Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,333 hadiths in order · Page 201 of 317
بلا ضرورت کتا پالنا، اپنے ذخیرہ ثواب میں کمی کرنا ہے
عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من اقتنى كلبا إلا كلب ماشية أو ضار نقص من عمله كل يوم قيراطان
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص مویشیوں کی حفاظت کرنے والے کتے اور شکاری کتے کے علاوہ کوئی کتا پالتا ہے اس کے اعمال ( کے ثواب) میں سے روزانہ دو قیراط کے برابر کمی کردی جاتی ہے۔ ( بخاری ومسلم )
تشریح
قیراط اصل میں ایک وزن کا نام ہے جو آدھے دانگ، یا بقول بعض، دینار کے ٤/٦ اور بقول بعض دینار کے دسویں حصے کے آدھے حصے کے برابر ہوتا ہے اور ایک دانگ چھ رتی کے وزن، یا ایک درم کے چھٹے حصے کے برابر ہوتا ہے، لیکن حدیث میں قیراط کا اسعتمال اس مقدار کے لئے کیا گیا ہے جس کا حقیقی علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اگرچہ بعض احادیث میں اس مقدار کو احد پہاڑ کے برابر بتایا گیا ہے، اس بنیاد پر اس حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ شریعت نے جن مقاصد کے لئے کتوں کو پالنے کی اجازت دی ہے جیسے مویشیوں ( یا گھر، کھیت) کی حفاظت اور شکار، ان کے علاوہ محض تفریح طبع اور شوق کی خاطر اگر کوئی شخص کتا پالے گا تو اس نے جو نیک اعمال کئے ہیں اور حق تعالیٰ نے ان اعمال کی بناء پر اپنے فضل و کرم سے اس کے نامہ اعمال میں اجر وثواب کے جو ذخیرے رکھے ہیں، ان میں سے روزانہ اس مقدار میں کمی آتی رہے گی کہ اگر اس مقدار کو جسم تصور کیا جائے تو وہ دو احد پہاڑ کے برابر ہو! یا یہ کہ دو قیراط سے مراد اس شخص کی نیکیوں کے حصول میں سے دو حصے کی کمی و نقصان ہے۔ بہر حال دو قیراط سے کچھ ہی مراد لیا جائے، حدیث کا اصل منشاء تو صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ بلا ضرورت شرعی، کتا پالنا اپنے اعمال کے اجرو ثواب کے ایک بہت بڑے حصے سے ہاتھ دھو نا ہے، جہاں تک اس سبب کا تعلق ہے جو کتے پالنے کی وجہ سے ثواب اعمال میں کمی کی بنیاد ہے تو اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں۔ چنانچہ بعض حضرات کے نزدیک اس کمی و نقصان کا سبب ملائکہ رحمت کا گھر میں نہ آنا ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ہے کہ جس گھر میں کتا ہوتا ہے وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ اور بعض حضرات نے یہ سبب بیان کیا ہے کہ وہ شخص ( کتا پال کر) دوسرے لوگوں کو ایذاء پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ کمی و نقصان اس سبب سے ہے کہ جب گھر میں کتا پلا ہوا ہوتا ہے تو وہ گھر والوں کی بیخبر ی میں کھانے پینے کے برتن باسن میں منہ ڈالتا رہتا ہے اور ظاہر ہے کہ گھر والے چونکہ بیخبر ہوتے ہی اس لئے وہ ان برتنوں کو دھوئے مانجے بغیر ان میں کھاتے پیتے ہیں۔
بلا ضرورت کتا پالنا، اپنے ذخیرہ ثواب میں کمی کرنا ہے
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من اتخذ كلبا إلا كلب ماشية أو صيد أو زرع انتقص من أجره كل يوم قيراط
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص مویشیوں کی حفاظت کرنے والے شکار پکڑنے والے اور کھیت کھلیان کی چوکسی کرنے والے کتے کے علاوہ کوئی کتا پا لتا ہے تو اس کے ثواب میں سے ہر روز ایک قیراط کے برابر کمی کردی جاتی ہے۔ ( بخاری و مسلم )
تشریح
مضمون و مفہوم کے اعتبار سے یہ حدیث بھی پہلی حدیث کی طرح ہے، البتہ اس حدیث میں اس کتے کے استثناء کو بھی ذکر کیا گیا ہے جو کھیت کھلیان کی حفاظت کرنے کے لئے پالا جاتا ہے، نیز اس حدیث میں ایک قیراط کا ذکر ہے جب کہ پہلی حدیث میں دو قیراط کا ذکر کیا گیا ہے، چناچہ یہ فرق کتوں کی مختلف اقسام کی بنیاد پر ہے کہ بلا ضرورت پالے جانے والے کتوں میں بعض کتے ایسے ہوتے ہیں جو لوگوں کو کم ایذاء پہنچاتے ہیں، ان کو پالنے کی صورت میں ایک قیراط کے برابر کمی کی جاتی ہے یا یہ فرق مقام و جگہ کے اعتبار سے ہے کہ بعض جگہ تو بلا ضرورت کتے پالنے کی وجہ سے ثواب میں دو قیرط کے برابر کمی کی جاتی ہے۔ جیسے مکہ اور مدینہ کہ دونوں مقدس شہر اپنی عظمت و بزرگی کے لحاظ سے ایسے ہیں کہ اگر ان کی حدود میں رہنے والا کوئی شخص بلا ضرورت کتا پالتا ہے تو وہ زیادہ گنہگار ہوتا ہے اس لئے اس کے ذخیرہ ثواب میں روزانہ دو قیراط کے برابر کمی ہوجاتی ہے جب کہ ان دونوں مقدس شہروں کے علاوہ کسی دوسرے شہر میں کتا پالنے والا نسبتا کم گنتہگار ہوتا ہے، اس لئے اس کے ثواب میں دو قیراط کے برابر کمی ہوتی ہے اور جو لوگ جنگل و بیابان میں کتا پالتے ہیں ان کے ثواب میں ایک قیراط کی کمی ہوتی ہے کیونکہ آبادی میں کتے پالنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ایذاء پہنچانے کا ذریعہ پیدا ہو جب کہ جنگل و بیابان میں یہ صورت نہیں ہوتی۔ اور یا یہ فرق اختلاف زمانہ کے سبب سے ہے کہ پہلے تو ایک ہی قیراط کے برابر کم ہونے کے ساتھ تنبیہ کی گئی تھی، مگر جب بعد میں لوگوں نے کتوں کو زیادہ پالنا شروع کردیا اور ان کے ساتھ رہن سہن اختیار کیا، نیز ان کی طرف زیادہ رغبت و شوق رکھنے لگے تو شریعت کی طرف سے زجر و تنبیہ میں بھی زیادتی اور شدت اختیار کی گئی اور ثواب میں روازانہ دو قیراط کے برابر کمی ہوجانے کی وعید بیان فرمائی گئی۔
وعن جابر قال : أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بقتل الكلاب حتى إن المرأة تقدم من البادية بكلبها فتقتله ثم نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن قتلها وقال : عليكم بالأسود البهيم ذي النقطتين فإنه شيطان . رواه مسلم وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم أمر بقتل الكلاب إلا كلب صيد أو كلب غنم أو ماشية
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہمیں ( مدینہ کے) کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دے دیا تھا چناچہ ( ہم مدینہ اور اطراف مدینہ کے کتوں کو مار ڈالتے تھے) یہاں تک کہ جو عورت جنگل سے آتی اور اس کا کتا اس کے ساتھ ہوتا تو ہم اس کو بھی ختم کردیتے تھے، پھر بعد میں آنحضرت ﷺ نے عام کتوں کو مار ڈالنے سے منع فرما دیا اور یہ حکم دیا کے خالص سیاہ کتے کو جو دو نقطوں والا ہو مار ڈالنا تمہارے لئے ضروری ہے کیونکہ وہ شیطان ہے۔ ( مسلم )
تشریح
علماء نے لکھا ہے کہ کتوں کو مار ڈالنے کا حکم صرف مدینہ منورہ کے ساتھ مخصوص تھا کیونکہ وہ شہر مقدس محض اسی اعتبار سے تقدیس کا حامل نہیں تھا کہ اس میں سرکار دو عالم ﷺ اقامت پذیر تھے بلکہ اس اعتبار سے بھی اس کو پاکیزگی کی عظمت حاصل تھی کہ وہ وحی کے نازل ہونے اور ملائکہ کی آمدورفت کی جگہ تھا، لہذا یہ بات بالکل موزوں اور مناسب تھی کہ اس کی سر زمین کو کتوں کے وجود سے پاک رکھا جاتا۔ عورتوں کی تخصیص یا تو اس وجہ سے ہے کہ جو عورتیں جنگل میں بود وباش رکھتی تھیں ان کو ( مویشیوں وغیرہ کی حفاظت کے لئے) کتوں کی زیادہ ضرورت ہوتی تھی اور جب وہ شہر میں آتیں تو اس وقت بھی ان کا کتا ان کے ہمراہ ہوتا تھا۔ یا یہ کہا جائے کہ یہاں عورت کی قید محض اتفاقی ہے اور مراد یہ ہے کہ ان کتوں کو بھی زندہ نہیں چھوڑا جاتا تھا جو جنگل سے شہر آجاتے تھے خواہ وہ کسی عورت کے ساتھ آتے یا کسی مرد وغیرہ کے ساتھ۔ جو دو نقطوں والا ہو یعنی وہ کالا بھجنگ کتا جس کی دونوں آنکھوں پر دو سفید نقطے ( ٹپکے) ہوتے ہیں۔ اس قسم کا کتا چونکہ انتہائی شریر اور لوگوں کے لئے سخت تکلیف اور ایذاء پہنچانے والا ہوتا ہے اس لئے اس کو شیطان فرمایا گیا ہے۔ اس کو شیطان کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایسا کتا نہ نگہبانی کے کام کا ہوتا ہے اور نہ شکار پکڑنے کے مصرف کا، چناچہ اسی سبب سے حضرات امام احمد و اسحق نے یہ کہا ہے کہ سیاہ کتے کا پکڑا ہوا شکار حلال نہیں کیونکہ وہ شیطان ہے۔ حضرت امام نووی فرماتے ہیں کہ عقور یعنی کٹ کھنے کتے کو مار ڈالنے پر تو علمار کا اتفاق ہے اگرچہ وہ سیاہ رنگ کا نہ ہو لیکن اس کتے کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں جو نقصان و ضرر پہنچانے والا نہ ہو۔ امام حرمین کہتے ہیں کہ کتوں کو مار ڈالنے کے حکم کی اصل صورت حال یہ ہے کہ پہلے تو نبی کریم ﷺ نے ہر قسم کے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا تھا، بعد میں اس حکم کی عمومیت منسوخ کر کے اس کے صرف یک رنگ سیاہ کتے تک محدود کردیا گیا اور پھر آخری طور پر ان تمام کتوں کو مار ڈالنے کی ممانعت نافذ ہوئی جو نقصان و ضرر پہنچانے والے نہ ہوں، یہاں تک کہ یک رنگ سیاہ کتے کو بھی اس حکم میں شامل کردیا گیا اگر اس سے نقصان و ضرر پہنچنے کا خطرہ نہ ہو تو اس کو بھی ختم نہ کیا جائے۔ اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہم کو ( سارے کتوں کے یا مدینہ کے) کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا، لیکن شکاری کتوں اور بکریوں کی حفاظت کرنے والے کتوں اور مویشیوں کی حفاظت کرنے والے کتوں کو مستثنی رکھا۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح او ماشیۃ ( اور مویشیوں کی حفاظت کرنے والے کتے) یہ جملہ تعمیم بعد تخصیص کے طور پر ہے۔ یعنی استثناء کے سلسلے میں پہلے تو خاص طور پر بکریوں کو حفاظت کرنے والے کتوں کا ذکر کیا پھر اور بعد میں عمومی طور پر تمام جانوروں کی حفاظت کرنے والے کتوں کا ذکر کردیا، لہٰذا اس صورت میں حرف او تنویع کے لئے ہوگا جیسا کہ ماقبل کی عبارت میں ہے۔ یا یہ کہ او ماشیۃ میں حرف او راوی کے شک کو ظاہر کرنے کے لئے ہے یعنی اس کے ذریعہ حدیث کے راوی نے بتانا چاہا ہے کہ مجھے صحیح یاد نہیں ہے کہ اس موقع پر الا کلب صید او کلب کے بعد غنم فرمایا گیا تھا یا ما شیۃ۔
سارے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دینے کی علت
عن عبد الله بن مغفل عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لولا أن الكلاب أمة من الأمم لأمرت بقتلها كلها فاقتلوا منها كل أسود بهيم . رواه أبو داود والدارمي وزاد الترمذي والنسائي : وما من أهل بيت يرتبطون كلبا إلا نقص من عملهم كل يوم قيراط إلا كلب صيد أو كلب حرث أو كلب غنم
حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے ( بھی) گروہوں میں سے ایک گروہ ہیں تو میں یقینا یہ حکم دے دیتا کہ ان سب کو مار ڈالا جائے پس ان میں جو ( بھی) کتا خالص سیاہ رنگ کا ہو اس کا مار ڈالوں ( ابوداؤد، دارمی) اور ترمذی و نسائی نے یہ عبارت مزید نقل کی ہے کہ اور جو گھر والے بلا ضرورت کتا پالتے ہیں ان کے عمل ( کے ثواب میں سے روازانہ ایک قیراط کے بقدر کمی کردی جاتی ہے، ہاں شکاری کتا اور کھیت کی حفاظت کرنے والا اور ریوڑ کی چوکسی کرنے والا کتا اس سے مستثنٰی ہے۔
تشریح
کتے ( بھی) گروہوں میں سے ایک گروہ ہیں الخ اس ارشاد کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے گویا قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ فرمایا آیت (وَمَا مِنْ دَا بَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا طٰ ى ِرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّا اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ ) 6۔ الانعام 38)۔ اور جتنی قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنی قسم کے پرند جانور ہیں کہ اپنے دونوں بازؤوں سے اڑتے ہیں ان میں کوئی قسم ایسی نہیں جو کہ تمہاری طرح گروہ نہ ہوں۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح انسان ایک امت اور ایک جنس ہیں اسی طرح جانور بھی ایک امت اور ایک جنس ہیں، خواہ وہ زمین پر چلنے والے ہوں یا فضا میں اڑنے والے ہوں، جس طرح انسان اپنے مختلف نام اور اپنے مختلف انواع کے ذریعہ ایک دوسرے سے پہچانے جاتے ہیں، اسی طرح جانوروں کے بھی مختلف نام اور مختلف نوع ہیں جن کے ذریعہ ایک دوسرے کے درمیان فرق امتیاز کیا جاتا ہے۔ اور جس طرح انسان اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہیں۔ کہ ہر شخص کو اپنے اپنے مقدر کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق ملتا ہے، اسی طرح جانوروں کو بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے رزق ملتا ہے، نیز یہ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی خاص مصلحت و حکمت کی بناء پر پیدا کیا ہے اسی طرح جانوروں کو بھی مصلحت و حکمت ہی کے مطابق پیدا کیا ہے، اس اعتبار سے جس طرح انسان کی جان کی اہمیت ہے، اسی طرح جانوروں کی جان کی بھی اہمیت ہے کہ ان کو بلا ضرورت اور بلا مقصد مار ڈالنا تخلیق الٰہی کی مصلحت و حکمت کے منافی ہے۔ لہٰذا آنحضرت ﷺ نے ارشار فرمایا کہ اس آیت کریمہ کے بموجب یہ تو ممکن نہیں ہے کہ سارے کتوں کو مار ڈالا جائے کیونکہ مخلوق الٰہی میں جتنے گروہ اور جتنی جماعتیں ہیں ان میں ایک گروہ اور ایک جماعت کتے بہی ہیں اور کسی جماعت کے گروہ کے فنا کردینا اللہ تعالیٰ کی اس حکمت و مصلحت کے بالکل منافی ہے جو ہر جاندار کی تخلیق میں کار فرما ہے، البتہ ان کتوں میں جو کتے خالص سیاہ رنگ کے ہوں ان کو مار ڈالنا چاہئے کیونکہ اس قسم کے کتے نہایت شریر اور سخت خطرناک ہوتے ہیں جن سے لوگوں کو سوائے تکلیف و ایذاء کے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اور باقی دوسری قسم کے کتے چونکہ کھیت کھلیان اور مویشیوں کی چوکسی کرنے وغیرہ کے کام میں آتے ہیں اور وہ ایک طرح سے انسان کی خدمت کرتے ہیں اس لئے آیت کریمہ کی تعلیم کے علاوہ یوں بھی مفاد عامہ کے پیش نظر ان کو زندہ رکھنا ہی زیادہ بہتر اور فائدہ مند ہے۔ حدیث میں لفظ فاقتلوا ترکیب نحوی کے اعتبار سے جواب ہے شرط محذوف کا، گویا آپ ﷺ نے یوں فرمایا کہ جب مذکورہ سبب (آیت کریمہ کے بموجب) تمام کتوں کو مار ڈالنے کا کوئی راستہ نظر آتا تو کم سے کم ان کتوں کو مار ڈالو جو خالص سیاہ رنگ کے ہوں۔
جانوروں کو لڑانے کی ممانعت
وعن ابن عباس قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن التحريش بين البهائم . رواه الترمذي
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جانوروں کو ایک دوسرے پر ابھارنے ( یعنی ان کو آپس میں لڑانے سے) منع فرمایا ہے۔ ( ترمذی، ابوداؤد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اونٹوں، ہاتھیوں، مینڈھوں، بیلوں، بھینسوں اور ان کے علاوہ دوسرے چوپایوں کو آپس میں لڑانا نہیں چاہئے، اسی طرح پرند جانوروں کا بھی یہی حکم ہے۔ مرغیوں اور بیٹروں وغیرہ کا بھی آپس میں لڑانا ممنوع ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب جانوروں کو لڑانے کی ممانعت ہے تو آدمیوں کو آپس میں لڑانا بطریق اولی ممنوع ہوگا۔
جن جانوروں کا کھانا حلال ہے اور جن جانوروں کا کھانا حرام ہے ان کا بیان
واضح رہے کہ جس چیز کا حرام ہونا کتاب اللہ ( یعنی قرآن مجید) سے ثابت ہے وہ اول تو میتہ یعنی مردار ہے۔ دوم دم مسفوح یعنی بہتا ہوا خون ہے، سوم سؤر کا گوشت ہے اور چہارم اس جانور کا گوشت ہے جس کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو چناچہ اس آیت کریمہ سے یہی ثابت ہے۔ ا یت (قُلْ لَّا اَجِدُ فِيْ مَا اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰي طَاعِمٍ يَّطْعَمُه اِلَّا اَنْ يَّكُوْنَ مَيْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِيْرٍ فَاِنَّه رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِه) 6۔ الانعام 145) ( اے محمد ﷺ کہہ دیجئے کہ جو احکام ( بذریعہ وحی) میرے پاس آئے ہیں ان میں تو میں کوئی حرام غذا پاتا نہیں کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھائے مگر یہ کہ وہ مردار ( مرا ہوا جانور) ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سؤر کا گوشت ہو کیونکہ وہ بالکل ناپاک ہے یا جو ( جانور) شرک کا ذریعہ ہو کہ غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو۔ اس کے بعد سنت نبوی ﷺ نے ان حرام چیزوں میں کچھ اور جانوروں کا اضافہ کیا جیسے ذی ناب، ذی مخلب اور گھر کے پلے ہوئے گدھے وغیرہ۔ چناچہ جن جانوروں کا احادیث نبوی کے ذریعہ حرام قرار پانا ثابت ہے ان میں سے بعض جانور تو بسبب قطعیت احادیث کے متفقہ طور پر تمام علماء کے نزدیک حرام ہیں اور بعض جانوروں کے بارے میں ائمہ حضرات کے اختلافی مسلک ہیں کیونکہ ان کے سلسلے میں احادیث بھی مختلف منقول ہیں بعض جانوروں کے سلسلے میں اس آیت کریمہ کی بناء پر بھی علماء کے درمیان اختلاف پیدا ہوا ہے۔ ا یت ( وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَ بٰ ى ِثَ ) 7۔ الاعراف 157)۔ اور وہ ( رسول کریم ﷺ پاکیزہ چیزوں کو ان کے لئے حلال بناتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں۔ چنانچہ حنفی علماء نے اسی آیت کی بنیاد پر مچھلی کے علاوہ پانی کے اور تمام جانوروں کو حرام قرار دیا ہے کیونکہ ان حضرات کے نزدیک مچھلی کے علاوہ پانی کا اور جو بھی جانور ہے وہ خبیث یعنی گندا ہے۔ بایں دلیل کہ خبیث سے مراد وہ چیز ہے جس کو طبیعت سلیم، طیب کی ضد یعنی گندی اور گھناؤنی جانے اور پانی میں مچھلی کے علاوہ جو بھی جاندار چیز ہوتی ہے اس کو طبیعت سلیم گھناؤنی جانتی ہے؟ ہدایہ میں لکھا ہے کہ حضرت امام مالک اور علماء کی ایک جماعت کا مسلک یہ ہے کہ پانی کے تمام جانور مطلق حلال ہیں لیکن ان میں سے بعض علماء نے دریائی سور، دریائی کتے اور دریائی انسان کا استثناء کیا ہے۔ حضرت امام شافعی کے نزدیک مطلق دریا کے جانور حلال ہیں۔ ان کی دلیل یہ آیت کریمہ ہے (اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُه) 5۔ المائدہ 96)۔ تمہارے نزدیک دریا کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے۔ نیز وہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد سے بھی استدلال کرتے ہیں جو آپ ﷺ نے دریا کے بارے میں فرمایا ہے کہ ہو الطھور ماؤہ والحل میتتہ۔ اس ( دریا) کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل ذي ناب من السباع فأكله حرام . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ درندوں میں جو جانور کچلی والا ہو ( یعنی جو دانت سے اپنا شکار پکڑتا ہو جیسے شیر اور بھیڑیا وغیرہ) اس کا کھانا حرام ہے ( مسلم )
ذی مخلب پرندہ کا گوشت کھانا حرام ہے
وعن ابن عباس قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن كل ذي ناب من السباع وكل ذي مخلب من الطير . رواه مسلم
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہر اس درندے ( کے گوشت) کو کھانے سے منع فرمایا ہے جو کچلی والا ہو اور ہر اس پرندے ( کا گوشت کھانے) سے منع فرمایا ہے جو چنگل گیر ہو یعنی جو اپنے پنجہ سے شکار کرتا ہو جیسے باز وغیرہ۔ ( مسلم )
گھریلو گدھے کا گوشت کھانا حرام ہے
وعن أبي ثعلبة قال : حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم لحوم الحمر الأهلية
اور حضرت ابوثعلبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے گھریلو گدھوں کا گوشت حرام قرار دیا ہے۔ ( بخاری ومسلم )
تشریح
لیکن جنگلی گدھے کہ جن کو گور خر کہتے ہیں بالاتفاق تمام علماء کے نزدیک حلال ہیں۔
وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى يوم خيبر عن لحوم الحمر الأهلية وأذن في لحوم الخيل
اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے کی ممانعت جاری فرمائی تھی اور گھوڑوں کا گوشت کھانے کی اجازت دی تھی۔ ( بخاری ومسلم )
تشریح
دیگر ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ گھوڑے کا گوشت کھانا مباح ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام مالک کا قول یہ ہے کہ گھوڑے کا گوشت کھانا مکروہ ہے، بعضے کہتے ہیں کہ کراہت تحریمی مراد ہے اور بعضے کراہت تنزیہی مراد لیتے ہی لیکن کفایت المنتہی میں منقول ہے کہ بعض علماء نے واضح کیا ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ نے اپنے انتقال سے تین دن پہلے اپنے اس قول سے رجوع کرلیا تھا یعنی دیگر ائمہ کی طرح وہ بھی گھوڑے کے گوشت کی اباحت کے قائل ہوگئے تھے چناچہ حنفی مسلک میں اسی پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح فقہ حنفی کی مشہور اور معتبر کتاب درمختار میں بھی یہ لکھا ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک گھوڑے کا گوشت حلال نہیں ہے جب کہ حضرت امام شافعی اور حنفیہ میں سے حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کے نزدیک حلال ہے اور بعض علماء نے صراحت کی ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے اپنے انتقال سے تین دن پہلے حرمت کے قول سے رجوع کرلیا تھا چناچہ اسی پر فتوے ہے۔ حضرت مولانا شاہ محمد اسحق محدث دہلوی (رح) بھی اسی روایت کے مطابق فتوی دیا کرتے تھے کہ حضرت امام اعظم نے اپنے قول سے رجوع کرلیا تھا اور حنفی مسلک میں گھوڑے کا گوشت کھانا حلال ہے۔
وعن أبي قتادة أنه رأى حمارا وحشيا فعقره فقال النبي صلى الله عليه و سلم : هل معكم من لحمه شيء ؟ قال : معنا رجله فأخذها فأكلها
اور حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے گورخر کو دیکھا اور اس کو مار ڈالا ( اور پھر رسول کریم ﷺ سے اس گوشت کھانے کا مسئلہ پوچھا) تو نبی کریم ﷺ نے دریافت کیا کہ کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ موجود ہے؟ ابوقتادہ نے کہا کہ ہمارے پاس اس کے پائے موجود ہیں چناچہ آنحضرت ﷺ نے وہ پائے لے لئے اور اس کو کھایا۔ ( بخاری ومسلم )
وعن أنس قال : أنفجنا أرنبا بمر الظهران فأخذتها فأتيت بها أبا طلحة فذبحها وبعث رسول الله صلى الله عليه و سلم بوركها وفخذيها فقبله
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ( ایک دن) ہم نے مقام مرالظہران میں ( شکار کے لئے) ایک خرگوش کا تعاقب کیا چناچہ میں نے ( دوڑ کر) اس کو پکڑ لیا اور پھر اس کو ابوطلحہ کے پاس لایا۔ ابوطلحہ نے اس کو ذبح کیا اور اس کا ایک سرین اور دونوں رانیں رسول کریم ﷺ کے پاس بھیجیں آنحضرت ﷺ نے اس کو قبول فرما لیا۔ ( بخاری ومسلم )
تشریح
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خرگوش ایک حلال جانور ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اس کا گوشت قبول فرمایا اگر اس کا گوشت کھانا حلال نہ ہوتا تو آپ ﷺ اس کو قبول نہ فرماتے بلکہ دوسرے کو بھی اس کے کھانے سے منع فرماتے۔ چناچہ کتاب الرحمۃ فی اختلاف الائمۃ میں لکھا ہے کہ بالاتفاق تمام علماء کے نزدیک خرگوش حلال ہے۔
گوہ کا گوشت کھانے کا مسئلہ
وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الضب لست آكله ولا أحرمه
اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ گوہ کو نہ میں کھاتا ہوں اور نہ اس کو حرام قرار دیتا ہوں۔ (بخاری ومسلم )
تشریح
گوہ کو گور پھوڑ بھی کہتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ اس کی عمر سات سو سال تک کی ہوتی ہے، اس کی بڑی عجیب خصوصیات بیان کی جاتی ہیں مثلا یہ پانی نہیں پیتی بلکہ ہوا کے سہارے زندہ رہتی ہے، چالیس دن میں ایک قطرہ پیشاب کرتی ہے اور اس کے دانت کبھی نہیں ٹوٹتے۔ بعض علماء لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا گوہ کو نہ کھانا کراہت طبعی کی بناء پر تھا اور اور اس کو حرام قرار نہ دینے کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک آنحضرت ﷺ کے پاس وحی کے ذریعہ اس کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ آگے وہ حدیث آرہی ہے جو گوہ کی حرمت پر دلالت کرتی ہے چناچہ اسی حدیث کے بموجب حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک گوہ کا کھانا حرام ہے، جب کہ حضرت امام احمد اور حضرت امام شافعی کے نزدیک اس کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ان کی دلیل مذکورہ بالا حدیث ہے۔
گوہ کا گوشت کھانے کا مسئلہ
وعن ابن عباس : أن خالد بن الوليد أخبره أنه دخل مع رسول الله صلى الله عليه و سلم على ميمونة وهي خالته وخالة ابن عباس فوجد عندها ضبا محنوذا فقدمت الضب لرسول الله صلى الله عليه و سلم فرفع رسول الله صلى الله عليه و سلم يده عن الضب فقال خالد : أحرام الضب يا رسول الله ؟ قال : لا ولكن لم يكن بأرض قومي فأجدني أعافه قال خالد : فاجتررته فأكلته ورسول الله صلى الله عليه و سلم ينظر إلي
اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت خالد بن ولید ؓ نے ان سے بیان کیا کہ ( ایک دن) وہ ( خالد) رسول کریم ﷺ کے ہمراہ حضرت میمونہ ؓ کے گھر گئے جو ان ( خالد) کی بھی خالہ تھیں اور حضرت ابن عباس ؓ کی بھی وہاں ان کے پاس انہوں نے ( یعنی آنحضرت ﷺ نے یا حضرت خالد ؓ نے) ایک گوہ بھنی ہوئی رکھی پائی! حضرت میمونہ ؓ نے اس گوہ کو رسول کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا لیکن رسول کریم ﷺ نے اس گوہ کی طرف سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا حضرت خالد ؓ نے ( یہ دیکھا تو) پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا گوہ حرام ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ نہیں بلکہ یہ میری قوم کی زمین ( یعنی حجاز) میں نہیں پائی جاتی اس لئے میں اس سے اپنے اندر کراہت ( یعنی طبعی کراہت) محسوس کرتا ہوں۔ حضرت خالد ؓ کا بیان ہے کہ (یہ سن کر) میں نے اس گوہ کو اپنی طرف کھینچ لیا اور کھانے لگا اور آنحضرت ﷺ میری طرف دیکھتے رہے۔ ( بخاری ومسلم )
تشریح
آگے جو حدیث آئے گی اور جس میں گوہ کو کھانے کی ممانعت منقول ہے، یہ واقعہ اس سے پہلے کا ہے اس اعتبار سے یہ حدیث منسوخ قرار پائے گی۔
مرغ کا گوشت کھانا حلال ہے
وعن أبي موسى قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يأكل لحم الدجاج
اور حضرت ابوموسی کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو مرغ کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔ ( بخاری ومسلم )
وعن ابن أبي أوفى قال : غزونا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم سبع غزوات كنا نأكل معه الجراد
اور ابن ابی اوفیٰ ؓ کہتے ہیں ہم نے رسول کریم ﷺ کے ہمراہ سات جہاد کئے، ہم ( ان موقعوں پر) آنحضرت ﷺ کے ساتھ ٹڈی کھاتے تھے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
کنانا کل معہ الجراد میں لفظ معہ ( آنحضرت ﷺ کے ساتھ) نہ تو مسلم کی اصل روایت میں ہے اور نہ ترمذی میں، بلکہ اس حدیث کو جن اور محدثین نے نقل کیا ہے ان میں سے اکثر کی روایت اس لفظ سے خالی ہے، تاہم جن محدثین نے اپنی روایت میں یہ لفظ مزید نقل کیا ہے انہوں نے اس عبارت کے یہ معنی مراد لئے ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ کے ہمراہ رہتے ہوئے ٹڈی کھاتے تھے۔ اور آنحضرت ﷺ ہمیں اس سے منع نہیں فرماتے تھے۔ نہ یہ کہ ہم اور آنحضرت ﷺ ساتھ ٹڈی کھاتے تھے۔ یہ تاویل اگرچہ حدیث میں منقول ہے الفاظ کے ظاہری مفہوم کے خلاف ہے لیکن یہ ضروری اس لئے ہے کہ یہ ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ٹڈی نہیں کھائی ہے۔ بلکہ اس کے بارے میں آپ ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ نہ میں کھاتا ہوں اور نہ حرام قرار دیتا ہوں۔
دریا کے مرے ہوئے جانور کو کھانے کا واقعہ
وعن جابر قال : غزوت جيش الخبط وأمر علينا أبو عبيدة فجعنا جوعا شديدا فألقى البحر حوتا ميتا لم نر مثله يقال له : العنبر فأكلنا منه نصف شهر فأخذ أبو عبيدة عظما من عظامه فمر الراكب تحته فلما قدمنا ذكرنا ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فقال : كلوا رزقا أخرجه الله إليكم وأطعمونا إن كان معكم قال : فأرسلنا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم منه فأكله
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ جیش الخبط یعنی پتے جھاڑ کر کھانے والے لشکر کے ساتھ جہاد کے لئے جانے والوں میں میں بھی شریک تھا، حضرت ابوعبیدہ ؓ اس لشکر کے امیر ( سپہ سالار) بنائے گئے تھے چناچہ ( جب) ہم سخت بھوکے ہوئے تو دریا ( سمندر) نے ایک مری ہوئی مچھلی ( اپنے کنارے پر) پھینک دی ہم نے اتنی بڑی مچھلی کبھی نہیں دیکھی تھی اس قسم کی مچھلی کو عنبر کہا جاتا تھا۔ چناچہ ہم نے اس میں سے آدھے مہینے تک ( بڑی فراخی کے ساتھ) کھایا، پھڑ حضرت ابوعبیدہ ؓ نے اس کی ہڈیوں میں سے ایک ہڈی یعنی اس کی ایک پسلی کھڑی کی تو اس کے نیچے سے ایک اونٹ سوار ( بڑی آسانی کے ساتھ) گزر گیا، اس کے بعد جب ہم ( مدینہ واپس) آئے تو ہم نے نبی کریم ﷺ کے سامنے اس واقعہ کا ذکر کیا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ جس رزق کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے بہم پہنچایا ہے اس کو کھاؤ ( یعنی تم نے یہ اچھا کیا کہ اس مچھلی کو کھایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو تمہارا رزق بنا کر تمہارے لئے بہم پہنچایا تھا۔ یا یہ کہ اگر اس طرح کا کوئی اور رزق پاؤ تو اس کو کھاؤ) اور اگر اس مچھلی میں کوئی حضہ تمہارے پاس ( باقی رہا) ہو تو ہم کو بھی کھلاؤ ( یہ بات گویا آپ ﷺ نے ان کا دل خوش کرنے کے لئے اور اس مچھلی کے حلال ہونے کے حکم کو مؤ کد کرنے کی غرض سے فرمائی تاکہ ان لوگوں کے دل میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ وہ مچھلی اصل میں تو جائز نہیں تھی مگر ہماری اضطراری حالت کے پیش نظر اس کو ہمارے لئے حلال کردیا گیا ہے) حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ چناچہ ہم نے اس مچھلی کا کچھ حصہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں بھیج دیا اور آپ ﷺ نے اس میں سے کھایا۔ ( بخاری ومسلم )
تشریح
خبط اصل میں تو خ اور ب کے زبر کے ساتھ لیکن ب کے جزم کے ساتھ بھی منقول ہے۔ اس کے معنی ہیں درخت کے پتے جو لاٹھی و ڈنڈے سے مار کر گرائے جائیں۔ حدیث میں مذکورہ واقعہ کا تعلق جس اسلامی لشکر سے ہے اس کو اتنی سخت صورت حال سے دوچار ہونا پڑا تھا کہ زاد راہ کے فقدان کی وجہ سے لشکر والوں کو اپنی زندگیاں بچانے کے لئے مجبورا درختوں کے پتے جھاڑ جھاڑ کر کھانے پڑتے تھے یہاں تک کہ اس کی وجہ سے ان کے منہ اور ہونٹ زخمی ہوگئے تھے بلکہ ان کے ہونٹ اونٹ کے ہونٹوں کے مشابہ ہوگئے تھے۔ اسی بناء پر اس لشکر کا نام جیش الخبط یعنی پتے جھاڑ کر کھانے والا لشکر مشہور ہوگیا۔ یہ واقعہ ٦ ھ میں صلح حدیبیہ سے پہلے کا ہے۔ عنبر ایک خوشبو کا نام ہے جس کے بارے میں قاموس میں لکھا ہے کہ یہ اصل میں ایک سمندری جانور کا فضلہ ہوتا ہے، یا یہ ایک خاص قسم کے چشمے سے برآمد ہوتا ہے جو سمندر کی تہہ میں ہے۔ اور ایک قسم کی بڑی سمندری مچھلی کو بھی عنبر کہتے ہیں جس کی کھال سے ڈھال بنائی جاتی ہے۔ آدھے مہینہ تک۔ بعض روایتوں میں ایک مہینہ تک کے الفاظ ہیں اور بعض روایت میں یہ آیا ہے کہ لشکر والوں نے اس مچھلی میں سے اٹھارہ دن تک کھایا۔ ان تمام روایتوں میں یوں مطابقت پیدا کی جائے کہ اس مچھلی میں سے آدھے مہینہ تک تو پورا لشکر کھاتا رہا اس کے بعد لشکر میں سے کچھ لوگ اٹھارہ دن تک اور کچھ لوگ پورے مہینے تک کھاتے رہے۔
کھانے پینے کی چیز میں مکھی گر پڑے تو اس کا حکم
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا وقع الذباب في إناء أحدكم فليغمسه كله ثم ليطرحه فإن في أحد جناحيه شفاء وفي الآخر داء . رواه البخاري
اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کسی شخص کے برتن میں ( کہ جس میں کھانے پینے کی کوئی چیز ہو) مکھی گرپڑے تو اس کو چاہئے کہ وہ اس پوری مکھی کو غوطہ دے اور پھر نکال کر پھینک دے کیونکہ اس ( مکھی کے دونوں پروں میں سے ایک پر میں شفا ہے اور دوسرے پر میں بیماری ہے۔ ( بخاری ومسلم )
تشریح
اسی طرح کی ایک حدیث جو حضرت ابوہریرہ ؓ ہی سے منقول ہے دوسری فصل میں بھی نقل ہوگی۔ اس میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مکھی بیماری کے پر کو پہلے ڈالتی ہے لہٰذا پوری مکھی کو غوطہ دے لو تاکہ اس کا دوا والا پر بھی ڈوب جائے اور اس طرح اس کھانے پینے کی چیز سے وہ مضر اثرات زائل ہوجائیں جو بیماری والے پر کے ذریعہ پہنچے ہیں۔
جس گھی میں چوہا گر جائے اس کا حکم
وعن ميمونة أن فأرة وقعت في سمن فماتت فسئل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ألقوها وما حولها وكلوه . رواه البخاري
اور حضرت میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک چوہا گھی میں گرپڑا اور مرگیا۔ چناچہ رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا ( اس گھی کا کیا کیا جائے) تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس چوہے کو اور اس کے اردگرد کے گھی کو نکال کر پھینک دو اور ( باقی) گھی کو کھاؤ۔ ( بخاری )
تشریح
یہ اس گھی کا حکم ہے جو جما ہوا ہو اور جو گھی پگھلا ہوا ہو وہ تو اس صورت میں سارا نجس ہوجاتا ہے اور بالاتفاق تمام علماء کے نزدیک اس کا کھانا جائز نہیں، اس طرح اس گھی کو بیچنا بھی اکثر ائمہ کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ البتہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے اس کے بیچنے کو جائز رکھا ہے۔ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ آیا اس گھی سے کوئی اور فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے یا نہیں؟ چناچہ بعض حضرات کے نزدیک اس سے کوئی بھی فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے، جب کہ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اس کو چراغ میں جلانے، کشتیوں پر ملنے یا اس طرح کے کسی اور مصرف میں لا کر اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ یہ قول حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا ہے اور حضرت امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک قول جو زیادہ مشہور ہے، بھی یہی ہے۔ لیکن یہ جواز کراہت کے ساتھ ہے۔ حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد سے دو روایتیں منقول ہیں۔ حضرت امام مالک سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس گھی کو مسجد کے چراغ میں جلانا جائز نہیں ہے۔
وعن ابن عمر أنه سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول : اقتلوا الحيات واقتلوا ذا الطفيتين والأبتر فإنهما يطمسان البصر ويستسقطان الحبل قال عبد الله : فبينا أنا أطارد حية أقتلها ناداني أبو لبابة : لا تقتلها فقلت : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر بقتل الحيات . فقال : إنه نهى بعد ذلك عن ذوات البيوت وهن العوامر
اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ( عموماً تمام) سانپوں کو مار ڈالو اور ( خصوصا) اس سانپ کو کہ جس کی پشت پر دو سیاہ دھاریاں ہوں اور اس سانپ کو جس کو بتر کہتے ہیں مار ڈالو کیونکہ یہ دونوں قسم کے سانپ بینائی کو زائل کردیتے ہیں ( یعنی محض ان کو دیکھنے سے آدمی اندھا ہوجاتا ہے اور اس کا سبب اس زہر کی خاصیت ہے جو ان سانپوں میں ہوتا ہے اسی طرح (یہ ہدونوں سانپ) حمل کو گرا دیتے ہیں ( یعنی اگر حاملہ عورت ان کو دیکھے تو اس زہر کی خاصیت کے سبب سے یا خوف و دہشت کی وجہ سے اس کا حمل گر جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ ( ایک دن) جب کہ میں ایک سانپ پر حملہ کر کے اس کو مار ڈالنے کے درپے تھا کہ ( ایک صحابی) حضرت ابولبابہ انصاری نے مجھ کو آواز دے کر کہا کہ اس کو مت مارو، میں نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے تمام سانپوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت ابولبابہ نے کہا کہ لیکن آنحضرت ﷺ نے اس ( عام حکم) کے بعد گھر میں رہنے والے سانپوں کو مار ڈالنے سے منع فرمادیا تھا کیونکہ وہ گھر کو آباد کرنے والے ہیں۔ ( بخاری ومسلم )
تشریح
وہ گھر کو آباد کرنے والے ہیں۔ اصل میں عمر اور عمر کے معنی ہیں آباد کرنا، مدت دراز تک زندہ رہنا، چناچہ ان سانپوں کو عوامر اسی لئے کہا گیا ہے کہ ان کی عمر بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس وجہ سے وہ ہمیشہ گھر میں رہتے ہیں، ہمارے یہاں اس قسم کے سانپ کو بھومیا کہا جاتا ہے۔ اور تورپشتی نے کہا ہے کہ اصل میں عوامر کا اطلاق جنات پر ہوتا ہے، اس اعتبار سے وہ گھر کو آباد کرنے والے ہیں۔ سے مراد یہ ہوگی کہ گھروں میں اکثر وبیشتر جو سانپ نظر آتے ہیں وہ حقیقت میں جنات ہوتے ہیں جو سانپ کی صورت اختیار کئے ہوئے ہیں، لہٰذا گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے میں احتیاط کرنی چاہئے کہ مبادا جس سانپ کو مار ڈلا گیا ہے وہ حقیقت کے اعتبار سے گھر میں رہنے والا جن رہا ہو اور اس کے قتل سے گھر والوں کو کوئی نقصان وضرر پہنچ جائے۔ طبرانی نے ابن عباس ؓ سے بطریق مرفوع یہ روایت نقل کی ہے کہ اقتلو الحیۃ والعقرب وان کنتم فی الصلوۃ۔ سانپ اور بچھو کو مار ڈالو اگر چھ تم نماز کی حالت میں کیوں نہ ہو۔ اسی طرح ابوداؤد و نسائی نے حضرت ابن مسعود ؓ اور طبرانی نے جریر سے اور انہوں نے حضرت عثمان بن ابوالعاص سے بطریق مرفوع یہ روایت نقل کی ہے کہ اقتلو الحیات کلھن فمن خاف ثارھن فلیس منی۔ ہر قسم کے سانپوں کو مار ڈالو، جو شخص ان ( سا نپوں کے بدلے انتقام سے ڈرا اس کی وجہ سے ان کو نہیں مارا) تو وہ مجھ سے نہیں ہے۔ لیکن یہ روایتیں کہ جن سے مطلق سانپوں کو مار ڈالنے کا حکم ثابت ہوتا ہے، اصل میں یہ گھروں میں رہنے والے سانپوں کے علاوہ دوسرے سانپوں پر محمول ہیں جیسا کہ حضرت ابن عمر کی مذکورہ بالا روایت یا آگے آنے والی دوسری روایتوں سے واضح ہوتا ہے۔