مسکر چیز کا ایک چلو بھی حرام ہے
وعن عائشة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما أسكر منه الفرق فملء الكف منه حرام . رواه أحمد والترمذي وأبو داود
اور حضرت عائشہ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس چیز (مثلًا ًشراب) کا ایک فرق (یعنی آٹھ سیر کی مقدار) نشہ لائے اس کا ایک بھرا ہوا چلو بھی حرام ہے۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، )
تشریح
اس حدیث کا بھی یہی مطلب ہے کہ جس نشہ آور چیز کی زیادہ مقدار حرام ہے۔ اس کی قلیل ترین مقدار بھی حرام ہے۔
شراب کن چیزوں سے بنتی ہے ،
وعن النعمان بن بشير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن من الحنطة خمرا ومن الشعير خمرا ومن التمر خمرا ومن الزبيب خمرا ومن العسل خمرا . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث غريب
اور حضرت نعمان ابن بشیر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا گیہوں کی بھی شراب ہوتی ہے، جو کی بھی شراب ہوتی ہے، کھجور کی بھی شراب ہوتی ہے، انگور کی بھی شراب ہوتی ہے اور شہد کی بھی شراب ہوتی ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، ) ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
علماء نے لکھا ہے کہ یہاں حصر مراد نہیں ہے کہ بس انہیں چیزوں سے شراب بنتی ہے، بلکہ ان چیزوں کو خاص طور پر اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ عام طور پر شراب انہی چیزوں سے بنتی ہے۔ اس ارشاد میں اس بات کی دلیل ہے کہ خمر صرف انگوری شراب کو نہیں کہتے جب کہ ابن مالک کہتے ہیں کہ یہاں انگوری شراب کی علاوہ دوسری چیزوں کی شراب کو بھی خمر مجازاً کہا گیا ہے اور اس میں مناسبت یہ ہے کہ ان چیزوں کی شراب (یا نشہ آور نبیذ) بھی انسان کی عقل کو زائل کردیتی ہے۔
وعن أبي سعيد الخدري قال : كان عندنا خمر ليتيم فلما نزلت ( المائدة ) سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عنه وقلت : إنه ليتيم فقال : أهريقوه . رواه الترمذي (2/331) 3649 - [ 16 ] ( صحيح ) وعن أنس عن أبي طلحة : أنه قال : يا نبي الله إني اشتريت خمرا لأيتام في حجري قال : أهرق الخمر واكسر الدنان . رواه الترمذي وضعفه . وفي رواية أبي داود : أنه سأله النبي صلى الله عليه و سلم عن أيتام ورثوا خمرا قال : أهرقها . قال : أفلا أجعلها خلا ؟ قال : لا
اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ ہمارے پاس یتیم کی شراب رکھی ہوئی تھی (یعنی ہمارے گھر میں ایک یتیم رہا کرتا تھا جو ہماری پرورش میں تھا اس کی ملکیت میں جہاں اور بہت سا مال و اسباب تھا وہیں شراب بھی تھی کیونکہ اس زمانہ میں شراب مباح تھی) چناچہ سورت مائدہ کی وہ آیت (اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ) 5۔ المائدہ 90) نازل ہوئی (جس میں شراب کی حرمت کا بیان ہے جو باب حد الخمر کے ابتداء میں نقل کی جا چکی ہے) تو میں نے اس یتیم کی شراب کے بارے میں رسول کریم ﷺ سے دریافت کیا اور عرض کیا کہ وہ ایک یتیم کا مال ہے (اور چونکہ یتیم کا مال ضائع نہیں کرنا چاہئے اس لئے اب کیا حکم ہے) آپ ﷺ نے فرمایا اس کو پھینک دو۔ (ترمذی)
تشریح
آپ ﷺ نے اپنے ارشاد کے ذریعہ واضح فرمایا کہ شراب متقوم مال نہیں ہے نہ صرف یہ کہ اس سے کوئی نفع حاصل کرنا کسی بھی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے بلکہ ہمیں اس کی اہانت کا حکم دیا گیا ہے۔ لہٰذا اس صورت میں اس شراب کو پھینک دینا ہی ضروری ہے۔ اور حضرت انس حضرت ابوطلحہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں (یعنی ابوطلحہ نے) عرض کیا کہ یا نبی اللہ! میں نے ان یتیموں کے لئے شراب خریدی تھی جو میری پرورش میں ہیں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا شراب کو پھینک دو اور اس کے برتن کو توڑ ڈالو۔ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور ضعیف قرار دیا ہے۔ تشریح حضرت ابوطلحہ نے شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے اپنے زیر پرورش یتیموں کے لئے جو شراب خریدی تھی اس کے بارے میں پوچھا کہ اب شراب حرام ہوگئی ہے میں اس شراب کا کیا کروں؟ آیا اس کو پھینک دوں یا رہنے دوں؟ آپ ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ اس کو بہا ڈالو۔ اس کے ساتھ ہی اس کے برتن کو توڑ ڈالنے کا حکم اس لئے دیا کہ شراب کی نجاست اس میں سرایت کرگئی تھی اور اس کا پاک کرنا اب ممکن نہیں رہا تھا۔ یا یہ کہ آپ نے شراب کی ممانعت میں شدت کو ظاہر کرنے کے لئے یہ حکم دیا کہ جس برتن میں وہ شراب رکھی ہے اس کو بھی توڑ ڈالو، اسی طرح آپ ﷺ نے اس شراب کا سرکہ بنا لینے سے جو منع فرمایا اس کا تعلق بھی یا تو زجر و تنبیہ سے ہے یا یہ ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے۔
ہر مسکر ومفتر چیز حرام ہے
عن أم سلمة قالت : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن كل مسكر ومقتر . رواه أبو داود
حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہر اس چیز (کو کھانے پینے) سے منع فرمایا ہے جو نشہ آور اور مفتر ہو۔ (ابو داؤد)
تشریح
نہایہ میں لکھا ہے کہ مفتر اس چیز کو کہتے ہیں جس کو پینے سے قلب و دماغ میں گرمی سرایت کر جائے اور ان اعضاء ریئسہ میں فتور یعنی ضعف واضمحلال پیدا ہوجائے چناچہ افتراء الرجل کسی شخص کے بارے میں اس وقت کہا جاتا ہے جب کہ اس کی پلکیں کمزور ہوجاتی ہیں اور گوشہ چشم مضمحل ہوجاتا ہے جیسے جو شخص بہت بوڑھا ہوجاتا ہے اس کی پلکیں کمزور ہوجاتی ہیں یا ٹوٹ ٹوٹ کر گرتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے آنکھیں چندھیائی سی رہتی ہیں۔ اس ارشاد گرامی سے بیخ (خراسانی اجوائن یا بھنگ) اور دوسری مغیرات اور مفتر چیزوں کی حرمت پر استدلال کی جاتا ہے۔
شراب نوشی کی کسی حال میں اجازت نہیں ہے
وعن ديلم الحميري قال : قلت لرسول الله صلى الله عليه و سلم : يا رسول الله إنا بأرض باردة ونعالج فيها عملا شديدا وإنا نتخذ شرابا من هذا القمح نتقوى به على أعمالنا وعلى برد بلادنا قال : هل يسكر ؟ قلت : نعم قال : فاجتنبوه قلت : إن الناس غير تاركيه قال : إن لم يتركوه فقاتلوهم . رواه أبو داود
اور حضرت دیلم حمیری کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم لوگ ایک سرد علاقے کے باشندے ہیں جہاں ہمیں سخت محنت کے کام کرنے پڑتے ہیں (اور وہ سخت محنت بہت زیادہ جسمانی مشقت کے متقاضی ہوتی ہے۔ اس لئے ہم لوگ گیہوں سے شراب تیار کرتے ہیں جس کے ذریعہ جس کے ذریعہ ہم اپنی محنت کے لئے طاقت کرتے ہیں اور اس کی قوت سے اپنے علاقے کی سردی پر قابو پاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیا وہ شراب نشہ لاتی ہے؟ میں نے کیا ہاں آنحضرت ﷺ نے فرمایا تو پھر اس سے اجتناب کرو۔ میں نے عرض کیا لوگ اس کو چھوڑنے والے نہیں ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر لوگ اس کو پینا بند نہ کریں (اور اس کو حلال جانیں) تو ان سے قتال کرو۔ (ابو داؤد )
وعن عبد الله بن عمرو : أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن الخمر والميسر والكوبة والغبيراء وقال : كل مسكر حرام . رواه أبو داود
اور حضرت عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے شراب پینے اور جوا کھیلنے سے منع فرمایا اور کو بہ اور غبیرا سے منع کیا ہے نیز فرمایا کہ جو چیز بھی نشہ لائے وہ حرام ہے۔ (ابو داؤد)
تشریح
قاموس میں لکھا ہے کہ کو بہ نرد (ایک کھیل) اور شطرنج کو کہتے ہیں، اسی طرح طبل یعنی نقارے سے اور برط کو بھی کو بہ کہتے ہیں چونکہ یہ ساری ہی چیزیں ممنوع ہیں اس لئے یہاں کو بہ سے جو بھی چیز مراد لی جائے صحیح ہے۔ غبیرا ایک قسم کی شراب کا نام ہے جو چنے سے بنتی تھی اور عام طور پر حبشی بنایا کرتے تھے۔
شرابی جنت میں داخل نہیں ہوگا
وعنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يدخل الجنة عاق ولا قمار ولا منان ولا مدمن خمر . رواه الدارمي وفي رواية له : ولا ولد زنية بدل قمار
اور حضرت عبداللہ ابن عمرو روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (جو بندگاں خاص نجات پا کر شروع میں جنت میں داخل ہوں گے ان کے ساتھ) جنت میں نہ تو وہ شخص داخل ہوگا جو اپنے ماں باپ کی (بلاوجہ شرع) نافرمانی کرتا ہے، نہ جواری داخل ہوگا، نہ وہ شخص داخل ہوگا جو فقراء کو صدقہ دے کر احسان جتاتا ہے اور نہ وہ شخص داخل ہوگا جو ہمیشہ شراب پیتا ہے (دارمی) اور دارمی ہی کی ایک روایت میں نہ جواری داخل ہوگا کے بجائے یہ ہے کہ نہ ولد الزنا (جنت میں) داخل ہوگا۔
تشریح
موجودہ زمانے کے اعتبار سے ہر وہ کھیل جوا ہے جس میں عام شرط باندھی جاتی ہے کہ جیتنے والا ہارنے والے سے اتنے روپے یا فلاں چیز لے لے گا جیسے تاش و نرد اور شطرنج وغیرہ، اسی طرح سٹہ بھی جوئے کے حکم میں داخل ہے۔ طیبی کے قول کے مطابق منان کے ایک معنی تو وہ ہیں جو ترجمہ سے ظاہر ہیں یعنی کسی فقیر و محتاج کو صدقہ و خیرات دے کر اس پر احسان جتانا لیکن ایک احتمال یہ بھی ہے کہ منان دراصل من سے ہو جس کے معنی قطع کے ہیں اس طرح منان وہ شخص ہوا جو رشتوں ناتوں کو قطع کرنے والا ہو۔ یہ حدیث کہ ولد الزنا جنت میں داخل نہیں ہوگا نہ تو صحیح ہے اور نہ اس کو موضوع ہی قرار دیا جاسکتا ہے بلکہ یہ ایک ضعیف روایت ہے، تاہم اگر اس کے کسی درجہ میں صحیح ہونے کا احتمال بھی ہو تو اس صورت میں اس کی تاویل اور وضاحت یہ ہے کہ جو اولاد زنا کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے وہ چونکہ باپ کی تربیت و نگرانی سے محروم رہتی ہے اور ماں کی بد کر داری کا سایہ اس کے اوپر ہوتا ہے اس لئے وہ عام طور پر بگڑ جاتی ہے اور ظاہری و باطنی تربیت نہ پانے کی وجہ سے مختلف طرح کی برائیوں اور بداعمالیوں میں مبتلا ہوجاتی ہے اور مال کار وہ عذاب الٰہی میں گرفتار رہتی ہے، مزید برآں جس طرح حرام ذرئع مثلًا جوئے اور سود سے کمائے جانے والے مال میں ایک طرح کی نحوست ہوتی ہے اس طرح ولد الزنا میں بھی ایک طرح کی نحوست ہوتی ہے کیونکہ وہ ایسے نطفے سے وجود میں آتا ہے جو حرام جگہ میں حرام ذریعہ سے قرار پایا تھا۔ یا یہ کہا جائے کہ اس ارشاد ولد الزنا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ کے ذریعہ دراصل زانی پر تعریض وتشدید مقصود ہے جو اس (ولد الزنا) کی پیدائش کا سبب بنا ہے۔ علاوہ ازیں بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ یہاں ولد الزنا سے مراد وہ شخص ہے جو زنا پر مواظبت و مداومت اختیار کرتا ہے اور بدکاری اس کی عادت بن جاتی ہے جیسے بہادروں کو بنوالحرب (یعنی جنگ کی اولاد) یا مسلمان کو بنوالاسلام (یعنی اسلام کی اولاد) کہہ دیتے ہیں۔ حاصل یہ کہ اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ولد الزنا محض اس وجہ سے کہ وہ زنا کہ نتیجہ میں پیدا ہوا ہے، عذاب الٰہی میں گرفتار ہوگا یا اس کو جنت کی سعادت سے محروم رکھا جائے گا کیونکہ جس برائی نے اس کو جنم دیا ہے اس میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔
شرابی کے بارے میں ایک وعید
وعن أبي أمامة قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى بعثني رحمة للعالمين وهدى للعالمين وأمرني ربي عز و جل بمحق المعازف والمزامير والأوثان والصلب وأمر الجاهلية وحلف ربي عز و جل : بعزتي لا يشرب عبد من عبيدي جرعة خمر إلا سقيته من الصديد مثلها ولا يتركها من مخافتي إلا سقيته من حياض القدس . رواه أحمد
اور حضرت ابوامامہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ کو پوری دنیا کے لئے رحمت اور تمام عالم کے لئے ہادی بنا کر بھیجا ہے اور میرے بزرگ و برتر اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں باجوں، مزامیر، بتوں، سولیوں اور زمانہ جاہلیت (یعنی حالت کفر) کے تمام رسوم و عادات کو مٹا دوں اور میرے بزرگ و برتر اللہ نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ میرے بندوں میں سے جو بھی بندہ شراب کا ایک گھونٹ بھی پئے گا میں اس کو (آخر میں) اسی بقدر دوزخیوں کی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے شراب پینا چھوڑے گا میں اس کو (آخرت میں) پاک حوضوں (یعنی جنت کی نہروں) سے (شراب طہور) پلاؤں گا۔ (احمد)
تشریح
باجوں سے ڈھول، ڈھول کی، نقارہ، تاشہ، طبلہ، طنبورہ، سارنگی، ستار اور اسی قسم کے دوسرے باجے مراد ہیں، اسی طرح مزامیر سے شہنائی، چنگ، بانسری اور اس قسم کی دوسری چیزیں مراد ہیں۔ یہ حدیث باجوں اور مزامیر کے حرام ہونے پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ چیزیں زمانہ قدیم سے اہل فسق اور گمراہ لوگوں کے رسوم و عادات میں داخل رہی ہیں۔ فقہاء لکھتے ہیں کہ راگ و نغمہ، باجوں اور مزامیر کے ساتھ تو حرام ہے اور محض آواز کے ساتھ مکروہ ہے، نیز اجنبی عورتوں سے سننا سخت حرام ہے۔ سولی سے مراد وہ صلیبی نشان (کر اس) ہے جو عیسائیوں کے ہاں ایک مقدس علامت اور قومی ومذہبی نشان ہے جو اس شکل میں ہوتا ہے یعنی ایک خط دوسرے خط کو کاٹتا ہے۔ یہ دراصل یہ سولی کا نشان ہے جس پر عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو چڑھایا گیا تھا، اسی مناسبت سے عیسائی اس نشان کو بہت ہی مقدس اور بابرکت سمجھتے ہیں اور نہ صرف یہ کہ ان کے مرد عورت اس نشان کو مختلف صورتوں میں اپنے جسم پر آویزاں رکھتے ہیں بلکہ اپنی تمام چیزوں پر بھی یہ نشان بناتے ہیں، اس سے ان کا یہ مقصد حصول برکت بھی ہوتا ہے اور اس واقعہ کی حسرت ناکی اور غمگینی کو یاد رکھنا بھی ہوتا ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ پیش آیا تھا۔ لہٰذا آنحضرت ﷺ کو اس نشان کے نیست ونابود کرنے کا بھی حکم دیا گیا اور مسلمانوں کو سختی کے ساتھ منع کیا گیا کہ وہ کسی بھی ایسی چیز کو استعمال نہ کریں جس پر یہ نشان ہو اور نہ اپنی کسی چیز پر یہ نشان بنائیں کیونکہ اس سے ایک غیر قوم کی مشابہت ہوگی ہے جو اسلام میں سخت حرام ہے۔ زمانہ جاہلیت کی رسوم و عادات سے مراد وہ چیزیں ہیں جو سراسر باطل ہیں اور جو زمانہ اسلام سے قبل کثرت سے رائج تھیں جیسے نوحہ وبین کرنا، اپنی نسل یا اپنے خاندان پر بےجا فخر کرنا اور دوسروں کے نسب میں طعن وطنز کرنا وغیرہ وغیرہ۔
والدین کی نا فرمانی کرنے والے، دیوث اور شرابی پر جنت کے دروازے بند ہیں ،
وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ثلاثة قد حرم الله عليهم الجنة : مدمن الخمر والعاق والديوث الذي يقر في أهله الخبث . رواه أحمد والنسائي (2/332) 3656 - [ 23 ] وعن أبي موسى الأشعري أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ثلاثة لا تدخل الجنة : مدمن الخمر وقاطع الرحم ومصدق السحر رواه أحمد
اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تین طرح کے آدمیوں پر اللہ تعالیٰ نے جنت کو حرام کردیا ہے (یہ نجات یافتہ بندوں کے ساتھ ابتداء ً جنت میں داخل ہونا ان تینوں پر حرام قرار دیا ہے) ایک تو وہ شخص جو ہمیشہ شراب پئے، دوسرا وہ شخص جو اپنے والدین کی نافرمانی کرے اور تیسرا وہ دیوث کہ جو اپنے اہل و عیال میں ناپاکی پیدا کرے۔ (احمد نسائی )
تشریح
جو اپنے اہل و عیال میں ناپاکی پیدا کرے۔ کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص اپنی بیوی، اپنی لونڈی یا اپنی کسی اور رشتہ دار کو برائی اور بدچلنی کی راہ پر لگائے یعنی انہیں غیر مردوں کے ساتھ ہم بستر ہونے یا مقدمات زنا جیسے بوس وکنار اور غیر حجابانہ اختلاط وغیرہ مجبور کرے، یا انہیں اس کا موقع دے۔ اسی حکم میں اور تمام گناہ گناہ جیسے شراب نوشی اور غسل جنابت کا ترک وغیرہ بھی شامل ہیں، یعنی اگر وہ شخص اپنی بیوی کو شراب پیتے دیکھے یا اس کو غسل جنابت ترک دیکھے یا اسی طرح کے کسی اور گناہ میں مبتلا دیکھے اور اس کو اس سے منع نہ کرے تو یہ بھی دیوثی ہے۔ طیبی کہتے ہیں کہ دیوث اس بےغیرت شخص کو کہتے ہیں جو اپنے اہل یعنی اپنی عورت کو کسی برائی میں مبتلا دیکھے لیکن نہ تو اس کو اس کی وجہ سے کوئی غیرت محسوس ہو اور نہ اس کو اس برائی سے منع کرے (یعنی اپنی عورت کے پاس غیر مردوں کا آنا گوارا کرے۔ مجمع البحرین میں لکھا ہے کہ دیوث کو کشخان اور قرنان بھی کہتے ہیں لیکن بعض حضرات نے دیوث، کشخان وہ ہے جو اپنی بہنوں کے پاس غیر مردوں کو آنے دے اور قرنان وہ ہے جو اپنی بیٹیوں کے پاس غیر مردوں کو آنے دے۔ اور حضرت ابوموسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ تین طرح کے لوگ جنت میں (ابتداءً ) داخل ہونے سے محروم رہیں گے۔ (١) ہمیشہ شراب پینے والا۔ (٢) ناطے توڑنے والا۔ (٣) سحر پر یقین کرنے والا۔ (احمد) تشریح سحر پر یقین کرنے والا سے وہ شخص مراد ہے جو سحر کو مؤثر بالذات جانے، ورنہ سحر پر بایں معنی یقین کرنا صحیح ہے۔ کہ وہ حق تعالیٰ ہی کا پیدا کیا ہوا ہے اور حق تعالیٰ کے حکم سے اس کا اثر انداز واقع ہونا ثابت ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے کہ السحر حق یعنی سحر ایک حقیقت ہے۔
شراب نوشی بت پرستی کے مترادف ہے
وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مدمن الخمر إن مات لقي الله كعابد وثن . رواه أحمد (2/333) 3658 - [ 25 ] ( لم تتم دراسته ) وروى ابن ماجه عن أبي هريرة (2/333) 3659 - [ 26 ] ( لم تتم دراسته ) والبيهقي في شعب الإيمان عن محمد بن عبيد الله عن أبيه . قال : ذكر البخاري في التاريخ عن محمد بن عبد الله عن أبيه (2/333) 3660 - [ 27 ] ( لم تتم دراسته ) وعن أبي موسى أنه كان يقول : ما أبالي شربت الخمر أو عبدت هذه السارية دون الله . رواه النسائي
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص ہمیشہ شراب نوشی میں مبتلا رہے اور پھر مرجائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں بت پرست کی طرح حاضر ہوگا۔ (احمد) ابن ماجہ نے اس روایت کو حضرت ابوہریرہ ؓ اور بیہقی نے شعب الایمان میں محمد ابن عبداللہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا ہے نیز بیہقی نے کہا ہے کہ امام بخاری نے اس روایت کو اپنی تاریخ میں محمد ابن عبداللہ سے انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا ہے۔ اور حضرت ابوموسیٰ اشعری سے منقول ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے میں نے اس میں کوئی فکر (فرق) نہیں کرتا کہ میں شراب پیوں یا اللہ کے سوا اس ستون (یعنی پتھر کے بت) کو پوجوں۔ (نسائی)
تشریح
اس ارشاد سے حضرت موسیٰ کا مقصد یہ ظاہر کرتا ہے کہ میرے نزدیک شراب نوشی اور بت پرستی دونوں ایک ہی حکم رکھتے ہیں۔
امارت سے مراد سرداری وحکمرانی ہے اور قضاء سے مراد شرعی عدالت ہے اسلامی نظام حکومت کی عمارت کے یہ دو بنیادی ستون ہیں! امیر و امام (یعنی سربراہ مملکت) اسلام کے قانون اساسی کا محافظ، نظم حکومت اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا ذمہ دار حفاظت مذہب اور امت اسلامیہ کی طاقت و قوت کا امین اور امور عامہ کا نگہبان ہوتا ہے اسلامی معاشرہ کے افراد کا تعلق جن امور سے ہے ان سب پر امیر و امام ہی کا اختیار کار فرما ہوتا ہے۔ قاضی، اسلامی عدالت کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے شہریوں کے حقوق (امن، آزادی، مساوات) کا محافظ ہوتا ہے اور وہ معاملات کا فیصلہ کرنے میں شریعت کی طرف سے حکم کی حیثیت رکھتا ہے، اس کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے نزاعی مقدمات کا شریعت کے مطابق فیصلہ کرے اور اس کا اس سے بڑا فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ عدل و انصاف، دیانت داری اور ایمانداری کے تقاضوں کو ہر حالت میں مدنظر رکھے۔ اسلام اور حکومت اسلام، دنیا کا یگانہ مذہب بھی ہے اور دنیا کی سب سے بڑی طاقت بھی اسلام جس طرح انسانیت عامہ کی دینی، مذہبی اور اخلاقی، اخروی فلاح کا سب سے آخری اور مکمل قانون ہدایت ہے اس طرح وہ ایک ایسی لافانی سیاسی طاقت بھی ہے جو انسانوں کے عام فائدے، عام بہتری اور عام تنظیم کے لئے حکومت وسیاست سے اپنے تعلق کو برملا اظہار کرتی ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اسلام صرف ایک مذہب ہی نہیں بلکہ مذہب کی حیثیت سے کچھ اور بھی ہے اس کو حکومت حاکمیت، سیاست اور سلطنت سے وہی تعلق ہے جو اس کائنات کی کسی بھی بڑی حقیقت سے ہوسکتا ہے اس کو محض ایک ایسا نظام نہیں کہا جاسکتا ہے جو صرف باطن کی اصلاح کا فرض انجام دیتا ہے بلکہ اس کو ایسا دینی نظام بھی سمجھنا چاہئے جو اللہ ترس و خدا شناس روح کی قوت سے دنیا کے مادی نظام پر عالمگیر غلبہ کا دعوی رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم جو اسلامی تصورات ونظریات کا سر چشمہ ہے اور احادیث نبوی ﷺ جو ہدایات کی شارح و ترجمان ہیں، ان کا ایک بہت بڑا حصہ اسلام اور حکومت وسیاست کے تعلق کو ثابت کرتا ہے کہیں تاریخی انداز میں، کہیں تعلیمات کے پیرایہ میں اور کہیں نعمت الہٰی کو ظاہری کرتے ہوئے ہم پر یہ واضح کیا جاتا ہے کہ اسلام اور حکومت اللہ کا حق ہے اس لئے اسلام کا ایک بنیادی مقصد یہ بھی ہے کہ اس زمین پر اللہ کی حکومت قائم کی جائے اور اس کا اتارا ہوا قانون نافذ کیا جائے۔ ہم میں سے جو کج فکر لوگ مذہب اور سیاست کے درمیان تفریق کی دیوار حائل کر کے اسلام کو سیاست و حکومت سے بالکل بےتعلق وبے واسطہ رکھنا چاہتے ہیں وہ دراصل مسلم مخالف عناصر کے اس شاطر دماغ کی سازش کا شکار ہیں جو خود تو حقیقی معنے میں آج تک حکومت کو مذہب سے آزاد نہ کرسکا لیکن مسلمانوں کی سیاسی پرواز اور ہمہ گیر پیش قدمی کو مضمحل کرنے کے لئے مذہب اور سیاست و حکومت کی مستقل بحثیں پیدا کر کے مسلمانوں کے چشمہ فکر وعمل میں دین اور دنیا کی پلیدگی کا زہر گھول رہا ہے۔ کتاب الامارۃ والقضاء سے اس کتاب جو حصہ شروع ہو رہا ہے اور اس میں جو احادیث نقل ہوں گی وہ اس دعوی کی واضح دلیل ہیں کہ اسلام اور حکومت و سیاست دو متضاد چیزیں نہیں ہیں ان احادیث میں امیر و خلیفہ قاضی و منصف، عوام اور رعایا، ملک و فوج اور نظم مملکت کے دیگر گوشوں سے متعلق جو ہدایات و احکام بیان کئے جائیں گے ان سے واضح ہوگا کہ حکومت وسیاست بھی اسلام کا ایک موضوع ہے۔
امیر کی اطاعت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہے
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أطاعني فقد أطاع الله ومن عصاني فقد عصى الله ومن يطع الأمير فقد أطاعني ومن يعص الأمير فقد عصاني وإنما الإمام جنة يقاتل من ورائه ويتقى به فإن أمر بتقوى الله وعدل فإن له بذلك أجرا وإن قال بغيره فإن عليه منه
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص میری فرمانبرداری کرتا ہے اس نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی اور جس شخص نے میری نافرمانی کی اس شخص نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس شخص نے اپنے امیر (سردار) کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس شخص نے اپنے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی! اور یاد رکھو، امام یعنی سربراہ مملکت (مسلمانوں کے لئے) ڈھال کی مانند ہے جس کے پیچھے سے (یعنی اس کی طاقت کے بل بوتہ پر) جنگ کی جاتی ہے اور جس کے ذریعہ (دشمنوں کی آفات و بلیات سے) حفاظت حاصل کی جاتی ہے! پس (اگر وہ (امام) اللہ سے ڈر کر (اس کے قانون کے مطابق) فیصلہ کرے اور عدل و انصاف سے کام لے تو اس کی وجہ سے وہ امام بڑے اجر وثواب کا مستحق ہوگا اور اگر وہ ایسا نہ کرے۔ (یعنی اس کے احکام و فیصلے، اللہ کے خوف، قانون الہٰی کی روح اور عدل و انصاف سے خالی ہوں) تو اس کی وجہ سے وہ سخت گنہگار ہوگا۔ (بخاری ومسلم)۔
تشریح
امام (سربراہ مملکت) کو ڈھال کے ساتھ تشبیہ دینے کی وجہ سے یہ ہے کہ جس طرح ڈھال جنگ میں (دشمن کے تیر و تلوار سے بچاتی ہے اسی طرح امام کا وجود، مسلمانوں کو دشمنان دین کے حملوں اور ان کی آفات و بلاؤں سے بچانے کا باعث ہے۔
اگر کسی کمتر شخص کو امیر بنایا جائے تو اس کی اطاعت بھی ضروری ہے
وعن أم الحصين قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أمر عليكم عبد مجدع يقودكم بكتاب الله فاسمعوا له وأطيعوا . رواه مسلم (2/334) 3663 - [ 3 ] ( صحيح ) وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أسمعوا وأطيعوا وإن استعمل عليكم عبد حبشي كأن رأسه زبيبة . رواه البخاري
اور حضرت ام حصین کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر کسی نکٹے اور کن کٹے غلام کو بھی تمہارا حاکم بنایا جائے اور وہ اللہ کے قانون کے مطابق تم پر حکمرانی کرے تو تم اس کا حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ (مسلم)
تشریح
اس ارشاد گرامی کا مقصد اولو الامر کی اطاعت و فرمانبرداری کی اہمیت کو واضح کرنا ہے اور اس اہمیت کو زیادہ سے زیادہ واضح کرنے کے لئے غلام کا ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص مسجد بنائے اگرچہ وہ چڑیا کے گھونسلے کی مانند ہو الخ سے ظاہر ہے کہ مسجد چڑیا کے گھونسلے کی مانند کبھی نہیں ہوسکتی بلکہ اس ارشاد کا مقصد مسجد بنانے کی اہمیت اور اس کی فضیلت کو زیادہ سے زیادہ بیان کرنا ہے اسی طرح یہاں بھی غلام کے ذکر سے مبالغہ مقصود ہے یا پھر یہ مراد ہے کہ وہ غلام جو بادشاہ یا خلیفہ اعظم (سربراہ مملکت) کا نائب ہو یا اسے کسی خاص علاقہ کا حاکم بنایا گیا ہو۔ اس ساری تاویل کی بنیاد یہ ہے کہ غلام کو امیر و امام (سربراہ مملکت) بنانا جائز نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ان تمام احادیث میں بھی یہی تاویل کی جائے گی جن میں غلام کی امارت وسرداری کا ذکر ہے۔ نکٹا اور کن کٹا کے الفاظ بھی مقصد کو مؤ کد کرنے کے لئے استعمال کئے گئے ہیں اور ان سے مراد حقیر و کمتر غلام ہے حاصل یہ کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے امیر و امام کی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور اس کے منصب امارت و امت کی پوری عزت و توقیر کریں خواہ وہ امیر اپنی ذاتی حیثیت میں کتنا ہی کمتر کیوں نہ ہوں۔ اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (اپنے امیر و حاکم کا فرمان سنو ) اور (اس کے اوامرو نواہی کی) اطاعت کرو۔ تاوقتیکہ اس کا کوئی حکم و فرمان اللہ کے اور اس کے رسول کے خلاف نہ ہو) اگرچہ تم پر کسی ایسے غلام ہی کو حکمران کیوں نہ بنایا گیا ہو جس کا سر (چھوٹے پن اور سیاہی میں ) انگور (کی مانند) ہو۔ (بخاری )
غیر شرعی حکم کی اطاعت واجب نہیں
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وأكره ما لم يؤمر بمعصية فإذا أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة (2/334) 3665 - [ 5 ] ( متفق عليه ) وعن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا طاعة في معصية إنما الطاعة في المعروف
اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنے امیر و حاکم کی بات کو سننا اور (اس کے احکام کی) فرمانبرداری کرنا ہر حالت میں مرد مسلم پر واجب ہے خواہ (اس کا کوئی حکم اس کو پسند ہونا پسند ہو۔ تاوقتیکہ کسی گناہ کی بات کا حکم نہ کیا جائے۔ لہٰذا جب حاکم کوئی ایسا حکم دے جس (پر عمل کرنے میں گناہ ہو تو اس کی اطاعت کرنا واجب نہیں۔ (بخاری ومسلم )
تشریح
امیر و حاکم کی بات کو سننا اور اس کے احکام و فرامین کی اطاعت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے خواہ اس کا حکم و فرمان طبیعت و پسند کے موافق ہو یا غیر موافق ہو لیکن شرط یہ ہے کہ اس کا کوئی حکم شریعت کی حدود سے متجاوز نہ ہو لہٰذا اگر امیر و حاکم کوئی ایسا حکم و فرمان جاری کرے جس پر عمل کرنے سے گناہ لازم آتا ہو، اس کی اطاعت و فرمانبرداری واجب نہیں ہوگی لیکن اس صورت میں بھی امیر و حاکم کے خلاف بغاوت کرنا یا اس سے جنگ وجدال کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اور حضرت علی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کسی بھی ایسے حکم کی اطاعت و فرمانبرداری جائز نہیں ہے جس کا تعلق گناہ سے ہو (خواہ وہ حکم امیر و حاکم کی طرف سے ہو یا ماں باپ اور استاد پیر وغیرہ کی جانب سے ہو) اطاعت و فرمانبرداری تو صرف اچھے حکم میں واجب ہے۔ (بخاری ومسلم)
اطاعت و فرمانبرداری کا عہد
وعن عبادة بن الصامت قال : بايعنا رسول الله صلى الله عليه و سلم على السمع والطاعة في العسر واليسر والمنشط والمكره وعلى أثرة علينا وعلى أن لا ننازع الأمر أهله وعلى أن نقول بالحق أينما كنا لا نخاف في الله لومة لائم . وفي رواية : وعلى أن لا ننازع الأمر أهله إلا أن تروا كفرا بواحا عندكم من الله فيه برهان (2/335) 3667 - [ 7 ] ( متفق عليه ) وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : كنا إذا بايعنا رسول الله صلى الله عليه و سلم على السمع والطاعة يقول لنا : فيما استطعتم
اور حضرت عبادہ ابن صامت کہتے ہیں کہ ہم نے رسول ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی یعنی آپ کے روبرو ان امور کا عہد کیا کہ ہم (آپ کی ہدایات کو توجہ سے) سنیں گے (اور ہر قسم کے حالات میں آپ ﷺ کے احکام کی) اطاعت کریں گے تنگی اور سخت حالات میں بھی اور آسان و خوش آئند زمانہ میں بھی، خوشی کے موقع پر بھی اور ناخوشی کی حالت میں ہم پر ترجیح دی جائے گی (تو ہم صبر کریں گے۔ ہم امر کو اس کی جگہ سے نہیں نکالیں گے ہم (جب زبان سے کوئی بات کہیں کے تو) حق کہیں گے خواہ ہم کسی جگہ ہوں (اور کسی حال میں ہوں) اور ہم اللہ کے معاملے میں (یعنی دین پہنچانے اور حق بات کہنے میں) کسی ملامت کرنے والے شخص کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ (ہم نے اس بات کا عہد کیا کہ ہم امر کو جگہ سے نہیں نکالیں گے۔ (چنانچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ امر کو اس کی جگہ سے نہ نکالو) ہاں اگر تم صریح کفر دیکھو جس پر تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے (یعنی قرآن کی کسی آیت یا کسی حدیث کی صورت میں دلیل ہو (اور اس میں کسی تاویل کی گنجائش نہ ہو تو اس صورت میں امر کو اس کی جگہ سے نکالنے کی اجازت ہے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
ہم پر ترجیح دی جائے گی کا مطلب یہ ہے کہ ہم انصارنے یہ بھی عہد کیا کہ اگر ہم پر کسی کو ترجیح دی جائے گی ہم صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں گے۔ ایک روایت میں منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے انصار سے فرمایا تھا کہ (میرے بعد تم لوگوں سے ترجیحی سلوک ہوگا یعنی بخشش و انعام اور اعزاز مناصب کی تقسیم کے وقت تم پر دوسرے لوگوں کو ترجیح و تفصیل دی جائے گی ایسے موقع پر تم لوگ صبر کرنا چناچہ آپ کی یہ پیش گوئی ثابت ہوئی کہ خلفاء راشدین کے زمانے کے بعد جب امراء کا عہد حکومت شروع ہوا تو انصار کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا گیا اور انصار نے بھی آپ کے ارشاد کی تعمیل میں اور اپنا عہد نباہتے ہوئے اس ترجیحی سلوک کے خلاف شکوہ شکایت کرنے کی بجائے صبر و تحمل کی راہ کو اختیار کیا۔ ہم امر کو اس کی جگہ سے نہیں نکالیں گے کا مطلب یہ ہے کہ ہم امارت و حکومت کی طلب و خواہش نہیں کریں گے ہم پر جس شخص کو امیر وحاکم بنادیا جائے گا ہم اس کو معزول نہیں کریں گے اور اپنے امیر وحاکم کے خلاف ہنگامہ آرائی کر کے کوئی شورش پیدا نہیں کریں گے۔ روایت کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اگر امیر وحاکم کے قول وفعل میں صریح کفر دیکھو تو اس کو معزول کردینے کی اجازت ہے اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا واجب ہوگا۔
فسق وفجور، عزل منصب کی بنیاد بن سکتا ہے یا نہیں ؟
اس ارشاد گرامی سے یہ واضح ہوا کہ امام یعنی سربراہ مملکت کو معزول کرنے کی اسی صورت میں اجازت ہے جب کہ وہ صریح طور پر کفر کا مرتکب ہو اور اس کا کفر قرآن و حدیث کی روشنی میں اتنے واضح طور پر ثابت ہو کہ اس امام کے لئے کفر کی کوئی بھی تاویل کرنا ممکن نہ ہو۔ چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ اگر امام فسق فجور میں مبتلا ہوجائے تو اس کو معزول کیا جاسکتا ہے یہی مسئلہ ہر قاضی و امیر کا ہے۔ واضح رہے کہ اس مسئلہ میں ان ائمہ کے اختلافی اقوال کی بنیاد یہ ہے کہ حضرت امام شافعی کے نزدیک توفاسق شخص اس بات کا اہل نہیں ہوگا کہ اس کو ولایت (کسی کا ولی ہونے) کی ذمہ داری سونپی جائے جب کہ امام اعظم ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ فاسق، ولایت کا اہل ہوسکتا ہے چناچہ ان کے نزدیک فاسق باپ کے لئے اپنی نابالغ لڑکی کا نکاح کردینا جائز ہے۔ فرمانبرداری بقدر طاقت اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ جب ہم رسول کریم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرتے (یعنی اس بات کا عہد کرتے) کہ ہم (آپ کی ہدایات کو توجہ سے سنیں گے اور (آپ کے احکام کی) اطاعت کریں گے تو آپ ﷺ ہم سے فرماتے کہ ان امور میں جن کو تم طاقت رکھتے ہو۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
آنحضرت ﷺ نے یا تو اپنے ارشاد کے ذریعہ صحابہ کو یہ رخصت (یعنی آسانی و سہولت) عطا فرمائی کہ تم سے جس قدر فرمانبرداری ہوسکے اس قدر کرو۔ یا یہ ارشاد اسی بات کی تاکید و تشدید کے لئے تھا کہ تم جتنی فرمانبرداری کرسکو اس میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی یا قصور واقع نہ ہونا چاہئے۔
ملت کی اجتماعیت میں رخنہ ڈالنے والے کے بارے میں وعید
وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من رأى أميره يكرهه فليصبر فإنه ليس أحد يفارق الجماعة شبرا فيموت إلا مات ميتة جاهلية
اور حضرت ابن عباس راوی ہیں کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص اپنے امیر و سردار کی طرف سے کوئی ایسی بات دیکھے جو اس کو (شرعًا یا طبعًا) پسند نہ ہو تو اس کو اس پر صبر کرنا چاہئے اور اس کی وجہ سے امام کے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند نہ کرنا چاہئے کیونکہ جو شخص جماعت سے بالشت بھر (بھی) جدا ہوا اور (توبہ کئے بغیر اسی حالت میں) مرگیا تو اس کی موت اہل جاہلیت کی موت کی مانند ہوگی۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے امام و امیر کی اطاعت و فرمانبرداری سے اپنے کو آزاد کرلیا اور مسلمانوں کی جماعت (تنظیم) سے علیحدگی اختیار کرلی اور تمام مسلمانوں کے اجتماع و اتحاد کی مخالفت پر کمر بستہ رہا اور پھر اسی حالت میں وہ مرگیا تو گویا زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی موت مرا اور اس مشابہت کی بنیاد ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ چونکہ دین سے بےبہرہ تھے اس لئے وہ اپنے امیر و سردار کی اطاعت کرتے تھے نہ اپنے امام (رہنما) کی ہدایت کو مانتے تھے بلکہ ان سے وہ علی الاعلان بیزاری کا اظہار کرتے تھے اسی طرح چونکہ ان کے یہاں ملی شیرازہ بندی اور اجتماعی تنظیم کا کوئی اہتمام نہیں تھا اس لئے وہ نہ کسی چیز پر اجتماع و اتحاد کا مظاہرہ کرتے تھے اور نہ کسی رائے پر متفق ہوتے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام میں ملت کی شیرازہ بندی، مسلمانوں کی مضبوط اجتماعی تنظیم، لیڈر شب پر مکمل اعتماد اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری اور ملی امور میں آپس میں اتفاق و اتحاد کی بڑی اہمیت ہے بلکہ یہ چیزیں دین کا مطلوب ہیں اور دین کی سربلندی کا بنیادی عنصر ہیں۔
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من خرج من الطاعة وفارق الجماعة فمات مات ميتة جاهلية ومن قاتل تحت راية عمية يغضب لعصبية أو يدعو لعصبية أو ينصر عصبية فقتل فقتلة جاهلية ومن خرج على أمتي بسيفه يضرب برها و فاجرها ولا يتحاشى من مؤمنها ولا يفي لذي عهد عهده فليس مني ولست منه . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص امام (سربراہ مملکت) کی اطاعت و فرمانبرداری سے نکل جائے اور اسلام کی جماعت (ملت کی اجتماعی ہیت) سے علیحدگی اختیار کرے اور پھر اس حالت میں مرجائے تو اس کا مرنا جاہلیت پر مرنے کے مرادف ہوگا، جو شخص کسی ایسے جھنڈے کے نیچے یعنی ایسے مقصد کے لئے) لڑا جس کا حق و باطل ہونا ظاہر نہ ہو درآنحالیکہ وہ تعصب سے غضبناک ہوا اور متعصب ہوا اور تعصب کی وجہ سے لوگوں کو اپنی طرف بلایا یا تعصب کی وجہ سے کسی کی مدد کی (یعنی اس کا لڑنا غضبناک ہونا لوگوں کو اپنی مدد کے لئے بلانا یا کسی کی مدد کرنا اعلاء کلمۃ الحق اور دین سے اظہار کے لئے نہیں تھا بلکہ محض تعصب یعنی اپنی قوم کے ظلم کی حمایت اور اس کی ناروا جانب داری کی بنیاد پر تھا) اور اسی حالت میں) وہ مارا گیا تو اس کا مرنا جاہلیت پر مرنے کے مترادف ہوگا اور جس شخص نے میری امت کے خلاف تلوار اٹھائی اور اس کے ذریعہ میری امت کے اچھے اور برے آدمیوں کو مارا اور میری امت کے مسلمان کی پرواہ نہیں کی (یعنی اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی کہ ایک مسلمان کو مارنا کتنا بڑا جرم ہے اور اس کا وبال و عذاب کتنا سخت ہے) اور نہ اس نے عہد والے کے عہد کو پورا کیا تو نہ وہ میری امت میں سے ہے (یعنی میرے راستے پر چلنے والوں میں سے نہیں ہے اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔ (مسلم )
وعن عوف بن مالك الأشجعي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : خيار أئمتكم الذين يحبونهم ويحبونكم وتصلون عليهم ويصلون عليكم وشرار أئمتكم الذي تبغضونهم ويبغضونكم وتلعنوهم ويلعنوكم قال : قلنا : يا رسول الله أفلا ننابذهم عند ذلك ؟ قال : لا ما أقاموا فيكم الصلاة لا ما أقاموا فيكم الصلاة ألا من ولي عليه وال فرآه يأتي شيئا من معصية الله فليكره ما يأتي من معصية الله ولا ينزعن يدا من طاعة . رواه مسلم
اور حضرت عوف ابن مالک اشجعی رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے تمہارے حاکموں میں سے بہترین حاکم وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں اور تم ان کے لئے اور وہ تمہارے لئے دعا کریں اور اس کی وجہ سے آپس میں ربط وتعلق اور محبت پیدا ہو) اور تمہارے حاکموں میں سے بدترین حاکم وہ ہیں جن سے تم بغض و عداوت رکھو اور وہ تم سے بغض و عداوت رکھیں اور تم ان پر اور وہ تم پر لعنت بھیجیں۔ حضرت عوف کہتے ہیں کہ ہم (صحابہ) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اس صورت میں ہم ان سے کئے ہوئے عہد وفاداری توڑ نہ ڈالیں (یعنی کیا ان بدترین حاکموں کو معزول نہ کریں اور ان کے خلاف علم بغاوت بلند نہ کردیں؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا نہیں! جب تک وہ تمہارے درمیان نماز قائم کریں! خبردار! جس شخص کو تم پر حاکم مقرر کیا جائے اور تم اس کا کوئی ایسا فعل دیکھو۔ جو اللہ کی نافرمانی (گنا ہ) پر مبنی ہو تو اس کے اس گناہ کے فعل کو برا سمجھنا چاہئے۔ لیکن اس کی اطاعت و فرمانبرداری سے دست بردار نہ ہونا چاہئے۔ (مسلم)
تشریح
جب تک وہ تمہارے درمیان نماز قائم کریں اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اسلامی مملکت کے سربراہ کا نماز کو ترک کردینا مسلمانوں کے کئے ہوئے عہد وفاداری کو توڑ ڈالنے کا موجب اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری سے دست بردار ہوجانے کا سبب ہے کہ جس طرح اگر سربراہ مملکت صریح کفر کا مرتکب ہوجائے تو مسلمان اپنا عہد وفاداری توڑ کر اس کو معزول کرسکتے ہیں اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری سے دستبردار ہوسکتے ہیں، اسی طرح اگر وہ نماز چھوڑ دیں تو مسلمانوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کے تئیں اپنا عہد وفاداری توڑ دیں اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری سے انکار کردیں! کیونکہ نماز دین کا ستون ہے اور کفر و ایمان کے درمیان فرق و امتیاز کرنے والی ہے۔ اس کے برخلاف دوسرے گناہ چونکہ ترک نماز کی طرح نہیں ہیں اس لئے ان کا ارتکاب عہدوفاداری کو توڑنے اور اطاعت و فرمانبرداری سے دست بردار ہونے کا موجب نہیں ہوسکتا۔ اس ارشاد گرامی میں ترک نماز پر سخت ترین زجر و تنبیہ اور عظیم تہدید ہے۔
حاکم کی بے راہ روی پر اس کو ٹوکنا ہر مسلمان کی ایک ذمہ داری ہے۔
وعن أم سلمة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يكون عليكم أمراء تعرفون وتنكرون فمن أنكر فقد برئ ومن كره فقد سلم ولكن من رضي وتابع قالوا : أفلا نقاتلهم ؟ قال : لا ما صلوا لا ما صلوا أي : من كره بقلبه وأنكر بقلبه . رواه مسلم
اور حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایسے لوگ بھی تم پر حاکم مقرر کئے جائیں گے جو اچھے برے دونوں قسم کے کام کریں گے لہٰذا جس شخص نے انکار کیا (یعنی جو شخص اپنے حاکم کے سامنے زبان سے یہ کہنے پر قادر ہو کہ تمہارا یہ فعل برا ہے اور اس نے اس طرح کہہ بھی دیا) تو وہ نفاق اور مداہنت سے پاک اور (اپنی ذمہ داری سے) بری ہوگیا اور جس شخص نے مکروہ جانا (یعنی جو شخص حاکم کے منہ پر اس کے برے فعل کو بیان کردینے پر قادر نہ ہو لیکن اپنے دل سے اس کے اس فعل کو برا سمجھے) تو وہ سالم رہا) یعنی اس فعل کی برائی و گناہ اور اس کے وبال میں شریک ہونے سے محفوظ رہا) لیکن جو شخص (حاکم کے برے افعال پر دل سے) خوش ہوا اور (خود بھی برے افعال میں مبتلا ہو کر گویا حاکم کی اتباع کی (تو وہ گناہ اور اس کے وبال میں شریک ہوا صحابہ نے عرض کیا کہ (ایسی صورت میں جب کہ حکام برائیوں میں مبتلا ہوجائیں اور ان کی بےراہ روی کا اثر عوام پر بھی پر نے لگے تو) کیا ہم ان کے خلاف جنگ نہ کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں جب تک وہ نماز پڑھیں، نہیں! جب تک وہ نماز پڑھیں۔ یعنی جس شخص نے اپنے دل سے برا سمجھا اور اپنے دل سے انکار کیا۔ (مسلم)
تشریح
روایت کے آخری الفاظ یعنی جس شخص نے اپنا دل سے برا سمجھا اور اپنے دل سے انکار کیا کے بارے میں حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے تو یہ لکھا ہے کہ راوی کی عبارت ہے جس کے ذریعہ انہوں نے حدیث کے الفاظ ومن کرہ فقد سلم کی توضیح کی ہے، جب کہ ملا علی قاری نے یہ لکھا ہے کہ راوی نے اس عبارت کے ذریعہ حدیث کے ان دونوں جملوں (فمن انکر) اور (ومن کرہ) الخ کی توضیح کی ہے۔