Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,333 hadiths in order · Page 199 of 317
آنحضرت ﷺ کی طرف سے مال فئی کی تقسیم
4059 - [ 5 ] ( لم تتمدراسته ) وعن عائشة : أن النبي صلى الله عليه و سلم أتي بطبية فيها خرز فقسمها للحرة والأمة قالت عائشة : كان أبي يقسم للحر والعبد . رواه أبو داود
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ ( ایک مرتبہ) نبی کریم ﷺ کے پاس ایک تھیلا آیا جس میں نگینے بھرے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے ان نگینوں کو بیبیوں ( یعنی آزاد عورتوں) اور باندیوں کو بانٹ دیا۔ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے والد یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ (کے پاس نگینے آتے تو وہ ان نگینوں کو) آزاد اور غلام مردوں کو ( بھی) بانٹتے۔ ( ابوداؤد)
تشریح
اگرچہ آنحضرت ﷺ نگینوں کی تقسیم کو صرف عورتوں تک محدود رکھتے تھے لیکن حضرت ابوبکر ؓ کے عمل سے معلوم ہوا کہ نگینوں کی تقسیم صرف عورتوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتی تھی بلکہ مردوں کو بھی بانٹا کرتے تھے۔
مال فئی کی تقسیم میں فرق مراتب کا لحاظ
وعن مالك بن أوس بن الحدثان قال : ذكر عمر بن الخطاب يوما الفيء فقال : ما أنا أحق بهذا الفيء منكم وما أحد منا بأحق به من أحد إلا أنا على منازلنا من كتاب الله عز و جل وقسم رسوله صلى الله عليه و سلم فالرجل وقدمه والرجل وبلاؤه والرجل وعياله والرجل وحاجته . رواه أبو داود (2/423)
اور حضرت مالک ابن اوس ابن حدثان کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر فاروق ؓ نے مال فئی کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اس مال فئی کا میں تم سے زیادہ مستحق نہیں ہوں اور نہ ہم میں سے کوئی شخص اس مال فئی کا کسی دوسرے شخص سے زیادہ مستحق ہے البتہ ہم عزوجل کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی تقسیم کے مطابق اپنے اپنے مرتبہ پر ہیں چناچہ ایک وہ شخص ہے جو ( قبولیت اسلام) قدامت رکھتا ہے، ایک وہ شخص ہے جو ( دین کی راہ میں) شجاعت و بہادری کے ( کارہائے نمایاں) اور سعی و مشقّت ( کے اوصاف) رکھتا ہے، ایک وہ شخص ہے جو اہل و عیال رکھتا ہے اور وہ شخص ہے جو ضرورت و حاجت رکھتا ہے۔ (ابو داؤد)
تشریح
میں تم سے زیادہ مستحق نہیں ہوں۔ حضرت عمر ؓ نے یہ بات اس وہم و گمان کو دور کرنے کے لئے فرمائی کہ وہ چونکہ خلیفہ رسول ہیں اس لئے جس طرح آنحضرت ﷺ اس مال کا سب سے زیادہ استحقاق رکھتے تھے ہوسکتا ہے کہ آپ کے بعد اب وہ ( حضرت عمر) اس کے سب سے زیادہ مستحق ہوں! حضرت عمر ؓ نے اس کی نفی کی کہ دوسرے مسلمان کی طرح میں بھی اس مال کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں، پھر انہوں نے اس مال کا سب سے زیادہ استحقاق رکھنے کی نفی عمومیت کے طور پر فرمائی کہ ہم میں سے کوئی بھی شخص دوسرے شخص سے زیادہ حق دار نہیں ہے بلکہ اس مال کے استحقاق کی اصل بنیاد وہی فرق مراتب ہے جو کتاب اللہ کے اس ارشاد للفقراء والمہاجرین تین آیتوں تک اور والسابقون الاولون من المہاجرین والانصار آخر آیت تک، یا ان آیتوں سے ظاہر ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مسلمانوں کے مراتب میں تفاوت ہے کہ ہر شخص کو اس کے مرتبے کے مطابق کم یا زیادہ دیا جائے گا۔ اللہ عز وجل کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی تقسیم میں رسول اللہ ﷺ کی تقسیم کا عطف کتاب اللہ پر کیا گیا ہے، یعنی جس طرح کتاب اللہ کی مذکورہ آیتوں سے مسلمانوں کے فرق مراتب کا اظہار ہوتا ہے اسی طرح آنحضرت ﷺ کے طریقہ تقسیم سے بھی مراتب میں تفاوت کا پتہ چلتا ہے کہ آپ اس مال کی تقسیم کے وقت دوسرے مسلمانوں کے بنسبت جنگ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کرام کو زیادہ حصہ دیا کرتے تھے، اسی طرح جو صحابہ کرام ( صلح حدیبیہ کے موقع پر) بیعت رضوان میں شریک تھے، ان کا لحاظ عام مسلمانوں سے زیادہ رکھتے تھے، یا جو شخص اہل و عیال والا ہوتا تھا اس کو مجرد شخص سے زیادہ دیتے تھے۔ ایک وہ شخص ہے الخ حضرت عمر ؓ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعہ اوپر کی بات کو اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا کہ مال فئی کی تقسیم کے وقت ہر شخص کے مرتبہ اور اس کی حیثیت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، اگر کوئی شخص قدیم الاسلام ہے تو اس کی اس خصوصیت کو دیکھنا چاہئے۔ اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں شجاعت و بہادری کے کارنامے انجام دینے والا اور دین کو پھیلانے میں سخت جدوجہد کرنے اور مشقّت برداشت کرنے والا ہے تو اس کے اس وصف کو سامنے رکھنا چاہیے، اسی طرح اگر کوئی اہل و عیال والا زیادہ حاجت مند ہے تو اس کی اس حیثیت و حالت کا خیال کیا جانا چاہیے غرضیکہ جس شخص کو جس طرح کی احتیاج و ضرورت ہو اس کو اسی کے مطابق دینا چاہیے۔
قضیہ فدک میں حضرت عمر کا استدلال
4061 - [ 7 ] ( لم تتم دراسته ) وعنه قال : قرأ عمر بن الخطاب رضي الله عنه : ( إنما الصدقات للفقراء والمساكين ) حتى بلغ ( عليم حكيم ) فقال : هذه لهؤلاء . ثم قرأ ( واعلموا أن ما غنمتم من شيء فأن لله خمسه وللرسول ) حتى بلغ ( وابن السبيل ) ثم قال : هذه لهؤلاء . ثم قرأ ( ما أفاء الله على رسوله من أهل القرى ) حتى بلغ ( للفقراء ) ثم قرأ ( والذين جاؤوا من بعدهم ) ثم قال : هذه استوعبت المسلمين عامة فلئن عشت فليأتين الراعي وهو بسرو حمير نصيبه منها لم يعرق فيها جبينه . رواه في شرح السنة (2/424) 4062 - [ 8 ] ( لم تتم دراسته )
اور حضرت مالک ابن اوس کہتے ہیں کہ ( ایک موقع پر) حضرت عمر فاروق ؓ نے یہ آیت پڑھی ( جس میں زکوٰۃ کے مصارف کا بیان ہے) آیت (اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَا ءِ وَالْمَسٰكِيْنِ ) 9۔ التوبہ 60) اور اس آیت کو انہوں نے علیم حکیم تک پڑھا اور فرمایا کہ اس ( زکوٰۃ کے مال) کو پانے کے مستحق یہی لوگ ہیں ( جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے یعنی فقراء مساکین وغیرہ) پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی آیت (وَاعْلَمُوْ ا اَنَّ مَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَه وَلِلرَّسُوْلِ ) 8۔ الانفال 41) اور اس آیت کو وابن السبیل تک پڑھا اور فرمایا کہ ( خمس کا مال) انہی لوگوں کا حق ہے ( جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے یعنی ذوی القربیٰ وغیرہ) اس کے بعد انہوں نے یہ آیت پڑھی ( جس میں مال فئی کا حکم بیان کیا گیا ہے کہ وہ کس کس کو دیا جائے) آیت (مَا اَفَا ءَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِه مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى) 59۔ الحشر 7) اس آیت کو للفقراء والذین جاء وا من بعدہم تک پڑھا ( ایک نسخہ میں یہ عبارت ہے کہ حتی بلغ للفقراء ثم قراء والذین جاء وا اس کے مطابق مفہوم یہ ہوگا کہ انہوں نے اس آیت ماافاء اللہ کو پڑھنا شروع کیا اور للفقراء تک دو آیتوں کو پڑھا اور پھر یہ آیت والذین جاء وا من بعد ہم پڑھی) اور پھر فرمایا کہ اس آیت نے سارے مسلمانوں کا احاطہ کرلیا ہے۔ لہٰذا اگر میری زندگی رہی تو ( میری حدود خلافت میں کوئی ایسا مسلمان نہیں بچے گا جس کو اس کے حصہ کا مال نہ پہنچے یہاں تک کہ) اس چروا ہے کو بھی مال فئی میں سے اس کا حصہ پہنچے گا جو مقام بسر اور حمیر میں ہوگا درآنحالیکہ اس ( مال کے حاصل کرنے) میں اس کی پیشانی بھی عرق آلود نہیں ہوئی ہوگی۔ ( شرح السنّہ)
تشریح
اس آیت نے سارے مسلمانوں کا احاطہ کرلیا ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں جن لوگوں کو دینے کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سارے ہی مسلمان آجاتے ہیں بخلاف پہلی دونوں آیتوں کے کہ ایک میں تو صرف مستحقین زکوٰۃ کا ذکر ہے اور دوسری میں مستحقین خمس کا۔ حضرت عمر ؓ مال فئی میں سے خمس نکالنے کے قائل نہیں تھے جیسا کہ مال غنیمت میں سے نکالا جاتا ہے، ان کے نزدیک پورا مال فئی مسلمانوں کے اجتماعی مفاد و مصالح اور ان کی فلاح و اعانت میں خرچ کیا جانا چاہیے جو قرآن و حدیث میں مذکور فرق مراتب کے ساتھ ان کا حق ہے، چناچہ امام شافعی (رح) کے سوا اکثر ائمہ فقہ کا مسلک بھی یہی ہے، نیز حضرت عمر ؓ اس کے بھی قائل تھے کہ مال فئی کی تقسیم کے سلسلے میں مسلمانوں کے درجات و مراتب کے تفاوت کا لحاظ ضروری ہے جب کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہر مسلمان کا برابر، برابر حصہ لگاتے تھے وہ قدامت اسلام اور نسب کی برتری وغیرہ کا لحاظ ضروری نہیں سمجھتے تھے بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ اس چیز کا تعلّق آخرت سے ہے اگر کوئی شخص پہلے مسلمان ہوا ہے اور کسی شخص نے دین کی راہ میں زیادہ شجاعت و بہادری اور زیادہ سعی و مشقّت اختیار کی ہے تو ان کا یہ عمل اللہ کے لئے ہے اور ان کا اجر بھی اللہ ہی پر موقوف ہے ان چیزوں کو زیادہ مال کے استحقاق کی بنیاد نہیں بنانا چاہیے لیکن حضرت عمر ؓ چونکہ فرق مراتب اور تفاوت درجات کو ملحوظ رکھتے تھے اس لئے وہ جب مال تقسیم کرتے تو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو زیادہ دیتے اور حضرت حفصہ ؓ کو کم اور ان ( حضرت حفصہ) سے فرماتے کہ ( بیٹی! تمہاری بنسنت عائشہ صدیقہ ؓ کو اس خصوصیت کی بناء پر زیادہ دیتا ہوں کہ) آنحضرت ﷺ کے نزدیک وہ ( عائشہ) تم سے زیادہ چہیتی تھیں اور آنحضرت ﷺ کو تمہارے باپ ( یعنی میری) بہ نسبت عائشہ ؓ کے باپ ( یعنی حضرت ابوبکر) سے زیادہ تعلّق خاطر تھا۔ اسی طرح حضرت عمر ؓ ( اپنے بیٹے) حضرت ابن عمر ؓ کی بہ نسبت حضرت اسامہ ابن زید کا حصہ زیادہ لگایا کرتے تھے اور ان ( ابن عمر) سے بھی یہی فرماتے تھے کہ اسامہ کو تمہارے اوپر یہ فضیلت حاصل ہے کہ آنحضرت ﷺ کو تمہاری بہ نسبت اسامہ سے زیادہ تعلّق خاطر تھا اور تمہارے باپ سے زیادہ ان کا باپ آپ ﷺ کی نظر میں پسندیدہ تھا۔ حمیر یمن کے ایک علاقہ کا نام ہے جہاں یمن کا مشہور قبیلہ حمیر کے لوگ آباد تھے۔ اس طرح سرو ایک جگہ کا نام تھا، جو حمیر کے علاقہ میں تھا۔ روایت کے آخر میں حضرت عمر ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے زندہ رکھا اور میری خلافت کے زمانے میں اسلام کو زیادہ سے زیادہ شہروں اور ملکوں پر تسلّط و غلبہ حاصل ہوا اور اس کے نتیجہ میں مال فئی بھی بہت ہاتھ لگا تو ان میں سے تمام مسلمانوں کو ان کا حصہ پہنچے گا خواہ وہ کتنے ہی دور دراز کے شہروں اور دیہاتوں میں کیوں نہ رہتے ہوں اور اس کے باوجود کہ اس مال کو حاصل کرنے میں انہیں ذراسی بھی مشقّت برداشت نہیں کرنا پڑی ہوگی۔
قضیہ فدک میں حضرت عمر کا استدلال
وعنه قال : كان فيما احتج فيه عمر أن قال : كانت لرسول الله صلى الله عليه و سلم ثلاث صفايا بنو النضير و خيبر وفدك فأما بنو النضير فكانت حبسا لنوائبه وأما فدك فكانت حبسا لأبناء السبيل وأما خيبر فجزأها رسول الله صلى الله عليه و سلم ثلاثة أجزاء : جزأين بين المسلمين وجزء نفقة لأهله فما فضل عن نفقة أهله جعله بين فقراء المهاجرين . رواه أبو داود
اور حضرت مالک ابن اوس کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے جس بات سے استدلال کیا وہ یہ تھی کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ کے پاس تین صفایا تھیں۔ ١ بنو نضیر۔ ٢ خیبر۔ ٣ فدک۔ چناچہ بنو نضیر ( کے جلا وطن ہوجانے کے بعد ان کی جو زمین جائداد قبضے میں آئی تھی اس سے حاصل ہونے والا مال) آنحضرت ﷺ کے اخراجات ( جیسے مہمانوں کی ضیافت و تواضع اور مجاہدین کے لئے ہتھیاروں اور گھوڑوں کی خریداری وغیرہ) کے لئے مخصوص تھا۔ فدک کے محاصل (ان) مسافروں ( کی امداد و اعانت کرنے کے لئے) مخصوص تھے ( جو اگرچہ اپنے وطن میں تو مال رکھتے ہوں مگر سفر کے دوران ان کے پاس مال و اسباب ختم ہوگیا ہو )۔ اور خیبر ( کے محاصل) کے رسول کریم ﷺ نے تین حصے کر رکھے تھے، ان میں سے دو حصے تو آپ ﷺ مسلمانوں میں تقسیم کردیتے تھے اور ایک حصہ اپنے اہل و عیال کے اخراجات کے لئے رکھتے تھے اور اس میں سے بھی اہل و عیال کے خرچ سے جو کچھ بچ جاتا اس کو آپ ﷺ نادار مہاجرین پر خرچ کردیتے تھے۔ ( ابوداؤد)
تشریح
جس بات سے استدلال کیا الخ یعنی جب حضرت عباس اور حضرت علی ؓ فدک کے مال کے بارے میں اپنا مطالبہ لے کر حضرت عمر ؓ کے پاس آئے تو حضرت عمر ؓ نے ان کے مطالبہ کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور جن جائداد و زمینوں پر آنحضرت ﷺ کا ذاتی حق تھا ( جیسے بنو نضیر، خیبر اور فدک کی زمین، جائدادیں) ان کے بارے میں مذکورہ بالا تفصیل بیان کی اور چونکہ اس تفصیل کے بیان کے وقت دوسرے صحابہ بھی موجود تھے جن میں سے کسی نے بھی حضرت عمر کی بیان کردہ تفصیل کی تردید نہیں کی اس لئے گویا یہ بات ان کے فیصلے کی دلیل قرار پائی۔ اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے اتنا ضرور کیا کہ حضرت عباس اور حضرت علی ؓ کو فدک کے محاصل کا متولّی بنادیا کہ وہ دونوں اس محا صل کو اسی طرح صرف کریں جس طرح آنحضرت ﷺ صرف کیا کرتے تھے۔ صفایا صفیہ کی جمع ہے صفیہ اس کو کہتے ہیں کہ امام وقت ( اسلامی مملکت کا سربراہ) مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے اس میں سے کوئی چیز چھانٹ کر اپنے لئے مخصوص کرے۔ یہ بات صرف آنحضرت ﷺ کے لئے مخصوص تھی کہ آپ ﷺ مال غنیمت میں سے خمس کے علاوہ اور بھی جو چیز جیسے لونڈی، غلام، تلوار اور گھوڑا وغیرہ چاہتے اس کو لے لینے کا حق رکھتے تھے، لیکن آنحضرت ﷺ کے بعد کسی دوسرے امام وقت کے لئے یہ بات جائز نہیں۔ فدک ایک بستی کا نام تھا جو خیبر کے مواضعات میں سے تھی اور مدینہ سے دو روز کے فاصلہ پر واقع تھی یہ ایک شاداب اور سرسبز جگہ تھی جہاں زیادہ تر کھجور کے اور تھوڑے بہت دوسرے پھلوں کے باغات تھے۔ رسول کریم ﷺ کو فدک پر صلح کے ذریعہ تسلّط حاصل ہوا تھا اور صلح کی بنیاد یہ معاہدہ تھا کہ وہاں کی آدھی زمین تو فدک والوں کی رہے گی آدھی زمین پر آنحضرت ﷺ کا حق ہوگا، چناچہ فدک کی وہ آدھی زمین آنحضرت ﷺ کی ذاتی ملکیت میں رہی جس کی آمدنی اور پیداوار سے آپ ﷺ حدیث کے مطابق محتاج مسافروں کی امداد و اعانت فرماتے تھے۔ خیبر کے محاصل کو آپ ﷺ تین حصوں میں اس لئے تقسیم کرتے تھے کہ خیبر کا علاقہ اصل میں بہت سارے مواضعات اور بستیوں پر مشتمل تھا ان میں سے بعض گاؤں تو بزور طاقت فتح کئے گئے تھے اور بعض گاؤں بغیر جنگ وجدال کے صلح کے ذریعہ قبضہ واختیار میں آئے تھے، چناچہ جو گاؤں بزور طاقت فتح کئے گئے تھے ان سے حاصل ہونے والا مال چونکہ مال غنیمت تھا اس لئے اس میں سے آپ ﷺ خمس لیتے تھے اور جو گاؤں بذریعہ صلح قبضہ واختیار میں آئے تھے ان سے حاصل ہونے والا مال چونکہ مال فئی تھا اس لئے وہ تمام تر آپ ﷺ کی ذاتی ملکیت تھا جس کو آپ ﷺ اپنی ضروریات اپنے اہل و عیال کے اخراجات اور عام مسلمانوں کے اجتماعی مفاد و مصالح میں جہاں مناسب سمجھتے خرچ کرتے تھے۔ لہٰذا اس بنا پر تقسیم و مساوات کا تقاضہ یہی تھا کہ آپ ﷺ خیبر کے سارے مال کو اپنے اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرنے کے لئے تین حصوں میں کر کے دو حصے مسلمانوں کو دیں اور ایک حصہ اپنے پاس رکھیں۔
عن المغيرة قال : إن عمر بن عبد العزيز جمع بني مروان حين استخلف فقال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كانت له فدك فكان ينفق منها ويعود منها على صغير بني هاشم ويزوج منها أيمهم وإن فاطمة سألته أن يجعلها لها فأبى فكانت كذلك في حياة رسول الله صلى الله عليه و سلم في حياته حتى مضى لسبيله فلما ولي أبو بكر علم فيها بما عمل رسول الله صلى الله عليه و سلم في حياته حتى مضى لسبيله فلما أن ولي عمر بن الخطاب عمل فيها بمثل ما عملا حتى مضى لسبيله ثم اقتطعها مروان ثم صارت لعمر بن عبد العزيز فرأيت أمرا منعه رسول الله صلى الله عليه و سلم فاطمة ليس لي بحق وإني أشهدكم أني رددتها على ما كانت . يعني على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبي بكر وعمر . رواه أبو داود
اور حضرت مغیرہ ابن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن عبد العزیز ابن مروان ابن حکم (رح) خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے مروان کے بیٹوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ رسول کریم ﷺ فدک ( کی زمین و جائداد) پر اپنا ذاتی حق رکھتے تھے جس کے محاصل ( آمدنی۔ وپیداوار) کو آپ ﷺ ( اپنے اہل و عیال و مساکین پر) خرچ کرتے تھے، اسی میں سے بنو ہاشم کے چھوٹے بچوں ( کی امداد و اعانت پر خرچ کر کے ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے اور بےشوہر عورتوں اور بغیر زن مردوں کی شادی کرتے تھے! ( ایک مرتبہ) حضرت فاطمہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے یہ درخواست کی تھی کہ فدک ( کی زمین و جائداد دیجئے لیکن آپ ﷺ نے ان کی درخواست کو رد کردیا، رسول کریم ﷺ کی زندگی میں اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کہ آپ ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے اور جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو خلیفہ بنایا گیا تو ان کا معمول بھی وہی رہا جو رسول کریم ﷺ کا اپنی حیات مبارکہ میں رہا تھا یعنی آنحضرت ﷺ کے مذکورہ معمول کی طرح حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی فدک کے محاصل کو آنحضرت ﷺ کے اہل و عیال اور بنو ہاشم کے بچوں پر اور نادار مردوں و عورتوں کی شادی میں خرچ کیا کرتے تھے) یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اللہ کو پیارے ہوگئے اور ( ان کے بعد) جب حضرت عمر ابن خطاب ؓ کو خلیفہ بنایا گیا تو اس سلسہ میں ان کا بھی عمل وہی رہا جو ان دونوں ( یعنی آنحضرت ﷺ اور ابوبکر) کا رہا تھا یہاں تک کہ حضرت عمر ؓ بھی اللہ کو پیارے ہوگئے اور پھر مروان نے ( حضرت عثمان ؓ کی خلافت کے زمانے میں یا اپنی حکمرانی کے دور میں) اس ( فدک) کو اپنی ( اور اپنے وارثین کی) جاگیر قرار دیا چناچہ ( اب) وہ جاگیر عمر ابن عبدالعزیز ابن مروان کی ہوگئی ہے، لیکن میں دیکھتا ہوں کہ جس چیز کو رسول کریم ﷺ نے ( اپنی بیٹی) فاطمہ ؓ کو نہیں دیا اس کا مستحق میں بھی نہیں ہوسکتا، لہٰذا میں تمہیں ( اپنے اس فیصلہ کا) گواہ بناتا ہوں کہ میں نے فدک کو اس کی اسی حیثیت پر واپس کردیا ہے۔ جس پر وہ تھا یعنی رسول کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ کے زمانے میں ( جس طریقہ پر اس کے محاصل کو خرچ کیا جاتا تھا اب پھر اسی طریقہ پر خرچ کیا جائے گا اور فدک کسی شخص کی ذاتی جاگیر نہیں بنے گا۔ ( ابوداؤد)
تشریح
جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے بنو نضیر، فدک اور خیبر کی زمین، جائدادیں آنحضرت ﷺ کی ذاتی ملکیت تھیں چونکہ وہ زمین جائدادیں آنحضرت ﷺ کے بعد بھی باقی رہیں تھیں اس لئے آپ ﷺ کے اہل بیت اور خاندان کے کچھ افراد نے ان پر اپنی میراث کا دعویٰ کیا اور خلقت سے اس کا مطالبہ کیا، پھر ان میں آپس میں بھی کچھ اختلافات پیدا ہوئے اس طرح ان زمین جائدادوں کا قصہ بڑا عجیب و غریب ہوگیا اگرچہ وہ ایک وقتی قضیہ تھا جس کی بنیاد کسی غلط جذبہ پر نہیں تھی لیکن پھر بھی بعد کے زمانوں میں کم فہم اور کج رو لوگوں نے اس سے غلط نتائج اخذ کرنے شروع کردیئے اور ایسے ایسے افسانے تراشے جن سے دوسرے لوگوں کے ذہن بھی فاسد ہوئے اس سے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کتب صحاح سے منتخب کر کے اس قضیہ کی کچھ تفصیل اور اس کے بارے میں کچھ باتیں نقل کردی جائیں۔ صحیح بخاری میں حضرت مالک ابن عوس ابن حدثان سے منقول ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن امیر المؤ منین حضرت عمر ابن خطاب ؓ نے مجھ کو اپنے پاس بلاوا بھیجا، میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کا غلام یرفاء آیا اور کہا کہ امیر المؤمنین حضرت عثمان ابن عفان حضرت عبدالرحمٰن ابن عوف حضرت زبیر بن عوام اور حضرت سعد ابن ابی وقاص ؓ دروازہ پر بیٹھے ہوئے ہیں اور حاضری کی اجازت چاہتے ہیں حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ آجا نے دو وہ سب حضرات آگئے، تھوڑی دیر بعد یرفاء پھر آیا اور کہا کہ ( حضرت عباس اور حضرت علی ؓ ( حاضری کی) اجازت چاہتے ہیں، اگر حکم ہو تو آنے دیا جائے حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ آنے دو جب وہ بھی آگئے تو حضرت عباس ؓ نے کہا کہ امیر المؤمنین! ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کیجئے ( یعنی میرے اور علی کے قضیہ کو نمٹائیے) یہ بنو نضیر کے اس مال و جائداد کے بارے میں جھگڑے کی صورت اختیار کرتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے حق میں فئی قرار دیا تھا۔ پھر حضرت عباس اور حضرت علی ؓ آپس میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے، وہاں موجود دوسرے لوگوں ( یعنی حضرت عثمان ؓ وغیرہ) نے بھی کہا کہ ہاں امیرالمؤمنین! ان دونوں کے معاملہ کا تصفیہ کر دیجئے اور ان کو ایک دوسرے ( کے جھگڑے) سے نجات دلائے (یہ سن کر) حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ ذرا صبر و سکون سے کام لو، میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول کریم ﷺ نے یہ فرمایا کہ ہم یعنی انبیاء میراث نہیں چھوڑتے ( یعنی ہمارا چھوڑا ہوا مال کسی کا ورثہ نہیں ہوتا) ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے۔ حاضرین نے کہا کہ ہاں! ( ہم کو یاد ہے) بیشک آپ ﷺ نے یہ فرمایا تھا۔ پھر حضرت عمر ؓ نے حضرت علی اور حضرت عباس ؓ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم کو نہیں معلوم کہ آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا تھا؟ حضرت علی اور حضرت عباس ؓ نے فرمایا کہ ہاں! ( ہم کو بھی یاد ہے) آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا تھا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ تو میں تم کو اس بات سے ( بھی آگاہ کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس مال فئی کے بارے میں اپنے رسول ﷺ کو وہ خاص خصوصیت عطا کی تھی جو آپ ﷺ کے علاوہ اور کسی کو عطا نہیں کی پھر حضرت عمر ؓ نے یہ آیت (مَا اَفَا ءَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِه مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى) 59۔ الحشر 7) آخر تک پڑھی اور فرمایا کہ۔ پس یہ سارا مال آنحضرت ﷺ کے لئے مخصوص تھا، لیکن اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے اس مال کو تمہارے پاس جمع نہیں کیا اور نہ اس کے ذریعہ تم پر کوئی ایثار کیا، ( بلکہ) آپ ﷺ وہ مال تمہیں ( ہی) دیا کرتے تھے اور تمہارے درمیان تقسیم کرتے تھے، پھر جو کچھ بچتا آپ ﷺ اس میں سے اپنے اہل و عیال کا خرچ چلاتے اس کے بعد بھی جو بچ جاتا اس کو آپ ﷺ نیک کاموں ( جیسے فقراء و مساکین کی امداد و اعانت) اور عام مسلمانوں کے اجتماعی مفاد و مصالح ( جیسے ہتھیاروں اور گھوڑوں وغیرہ کی خریداری) میں صرف کرتے۔ رسول کریم ﷺ کا اپنی زندگی کے آخر تک یہی معمول رہا، پھر آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے یہ کہہ کر کے میں رسول اللہ کا خلیفہ ہوں۔ اس مال کو اپنے قبضے میں لے لیا اور اس کے خرچ و تصرف کا وہی نظام باقی رکھا جو آنحضرت ﷺ نے جاری کیا۔ ( اس موقع پر) حضرت علی وحضرت عباس ؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم اس وقت حضرت ابوبکر ؓ کا ذکر برائی کے ساتھ کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اس بارے میں ابوبکر صدیق ؓ صحیح راستے پر نہیں ہیں، حالانکہ تم جو کہتے تھے ویسا نہیں تھا اور اللہ خوب جانتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اپنے اس عمل میں صادق، نیکو کار، ہدایت یافتہ اور حق کے تابع تھے، پھر جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ اللہ کو پیارے ہوگئے ( اور میں خلیفہ بنا) تو میں نے کہا کہ میں رسول اللہ کا خلیفہ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا ولی ( جانشین) ہوں، اس لئے میں نے اس مال و جائداد کو دو سال تک اپنے اختیار و قبضے میں رکھا اور اس کے خرچ و تصرف کا وہی نظم و طریقہ اختیار کیا جو آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا تھا اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں اپنی اس بات اور اپنے اس عمل میں صادق، نیکو کار، ہدایت یافتہ اور حق کے تابع ہوں، ڈیڑھ دو سال کے بعد تم دونوں ( علی و عباس ؓ میرے پاس آئے اور تم دونوں نے ایک ہی بات کہی ( کہ آنحضرت ﷺ کا مال ہم کو دے دو ) میں نے ( تمہارے مطالبہ کے جواب میں) تم سے کہا تھا کہ رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ ہم ( انبیاء) میراث نہیں چھوڑتے بلکہ ہم جو کچھ چھورتے ہیں وہ صدقہ ( ہوتا) ہے۔ لیکن جب میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ مجھے اس مال و جائداد کو تمہارے سپرد کردینا چاہئے تو میں نے تم سے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو تو میں یہ مال وجائداد اس شرط پر تمہارے سپرد کرسکتا ہوں کہ تم ( اس بات کا عہد کرو کہ) اس مال کو خرچ کرنے کا وہی نظم و طریقہ باقی رکھو گے جو آنحضرت ﷺ نے جاری کیا تھا اور جس پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اور خلیفہ ہونے کے بعد میں نے عمل کیا تھا اور اگر تم لوگوں کو یہ شرط منظور نہ ہو تو پھر آئندہ اس بارے میں مجھ سے کوئی بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم نے ( اس شرط کو منظور کرلیا اور) کہا کہ آپ اس مال و جائداد کو اس شرط پر ہمارے حوالے کر دیجئے۔ چناچہ میں نے تمہارے سپرد کردیا۔ ( تم لوگوں کو یہ ساری بات اچھی طرح یاد ہوگی) تو کیا تم لوگ اب مجھ سے یہ چاہتے ہو کہ ( اس سلسلے میں جو بات میرے اور تمہارے درمیان طے ہوچکی ہے) میں اس کے خلاف فیصلہ کروں؟ نہیں! اس اللہ کی قسم جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، میں قیامت تک بھی اس کے خلاف فیصلہ نہیں کرسکتا، ہاں اگر تم اس مال و جائداد کے انتظام سے عاجز آگئے ہو تو اس کو دوبارہ میرے حوالے کردو میں تمہیں اس کے انتظامی جھمیلوں سے بےپرواہ کر دوں گا اور خود مشقّت اٹھا کر ( بھی) اس کا انتظام کروں گا۔ اس روایت کے راوی حضرت امام زہری (رح) کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کے بارے میں حضرت عروہ ابن زبیر ؓ سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ مالک ابن اوس نے بالکل صحیح بیان کیا ہے۔ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد ( کچھ) ازواج مطہرات نے حضرت عثمان ؓ کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس بھیج کر اس مال وجائداد کی اپنی میراث کا مطالبہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو مال فئی کے طور پر عطا کیا تھا ( جب مجھے یہ معلوم ہوا تو) میں نے ان کی مخالفت کی اور ان سے کہا کہ تمہیں اللہ کا خوف محسوس نہیں ہوتا؟ کیا رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد تمہارے علم میں نہیں ہے کہ ہم میراث نہیں چھوڑتے بلکہ ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ( ہوتا) ہے اور آل محمد اس میں سے کھائے گی۔ تب ازواج مطہرات آنحضرت ﷺ کی میراث کے مطالبہ سے باز آئیں اور میری بیان کی ہوئی حدیث کی بناء پر انہوں نے رجوع کرلیا۔ حضرت عروہ کہتے تھے ( حضرت عمر ؓ نے جب آنحضرت ﷺ کا وہ صدقہ یعنی بنو نضیر کا وہ مال جو مدینہ میں تھا اور جس کے بارے میں مذکورہ بالا قضیہ تھا حضرت علی و حضرت عباس ؓ کی تولیت میں دے دیا تھا تو کچھ دنوں کے بعد) حضرت علی ؓ نے حضرت عباس ؓ پر غلبہ حاصل کر کے ان کو تنہا اپنے قبضہ تولیت میں لے لیا تھا، ان کے بعد حضرت حسن ابن علی ؓ کے قبضے میں آیا، حضرت حسن ؓ کے بعد حضرت حسین ؓ کے قبضے میں آیا۔ اس کے بعد حضرت علی ابن حسین اور حسن ابن حسین کے قبضے میں رہا کہ یہ دونوں باری باری اس کو اپنے قبضے میں رکھتے تھے، ان کے بعد زید ابن حسن کے پاس آگیا۔ اور ایمانداری و سچائی کے ساتھ یہ (مال وجائداد) رسول کریم ﷺ کا صدقہ ہے کسی شخص کی میراث و ملکیت نہیں ہے۔ یہ بخاری کی حدیث کا اختصار ہے جس کو انہوں نے کتاب المغازی میں بنو نضیر کے واقعہ کے تحت نقل کیا ہے۔ کتاب الخمس میں بھی بعض الفاظ کے فرق کے ساتھ اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ یہ روایت بھی بخاری کی ہے کہ حضرت عائشہ صدیق ؓ بیان فرماتی تھیں کہ آنحضرت ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ اور عباس، حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس فدک کی زمین و جائداد و خیبر کے حصے کی میراث کا مطالبہ لے کر آئے، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان سے فرمایا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہم کسی کو اپنے مال کا وارث نہیں چھوڑتے، ہم جو کچھ چھوڑیں صدقہ ہے۔ اس مال میں سے آل محمد ﷺ کھائے گی۔ اللہ کی قسم میرے نزدیک رسول اللہ کی قرابت ( والوں کے حقوق کی حفاظت کرنا) اور ان کے ساتھ حسن سلوک و بھلائی کا معاملہ کرنا اپنے قرابت والوں کے ساتھ حسن سلوک سے زیادہ محبوب اور عزیز تر ہے۔ پیچھے جو طویل حدیث نقل کی گئی ہے اور جس میں حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حضرت عباس اور حضرت علی ؓ کے اپنا قضیہ لے کر آنے کا ذکر ہے اس کو صاحب جامع الاصول نے بھی اپنی کتاب میں بخاری، مسلم، ترمذی، ابوداؤد اور نسائی کے حوالہ سے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ ( اس حدیث کے سلسلے میں) ابوداؤد نے یہ وضاحت کی ہے کہ حضرت عباس اور حضرت علی ؓ نے حضرت عمر فاروق ؓ سے جو مطالبہ کیا تھا اس کا مقصد صرف یہ درخواست کرنا تھا کہ آپ نے جس مال وجائداد کو مشترکہ طور پر ہم دونوں کی تولیت میں دیا تھا اب اس کے آدھوں آدھ بانٹ کر ہم دونوں کی تولیت اور سپردگی میں الگ الگ حصہ دے دیجئے، نہ کہ وہ دونوں حضرات آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد ہم ( انبیاء) میراث نہیں چھوڑتے۔ سے غافل و لا علم تھے اور واقعۃً ان کا مقصد اس مال و جائداد کو اپنی میراث قرار دینا تھا، چناچہ ان دونوں کی نیت بھی صادق تھی اور ان کا مطالبہ بھی ایک درست عمل ( یعنی اس مال و جائداد کے انتظام میں زیادہ بہتری پیدا کرنے کے تقاضے کے پیش نظر تھا تاہم اس کے باوجود حضرت عمر ؓ نے ان کے مطالبہ کو پورا نہیں کیا بلکہ انہوں نے یہ واضح کردیا کہ میں اس کو گوارا نہیں کرسکتا کہ کسی بھی صورت میں اس مال و جائداد پر تقسیم کا نام آئے بلکہ اس کو جوں کا توں رکھنا ہی میرے نزدیک زیادہ ضروری ہے۔ بخاری نے کتاب الخمس میں حضرت عروہ ؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ان ( عروہ) سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے بیان فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے مطالبہ کیا کہ ان کو میراث دی جائے جو رسول اللہ ﷺ اس مال وجائداد میں سے چھوڑ گئے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مال فئی کے طور پر عطا فرمایا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان کو جواب دیا کہ (تمہارا یہ مطالبہ قابل تسلیم نہیں ہے کیونکہ) رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ لانورث ماترکناہ صدقۃ یعنی ہم انبیاء میراث نہیں چھوڑتے ہم جو چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہے۔ اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ انہوں یہ حدیث بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ مال میرے قبضہ و اختیار میں ہے اور جب میں مرجاؤں گا تو اس شخص کے قبضہ واختیار میں ہوگا جو میرے بعد خلافت و امارت کی ذمہ داریاں سنبھالے گا۔ حضرت فاطمہ ؓ کو اس بات سے سخت ناگواری ہوئی یہاں کہ انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے ہجران (یعنی ترک سلام و کلام) کرلیا اور اپنی وفات تک اسی ترک سلام و کلام پر قائم رہیں۔ واضح رہے کہ حضرت فاطمہ ؓ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد صرف چھ مہینے تک بقید حیات رہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا۔ حضرت فاطمہ، حضرت ابوبکر صدیق سے اس مال وجائداد میں سے اپنے مال وحصے کا مطالبہ کیا کرتی تھیں جو آنحضرت ﷺ نے خیبر وفدک کی زمین و باغات اور مدینہ میں اپنے صدقہ (یعنی بنو نضیر کے مال و جائداد) کی صورت میں چھوڑا تھا، لیکن حضرت ابوبکر صد یق ؓ نے ان کے اس مطالبہ کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور فرمایا کرتے تھے میں کسی ایسی چیز کو ترک نہیں کروں گا جس پر آنحضرت ﷺ کا معمول رہا ہو، اس مال وجائداد کے بارے میں میرا وہی عمل رہے گا جو آنحضرت ﷺ کا رہا ہے، مجھے خوف محسوس ہوتا ہے کہ اگر میں کسی ایسی چیز پر عمل کرنے سے باز رہوں جو آنحضرت ﷺ کے حکم و منشاء کے مطابق ہے تو یقینًا میرا یہ فعل راہ حق سے اعراض و گریز کے مرادف ہوگا۔ چناچہ (حضرت ابوبکر صدیق آخر تک اپنے اسی فیصلے پر قائم رہے اور پھر ان کی وفات کے بعد) حضرت عمر فاروق ؓ نے یہ صورت اختیار کی آنحضرت ﷺ نے مدینہ میں جو صدقہ چھوڑا تھا (یعنی بنو نضیر کی زمین وجائداد) اس کو تو حضرت عباس اور حضرت علی ؓ کے سپرد کردیا (کہ وہ دونوں حضرات مشترکہ طور پر اس کی تولیت کے فرائض انجام دیں) اور خیبر وفدک کی زمین، جائداد کو اپنی تولیت میں رکھا اور فرمایا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا (چھوڑا ہوا) صدقہ ہے جس سے آپ ﷺ کے حقوق متعلق تھے۔ نیز انہوں نے (کسی فرمان یا وصیت کے ذریعہ) ان زمین و جائدادوں کا متولی و نگران اسی شخص کو قرار دیا جو خلافت وامارت کی ذمہ داریاں سنبھالے۔ چناچہ وہ اب تک اسی صورت حال کے مطابق ہیں۔ بہرحال، اس بارے میں اوپر جو احادیث نقل کی گئیں یا وہ احادیث جو اسی مفہوم و مضمون سے متعلق صحاح ستہ میں متعدد طرق واسانید سے منقول ہیں ان سب سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ارشاد گرامی لا نورث ماترکناہ صدقۃ کا صحیح تر ثابت اور معمول بہ ہونا، آنحضرت ﷺ نے مال و جائداد کی قسم سے جو کچھ چھوڑا اس کا عام مسلمانوں کے درمیان مشترک ہونا اور ان کے اجتماعی مفاد و مصالح میں خرچ کیا جانا اور اس کا اس شخص کے قبضہ اختیار میں ہونا جو خلافت و امارت کا منصب سنبھالے ہوئے ہو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حتی کے حضرت عباس کے ؓ کے نزدیک بھی ایک متفقہ علیہ مسئلہ تھا۔ لیکن یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس مال وجائداد کو حضرت عباس ؓ اور حضرت علی ؓ کی تولیت میں دیا جانا ایک درست عمل اور بہتر طریقہ تھا تو حضرت عمر ؓ نے شروع ہی میں یہ صورت اختیار کیوں نہ کرلی اور اگر وہ کوئی درست عمل اور بہتر طریقہ نہیں تھا تو پھر انہوں نے بعد میں اس مال وجائداد کو ان لوگوں کی تولیت میں کیوں دیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شروع میں ان دونوں کا مطالبہ چونکہ یہ تھا اس مال وجائداد کو ان کی ملکیت میں دے دیا جائے اس لئے حضرت عمر ؓ نے ان کے مطالبہ کو منظور نہیں کیا اور پھر بعد میں جو ان لوگوں کو دیا تو اس کی بنیاد یہ تھی کہ ان لوگوں کو اس مال و جائداد کا مالک نہیں بنایا گیا بلکہ صرف متولی و منتظم بنایا گیا تھا اور یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ اس کو انہیں مصارف میں خرچ کیا جائے گا جن میں آنحضرت ﷺ خرچ کیا کرتے تھے۔ مگر بات یہیں صاف نہیں ہوجاتی بلکہ جیسا کہ خطابی نے کہا ہے، مسئلہ میں ایک دوسری طرف سے الجھاؤ پیدا ہوتا ہے اور وہ اس سوال کی صورت میں کہ جب حضرت عباس اور حضرت علی ؓ نے اس مال وجائداد کو مذکورہ شرط پر قبضہ میں لیا تھا اور ان لوگوں یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ یہ مال وجائداد آنحضرت ﷺ کا ورثہ نہیں ہے اور جلیل القدر مہاجر صحابہ کرام نے اس کی تصدیق بھی کی تھی تو پھر آخر ان لوگ کے درمیان یہ اختلاف وخصومت کی شکل کیوں پیدا ہوئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس تولیت میں شرکت دونوں ہی پر شاق گزر رہی تھی لہٰذا انہوں نے یہ درخواست کی کہ اس مال و جائداد کو تقسیم کرکے ہر ایک کو ایک ایک حصے کا منتظم ومتولی بنادیا جائے تاکہ دونوں ایک دوسرے سے کوئی واسطہ رکھے بغیر اپنے اپنے حصے کی دیکھ بھال اور اس کے اور خرچ و تصرف کا انتظام آزادی ویکسوئی کے ساتھ کرتے رہیں لیکن حضرت عمر ؓ نے ان کی درخواست کو اس لئے قبول نہیں کیا کہ مبادا یہ تقسیم ملکیت کی صورت کے مشابہ ہوجائے کیونکہ تقسیم املاک میں ہوا کرتی ہے دوسرے یہ کہ فی الوقت نہ صحیح لیکن طویل زمانہ گزر جانے پر اس میں خود باخود ملکیت کا شائبہ ہونے لگتا ہے۔ حضرت عباس اور حضرت علی ؓ سے زیادہ الجھا ہوا مسئلہ حضرت فاطمہ الزہرا ؓ کا ہے کیونکہ اگر ان کے مطالبہ کے بارے میں یہ کہا جائے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی اس حدیث اور آپ ﷺ کے اس عمل سے قطعا لاعلم تھیں تو یہ بات بعید از حقیقت ہوگی اور اگر یہ کہا جائے کہ بہرحال ممکن ہے کہ ان کو آنحضرت ﷺ سے یہ ارشاد سننے کا اتفاق نہ ہوا ہو تو پھر یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان کے سامنے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد بیان فرمایا اور دوسرے صحابہ کرام نے بھی اس کی تصدیق کی تو پھر انہوں نے اس بات کو قبول کرنے سے کیوں انکار کیا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ اس قدر ناراضگی کی صورت کیوں اختیار کی یا اگر ناراضگی کی صورت اس حدیث کو سننے سے پہلے پیدا ہوچکی تھی تو سننے کے بعد انہوں نے اس کو ختم کیوں نہیں کیا جس نے اتنا طول کھینچا کہ وہ زندگی کے آخری لمحہ تک حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے ترک سلام و کلام پر قائم رہیں؟ کرمانی نے بخاری کی شرح میں اس کا جواب یہ لکھا ہے کہ حضرت فاطمہ الزہرا ؓ کی ناراضگی اصل میں ایک ایسی صورت تھی جو ان میں بتقاضائے بشریت پیدا ہوگی اور ہجران سے ہجران محرم یعنی ترک وسلام و کلام اور انقطاع تعلق مراد نہیں ہے بلکہ ملنے جلنے سے طبیعت میں انقباص و کوفت کا پیدا ہوجانا مراد ہے۔ علاوہ ازیں بعض روایت میں منقول ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کے درمیان مذکورہ صورت حال پیدا ہوگئی (کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی طرف سے حضرت فاطمہ ؓ کا مطالبہ تسلیم نہ کئے جانے کی وجہ سے وہ ان سے ناراض ہوگئیں) تو (ایک دن) حضرت ابوبکر ؓ حضرت فاطمہ ؓ کے ہاں تشریف لے گئے اور آفتاب کی سخت گرمی اور دھوپ کی شدید تمازت کے باوجود ان کے دروازے پر کھڑے رہے اور ان سے عذر خواہی کرتے رہے اور یہ فرمایا کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ کی قرابت (کے حقوق کی رعایت و حفاظت) مجھے اپنی قرابت سے زیادہ محبوب اور عزیز تر ہے لیکن میں کیا کروں کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے اس حدیث کو سنا ہے اور دوسرے صحابہ کرام اس پر گواہ ہیں۔ تب حضرت فاطمہ (کا دل صاف ہوگیا اور ان) کی ناراضگی ختم ہوگئی۔ تمت بالخیر
حدود حرم سے باہر ہر جگہ شکار کرنا حلال ہے بشرطیکہ شکار کرنے والا حالت احرام میں نہ ہو، چناچہ شکار کا مباح ہونا کتاب و سنت ( یعنی قرآن مجید اور احادیث نبوی) سے ثابت ہے اور اجماع امت بھی اسی پر ہے البتہ حضرت امام مالک کے مسلک کی ایک کتاب رسالہ ابن ابوزید میں لکھا ہے کہ محض لہو و لعب کی خاطر شکار کرنا مکروہ ہے اور لہو و لعب کے قصد و ارادے کے بغیر مباح ہے۔ جہاں تک آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کا تعلق ہے تو یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے بنفس خود کبھی شکار کیا ہو لیکن یہ ثابت ہے کہ اگر کبھی آپ ﷺ کے سامنے کسی نے شکار کیا تو آپ ﷺ نے اس کو منع نہیں فرمایا۔
کتے اور تیر کے ذریعہ کئے گئے شکار کا مسئلہ
عن عدي بن حاتم قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أرسلت كلبك فاذكر اسم الله فإن أمسك عليك فأدركته حيا فاذبحه وإن أدركته قد قتل ولم يأكل منه فكله وإن أكل فلا تأكل فإنما أمسك على نفسه فإن وجدت مع كلبك كلبا غيره وقد قتل فلا تأكل فإنك لا تدري أيهما قتل . وإذا رميت بسهمك فاذكر اسم الله فإن غاب عنك يوما فلم تجد فيه إلا أثر سهمك فكل إن شئت وإن وجدته غريقا في الماء فلا تأكل
حضرت عدی ابن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ جب تم اپنے کتے کو چھوڑو تو اللہ کا نام ذکر کرو ( یعنی جب تم شکار کے لئے اپنے سکھائے ہوئے کتے کو چھوڑنے کا ارادہ کرو تو اس کو بسم اللہ کہہ کر چھوڑو) اور پھر اگر اس کتے نے تمہارے لئے شکار کو پکڑ لیا ہو اور وہ شکار تم کو زندہ ملے تو اس کو ذبح کرلو، ( اگر اس کو قصدا ذبح نہیں کرو گے تو اس کا کھانا حرام ہوگا کیونکہ اس صورت میں وہ مردار ہوگا) اور اگر تم اس شکار کو اس حالت میں پاؤ کہ کتے نے اس کو مار ڈالا ہے لیکن اس نے اس میں سے کچھ کھایا نہیں ہے تو اس ( شکار) کو کھاؤ لیکن اگر کتے نے اس میں سے کچھ کھالیا ہے تو پھر تم اس کو نہ کھاؤ کیونکہ اس صورت میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کتے نے اس شکار کو اپنے لئے پکڑا ہوگا ( جو اس بات کی علامت ہوگی کہ کتا سکھایا ہوا نہیں ہے جب کہ اس کتے کا پکڑا ہوا شکار حلال ہے جو سکھایا ہوا ہو) اور اگر تم شکار کے پاس) اپنے کتے کے ساتھ کسی دوسرے کا کتا بھی پاؤ، درآنحالیکہ ( ان دونوں میں سے کسی ایک کتے نے) اس شکار کو مار ڈالا ہو تو اس صورت میں بھی اس شکار کو مت کھاؤ کیونکہ تمہیں یہ معلوم نہیں ہوگا کہ اس شکار کو ان دونوں کتوں میں سے کس نے مارا ہوگا تو ہوسکتا ہے کہ وہ سکھایا ہوا نہ ہو یا اس کو چھوڑنے والے نے چھوڑتے وقت بسم اللہ نہ کہی ہو اور یا اس کو کسی ایسے شخص نے چھوڑا ہو جس کے ہاتھ کا ذبیحہ حلال نہیں ہوتا جیسے مجوسی یا بت پرست وغیرہ) اور جب تم ( کسی شکار پر) اپنا تیر چلاؤ تو ( اس وقت) اللہ کا نام ذکر کرو یعنی بسم اللہ کہہ کر تیر چلاؤ اور پھر اگر وہ شکار ایک دن تک تم سے اوجھل رہا ( اور اس کے بعد تمہیں ملا) تو تم چاہو تو اس کو کھالو بشیرطی کہ تم نے اس شکار میں اپنے تیر کے نشان کے علاوہ اور کوئی نشان نہ پایا ہو اور اگر وہ شکار تمہیں پانی میں ڈوبا ہوا ملے ( اور اس میں تمہارے تیر کا نشان بھی موجود ہو) تو تم اس کو نہ کھاؤ ( کیونکہ ممکن ہے وہ تمہارے تیر سے نہ مرا ہو بلکہ پانی میں ڈوب کر مرا ہو۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
اللہ کا نام ذکر کرو کا مطلب یہ ہے کہ کتے کا چھوڑنا بمنزلہ چھری چلانے کے ہے اس لئے جس طرح چھری کے ذریعہ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا جاتا ہے اس طرح شکار پر سکھایا ہوا کتا چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا جانا یعنی بسم اللہ اللہ اکبر کہنا ضروری ہے۔ اگر کسی نے بھول کر بسم اللہ اللہ اکبر نہیں کہا تو اس صورت میں اس شکار کو کھانا حلال ہوگا اور اگر یہ صورت ہے کہ کتا چھوڑتے وقت قصدا بسم اللہ اللہ اکبر نہیں کہا پھر اس نے کتے کو ڈانٹا کتا جہاں تھا وہیں رک گیا، اب ( کتے کو چھوڑتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر نہیں کہا مگر اس نے شکار کو زندہ پایا اور ذبح کرلیا تو وہ شکار کے حکم میں نہیں رہے گا۔ جس طرح سکھائے ہوئے ذی ناب جانوروں جیسے کتے اور چیتے وغیرہ کا پکڑا ہوا شکار حلال ہے اسی طرح سکھائے ہوئے ذی مخلب جانوروں جیسے باز اور شاہین وغیرہ کا پکڑا ہوا شکار بھی حلال ہے۔ ذی مخلب جانور کے سکھائے ہوئے ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ تین دفعہ شکار کو پکڑ کر چھوڑ دے خود نہ کھائے اور ذی مخلب جانور کے سکھائے ہوئے ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کو چھوڑنے کے بعد بلایا جائے تو فورا واپس آجائے، لہذا اگر ذی مخلب جانور یعنی باز وغیرہ نے شکار میں سے کچھ خود کھالیا تو بھی وہ شکار حلال رہے گا اور اس کو کھانا درست ہوگا جب کہ اگر ذی ناب جانور یعنی کتا وغیرہ شکار میں سے کچھ خود کھالے تو وہ شکار حلال نہیں رہے گا۔ اسی طرح اگر کسی سکھائے ہوئے کتے وغیرہ نے تین بار شکار کو پکڑ کر چھوڑ دینے کے بعد ایک بار بھی شکار میں سے کچھ کھالیا تو وہ بےسیکھے ہوئے کتے کے حکم میں ہے یہاں تک کہ وہ دوبارہ سیکھا ہوا ہوجائے۔ اور پھر وہ شکار ایک دن تک تم سے اوجھل رہا الخ حنفی علماء کے نزدیک تیر کے ذریعہ مارے گئے شکار کے حلال ہونے کی شرط یہ ہے کہ تیر پھینکتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر کہا گیا ہو اس تیر نے شکار کو زخمی کردیا ہو اور یہ کہ اگر وہ شکار اس تیر کے ذریعہ زخمی ہو کر شکاری کی نظر سے غائب ہوگیا تو اس کو تلاش کرنے سے بیٹھ نہ رہا جائے کیونکہ ابن ابی شیبہ نے اپنی کتاب مصنف میں اور طبرانی نے اپنی معجم میں ابورزین سے یہ روایت نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا لعل ہو ام الارض قتلہ نیز عبدالرحمن نے بھی اسی طرح کی روایت حضرت عائشہ ؓ سے بطریق مرفوع نقل کی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی شکار پر کوئی کتا یا چیتا یا باز وغیرہ چھوڑا گیا اور اس نے شکار کو مار ڈالا تو وہ ( شکار) حلال ہوگا بشرطیکہ وہ کتا وغیرہ معلم یعنی سیکھا ہوا ہو۔ غیر معلم کتے وغیرہ کا مارا ہوا شکار حلال نہیں ہوگا۔
کتے اور تیر کے ذریعہ کئے گئے شکار کا مسئلہ
وعنه قال : قلت : يا رسول الله إنا نرسل الكلاب المعلمة قال : كل ما أمسكن عليك قلت : وإن قتلن ؟ قال : وإن قتلن قلت : إنا نرمي بالمعراض . قال : كل ما خزق وما أصاب بعرضه فقتله فإنه وقيذ فلا تأكل
اور حضرت عدی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم تربیت یافتہ ( یعنی سکھائے ہوئے) کتوں کو ( شکار کے پیچھے) چھوڑتے ہیں!؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تمہارے کتے تمہارے لئے جو شکار پکڑ کر رکھیں۔ میں نے عرض کیا اگرچہ وہ کتے شکار کو مار ڈالیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اگرچہ مار ڈالیں! پھر میں نے عرض کیا کہ ہم شکار پر بغیر پر کا تیر چلاتے ہیں ( اور اس کے ذریعہ شکار کرلیتے ہیں تو کیا وہ شکار کھانا درست ہے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا جس شکار کو وہ تیر زخمی کر دے ( یعنی اگر وہ تیر سیدھا جا کر نوک کی جانب سے شکار کو لگے اور وہ مرجائے) تو اس کو کھالو اور اگر وہ تیر ( نوک کی جانب سے نہیں بلکہ) عرض یعنی چوڑائی کی جانب سے جا کر اس شکار کو ( اس طرح) لگے ( کہ وہ شکار کو زخمی نہ کرے) اور وہ مرجائے تو وہ وقیذ ہے اس کو نہ کھاؤ۔ ( بخاری و مسلم)
تشریح
معراض اس تیر کو کہتے ہیں جو بےپر کا ہو۔ ایسا تیر سیدھا جا کر نوک کی طرف سے نہیں بلکہ چوڑائی کی طرف سے جا کر لگتا ہے۔ وہ وقیذ ہے۔ اصل میں وقیذ اور موقوذ اس جانور کو کہتے ہیں جو غیر دھار دار چیز سے مارا جائے خواہ وہ لکڑی ہو یا پتھر یا اور کوئی چیز۔ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ معراض یعنی بغیر پر کے تیر کے ذریعہ شکار کرنے کی صورت میں اگر وہ ( معراض) اس شکار کو اپنی دھار کے ذریعہ مار ڈالے تو وہ حلال ہوگا اور اگر معراض نے اس کو اپنی چوڑائی کے ذریعہ مارا ہے تو وہ حلال نہیں ہوگا، نیز علماء نے یہ بھی کہا ہے کہ اس حدیث معراض سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ شکار حلال نہیں ہے جس کو بندقہ یعنی گولی اور غلہ کے ذریعہ مار ڈالا گیا ہو۔ اور وہ شکار جو معراض کے چوڑان کی طرف سے ( چوٹ کھا کر) مرا ہو اس لئے حلال نہیں ہوتا کہ مذکورہ صورت میں شکار کا زخمی ہونا ضروری ہے تاکہ ذبح کے معنی متحقق ہوجائیں جب کہ معراض کا چوڑان شکار کو زخمی نہیں کرتا اسی لئے وہ شکار بھی حلال نہیں ہوتا، جو موٹی دھار کے بندقہ کے ذریعہ مار ڈالا گیا ہو۔ کیونکہ بندقہ ہڈی کو توڑ دیتا ہے زخمی نہیں کرتا اس لئے وہ معراض کے حکم میں ہوتا ہے ہاں اگر بندقہ میں ہلکی دھار ہو اور شکار اس کے ذریعہ مرگیا ہو تو وہ حرام نہیں ہوتا کیونکہ اس صورت میں اس کی موت زخم کے ساتھ محقق ہوئی ہے۔ اگر کسی شخص نے شکار پر چھری یا تلوار پھینک کر ماری اور وہ شکار مرگیا تو وہ حلال ہوگا بشرطیکہ وہ چھری یا تلوار دھار کی طرف سے جا کر لگی ہو ورنہ حلال نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر شکار کے کوئی ایسا ہلکا پتھر پھینک کر مارا گیا ہو جس میں دھار ہو اور شکار کو زخمی کر دے تو اس شکار کو بھی کھایا جاسکتا ہے کیونکہ اس صورت میں اس شکار کی موت زخم کے ذریعہ متیقن ہوگی جب کہ اگر شکار کو بھاری پتھر پھینک کر مارا گیا ہو تو اس کو کھانا جائز نہیں ہوگا اگرچہ وہ زخمی بھی کر دے کیونکہ اس صورت میں یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ وہ شکار اس پتھر کی چوٹ کے ذریعہ ( جیسے ہڈی وغیرہ ٹوٹنے کی وجہ سے) مرا ہو۔ حاصل یہ ہے کہ اگر شکار کی موت اس کے زخمی ہوجانے کی وجہ سے واقع ہوئی ہو اور اس کا یقین بھی ہو تو اس کو کھایا جاسکتا ہے اور اگر اس کی موت چوٹ کے اثر سے واقع ہوئی اور اس کا یقین ہو تو اس شکار کو قطعا نہ کھایا جائے اور اگر شک کی صورت ہو ( کہ اس کا مرنا زخمی ہونے کی وجہ سے بھی محتمل ہو اور چوٹ کے اثر سے بھی محتمل ہو) تو بھی احتیاطا اس کو نہ کھایا جائے۔
کتے اور تیر کے ذریعہ کئے گئے شکار کا مسئلہ
وعن أبي ثعلبة الخشني قال : قلت : يا نبي الله إنا بأرض قوم أهل كتاب أفنأكل في آنيتهم وبأرض صيد أصيد بقوسي وبكلبي الذي ليس بمعلم وبكلبي المعلم فما يصلح ؟ قال : أما ذكرت من آنية أهل الكتاب فإن وجدتم غيرها فلا تأكلوا فيها وإن لم تجدوا فاغسلوها وكلوا فيها وما صدت بقوسك فذكرت اسم الله فكل وما صدت بكلبك المعلم فذكرت اسم الله فكل وما صدت بكلبك غير معلم فأدركت ذكاته فكل
اور حضرت ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! ہم ایک ایسی قوم کے درمیان سکونت پذیر ہیں جو اہل کتاب ہے، تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا پی سکتے ہیں اور ہم ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں شکار بہت ہیں میں اپنی کمان ( یعنی تیر) اور تربیت یافتہ کتے کے ذریعہ بھی شکار مارتا ہوں اور غیر تربیت یافتہ کتے کے ذریعہ بھی شکار کرتا ہوں تو میرے لئے کون سی چیز درست ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے جو تم نے اہل کتاب کے برتنوں کے بارے میں پوچھی ہے تو ( ان کے متعلق یہ حکم ہے کہ) اگر ان برتنوں کے علاوہ اور برتن مل سکیں تو پھر ان کے برتنوں میں مت کھاؤ پیو اور اگر دوسرے برتن نہ مل سکیں تو ( پہلے) ان کو دھو مانج لو اور پھر ان میں کھا پی لو۔ رہی شکار کی بات تو جس جانور کو تم نے اپنے تیر سے شکار کیا ہے اور ( تیر چھوڑتے وقت) اللہ کا نام لیا ہے اس کو کھالو اسی طرح جس جانور کو تم نے تربیت یافتہ کتے کے ذریعہ شکار کیا ہے اور ( اس کتے کو چھوڑتے وقت) اللہ کا نام لیا ہے تو اس کو بھی کھا سکتے ہو۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
ان کے برتنوں میں مت کھاؤ یہ حکم احتیاط کے پیش نظر ہے اور اس کے کہی سبب ہیں ایک تو یہ کہ آپ ﷺ کا یہ ارشاد ہے دع ما یریبک الی مالا یریبک دوسرے اس بات سے آگاہ کرنا مقصود ہے کہ حتی الامکان ان کے مستعمل برتنوں میں کھانے پینے سے احتراز کیا جائے اگرچہ ان کو دھو لیا گیا ہو۔ اور تیسرے مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات زیادہ سے زیادہ اہمیت کے ساتھ راسخ کرنا بھی مقصود ہے کہ مسلمانوں کے سامنے ان کا یہ ملی تقاضہ بہر صورت رہنا چاہئے کہ وہ ان ( اہل کتاب) کے ساتھ رہن سہن اور باہمی اختلاط رکھنے سے نفرت کریں۔ تاہم یہ حکم کہ ان کے برتنوں میں مت کھاؤ دراصل تقوی کی راہ ہے اور اس بارے میں جو کچھ فتوی ہے وہ خود حدیث نے آگے بیان کردیا ہے۔ ان کو دھو مانج لو یہ حکم اس صورت میں تو بطریق وجوب ہوگا جب کہ ان برتنوں کے نجس و ناپاک ہونے کا ظن غالب ہو اور اس صورت میں بطریق استحباب ہوگا جب کہ ان کی نجاست کا ظن غالب نہ ہو۔ برماوی نے نقل کیا ہے کہ اس حدیث کے ظاہری مفہوم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر ان ( اہل کتاب) کے برتنوں کے علاوہ اور دوسرے برتن مل سکتے ہوں تو اس صورت میں ان کے برتنوں کو دھو کر بھی اپنے کھانے پینے کے استعمال میں نہیں لانا چاہئے۔ جب کہ فقہاء نے یہ مسئلہ لکھا ہے کہ ان کے برتنوں کے دھو لینے کے بعد استعمال کرنا بہر صورت جائز ہے۔ خواہ اور دوسرے برتن مل سکتے ہوں یا نہ مل سکتے ہوں۔ اس صورت میں کہا جائے گا کہ حدیث سے جو کراہت ثابت ہوتی ہے وہ ان برتنوں پر محمول ہے جن میں وہ لوگ سور کا گوشت پکاتے کھاتے ہوں یا جن میں شراب پینے کے لئے رکھتے ہوں، لہذا ایسے برتن چونکہ ایمانی نقطہ نظر سے بےحد گھناؤ نے ہوتے ہیں، اس لئے ان کو اپنے استعمال میں لانا مکروہ ہے خواہ ان کو کتنا ہی دھو مانج کیوں نہ لیا جائے اور فقہاء نے جو مسئلہ بیان کیا ہے وہ ان برتنوں پر محمول ہے جو سور کے گوشت جیسی نجاستوں اور ناپا کیوں میں زیادہ مستعمل نہیں ہوتے۔
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا رميت بسهمك فغاب عنك فأدركته فكل ما لم ينتن . رواه مسلم
اور حضرت ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم ( اللہ کا نام لے کر کسی شکار پر) اپنا تیر چلاؤ اور پھر وہ ( شکار تیر کھا کر تمہاری نظروں سے اوجھل ہوجائے۔ ( یعنی کسی ایسی جگہ گر کر مرجائے جو اس وقت تمہیں نہ مل سکے) اور پھر وہ تمہارے ہاتھ لگ جائے ( اور تم اس میں اپنے تیر کا نشان دیکھ کر یہ یقین کرلو کہ یہ تمہارے اس تیر کے لگنے سے مرا ہے) تم اس کو کھا سکتے ہو جب تک کہ اس ( کی بو) میں تغیر پیدا نہ ہوجائے۔ ( مسلم)
تشریح
حنفی علماء لکھتے ہیں جب تک کہ اس میں تغیر پیدا نہ ہوجائے کا حکم بطریق استحباب ہے، ورنہ تو گوشت میں بو کا پیدا ہوجانا اس گوشت کے حرام ہونے کو واجب نہیں کرتا۔ چناچہ ایک روایت میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایسا گوشت کھایا ہے جس میں بو پیدا ہوچکی تھی۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ بد بودار گوشت کھانے کی ممانعت، محض نہی تنزیہہ پر محمول ہے نہ کہ نہی تحریم پر، بلکہ یہی حکم ہر اس کھانے کا ہے جو بد بودار ہوگیا ہو الاّ یہ کہ اس کو کھانے کی وجہ سے کسی تکلیف و نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
وعنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال في الذي يدرك صيده بعد ثلاث : فكله ما لم ينتن . رواه مسلم
اور حضرت ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس شکاری کے حق میں کہ جو اپنے شکار کو تین دن کے بعد پائے فرمایا ( اس کو کھالو تاوقتیکہ اس میں بو پیدا نہ ہوگئی ہو۔ ( مسلم )
وعن عائشة قالت : قالوا : يا رسول الله إن هنا أقواما حديث عهدهم بشرك يأتوننا بلحمان لا ندري أيذكرون اسم الله عليها أم لا ؟ قال : اذكروا أنتم اسم الله وكلوا . رواه البخاري
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ( ایک مرتبہ) صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ! یہاں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے شرک کا زمانہ بہت قریب کا ہے ( یعنی وہ نو مسلم جنہوں نے اسلام کے احکام اور دینی مسائل پوری طرح ابھی نہیں سیکھے ہیں) وہ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں اور ہمیں اس کا علم نہیں ہوتا کہ آیا انہوں نے اس کے ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں ( تو کیا ان کا لایا ہوا گوشت ہم کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم اللہ کا نام لے لیا کرو اور اس کو کھالیا کرو ( بخاری)
تشریح
تم اللہ کا نام لے لیا کرو الخ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم بسم اللہ پڑھ کر اس گوشت کو کھالو تو اس وقت تمہارا بسم اللہ پڑھنا ذبح کرنے والے کے بسم اللہ پڑھنے کے قائم مقام ہوجائے گا بلکہ ذراصل اس ارشاد کے ذریعہ آپ ﷺ نے یہ بیان فرمایا ہے، کہ کھانے کے وقت بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ جو گوشت تمہارے پاس لایا گیا ہے اس کے بارے میں تم یہ نہیں جانتے کہ آیا وہ اس ذبیحہ کا ہے جو بسم اللہ پڑھ کر ذبح کیا گیا ہے یا بسم اللہ پڑھے بغیر ذبح کردیا گیا ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس گوشت کو کھانا جائز ہے بشرطیکہ اس کو ذبح کرنے والا ان میں سے ہو جن کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانا شرعا جائز ہے اور یہ جواز اس حسن ظن کی بنیاد ہے جو ایک مسلمان کی حالت و کیفیت کو صلاح و نیکی ہی پر محمول کرنے کا متقاضی ہوتا ہے لہٰذا اگر اس طرح کا کوئی شخص تمہیں گوشت دے جائے تو تم یہی حسن ظن رکھو کہ وہ چونکہ بہر حال مسلمان ہے اس لئے اس نے ذبح کرتے وقت اللہ کا نام ضرور لیا ہوگا۔
غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ حرام ہے
وعن أبي الطفيل قال : سئل علي : هل خصكم رسول الله صلى الله عليه و سلم بشيء ؟ فقال : ما خصنا بشيء لم يعم به الناس إلا ما في قراب سيفي هذا فأخرج صحيفة فيها : لعن الله من ذبح لغير الله ولعن الله من سرق منار الأرض وفي رواية من غير منار الأرض ولعن الله من لعن والده ولعن الله من آوى محدثا . رواه مسلم
اور حضرت ابوطفیل کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا رسول کریم ﷺ نے آپ ( اہل بیت) کو کسی چیز کے ذریعہ خصوصیت و امتیاز عطا کیا ہے یعنی کیا یہ صحیح ہے کہ آنحضرت ﷺ نے آپ لوگوں کو جو اہل بیت رسول ﷺ ہیں کچھ ایسے احکام دیئے ہیں جو اور دوسرے لوگوں کو نہیں دیئے ہیں؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا ( نہیں! ) آنحضرت ﷺ نے ہمارے لئے کوئی ایسی چیز مخصوص نہیں کی ہے جو اور دوسروں کے لئے عام نہ کی گئی ہو، علاوہ اس چیز کے جو میری تلوار کی نیام میں ( چند احکام کے مجموعہ کی صورت میں) موجود ہے ( لیکن ان احکام کے بارے میں بھی، میں یہ نہیں جانتا کہ وہ احکام آیا محض ہم اہل بیت کے لئے خاص ہیں یا ان کا تعلق عمومی طور پر پوری امت سے ہے) پھر حضرت علی ؓ نے ( اپنی تلوار کی نیام میں سے) ایک کاغذ نکالا جن میں یہ احکام درج تھے کہ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کا نشان چرائے۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ( اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو) جو زمین کے نشان میں تغیر و تبدل کرے۔ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے باپ پر لعنت کرے اور اس شخص پر لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانا دے۔ ( مسلم )
تشریح
زمین کے نشان سے مراد وہ علامتی پتھر وغیرہ ہے جو زمین کی حدود پر نصب ہوتا ہے اور جس کے ذریعہ ایک دوسرے کی زمین کے درمیان فرق و امتیاز کیا جاتا ہے۔ اور اس نشان کو چرانے یا اس میں تغیر و تبدل کرنے کا مطلب یہ ہے، کہ وہ شخص بزور و زبردستی اپنے ہمسایہ کی زمین دبا لینا چاہتا ہو۔ جو اپنے باپ پر لعنت کرے یعنی یا تو اپنے باپ پر خود صریحا لعنت کرے یا کسی دوسرے شخص کے باپ پر لعنت کرے اور وہ شخص انتقاما اس کے باپ پر لعنت کرے، اس دوسری صورت میں اس نے اگرچہ اپنے باپ پر خود صریحا لعنت نہیں کی ہے مگر اس لعنت کا سبب چونکہ وہی بنا ہے اس لئے کہا جائے گا کہ گویا اس نے اپنے باپ پر لعنت کی ہے۔ جو کسی بدعتی کو ٹھکانا دے بدعتی اس شخص کو کہتے ہیں جو دین میں کوئی ایسی بات پیدا کرے جس کی کچھ اصل موجود نہ ہو اور وہ بات شریعت کے خلاف اور سنت میں تبدیلی پیدا کرنے والی ہو۔ ایسے شخص یعنی بدعتی کو ٹھکانا دینا اس کی عزت و تعظیم کرنا اور اس کی مدد و حمایت کرنا۔ شریعت کی نظر میں قابل مواخذہ ہے۔
جو چیز بھی خون بہا دے اس سے ذبح کرنا جائز ہے
وعن رافع بن خديج قال : قلت : يا رسول الله إنا لاقوا العدو غدا وليست معنا مدى أفنذبح بالقصب ؟ قال : ما أنهر الدم وذكر اسم الله فكل ليس السن والظفر وسأحدثك عنه : أما السن فعظم وأما الظفر فمدى الحبش وأصبنا نهب إبل وغنم فند منها بعير فرماه رجل بسهم فحبسه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لهذه الإبل أوابد كأوابد الوحش فإذا غلبكم منها شيء فافعلوا به هكذا
اور حضرت رافع بن خدیج کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! کل دشمن ( یعنی کفار) سے ہمارا مقابلہ ہونے والا ہے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں ( یعنی ہوسکتا ہے کہ جنگی ہنگاموں کی وجہ سے ہمارے پاس چھریاں موجود نہ رہیں اور ہمیں جانوروں کو ذبح کرنے کی ضرورت پیش آئے تو اس صورت میں) کیا ہم کھپچ ( کھپچی) سے ذبح کرسکتے ہیں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس چیز سے خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اس کو کھا سکتے ہو ( یعنی اس جانور کو کھانا جائز ہے جو کسی بھی ایسی چیز سے ذبح کیا گیا ہو جس سے خون بہہ جائے خواہ وہ لوہا ہو یا کوئی اور چیز) مگر دانت اور ناخن کے ذریعہ ( ذبح کرنا جائز نہیں ہے اور میں تمہیں ان دونوں کے بارے میں بتاتا ہوں ( کہ ان کے ذریعہ ذبح کرنا کیوں جائز نہیں ہے) تو ( سنو کہ) دانت تو ہڈی ہے اور جہاں تک ناخن کا تعلق ہے تو وہ حبشیوں کی چھری ہے۔ ( حضرت رافع ؓ کہتے ہیں کہ دشمن کے) کچھ اونٹ اور بکریاں لوٹ میں ہمارے ہاتھ آئیں، ان میں سے ایک اونٹ ( بھڑک کر) بھاگ نکلا، لیکن ( ہم میں سے) ایک شخص نے تیر مار کر اس کو روک دیا ( یعنی وہ اونٹ تیر کھا کر زمین پر ڈھر ہوگیا) آنحضرت ﷺ نے ( یہ دیکھ کر) فرمایا ان اونٹوں میں بعض اونٹ بھی اس طرح انسانوں سے بھڑکنے والے ہوتے ہیں جس طرح جنگلی جانور۔ انسانوں سے بھڑکتے ہیں، لہٰذا اگر ان اونٹوں میں سے کوئی اونٹ تمہارے قبضے سے نکل بھاگے تو اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرو۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
دانت تو ہڈی ہے یعنی دانت چونکہ ہڈی ہے اور ہڈی سے ذبح کرنا درست نہیں ہے اس لئے دانت کے ذریعہ ذبح کیا ہوا جانور کھانا جائز نہیں ہوگا۔ شیخ ابن صلاح کہتے ہیں کہ اس موضوع پر بہت زیادہ تحقیق و تفتیش اور غور و فکر کے باوجود میں یہ جاننے میں ناکام رہا ہوں کہ ہڈی کے ذریعہ ذبح کرنے کی ممانعت کا کیا مطلب ہے اور اس کی کیا وجہ ہے! شیخ عبدالسلام سے بھی اس طرح کی بات منقول ہے، جہاں تک حدیث کا تعلق ہے اس میں بھی صرف یہی فرمایا گیا ہے کہ دانت سے ذبح کرنا اس لئے درست نہیں کہ وہ ہڈی ہے اس کے علاوہ اور کسی ظاہری علت و سبب کی طرف اشارہ نہیں ہے لیکن حضرت امام نووی نے ہڈی سے ذبح کرنے کی ممانعت کی یہ علت بیان کی ہے کہ اگر ہڈی سے ذبح کیا جائے گا تو وہ ہڈی، ذبیحہ کے خون سے نجس ہوجائے گی اور ہڈی کو نجس و ناپاک کرنے کی ممانعت منقول ہے کیونکہ ( ) ( ہڈی) کو جنات کی خوراک بتایا گیا ہے۔ وہ حبشیوں کی چھری ہے یہ گویا ناخن سے ذبح کرنے کی علت ہے، یعنی اگر ناخن کے ذریعہ ذبح کیا جائے گا تو اس میں حبشیوں کی مشابہت اختیار کرنا لازم آئے گا کیونکہ ناخن کے ذریعہ جانوروں کو چیر پھاڑ کر کھانا حبشیوں کے ساتھ مخصوص ہے اور وہ حبشی غیر مسلم ہیں، جب کہ مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ غیر مسلموں کے طور طریقوں کو اختیار نہ کریں بلکہ ان کے خلاف کریں! واضح رہے کہ دانت اور ناخن کے ذریعہ ذبح کرنے کی ممانعت تینوں آئمہ کے نزدیک مطلق ہے، جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ ان دانتوں اور ناخنوں سے ذبح کرنا تو جائز نہیں ہے جو اپنی جگہ پر یعنی منہ اور انگلیوں میں ہوں ہاں جو دانت اور ناخن اپنی جگہ سے اکھڑ کر ( منہ اور انگلیوں سے) الگ ہوچکے ہوں ان کے ذریعہ ذبح کرنا جائز ہے لیکن یہ جواز کراہت کے ساتھ ہے تاہم اس ذبیحہ کا گوشت کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ تینوں آئمہ کی دلیل مذکورہ حدیث ہے جس میں دانت اور ناخن کے ذریعہ ذبح کرنے کی ممانعت کسی قید اور کسی استثناء کے بغیر منقول ہے، جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کی دلیل آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ انھر الدم بما شئت اور وافر الاوداج۔ اور جہاں تک حضرت رافع ؓ کی اس روایت کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں حضرت امام اعظم کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ حدیث بغیر اکھڑے ہوئے دانت اور ناخن کے ذریعہ ذبح کرنے پر محمول ہے کیونکہ حبشیوں کا یہی طریقہ تھا۔ تو اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرو کا مطلب یہ ہے کہ اگر گھر کا پالتو کوئی جانور جیسے اونٹ، گائے اور بکری وغیرہ بھاگ کھڑا ہو تو وہ ذبح کے معاملہ میں وحشی جانور کے شکار کی مانند ہوگا کہ جس طرح وحشی جانور پر بسم اللہ پڑھ کر مثلا تیر چلایا جائے تو وہ تیر اس جانور کے جسم کے جس حصہ پر بھی لگ کر اس کو ختم کر دے گا وہ ذبیحہ کے حکم میں ہوجائے گا، اسی طرح اس بھاگنے والے پالتو جانور کا سارا جسم اور اس کے سارے اعضاء بھی ذبح کی جگہ ہوں گے، چناچہ بسم اللہ پڑھ کر اس پر چلایا جانے والا تیر اس کے جسم کے جس حصے میں لگ کر اس کو ختم کر دے گا اس کا گوشت حلال ہوگا۔ اور یہی حکم اس صورت میں ہے جب کہ اونٹ وغیرہ کنوئیں یا اس طرح کے کسی اور کھڈ وغیرہ میں گرپڑیں! یہاں خاص طور پر صرف اونٹ کا ذکر شاید اس لئے کیا گیا ہو کہ اس میں تو حش بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ذبح کی دو قسمیں ہیں، ایک قسم تو اختیاری ہے اور دوسری قسم اضطراری ہے اختیاری کی ایک صورت تو جانور کے لیہ اور لحیتین کے درمیان کسی دھار دار چیز جیسے چھری وغیرہ سے جراحت کے ساتھ رگوں کو کاٹنے کی ہوتی ہے اور دوسری صورت نحر کے ساتھ یعنی اونٹ کے سینے میں نیزہ وغیرہ مارنے کی ہوتی ہے اور اضطراری کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جانور کے جسم کے کسی بھی حصے کو زخمی کر کے مار دیا جائے۔
پتھر کے ذریعہ ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے
وعن كعب بن مالك أنه كان له غنم ترعى بسلع فأبصرت جارية لنا بشاة من غنمنا موتا فكسرت حجرا فذبحتها به فسأل النبي صلى الله عليه و سلم فأمره بأكلها . رواه البخاري
اور حضرت کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ان ( کعب) کے پاس ( بکریوں کا) ایک ریوڑ تھا جو مدینہ کی ایک پہاڑی سلع پر چرا کرتا تھا، ( ایک دن) ہماری ایک لونڈی نے ایک بکری کو دیکھا کہ وہ مرا ہی چاہتی ہے تو اس نے ایک پتھر کا ٹکڑا توڑا اور اس ٹکڑے کے ذریعہ اس بکری کو ذبح کردیا، پھر ( کعب نے) نبی کریم ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا ( اس صورت میں اس بکری کا گوشت کھانا حلال ہے یہ نہیں؟ ) آنحضرت ﷺ نے اس کو اس بکری ( کے گوشت) کو کھانے کا حکم دے دیا )۔ ( بخاری )
ذبح کئے جانے والے جانوروں کو خوبی ونرمی کے ساتھ ذبح کرو
وعن شداد بن أوس عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله تبارك وتعالى كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته . رواه مسلم
اور حضرت شداد بن اوس ؓ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آب ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان کرنے کو لازم کیا ہے یعنی حق تعالیٰ کی طرف سے ہر کام کو حسن و خوبی اور نرمی کے ساتھ انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ سزاء کسی کو قتل کرنے یا جانوروں کو ذبح کرنے میں بھی مہربانی و نرم دلی اور خوبی و نرمی کا طریقہ اختیار کرنا لازم ہے) لہٰذا جب تم ( کسی شخص کو قصاص یا حد کے طور پر) قتل کرو تو اس کو نرمی و خوبی کے ساتھ کرو ( تاکہ اس کو ایذاء نہ ہو جیسے تیز تلوار استعمال کرو اور قتل کرنے میں جلدی کرو) اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرو تو خوبی و نرمی کے ساتھ ذبح کرو لہٰذا یہ ضروری ہے کہ تم میں سے کوئی بھی شخص ( جو جانور کو ذبح کرنا چاہتا ہو) اپنی چھری کو ( خوب تیز کرلے اور ذبح کئے جانے والے جانور کو آرام دے۔ ( مسلم )
تشریح
آرام دے کا مطلب یہ ہے کہ ذبح کرنے کے بعد اس جانور کو چھوڑ دے تاکہ اس کا دم نکل جائے اور وہ ٹھنڈا ہوجائے! گویا اوپر کی عبارت اور یہ جملہ اصل میں ذبح کرنے میں احسان کرنے کی توضیح ہے کہ خوبی و نرمی کے ساتھ ذبح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس جانور کو تیز چھری سے ذبح کرے اور جلدی ذبح کر ڈالے نیز ذبح کے بعد اس کو اچھی طرح ٹھنڈا ہوجانے دے۔ حنفی علماء فرماتے ہیں کہ ذبح کئے ہوئے جانور کی کھال اتارنا اس وقت تک مکروہ ہے جب تک کہ وہ اچھی طرح ٹھنڈا نہ ہوجائے! نیز مستحب یہ ہے کہ جس جانور کو ذبح کیا جانے والا ہے اس کے سامنے چھری تیز نہ کی جائے، اگر ایک سے زائد جانور ذبح کئے جانے والے ہیں تو ان کو ایک دوسرے کے سامنے ذبح نہ کیا جائے اور ذبح کئے جانے والے جانور کے پاؤں پکڑ کر کھینچتے ہوئے ذبح کی جگہ نہ لے جایا جائے،
جانور کو باندھ کر نشانہ لگانے کی ممانعت
وعن ابن عمر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى أن تصبر بهيمة أو غيرها للقتل
اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ اس بات سے منع فرماتے تھے کہ کسی چوپایہ وغیرہ کو مارنے کے لئے باندھ کر اس پر نشانہ لگایا جائے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
اس کے یا تو یہ معنی ہیں کہ کسی جانور کو باندھ کر پھر اس کو تیروں پتھروں یا گولیوں سے مارنا ممنوع ہے یا یہ معنی ہیں کہ کسی جانور کو بغیر دانے پانی کے بند کر ڈالنا ممنوع ہے۔
جانور کو باندھ کر نشانہ لگانے کی ممانعت
وعنه أن النبي صلى الله عليه و سلم لعن من اتخذ شيئا فيه الروح غرضا
اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو کسی جاندار چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ لگائے۔ ( مسلم )
جانور کو باندھ کر نشانہ لگانے کی ممانعت
وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا تتخذوا شيئا فيه الروح غرضا . رواه مسلم
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی جاندار چیز کو ( باندھ کر) نشانہ نہ بناؤ۔ ( مسلم )
تشریح
یہ ممانعت نہی تحریم کے طور پر ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے جس شخص نے ایسا کیا اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اور اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس فعل کے ذریعہ نہ صرف ذی روح ( جانور) کو اذیت و تکلیف میں مبتلا کرنا ہے بلکہ مال کا ضائع کرنا بھی ہے۔
منہ پر مارنے یا منہ کو داغنے کی ممانعت
وعن جابر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الضرب في الوجه وعن الوسم في الوجه . رواه مسلم
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے منہ پر مارنے اور منہ پر داغ دینے سے منع فرمایا ہے یعنی کسی آدمی یا جانور کے منہ پر طمانچہ یا کوڑا وغیرہ نہ مارا جائے اور نہ کسی کے منہ پر داغ دیا جائے۔ ( مسلم )