت اٹھتے تھے جب کہ مرغ بانگ دیا کرتا تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ فجر کی نماز مراد ہو، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنی بانگ کے ذریعہ آگاہ کرتا ہے کہ فجر کی نماز کا وقت قریب آگیا ہے اور پھر دوبارہ اس کی بانگ تاکید و تنبیہ کے لئے ہوتی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب حیوان میں بھی پائی جانے والی اچھی خصلتیں اس کو برا کہنے سے روکتی ہیں، تو کسی مؤمن کو برا کہنے والے کا کیا حشر ہوگا؟

4038Mishkaat-al-Masabih

مرغ کو برا کہنے کی ممانعت

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تسبوا الديك فإنه يوقظ للصلاة . رواه أبو داود

اور حضرت زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مرغ کو برا نہ کہو، کیوں کہ وہ نماز کے لئے جگاتا ہے۔ ( ابوداؤد )

4039Mishkaat-al-Masabih

گھر میں سانپ دکھائی دے تو اس سے کیا کیا جائے

وعن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال : قال أبو ليلى : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا ظهرت الحية في المسكن فقولوا لها : إنا نسألك بعهد نوح وبعهد سليمان بن داود أن لا تؤذينا فإن عادت فاقتلوها . رواه الترمذي وأبو داود

اور حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ حضرت ابولیلی نے بیان کیا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب گھر میں سانپ نکلے تو اس کے سامنے کہا جائے کہ۔ ہم تجھ سے حضرت نوح ( علیہ السلام) کے عہد اور حضرت سلیمان بن داؤد ( علیہما السلام) کے عہد کا واسطہ دے کر یہ چاہتے ہیں کہ تو ہمیں ایذاء نہ پہنچا۔ اگر اس کے بعد وہ پھر نظر آئے تو اس کو مار ڈالو۔ ( ترمذی، ابوداؤد) تشریح حضرت نوح (علیہ السلام) نے سانپ سے عہد اس وقت لیا تھا جب کہ انہوں نے اپنی کشتی میں حیوانات کو داخل کیا تھا۔

4040Mishkaat-al-Masabih

انتقام کے خوف سے سانپ کو نہ مارنے والے کے بارے میں وعید

وعن عكرمة عن ابن عباس قال : لا أعلمه إلا رفع الحديث : أنه كان يأمر بقتل الحيات وقال : من تركهن خشية ثائر فليس منا . رواه في شرح السنة

اور حضرت عکرمہ ؓ عنہ، حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے بطریق مرفوع یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم ﷺ سانپوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو شخص بدلے ( انتقام) کے خوف سے ان ( سانپوں) کو مارنا چھوڑ دے تو وہ ایک موذی کو نہ مارنے اور قضا و قدر الہٰی پر بھروسہ نہ کرنے کے سبب) ہم میں سے نہیں ہے۔ یعنی ہمارے راستے پر گامزن نہیں ہے۔ ( شرح السنۃ) تشریح بدلے کے خوف کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس ڈر کی وجہ سے سانپ کو نہ مارے کہ کہیں اس کا جوڑا مجھ سے انتقام نہ لے، چنانچھ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص نے کسی سانپ کو مار ڈالا اور پھر اس کے جوڑے نے آ کر اس شخص کو کاٹ لیا اور بدلہ لیا، مارا جانے والا سانپ اگر نر ہوتا ہے تو اس کی مادہ انتقام لینے آتی ہے اور اگر وہ مادہ تھی تو اس کا نر بدلہ لینے آتا ہے، زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کے ہاں یہ خوف ایک عقیدے کی حد تک تھا وہ کہا کرتے تھے کہ سانپ کو ہرگز نہیں مارنا چاہئے، اگر اس کو مارا جائے گا تو اس کا جوڑا آ کر انتقام لے گا۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے اس طرح کے قول و اعتقاد سے منع فرمایا۔