Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,333 hadiths in order · Page 184 of 317
حکمران کے ظلم پر اس کو برا بھلا کہنے کی بجائے اپنے اعمال درست کرو
وعن أبي الدرداء قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى يقول : أنا الله لا إله إلا أنا مالك الملوك وملك الملوك قلوب الملوك في يدي وإن العباد إذا أطاعوني حولت قلوب ملوكهم عليهم بالرحمة والرأفة وإن العباد إذا عصوني حولت قلوبهم بالسخطة والنقمة فساموهم سوء العذاب فلا تشغلوا أنفسكم بالدعاء على الملوك ولكن اشغلوا أنفسكم بالذكر والتضرع كي أكفيكم ملوككم . رواه أبو نعيم في الحلية
اور حضرت ابودرداء کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ (حدیث قدسی) میں ارشاد فرماتا ہے کہ میں اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، میں بادشاہوں کا مالک اور بادشاہ ہوں، بادشاہوں کے دل میرے ہاتھ (یعنی میرے قبضہ قدرت) میں ہیں لہٰذا جب میرے (اکثر) بندے میری اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہیں تو میں ان کے حق میں (ظالم) بادشاہوں کے دلوں کو رحمت و شفقت کی طرف پھیر دیتا ہوں اور جب میرے بندے میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے حق (عادل ونرم خو) بادشاہوں کے دلوں کو غضبناکی اور سخت گیری کی طرف پھیر دیتا ہوں جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ (بادشاہ) ان کو سخت عقوبتوں میں مبتلا کرتے ہیں، اس لئے (ایسی صورت میں) تم اپنے آپ کو ان بادشاہوں کے لئے بدعا کرنے میں مشغول نہ کرو بلکہ (میری بارگاہ میں تضرع وزاری کر کے اپنے آپ کو (میرے) ذکر میں مشغول کرو تاکہ میں تمہارے ان بادشاہوں کے شر سے تمہیں بچاؤں۔ اس روایت کو ابونعیم نے اپنی کتاب حلیۃ الاولیاء میں نقل کیا ہے۔
تشریح
اس حدیث میں اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ رعایا کے تئیں حکمرانوں کے رویہ کا تعلق باطنی طور پر لوگوں کے اعمال و کردار سے ہوتا ہے کہ اگر رعایا کے لوگ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہیں اور ان کے اعمال و معاملات بالعموم راست بازی ونیک کرداری کے پابند ہوتے ہیں تو ان کا ظالم حکمران بھی ان کے حق میں عادل نرم خو اور شفیق و کرم گستر بن جاتا ہے اور اگر رعایا کے لوگ اللہ کی سرکشی و طغیانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ان کے اعمال و معاملات عام طور پر بد کر داری کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں تو پھر ان کا عادل ونرم خو حکمران بھی ان کے حق میں غضبناک اور سخت گیر ہوجاتا ہے لہٰذا حکمران کے ظلم کے ظلم وستم اور اس کی سخت گیری وانصافی پر اس کو برا بھلا کہنے اور اس کے لئے بدعا کرنے کی بجائے یہ راہ اختیار کرنی چاہئے کہ اللہ کی طرف رجوع کیا جائے، اپنی بداعمالیوں پر ندامت کے ساتھ توبہ استغفار کیا جائے، اللہ تعالیٰ کے دربار میں عاجزی وزاری کے ساتھ التجاء فریاد کی جائے اور اپنے اعمال و اپنے معاملات کو مکمل طور پر اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے تابع کردیا جائے تاکہ رحمت الٰہی متوجہ ہو اور ظالم حکمران کے دل کو عدل و انصاف اور نرمی و شفقت کی طرف پھیر دے۔
حاکموں پر آسانی ونرمی کے واجب ہونے کا بیان
گزشتہ باب میں اس بات کا ذکر تھا کہ رعایا کو اپنے حاکموں کی اطاعت و فرمانبرداری کرنی چاہئے اب اس باب میں یہ بیان کیا جائے گا کہ حاکموں کو بھی اپنی رعایا کے لوگوں پر نرمی و شفقت کرنی چاہئے۔
حکمران کو اپنی رعایا کے تئیں نرم روی اختیار کرنی چاہئے
عن أبي موسى قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا بعث أحدا من أصحابه في بعض أمره قال : بشروا ولا تنفروا ويسروا ولا تعسروا (2/347) 3723 - [ 2 ] ( متفق عليه ) وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يسوا ولا تعسروا وسكنوا ولا تنفروا (2/347) 3724 - [ 3 ] ( متفق عليه ) وعن ابن أبي بردة قال : بعث النبي صلى الله عليه و سلم جده أبا موسى ومعاذا إلى اليمن فقال : يسرا ولا تعسرا وبشرا ولا تنفرا وتطاوعا ولا تختلفا
حضرت ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب اپنے کسی صحابی کو اپنے کسی کام پر مامور کر کے (یعنی کسی جگہ کا حاکم بنا کر) بھیجتے تو ان کو یہ ہدایت فرماتے کہ لوگوں کو طاعات و عبادات اور نیک کام کرنے پر اجر وثواب کی بشارت دیتے رہنا اور ان کو ان کے گناہوں پر اللہ کے عذاب سے (اتنا زیادہ) مت ڈرانا کہ وہ رحمت الٰہی سے مایوس ہوجائیں) نیز (لوگوں کے ساتھ) آسانی کا برتاؤ کرنا (یعنی ان سے زکوٰۃ وغیرہ کی وصولی میں نرمی و آسانی کا طریقہ اختیار کرنا) اور لوگوں سے زکوٰۃ وغیرہ کامل واجب مقدار سے زیادہ وصول کر کے) ان کو دشواری وتنگی میں مبتلا نہ کرنا۔ (بخاری ومسلم) اور حضرت ابوبردہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ان کے دادا یعنی حضرت ابوموسیٰ اور حضرت معاذ کو یمن بھیجا اور ان سے فرمایا آسانی کہ برتاؤ کرنا، مشکلات اور سختیوں میں مبتلا نہ کرنا بشارت دیتے رہنے، خوف ومایوسی میں مبتلا نہ کرنا، باہم اتفاق و اتحاد کے ساتھ کام کرنا اور آپس میں اختلاف نہ کرنا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
صحیح یہ ہے کہ مؤلف مشکوٰۃ یہاں یوں نقل کرتے ہیں عن ابن ابی بردۃ الخ یعنی ابی بردہ کے ساتھ ابن کا لفظ بھی لاتے کیونکہ ابوبردہ حضرت ابوموسی اشعری کے بیٹے ہیں نہ کہ پوتے اور ان (ابو بردہ) سے ان کے صاحبزادگان عبداللہ، یوسف، سعید اور بلال روایت کرتے ہیں حدیث کرتے ہیں، چناچہ یہاں جو حدیث نقل ہوئی ہے سعید ابن بردہ سے مروی ہے جیسا کہ صحیح بخاری نے نقل کیا ہے کہ حضرت سعید ابن ابوبردہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ (حضرت ابوبردہ) سے سنا وہ کہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے میرے باپ یعنی حضرت ابوموسیٰ ابوموسی اشعری اور حضرت معاذ کو یمن بھیجا۔
قیامت کے دن عہد شکن کی رسوائی
وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الغادر ينصب له لواء يوم القيامة فيقال : هذه غدرة فلان بن فلان (2/347) 3726 - [ 5 ] ( متفق عليه ) وعن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لكل غادر لواء يوم القيامة يعرف به (2/347) 3727 - [ 6 ] ( صحيح ) وعن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لكل غادر لواء عند استه يوم القيامة . وفي رواية : لكل غادر لواء يوم القيامة يرفع له بقدر غدره ألا ولا غادر أعظم من أمير عامة . رواه مسلم
اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن عہد شکن (کی فضیحت و رسوائی کے لئے) ایک نشان کھڑا کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں ابن فلاں کی عہد شکنی کی علامت ہے۔ (بخاری ومسلم) اور حضرت انس نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے ایک نشان (مقرر) ہوگا جس کے ذریعہ وہ پہچانا جائے۔ (بخاری ومسلم ) اور حضرت ابوسعید نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن (کی رسوائی وفضیحت کی تشہیر) کے لئے اس کے مقعد کے قریب ایک نشان ہوگا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے شکن کے لئے ایک نشان ہوگا جو اس کی عہد شکنی کے بقدر بلند کیا جائے گا۔ (یعنی اس کی جتنی زیادہ عہد شکنی ہوگی اسی قدر وہ نشان اور اس کی تشہیر زیادہ ہوگی) خبردار! کوئی عہد شکن عہد شکنی کے اعتبار سے امام عام (یعنی حکمران وقت) سے بڑا نہیں (یعنی حکمران کی عہد شکنی سب سے بڑی عہد شکنی ہے۔ (مسلم )
رعایا کی ضروریات پوری نہ کرنے والے حکمران کے بارے میں وعید
عن عمرو بن مرة أنه قال لمعاوية : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( من ولاه الله شيئا من أمر المسلمين فاحتجب دون حاجتهم وخلتهم وفقرهم احتجب الله دون حاجته وخلته وفقره . فجعل معاوية رجلا على حوائج الناس . رواه أبو داود والترمذي وفي رواية له ولأحمد : أغلق الله له أبواب السماء دون خلته وحاجته ومسكنته (2/348) الفصل الثالث (2/348) 3729 - [ 8 ] ( لم تتم دراسته ) عن أبي الشماخ الأزدي عن ابن عم له من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أنه أتى معاوية فدخل عليه فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من ولي من أمر الناس شيئا ثم أغلق بابه دون المسلمين أو المظلوم أو ذي الحاجة أغلق الله دونه أبواب رحمته عند حاجته وفقره أفقر ما يكون إليه
حضرت عمرو بن مرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت امیر معاویہ سے کہا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے کسی کام کا ولی وحاکم بنایا اور اس نے (مسلمانوں کی حاجت، عرضداشت اور محتاجگی سے حجاب فرمائے گا یعنی اس کو اس کے مطلوب سے دور رکھے گے۔ اور اس کی دعا قبول نہیں کرے گا ) حضرت امیر معاویہ یہ حدیث سن کر بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے ایک شخص کو (اس کام) پر مقرر کردیا کہ وہ لوگوں کی ضروریات پر نظر رکھے اور ان کی حاجتوں کو پورا کرتا رہے۔ (ابو داؤد، ترمذی) اور ترمذی کی ایک روایت میں احمد کی روایت میں یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس (والی حاکم) کی حاجت، عرضداشت اور محتاجگی پر آسمان کے دروازے بند کر دے گا۔ رعایا پر اپنے دروازے رکھنے والے پر رحمت الٰہی کے دروازے بند ہونگے حضرت ابوشماخ ازوی سے روایت ہے کہ ان کے چچا زاد بھائی جو نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی تھے ( ایک دن امیر معاویہ کے پاس آئے! اور جب ان کی خدمت میں بار یاب ہوئے تو کہا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کو لوگوں کے کسی کام کا ولی و والی بنایا گیا اور اس نے مسلمانوں پر یا کسی مظلوم پر اور یا کسی حاجت مند پر اپنے دروازے بند رکھے ( یعنی ان کو ان کی اپنی حاجت و ضرورت کے وقت اپنے پاس نہ آنے دیا یا اس کی حاجت روائی نہ کی) تو اللہ تعالیٰ اس پر اس کی ضرورت و حاجت اور محتاجگی کے وقت جب کہ وہ اس کی طرف بہت زیادہ حاجت و ضرورت کا اظہار کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی اس حاجت و ضرورت کو پورا نہیں کرے گا یا اگر وہ دنیا میں کسی مخلوق سے اپنی کسی احتیاج کا اظہار کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی اس حاجت و ضرورت کو بھی پورا نہیں ہونے دے گا۔
اپنے حکام کو حضرت عمر فاروق کی ہدایات
وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه كان إذا بعث عماله شرط عليهم : أن لا تركبوا برذونا ولا تأكلوا نقيا ولا تلبسوا رقيقا ولا تغلقوا أبوابكم دون حوائج الناس فإن فعلتم شيئا من ذلك فقد حلت بكم العقوبة ثم يشيعهم . رواهما البيهقي في شعب الإيمان
اور حضرت عمر ابن خطاب کے بارے میں منقول ہے کہ جب عمال ( حکام) کو روانہ کرتے تو ان سے یہ شرط کرلیتے ( یعنی ان کو یہ ہدایات دیتے) کہ ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہونا ( میدہ و باریک آٹے کی روٹی وغیرہ نہ کھانا باریک کپڑے نہ پہننا اور لوگوں کی حاجت و ضرورت کے وقت ان پر اپنے دروازے بند نہ کرنا ( یاد رکھو! ) اگر تم نے ان میں سے کوئی چیز اختیار کی تو تم دنیا وعاقبت) میں سزا کے مستحق ہوجاؤ گے اس کے بعد حضرت عمر ان کو ( کچھ دور تک) پہنچانے جاتے۔ یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کی ہیں۔ (بیہقی)
تشریح
ترکی گھوڑے پر سوار ہونے کی ممانعت کی علت چونکہ تکبر اور اتراہٹ ہے اس لئے عربی گھوڑے پر سوار ہونے کی ممانعت بطریق اولی ہوگی۔ طیبی کہتے ہیں کہ گھوڑے پر سوار ہونے سے منع کرنا دراصل تکبر واتراہٹ سے منع کرنا ہے میدہ کھانے اور باریک کپڑے پہننے سے منع کرنا ؛ اسراف اور عیش و عشرت کی زندگی اختیار کرنے سے منع کرنا ہے اور حاجتوں پر اپنے دروازے بند رکھنے سے منع کرنا ؛ مسلمانوں کی حاجت روائی نہ کرنے سے منع کرنا ہے۔
منصب قضاء کی انجام دہی اور اس سے ڈر نے کا بیان
جیسا کے کتاب الامارۃ وقضاء کے ابتدائیہ میں بتایا گیا تھا کہ اسلامی نظام حکومت کا اصل محور و امیر یعنی سربراہ مملکت اور قاضی ہوتے ہیں، چناچہ گذشتہ دونوں ابواب میں امام و امیر کے متعلقات کو بیان کیا گیا اب اس باب میں منصف قضاء کا بیان ہوگا اور اس سلسلہ میں بطور خاص دونوں کا ذکر کیا گیا جائے گا ایک تو یہ قاضی اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی صرف اسلامی قانون کے مآخذ یعنی کتاب سنت اور اجتہاد کو رہنما بنائے اور اس کا کوئی فیصلہ وحکم ان چیزوں کے خلاف نہیں ہونا چاہئے دوسری بات یہ ہے کہ منصب قضاء اپنی اہمیت و عظمت اور اپنی بھر ذمہ داریوں کے اعتبار سے اتنا اونچا ہے۔ کہ صرف یہ کہ ہر شخص کو اس تک پہنچنے کی کوشش نہ کرنی چاہئے، بلکہ جہاں تک ہو سکے اس منصب کو قبول کرنے سے ڈرنا اور اجتناب کرنا چاہئے۔
غصہ کی حالت میں کسی قضیہ کا فیصلہ نہ کیا جائے
عن أبي بكرة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا يقضين حكم بين اثنين وهو غضبان
حضرت ابوبکرہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب کوئی حاکم وقاضی غصہ کی حالت میں ہو تو وہ اس وقت دو آدمیوں (کے نزاعی معاملے) میں فیصلہ نہ دے ( بخاری ومسلم)
تشریح
غصہ کی حالت میں چونکہ غور و فکر کی قوت مغلوب ہوجاتی ہے اور ایسی صورت میں مبنی بر انصاف کے فیصلے کا صادر ہونا محل نظر ہوجاتا ہے اس لئے حکم دیا گیا ہے کہ کوئی حاکم وقاضی غیض وغضب کی حالت میں کسی قضیہ کا فیصلہ نہ کرے تاکہ اس کا غیض وغضب، اس کے غور وفکر اور اجتہاد میں رکاوٹ نہ بنے اور وہ منصفانہ فیصلہ دے سکے اسی طرح سخت گرمی سردی، بھوک پیاس اور بیماری کی حالت میں بھی کوئی حکم و فیصلہ نہ دے کیونکہ ان اوقات میں بھی حو اس پوری طرح قابو میں نہیں ہوتے اور دماغ حاضر نہیں رہتا۔ لہٰذا اگر کوئی حاکم وقاضی ان احوال میں حکم و فیصلہ دے گا تو وہ کراہت کے ساتھ جاری ونافذ ہوگا۔
وعن عبد الله بن عمرو وأبي هريرة قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا حكم الحاكم فاجتهد فأصاب فله أجران وإذا حكم فاجتهد فأخطأ فله أجر واحد
اور حضرت عبداللہ بن عمرو اور حضرت ابوہریرہ دونوں کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی حاکم فیصلہ دینے کا ارادہ کرے اور اجتہاد کرے یعنی غور وفکر کے ذریعہ حکم و فیصلہ دے) اور پھر اس کا وہ حکم و فیصلہ صحیح یعنی کتاب وسنت کے موافق ہو تو اس کو دوہرا اجر ملے گا (ایک اجر تو اجتہاد کرنے کا اور دوسرا اجر صحیح فیصلہ پر پہنچنے کا) اور اگر اس نے کوئی ایسا حکم و فیصلہ دیا جس میں اس نے اجتہاد کیا لیکن (نتیجہ اخذ کرنے میں) چوک گیا (یعنی صحیح حکم تک پہنچنے میں خطا کر گیا) تو اس کو ایک اجر ملے گا۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر حاکم وقاضی کسی سے قضیہ و معاملہ کا حکم و فیصلہ دینا چاہے جس کے بارے میں کتاب وسنت اور اسلامی فقہ میں کوئی صریح اور واضح ہدایت نہیں ہے اور پھر وہ اجتہاد کرے یعنی کتاب وسنت کے احکام وتعلیمات وفقہ اسلامی کے مسائل اور اسلامی عدالتوں کے نظائر میں پوری طرح غور وفکر کرنے کے بعد وہ کسی ایسے نتیجہ پر پہنچ جائے جس کے بارے میں اس کے ضمیر کی رہنمائی نہ ہو کہ یہ مبنی برحق ہے اور پھر وہی نتیجہ اس کا حکم و فیصلہ بن جائے تو وہ حکم و فیصلہ ظاہری قانون کے اعتبار سے تو بالکل صحیح تسلیم کیا جائے گا البتہ عقبیٰ کے لحاظ سے اس کی دو صورتیں ہوں گی ایک تو یہ کہ اگر حقیقت میں بھی وہ فیصلہ کتاب وسنت کی منشاء کے موافق رہا تو اس کو دو اجر ملیں گے اور اگر اس کا فیصلہ کتاب وسنت کے موافق نہیں ہوا ہے تو اس کو ایک ہی اجر ملے گا۔ بالکل یہی حکم مجتہد کا ہے کہ اگر وہ استنباط مسائل کے وقت اپنے اجتہاد کے نتیجے میں کتاب وسنت کی منشاء تک پہنچ گیا تو اس کو دو اجر ملیں گے اور اگر کتاب وسنت کی منشاء تک پہنچنے میں خطا کر گیا تو اس کو ایک ثواب ملے گا۔ لہٰذا یہ حدیث جہاں اس بات کی دلیل ہے کہ قاضی اسلام کو ایسی جزئیات میں اجتہاد کا اختیار حاصل ہے جو اسلامی قانون کے ماخذ میں صراحت کے ساتھ مذکور نہیں ہیں اور جن کا کوئی حکم واضح نہیں وہیں اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مجتہد اپنے اجتہاد میں کبھی تو صحیح حکم تک پہنچ جاتا ہے اور کبھی خطا کرجاتا ہے یعنی صحیح حکم تک نہیں پہنچ پاتا لیکن اجر وثواب اس کو بہرصورت ملتا ہے۔ ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر کسی چیز کا حکم ومسئلہ، نصوص یعنی کتاب اللہ، احادیث رسول اللہ اور اجماع امت میں مذکور نہ ہونے کی وجہ سے قیاس پر عمل کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ ہو تو اس صورت میں قیاس پر عمل کرنا تحری قبلہ کی مانند ہوگا (جس طرح اگر کسی شخص کو کسی وجہ سے قبلہ کی سمت کا پتہ نہ چلے اور وہ نماز کے وقت غور وفکر اور تحری کر کے اپنے گمان غالب کے مطابق قبلہ کی کوئی سمت مقرر کرلے اور اس طرف منہ کر کے نماز پڑھ لے تو اس کی نماز صحیح ہوگی اگرچہ حقیقت میں قبلہ اس سمت نہ ہو اسی طرح قیاس پر عمل کرنے والا، مصیبت یعنی درست عمل کرنے والا ہوگا اگرچہ اس قیاس میں اس سے خطا (غلطی) ہوگئی ہو۔
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من جعل قاضيا بين الناس فقد ذبح بغير سكين . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کے درمیان قاضی مقرر کیا گیا (گویا) اس کو بغیر چھری کے ذبح کیا گیا۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ )
تشریح
ذبح سے اس کے متعارف معنی (یعنی ہلاکت بدن) مراد نہیں ہے بلکہ غیر متعارف معنی ذہنی و روحانی ہلاکت مراد ہے۔ چناچہ جس شخص کو قاضی مقرر کیا جاتا ہے وہ نہ صرف یہ کہ ہمہ وقت کی الجھن و پریشانی اور روحانی، (اذیت) یا یوں کہئے۔ کہ درد بےدواء اور مفت کی بیماری میں مبتلا رہتا ہے بلکہ اس کو اپنی عاقبت کی خرابی کا خوف بھی رہتا ہے اور ظاہر ہے کہ چھری سے ذبح ہوجانا صرف لمحہ بھر کے لئے اذیت برداشت کرنا ہے جب کہ یہ اذیت عمر بھر کی ہے بلکہ اس کی حسرت و پیشمانی قیامت تک باقی رہنے والی ہے۔
قاضی بننے کی خواہش نہ کرو
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ابتغى القضاء وسأل وكل إلى نفسه ومن أكره عليه أنزل الله عليه ملكا يسدده . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص (اپنے دل میں) منصب وقضا کی طلب و خواہش کرے اور پھر (سربراہ مملکت سے) اس کا خواستگار ہو (یہاں تک کہ اس کی خواست گاری پر اس کو قاضی بنادیا جائے) تو وہ منصب اس کے نفس کے حوالے کردیا جاتا ہے (یعنی اس کو اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں اللہ تعالیٰ کی مدد توفیق حاصل نہیں ہوتی) اور جس کو (اس کی طلب و خواہش کے بغیر) زبردستی اس منصب پر فائز کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک فرشتے کو مقرر کردیتا ہے جو اس کو گفتار و کردار میں راست و درست رکھتا ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ )
وعن بريدة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : القضاة ثلاثة : واحد في الجنة واثنان في النار فأما الذي في الجنة فرجل عرف الحق فقضى به ورجل عرف الحق فجار في الحكم فهو في النار ورجل قضى للناس على جهل فهو في النار . رواه أبو داود وابن ماجه (2/350) 3736 - [ 6 ] ( ضعيف ) وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من طلب قضاء المسلمين حتى يناله ثم غلب عدله جوره فله الجنة ومن غلب جوره عدله فله النار . رواه أبو داود
اور حضرت بریدہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں ایک طرح کے تو جنت میں جانے والے اور دو طرح کے دوزخ میں جانے والے! لہٰذا جنت میں جانے والا قاضی تو وہ شخص ہے جس نے حق کو جانا (یعنی یہ جانا کہ حق اس بات میں ہے) اور پھر حق ہی کے مطابق فیصلہ کیا اور جس نے حق کو جانا مگر (اس کے باوجود) اپنے حکم و فیصلہ میں ظلم کیا (یعنی اس نے دیدہ دانسۃ حق کو پامال کیا تو وہ دوزخی ہے، اسی طرح جو اپنی جہالت کی وجہ سے حق کو نہیں پہنچانا اور اسی حالت میں لوگوں کے تنازعات کا فیصلہ کیا تو وہ بھی دوزخی ہے (کیونکہ اس نے حق رسی میں کوتاہی اور تقصر کی۔ (ابو داؤد، ابن ماجہ) اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص مسلمانوں کے منصب قضاء کا طالب اور خواستگار ہوا یہاں تک کہ اس نے اس کو حاصل بھی کرلیا اور پھر اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں) اس کا عدل و انصاف ظلم پر غالب ہوگا تو جنت ملے گی اور اگر ظلم غالب ہوگا تو دوزخ ملے گی۔ لیکن علماء نے لکھا ہے کہ دونوں ہی صورتوں میں غالب کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس درجہ کا ہو کہ دوسرے کے لئے رکاوٹ بن جائے۔ مثلًا اس کے عدل و انصاف کا وصف اس طرح حاوی ہو کہ اس کا ظلم سر نہ اٹھا سکے۔ یا اس کے ظلم کی خصلت اتنی حاوی ہو کہ اس کے مقابلہ پر اس کا عدل ظاہر نہ ہو سکے۔
وعن معاذ بن جبل : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما بعثه إلى اليمين قال : كيف تقضي إذا عرض لك قضاء ؟ قال : أقضي بكتاب الله قال : فإن لم تجد في كتاب الله ؟ قال : فبسنة رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فإن لم تجد في سنة رسول الله ؟ قال : أجتهد رأيي ولا آلو قال : فضرب رسول الله صلى الله عليه و سلم على صدره وقال : الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضى به رسول الله . رواه الترمذي وأبو داود والدارمي
اور حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے جب ان (معاذ) کو (قاضی وحاکم بنا کر) یمن بھیجا تو ان سے (بطور امتحان) پوچھا کہ جب تمہارے سامنے کوئی قضیہ پیش ہوگا تو تم کس طرح فیصلہ کرو گے؟ انہوں نے کہا کہ میں کتاب اللہ (قرآن کریم) کے موافق فیصلہ کروں گا۔ فرمایا اگر تمہیں وہ مسئلہ (صراحتًہ) کتاب اللہ میں نہ ملا؟ انہوں نے کہا پھر میں سنت رسول اللہ ﷺ (حدیث نبوی ﷺ کے موافق فیصلہ کروں گا فرمایا اگر تمہیں وہ مسئلہ سنت رسول ﷺ میں بھی نہ ملا؟ انہوں نے کہا تو پھر میں اپنی عقل سے اجتہاد کروں گا اور (اپنے اجتہاد و حقیقت رسی میں) کوتاہی نہیں کروں گا۔ (یا وہ روای جنہوں نے یہ حدیث معاذ سے روایت کی ہے۔ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے (یہ سن کر) اپنا دست مبارک معاذ کے سینے پر مارا (تاکہ اس کی برکت سے وہ اپنی بات پر ثابت قدم رہیں اور ان کے علم میں اضافہ ہو اور فرمایا) تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے رسول کریم ﷺ کے رسول (یعنی معاذ) کو اس چیز کی توفیق عطا کی جس سے (اللہ) اور اس کا رسول ﷺ راضی ہو۔ (ترمذی، ابوداؤد، دارمی)
تشریح
میں اپنی عقل سے اجتہاد کروں گا کا مطلب یہ ہے کہ میں اس قضیہ کا حکم ان مسائل پر قیاس کے ذریعہ حاصل کروں گا جو نصوص یعنی کتاب وسنت میں مذکور ہیں بایں طور کہ کتاب وسنت میں اس قضیہ کے مشابہ جو مسائل مذکور ہیں ان کے مطابق اس قضیہ کا حکم و فیصلہ کروں گا۔ مظہر نے بھی اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے۔ کہ پہلے میں غور وفکر کروں گا کہ میرے سامنے جو قضیہ پیش ہوا ہے کہ جس کا کوئی حکم کتاب وسنت میں مذکور نہیں ہے وہ کون سے ایسے مسئلہ سے مشابہ ہے جو کتاب وسنت میں مذکور ہے جب میں ان دونوں کے درمیان مشابہت پاؤں گا تو اس کا وہی حکم و فیصلہ کروں گا جو کتاب اللہ یا سنت رسول اللہ میں مذکور مسئلہ کا ہے، چناچہ آئمہ مجتہدین کے یہاں اس قیاس پر بہت سے مسائل کا استنباط کیا گیا ہے، یہ الگ بات ہے کہ ان آئمہ مجتہدین نے قیاس کی علت و بنیاد میں اختلاف کی ہے مثلًا گیہوں کے ربوا (سود) کے حرام ہونے کے بارے میں نفس (یعنی صریح حکم ) جب کہ تربوز کے بارے میں ایسی نص نہیں ہے۔ لہٰذا حضرت امام شافعی نے تربوز کو گیہوں پر قیاس کرتے ہوئے اس کے ربوا کو بھی حرام قرار دیا ہے کیونکہ ان کے نزدیک گیہوں کے ربوا کے حرام ہونے علت اس کا کھائی جانے والی چیز ہے اس لئے گیہوں کے حکم پر قیاس کرتے ہوئے اس کا ربوا بھی حرام ہوگا۔ جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک گیہوں کے ربوا کے حرام ہونے کی علت چونکہ اس کا مکیل (یا موزون) ہونا ہے اس لئے انہوں نے گیہوں پر چونے کو قیاس کیا اور یہ مسئلہ اخذ کیا کہ چونے کا ربوا بھی حرام ہے۔ بہرحال یہ حدیث قیاس و اجتہاد کے مشروع ہونے کی علت کی بہت مضبوط دلیل ہے اور اصحاب ظواہر (غیر مقلدین) کے مسلک کے خلاف ہے جو قیاس و اجتہاد کے منکر ہیں۔
مدعا علیہ کا بیان سنے بغیر مدعی کے حق میں فیصلہ نہ کیا جائے
عن علي رضي الله عنه قال : بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى اليمن قاضيا فقلت : يا رسول الله ترسلني وأنا حديث السن ولا علم لي بالقضاء ؟ فقال : إن الله سيهدي قلبك ويثبت لسانك إذا تقاضى إليك رجلان فلا تقض للأول حتى تسمع كلام الآخر فإنه أحرى أن يتبين لك القضاء . قال : فما شككت في قضاء بعد . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه وسنذكر حديث أم سلمة : إنما أقضي بينكم برأيي في باب الأقضية والشهادات إن شاء الله تعالى
اور حضرت علی کہتے ہیں کہ (جب) رسول کریم ﷺ نے مجھے قاضی بنا کر بھیجنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کیا کہ آپ مجھ نوجوان کو (قاضی بنا کر) بھیج رہے ہیں (جو کم عمری کی وجہ سے ناتجربہ کار بھی ہے اور) جس کو (منصب قضا کی ذمہ داریوں کا پوری طرح علم بھی نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا (تم اس بارے میں فکر نہ کرو) اللہ تعالیٰ تمہارے دل کو فہم و فراست کی ہدایت عطا کرے گا اور تمہاری زبان کو صحیح اور برحق حکم و فیصلہ کرنے پر) ثابت رکھے گا۔ (پھر آنحضرت ﷺ نے منصب قضاء کی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے سلسلہ میں یہ تعلیم و ہدایت دی کہ جب تمہارے پاس دو آدمی اپنا قضیہ لے کر آئیں تو تم پہلے آدمی (یعنی مدعا علیہ) کا بیان نہ سن لو کیونکہ یہ (مدعا علیہ کا بیان تمہیں) صحیح حکم و فیصلہ دینے میں اچھی مدد دے گا۔ حضرت علی کہتے ہیں کہ (آنحضرت ﷺ کی) اس مبارک دعا کی برکت سے اور آپ ﷺ کی اس ہدایت وتعلیم پر عمل کرنے کے بعد میں کسی بھی قضیہ کا حکم فیصلہ کرنے میں مذبدب نہیں ہوا۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ )
قیامت کے دن ظالم حاکم کا انجام
عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من حاكم يحكم بين الناس إلا جاء يوم القيامة وملك آخذ بقفاه ثم يرفع رأسه إلى السماء فإن قال : ألقه ألقاه في مهواة أربعين خريفا . رواه أحمد وابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان
حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر وہ حاکم جو لوگوں پر اپنا حکم و فیصلہ جاری ونافذ کرتا ہے قیامت کے دن (ا حکم الحاکمین کی بارگاہ میں) اس طرح پیش کیا جائے گا کہ ایک فرشتہ اس کی گدی پکڑے ہوگا، پھر وہ فرشتہ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے (کھڑا رہے گا) یہاں تک کہ اگر اللہ تعالیٰ یہ حکم دے گا کہ اس کو (دوزخ میں) ڈال دو تو وہ اس کو دوزخ کے) گڑھے میں ڈال دے گا جو چالیس برس کی مسافت) کے بقدر (گہرا) ہوگا۔ (احمد، ابن ماجہ، بیہقی اور شعب الایمان )
تشریح
پھر وہ فرشتہ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے گا سے مراد فرشتہ کی اس حالت کو بیان کرنا ہے جس میں وہ حکم الٰہی کا منتظر ہوگا، یعنی جس طرح بادشاہ کے ہاں یہ درباری آداب میں سے ہے کہ جب وہاں کوئی ملزم پیش کیا جاتا ہے کھڑا ہوجاتا ہے اور یہ انتظار کرتا ہے کہ بادشاہ حاکم کی طرف سے کیا حکم و فیصلہ صادر ہوتا ہے، اسی طرح وہ فرشتہ بھی اس حاکم کو بارگاہ رب العزت میں پیش کر کے اس انتظار میں کھڑا رہے گا کہ اس کے بارے میں کیا حکم ہوتا ہے۔ چالیس برس کے بقدر سے مراد اس گڑھے کی گہرائی کو زیادہ سے زیادہ کر کے بیان کرنا ہے نہ کہ اس سے اس کی مدت کی تعین وتحدید مراد ہے اس حدیث میں جس حاکم کا انجام بیان کیا گیا ظالم حاکم ہے، عدل و انصاف پرور کے بارے میں یہ حکم دیا گیا جائے گا کہ اس کو بہشت میں پہنچایا جائے گا۔ جیسا کہ کتاب الامارۃ والقضاء میں حضرت ابوامامہ کی روایت سے واضح ہوچکا ہے
قیامت کے دن قاضی کی حسرتناک آرزو؟
وعن عائشة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ليأتين على القاضي العدل يوم القيامة يتمنى أنه لم يقض بين اثنين في تمرة قط . رواه أحمد
اور حضرت عائشہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن (جب حاکموں، سرداروں اور قانون و انصاف کے ذمہ داروں سے سخت مؤ اخذہ ہو رہا ہوگا تو) عادل ومنصف قاضی کے لئے بھی ایک ایسا لمحہ آئے گا جس میں وہ یہ آرزو کرے گا کہ کاش اس کو دو آدمیوں کے درمیان کھجور کے (بھی) قضیہ کا فیصلہ کرنے کی ذمہ داری انجام نہ دینا پڑتی ہو۔ (احمد)
عادل ومنصف کو حق تعالیٰ کی توفیق وتائید حاصل رہتی ہے۔
وعن عبد الله بن أبي أوفى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله مع القاضي ما لم يجر فإذا جار تخلى عنه ولزمه الشيطان . رواه الترمذي وابن ماجه وفي رواية : فإذا جار وكله إلى نفسه (2/351) 3742 - [ 12 ] ( لم تتم دراسته ) وعن سعيد بن المسيب : أن مسلما ويهوديا اختصما إلى عمر فرأى الحق لليهودي فقضى له عمر به فقال له اليهودي : والله لقد قضيت بالحق فضربه عمر بالدرة وقال : وما يدريك ؟ فقال اليهودي : والله إنا نجد في التوراة أنه ليس قاض يقضي بالحق إلا كان عن يمينه ملك وعن شماله ملك يسددانه ويوفقانه للحق ما دام مع الحق فإذا ترك الحق عرجا وتركاه . رواه مالك
اور حضرت عبداللہ ابن ابی اوفیٰ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قاضی جب تک ظلم و ناانصافی کی راہ اختیار نہیں کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا ہے یعنی حق تعالیٰ کی توفیق و تائید اس کے شامل حال ہوتی ہے لیکن جب وہ ظلم وناانصافی کی راہ اختیار کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے الگ ہوجاتا ہے (یعنی اس کے اوپر سے حق تعالیٰ کی تائید و توفیق کا سایہ ہٹ جاتا ہے اور شیطان اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ) اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ قاضی جب ظلم وناانصافی کی راہ اختیار کرلیتا ہے تو (اللہ تعالیٰ ) اس کے کام کو اس کے سپرد کردیتا ہے (یعنی اس کو اپنی توفیق و تائید سے محروم کردیتا ہے۔ اور حضرت سعید ابن مسیب راوی ہیں کہ (ایک دن) حضرت عمر فاروق کی خدمت میں ایک مسلمان اور ایک یہودی اپنا جھگڑا لے کر آئے حضرت عمر نے جب (قضیہ کی تحقیق کے بعد) یہ دیکھا کہ یہودی حق پر ہے تو انہوں نے اس (یہودی) کے حق میں فیصلہ دیا اس یہودی نے (اپنے حق میں فیصلہ سن کر) کہا اللہ کی قسم! آپ نے حق کے مطابق فیصلہ دیا ہے حضرت عمر نے (یہ سن کر) اس کے ایک درہ مارا اور فرمایا تجھے کیسے علم ہوا کہ میں نے حق کے مطابق فیصلہ دیا ہے؟ یہودی نے کہا اللہ کی قسم! ہم نے توراۃ میں (یہ لکھا ہوا پایا ہے کہ جو بھی قاضی حق کے مطابق فیصلہ دیتا ہے اس کے دائیں ایک فرشتہ ہوتا ہے اور اس کے بائیں ایک فرشتہ ہوتا ہے اوہ دونوں فرشتے اس کو تقویت پہنچاتے ہیں اور حق کی توفیق دیتے ہیں جب تک وہ حق پر رہتا ہے اور جب قاضی حق کو چھوڑ کردیتا ہے تو وہ فرشتے آسمان پر چلے جاتے ہیں اور اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ (مالک)
تشریح
ایک خلجان تو یہ واقع ہوسکتا ہے کہ حضرت عمر نے اس یہودی کو اپنے درے سے کیوں مارا درآنحالیکہ اس نے ان کے فیصلہ کے منصفانہ اور برحق ہونے کا اقرار و اعتراف کیا تھا؟ اور ایک اشکال یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت عمر کے سوال تجھ کو یہ کیسے معلوم ہوا الخ اور یہودی کے جواب ہم نے توارۃ میں پایا ہے الخ میں مطابقت کیا ہوئی۔ پہلے خلجان کا جواب تو یہ ہے کہ حضرت عمر نے یہودی کو کسی سزا یا غصہ کے طور پر نہیں مارا تھا بلکہ نرمی اور خوش طبعی کے طور پر مارا تھا اور دوسرے اشکال کا جواب یہ ہے کہ اس بات کو یہودی سے زیادہ کون جان سکتا تھا کہ اس تنازعہ میں حق پر کون ہے۔ لہٰذا جب اس یہودی نے دیکھا کہ اگر حضرت عمر حق سے انحراف کرتے تو فریق مخالف یعنی مسلمان کے حق میں فیصلہ کرتے، اس صورت میں ان کا فیصلہ مبنی بر انصاف ہوتا اور نہ ان کا حق پر قائم رہنا ظاہر ہوتا۔ لہٰذا جب انہوں نے مسلمان کے خلاف یہودی کے حق میں فیصلہ دیا تو معلوم ہوا کہ حضرت عمر حق پر قائم ہیں اور انہوں نے انصاف سے انحراف نہیں کیا ہے۔
منصب قضاقبول کرنے سے حضرت ابن عمر کا انکار
وعن ابن موهب : أن عثمان بن عفان رضي الله عنه قال لابن عمر : اقض بين الناس قال : أو تعاقبني يا أمير المؤمنين ؟ قال : وما تكره من ذلك وقد كان أبوك قاضيا ؟ قال : لأني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من كان قاضيا فقضى بالعدل فبالحري أن ينقلب منه كفافا . فما راجعه بعد ذلك . رواه الترمذي (2/352) 3744 - [ 14 ] ( لم تتم دراسته ) وفي رواية رزين عن نافع أن ابن عمر قال لعثمان : يا أمير المؤمنين لا أقضي بين رجلين : قال : فإن أباك كان يقضي فقال : إن أبي لو أشكل عليه شيء سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم ولو أشكل على رسول الله صلى الله عليه و سلم شيء سأل جبريل عليه السلام وإني لا أجد من أسأله وسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من عاذ بالله فقد عاذ بعظيم . وسمعته يقول : من عاذ بالله فأعيذوه . وإني أعوذ بالله أن تجعلني قاضيا فأعفاه وقال : لا تخبر أحدا
اور حضرت ابن موہب کہتے ہیں کہ حضرت عثمان ابن عفان نے (اپنے زمانہ خلافت میں حضرت ابن عمر سے کہا کہ لوگوں کا قاضی بن جاؤ (یعنی حضرت عثمان نے حضرت ابن عمر کی خدمت میں منصب قضا کی پیش کش کی) حضرت ابن عمر نے کہا امیر المؤمنین! مجھ کو اس کام سے معاف رکھئے۔ حضرت عثمان نے فرمایا تم اس منصب کو کیوں ناپسند کرتے ہو! حالانکہ تمہارے والد! حضرت عمر فاروق) تو اپنے دور خلافت کے علاوہ بھی نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں) قضاء کا کام کرتے تھے؟۔ حضرت ابن عمر نے کہا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخض قضاء پر فائز ہو اور مبنی بر انصاف فیصلے کرے تو وہ اس لائق ہے کہ وہ اس منصب سے برابر سرابر جدا ہو (یعنی نہ نقصان پہنچائے نہ فائدہ نہ ثواب پائے نہ عذاب۔ ) اس کے بعد حضرت عثمان نے حضرت ابن عمر سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی (ترمذی) اور رزین کی روایت میں جو انہوں نے حضرت نافع سے نقل کی ہے یہ الفاظ ہیں کہ حضرت ابن عمر نے کہا امیر المؤمنین میں (تو) دو آدمیوں کے درمیان (بھی) کوئی حکم و فیصلہ نہیں کروں گا (چہ جائیکہ بہت زیادہ لوگوں کا قاضی بنوں۔ حضرت عثمان نے فرمایا تمہارے والد (حضرت عمر فاروق) تو لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرتے تھے؟ حضرت ابن عمر نے کہا میرے (والد کی بات تو یہ تھی کہ) اگر ان کو کوئی دشواری پیش آتی تھی تو وہ رسول کریم ﷺ سے پوچھ لیا کرتے تھے اور اگر رسول کریم ﷺ کو کوئی دشواری پیش آتی تو آپ ﷺ جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھ لیا کرتے تھے جب کہ میں ایسے شخص کو نہیں پاتا جس سے پوچھ لیا کروں گا اور میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی اس نے بڑی ذات کی پناہ مانگی۔ نیز میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ (بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذریعہ پناہ مانگے اس کو پناہ دو۔ لہٰذا میں نے اللہ تعالیٰ کے ذریعہ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ آپ مجھے قاضی مقرر کریں چناچہ حضرت عثمان نے ان کو معاف کیا، لیکن ان سے فرمایا کہ کسی) اور کو آگاہ نہ کرنا کہ وہ منصب قضا قبول نہ کرے ورنہ لوگ عام طور پر اس منصب کو قبول کرنے سے گریز کرنے لگیں گے اور نظام حکومت معطل ہو کر رہ جائے گا۔
حکام کو تنخواہ اور ہدایا وتحائف دینے کا بیان
اس باب میں یہ بیان ہوگا کہ حکام وعمال کے لئے بیت المال سے بطور تنخواہ واجرت کچھ مقرر کیا جائے یا نہیں اور یہ کہ اگر کوئی شخص حاکم کے لئے بطور ہدیہ وتحفہ کوئی چیز لائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
بار گاہ رسالت سے مال کی تقسیم
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أعطيكم ولا أمنعكم أنا قاسم أضع حيث أمرت . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں نہ تو تمہیں عطا کرتا ہوں اور نہ تمہیں محروم رکھتا ہوں، میں تو صرف بانٹنے والا ہوں کہ جس جگہ مجھے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے میں وہاں رکھ دیتا ہوں۔ (بخاری)
تشریح
آنحضرت ﷺ نے صحابہ کے درمیان مال تقسیم کرتے ہوئے مذکورہ بالا جملے ارشاد فرمائے تاکہ وہ تقسیم و کمی بیشی کی وجہ سے اپنے دل میں کوئی خیال نہ لائیں، چناچہ (ما اعطیکم) الخ کا مطلب یہ ہے کہ نہ عطا کرنا میرے بس میں ہے اور نہ تمہیں محروم رکھنا میرے اختیار میں ہے کہ اگر میں کسی کو کچھ دیتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں نے اپنی خواہش اور اپنی مرضی سے اس کو دیا ہے یا اگر کسی کو نہیں دیتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میرا دل اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔ اس لئے میں نے اس کو نہیں دیا، بلکہ میں صرف بانٹنے والا ہوں اس لئے جو کچھ بھی دیتا ہوں یا نہیں دیتا ہوں یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم کی بنا پر ہے، جہاں اور جس کو دینے کا مجھے حکم دیا گیا ہے وہاں اور اس کو دیتا ہوں اور جہاں اور جس کو نہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے میں وہاں اور اس کو نہیں دیتا۔