Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,333 hadiths in order · Page 200 of 317

3981Mishkaat-al-Masabih

منہ پر مارنے یا منہ کو داغنے کی ممانعت

وعنه أن النبي صلى الله عليه و سلم مر عليه حمار وقد وسم في وجهه قال : لعن الله الذي وسمه . رواه مسلم

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ ( ایک دن) نبی کریم ﷺ کے سامنے سے ایک گدھا گزرا جس پر داغ دیا گیا تھا آپ ﷺ نے ( اس کو دیکھ کر) فرمایا کہ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جس نے اس کو داغا ہے۔ ( مسلم ) تشریح اگر یہاں یہ سوال پیدا ہو کہ آنحضرت ﷺ نے اس گدھے کے منہ پر داغ دینے والے پر لعنت فرمائی حالانکہ مسلمانوں پر لعنت کرنے سے منع کیا گیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ ہوسکتا ہے کہ داغنے والا مسلمان نہ رہا ہو یا منافقین میں سے ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ آپ ﷺ کا یہ لعنت کرنا بد دعا کے طور پر نہ ہو بلکہ اخبار بالغیب کے طور پر ہو یعنی آپ ﷺ نے اس جملہ کے ذریعہ گویا یہ خبر دی کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کے ہاں لعنت کا مستوجب قرار پا گیا ہے۔ جاننا چاہئے کہ کسی بھی جاندار کے منہ پر داغ دینا متفقہ طور پر تمام علماء کے نزدیک ممنوع ہے، خواہ آدمی ہو یا کوئی بھی جانور و حیوان! جانور کے منہ کے علاوہ اس کے جسم کے کسی اور حصہ پر داغ دینے کا مسئلہ یہ ہے کہ امتیاز و تعین کے مقصد سے زکوٰۃ اور جزیہ کے جانوروں کو داغنے کو تو بعض علماء نے مستحب کہا ہے اور ان کے علاوہ دوسرے جانوروں کو داغنا بھی محض جائز ہے۔ جہاں تک آدمیوں پر داغ دینے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں آنحضرت ﷺ اور صحابہ وغیرہ کے مختلف اخبار و آثار قولا اور فعلا منقول ہیں۔ بعض اقوال اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ کوئی اچھا فعل نہیں ہے، بعض اقوال مدح ترک پر دلالت کرتے ہیں اور بعض اقوال صریح ممانعت کو ثابت کرتے ہیں، جب کہ آنحضرت ﷺ کا یہ عمل جواز پر دلالت کرتا ہے آپ ﷺ نے ایک طبیب کو حضرت ابی بن کعب ؓ کے پاس بھیجا جس نے ان کی فصد کھولی اور داغا، نیز حضرت جابر ؓ اور حضرت سعد بن معاذ ؓ زخمی ہوئے تو آنحضرت ﷺ نے ان پر داغ دینے کی اجازت دی، بلکہ جب ورم ہوا تو ان پر اور داغ دیا گیا، نیز حضرت جابر ؓ اور حضرت ابوذرارہ ؓ کے جسم پر داغ دیا جانا بھی منقول ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ جن اقوال میں انسانی جسم کو داغنے کی ممانعت مذکور ہے ان کا تعلق قصدا بلا ضرورت و امتیاج داغنے سے ہے، ہاں اگر کسی مرض وغیرہ کے سلسلے میں داغ دینے کی ضرورت ہو تو جائز ہے۔ علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ ( علاج کی نیت سے) انسانی جسم کے کسی حصہ کو داغنا، اسباب و ہم یہ میں سے ہے کہ اس کو اختیار کرنا جذبہ توکل و اعتماد علی اللہ کے اعتبار سے مناسب نہیں ہے جب کہ دوسرے علاج اسباب طنیہ میں سے ہونے کی وجہ سے توکل کے قطعا منافی نہیں ہیں، ہاں اگر اس بات کا ظن غالب ہو کہ داغنا، مرض کے دفعیہ کے لئے ایک سود مند علاج ہوگا تو اس صورت میں اس کو اختیار کرنا غیر مناسب نہیں ہوگا۔ چناچہ اہل فتویٰ نے اسی قول کو اختیار کیا ہے کہ داغنا بذاتہ مکروہ تحریمی ہے مگر ظن غالب حاصل ہونے کی صورت میں بایں طور کہ طبیب حاذق یہ کہہ دے کہ مرض کے دفعیہ کا انحصار صرف داغنے پر ہے اور اس کے علاوہ اور کوئی دوسرا علاج نہیں ہے تو داغنا مکروہ تحریمی نہیں ہوگا۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ داغنے کی ممانعت اس بنیاد پر ہے کہ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب اس بات کا پختہ عقیدہ رکھتے تھے کہ داغنا مرض کے دفعیہ کے لئے ایک قطعی اور یقینی علاج ہے، ظاہر ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے یہ ایک باطل عقیدہ تھا۔ اس لئے مسلمانوں کو اس سے منع کیا گیا تاکہ وہ اس کو اختیار کرنے سے شرک خفی کے جال میں نہ پھنس جائیں۔

3982Mishkaat-al-Masabih

جانوروں کو کسی ضرورت ومصلحت کی وجہ سے داغنا جائز ہے

وعن أنس قال : غدوت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بعبد الله بن أبي طلحة ليحنكه فوافيته في يده الميسم يسم إبل الصدقة

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ میں ( ایک دن) صبح کے وقت عبداللہ بن ابوطلحہ ؓ کو رسول کریم ﷺ کی خدمت میں لے گیا تاکہ آپ ﷺ کھجور چبا کر اس کے تالو میں لگا دیں، چناچہ اس وقت میں نے آپ ﷺ کو اس حال میں دیکھا کہ آپ ﷺ کے دست مبارک میں داغنے کا آلہ تھا جس کے ذریعہ زکوٰۃ کے اونٹوں کو داغ رہے تھے۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح عبداللہ بن طلحہ ؓ ماں کی طرف سے حضرت انس ؓ کے بھائی تھے یعنی ماں کی طرف سے حقیقی بھائی تھے اور باپ کی طرف سے سوتیلے بھائی تھے اور ابوطلحہ ؓ عنہ، حضرت انس ؓ کی ماں کے دوسرے خاوند تھے جن سے عبداللہ پیدا ہوئے تھے کھجور چبا کر اس کا لعاب بچے کے تالو میں لگانا سنت ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ان اونٹوں کو داغنا کسی خلجان کا باعث نہیں بننا چاہئے کیونکہ آپ ﷺ منہ کے علاوہ جسم کے دوسرے حصوں پر داغ دے رہے تھے اور داغنے کی جو ممانعت منقول ہے اس کا تعلق خاص طور پر منہ سے ہے، یا بلا ضرورت داغنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے جب کہ زکوٰۃ کے اونٹوں کو اس ضرورت کے تحت داغا جا رہا تھا کہ ان کے اور دوسرے اونٹوں کے درمیان فرق و امتیاز کیا جاسکے۔

3983Mishkaat-al-Masabih

جانوروں کو کسی ضرورت ومصلحت کی وجہ سے داغنا جائز ہے

وعن هشام بن زيد عن أنس قال : دخلت على النبي صلى الله عليه و سلم وهو في مربد فرأيته يسم شاء حسبته قال : في آذانها

اور حضرت ہشام ین زید، حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں ( ایک دن) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ ﷺ جانوروں کے باڑے میں تھے، میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ بکریوں وغیرہ کے کسی عضور پر داغ دے رہے تھے۔ ہشام کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ حضرت انس ؓ نے یہ بیان کیا تھا کہ ( آپ ﷺ ان بکریوں وغیرہ کے کان پر ( داغ دے رہے تھے۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ منہ یعنی چہرہ میں کان شامل نہیں ہے، کیونکہ ( چہرہ) پر داغ دینے سے تو منع فرمایا گیا ہے اگر کان کا تعلق بھی چہرہ سے ہوتا تو آپ ﷺ کان پر داغ کیوں دیتے۔

3984Mishkaat-al-Masabih

جو چیز خون بہا دے اس کے ذریعہ ذبح کرنا درست ہے

عن عدي بن حاتم قال : قلت يا رسول الله أرأيت أحدنا أصاب صيدا وليس معه سكين أيذبح بالمروة وشقة العصا ؟ فقال : أمرر الدم بم شئت واذكر اسم الله . رواه أبو داود والنسائي

اور حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے یہ بتائیے کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص ( کسی جانور کا) شکار پکڑے اور اس وقت اس کے پاس چھری نہ ہو تو کیا وہ کسی پتھر کے ٹکڑے یا کسی لکڑی کی کھپچ سے اس شکار کو ذبح کرسکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم جس چیز سے چاہو بسم اللہ پڑھ کر خون بہا دو۔ ( ابوداؤد، نسائی )

3985Mishkaat-al-Masabih

ذبح اضطراری کا حکم

وعن أبي العشراء عن أبيه أنه قال : يا رسول الله أما تكون الذكاة إلا في الحلق واللبة ؟ فقال : لو طعنت في فخذها لأجزأ عنك . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي وقال أبو داود : وهذه ذكاة المتردي وقال الترمذي : هذا في الضرورة

اور حضرت ابوالعشراء اپنے والد محترم سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! کیا ( شرعی) ذبح کا تعلق حلق اور سینہ کے سرے کے درمیانی حصے سے ہے؟ یعنی کیا شرعی طور پر ذبح صرف اسی کو کہا جائے گا کہ جانور کے حلق اور سینے کے سرے کے درمیان جراحت کے ساتھ خون بہایا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم شکار کی ران میں بھی جراحت پہنچا دو گے تو تمہارے لئے کافی ہوگا۔ ( ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی) امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ یہ ( یعنی حدیث میں مذکورہ ذبح کی اجازت دینا، اس جانور سے متعلق ہے جو کنویں میں گرپڑا ہو یعنی یہ ذبح اضطراری کی صورت کا حکم ہے اور امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ ضرورت کی حالت کا حکم ہے۔ تشریح امام ترمذی نے گویا امام ابوداؤد کی وضاحت کو اور زیادہ توسع کے ساتھ بیان کیا تاکہ اس حکم میں بھاگے ہوئے اونٹ کو ذبح کرنے کی صورت بھی شامل ہوجائے۔

3986Mishkaat-al-Masabih

اگر تربیت یافتہ کتے وغیرہ کا پکڑا ہوا شکار مر بھی جائے تو اس کا کھانا جائز ہے

وعن عدي بن حاتم أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما علمت من كلب أو باز ثم أرسلته وذكرت اسم الله فكل مما أمسك عليك . قلت : وإن قتل ؟ قال : إذا قتله ولم يأكل منه شيئا فإنما أمسكه عليك . رواه أبو داود

اور حضرت عدی ابن حاتم ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس جانور کو تم نے سکھلایا خواہ وہ کتا ہو یا باز اور پھر تم نے ( ان میں سے) کسی کو شکار پر چھوڑا اور ( چھوڑتے وقت) اللہ کا نام لیا تو تم اس جانور کو کھالو جس کو اس ( کتے یا باز نے) تمہارے لئے پکڑا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اگرچہ اس نے اس ( شکار) کو مار ڈالا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا جب کہ وہ کتا یا باز شکار کو مار ڈالے اور خود اس میں سے کچھ نہ کھائے تو اس کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ اس نے اس شکار کو تمہارے ( ہی) لئے پکڑ رکھا ہے۔ ( ابوداؤد )

3987Mishkaat-al-Masabih

تیر کے شکار کا حکم

وعنه قال : قلت : يا رسول الله أرمي الصيد فأجد فيه من الغد سهمي قال : إذا علمت أن سهمك قتله ولم تر فيه أثر سبع فكل . رواه أبو داود

اور حضرت عدی ابن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں شکار پر اپنا تیر چلاتا ہوں اور پھر اگلے دن ( جب وہ شکار کہیں پڑا ہوا مجھے ملتا ہے تو) اس میں میں اپنا تیر پاتا ہوں ( کیا میں وہ شکار کو کھا سکتا ہوں؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا اس صورت میں اگر تم یہ جانور کہ اس شکار کو تمہارے ہی تیر نے مار ڈالا ہے اور اس ( شکار) میں تم کسی درندے کا کوئی نشان نہ پاؤ تو اس کو کھا سکتے ہو ( اور اگر اس شکار میں کسی درندے کے دانت یا پنجے وغیرہ کوئی نشان پاؤ یا کسی دوسرے کے تیر کی علامت پاؤ تو اس صورت میں اس کو مت کھاؤ۔ ( ابوداؤد ) جس غیر مسلم کے ہاتھ کا ذبیحہ حلال نہیں، اس کا کتے وغیرہ کے ذریعہ پکڑا ہوا شکار بھی حلال نہیں

3988Mishkaat-al-Masabih

تیر کے شکار کا حکم

وعن جابر قال : نهينا عن صيد كلب المجوس . رواه الترمذي

اور حضرت حابر ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں مجوسیوں کے کتے کا پکڑا ہوا شکار کھانے سے منع کیا گیا ہے۔ ( ترمذی ) تشریح مطلب یہ ہے کہ جس شکار کو مجوسی اپنے کتے یا کسی مسلمان کے کتے کے ذریعہ پکڑے اس کو کھانا جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ شکار زندہ ہاتھ لگے اور اس کو ذبح کرلیا جائے تو اس صورت میں اس کو کھانا جائز ہوگا اور اسی طرح اگر مسلمان نے مجوسی کے کتے کے ذریعہ شکار مارا ہے تو اس کو کھانا بھی جائز ہوگا اور اگر کتے چھوڑنے یا تیر چلانے میں مسلمان اور مجوسی دونوں شریک ہوں اور وہ شکار مارے تو وہ شکار بھی حلال نہیں ہوگا۔

3989Mishkaat-al-Masabih

غیر مسلم کے برتن میں کھانے پینے کی مشروط اجازت

وعن أبي ثعلبة الخشني قال : قلت : يا رسول الله إنا أهل سفر تمر اليهود والنصارى والمجوس فلا نجد غير آنيتهم قال : فإن لم تجدوا غيرها فاغسلوها بالماء ثم كلوا فيها واشربوا . رواه الترمذي

اور حضرت ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ! ہم ( اکثر) سفر کرنے والے لوگوں میں سے ہیں، ہمارا گزر یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں ( کی آبادیوں) پر سے ( بھی) ہوتا ہے، اس وقت ان کے برتنوں کے علاوہ اور برتن ہمارے پاس نہیں ہوتے ( تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا پی سکتے ہیں؟ ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر تمہیں ان کے برتنوں کے علاوہ برتن دستیاب نہ ہوں تو ان کے برتنوں کو پانی سے دھو مانج لو اور پھر ان میں کھاؤ پیو۔ ( ترمذی ) تشریح غیر مسلم کے برتن میں کھانے پینے کے سلسلے میں الفصل الاول میں بھی حدیث گزری ہے اور اس موقع پر اس مسئلہ کی وضاحت کی جا چکی ہے۔

3990Mishkaat-al-Masabih

غیر مسلموں کے ہاں کا کھانا حلال ہے

وعن قبيصة بن هلب عن أبيه قال : سألت النبي صلى الله عليه و سلم عن طعام النصارى وفي رواية : سأله رجل فقال : إن من الطعام طعاما أتحرج منه فقال : لا يتخلجن في صدرك شيء ضارعت فيه النصرانية . رواه الترمذي وأبو داود

اور حضرت قبیصہ ؓ بن ہلب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے عیسائیوں کے کھانوں کے بارے میں دریافت کیا ( کہ ہم لوگ کھائیں یا نہیں؟ ) اور ایک رویت میں یوں ہے کہ ( اس بارے میں) ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے مسئلہ پوچھا، چناچہ اس نے عرض کیا کہ کھانوں میں سے ایک کھانا ( یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کا کھانا) ایسا ہے جس سے میں پرہیز کرتا ہوں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے دل میں کسی چیز یعنی شک و شبہ کی کھٹک نہ پیدا ہونی چاہئے، تم نے اپنے اس عمل کے ذریعہ عیسائیت کی مشابہت اختیار کی ہے۔ ( ترمذی ابوداؤد ) تشریح تم نے اپنے اس عمل کے ذریعہ عیسائیت کی مشابہت اختیار کی کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے سائل پر یہ واضح کیا کہ تمہارا عیسائیوں کے تیار کئے ہوئے کھانے سے پرہیز کرنا ایک ایسا عمل ہے جس نے تمہیں عیسائیوں کے مشابہ کردیا ہے کیونکہ یہ عیسائیوں ہی کا شیوہ ہے کہ انہوں نے کھانے پینے کے معاملہ میں اپنے اوپر بےجا پابندیاں عائد کرلی ہیں اور ان کے پادریوں نے دین میں سختی پیدا کردی ہے چناچہ اگر ان کے دل میں کسی بھی اچھے خاصے اور حلال کھانے کے بارے میں یہ کھٹک پیدا ہوجاتی ہے کہ یہ حرام ہے یا مکروہ ہے تو وہ بلا سوچے سمجھے اس سے پرہیز کرنے لگتے ہیں۔ لہٰذا تم بلا دلیل شک و شبہ میں پڑ کر ان کے کھانے سے پرہیز نہ کرو، تم مسلمان ہو اور تمہارا دین نہایت سیدھا سادا اور آسان ہے اس میں سختی اور دشواری کا نام نہیں ہے، تمہیں اپنے عمل سے اپنے دین کی نرمی اور آسانی کو ظاہر کرنا چاہئے، اگر تم بلا تحقیق کسی کھانے کو حرام سمجھنے لگو گے تو یہ اپنے اوپر بےجا قسم کی پابندی عائد کرنے اور اپنے دین کو سخت ظاہر کرنے کے مرادف ہی نہیں ہوگا بلکہ عیسائیت کی مشابہت اختیار کرنے کے برابر بھی ہوگا۔ بعض حضرات نے حدیث کے آخری جزو کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ تمہارے دل میں کوئی خدشہ اس بات کا نہ گزرے کہ عیسائیوں کا کھانا کھانے سے تم ان کے مشابہ ہوگئے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ کسی کھانے کو محض اس لئے اپنے اوپر حرام نہ کرلو کہ وہ کسی غیر مسلم کا تیار کیا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے اس غیر مسلم کی مشابہت لازم آئے گی کیونکہ کھانے پینے کی چیزوں میں کسی قوم کی مشابہت ضرر نہیں کرتی بشرطیکہ تشبیہ کی نیت نہ ہو۔ اس ارشاد گرامی میں عیسائیت کی تخصیص محض اس بنیاد پر ہے کہ سوال کرنے والے صحابی حضرت عدی بن حاتم ؓ تھے جو اسلام قبول کرنے سے پہلے عیسائیت کے پیرو تھے۔ بہر حال! حدیث سے یہ واضح ہوا کہ جب تک کسی کھانے کی حرمت کا یقین نہ ہو محض شک کی وجہ سے اس سے پرہیز کرنا یا اس کو کھانے میں تردد کرنا مناسب نہیں ہے، غیر مسلم اقوام کی طرح اسلام میں کھانے پینے کا پرہیز نہیں ہے کہ ذرا کسی کا ہاتھ لگ گیا تو وہ کھانا چھوت ہوگیا، بلکہ مسلمانوں کو اجازت ہے کہ وہ ہر قوم کا پکا ہوا کھانا کھا سکتے ہیں، بشرطیکہ یہ یقین نہ ہو کہ اس کھانے میں کوئی حرام چیز ملائی گئی ہے یا وہ نجس برتنوں میں پکایا گیا ہے۔ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کوئی غیر مسلم کوئی حرام چیز پکائے مثلا غیر مذبوحہ گوشت یا مردار یا سؤر اور یا کھانے میں شراب ملائے تو اس کو بھی کھالیا جائے۔

3991Mishkaat-al-Masabih

مجثمہ کا کھانا ممنوع ہے

وعن أبي الدرداء قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أكل المجثمة وهي التي تصبر بالنبل . رواه الترمذي

اور حضرت ابودرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجثمہ کو کھانے سے منع فرمایا ہے۔ اور مجثمہ اس جانور کو کہتے ہیں، جس کو باندھ کر نشانہ کی مانند کھڑا کیا جائے اور پھر اس پر تیر مارا جائے۔ ( ترمذی ) تشریح روایت میں مجثمہ کی وضاحت کے لئے جو الفاظ منقول ہیں وہ کسی راوی کے ہیں۔ یہ جاہل اور بےرحم لوگ کیا کرتے ہیں، کہ بےزبان پرندوں اور جانوروں کو بانتدھ کر ان کو نشانہ بناتے ہیں، شریعت نے اس عمل سے بھی منع کیا ہے اور ایسے جانور کا گوشت کھانا بھی ممنوع قرار دیا ہے کیونکہ اس طرح قتل کئے جانے سے ذبح کا مقصد اور مفہوم حاصل نہیں ہوتا اور جب وہ جانور شرعی طور پر ذبیحہ نہیں ہوگا تو اس کا کھانا بھی حرام ہوگا۔

3992Mishkaat-al-Masabih

وہ جانور جن کا کھانا حرام ہے

وعن العرباض بن سارية أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى يوم خيبر عن كل ذي ناب من السباع وعن كل ذي مخلب من الطير وعن لحوم الحمر الأهلية وعن المجثمة وعن الخليسة وأن توطأ الحبالى حتى يضعن ما في بطونهن قال محمد بن يحيى : سئل أبو عاصم عن المجثمة فقال : أن ينصب الطير أو الشيء فيرمى وسئل عن الخليسة فقال : الذئب أو السبع يدركه الرجل فيأخذ منه فيموت في يده قبل أن يذكيها . رواه الترمذي

اور حضرت عرباض بن ساریہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے خیبر کے دن ان جانوروں کو کھانے سے منع فرمایا کچلی والا درندہ، پنجہ والا پرندہ، گھر کے پالتو گدھوں کا گوشت، مجثمہ اور خلیہ۔ نیز آپ نے ( جہاد میں پکڑی گئی) ان لونڈیوں سے جماع کرنے سے بھی منع فرمایا جو حاملہ ہوں جب تک کہ وہ اس بچہ کو نہ جن لیں جو ان کے پیٹ میں ہے۔ حضرت محمد بن یحیٰی ( جو امام ترمذی کے شیخ و استاد ہیں اور حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی ہیں) کہتے ہیں کہ ( میرے شیخ و استاد) حضرت ابوعاصم سے مجثمہ کے معنی دریافت کئے گئے تو انہوں نے فرمایا کہ ( مجثمہ کا مطلب یہ ہے کہ) کسی پرندہ یا چرندہ کو ( باندھ کر) کھڑا کیا جائے اور پھر اس پر تیر مارا جائے۔ اسی طرح حضرت عاصم سے خلیہ کے معنی دریافت کئے گئے تو انہوں نے فرمایا کہ ( اس کا مطلب یہ ہے کہ) بھیڑیے یا کسی اور درندے نے کسی جانور کو پکڑ لیا ہو اور پھر کوئی شخص اس ( درندے) سے وہ جانور چھین لے اور وہ جانور ذبح کئے جانے سے پہلے ہی اس ( شخص) کے ہاتھ میں مرجائے۔ ( ترمذی ) تشریح خیبر کے دن سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مذکورہ چیزوں کی ممانعت کا حکم اس سال جاری فرمایا جس میں خیبر فتح ہوا تھا، یا عین خیبر کی فتح کے وقت جاری فرمایا اور یہ بھی ممکن ہے کہ جن دنوں میں خیبر میں جہاد جاری تھا انہی دنوں میں سے کسی ایک دن یہ حکم جاری فرمایا گیا۔ ذی ناب اس درندے کو کہتے ہیں جس کے کچلی یعنی نوکدار دانت ہوں اور اپنی کچلی کے ذریعہ ( جانور وغیرہ) کو پھاڑتا ہو جیسے شیر، بھیڑیا، چیتا، ریچھ، سؤر، لومڑی اور بجو وغیرہ۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ اگر لومڑی اور بجو درندوں میں شامل نہیں ہیں تو وہ حلال ہیں۔ ذی مخلب اس پرندے کو کہتے ہیں جو اپنے پنجے سے شکار کرتا ہے، جیسے باز، بحری شکرہ، چرغ، الو، چیل اور گدھ وغیرہ۔ گھر کے پالتو گدھوں سے مراد وہ گدھے ہیں جو بستی میں رہتے ہیں، چناچہ جنگلی گدھے کا گوشت حلال ہے، حدیث میں مذکورہ ممانعت سے پہلے پالتو گدھے کا گوشت بھی حلال تھا۔ لونڈیوں سے جماع کرنے سے بھی منع فرمایا الخ یہ حکم ان لونڈیوں کا ہے جو حاملہ ہونے کی حالت میں کسی کے شرعی قبضہ و تسلط میں آئی ہوں اور جو لونڈی ایسی حالت میں کسی کے شرعی قبضہ و تسلط میں آئی ہو کہ وہ حاملہ نہ ہو تو اس کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اس کے ساتھ اس وقت تک ہم بستری نہ کی جائے جب تک کہ اس کو ایک حیض نہ آجائے۔

3993Mishkaat-al-Masabih

شریطہ کا کھانا ممنوع ہے

وعن ابن عباس وأبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن شريطة الشيطان . زاد ابن عيسى : هي الذبيحة يقطع منها الجلد ولا تفرى الأوداج ثم تترك حتى تموت . رواه أبو داود

حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے شریطہ شیطان سے منع فرمایا ہے۔ ابن عیسیٰ ( حدیث کے ایک راوی) نے یہ مزید بیان کیا کہ شریطہ شیطان یہ ہے کہ جانور ( کے حلق کے اوپر) کی کھال کاٹ دی جائے اور اس کی پوری رگیں نہ کاٹی جائیں اور پھر اس کو چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے۔ ( ابوداؤد ) تشریح زمانہ جاہلیت میں مشرک ایسا کرتے تھے کہ جانور حلق کے اوپر کی ٹھوڑی کی کھال کاٹ کر چھوڑ دیتے تھے چونکہ ان کی رگیں پوری نہیں کٹتی تھیں اس لئے وہ آسانی کے ساتھ مرنے کی بجائے بڑی سختی کے ساتھ تڑپ تڑپ کر مرجاتا تھا۔ اس کو شریط اس سبب سے فرمایا گیا ہے کہ شرط جو شرط حجام سے ماخوذ ہے، کے معنی نشتر مارنے کے ہیں، یا شرط علامت کے معنی میں ہے اور اس کی نسبت شیطان کی طرف اس اعتبار سے کی گئی ہے کہ اس فعل شنیع کا باعث وہی ( شیطان) ہے اور وہ اس طرح کا ذبیحہ کرنے والے سے بہت خوش ہوتا ہے۔

3994Mishkaat-al-Masabih

ذبیحہ کے پیٹ کے بچہ کا حکم

وعن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ذكاة الجنين ذكاة أمه . رواه أبو داود والدارمي

اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ماں کا ذبح کرنا اس کے پیٹ کا بھی ذبح کرنا ہے۔ ( ابوداؤد، دارمی )۔ ترمذی نے اس روایت کو حضرت ابوسعید ؓ سے نقل کیا ہے۔ تشریح حدیث کا ظاہری مطلب تو یہ ہے کہ ماں کا ذبح ہونا اس کے پیٹ کے بچہ کے حلال ہونے کے لئے کافی ہے، مثلا کسی شخص نے اونٹنی کو نحر کیا یا بکری کو ذبح کیا اور اس کے پیٹ سے مرا ہوا بچہ نکلا تو اس کو کھانا جائز ہے، چنانچھ حضرت امام مالک حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا یہ مسلک ہے لیکن حضرت امام شافعی کے نزدیک تو اس بچہ کا کھانا ہر حال میں درست ہوگا، خواہ اس کے جسم پر بال ہوں یا نہ ہوں اور حضرت امام مالک کے نزدیک اس بچہ کو کھانا اسی صورت میں جائز ہوگا جب کہ اس کی جسمانی ساخت مکمل ہوچکی ہو اور اس کے بدن پر بال نکل چکے ہوں۔ ان تینوں ائمہ کے برخلاف حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ اس بچہ کو کھانا حلال نہیں ہے ہاں اگر وہ بچہ ماں کے پیٹ سے زندہ نکلے اور پھر اس کو ذبح کیا جائے تو اس صورت میں اس کو کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ حنفیہ میں سے امام زفر اور حضرت امام حسن ابن زیاد کا بھی یہی قول ہے، ان حضرات کی طرف سے اپنے مسلک کی دلیل کے طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر شکار ( گولی یا تیر وغیرہ کھا کر) پانی میں گرپڑے اور پھر اس میں سے مردہ نکلے تو اس کو کھانا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ احتمال ہے کہ وہ شکار پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے مرا ہو۔ جب آنحضرت ﷺ نے جان نکلنے کے سبب میں شک واقع ہوجانے کی وجہ سے اس شکار کو کھانا حرام قرار دیا تو چونکہ وہی چیز یعنی جان نکلنے کے سبب میں شک کا واقع ہونا، ذبیحہ کے پیٹ سے نکلنے والے مردہ بچہ کے بارے میں بھی موجود ہے اس لئے وہ بھی حرام ہوگا کیونکہ جس طرح پانی میں گرجائے اور شکار کی موت کا سبب معلوم نہیں ہوسکتا اسی طرح اس مردہ بچہ کی موت کا سبب بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ آیا وہ اپنی ماں کے ذبح کئے جانے کے سبب سے مرا ہے یا دم گھٹنے کی وجہ سے مرگیا ہے۔ جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے تو حضرت امام اعظم کے نزدیک اس حدیث کے صحیح ہونے میں کلام کیا گیا ہے۔

3995Mishkaat-al-Masabih

ذبیحہ کے پیٹ کے بچہ کا حکم

وعن أبي سعيد الخدري قال : قلنا : يا رسول الله ننحر الناقة ونذبح البقرة والشاة فنجد في بطنها جنينا أنلقيه أم نأكله ؟ قال : كلوه إن شئتم فإن ذكاته ذكاة أمه . رواه أبو داود وابن ماجه

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ جب ہم اونٹنی کو نحر کرتے ہیں یا گائے اور بکری کو ذبح کرتے ہیں تو ( بسا اوقات) ہم اس ذبیحہ کے پیٹ میں مردہ بچہ پاتے ہیں، آیا ہم اس بچہ کو پھینک دیا کریں یا کھالیا کریں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر تم چاہو تو اس کو کھالیا کرو کیونکہ اس کی ماں کا ذبح کرنا اس بچہ کا بھی ذبح کرنا ہے۔ ( ابوداؤد، ابن ماجہ ) تشریح مفہوم کے اعتبار سے یہ روایت بھی وہی ہے جو اوپر نقل کی گئی ہے۔ اور اس سلسلے میں ائمہ کے جو اختلافی اقوال ہیں ان کو بھی اوپر ہی ذکر کیا جا چکا ہے۔ نحر اور ذبح کی تفصیل پہلے صفحات میں بتایا گیا تھا کہ ذبح کرنے کی دو قسمیں ہیں ایک تو اختیاری اور دوسری اضطراری، پھر اختیاری کی بھی دو صورتیں ہیں ایک تو نحر اور دوسری ذبح چناچہ نحر تو یہ ہے کہ اونٹ کے سینہ میں نیزہ مارا جائے ( یعنی اس کے سینے کو نیزہ سے چیرا دیا جائے) اور اونٹ میں مستحب نحر کرنا ہے اگرچہ اس کو ذبح کرنا جائز ہے لیکن کراہت کے ساتھ۔ اور ذبح یہ ہے کہ جانور کی حلق کی رگ کو کاٹا جائے، ذبح کی صورت میں جانور کی حلق کی جو رگیں کاٹی جاتتی ہیں وہ چار ہیں۔ ایک تو نرخڑہ کہ جس کے ذریعہ سانس کی آمدورفت ہوتی ہے، دوسری مری یعنی وہ رگ جس سے منہ سے پانی جاتا ہے اور دو شہ رگیں جو نر خرہ کے دائیں بائیں ہوتی ہیں۔ ان چاروں رگوں کو کاٹنا ہی شرعی طور پر ذبح کہلاتا ہے، اگر ان چاروں میں سے تین ہی رگیں کٹ جائیِں تب بھی ذبح درست ہے اور اس جانور کا کھانا حلال ہے اور اگر دو ہی رگیں کٹیں تو وہ جانور مردار ہوجائے گا جس کا کھانا حلال نہیں ہوگا۔ جس طرح اونٹوں میں نحر کرنا مستحب ہے اسی طرح گائے اور بکریوں وغیرہ میں ذبح کرنا مستحب ہے لیکن اگر کسی نے ان کو نحر کرلیا تب بھی جائز ہوگا مگر کراہت کے ساتھ۔ اگر کسی شخص نے بکری وغیرہ کو گدی کی طرف سے ذبح کیا تو اگر وہ اتنی دیر تک زندہ رہی کہ اس شخص نے اس کی رگیں کاٹ دیں تو اس کا کھانا جائز ہے لیکن کراہت کے ساتھ کیونکہ اس طرح ذبح کرنا سنت کے خلاف ہے اور اگر وہ رگوں کے کٹنے سے پہلے ہی مرگئی تو اس کا کھانا جائز نہیں۔ اگر کسی شخص نے کسی جانور مثلا مرغی کو ذبح کرتے ہوئے چھری کو حرام مغز تک پہنچا دیا اور سر کٹ کر جدا ہوگیا تو اس کا کھانا جائز ہے اور مکروہ بھی نہیں ہے لیکن اتنا زیادہ ذبح کرنا یا اس طرح ذبح کرنا کہ سر جدا ہوجائے مکروہ ہے۔

3996Mishkaat-al-Masabih

بلا وجہ کسی جانور وپرندہ کو مار دینا ناجائز ہے

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قتل عصفورا فما فوقها بغير حقها سأله الله عن قتله قيل : يا رسول الله وما حقها ؟ قال : أن يذبحها فيأكلها ولا يقطع رأسها فيرمي بها . رواه أحمد والنسائي والدرامي

اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اگر کوئی شخص کسی چڑیا یا اس سے چھوٹے بڑے کسی اور جانور و پرندہ کو ناحق مار ڈالے گا تو اللہ تعالیٰ اس شخص سے اس ( ناحق مارنے) کے بارے میں باز پرس کرے گا۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ اور اس ( چڑیا وغیرہ) کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کہ اس کو ذبح کیا جائے ( کسی اور طرح اس کی جان نہ ماری جائے) اور پھر اس کو کھایا جائے، یہ نہیں کہ اس کا سر کاٹ کر پھینک دیا جائے۔ ( احمد، النسائی، دارمی ) تشریح اسلامی تعلیمات کے مطابق اللہ کی اس وسیع کائنات میں ہر جاندار اپنی جان کی حفاظت کا حق رکھتا ہے خواہ وہ اشرف المخلوقات انسان ہو یا حیوان، جس طرح کسی انسان کی جان کو ناحق مارنا شریعت کی نظر میں بہت بڑا گناہ اور بہت بڑا ظلم ہے، اسی طرح کسی حیوان کی جان ناحق ختم کرنا بھی ایک انتہائی غیر مناسب فعل اور ایک انتہائی بےرحمی کی بات ہے۔ اگر قادر مطلق نے انسان کو طاقت و قوت عطا کر کے حیوانات پر تسلط و اختیار عطا کیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان اپنی اس طاقت اور اپنے اس اختیار کے بل پر محض اپنا شوق پورا کرنے کے لئے یا محض تفریح طبع کی خاطر بےزبان جانوروں کو اپنا تختہ مشق بنائے۔ اور ان کی جانوں کو کھلونا بنا کر ان کو ناحق مارتا رہے۔ جس جانور کے گوشت کو حق تعالیٰ نے انسان کے لئے حلال قرار دیا ہے اگر وہ اس جانور کو بطور شکار مار کر یا اس کو ذبح کر کے اس کا گوشت کھاتا ہے اور اس سے فائدہ حاصل کرتا ہے تو وہ اپنے اختیار کا جائز استعمال کرتا ہے اور اگر محض لہو و لعب اور تفریح طبع کے لئے اس جانور کی جان ناحق یعنی بلا فائدہ ختم کرتا ہے اور اس کے گوشت وغیرہ سے کوئی نفع حاصل کئے بغیر اس کو مار کر پھینک دیتا ہے تو اس طرح نہ صرف وہ اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کرتا ہے بلکہ ایک جاندار پر ظلم کرنے والے کے برابر ہوتا ہے اس لئے حدیث میں ایسے شخص کو آگاہ کیا گیا ہے کہ تمہارا یہ فعل ( یعنی جانوروں اور پرندوں کو ناحق مارنا) بارگاہ احکم الحاکمین میں قابل مواخذہ ہے۔ اور کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تم سے اس بارے میں سخت باز پرس کرے گا اور تمہیں عتاب و عذاب میں مبتلا کرے گا۔ طیبی کہتے ہیں کہ کسی جانور کا حق، اس سے منتفع ہونے سے عبارت ہے، جس طرح کہ بلا مقصد اس کا سر کاٹ کر پھینک دینا، اس کا حق ضائع کرنے سے عبارت ہے، لہٰذا کہا جائے گا کہ حدیث کے یہ الفاظ ولا یقطع رسھا فیرمی بھا ما سبق کی عبارت کی گویا تاکید و توثیق کے طور پر ہے

3997Mishkaat-al-Masabih

زندہ جانور کے جسم سے کاٹا گیا کوئی بھی حصہ مردار ہے

عن أبي وافد الليثي قال : قدم النبي صلى الله عليه و سلم المدينة وهم يجبون أسنمة الإبل ويقطعون أليات الغنم فقال : ما يقطع من البهيمة وهي حية فهي ميتة لا تؤكل . رواه الترمذي وأبو داود

اور حضرت ابو واقد لیثی ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ ( مکہ سے ہجرت فرما کر) مدینہ تشریف لائے تو اس وقت مدینہ کے لوگ ( ایسا کرتے تھے کہ) اونٹ کے کوہان اور دنبوں کی چکتیاں کاٹ لیا کرتے تھے ( اور پھر اس کو کھاتے تھے) چناچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو چیز بھی کہ ایسے جانور کے جسم سے کاٹی جائے جو زندہ ہو تو وہ ( کاٹی گئی چیز) مردار ہے، اس کو نہ کھایا جائے۔ ( ترمذی، ابوداؤد ) تشریح زمانہ اسلام سے قبل چونکہ جاہلیت نے انسانی عقل و طبائع کو ماؤف کر رکھا تھا اس لئے اس وقت کے انسان ایسے ایسے طور طریقوں میں مبتلا تھے جن سے انسانیت بھی پناہ مانگتی تھی، انھی طور طریقوں میں ایک رواج مدینہ والوں میں یہ بھی جاری تھا کہ وہ جب چاہتے اپنے زندہ اونٹوں کے کوہان، زندہ دنبوں کی چکتیاں کاٹ لتیے تھے اور ان کو بھون پکا کر کھالیتے تھے۔ یہ جانوروں کے تئیں ایک انتہائی بےرحمانہ طریقہ ہی نہیں تھا بلکہ طبع سلیم کے منافی بھی تھا، چناچہ آنحضرت ﷺ نے مدینہ پہنچ کر وہاں کے لوگوں کو اس مذموم فعل سے باز رکھا اور ان پر واضح کیا کہ زندہ جانور کے جسم سے جو بھی عضو کاٹا جائے گا وہ مردار ہوگا اور اس کا کھانا حرام ہوگا۔

3998Mishkaat-al-Masabih

ذبح کی اصل، جراحت کے ساتھ خون کا بہنا ہے

عن عطاء بن يسار عن رجل من بني حارثة أنه كان يرعى لقحة بشعب من شعاب أحد فرأى بها الموت فلم يجد ما ينحرها به فأخذ وتدا فوجأ به في لبتها حتى أهراق دمها ثم أخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم فأمره بأكلها . رواه أبو داود ومالك وفي روايته : قال : فذكاها بشظاظ

اور حضرت عطاء بن یسار ؓ قبیلہ بنی حارثہ کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ( ایک دن) اونٹنی کو جو بیانے کے قریب تھی احد پہاڑ کے ایک درہ میں چرا رہا تھا کہ اس نے اونٹنی میں موت کے آثار پائے یعنی اس نے دیکھا کہ اونٹنی کسی وجہ سے مرا ہی چاہتی ہے، ( اس وقت) اس کو کوئی ایسی چیز دستیاب نہیں ہوسکی جس کے ذریعہ وہ اونٹنی کو نحر کرتا، آخر کار اس نے ایک میخ اٹھائی اور اس کو نوک کی طرف سے) اس کو اونٹنی کے سینے میں گھونپ دیا، تاآنکہ اس کا خون بہا دیا، پھر اس نے ( اس واقعہ کو) رسول کریم ﷺ سے بیان کیا ( اور اس کے گوشت کے بارے میں دریافت کیا کہ اس صورت میں اس کا کھانا کیسا ہے؟ ) آنحضرت ﷺ نے اس کو اس ( کے گوشت) کے کھانے کی اجازت دی ( ابوداؤد، مالک) اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آخر کار اس نے ایک دھار دار لکڑی سے ذبح کردیا۔ تشریح وتد لکڑی کی اس میخ یا کھونٹی کو کہتے ہیں جو زمین یا دیوار میں گاڑی جاتی ہے۔ اور شظاظ اس لکڑی کو کہتے ہیں جس کے دونوں کنارے نوکدار ہوتے ہیں اس کو دونوں تھیلوں کے درمیان اڑا کر اونٹ پر لادتے ہیں تاکہ وہ دونوں تھیلے الگ الگ ہو کر گریں نہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شرعی طور پر ذبح یا نحر کا اصل مفہوم یہ ہے کہ جراحت کے ساتھ خون بہایا جائے اور یہ بات جس چیز سے بھی حاصل ہوجائے اس کے ذریعہ جانور کو ذبح یا نحر کیا جاسکتا ہے خواہ وہ لوہے کی چھری وغیرہ ہو، یا کوئی دھار دار اور نوکدار لکڑی وغیرہ ہو۔

3999Mishkaat-al-Masabih

دریائی جانوروں میں سے صرف مچھلی حلال ہے

وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من دابة إلا وقد ذكاها الله لبني آدم . رواه الدارقطني

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا پانی کا ایسا کوئی جانور نہیں ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کے لئے ذبح نہ کردیا ہو۔ ( دارقطنی) تشریح حدیث کا مطلب یہ ہے کہ دریائی جانوروں کو بغیر ذبح کئے ہوئے کھانا حلال ہے، ان کو محض شکار کرلینا اور پانی میں سے زندہ نکال لینا ذبح کا حکم رکھتا ہے۔ اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمام دریائی جانور حلال ہیں، خواہ وہ خود سے مرجائیں اور خواہ ان کا شکار کیا جائے۔ لیکن جہاں تک اصل مسئلہ کا تعلق ہے وہ یوں نہیں ہے، بلکہ مچھلی کے حلال ہونے پر تو تمام علماء کا اتفاق ہے اور مچھلی کے علاوہ دوسرے جانوروں کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں۔ چنانچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ دریائی جانوروں میں سے مچھلی کے علاوہ اور کوئی جانور حلال نہیں ہے اور وہ مچھلی بھی حلال نہیں ہے جو سردی و گرمی کی آفت کے بغیر خود بخود مر کر پانی کے اوپر آجائے اور الٹی تیرنے لگے۔ اور جو مچھلی سردی و گرمی کی آفت سے مر کر پانی کے اوپر آجائے تو وہ حلال ہے۔ ذبیحہ سے متعلق چند مسائل جو جانور اور جو پرندے شکار کر کے کھاتے رہتے ہیں یا ان کی غذا صرف گندگی ہے، ان کا کھانا جائز نہیں ہے جیسے شیر، بھیڑیا، گیدڑ، بلی، کتا، بندر، شکرا، باز اور گدھ وغیرہ اور جو جانور اس طرح کے نہ ہوں جیسے طوطا، مینا، فاختہ، چڑیا، پیڑ، مرغابی، کبوتر، نیل گائے، ہرن، بطخ اور خرگوش وغیرہ ان کا کھانا جائز ہے۔ بجو، گوہ، کچھوا، خچر اور گدھا، گدھی کا گوشت کھانا اور گدھی کا دودھ پینا جائز نہیں ہے، جو حلال جانور ( بغیر ذبح کئے ہوئے) خود بخود مرجائے گا وہ مردار ہوگا اس کا کھانا حرام ہے۔ اگر کسی چیز میں چیونٹیاں گر کر مرجائیں تو ان چیونٹیوں کا نکالے بغیر اس چیز کو کھانا درست نہیں ہے، اگر قصدا ایک آدھ چیونٹی کو بھی حلق کے نیچے جانے دیا تو مردار کھانے کا گناہ ہوگا۔ مسلمان کا ذبح کرنا ہر حالت میں درست ہے چاہے عورت ذبح کرے اور چاہے مرد، اسی طرح خواہ پاک ہو یا ناپاک، ہر حال میں اس کا ذبح کیا ہوا جانور کھانا حلال ہے۔ کافر یعنی مرتد، آتش پرست اور بت پرست وغیرہ کا ذبح کیا ہوا جانور کھانا حرام ہے۔ اگر کوئی کافر گوشت بیچتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ میں نے مسلمان سے ذبح کرایا ہے تو اس سے گوشت خرید کر کھانا درست نہیں، البتہ جس وقت مسلمان نے ذبح کیا ہے اگر اسی وقت سے کوئی مسلمان اس گوشت کے پاس برابر بیٹھا رہا ہے، یا وہ جانے لگا تو کوئی دوسرا مسلمان اس کی جگہ بیٹھ گیا ہے، تب اس گوشت کا کھانا درست ہوگا۔ اگر کسی ایسے جانور کو ذبح کیا گیا جس کا کھانا حلال نہیں ہے تو اس کی کھال اور گوشت پاک ہوجاتے ہیں ( کہ ان کو کھانے کے علاوہ کسی اور استعمال میں لانا بلا کراہت درست ہوتا ہے) علاوہ آدمی اور سؤر کے کہ ان دونوں میں ذبح کرنے کا کوئی اثر نہیں ہوتا، آدمی کی کھال کا ناپاک ہونا تو اس کی عزت و حرمت کی وجہ سے ہے اور سور کی کھال وغیرہ کا ناپاک ہونا اس کے نجس ہونے ہی کی وجہ سے ہے کہ وہ پاک کرنے سے بھی ہرگز پاک نہیں ہوسکتی۔ جو مرغی، گندی اور پلید چیزیں کھاتی پھرتی ہو، اس کو تین دن بند رکھ کر ذبح کرنا چاہئے، اس کو بغیر بند کئے ذبح کر کے اس کا گوشت کھانا مکروہ ہے۔ جانور کو کند چھری سے ذبح کرنا مکروہ اور ممنوع ہے کیونکہ اس میں جانور کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ اسی طرح ذبح کے بعد ٹھنڈا ہونے سے پہلے اس کی کھال کھینچنا، ہاتھ پاؤں توڑنا کاٹنا اور ذبح میں جن چار رگوں کو کاٹنا چأہئے ان کے کٹ جانے کے بعد بھی گلا کاٹے جانا، یہ سب مکروہ ہے۔ ٹڈی کو کھانا جائز ہے اور مچھلی کی طرح اس کو بھی ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے اور جن کا نہیں کھایا جاتا، شکار دونوں کا کرنا جائز ہے، البتہ یہ ضروری ہے کہ شکار کا مقصد محض لہو و لعب اور تفریح طبع نہ ہو بلکہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کی نیت ہو، جو جانور حلال ہیں ان کا گوشت کھانا ہی ان سے سب سے بڑا نفع حاصل کرنا ہے، ہاں جو جانور حلال نہیں ہیں انکا شکار اگر اس مقصد سے کیا جائے کہ ان کی کھال وغیرہ سے فائدہ اٹھایا جائے گا تو کوئی مضائقہ نہیں۔ حاصل یہ کہ جانوروں کی جان کی بھی قدر کرنی چاہئے، ان کو خواہ مخواہ کے لئے مار ڈالنا اور بلا ضرورت و بلا مقصد کے ان کا شکار کرتے پھرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ ذبح کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ جانور کا منہ قبلہ کی طرف کر کے تیز چھری ہاتھ میں لے کر بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کے اس کے گلے کو کاٹا جائے، یہاں تک کہ چاروں رگیں کٹ جائیں۔

4000Mishkaat-al-Masabih

کتے سے متعلق احکام کا بیان

اس باب میں وہ احادیث نقل کی جائیں گی جن سے کتوں سے متعلق احکام معلوم ہوں گے کہ کن مقاصد کے لئے اور کون سا کتا پالنا جائز ہے اور کون سا ناجائز ہے اور یہ کہ کس کتے کا مارنا جائز ہے اور کس کا مارنا جائز نہیں ہے۔