Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 183 of 317

3641Mishkaat-al-Masabih

احمق سردار وحاکم سے اللہ کی پناہ چاہو

وعن كعب بن عجرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعيذك بالله من إمارة السفهاء . قال : وما ذاك يا رسول الله ؟ قال : أمراء سيكونون من بعدي من دخل عليهم فصدقهم بكذبهم وأعانهم على ظلمهم فليسوا مني ولست منهم ولن يردوا علي الحوض ومن لم يدخل عليهم ولم يصدقهم بكذبهم ولم يعنهم على ظلمهم فأولئك مني وأنا منهم وأولئك يردون علي الحوض . رواه الترمذي والنسائي

اور حضرت کعب ابن عجرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا میں تم کو بیوقوف لوگوں کی سرداری کے طور طریقوں سے یا ان کی مصاحبت و حمایت) سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں، کعب فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ (یعنی اس طرح کی سرداری کب ہوگی اور کیونکر ہوگی اور وہ کون لوگ ہوں گے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میرے بعد (بعض زمانوں میں) جو لوگ امیر وحاکم ہوں گے (وہ احمق ونادان آئیں جہانبانی سے نابلد اور جھوٹے اور ظالم ہوں گے، لہٰذا جو لوگ ان (احمق ونادان اور کذاب و ظالم امیروں وحاکموں) کے پاس گئے (یعنی ان کی مصاحبت اختیار کی اور ان کے جھوٹ کو سچ کہا (اور اپنے قول وفعل کے ذریعہ) ان کے ظلم کی امداد و حمایت کی تو نہ ان کا مجھ سے کوئی تعلق ہے اور نہ میں ان سے کوئی تعلق رکھتا ہوں (بلکہ ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کرتا ہوں) اور نہ وہ لوگ حوض پر میرے پاس آئینگے اور جو لوگ نہ تو ان امیروں اور حاکموں کے پاس گئے اور نہ ان کے جھوٹ کو سچ کہا اور نہ ان کے ظلم کی امداد و حمایت کی تو وہ لوگ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں اور وہ حوض پر میرے پاس آئینگے۔ (ترمذی، نسائی ) تشریح اور نہ وہ لوگ میرے پاس حوض پر آئیں گے میں حوض سے مراد یا تو حوض کوثر ہے کہ ان لوگوں کو حوض کوثر پر میرے پاس آنے کی اجازت نہیں ہوگی یا جنت مراد ہے کہ ان لوگوں کو جنت میں میرے پاس نہیں آنے دیا جائے گا۔ یہ ارشاد گرامی گویا اس بات کو سخت وعید کے طور پر واضح کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسی شخص ایسی حکومت اور نظام مملکت کی رکنیت اختیار کرتا ہے یا اس کی امداد و حمایت کو اپنا شیوہ بناتا ہے جس کی باگ ڈور کم ظرف اور احمق لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور جس کا سایہ میں اللہ کے بندوں پر ظلم وجور کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس شخص میں ایمان کا فقدان ہے اور وہ شخص مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔

3642Mishkaat-al-Masabih

سربراہان حکومت کی حاشیہ نشینی دین و دنیا کی تباہی کا باعث ہے

وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من سكن البادية جفا ومن أتبع الصيد غفل ومن أتى السلطان افتتن . رواه أحمد والترمذي والنسائي وفي رواية أبي داود : من لزم السلطان افتتن وما ازداد عبد من السلطان دنوا إلا ازداد من الله بعدا

اور حضرت ابن عباس نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص جنگلی (دیہات) میں رہتا ہے وہ جاہل ہوتا ہے جو شخص شکار کے پیچھے پڑا رہتا ہے وہ غافل ہوتا ہے اور جو شخص بادشاہ کے پاس آتا جاتا ہے وہ فتنہ میں مبتلا ہوجاتا ہے (احمد، ترمذی، نسائی) اور ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ ( جو شخص بادشاہ کی ملازمت میں رہتا ہے (یعنی اس کے ہاں ہر وقت حاضر باش و حاشیہ نشین اور مددگار رہتا ہے وہ فتنہ میں مبتلا ہوتا ہے اور جو شخص بادشاہ کا جتنا زیادہ قرب چاہتا ہے اتنا ہی اللہ سے دور ہوجاتا ہے۔ تشریح جو شخص جنگل (دیہات) میں رہتا ہے الخ سے دیہات میں رہنے والوں کی ہتک وتضحیک مراد نہیں ہے اور نہ ان کو کمتر بنانا مقصود ہے بلکہ یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ دیہات وگاؤں میں رہنے والے لوگوں کو چونکہ علماء وصلحاء اور اولیاء اللہ کی صحبت میسر نہیں ہوتی اس لئے ان کے دل سخت ہوجاتے ہیں اور ان میں علم و معرفت عقل و دانش اور فہم وذکاوت کی روشنی پیدا نہیں ہوتی۔ جو شخص شکار کے پیچھے پڑا رہتا ہے الخ کا مطلب یہ ہے کہ لہو ولعب اور حصول لذت و خوشی کی خاطر ہر وقت شکار کی دھن میں رہتا ہے وہ طاعات و عبادت اور جمعہ اور جماعت نماز کے التزام سے غافل ہوجاتا ہے نیز اس میں شفقت و محبت اور نرم خوئی کی صفات ختم ہوجاتی ہیں، واضح رہے کہ اس ارشاد کے ذریعہ ان لوگوں کو متنبہ کرنا مقصود ہے جو شکار کو عادت بنا لیتے ہیں اور حلال رزق حاصل کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ محض تفریح اور وقت گزاری کے لئے اپنے اوقات کا اکثر حصہ اس میں مصروف رکھتے ہیں ورنہ تو جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے مطلق شکار کے مباح و حلال ہونے میں شبہ نہیں ہے اور بعض صحابہ نے شکار کیا ہے البتہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ آپ نے خود بہ نفس نفیس کبھی شکار کرنے سے منع نہیں کیا ہے۔ حدیث کے آخر میں بادشاہ وحاکم کی حاشیہ نشینی اور دربار حکومت میں حاضر باشی کی خرابی کو واضح کیا گیا ہے کہ جو شخص بغیر کسی ضرورت و حاجت کے بادشاہ وحاکم کی چوکھٹ پر گیا وہ فتنہ میں مبتلا ہوگیا کیونکہ اگر وہ بادشاہ حاکم کے ان افعال و اعمال کی موافقت و حمایت کرے گا جو خلاف شرع ہوں تو اس کا دین خطرہ میں پڑے گا اور اگر ان کی مخالفت کرے گا تو اپنی دنیا خراب کرے گا مظہر کہتے ہیں کہ جو شخص بادشاہ وحاکم کے دربار میں حاضر ہوا اور وہاں مداہنت اختیار کی (یعنی ان کے خلاف شرع امور پر ان کو ٹوکا نہیں) تو اس نے فتنہ میں اپنے آپ کو مبتلا کیا (یعنی اپنا دین خطرے میں ڈالا) اور اگر اس نے مداہنت اختیار نہیں کی بلکہ ان کو نصیحت کی اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا تو اس صورت میں دربار حکومت میں اس کی حاضری جہاد سے بھی افضل ہوگی۔ دہلوی نے مسند فردوس میں حضرت علی ؓ سے بطریق مرفوع یہ روایت نقل کی ہے کہ حدیث (من ازداد علما ولم یزدد فی الدنیا زہدا لم یزدد من اللہ الا بعدا ) ٫٫ جس شخص نے اپنا علم تو زیادہ کیا لیکن دنیا کے (مال ومتاع) میں بےرغبتی کو زیادہ نہیں کیا تو اس نے اللہ سے دوری کو زیادہ کیا۔

3643Mishkaat-al-Masabih

گمنامی راحت کا باعث ہے اور شہرت، آفت کا باعث

وعن المقدام بن معدي كرب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ضرب على منكبيه ثم قال : أفلحت يا قديم إن مت ولم تكن أميرا ولا كاتبا ولا عريفا . رواه أبو داود

اور حضرت مقدام ابن معد یکرب روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ان (یعنی مقدام) کے مونڈھے پر اپنے ہاتھ) مار کر فرمایا اے قدیم! اگر اس حالت میں تمہاری موت ہو کہ نہ تو تم امیر وحاکم ہو، منشی ہو اور نہ چودھری تو تم نے فلاح پائی۔ (ابو داؤد) تشریح اس ارشاد گرامی میں اس نکتہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ گمنامی وبے منصبی راحت ہے اور شہرت ومنصب آفت ہے۔

3644Mishkaat-al-Masabih

لوگوں سے خلاف شرع محصول وٹیکس وصول کرنے والاحاکم جنت سے محروم رہے گا

وعن عقبة بن عامر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يدخل الجنة صاحب مكس : يعني الذي يعشر الناس . رواه أحمد وأبو داود والدارمي

اور حضرت عقبہ ابن عامر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ صاحب مکس جنت میں داخل نہیں ہوگا صاحب مکس سے آنحضرت ﷺ کی مراد (حاکم کار پرداز) ہے جو لوگوں سے خلاف شرع محصولات وٹیکس وصول کرتا ہے۔ (احمد، ابوداؤد، درامی )

3645Mishkaat-al-Masabih

امام عادل کی فضیلت

وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أحب الناس إلى الله يوم القيامة وأقربهم منه مجلسا إمام عادل وإن أبغض الناس إلى الله يوم القيامة وأشدهم عذابا وفي رواية : وأبعدهم منه مجلسا إمام جائر . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب

اور حضرت سعید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں سے زیادہ محبوب اور مجلس (یعنی مرتبہ) کے اعتبار سے سب سے زیادہ قریب جو شخص ہوگا وہ عادل امام وحاکم ہے اور قیامت کے دن اللہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ نفرت کا مستحق اور سب سے زیادہ عذاب کا سزاوار! اور ایک روایت میں یہ ہے کہ۔ اللہ سے سب سے زیادہ دور جو شخص ہوگا وہ ظالم امام وحاکم ہے۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔

3646Mishkaat-al-Masabih

ظالم حاکم کے سامنے حق گوئی سب سے بہتر جہاد ہے۔

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الجهاد من قال كلمة حق عند سلطان جائر . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه

اور حضرت ابوسعید کہتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا سب سے جہاد اس شخص کا ہے جو ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہے۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ) اور احمد و نسائی نے اس روایت کو طارق ابن شہاب سے نقل کیا ہے تشریح جابر و ظالم حکمران کے سامنے حق گوئی کو بہترین جہاد اس لئے فرمایا گیا کہ جو شخص کسی دشمن سے جہاد کرتا ہے وہ خوف وامید دونوں کے درمیان رہتا ہے اگر اس کو یہ خوف ہوتا کہ شاید دشمن مجھ پر غالب آجائے اور میں مجروح یا شہید ہوجاؤں تو اس کے ساتھ ہی اس کو یہ امید ہوتی ہے کہ میں اس دشمن کو زیر کر کے اپنی جان کو پوری طرح بچا لوں گا۔ اس کے برخلاف جو شخص ظالم و جابر حکمران کے سامنے حق بات کہنے کا ارادہ رکھتا ہے اس کے لئے امید کی کوئی ہلکی سی کرن بھی نہیں ہوتی بلکہ خوف ہی خوف ہوتا ہے چناچہ وہ اس حکمران کے مکمل اختیار و قبضہ میں ہونے کی وجہ سے اس یقین کے ساتھ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فرض ادا کرتا ہے کہ اس کا انجام دنیا میں نری تباہی و نقصان کے علاوہ اور کچھ نہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جس مہم میں انسان کو اپنی زندگی اور اپنے مال ومتاع کے باقی رہنے کی ہلکی سی امید بھی نہ ہو اس کو انجام دینا اس مہم کو انجام دینے سے کہیں زیادہ صبر آزما، ہمت طلب اور مردانگی کا کام اور بدرجہا افضل ہوگا جس کی انجام دہی میں اپنی زندگی اور اپنے مال ومتاع کے باقی رہنے کی بہتر حد تک امید ہو۔ اس کو بہترین جہاد اس لئے فرمایا گیا ہے کہ حکمران کا ظلم وجور ان تمام لوگوں کو متاثر کرتا ہے جو اس کی رعیت میں ہوتے ہیں وہ کوئی دو چار دس آدمی نہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں اور کروڑوں بندگان اللہ ہوتے ہیں لہٰذا جب کوئی شخص اس حکمران کو اس کے ظلم وجور سے روکے گا وہ اپنے اس عمل سے اللہ کی کثیر مخلوق کو فائدہ پہنچائے گا۔ جب کہ دشمن سے جہاد کرنے میں یہ بات نہیں۔

3647Mishkaat-al-Masabih

ظالم حکمران کے سامنے حق گوئی کا انداز

شیخ ابوحامد نے احیا میں لکھا ہے کہ بادشاہ وحکمران کو امر بالمعروف یہ ہے کہ اس کی بےراہ روی سے روکا جائے اور اس کے جو اعمال و افعال مبنی بر غلط ہوں۔ ان کو اس پر واضح کیا جائے یعنی اسے یہ بتایا جائے یعنی یہ بتایا جائے کہ تمہارے یہ کام عدل و انصاف کے خلاف ہے، تمہارا یہ فیصلہ یا یہ فرمان، قانون اور نظام حکمرانی کے مطابق نہیں ہے اور تمہارا یہ فعل دین و اخلاق اور اللہ کے حکم کے منافی ہے، لیکن رعایا کے کسی فرد کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ حکمران کو اس کے غلط کام وفعل سے تشدد کے ذریعہ روکے کیونکہ یہ ملک میں فتنہ و فساد اور قوم میں انتشار وافتراق کا باعث ہوگا اب رہی یہ بات کہ اگر کوئی شخص کسی حکمران کو اس کی غلط روی سے روکنے کے لئے تند وتیز الفاظ، درشت وغضبناک لب و لہجہ اور سخت کلامی اختیار کرے مثلًا وہ اس کو ظالم کہہ کر مخاطب کرے یا یوں کہے (من لایخاف اللہ) (اے اللہ سے نہ ڈرنے والے شخص) وغیرہ وغیرہ تو اس بارے میں یہ مسئلہ ہے کہ اگر اس شخص کا درشت لب و لہجہ اور اس کے تند و تیز الفاظ اس شخص کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لئے بھی اس حکمران کے عتاب کا نشانہ بن جانے کا باعث ہوں تو یہ (سخت کلامی) جائز نہیں۔ اور اگر اس شخص کو اس کا خوف نہیں کہ میری سخت کلامی کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی حکمران کے عتاب کا نشانہ بن جائیں گے بلکہ صرف میری ہی جان پر بنے گی تو یہ جائز ہے بلکہ مستحب ہے کیونکہ سلف (پہلے زمانوں کے مردان حق آگاہ) کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ اپنی جان کی ہلاکت کا خوف لئے بغیر حکمرانوں کو ان کی غلط روی سے پوری پوری سختی سے ٹوکا کرتے تھے اس لئے وہ جانتے تھے کہ اگر وہ اپنی جان کی ہلاکت کا باعث بن گیا تو اس سے بڑی سعادت کیا ہوسکتی ہے۔ کہ جہاد میں شہادت کا درجہ نصیب ہوگا۔

3648Mishkaat-al-Masabih

حکمران کے صالح مشیرکار اس فلاح کا باعث ہوتے ہیں

وعن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أراد الله بالأمير خيرا جعل له وزير صدق إن نسي ذكره وإن ذكر أعانه . وإذا أراد به غير ذلك جعل له وزير سوء إن نسي لم يذكره وإن ذكر لم يعنه . رواه أبو داود والنسائي

اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی امیر (حکمران) کی (دینی و دنیاوی) بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لئے سچا (یعنی راست گفتار و راست کردار) وزیر ومشیر مقرر فرما دیتا ہے کہ جب وہ امیر (خدا کے احکام کو) بھول جاتا ہے تو وہ وزیر اس کو یاد دلاتا ہے (اور اگر وہ یاد رکھتا ہے تو وہ وزیر اس کو (یاد رکھنے میں مدد دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی امیر کی بھلائی کا ارادہ نہیں کرتا تو اس پر بد وزیر و مشیر مسلط کردیتا ہے۔ اور اگر امیر اللہ کے احکام کو فراموش کردیتا ہے تو وہ وزیر اس کو یاد نہیں دلاتا اگر وہ فراموش نہیں کرتا تو وہ وزیر اس کی مدد نہیں کرتا۔ (ابو داؤد، نسائی )

3649Mishkaat-al-Masabih

رعایا کے تئیں حکمران کا شک وشبہ انتشار وبددلی کا باعث ہے۔

وعن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الأمير إذا ابتغى الريبة في الناس أفسدهم . رواه أبو داود (2/343) 3709 - [ 49 ] ( لم تتم دراسته ) وعن معاوية قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إنك إذا اتبعت عورات الناس أفسدتهم . رواه البيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت ابوامامہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے کہ آپ نے فرمایا حکمران جب لوگوں میں شک وشبہ کی بات ڈھونڈتا ہے تو لوگوں کو خراب کردیتا ہے۔ (ابو داؤد) تشریح اس ارشاد گرامی کے ذریعہ آئین جہانبانی کے ایک بڑے ہم نکتہ کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ ملک وقوم کی سالمیت عوام کی فلاح وبہبودی اور عام اطمینان وامن کے لئے یہ ضروری ہے کہ حکمران اور رعایا کے درمیان مکمل اعتماد ہو بطور خاص حکمران کو یہ ملحوظ رکھنا چاہئے کہ اس کو اپنی رعایا کے تئیں اپنے اعتماد کا اظہار کرنا ہے! جو تنگ نظر اور کم ظرف حکمران اپنی مملکت کے عام لوگوں یا کسی خاص طبقے کے بارے میں مستقل طور پر شک وشبہ میں مبتلا رہتے ہیں اور ان کی وفاداری پر یا ان کی حرکات و سکنات پر بدگمانی کرتے ہیں اور ان پر طرح طرح کے الزامات عائد کر کے ان سے مؤ اخذہ کرتے ہیں اور ان کو مختلف قسم کی سزاؤں اور عقوبتوں میں گرفتار کرتے ہیں اور اپنے ہی ہاتھوں اپنی حکمرانی کی جڑیں کھودتے ہیں کیونکہ اس صورت حال سے نہ صرف یہ کہ جن طبقوں پر مستقل شک وشبہ کا اظہار کیا جاتا ہے ان کے حالات دگرگوں ہوجاتے ہیں بلکہ ملک وقوم میں بےاطمینانی اور اضطراب و انتشار کی فضا پیدا ہوجاتی ہے۔ اس حدیث کا مقصد جہاں لوگوں کے احوال کے تجسس اور ان کے عیوب تلاش کرنے سے منع کرنا ہے وہیں اس بات کا حکم دینا بھی ہے کہ اگر لوگوں میں کچھ عیوب ہوں تو ان کی پردہ پوشی کی جائے اور ان جو گناہ ولغزشیں سرزد ہوں ان سے درگزر کیا جائے۔ اور حضرت معاویہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ جب تم لوگوں کے (پوشیدہ) عیوب کو تلاش کرو گے تو ان کو خرابی میں مبتلا کرو گے۔ (بیہقی )

3650Mishkaat-al-Masabih

حق تلفی کرنے والے حاکم کے خلاف تلوار اٹھانے سے صبر کرنا بہتر ہے

وعن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كيف أنتم وأئمة من بعدي يستأثرون بهذا الفيء ؟ . قلت : أما والذي بعثك بالحق أضع سيفي على عاتقي ثم أضرب به حتى ألقاك قال : أولا أدلك على خير من ذلك ؟ تصبر حتى تلقاني . رواه أبو داود

اور حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (ہمیں مخاطب کر کے) فرمایا میرے بعد تم حاکموں اور سرداروں کے ساتھ اس وقت کیا برتاؤ کرو گے جبکہ وہ اس فئی کو خود رکھ لیں گے (یا آیا صبر کی راہ اختیار کرو گے یا ان کے خلاف تلوار اٹھاؤ گے؟ ) میں نے عرض کیا سن لیجئے قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں! اپنی تلوار کاندھے پر رکھوں گا اور پھر اس کے سبب) آپ سے جا ملوں گا۔ (آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں اس تلوار اٹھانے) سے بہتر بات نہ بتادوں؟ (تو سنو) تم اس وقت صبر کی راہ اختیار کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو! (کیونکہ کسی دنیاوی حق کے تلف ہونے کی صورت میں تلوار اٹھانے سے صبر کرنا اور خاموش رہنا بہتر بھی ہے اور دنیا کی چیزوں سے بےرغبتی اور زہد کے شایان شان بھی ہے۔ (ابو داؤد) تشریح فئی اس مال کو کہتے ہیں کہ جو کفار سے بغیر جنگ وجدل کے حاصل ہو، جیسے خراج و جزیہ یا اس قسم کے وہ دوسرے ٹیکس جو اسلامی مملکت میں غیر مسلموں سے وصول کئے جاتے ہیں اور کفار سے جو مال جنگ وجدل سے حاصل ہوتا ہے اس کو غنیمت کہتے ہیں۔ فئی کا حکم یہ ہے کہ حاصل شدہ مال کے چار حصے تو تمام مسلمانوں کا حق ہے کہ وہ ان کے درمیان تقسیم کیا جائے اور پانچواں حصہ بیت المال میں داخل کردیا جائے جب کہ غنیمت میں جو مال حاصل ہوتا ہے اس کے چار حصے بیت المال میں داخل ہوتے ہیں اور پانچواں حصہ مسلمانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اس فئی کے بارے میں یہ تلقین کی گئی ہے کہ اگر کوئی حکمران اس کو اپنے تصرف میں لے آئے اور مستحقین میں تقسیم نہ کرے تو اگرچہ یہ حق تلفی ہے اور مسلمانوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس حکمران سے اپنا اپنا حصہ وصول کریں لیکن محض اس مال کے لئے اس حکمران کے خلاف تلوار اٹھانے اور تشدد کی راہ اختیار کرنے سے یہ بہتر یہ ہے کہ صبر کی راہ اختیار کی جائے۔ علماء نے لکھا ہے کہ اس ارشاد گرامی کے مفہوم میں فئی اور غنیمت دونوں شامل ہیں، نیز اس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ جو حکمران فئی یا غنیمت کے سارے مال کو اپنے تصرف میں لا کر بیت المال کو نقصان پہنچائے گا اور مسلمانوں کو حق تلفی کرے گا وہ ظالم ہے۔

3651Mishkaat-al-Masabih

امام عادل کی فضیلت

عن عائشة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أتدرون من السابقون إلى ظل الله عز و جل يوم القيامة ؟ قالوا : الله ورسوله أعلم قال : الذين إذا أعطوا الحق قبلوه وإذا سئلوه بذلوه وحكموا للناس كحكمهم لأنفسهم

حضرت عائشہ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے (صحابہ سے) فرمایا جانتے ہو قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ اللہ تعالیٰ کے عرش یا اس کے فضل و کرم کے سایہ میں جائیں گے؟ ) صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جاننے والے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا سبقت لے جانے والے وہ لوگ ہیں جن کے سامنے حق بات رکھی جاتی ہے تو وہ قبول کرتے ہیں، جب ان سے حق کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو وہ خرچ کرتے ہیں اور لوگوں کے حق میں وہی فیصلہ کرتے ہیں جو اپنی ذات کے بارے میں کرتے ہیں۔ تشریح اسی حدیث میں عادل حکمرانوں کے تین اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ ان کی وجہ سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی عنایات و کرم اور ان کے سایہ کے سب سے پہلے مستحق ہوں گے عادل حکمرانوں کا پہلا وصف تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب ان کے سامنے رعایا کی بھلائی و بہتری اور عدل ومساوت کے تعلق سے کوئی صحیح اور حق بات پیش کی جاتی ہے تو وہ اس کو قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ دوسرا وصف یہ ہے کہ جب رعایا ان سے اپنا حق مانگتی ہے تو وہ اس کا حق دیتے ہیں اور لوگوں کی بھلائی اور بہتری اور ان کی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لئے خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرتے اور تیسرا وصف یہ ہے کہ وہ جس چیز کو اپنے لئے پسند کرتے ہیں اسی کو رعایا کے لئے بھی پسند کرتے ہیں اگر وہ راحت اور اپنا چین چاہتے ہیں تو رعایا کے حق میں بھی یہ یہی چاہتے ہیں کہ عام لوگ راحت وچین اور امن و سکون کے ساتھ رہیں، خود غرض اور عیش کوش حکمرانوں کی طرح کا شیوہ یہ نہیں ہوتا کہ خود تو عیش وعشریت اور شہوت رانیوں میں مبتلا رہیں اور رعایا کو سختی اور تنگی اور بدحالی میں رہنے دیں۔

3652Mishkaat-al-Masabih

حکمرانوں کے ظلم سے آنحضرت ﷺ کا خوف

وعن جابر بن سمرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ثلاثة أخاف على أمتي : الاستسقاء بالأنواء وحيف السلطان وتكذيب القدر

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں اپنی امت کے حق میں تین باتوں سے ڈرتا ہوں کہ (کہیں وہ ان کو اختیار کر کے گمراہی میں مبتلا نہ ہوجائے) ایک تو چاند کی منازل کے حساب سے بارش مانگنا، دوسرے بادشاہ کا ظلم کرنا اور تیسرے تقدیر کا جھٹلانا (یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ تقدیر الہٰی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ انسان جو بھی فعل کرتا ہے وہ خود اس کا خالق ہوتا ہے جیسا کہ ایک جماعت قدریہ کا مسلک ہے۔ تشریح انواء نوء۔ کی جمع ہے جس کے لغوی معنی تو اٹھنا اور (گرنا) ہیں لیکن عام طور پر اس کا استعمال چاند کی منازل کے مفہوم میں ہوتا ہے! قدیم علماء فلکیات کے مطابق چاند کی اٹھائیس منزلیں ہوتی ہیں کہ وہ ہر شب ایک منزل میں رہتا ہے غالبًا اٹھنے اور گرنے سے طلوع اور غروب مراد لے کر انواء کو چاند کو منازل کے مفہوم استعمال کیا جاتا ہے۔ بہرحال عرب کے مشرکین بارش کو ان منازل کی طرف منسوب کرتے تھے اور جب بارش ہوتی تو وہ یہ کہتے کہ چاند کی فلاں منزل کی وجہ سے بارش ہوئی ہے چونکہ یہ ایک باطل عقیدہ ہے کہ اس لئے دوسری احادیث میں یہ عقیدہ رکھنے سے صریح ممانعت مذکور ہے۔ توحید کی اہمیت کو واضح کرنے اور شرک کے ایہام سے دور رکھنے کے لئے اس پر لفظ کفر کا اطلاق کیا گیا ہے۔

3653Mishkaat-al-Masabih

بلاوجہ نہ تو امین بنو اور نہ حاکم بنو

وعن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ستة أيام اعقل يا أبا ذر ما يقال لك بعد فلما كان اليوم السابع قال : أوصيك بتقوى الله في سر أمرك وعلانيته وإذا أسأت فأحسن ولا تسألن أحدا شيئا وإن سقط سوطك ولا تقبض أمانة ولا تقض بين اثنين

اور حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ چھ دن تک مجھ سے یہ فرماتے رہے کہ ابوذر! بعد میں جو بات تم سے کہی جانے والی ہے اس کے لئے تیار رہو (یعنی آنحضرت ﷺ چھ دن تک مجھے آگاہ کرتے رہے کہ میں تمہیں ایک ہدایت دوں گا تم اس پر خوب غور کرنا اس کو یاد رکھنا اور اس پر عمل کرنا) چناچہ جب سا تو اں دن ہوا تو آپ نے فرمایا میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ظاہر و باطن میں اللہ سے ڈرتے رہنا، جب تم سے کوئی برائی سرزد ہوجائے تو ساتھ ہی نیکی بھی کرنا کیونکہ وہ برائی کو مٹا دیتی ہے یا یہ مقصد ہے کہ اگر تم کسی کے ساتھ کوئی برا سلوک کر بیٹھو تو اس کے ساتھ (نیکی کا) سلوک بھی کرو) کسی (مخلوق) کے آگے دست سوال دراز نہ کرنا اگرچہ تمہارا کوڑا ہی کیوں نہ گرپڑا ہو (یعنی اگر کوڑا گرے تو اس کو اٹھانے کے لئے بھی کسی سے نہ کہو) کسی کی امانت اپنے پاس نہ رکھنا اور دو آدمیوں کے حکم نہ بننا۔۔ تشریح کسی کے امانت اپنے پاس نہ رکھنا کا مطلب یہ ہے کہ بلاضرورت کسی کی امانت اپنے پاس رکھنا احتیاط اور دور اندیشی کے خلاف ہے کیونکہ نفس کا کوئی بھروسہ نہیں کہ وسوسہ اور شیطان کے فریب میں مبتلا ہوجائے اور امانت میں خیانت کا ارتکاب ہوجائے یا اگر خیانت کا ارتکاب نہ بھی ہو تو یہ چیز تہمت کا محل تو ہے ہی کہ کسی وجہ سے خود امانت کا مالک یا کوئی دوسرا شخص تم پر خیانت کی تہمت لگا دے۔

3654Mishkaat-al-Masabih

حکمران کے حق میں حکومت کے تین تدریجی مرحلے

وعن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : ما من رجل يلي أمر عشرة فما فوق ذلك إلا أتاه الله عز و جل مغلولا يوم القيامة يده إلى عنقه فكه بره أو أوبقه إثمه أولها ملامة وأوسطها ندامة وآخرها خزي يوم القيامة

اور حضرت ابوامامہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے (دس آدمیوں کی) بھی یا اس سے زائد لوگوں کی حکمرانی قبول کی اس کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس طرح طوق میں جکڑا ہوا حاضر کرے گا (یعنی میدان حشر میں اٹھائے گا) کہ اس کے ہاتھ نے اس کی گردن کو جکڑ رکھا ہوگا یہاں تک کہ یا تو اس کی نیکی اس کو چھڑائے گی (یعنی اگر اس نے دنیا میں اپنے زیردستوں کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ اور حسن سلوک کیا ہوگا تو یہ اس کی نجات کا باعث بنے گا یا اس کا گناہ (یعنی اپنے زیردستوں پر اس کا کیا ہوا ظلم وغیرہ ) اس کی ہلاکت (عذاب) میں مبتلا کر دے گا۔ (یاد رکھو) سرداری وحکمرانی کی ابتداء ملامت ہے اس کا درمیان پیشمانی و ندامت ہے اور اس کا آخر قیامت کے دن کی ذلت و رسوائی ہے۔ تشریح حکومت وسرداری کی حقیقت اور اس کا مآل کیا ہے؟ اس کو یہ حدیث واضح کر رہی ہے کہ جب کوئی شخص حکومت وسیادت کی مسند پر فائز ہوتا ہے تو اس کا ابتدائی مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو ہر طرف سے ملامت کے تیر کا نشانہ بننا پڑتا ہے، لوگ مطعون کرتے ہیں کہ اس نے ایسا ویسا کیا، کوئی اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام عائد کرتا ہے، کوئی خویش پروری اور جننہ داری کی تہمت لگاتا ہے تو کوئی فرائض حکومت کی انجام دہی میں غفلت کا ملزم گردانتا ہے عرضی کہ ہر طرف سے طعن وتشنیع، سب وشتم اور اعتراضات کی بوچھاڑ ہوتی ہے اس کے بعد درمیانی مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ حکمران حکومت کی سخت کوشیوں اور لوگوں کے طعن وتشنیع سے بددل ہو کر سخت ندامت وپیشیمانی میں مبتلا ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اس منصب کو کیوں قبول کیا اور اس محنت و مصیبت میں اپنے آپ کو مبتلا کیا اور پھر اس کا آخری حصہ ذلت و رسوائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ دنیا کی ذلت و رسوائی بھی اور آخرت کی ذلت و رسوائی بھی! دنیا کی ذلت رسوائی تو یہ ہے کہ اگر کسی وجہ سے اس منصب سے معزول کردیا جاتا ہے تو اس کی خواری و تحقیر ہوتی ہے یا اگر رعایا اس کے طرز حکومت میں اور انتظام سلطنت سے مطمئن نہیں ہوتی تو ان کے دل ان کے دلوں میں اس کے تئیں سخت قسم کی نفرت و حقارت کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ایک حکمران کے لئے اس سے بڑھ کر دنیا میں ذلت و رسوائی اور کیا ہوسکتی ہے اور آخرت کی ذلت و رسوائی یہ ہے کہ وہ اپنے دور حکومت میں جو کچھ کرتا ہے اس کی جواب دہی احکم الحاکمین کی بارگاہ میں کرنی ہوتی ہے یہاں تک کہ اس سے جو کو تاہیاں، جو ظلم اور جو غلط افعال سرزد ہوئے ہیں ان کی وجہ سے عذاب میں گرفتار ہونا پڑتا ہے۔ ( فاعتبروا یا اولی الابصار)۔ یہاں حدیث میں صرف قیامت کے دن کی ذلت و رسوائی کا ذکر کیا گیا ہے دنیا کی خواری مذکور نہیں ہے اس کی وجہ یہ کہ قیامت کے دن کی ذلت و رسوائی دنیا کی ذلت و رسوائی کہیں زیادہ سخت ہے اسی لئے اس کے ذکر پر اکتفا کیا گیا۔

3655Mishkaat-al-Masabih

حضرت معاویہ کے حق میں آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی

وعن معاوية قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا معاوية إن وليت أمرا فاتق الله واعدل . قال : فما زلت أظن أني مبتلى بعمل لقول النبي صلى الله عليه و سلم حتى ابتليت

اور حضرت امیر معاویہ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا سے معاویہ! اگر تمہیں کسی کام (یا کسی جگہ) امیر وحاکم بنایا جائے تو امور حکومت کی انجام دہی میں) اللہ سے ڈرتے رہنا اور عدل و انصاف کے دامن کو ہاتھ سے نہ چھوڑنا۔ حضرت معاویہ کہتے ہیں برابر خیال کرتا رہا کہ آنحضرت ﷺ کے فرمانے کے بموجب میں کسی کام (یعنی امارت وسرداری میں مبتلا کیا جاؤں گا۔ یہاں تک کہ میں مبتلا کیا گیا (یعنی آنحضرت ﷺ کا فرمان صحیح ہوا اور امارت وسرداری نصیب ہوئی۔

3656Mishkaat-al-Masabih

آنے والے زمانے کے بارے میں پیشن گوئی

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تعوذوا بالله من رأس السبعين وإمارة الصبيان . روى الأحاديث الستة أحمد وروى البيهقي حديث معاوية في دلائل النبوة

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا ستر سال کی ابتداء سے اور بچوں کی حکومت سے اللہ کی پناہ مانگو، مذکورہ بالا چھ حدیثوں کو امام احمد نے اور امیر معاویہ کی روایت کو بہیقی بھی دلائل النبوۃ میں نقل کیا ہے۔ تشریح ستر سال کی ابتداء سے مراد سن کی ساتویں دہائی ہے جس کی ابتداء ٦١ ھ کے آخر میں حضرت معاویہ کا دور حکومت ان کی وفات پر پورا ہوا اور یزید ابن معاویہ کی امارت قائم ہوئی اس کے ساتھ ہی حکومت پر سے صحابیت کا بابرکت سایہ اقتدار مکمل طور اٹھ گیا اور اس کے بعد سے امت کی تاریخ حکومت کا وہ دور شروع ہوگیا جو افتراق اور انتشار، فتنہ و فساد، ظلم وجور حصول اقتدار کی کشمکش اور ملوکیت کی فتنہ سامانیاں اپنے دامن میں لے کر آیا۔ یزید کل تین سال آٹھ ماہ تخت حکومت پر رہا اس دوران میں اس کی حکومت کا سب سے شرمناک واقعہ سانحہ کربلا ہے۔ یزید کے بعد اس کا بیٹا معاویہ ابن یزید ابن معاویہ برائے نام تخت نشین ہوا اور آخر میں حکومت کی باگ ڈور بنو امیہ کے سفیانی خاندان سے نکل کر بنی مروان کے ہاتھ آگئی۔ حدیث میں انہی بنی مروان کی حکومت کو بچوں کی حکومت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بنی مروان کے زمانہ حکومت میں اقتدار کی رسہ کشی استبداد وجبر، مذہبی انتشار وتشتت، دین سے برگشتگی، خاندانی وقبائلی عصبیت، اسلامی شعائر سے لاپرواہی اور بزرگان حق کے ساتھ سختی وتشدد کا جو مظاہرہ ہوا اس پورے نظام حکومت ومملکت کو بازیچہ اطفال بنا کر رکھ دیا تھا۔ رسوائے تاریخ ظالم حجاج ابن یوسف بنی مروان ہی کے عہد حکومت کا سب سے بڑا معتمد والی تھا جو ظلم وستم میں چنگیز ہلاکو سے کم بدنام نہیں ہے۔ سن ہجری کی ساتویں دہائی کی ابتداء سے یزید ابن معاویہ کی امارت کی صورت میں رونما ہونے والی ہولنا کیوں اور اس کے بعد کے عرصہ میں بنی مروان کی حکومت کی ستم رانیاں وقوع پزیر ہونے سے سالہا سال پہلے نبوت کے سامنے ایک کھلی کتاب کی مانند تھیں اور آپ ﷺ کی فراست محکم آنے والے اس زمانے کا ادراک کر رہی تھی جس میں نبوت کی اجتماعی اور اس کی ملی خصوصیات کو چند خود غرض، مفاد پرست اور دنیا دار حکمران اپنے اقتدار طلبی اور عیش رانیوں پر قربان کرنے والے تھے۔ لہٰذا آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا اس وقت پیش آنے والے سخت حالات اور عاقبت نااندیش حکمرانوں کے عہد حکومت سے اللہ کی پناہ مانگو کہ اللہ تم میں سے کسی کو وہ زمانہ نہ دکھلائے۔

3657Mishkaat-al-Masabih

جیسے عمل کرو گے ویسے ہی حکمران مقرر ہوں گے

وعن يحيى بن هاشم عن يونس بن أبي إسحاق عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كما تكونون كذلك يؤمر عليكم

اور حضرت یحییٰ بن ہاشم، حضرت یونس ابن اسحاق سے اور اور وہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں۔ کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جیسے تم ہوگے ویسے ہی تمہارے اوپر حکمران مقرر کئے جائیں گے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ تمہارے طور طریقے اور تمہارے اعمال جیسے ہوں گے ویسے ہی تم پر حاکم وعامل مقرر ہوں گے اگر تمہارے اعمال اچھے ہوں گے تو تمہارے حاکم بھی اچھے ہوں گے اور تم برے اعمال کرو گے تو تمہارے حاکم بھی برے ہوں گے۔

3658Mishkaat-al-Masabih

بادشاہ روئے زمین پر اللہ کا سایہ ہوتا ہے

وعن ابن عمر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن السلطان ظل الله في الأرض يأوي إليه كل مظلوم من عباده فإذا عدل كان له الأجر وعلى الرعية الشكر وإذا جار كان عليه الإصر وعلى الرعية الصبر

اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ بادشاہ روئے زمین پر اللہ کا سایہ ہے جس کے نیچے اللہ کے بندوں میں سے مظلوم بندہ پناہ حاصل کرتا ہے لہٰذا جب بادشاہ عدل و انصاف کرتا ہے تو اس کو ثواب ملتا ہے اور رعایا پر اس کا شکر واجب ہوتا ہے اور جب وہ ظلم و طغیانی کرتا ہے تو وہ گنہ گار ہوتا ہے اور رعایا پر صبر لازم ہوتا ہے۔ بادشاہ کے وجود کو خود کا سایہ اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے جس طرح کسی چیز کا سایہ سورج کی تپش و گرمی کی ایذاء سے بچاتا ہے اسی طرح بادشاہ اپنی رعیت کے لوگوں کو مختلف قسم کی ایذاؤں اور سختیوں سے بچاتا ہے! نیز بسا اوقات لفظ سایہ سے کنایۃ محافظت و حمایت کا مفہوم بھی مراد لیا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے بھی اگر دیکھا جائے تو بادشاہ کے وجود کا بجا طور پر اپنی رعایا کے لئے محافظت و حمایت کا سب سے بڑا ذریعہ ہونا بالکل ظاہر ہے۔ طیبی نے یہ وضاحت کی ہے کہ لفظ ظل اللہ ایک تشبیہ ہے اور عبادت (یاوی الیہ کل مظلوم) الخ اس تشبیہ کی وضاحت اور مراد بیان کرتی ہے یعنی لوگ جس طرح سایہ کی ٹھنڈک میں سورج کی گرمی سے راحت پاتے ہیں اسی طرح بادشاہ کے عدل کی ٹھنڈک میں ظلم وجور کی گرمی سے راحت پاتے ہیں۔ ظل اللہ میں اللہ کی طرف (سایہ) کی نسبت اس (سایہ) کی عظمت و برتری کے اظہار کے لئے ہے جیسا کہ بیت اللہ میں اللہ کی طرف بیت کی نسبت اس (بیت) کی عظمت و برتری کو ظاہر کرنے کے لئے ہے اور اس سے اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ وہ سایہ (یعنی بادشاہ) دوسرے سایوں کی طرح نہیں ہے بلکہ وہ اللہ کے تعلق سے اپنی الگ شان اور خصوصیت و برتری رکھتا ہے کیونکہ اس کو روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کا خلیفہ (نائب) قرار دیا گیا ہے کہ اس کا فریضہ اللہ تعالیٰ کے عدل و احسان کو اس کے بندوں پر پھیلانا ہے۔

3659Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے دن سب سے بلند مرتبہ نرم خو اور عادل حکمران ہوگا

وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أفضل عباد الله عند الله منزلة يوم القيامة إمام عادل رفيق وإن شر الناس عند الله منزلة يوم القيامة إمام جائر خرق

اور حضرت عمر ابن خطاب کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بندوں میں بلند مرتبہ کے اعتبار سے سب سے بہتر جو شخص ہوگا وہ میں مرتبہ کے اعتبار سے سب سے بدتر جو شخص ہوگا وہ ظالم اور سختی کرنے والا حاکم ہے۔

3660Mishkaat-al-Masabih

کسی مسلمان کو محض ڈرانا دھمکانا بھی عذاب کا سزاوار کرتا ہے

وعن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من نظر إلى أخيه نظرة يخيفه أخافه الله يوم القيامة . روى الأحاديث الأربعة البيهقي في شعب الإيمان وقال في حديث يحيى هذا : منقطع وروايته ضعيف

اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے کسی بھائی کی طرف ڈراوے والی نظر سے دیکھے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو ڈرائے گا۔ مذکورہ چاروں روایتوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے اور نقل کیا ہے اور یحییٰ ابن ہاشم کی روایت کے بارے میں کہا ہے کہ یہ منقطع ہے اور یحییٰ کی روایت ضعیف (سمجھی جاتی) ہے۔ تشریح اس حدیث کو اس باب میں نقل کرنے سے اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ جب کسی مسلمان کو محض ڈرانا دھمکانا قیامت کے دن عذاب کا سزاوار بنائے گا تو مسلمانوں پر ظلم وستم کرنے والے کا کیا حشر ہوگا؟