Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 182 of 317

3621Mishkaat-al-Masabih

اگر حاکم کی طرف سے کسی کی حق تلفی ہوتب بھی اس کی فرمانبرداری کی جائے۔

وعن عبد الله بن مسعود قال : قال لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنكم سترون بعدي أثرة وأمورا تنكرونها قالوا : فما تأمرنا يا رسول الله ؟ قال : أدوا إليهم حقهم وسلوا الله حقكم (2/336) 3673 - [ 13 ] ( صحيح ) وعن وائل بن حجر قال : سأل سلمة بن يزيد الجعفي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا نبي الله أرأيت إن قامت علينا أمراء يسألونا حقهم ويمنعونا حقنا فما تأمرنا ؟ قال : اسمعوا وأطيعوا فإنما عليهم ما حملوا وعليكم ما حملتم . رواه مسلم

اور حضرت عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ تم میرے بعد اپنے ساتھ ترجیحی سلوک اور بہت سی ایسی چیزوں کو دیکھو گے جس کو تم برا سمجھو گے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر آپ ﷺ ہمیں کیا ہدایت دیتے ہیں (ہمیں کیا ہدایت دیتے ہیں (کہ اس وقت ہمارا رویہ کیا ہو؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا تم ان (حاکموں) کا حق ادا کرو اور اپنا حق اللہ تعالیٰ سے مانگو۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر تمہارے حاکم تمہارے ساتھ ترجیحی سلوک کریں بایں طور کہ تمہاری حق تلفی کریں تو ایسی صورت میں بھی ان کے تئیں تمہارا رویہ یہی ہونا چاہئے کہ تم ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرو یعنی ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرو اور ان کے مددگار ومعین بنے رہو اور وہ تمہارے حق کی ادائیگی میں جو کوتاہی کریں ان پر صبر کرو اور بارگاہ کبریائی میں التجاء کرو کہ وہ تمہیں تمہارے حق کا نعم البدل عطا کرے۔ اور حضرت وائل بن حجر کہتے ہیں کہ حضرت سلمہ ابن یزید جعفی نے رسول کریم ﷺ سے سوال کیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! اس بارے میں ہمارے لئے آپ ﷺ کی کیا ہدایت ہے کہ اگر ہم پر ایسے حاکم مقرر ہوں جو ہم سے تو اپنے حق (یعنی اطاعت و فرمانبرداری کا مطالبہ کریں لیکن ہمیں ہمارا حق ( یعنی عدل و انصاف اور مال غنیمت کا حصہ نہ دیں؟ آپ نے فرمایا تم ظاہر میں ان کی بات سنو اور باطن میں) ان کی فرمانبرداری کرو (یعنی ان کی بات اور ان کے احکام کو سننا ظاہری اطاعت ہے) اور ان کے احکام پر عمل کرنا باطنی فرمانبرداری ہے) یاد رکھو! ان پر وہ چیز فرض ہے جو ان کے کاندھوں پر ڈالی گئی ہے (یعنی رعایا کو عدل و انصاف دینا اور ان کے حقوق ادا کرنا اور تم پر وہ چیز فرض ہے جو تمہارے کاندھوں پر ڈالی گئی ہے (یعنی اپنے حاکم و سردار کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا اور اگر ان حاکموں کی طرف سے تمہاری حق تلفی ہو یا اور کوئی مصیبت پیش آئے تو اس پر صبر کرنا۔ (مسلم) تشریح حدیث کا حاصل و رعایا میں سے ہر ایک کے سپرد ذمہ داریاں ہیں ان کو پورا کرنا ہر ایک پر واجب ہے جس طرح حاکم کے کاندھوں پر عوام کے حقوق کا تحفظ اور ان کو عدل و انصاف دینے کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو پورا کرنا اس پر واجب ہے، اسی طرح رعایا کے کاندھوں پر اپنے حاکم کی مدد واعانت اور اس اطاعت کی فرنبرداری ہے اور اس ذمہ داری کو پورا کرنا رعایا واجب ہے لہٰذا دونوں ہی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی حدود سے تجاوز نہ کریں۔

3622Mishkaat-al-Masabih

امام کی اطاعت سے دست بردار ہونے والے کے بارے میں وعید

وعن عبد الله بن عمر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من خلع يدا من طاعة لقي الله يوم القيامة ولا حجة له . ومن مات وليس في عنقه بيعة مات ميتة جاهلية . رواه مسلم

اور حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص امام یعنی اسلامی مملکت کے سربراہ کی اطاعت سے ہاتھ کھینچ لے وہ قیامت کے دن بارگاہ رب العزت میں اس طرح حاضر ہوگا کہ اس کے پاس (ایمان کی) دلیل نہیں ہوگی اور جو شخص اس حال میں مرے کہ اس کی گردن امام کی بیعت (یعنی امام برحق کی اطاعت) سے آزاد ہو (یعنی وہ امام برحق کا باغی ہو کر مارا جائے) تو اس کی موت جاہلیت پر مرنے کے مترادف ہوگی۔ (مسلم )

3623Mishkaat-al-Masabih

خلیفہ وامیر کی موجودگی میں اگر کوئی شخص خلافت وامارت کا دعوی کرے تو اس کو تسلیم نہ کرو

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : كانت بنو إسرائيل تسوسهم الأنبياء كلما هلك نبي خلفه نبي وإنه لا نبي بعدي وسيكون حلفاء فيكثرون قالوا : فما تأمرنا ؟ قال : فوا بيعة الأول فالأول أعطوهم حقهم فإن الله سائلهم عما استرعاهم (2/337) 3676 - [ 16 ] ( صحيح ) وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا بويع لخليفتين فاقتلوا الآخر منهما . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا بنی اسرائیل کو انبیاء ادب وتہذیب سکھایا کرتے تھے چناچہ جب ایک نبی کی وفات ہوجاتی تو اس کا جانشین کوئی دوسرا نبی ہوجاتا (اس طرح یکے بعد دیگرے انبیاء اپنی قوم کی تربیت کیا کرتے تھے۔ ) لیکن میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے البتہ میرے بعد امراء وخلفاء ہونگے اور بہت ہوں گے (جن کے ذمے) امت کی راہنمائی ونگہبانی ہوگی صحابہ نے عرض کیا کہ جب بیک وقت متعدد امراء ملک وامت کی سیادت کے دعویدار ہوں گے اور آپس میں ایک دوسرے کی مخالفت کریں گے تو) اس وقت کے لئے آپ ہمیں کیا ہدایت فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا پہلے امیر کی بیعت پوری کرو (پھر دوسرے زمانہ میں) پہلے امیر کی (یعنی جب بھی بیک وقت مثلًا امیر اپنی سیادت کا دعویٰ کریں تو اس امیر کی بیعت وطاعت کرو جو پہلے مقرر ہوا ہو اور دوسرے کی مطلق پیروی نہ کرو) اور ان کے حقوق ادا کرو اور جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی مخلوق کی نگہداشت و حکومت کی ذمہ داری سونپی ہے اس کے بارے میں وہ خود ان سے پوچھ لے گا۔ (بخاری ومسلم) تشریح ( فوابیعۃ الا ول فالاول) کا مطلب یہ ہے کہ خلفیہ و امیر کی بیت پوری کرو جو پہلے مقرر ہوا پھر اس خلیفہ و امیر کی و اطاعت کرو جو اس کے بعد مقرر ہوا! اور اس دوسرے خلیفہ و امیر کو اول اس امیر و خلیفہ کی نسبت سے فرمایا گیا ہے جو اس کے بعد مقرر ہوگا۔ گویا حاصل یہ ہے کہ جس طرح علی الترتیب ایک کے بعد دوسرا خلیفہ مقرر ہو اس طرح تم بھی ترتیب کے ساتھ ایک کے بعد دوسرے خلیفہ کی بیعت و اطاعت کرنا ہے ہاں اگر ایک ہی وقت میں دو شخص امارت و خلافت کا دعوی کریں تو تم اس شخص کی بیعت وطاعت کرو جو پہلے مقرر ہوا ہے اور دوسرے کے بارے میں یہ سمجھو کہ یہ شخص حکومت و سیاست کے لالچ میں غلط دعوی کر رہا ہے لہٰذا اس کو اپنا خلیفہ و امیر ماننے سے انکار کردو چناچہ آگے جو حدیث آرہی ہے اس سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے۔ (اعطوہم حقہم) (ان کے حقوق ادا کرو) گویا پہلے جملہ (فوبیعۃ الاول) (پہلے امیر کی اطاعت پوری کرو) کا بدل ہے اور حدیث کے آخری الفاظ یعنی (فان اللہ سائلہم) الخ دراصل پہلے جملہ کی علت کو بیان کرتے ہیں جس میں خلیفہ و امیر کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، گویا اس جملہ میں اختصار کو اختیار کیا گیا ہے پورا مفہوم یہ ہے کہ تم ان کے حقوق ادا کرو اگرچہ وہ تمہارے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کریں۔ حدیث کے آخر میں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ خلیفہ و امیر (سربراہ مملکت) کو رعایا کے حقوق کی حفاظت و ادائیگی کی جو (ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ اس کے لئے قیامت کے دن احکم الحاکمین کی بارگارہ میں جواب دہ ہوگا، اس نے دنیا میں جن لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہوگی اس سے ان لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کرائی جائے گی اور وہ اس پر قادر نہ ہو سکے تو سخت عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ اور حضرت ابوسعید راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب دو خلیفوں کی بیعت کی جائے تو ان میں سے جو بعد کا ہے اس کو قتل کر ڈالو۔ (مسلم) تشریح اگر ایسی صورت پیش آجائے کہ پہلے سے مقرر خلیفہ و امیر کی موجودگی میں کوئی دوسرا شخص اپنی خلافت وامارت کا اعلان کر دے اور لوگوں سے بیعت لینے لگے تو اس سے جنگ کی جائے یہاں تک کہ وہ راہ راست پر آجائے اور اللہ کے حکم کے مطابق پہلے سے مقرر خلیفہ و امیر کی اطاعت قبول کرلے یا اسی حالت میں مارا جائے کیونکہ وہ اللہ کے حکم اور اسلامی مملکت کا باغی ہے اور باغی کی یہی سزا ہے کہ اگر وہ اپنی بغاوت سے باز نہ آئے تو اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔ بعض حضرات نے اس کو قتل کر ڈالو کی مراد یہ بیان کی ہے کہ جن لوگوں نے اس کے ہاتھ پر بیعت کرلی ہے اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کا عہد کرلیا ہے اور وہ اپنی بیعت اور اپنا عہد فسخ کردیں اور اس شخص کو اس طرح کمزور کردیں کہ وہ خلیفہ کے خلاف شورش نہ پھیلا سکے۔

3624Mishkaat-al-Masabih

جو شخص امت میں تفرقہ پیدا کرے اس کو موت کے گھاٹ اتار دو

وعن عرفجة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إنه سيكون هنات وهنات فمن أراد أن يفرق أمر هذه الأمة وهي جميع فاضربوه بالسيف كائنا من كان . رواه مسلم (2/337) 3678 - [ 18 ] ( صحيح ) وعنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أتاكم وأمركم جميع على رجل واحد يريد أن يشق عصاكم أو يفرق جماعتكم فاقتلوه . رواه مسلم (2/337) 3679 - [ 19 ] ( صحيح ) وعن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من بايع إماما فأعطاه صفقة يده وثمرة قلبه فليطعه إن استطاع فإن جاء آخر ينازعه فاضربوا عنق الآخر . رواه مسلم

اور حضرت عرفجہ کہتے ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب تخریب و فساد رونما ہوں گے لہٰذا جو شخص اس میں تفریق پیدا کرنا چاہے درا نحالی کہ امت آپس میں متحد ومتفق ہو تو اس شخص کو تلوار سے اڑا دو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ (مسلم) تشریح عنقریب تخریب و فساد رونما ہوں گے کا مطلب یہ ہے کہ جوں جوں زمانہ گذرتا جائے گا توں توں دین کے مخالف اور دشمن طاقتوں کی فتنہ پردازیاں بڑھتی جائیں گی، وہ مختلف طریقے سے امت میں انتشار پیدا کر کے تخریب و فساد کے شعلے بھڑکائیں گے وہ کوشش کریں گے کہ ملت اسلامیہ کے درمیان سے اتحاد و اتفاق کی رو کو نکال لیں اور چونکہ امارت وسیادت انسان کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے اس لئے کچھ مسلمان اس انسانی کمزوری سے مجبور ہو کر ان کی سازشوں کا شکار ہوجائیں گے اور طلب امارت و حصول جاہ کے لئے مسلم مخالف طاقتوں کا آلہ کار بن کر طرح طرح کے فتنوں کو جگائیں گے۔ جس کا انجام یہ ہوگا کہ تمام بدامنی و انتشار کی فضا پیدا ہوجائے گی اور امت گروہ بندیوں اور تفرقوں کا شکار ہوجائے گی۔ ایسے وقت میں مسلمانوں کو چاہئے کو جو شخص پہلے سے ان کی قیادت کے مرتبہ پر فائز ہے اور جس کو وہ شروع میں اپنا مرجع اطاعت بنا چکے ہیں اسی کے جھنڈے کے نیچے جمع رہیں اور پہلے سے ان کی قیادت میں ہر اس طبقہ اور فرد کے فتنوں کی سرکوبی کریں جو امت کے اتحاد و اتفاق میں رخنہ اندازی کر رہا ہو، کیونکہ (اصل میں امیر و خلیفہ وہی شخص ہے اور اسی کی قیادت قابل اطاعت ہے۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو کے ذریعے اس حقیقت کو طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ امت کا اتحاد، فرد کی حیثیت و شخصیت پر مقدم ہے اگر امت کے اتحاد اور ملت کی اجتماعی حیثیت کو بچانے کے لئے کسی بھی بڑے سے بڑے فرد کو راستہ سے ہٹانا پڑے تو اس میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرنی چاہئے خواہ وہ شخص کتنا ہی کوئی بڑا عالم کیوں نہ ہو۔ اور دیکھنے میں کتنا ہی بڑا شیخ طریقت اور کتنا ہی معزز و حیثیت دار کیوں نہ ہو بلکہ یہاں تک ملحوظ رہنا چاہئے کہ اگر کوئی شخص امارت وسیادت کا دعوی کرے جو حقیقت میں بھی اس منصب کا زیادہ سے زیادہ اہل ہے تو علماء لکھتے ہیں کہ اس کو قتل کردینا چاہئے کیونکہ فتنہ و فساد اور امت میں تفریق پیدا کرنے کا باعث ہونے کی وجہ سے وہ قتل ہی کا مستحق ہے بشرطیکہ جو شخص پہلے منصب امارت و امامت پر فائز ہے وہ اپنے منصب کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا اہل ہو اور اس کو معزول کرنے کی کوئی وجہ نہ ہو۔ اور حضرت عرفجہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص (امام وقت کے خلاف بغاوت کر کے اور اپنی خلافت وامارت کا اعلان کر کے) تمہارے پاس آئے در آنحالیکہ تم سب ( پہلے سے) ایک شخص پر متفق اور ایک خلیفہ پر متحد ہو اور وہ شخص تمہاری لاٹھی کو چیرے یا تمہاری اجتماعی تنظیم میں تفرقہ پیدا کرنا چاہتا ہو تو تم اس کو قتل کردو۔ (مسلم ) تشریح لاٹھی چیرنے کو کنایۃ مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کے مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے، گویا مسلمانوں کے اتفاق واتحاق و اتحاد اور کسی ایک رائے پر مجتمع ہوجانے کو لاٹھی سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس، اتفاق و اتحاد اور اجتماعیت میں رخنہ اندازی کو چیرنے کا مفہوم دیا گیا ہے۔ (او یفرق جماعتکم) (یا تمہاری اجتماعی تنظیم میں تفرقہ پیدا کرنا چاہتا ہو) بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں راوی نے اپنے شک کو ظاہر کیا ہے۔ کہ آنحضرت ﷺ نے یا تو پہلا جملہ (ان یشق عصاکم) ( ارشاد فرمایا تھا یا یہ جملہ ارشاد فرمایا تھا، لیکن یہ بھی احتمال ہے کہ دونوں ہی جملے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمائے تھے، اس صورت میں پہلے جملہ کو دنیاوی امور یعنی مسلمانوں کی سیاسی طاقت میں انتشار پیدا کرنے پر محمول کیا جائے اور دوسرے جملہ کو دینی احکام یعنی مسلمانوں کی زندگی اور ان کے مذہبی معاملات میں فتنہ پردازی پر محمول کیا جائے اور حضرت عبداللہ ابن عمر راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے امام سے بیعت کی بایں طور کہ اس کو اپنا ہاتھ دے کر اطاعت و فرمانبرداری کرے اور پھر اگر کوئی دوسرا شخص اپنی امامت کا اعلان کر دے اور اپنے امام کے خلاف بغاوت کرے تو اس کی گردن اڑا دو۔ (مسلم )

3625Mishkaat-al-Masabih

حکومت وامارت کے طلب گار نہ بنو

وعن عبد الرحمن بن سمرة قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تسأل الإمارة فإنك إن أعطيتها عن مسألة وكلت إليها وإن أعطيتها عن غير مسألة أعنت عليها (2/338) 3681 - [ 21 ] ( صحيح ) وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إنكم ستحرصون على الإمارة وستكون ندامة يوم القيامة فنعم المرضعة وبئست الفاطمة . رواه البخاري (2/338) 3682 - [ 22 ] ( صحيح ) وعن أبي ذر قال : قلت : يا رسول الله ألا تستعملني ؟ قال : فضرب بيده على منكبي ثم قال : يا أبا ذر إنك ضعيف وإنها أمانة وإنها يوم القيامة خزي وندامة إلا من أخذها بحقها وأدى الذي عليه فيها . وفي رواية : قال له : يا أبا ذر إني أراك ضعيفا وإني أحب لك ما أحب لنفسي لا تأمرن على اثنين ولا تولين مال يتيم . رواه مسلم

اور حضرت عبدالرحمن ابن سمرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تم حکومت و سیادت کو طلب نہ کرو کیونکہ اگر تمہاری خواہش اور طلب پر تم کو حکومت وسیادت دی گئی تو تمہیں اسی کے سپرد کردیا جائے گا (تا کہ تم اس منصب کی ذمہ داریوں کو انجام دو درآنحالیکہ منصب وامارت کی ذمہ داریاں اتنی دشوار اور مشقت طلب ہیں کہ بغیر مدد الہٰی کے کوئی شخص ان کو انجام نہیں دے سکتا اور اگر تمہاری خواہش وطلب کے بغیر تمہیں حکومت وسیادت ملے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری مدد کی جائے گی (یعنی حق تعالیٰ کی طرف سے تمہیں یہ توفیق بخشی جائے گی کہ تم عدل و انصاف اور نظم وضبط کے ساتھ اس کی ذمہ داریوں کو انجام دے سکو۔ (مسلم ) اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا (میں دیکھ رہا ہوں) تم آنے والے زمانے میں حکومت وسیادت کی حرص میں مبتلا ہو گے حالانکہ وہ حکومت وسیادت (جو حرص وطلب کے ساتھ ملے) قیامت کے دن پشیمانی کا موجب ہے (یاد رکھو) حکومت وسیادت دودھ چھڑانے والی عورت کی طرح بری لگتی ہے لہٰذا یہ بات مرد دانا کے لائق نہیں ہے کہ وہ ایسی لذت کے حصول کی خواہش و کوشش کرے جس کا انجام حسرت وغم ہے۔ اور حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ ﷺ مجھے (کسی جگہ کا) عامل (حاکم) کیوں نہیں بنا دیتے؟ حضرت ابوذر کا بیان ہے (میری یہ بات سن کر) آنحضرت ﷺ نے (ازراہ لطف و شفقت) میرے مونڈھے پر اپنا ہاتھ مارا اور پھر فرمایا کہ ابوذر! تم نا تو اں ہو اور یہ سرداری (خدا کی طرف سے) ایک امانت ہے) جس کے ساتھ بندوں کے حقوق متعلق ہیں اور اس میں خیانت نہیں کرنی چاہئے) اور تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ) سرداری قیامت کے دن رسوائی و پیشمانی کا باعث ہوگی الاّ یہ کہ جس شخص نے اس (سرداری کو حق کے ساتھ حاصل کیا اور اس حق کو ادا کیا جو اس سرداری کے تئیں اس پر ہے (یعنی جو شخص مستحق ہونے کی وجہ سے سردار بنایا گیا اور پھر اس نے اپنے زمانہ میں حکومت میں عدل و انصاف کا نام روشن کیا اور رعایا کے ساتھ احسان وخیر خواہی کا برتاؤ کیا تو وہ سرداری اس کے لئے رسوائی اور وبال کا باعث نہیں ہوگی) اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ابوذر! میں تمہیں نا تو اں دیکھتا ہوں (کہ سرداری کا بار برداشت نہیں کرسکو گے) اور میں تمہارے لئے اس چیز کو پسند کرتا ہوں جو میں اپنے نفس کے لئے پسند کرتا ہوں تم دو آدمیوں کا بھی سردار وعامل نہ بننا اور کسی یتیم کے بھی مال کی کار پردازی و نگرانی نہ کرنا۔ (مسلم) تشریح جو میں اپنے نفس کے لئے پسند کرتا ہوں کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں تمہاری طرح ضعیف ونا تو اں ہوتا تو میں اس سرداری وحاکمیت کے بوجھ کو نہ اٹھاتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے قوت بھی دی ہے اور پھر تحمل بھی عطا کیا ہے، اگر حق تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو تحمل عطا نہ ہوتا تو میں ہرگز اس بار کو برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ حکومت وسیادت سے پرہیز کرنے کے بارے میں یہ حدیث اصل میں عظیم اور سب سے بڑی رہنما ہے بطور خاص اس شخص کے لئے جو اس منصب کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی قوت نہ رکھتا ہو!۔

3626Mishkaat-al-Masabih

جو شخص خود کسی عہدہ ومنصب کا طلب گار ہو اس کو اس منصب کا طلب گار ہو اس کو منصب پر فائز نہ کرو :

وعن أبي موسى قال : دخلت على النبي صلى الله عليه و سلم أنا ورجلان من بني عمي فقال أحدهما : يا رسول الله أمرنا على بعض ما ولاك الله وقال الآخر مثل ذلك فقال : إنا والله لا نولي على هذا العمل أحدا سأله ولا أحدا حرص عليه . وفي رواية قال : لا نستعمل على عملنا من أراده

اور حضرت ابوموسی کہتے ہیں کہ (ایک دن) میں اور میرے چچا کی اولاد میں سے دو شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان میں سے ایک نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو (تمام مسلمانوں اور روئے زمین کا) حاکم بنایا ہے، مجھ کو کسی جگہ یا کسی کام کا حاکم و والی فرمائی۔ دوسرے نے بھی اسی طرح کی خواہش کا اظہار کیا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم! ہم (دین و شریعت کے ) ان امور میں کسی بھی شخص کو والی اور ذمہ دار نہیں بناتے جو ہم سے ولایت وذمہ داری کا طلبگار ہو یا اس کی حرص رکھتا ہو۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہم اپنے کام پر اس شخص کو (عامل کار پرداز) مقرر نہیں کرتے جو اس کا ارادہ (یعنی عامل ہو نیکی خواہش رکھے۔ (مسلم) تشریح آنحضرت ﷺ کا یہ معمول تھا کہ جو شخص کسی خدمت ذمہ داری کا طالب ہوتا اور آپ ﷺ سے اس کی درخواست کرتا تو آپ ﷺ اس کو کام پر مقرر نہ فرماتے کیونکہ کسی منصب کا طالب ہونا حب جاہ پر دلالت کرتا ہے جو آخرکار طالب کے حق میں خرابی کا باعث ہوتا ہے۔

3627Mishkaat-al-Masabih

حکومت وامارت سے انکار کرنے والا بہترین شخص ہے

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تجدون من خير الناس أشدهم كراهية لهذا الأمر حتى يقع فيه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا لوگوں میں بہتر تم اس شخص کو پاؤ گے جو اس چیز (یعنی حکومت وسیادت) کو ناپسند کرنے کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت ہو یہاں تک کہ وہ اس میں مبتلا ہوجائے۔ (بخاری ومسلم ) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو شخص حکومت وسیادت کے منصب و اختیارات کو قبول کرنا سخت ناپسند کرے اس کو لوگوں میں بہترین شخص جانو یہاں تک کہ وہ اگر کسی وجہ سے اس منصب کو قبول کر بیٹھا تو اس کو بھی آخر کار وہی ندامت وپشیمانی ہوگی جو اس منصب کا آخری انجام ہے۔ طیبی نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ایسے شخص کو جو حکومت وسیادت سے سخت متنفر ہو) تو ایک بہترین شخص پاؤ گے یہاں تک کہ اگر وہ اپنی اس نفرت پر قائم نہ رہ سکا اور حکومت وسیادت کی طلب میں مبتلا ہوگیا تو اس وقت وہ لوگوں میں کا بہترین بلکہ بدترین شخص ہوگا۔

3628Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے دن ہر شخص کو اپنی ذمہ داری کی جواب دہی کرنی ہوگی

وعن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا كلكم راع وكلكم مسؤول عن رعيته فالإمام الذي على الناس راع وهو مسؤول عن رعيته والرجل راع على أهل بيته وهو مسؤول عن رعيته والمرأة راعية على بيت زوجها وولده وهي مسؤولة عنهم وعبد الرجل راع على مال سيده وهو مسؤول عنه ألا فكلكم راع وكلكم مسؤول عن رعيته

اور حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا خبردار تم میں سے ہر شخص اپنی رعیت کا نگہبان ہے اور (قیامت کے دن) تم سے ہر شخص کو اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہونا پڑے گا، لہٰذا امام یعنی سربراہ مملکت و حکومت جو لوگوں کا نگہبان ہے اس کو اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہی کرنا ہوگی، مرد جو اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اس کو اپنے گھر والوں کے بارے میں جواب دہی کرنا ہوگی عورت جو اپنے خاوند کے گھر اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے، اس کو ان کے حقوق کے بارے میں جواب دہی کرنی ہوگی اور غلام مرد جو اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اس کو اس کے مال کے بارے میں جواب داہی کرنا ہوگی لہٰذا آگاہ رہو! تم میں سے ہر ایک تم میں سے ہر ایک شخص نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک شخص اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہوگا۔ (بخاری ومسلم) تشریح رعیت اس چیز کو کہتے ہیں جو نگہبان کی حفاظت و نگرانی میں ہو چناچہ کسی ملک کے باشندوں کو اس ملک کے حکمران کی رعیت اور رعایا اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ سب حکمران کی حفاظت و نگرانی میں ہوتے ہیں اور اسی اعتبار سے حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ اپنی اپنی جگہ پر ہر شخص نگہبان ہے کہ مرد کے لئے گھر والے اس کی رعیت ہیں، عورت کے لئے خاوند کا گھر بار اور اس کے بچے اس کی رعیت ہیں اور غلام کے مالک کا مال اس کی رعیت ہے۔ یہاں تک کہ علماء نے لکھا ہے کہ ہر شخص اپنے جسم کے اعضاء جو اس کا نگہبان ہے اور وہ اعضاء اس کی رعیت ہیں لہٰذا قیامت کے دن ہر شخص سے اس کے اعضاء حو اس کے بارے میں بھی جواب طلب کیا جائے گا کہ تم نے ان اعضاء کو کہاں کہاں اور کس کس طرح استعمال کیا؟ اور اس کو حدیث میں اس لئے نقل نہیں کیا گیا کہ یہ بالکل ظاہر بات ہے۔

3629Mishkaat-al-Masabih

خائن وظالم حاکم کے بارے میں وعید

وعن معقل بن يسار قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من وال بلي رعية من المسلمين فيموت وهو غاش لهم إلا حرم الله عليه الجنة

اور حضرت معقل ابن یسار کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو بھی شخص حکومت وسیادت حاصل کر کے اپنی رعیت پر حکمرانی کرے اور پھر اس حالت میں مرجائے کہ وہ اپنی رعیت پر ظلم اور ان کے حقوق میں خیانت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا۔ (بخاری ومسلم) تشریح جنت کے حرام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ ابتداء میں جنت میں داخل ہونے سے محروم کردیا جائے گا۔ یا یہ ارشاد گرامی مستحل یعنی اس حاکم پر محمول ہے جو خیانت اور ظلم کو حلال جان کر ظالم وخائن بنا ہو اور یا یہ کہ آپ نے زجر و تنبیہ اور سخت وعید کے طور پر یہ فرمایا ہو۔

3630Mishkaat-al-Masabih

رعایا کے حق میں بھلائی وخیر خواہی نہ کرنے والا حاکم جنت کی بو سے محروم رکھا جائے گا

وعنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من عبد يسترعيه الله رعية فلم يحطها بنصيحة إلا لم يجد رائحة الجنة (2/339) 3688 - [ 28 ] ( صحيح ) وعن عائذ بن عمرو قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن شر الرعاء الحطمة . رواه مسلم (2/339) 3689 - [ 29 ] ( صحيح ) وعن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم من ولي من أمر أمتي شيئا فشق عليهم فاشقق عليه ومن ولي من أمر أمتي شيئا فرفق بهم فارفق به . رواه مسلم

اور حضرت معقل ابن یسار کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ جس شخص سے رعیت کی نگہبانی کرائے یعنی جس کو رعیت کا حاکم ونگہبان بنائے) اور وہ بھلائی وخیر خواہی کے ساتھ نگہبانی نہ کرے تو وہ بہشت کی بو نہ پائے گا۔ (بخاری ومسلم) تشریح تو وہ جنت کی بو نہ پائے گا۔ کا مطلب یا یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن بہشت کی بو پانے والوں کے ساتھ بو نہ پائے گا حالانکہ بہشت کی بو پانچ سو برس کی مسافت کے فاصلے سے بھی آئے گی یا یہ مطلب ہے کہ وہ نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ بہشت کی بو نہیں پائے گا اور یا یہ کہ اگر وہ کفر پر مرے گا یا رعایا پر ظلم کرنے کو حلال جانے اور اسی عقیدے پر مرجائے تو اس کو مطلق بہشت کی بو میسر نہیں ہوگی۔ بدترین حاکم وہ ہے جو اپنی رعایا پر ظلم کرے اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (بارگاہ قاضی الحاجات میں یہ عرض کی) اے میرے پروردگار جس شخص کو میری امت کے (دینی و دنیاوی) امور میں سے کسی کا ولی و متصرف بنایا گیا اور پھر اس نے (اپنے اختیارولایت اور تصرف کے ذریعہ) میری امت کے لوگوں پر مشقت اور سختی مسلط کردی تو اس شخص پر تو بھی مشقت و سختی مسلط کر دے اور جس شخص کو میری امت کے امور میں کسی چیز کا والیو متصرف بنایا گیا اور اس نے میری امت کے لوگوں کے ساتھ نرمی و بھلائی کا برتاؤ کیا تو اس شخص کے ساتھ تو بھی نرمی و عنایت کا معاملہ فرما۔ (مسلم)

3631Mishkaat-al-Masabih

عادل حکمران کا مرتبہ عظیم

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المقسطين عند الله على منابر من نور عن يمين الرحمن وكلتا يديه يمين الذين يعدلون في حكمهم وأهليهم وما ولوا . رواه مسلم

اور حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن العاص کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بلاشک عادل حکمران اللہ کے ہاں نور کے منبروں پر جگہ پائیں گے جو رحمن (اللہ) کے داہنے ہاتھ کی طرف ہوں گے اور اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں اور عادل حکمران وہ ہیں) جو اپنے احکام اپنے اہل اور اپنے زیر تصرف معاملات میں عدل و انصاف کرتے ہیں۔ (مسلم) تشریح داہنے ہاتھ کی طرف الخ یہ اللہ کے نزدیک عادل حکمران کے مرتبہ عظیم اور جلالت قدر کا کنایۃ پیرایہ بیان ہے کیونکہ جو شخص عظیم قدر ہوتا ہے۔ وہ دائیں طرف کھڑا ہوتا یا بیٹھتا ہے۔ اور اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں یہ دفع تو ہم کے لئے فرمایا گیا ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ داہنا ہاتھ، بائیں ہاتھ کے مقابل میں کہا گیا ہے کیونکہ بایاں نسبتًا کمزور ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی کمزوری اور نقصان سے پاک ومنزہ ہے واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہاتھ کی نسبت متشابہات میں سے ہے کہ اس کی مراد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے تاہم ظاہری طور پر ہاتھ سے مراد قوت و غلبہ ہے۔ حکام میں عدل و انصاف کا مطلب یہ ہے کہ حکومت وامارت کے تعلق سے ان کے ذمے جو امور ہیں ان کی انجام دہی میں وہ انصاف، ایمان داری اور دیانت کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ اہل میں عدل و انصاف کا مطلب یہ ہے کہ ان کے زیر تسلط جو لوگ ہیں خواہ وہ ان کے اہل و عیال ہوں یا رعیت کے عام لوگ ہوں سب کے حقوق کی ادائیگی میں جو ان پر واجب ہیں پورا پورا انصاف کرتے ہیں۔ اسی طرح زیر تصرف معالات میں عدل و انصاف کا مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں ان کی ولایت ونگہبانی میں ہیں جیسے یتیم اور غربا کی پرورش اور وقف کے مال کی خبر گیری وغیرہ، ان میں وہ پوری دیانت داری اور انصاف کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتی ہیں۔ ایک مرد حق گو کا قول ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے نفس کے بارے میں بھی عدل و انصاف کرے بایں طور کہ اپنے اوقات ایسی چیزوں میں ضائع نہ کرے جن میں اپنا وقت صرف کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا ہے بلکہ اپنے اوقات کو اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی چیزوں اور مخلوق اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں مشغول رکھے اور حق تعالیٰ کے احکام کی فرمانبرداری اور ممنوع چیزوں سے اجتناب پر مداومت اختیار کرے جیسا کہ اولیاء کرام اور اہل اللہ کا طریقہ ہے، یا اپنے وقت کا اکثر حصہ ان چیزوں میں مشغول رکھے جیسا کہ مؤمنین و صالحین کا معمول ہے۔

3632Mishkaat-al-Masabih

ہر حاکم وامیر کے ہمراہ ہمیشہ دو متضاد طاقتیں رہتی ہیں۔

وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما بعث الله من نبي ولا استخلف من خليفة إلا كانت له بطانتان : بطانة تأمره بالمعروف وتحضه عليه وبطانة تأمره بالشر وتحضه عليه والمعصوم من عصمه الله . رواه البخاري

اور حضرت ابوسعید روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی نبی نہیں بھیجا اور ایسا کوئی خلیفہ مقرر نہیں کیا جس کے لئے دو چھپے ہوئے رفیق نہ ہوں ایک چھپا ہوا رفیق تو نیک کام کرنے کا حکم دیتا ہے اور نیکی کی طرف راغب کرتا ہے اور دوسرا چھپا ہوا رفیق برائی کا حکم دیتا ہے اور برائی کی طرف کرتا ہے اور معصوم (بےگناہ) وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے گناہوں سے محفوظ رکھا۔ (بخاری) تشریح دو چھپے ہوئے رفیقوں سے مراد فرشتہ اور شیطان ہیں یہ دونوں انسان کے باطن میں رہتے ہیں چناچہ فرشتہ اور شیطان ہیں یہ دونوں انسان کے باطن میں رہتے ہیں چناچہ فرشتہ تو نیک کام کرنے کی ہدایت کرتا رہتا ہے اور نیکی کی ترغیب دیتا ہے جب کہ شیطان برے کام کرنے پر اکساتا رہتا ہے اور برائی کی طرف دھکیلتا رہتا ہے۔ اور معصوم وہ ہے الخ کے ذریعہ انبیاء کرام صلوٰۃ اللہ علیہم اجمعین، خلفاء راشدین اور بعض دوسرے خلفاء وامراء کا حال بیان کیا گیا ہے جن کو اللہ نے شیطان کے شر و فتنہ سے محفوظ رکھا ہے۔ دو رفیقوں سے مراد وزیر و مشیر ہوسکتے ہیں جو خلیفہ کے ساتھ ہر دم رہنے کی وجہ سے بطانہ (استرا) سے مشابہ ہوگئے ہیں، چناچہ ہر نبی اور خلیفہ کے ساتھ جو مشیر کار اور مصاحب رہتے تھے ان میں دو مختلف خیالات کے حامل افراد بھی ہوتے تھے یا ان کے ساتھ دو جماعتیں ہوتی تھیں جو آپس میں مختلف الرائے ہوتی تھیں جیسا کہ عام طور پر امراء و سلاطین اور والیان ریاست کے یہاں دیکھا جاتا ہے کہ جو لوگ ان کے صاحب، مشیران کار اور کار پرداز ہوتے ہیں ان کے خیالات اور آراء کا بعد بین المشرقین ہوتا ہے، چناچہ ان میں سے جو لوگ اچھے خیالات کے اور صائب ہوتے ہیں وہ اپنے والیو امیر کو اچھے مشورہ دیتے ہیں اور جن کے خیالات فاسد ہوتے ہیں یا جن کے طبائع میں برائی کا مادہ ہوتا ہے وہ اپنے والیو امیر کو غلط مشورے دیتے ہیں اور ان کو برائی کی راہ پر چلانا چاہتے ہیں آگے اللہ کی مصلحت کار فرما ہوتی ہے کہ وہ جس والیو امیر کو چاہتا ہے برے مصاحبین کے خیالات اور ان کے مشورے قبول کرنے سے بچاتا ہے۔

3633Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے ہاں حضرت قیس ابن سعد کا منصب

وعن أنس قال : كان قيس بن سعد من النبي صلى الله عليه و سلم بمنزلة صاحب الشرط من الأمير . رواه البخاري

اور حضرت انس کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے ہاں حضرت قیس ابن سعد کے سپرد وہ خدمت تھی جو امراء سلاطین کے ہاں کو توال انجام دیتے ہیں۔ (بخاری ) تشریح مطلب یہ ہے کہ حضرت قیس ابن سعد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر رہتے تھے تاکہ آنحضرت ﷺ جو احکام دین وہ ان کو جاری ونافذ کریں جیسا کہ امراء و سلاطین کے ہاں کو توال اس خدمت پر مقرر رہتے ہیں۔

3634Mishkaat-al-Masabih

عورت کو اپنا حاکم بنانے والی قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی

وعن أبي بكرة قال : لما بلغ رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أهل فارس قد ملكوا عليهم بنت كسرى قال : لن يفلح قوم ولوا أمرهم امرأة . رواه البخاري

اور حضرت ابوبکرہ کہتے ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ کے پاس یہ خبر پہنچی کہ فارس والوں نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا حکمران بنا لیا ہے تو فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جس نے (ملک کے) امور کا حاکم والی کسی عورت کو بنایا ہو۔ (بخاری) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ولایت وحکمرانی کا اہل مرد ہی ہوسکتا ہے عورت حکمرانی وسربراہی کے منصب کی اہل نہیں۔

3635Mishkaat-al-Masabih

ملت کی اجتماعی ہئیت سے علیحدگی اختیار کرنے والے کے بارے میں وعید

عن الحارث الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : آمركم بخمس : بالجماعة والسمع والطاعة والهجرة والجهاد في سبيل الله وإنه من خرج من الجماعة قيد شبر فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه إلا أن يراجع ومن دعا بدعوى الجاهلية فهو من جثى جهنم وإن صام وصلى وزعم أنه مسلم . رواه أحمد والترمذي

حضرت حارث اشعری کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں تمہیں پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں۔ (١) مسلمانوں کی جماعت کا (قول و عمل اور اعتقاد میں) اطاعت کرو یعنی ملت کی اجتماعی ہئیت کو بہرصورت برقرار کرو اور سربراہان ملت کی طرف سے جو احکام جاری ہوں ان کو ہر حالت میں تسلیم کرو اور ان کی اطاعت کرو۔ (٢) امراء علماء (شریعت کے مطابق) جو ہدایت دیں ان کو سنو اور تسلیم کرو۔ (٣) علماء کے احکام کی اطاعت و فرمانبرداری کرو (٤) ہجرت کرو (٥) اللہ کی راہ میں جہاد کرو! جو شخص ملت کی اجتماعی ہئیت سے بالشت بھر بھی الگ ہوا اس نے (گویا) اسلام کی رسی کو اپنی گردن سے نکال دیا الاّ یہ کہ وہ واپس آجائے اور جس شخص نے پکارا جاہلیت کا سا پکارنا، وہ (گویا) دوزخیوں کی جماعت کا فرد ہے اگرچہ وہ روزے رکھے، نماز پڑھے اور یہ کہے کہ میں مسلمان ہوں۔ (احمد، ترمذی) تشریح ہجرت کرو اس حکم میں ہجرت سے مراد ہے کہ دارالکفر میں رہنے والا مسلمان ترک وطن کر کے دار الاسلام چلا جائے یا اگر کسی ایسے مسلم ملک یا شہر میں ہو جو بدعات ومنہیات کا گڑھ ہونے کی وجہ سے دارالبدعۃ کے حکم میں ہو تو اس کو چھوڑ کر ملک یا ایسے شہر میں چلا جائے جو سنت دین کا مرکز ہونے کی وجہ سے دارالسنۃ کے حکم میں ہو! اسی طرح گناہ معصیت کی زندگی کو چھوڑ کر توبہ وانابت الی اللہ کی راہ کو اختیار کرلینا بھی ہجرت کے حکم میں ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے المہاجر من ہجر مانہی اللہ عنہ۔ وہ شخص (بھی) مہاجر ہے جس نے ان چیزوں کو چھوڑ دیا جس سے اللہ نے روکا۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرو اس حکم میں جہاد سے مراد یہ ہے کہ اسلام کی ترقی و شوکت، دین کی سربلندی اور روئے زمین پر قانون الہٰی کے غلبہ کے لئے اسلام دشمن طاقتوں اور کافروں سے جنگ کرو، نیز اپنے نفس کو اس کی خواہشات سے باز رکھ کر اس کو مارنا بھی جہاد ہے کیونکہ انسان کے ساتھ اس کے نفس کی دشمنی سے زیادہ سخت اور نقصان دہ اور چیز نہیں ہے۔ جو شخص ملت کی اجتماعی ہئیت سے بالشت بھر بھی الگ ہو الخ یعنی جس مسلمان نے اس چیز کو ترک کیا جس پر پوری ملت عمل پیرا ہے جیسے سنت کو اختیار کرنا، بدعات سے اجتناب کرنا، امام و امیر کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا اور اگرچہ اس نے ان چیزوں کو بہت معمولی درجے میں ترک کیا ہو تو اس نے گویا اسلام کی فرمانبرداری کا پٹہ اپنی گردن سے نکال دیا یعنی اس نے اسلام کے تئیں اپنے کئے ہوئے عہد کو توڑ دیا اور اپنی اس ذمہ داری کو ختم کردیا جو مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس پر واجب تھی۔ یا یہ کہ خود (اسلام اس سے بری الذمہ ہوگیا۔ ہاں اگر وہ اپنے اس (فعل) (ملت کی اجتماعی ہئیت سے علیحدگی) سے باز آگیا اور اس نے اپنی بدعملی سے رجوع کرلیا تو پھر وہ پہلے ہی کی طرح اسلام کا ایک فرمانبردار فرد ہوجائے گا۔ اور جس شخص نے پکارا جاہلیت کا سا پکارنا الخ سے مراد یہ ہے کہ جس شخص نے زمانہ جاہلیت کے رسم و رواج کی طرف بلایا اور اس طرح وہ مخلوق کو اسلام مخالف عقائد ونظریات اور باطل رسوم و عادات میں مبتلا کرنے کا باعث ہوا اور بعض حضرات یہ مراد بیان کرتے ہیں کہ اس نے کسی حادثہ و حملہ کے وقت اس طرح لوگوں کو اپنی مدد کے لئے بلایا جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں رواج تھا کہ جب کسی شخص پر دشمن غالب آجاتا تھا تو اپنی مدد کے لئے لوگوں سے بآواز بلندیوں فریاد کرتا اے فلاں شخص کے خاندان والو! اے فلاں شخص کے خاندان والو۔ چناچہ وہ لوگ اس کی مدد کے لئے دوڑ پڑتے قطع نظر اس بات کے وہ شخص ظالم ہے یا مظلوم۔

3636Mishkaat-al-Masabih

امیروالی کی اہانت کرو

وعن زياد بن كسيب العدوي قال : كنت مع أبي بكرة تحت منبر ابن عامر وهو يخطب وعليه ثياب رقاق فقال أبو بلال : انظروا إلى أمير نايلبس ثياب الفساق . فقال أبو بكرة : اسكت سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أهان سلطان الله في الأرض أهانه الله رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب

اور حضرت زیاد ابن کسیب عدوی (تابعی) کہتے ہیں (ایک دن) میں حضرت ابوبکرہ (صحابی) کے ہمراہ حضرت عامر کے منبر کے نیچے بیٹھا تھا جب کہ وہ (ابن عامر) خطبہ دے رہے تھے اور انہوں نے باریک کپڑے پہن رکھے تھے (اسی موقع پر ایک تابعی) ابوبلال نے کہا کہ ذرا تم ہمارے اس امیر کو تو دیکھو، اس نے فاسقوں کے سے کپڑے پہن رکھے ہیں!؟ حضرت ابوبکرہ نے کہا خاموش! میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص بادشاہ کی اہانت کرے گا جس کو اللہ نے (اپنی مخلوق کے کاموں کی انجام دہی کے لئے) زمین پر مقرر کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو سبک و خوار کرے گا اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح اس نے فاسقون کے سے کپڑے پہن رکھے ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضرت ابن عامر نے کسی ایسے کپڑے کا لباس زیب تن کر رکھا تھا جس کا پہننا مردوں کے لئے ہے جیسے حریر یا کوئی ریشمی کپڑا، حضرت ابوبکرہ نے حضرت بلال کو اس بات سے منع کیا کہ وہ حضرت ابن عامر کو مطعون نہ کریں تو اس کی بنیاد یہ تھی کہ ایسے موقع پر ابوبلال کی نصیحت کہیں تکا فضیحتی اور مسلمانوں میں فتنہ و فساد پیدا ہوجانے کا باعث نہ بن جائے۔ یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے کپڑے ریشمی نہ رہے ہوں بلکہ بہت اعلیٰ قسم کے اور بہت زیادہ باریک رہے ہوں جو عام طور پر ابل عیش وتنعم کا لباس ہوتا ہے اور زاہد وعابد لوگ جس سے پرہیز کرتے ہیں اس لئے حضرت ابوبلال نے اس کپڑے کو فاسقوں کے لباس سے تشبیہ دی ہے بعض عارفین کا یہ قول ہے کہ۔ (من رق ثوبہ رق دینہ ) جس شخص نے بہت باریک کپڑے پہنے اس نے اپنے دین کو باریک کیا۔

3637Mishkaat-al-Masabih

اگر امیر وحاکم کسی گناہکا حکم دے تو اس کی اطاعت نہ کرو

وعن النواس بن سمعان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق . رواه في شرح السنة

اور حضرت نو اس ابن سمعان کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مخلوق کے کسی ایسے حکم کی بھی تابعداری جائز نہیں جس سے خالق کی نافرمانی ہو۔ (شرح السنۃ) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر مخلوق (کوئی انسان) خواہ وہ امیر و حاکم ہی کیوں نہ ہو کوئی ایسا حکم دے جس پر عمل کرنے سے خالق (یعنی اللہ تعالیٰ ) کی نافرمانی ہوتی ہو اور گناہ لازم آتا ہو تو اس حکم کو مطلقا نہ ماننا چاہئے۔ ہاں کسی شخص کو اس کی اطاعت پر بزور طاقت مجبور کیا گیا تو اس صورت میں گناہ نہیں۔

3638Mishkaat-al-Masabih

امیروحاکم کا انجام

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من أمير عشرة إلا يؤتى به يوم القيامة مغلولا حتى يفك عنه العدل أو يوبقه الجور . رواه الدارمي

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر امیر وحاکم، خواہ وہ دس ہی آدمیوں کا امیر وحاکم کیوں نہ ہو قیامت کے دن اس طرح لایا جائے گا اس کی گردن میں طوق ہوگا یہاں تک کہ اس کو اس طوق سے یا تو اس کا عدل نجات دلائے گا یا اس کا ظلم ہلاک کرے گا۔ (دارمی ) تشریح مطلب یہ ہے کہ ایک بار تو ہر حاکم خواہ وہ عادل ہو یا ظالم، بارگاہ رب العزت میں باندھ کر لایا جائے گا اور پھر تحقیق کے بعد اگر وہ عادل ثابت ہوگا اس کو نجات دے دی جائے گی اور اگر ظالم ثابت ہوگا تو ہلاکت یعنی عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔

3639Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے دن امراء وحکام کی حسرت ناکی

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ويل للأمراء ويل للعرفاء ويل للأمناء ليتمنين أقوام يوم القيامة أن نواصيهم معلقة بالثريا يتجلجلون بين السماء والأرض وأنهم لم يلوا عملا . رواه في شرح السنة ورواه أحمد وفي روايته : أن ذوائبهم كانت معلقة بالثريا يتذبذبون بين السماء والأرض ولم يكونوا عملوا على شيء

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا افسوس ہے امراء و حکام پر، افسوس ہے چودھریوں پر، افسوس ہے امینوں پر! بہت سے لوگ قیامت کے دن آرزو کریں گے کہ (کاش دنیا میں) ان کی پیشانیوں کے بال ثریا میں باندھ کر ان کو لٹکا دیا جاتا اور زمین و آسمان کے درمیان جھولتے رہتے لیکن ان کو کسی کام کی ولایت وسرداری نہ ملتی۔ (شرح السنۃ) تشریح لفظ ویل کے معنی ہیں وہ غم، ہلاکت اور دکھ و تکلیف جو عذاب کی وجہ سے۔ اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ ویل دوزخ کے ایک (نالے) کھائی کا نام ہے۔ چناچہ منقول ہے کہ ویل دوزخ کا ایک نالا ہے جس میں کافر چالیس برس تک گرتا لڑھکتا چلا جائے گا۔ مگر تہ تک نہیں پہنچے گا۔ امین اس کار پرداز کو کہتے ہیں کہ جس کو حاکم نے صدقات اور خراج محصولات لینے پر مقرر کیا ہو۔ یا وہ مسلمانوں کے دوسرے قسم کے مال و اسباب کا نگران ومحافظ بنایا گیا ہو۔ اور یا حاکم کے علاوہ کسی اور شخص نے اس کو اپنے مال کا امانت دار بنایا ہو۔ ثریا ان پانچ ستاروں کا مجموعہ کا نام ہے جو پاس پاس رہتے ہیں اور جن میں روشنی کم ہوتی ہے۔ پیشانی کے بل دریا میں باندھ کر لٹکانا دراصل ذلت و خواری کی تمثیل ہے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جب امراء و حکام قیامت کے دن یہ دیکھیں گے کہ دنیا میں ہمیں لوگوں میں جو برتری وحاکمیت، شان و شوکت اور عزت و ریاست حاصل تھی آج اس کے بدلے میں ہمیں یہاں کی ذلت و خواری اور سبکی وسزا مل رہی ہے تو وہ آرزو کریں گے کہ کاش ہمیں دنیا میں لوگوں پر وہ برتری و فوقیت اور عزت اور ریاست حاصل نہ ہوتی بلکہ ان کے مقابلہ میں ذلت و خواری اور کمتری ملتی جو یہاں کی ذلت و خواری سے کہیں کم وہل کی ہوتی یہاں تک کہ ہمارے سر کے بالوں کو کسی بلند چیز سے باندھ کر ہمیں معلق کردیا جاتا اور لوگ ہماری عزت و ریاست اور رفعت کی بجائے اس ذلت وکمتری کا مشاہدہ کرتے حدیث کا مقصد یہ تلقین کرنا ہے کہ اگر کسی شخص کے ذمہ کوئی خدمت سپرد کی جائے یا اس کو کسی جگہ کا یا کچھ لوگوں کا امیر و والی بنایا جائے تو وہ عدل انصاف کرے کہ عادل ومنصف امیر وحاکم کے حق میں بہت زیادہ ثواب کی بشارتیں ہیں اور نہ کسی کے ساتھ ظلم وجور کا معاملہ کرے اور نہ کسی کی حق تلقی کرے کہ ظلم وجبر اور حق تلفی کرنے والوں کا یہ حشر ہوگا جو حدیث میں مذکور ہوا۔ امیر وچودھریوں اور امینوں پر افسوس کا اظہار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مناصب اور ذمہ داریاں عام طور پر لغزش میں مبتلا کردیتی ہیں اور باطل کی طرف مائل کرتی ہیں اور ان کے امور کی انجام دہی میں عدل و انصاف اور راہ راست پر جمے رہنے کے تقاضے کم ہی پورے ہوتے ہیں ہاں جن کو حق تعالیٰ کی حفاظت ومدد اور توفیق نیک حاصل ہوتی ہے اور وہ اپنے مناصب کی ذمہ داریوں کو ان کے شرائط کے مطابق پورا کرتے ہیں۔

3640Mishkaat-al-Masabih

اکثر چودھری دوزخ میں جائیں گے

وعن غالب القطان عن رجل عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن العرافة حق ولابد للناس من عرفاء ولكن العرفاء في النار . رواه أبو داود

اور حضرت غالب قطان ایک شخص اپنے والد سے اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا چودھرایت ایک حقیقت ہے اور لوگوں کے لئے چودھری ہونا ضروری ہونا ہے لیکن چودھری دوزخ میں جائیں گے۔ (ابوداؤد) تشریح چودھرایت ایک حقیقت ہے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور نگرانی کے لئے چودھری ہونا ایک امر واقع ہے اور ان کی طرف لوگوں کی احتیاج مسلم ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ (اکثر) چودھری دوزخ میں جائیں گے کیونکہ وہ اپنی چودھرایت میں حق و انصاف سے کام نہیں لیں گے اور عدل و ایمانداری کے تقاضوں کو ملحوظ نہیں رکھیں گے۔ اس اعتبار سے چودھرایت کو قبول کرنا ہلاکت و عذاب کا سخت خطرہ مول لینا ہے لہٰذا عاقل و دانا کو چاہئے کہ وہ اس بارے میں ہوشیار رہے اور اس منصب کو قبول کرنے سے حتی الامکان پرہیز کرے تاکہ وہ کسی ایسے فتنہ میں مبتلا نہ ہوجائے جو اس کو دوزخ کے عذاب کا مستوجب بنا دے۔