کسی گنا ہگار پر لعنت بھیجنا جائز ہے
عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أن رجلا اسمه عبد الله يلقب حمارا كان يضحك النبي صلى الله عليه و سلم وكان النبي صلى الله عليه و سلم قد جلده في الشراب فأتي به يوما فأمر به فجلد فقال رجل من القوم : اللهم العنه ما أكثر ما يؤتى به فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا تلعنوه فو الله ما علمت أنه يحب الله ورسوله . رواه البخاري
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ ایک شخص تھا جس کا نام عبداللہ تھا مگر اس کی بیوقوفی کی وجہ سے اس کو حمار یعنی گدھا کہا جاتا تھا وہ اپنی حماقت آمیز باتوں سے نبی کریم ﷺ کو ہنسایا کرتا تھا نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ شراب پینے کے جرم میں اس پر حد جاری فرما چکے تھے پھر وہ ایک اور دن آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس کو کوڑے مارنے کا حکم دیا اور اس کو کوڑے مارے گئے حاضرین مجلس میں سے ایک شخص نے کہا اے اللہ تیری لعنت ہو، اس کو کتنی کثرت کے ساتھ بار بار شراب پینے کے جرم میں پکڑ کر لایا جاتا ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس پر لعنت نہ بھیجو اللہ کی قسم میں یہ جانتا ہوں کہ یہ شخص اللہ اور اس کے رسول کو دوست رکھتا ہے۔ (بخاری)
تشریح
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ کسی گنہگار کو مخصوص کر کے اس پر لعنت بھیجنا جائز نہیں ہے نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت قرب الہٰی کا سبب ہے لہٰذا اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت رکھنے والے پر لعنت بھیجنا کسی حالت میں بھی جائز نہیں ہے کیونکہ لعنت کے معنی ہیں اللہ کی رحمت سے دور کرنا۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک ایسے شخص کو پیش کیا گیا جس نے شراب نوشی کا ارتکاب کیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا اس کی پٹائی کرو چناچہ ہم میں سے بعض نے اس کو اپنے ہاتھ سے مارا بعض نے اپنے جوتوں سے مارا اور بعض نے اپنے کپڑے کا کوڑا بنا کر اس سے مارا جب وہ شخص واپس جانے لگا تو بعض لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تجھ کو ذلیل ورسوا کرے آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا اس طرح نہ کہو اور اس پر غالب ہونے میں شیطان کی مدد نہ کرو۔ (بخاری)
جو مجرم سزا پاچکا ہے اس کی آبروریزی مردار کھانے کے مترادف ہے
وعن أبي هريرة قال : أتي النبي صلى الله عليه و سلم برجل قد شرب الخمر فقال : اضربوه فمنا الضارب بيده والضارب بنعله والضارب بثوبه فلما انصرف قال بعض القوم : أخزاك الله قال : لا تقولوا هكذا لا تعينوا عليه الشيطان . رواه البخاري (2/325) الفصل الثاني (2/326) 3627 - [ 3 ] ( ضعيف ) عن أبي هريرة قال : جاء الأسلمي إلى نبي الله صلى الله عليه و سلم فشهد على نفسه أنه أصاب امرأة حراما أربع مرات كل ذلك يعرض عنه فأقبل في الخامسة فقال : أنكتها ؟ قال : نعم قال : حتى غاب ذلك منك في ذلك منها قال : نعم قال : كما يغيب المرود في المكحلة والرشاء في البئر ؟ قال : نعم قال : هل تدري ما الزنا ؟ قال : نعم أتيت منها حراما ما يأتي الرجل من أهله حلالا قال : فما تريد بهذا القول ؟ قال : أريد أن تطهرني فأمر به فرجم فسمع نبي الله صلى الله عليه و سلم رجلين من أصحابه يقول أحدهما لصاحبه : انظر إلى هذا الذي ستر الله عليه فلم تدعه نفسه حتى رجم رجم الكلب فسكت عنهما ثم سار ساعة حتى مر بجيفة حمار شائل برجله فقال : أين فلان وفلان ؟ فقالا : نحن ذان يا رسول الله فقال : انزلا فكلا من جيفة هذا الحمار فقالا : يا نبي الله من يأكل من هذا ؟ قال : فما نلتما من عرض أخيكما آنفا أشد من أكل منه والذي نفسي بيده إنه الآن لفي أنهار الجنة ينغمس فيها . رواه أبو داود (2/326) 3628 - [ 4 ] ( لم تتم دراسته ) وعن خزيمة بن ثابت قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أصاب ذنبا أقيم عليه حد ذلك الذنب فهو كفارته رواه في شرح السنة
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ماعز اسلمی نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے بارے میں چار بار یعنی چار مجلسوں میں یہ گواہی دی (یعنی یہ اقرار کیا) کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ بطریق زنا، جماع کیا ہے اور آنحضرت ﷺ ہر بار (اس کے اقرار کرنے پر) منہ پھیر لیتے تھے (تاکہ وہ اپنے اقرار سے رجوع کرے اور حد سے بچ جائے) اور پھر پانچویں بار اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ کیا تو نے اس عورت کے ساتھ صحبت کی ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا (کیا تو نے اس طرح صحبت کی کہ وہ (یعنی تیرا عضو مخصوص) اس (عورت کے حصہ مخصوص) میں غائب ہوگیا؟ اس نے کہا کہ ہاں! آپ ﷺ نے پوچھا جانتے ہو زنا کیا ہے کہا ہاں! میں نے اس عورت کے ساتھ حرام طور پر وہ کام کیا ہے جو ایک مرد اپنی بیوی کے ساتھ حلال طور پر کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا (اچھا یہ بتا) یہ جو کچھ تو نے کہا ہے اس سے تیرا مقصد کیا ہے؟ اس نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ (مجھ پر حد جاری فرما کر) مجھ کو (اس گناہ سے) پاک کر دیجئے۔ چناچہ (اتنی جرح کرنے کے بعد جب اس کا جرم زنا بالکل ثابت ہوگیا تو) آنحضرت ﷺ نے (اس کو سنگساری کا) حکم جاری فرمایا اور اس کو سنگسار کردیا گیا پھر نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ میں سے دو آدمیوں کو یہ گفتگو کرتے ہوئے سنا کہ ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے یہ کہہ رہا تھا اس شخص کو دیکھو، اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کی تھی لیکن اس کے نفس نے اس کو (اپنے اقرار گناہ سے) باز نہ رکھا یہاں تک کہ وہ ایک کتے کی مانند سنگسار کیا گیا۔ آپ ﷺ نے یہ سن کر اس وقت تو ان دونوں سے کچھ نہیں کہا البتہ کچھ دیر تک چلنے کے بعد ایک مرے ہوئے گدھے کے قریب سے گذرے جس کے پاؤں ( اس کا جسم بہت زیادہ پھول جانے کے سبب) اوپر اٹھے ہوئے تھے تو آپ ﷺ نے پوچھا کہ فلاں فلاں (یعنی وہ دونوں) شخص کہا ہیں (جنہوں نے ماعز کی اس وجہ سے تحقیر کی تھی کہ اس کو سنگسار کیا گیا تھا ) انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم دونوں (حاضر) ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم دونوں اترو اور اس گدھے کا مردار گوشت کھاؤ۔ انہوں نے (بڑی حیرت کے ساتھ) عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس کا گوشت کون کھاتا ہے؟ (یعنی اس کا گوشت کھائے جانے کے قابل نہیں ہے آپ ہم سے اس کے کھانے کو کیوں فرماتے ہیں؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا تم نے ابھی اپنے بھائی کی جو آبروریزی کی ہے وہ اس گدھے کا گوشت کھانے سے بھی زیادہ سخت (بری بات) ہے قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بلا شبہ وہ (ماعز) جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے۔ (ابو داؤد) اور حضرت خزیمہ ابن ثابت کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہو جو حد کو واجب کرنے والا ہو اور پھر اس پر اس گناہ کی حد جاری کی جائے مثلاً کسی شخص نے زنا کیا اور اس کے کوڑے مارے گئے، یا کسی شخص نے چوری کی اور اس کا ہاتھ کاٹا گیا) تو وہ حد اس کے اس گناہ کا کفارہ ہے (یعنی حد جاری ہونے کے بعد وہ شخص اس گناہ سے پاک وصاف ہوجائے گا) (شرح السنۃ)
جس گناہ پر سزا جاری ہوچکی ہے اس پر آخرت میں مواخذہ نہیں ہوگا۔
وعن علي رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أصاب حدا فعجل عقوبته في الدنيا فالله أعدل من أن يثني على عبده العقوبة في الآخرة ومن أصاب حد فستره الله عليه وعفا عنه فالله أكرم من أن يعود في شيء قد عفا عنه . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث غريب هذا الباب خال عن الفصل الثالث
اور حضرت علی نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص، حد کا سزاوار ہو (یعنی کوئی ایسا گناہ کرے جس پر حد متعین ہے) اور پھر اسی دنیا میں اس کو سزا دے دی گئی (یعنی اس پر حد جاری کی گئی یا تعزیری یعنی کوئی اور سزا دی گئی تو) آخرت میں اس کو اس گناہ کی کوئی سزا نہیں دی جائے گی کیونکہ) اللہ تعالیٰ کی شان عدل یہ بعید ہے کہ وہ آخرت میں اپنے بندے کو دوبارہ سزا دے اور جو شخص کسی حد (یعنی گناہ) کا مرتکب ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے اس گناہ کو چھپالیا اور اس کو معاف کردیا تو اللہ تعالیٰ کی شان کریمی سے یہ بعید ہے کہ وہ اس چیز پر دوبارہ مؤ اخذہ کرے جس کو وہ معاف کرچکا ہے (ترمذی، ابن ماجہ، ) ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
اور اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ کو چھپالیا الخ کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص نے ندامت وشرم ساری کے ساتھ اپنے گناہ سے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت و بخشش کا طلب گار ہوا یہاں تک کہ حق تعالیٰ نے اس کے اس گناہ کی پردہ پوشی فرمائی اور اس طرح اس کو اسی دنیا میں معاف کردیا تو اللہ تعالیٰ اس کی شان کریمی سے یہ امید ہے کہ آخرت میں بھی اس کو معاف کر دے۔
اپنے گناہ کی پردہ پوشی کرنا اس کو ظاہر کرنے سے بہتر ہے
جمہور علماء کا یہ مسلک ہے کہ اگر کوئی بندہ کسی گناہ کا مرتکب ہوجائے تو (اسی دنیا میں اس سزا بھگتنے کے لئے) اس کو ظاہر کرنا (یعنی حاکم کے سامنے خود اپنے گناہ کا اقرار کرنا) اگرچہ اس کے ایمان کی پختگی، اس کے قلب و احساس کی سلامتی اور اس اللہ ترسی کا مظہر ہوگا لیکن اس کے حق میں زیادہ بہتر اور اولی یہی ہے کہ وہ اپنے گناہ کو چھپا کر اپنے نفس کی پردہ پوشی کرے اور اللہ تعالیٰ سے توبہ وطلب مغفرت و بخشش کرے،
تعزیر کی اصل ہے عزر جس کے لغوی معنی ہیں منع کرنا، باز رکھنا، ملامت کرنا۔ اصطلاح شریعت میں اس لفظ (تعزیر) کا استعمال اس سزا کے مفہوم میں کیا جاتا ہے جو حد سے کم درجہ کی ہو اور تنبیہ اور تادیب کے طور پر کسی کو دی جائے اور اس سزا کو تعزیر اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ آدمی کو اس فعل (گناہ وجرم) کے دوبارہ ارتکاب سے باز رکھتی ہے جس کی وجہ سے اسے وہ سزا (تعز یر) بھگتنی پڑی ہے۔ حد اور تعزیر میں فرق حد اور تعزیر میں فرق یہ ہے کہ حد تو وہ خاص سزا ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے اور ساتھ ہی متعین ہے، حاکم کو صرف اس سزا کے نفاذ کا اختیار حاصل ہے اس کو قانون سازی یا اس میں کسی تغیر وتبدل کا حق اس کو حاصل نہیں ہے، اس کے برخلاف تعزیر وہ سزا ہے جس کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ نے متعین نہیں کیا ہے بلکہ اس کا تعین حاکم کی رائے پر موقوف رکھا گیا ہے کہ وہ موقع ومحل اور اقتضاء وقت وضروت کے مطابق جو سزا چاہئے متعین کرے۔
بطور تعزیر زیادہ سے زیادہ کتنی سزادی جاسکتی ہے
عن أبي بردة بن ينار عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يجلد فوق عشر جلدات إلا في حد من حدود الله
اور حضرت ابوبردہ بن ینار نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جو حدود مقرر کی ہیں ان میں سے دس کوڑوں سے زیادہ کی سزا نہ دی جائے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بطور تعزیر دس سے زیادہ کوڑے مارنے کی سزا دینا جائز نہیں ہے لیکن علماء نے لکھا ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔ اس بارے میں فقہاء کے اختلافی اقوال ہیں کہ بطور تعزیر زیادہ سے زیادہ کتنے کوڑے مارنے کی سزا دی جاسکتی ہے؟ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام محمد کا قول یہ ہے کہ انتالیس سے زیادہ نہ ہو، جب کہ حضرت امام ابویوسف یہ فرماتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ پچھتر کوڑے ہوسکتے ہیں، البتہ کم سے کم تعداد کے بارے میں تین کوڑے پر سب کا اتفاق ہے، اسی طرح اس مسئلہ پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ تعزیر میں جو کوڑے مارے جائیں ان کی تعداد حد میں مارے جانے والی تعداد تک نہ پہنچے لیکن سختی وشدت میں اس سے بھی بڑھ جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا ضرب أحدكم فليتق الوجه . رواه أبو داود
حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص (کسی مجرم کو سزاء) مارے تو اس کو چاہئے کہ وہ (اس مجرم کے) منہ کو بچائے۔ (ابوداؤد )
تشریح
مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو بطور حد کوڑے مارے جائیں یا بطور تعزیر وتادیب اس کی پٹائی کی جائے تو بہرصورت یہ ضروری ہے کہ اس کے چہرے کو بچایا جائے یعنی اس کے چہرے پر نہ مارا جائے۔
وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا قال الرجل للرجل : يا يهودي فاضربوه عشرين وإذا قال : يا مخنث فاضربوه عشرين ومن وقع على ذات محرم فاقتلوه . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
اور حضرت ابن عباس نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص کسی (مسلمان) کو کہے اے یہودی تو اس کو بیس کوڑے مارو اور اگر اے مخنث کہے تب بھی اس کے بیس کوڑے مارو اور جو شخص محرم عورت سے زنا کا مرتکب ہوا اس کو مار ڈالو۔ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
مخنث اس کو کہتے ہیں جس کے اعضاء اور بات چیت کے انداز میں زنانہ پن ہو اور حرکات و سکنات میں عورتوں کے مشابہ ہوا جس کو زنخا اور زنانہ بھی کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی غلام پر یا کسی کافر پر زنا کی تہمت لگائے تو اس کو تعزیر (کوئی سزا) دی جانی چاہئے۔ اسی طرح اس شخص کو بھی تعزیر دی جائے جو کسی مسلمان پر زنا کے علاوہ کسی اور برائی کی تہمت لگائے مثلاً ان الفاظ کے ذریعہ اس کو مخاطب کرے اے فاسق، اے فاجر، اے کافر، اے خبیث اے چور، اے منافق، اے لوطی یعنی اغلام باز، اے یہودی، اے لڑکوں کے ساتھ کھیلنے والے، اے سود خوار، اے دیوث اے مخنث، اے خائن، اے رنڈی کی اولاد اے بدکار عورت کے بچے، اے زندیق، اے کتے، اے زانیوں یا چوروں کے پشت پناہ اور اے حرام زادے اگر کوئی شخص کسی مسلمان شخص کو ان الفاظ کے ذریعہ مخاطب کرے تو وہ قابل تعزیر نہیں ہوگا، اے گدھے، اے کتے، اے بندر، اے بکرے، اے الو، اے سانپ، اے بیل، اے بھیڑئیے، اے حجام، اے حجام کی اولاد (درا نحالی کہ وہ کسی حجام کی اولاد نہ ہو) اے ولد الحرام، اے ناکس، اے منکوس، اے مسخرے، اے ٹھٹھے باز، عیار اے بیوقوف اور اے وہمی، لیکن اس سلسلہ میں یہ واضح رہے کہ علماء نے اس شخص کو تعزیر دینا پسند کیا ہے جو مذکورہ بالا الفاظ کے ذریعہ کسی ایسے شخص کو مخاطب کرے جو شرفاء میں سے ہو۔ خاوند کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی بیوی کو تعزیر (کوئی سزا) دے جب کہ وہ کہنے کے باوجود اس کے سامنے زینت و آرائش کرنے سے اجتناب کرتی ہو یا وہ اس کو اپنے بستر پر (ہم بستری) بلائے اور وہ انکار کر دے، یا وہ نماز نہ پڑھتی ہو، یا غسل جنابت ترک کرتی ہو اور یا اس کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے باہر آتی جاتی ہو۔ جو شخص محرم عورت سے زنا کا مرتکب ہو اس کو مار ڈالو۔ حضرت امام احمد نے اس ارشاد کے ظاہری مفہوم پر عمل کیا ہے جب کہ جمہور علماء کے نزدیک اس کا ظاہری مفہوم مراد نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق صرف زجر، تہدید سے ہے۔ بعض حضرات نے یہ فرمایا ہے کہ یہ ارشاد اس بات پر محمول ہے کہ جو شخص حلال اور ہلکا جان کر کسی محرم عورت سے زنا کرے اس کو مار ڈالا جائے ورنہ محرم عورت کے ساتھ زنا کا بھی وہی حکم ہے جو دوسری عورتوں کے ساتھ زنا کا ہے کہ اگر زانی محصن (شادی شدہ) ہو تو اس کو سنگسار کیا جائے اور اگر غیر محصن (کنوارا) ہو تو کوڑے مارے جائیں۔
مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی سزا
وعن عمر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا وجدتم الرجل قد غل في سبيل الله فأحرقوا متاعه واضربوه . رواه الترمذي وأبو داود وقال الترمذي : هذا حديث غريب هذا الباب خال من الفصل الثالث
اور حضرت عمر فاروق راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم کسی ایسے شخص کو پکڑو جس نے اللہ کی راہ میں خیانت کی ہو (یعنی اس نے مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے اس میں سے کچھ چرا لیا ہو) تو اس کا مال و اسباب جلا ڈالو اور اس کی پٹائی کرو۔ (ابو داؤد، ترمذی) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
اس کا مال و اسباب جلا ڈالو کے بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں، بعض حضرات تو یہ فرماتے ہیں کہ جو شخص مال غنیمت میں سے کچھ چرائے بطور سزا اس کا مال و اسباب جلانا جائز نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ حکم کہ اس کا مال و اسباب جلا ڈالو اسلام سے ابتدائی زمانہ میں نافذ تھا مگر بعد میں منسوخ قرار دے دیا گیا۔ یا یہ کہ یہ ارشاد دراصل تغلیط اور تشدید پر محمول ہے حضرت امام احمد نے اس حکم کو اس کے ظاہری معنی پر محمول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس شخص کا تمام مال و اسباب جلا دیا جائے۔ البتہ اگر اس کے سامان میں قرآن کریم، ہتھیار اور جانور بھی ہوں تو ان کو نہ جلایا جائے، نیز بطریق تعزیر اس کی پٹائی کی جائے اور یہ بات پہلے بیان کی چکی ہے کہ مال غنیمت کی چوری کرنے والا قطع ید کا سزا وار نہیں ہوتا۔
شراب کی حقیقت اور شراب پینے والے کے بارے میں وعید کا بیان
اس باب میں ایک تو خمر یعنی شراب کی حقیقت کو بیان کیا جائے گا کہ خمر کس کو کہتے ہیں۔ دوسری چیز یہ بیان ہوگی کہ شراب پینے والے کے بارے میں کس چیز کا خوف ہے اور اس کے حق میں کیا کیا وعیدیں منقول ہیں۔ خمر کسے کہتے ہیں؟ قاموس میں لکھا ہے کہ خمر اس چیز کو کہتے ہیں جس کے استعمال (یعنی جس کو پینے) سے نشہ ومستی پیدا ہوجائے۔ اور وہ انگور کے شیرے کی صورت میں ہو یا عام کہ وہ انگور کا شیرہ ہو یا کسی چیز کا عرق وکاڑھا وغیرہ ہو، زیادہ صحیح یہی ہے کہ اس کا عام مفہوم مراد لیا جائے) یعنی نشہ لانے والی چیز خواہ وہ انگور کا شیرہ ہو یا کسی دوسری چیز کا شیرہ وغیرہ کیونکہ شراب مدینہ میں حرام ہوئی ہے اور اس زمانہ میں انگور کی شراب کا کوئی وجود نہیں تھا بلکہ وہ کھجور سے بنائی جاتی تھی خمر کیوجہ تسمیہ یہ ہے کہ لغت میں خمر کے معنی ہیں ڈھاپنا چھپانا، خلط کرنا اور چونکہ شراب انسان کی عقل کو ڈھانپ دیتی ہے اور اس کے فہم و شعور کی قوتوں کو خلط وخبط کردیتی ہے اس لئے اس کو خمر کہا گیا۔ نشہ آور چیزوں کی قسمیں جو چیزیں نشہ پیدا کرتی ہیں ان کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک قسم تو شراب کی ہے جو انگور سے اس طرح بنتی ہے کہ انگور کا عرق نکال کر کسی برتن میں رکھ دیتے ہیں، کچھ دنوں کے بعد وہ گاڑھا ہوجاتا ہے اور اس میں ابال پیدا ہوجاتی ہے اور اس طرح وہ نشہ آور ہوجاتا ہے، صحیح تر اور مختار قول کے مطابق اس میں جھاگ کا پیدا ہونا شرط نہیں ہے اس کو عربی میں خمر کہتے ہیں۔ دوسری قسم یہ کہ انگور کے عرق کو قدرے جوش دے کر رکھ دیتے ہیں اس کو عربی میں باذق اور فارسی میں بادہ کہتے ہیں اور انگور کا وہ عرق جس کو اتنا پکایا جاتا ہے کہ اس کا چوتھائی حصہ جل کر صرف تین چوتھائی حصہ رہ جاتا ہے۔ طلا کہلاتا ہے۔ تیسری قسم نقیع التمر ہے جس کو سکر بھی کہتے ہیں یعنی تر خرما کا وہ شربت جو گاڑھا ہوجائے اور اس میں جھاگ پیدا ہوجائے، چوتھی قسم نقیع الزبیب ہے یعنی منقی اور کشمش وغیرہ کا وہ شربت جس میں ابال اور جھاگ پیدا ہوجائے۔ ان چاروں قسموں میں سے پہلی قسم تو بلا کسی قید کے حرام ہے اور باقی تین قسمیں اس صورت میں بہ اتفاق حرام ہیں جب کہ ان کو جوش دے کر رکھ دیا جائے اور ان میں گاڑھا پن آجائے کیونکہ اس صورت میں ان چیزوں میں نشہ پیدا ہوجاتا ہے ہاں اگر ان میں مذکورہ چیزیں نہ پائی جائے تو ان کو حرام نہیں کہیں گے مثلًا کچھ دیر کے لئے پانی میں خرما بھگو کر رکھ دیا جائے یہاں تک کہ وہ پانی شربت کی طرح ہوجائے اور اس میں کسی قسم کا کوئی تغیر واقع نہ ہو تو اس کا پینا درست ہوگا۔ ان کے علاوہ پینے کے چار مشروب اور ہیں جن کا پینا امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک حلال ہے بشرطیکہ ان کو معمولی طور پر اس طرح جوش دیا گیا ان میں نشہ پیدا نہ ہوا ہو اور اگر ان میں نشہ پیدا ہوگیا ہو تو یہ قسمیں بھی حرام ہوں گی، اسی طرح اگر ان کو جوش دئیے بغیر کافی عرصہ کے لئے رکھ دیا گیا ان میں جھاگ پیدا ہوگیا تب بھی ان کا پینا حرام ہوگا، ان چاروں میں سے ایک قسم تو نبیذ ہے یعنی وہ مشروب جو خرما سے بنایا گیا ہو اور اس کو اس قدر جوش دیا گیا ہو، اگر اس میں گاڑھا پن بھی آگیا ہو تو اس کا پینا جائز ہے۔ دوسری قسم خلیط ہے یعنی وہ شربت جو خرما اور منقی کو قدرے جوش دے کر ان سے نکالا گیا ہو۔ تیسری قسم وہ نبیذ ہے جو شہد، گیہوں، جو اور جوار وغیرہ کو پانی میں قدرے جوش دے کر مشروب کی صورت میں بنائی گئی ہو۔ اور چوتھی قسم مثلث یمنی ہے اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ انگور کے عرق کو اتنا پکایا جاتا ہے کہ اس کا وہ حصہ خشک ہوجاتا ہے اور ایک حصہ شراب کی شکل میں باقی رہ جاتا ہے۔ ان چاروں چیزوں کے بارے میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ان کو عبادت کے لئے طاقت حاصل کرنے کی غرض سے پئے تو جائز ہے اور اگر لہو ولعب کے طور پر اور جنسی لذت کے لئے پئے تو حرام ہے لیکن حضرت امام محمد کے نزدیک عبادت کے لئے طاقت حاصل کرنے کی غرض سے بھی ان کا پینا حرام ہے۔ چناچہ حنفی مسلک میں اہل تحقیق کا فتویٰ حضرت امام محمد ہی کے قول پر ہے، جیسا کہ یمنی شرح کنز میں لکھا ہے کہ حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی، حضرت امام احمد اور حنیفہ میں سے حضرت امام محمد کا قول یہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اور بدمست بنا دیتی ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے خواہ کسی طرح کا نشہ ہو کیونکہ ابن ماجہ اور دارقطنی کے مطابق رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو چیز نشہ آور ہو وہ شراب ہے اور ساری نشہ آور چیزیں حرام ہیں، لہٰذا حنفیہ مسلک میں فتویٰ امام محمد کے قول پر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور حرام ہے خواہ وہ مشروب کی صورت میں ہو اور انگور یا کھجور یا منقی یا شہد سے بنے یا گیہوں، جو، باجرہ یا جوار سے بنے اور خواہ وہ کسی درخت کا عرق ہو جیسے تاڑی وغیرہ یا کوئی گھاس ہو بھنگ وغیرہ اسی طرح وہ ہر مقدار میں حرام ہے خواہ تھوڑی ہو یا بہت ہو، نیز اگر کوئی شخص نشہ کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے تو مفتی بہ قول کے مطابق اس کی طلاق واقع ہوجائے خواہ شراب کا نشہ ہو یا نبیذ وغیرہ کا۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی، حضرت امام احمد بن حنبل اور حنفیہ میں سے حضرت امام محمد نیز محدثین کرام کا مسلک یہ ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے خواہ تھوڑی ہو یا بہت ہو اور اگرچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک وہ مشروب نجس و حرام اور شراب کے حکم میں ہے جب میں ابال، گاڑھا اور جھاگ پیدا ہوگیا ہو، اس کے علاوہ اور چیزیں جب تک کہ ان میں نشہ نہ ہو حرام نہیں ہے۔ لیکن حنفی مسلک کے احتیاط پسند مصنفین کے ہاں فتویٰ حضرت امام محمد ہی کے قول پر ہے جیسا کہ نہایہ، عینی، دیلمی، درمختار، الاشباہ والنظائر، فتاوٰی عالمگیری، فتاویٰ حمادیہ اور شرح مواہب الرحمن میں مذکور ہے بلکہ شرح وہبانیہ وغیرہ میں تو حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا قول بھی حضرت امام محمد کے مطابق ہی منقول ہے اس صورت میں یہ مسئلہ تمام آئمہ ومجتہدین کا متفقہ ہوجاتا ہے، چناچہ حضرت مولانا عبد العلی لکھنوی نے ایک استفتاء کے جواب میں تاڑی اور نان پاؤ (ایک قسم کی خمیری روٹی) کی حرمت کو ظاہر کرتے ہوئے اس مسئلہ پر بڑی تحقیق و تفصیل اور وضاحت کے ساتھ لکھا ہے اور تیس چالیس حنفی و شافعی علماء نے اپنی تصدیق کی مہریں ثبت کی ہیں۔ نشہ آور چیزوں میں ایک قسم کی بھنگ نشہ لانے والی گھاس اور جڑی بوٹیاں اور افیون ہیں کہ ان کو کھانا پینا بھی حرام ہے کیونکہ یہ چیزیں بھی انسان کی عقل کو تباہ کرتی ہیں اور ذکر اللہ و نماز وغیرہ سے باز رکھتی ہیں۔ علماء نے لکھا ہے کہ جو شخص بھنگ وغیرہ کو حلال جانے وہ زندیق وبدعتی ہے، بلکہ فقیہ نجم الدین زاہدی نے تو ایسے شخص پر کفر کا حکم لگایا ہے اور اس کو قتل کردینا مباح جانا ہے۔ اسی طرح تمباکو بھی حرام ہے جیسا کہ درمختار میں لکھا ہے اور حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے حقہ نوشی کو مکروہ تنزیہی کہا ہے کیونکہ حقہ پینے والے کے منہ سے پیاز و لہسن کے مانند بدبو ہی نہیں بلکہ اس میں ایک طرح سے دوزخیوں کی مشابہت بھی ہے۔ کہ جس طرح دوزخیوں کو منہ سے دھواں نکلے گا اسی طرح حقہ پینے والے کے منہ سے بھی دھواں نکلتا ہے، علاوہ ازیں حقہ نوشی ایک ایسی عادت ہے جس کو سلیم طبع، مکروہ جانتی ہے اور حقہ پینے سے بدن میں بہت زیادہ سستی پیدا ہوجاتی ہے اور بعضوں پر غشی بھی طاری ہوتی ہے اور یہ چیز مفتر میں داخل ہے اور ایک روایت کے مطابق جس کو حضرت امام احمد وغیرہ نے نقل کیا ہے۔ جو چیز مفتر یعنی سستی پیدا کرنے والی ہو وہ حرام ہے۔ صاحب صراح اور صحاح نے مفتر کے معنی سستی پیدا کرنے والا لکھا ہے اور حضرت امام ابوالقاسم حسین ابن محمد ابن مفضل راغب نے اپنی کتاب مفردات القرآن میں فتر اور فتور کے معنی یہ لکھے ہیں کہ تیزی کے بعد تھم جانا، شدت (چشتی) کے بعد نرم (صحت کے کمزور ہوجانا چناچہ یہ معنی حقہ پینے والے پر صادق آتے ہیں۔ جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ مفتر کے معنی میں بدن کا گرم ہوجانا بھی داخل ہے تو یہ شاذ معنی ہے جو اکثر علماء لغت کی تحقیق کے خلاف ہے یا اس سے اندر کی گرمی مراد ہے۔ بہر حال حقہ نوشی حق تعالیٰ کی رضا و خوشنودی سے بعید ہے کیونکہ حقہ، مسواک کی سنت کے منافی ہے بایں وجہ کہ مسواک منہ کو بدبو سے پاک کرتی ہے جب حقہ منہ کو بدبودار بناتا ہے اور مسواک کے بارے میں یہ حدیث صحاح وغیرہ میں منقول ہے کہ (السواک مطہرۃ للفم ومرضات للرب)۔ مسواک منہ کی صفائی و پاکیزگی کا ذریعہ اور حق تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کا سبب ہے۔
عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الخمر من هاتين الشجرتين : النخلة والعنبة . رواه مسلم (2/328) 3635 - [ 2 ] ( صحيح ) وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : خطب عمر رضي الله عنه على منبر رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إنه قد نزل تحريم الخمر وهي من خمسة أشياء : العنب والتمر والحنطة والشعير والعسل والخمر ما خامر العقل . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا شراب ان دو درختوں یعنی انگور اور کھجور سے بنتی ہے۔ (مسلم)
تشریح
مراد یہ ہے کہ اکثر انہی دو چیزوں سے شراب بنتی ہے، گویا یہاں حصر یعنی یہ ظاہر کرنا مراد نہیں ہے کہ شراب بس انہی دو چیزوں سے بنتی ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ کل مسکر خمر، یعنی ہر نشہ آور چیز شراب ہے چناچہ اس ارشاد میں جو عمومیت ہے اس سے بھی یہی واضح ہوتا ہے۔ اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ (ایک دن) حضرت عمر فاروق نے رسول کریم ﷺ کے منبر پر (کھڑے ہو کر) خطبہ دیا ارشاد فرمایا کہ شراب کی حرمت نازل ہوگئی ہے اور شراب پانچ چیزوں سے بنتی ہے یعنی انگور سے، کھجور سے، گیہوں سے، جو سے اور شہد سے اور شراب وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے۔ (بخاری) تشریح علماء نے وضاحت کی ہے کہ حضرت عمر نے اور شراب وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے۔ کے ذریعہ اس طرف اشارہ کیا کہ شراب کا انحصار انہی پانچ چیزوں میں نہیں ہے بلکہ ان کے علاوہ کسی بھی چیز سے بنا ہوا ہر وہ مشروب، شراب ہے جس میں نشہ ہو اور اس کے پینے سے عقل و شعور پر پردہ پڑجاتا ہو۔
پہلے زیادہ تر کجھور سے شراب بنتی تھی
وعن أنس قال : لقد حرمت الخمر حين حرمت وما نجد خمر الأعناب إلا قليلا وعامة خمرنا البسر والتمر . رواه البخاري
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اس وقت اس کی حرمت (نافذ) ہوگئی تھی اور (اس وقت) ہمیں انگور کی شراب کم ملتی تھی ہماری شراب زیادہ تر کچی کھجور اور خشک کھجور سے بنتی تھی۔ (بخاری)
تشریح
کھجور کے درخت پر پہلے جو شگوفہ لگتا ہے اس کو عربی میں طلع کہتے ہیں اور وہ کھجور کی ابتدائی حالت ہوتی ہے پھر اس کے بعد خلال پھر بسر پھر (رطب) اور پھر خشک ہوجانے کے بعد اس کی آخری شکل تمر ہوتی ہے۔
وعن عائشة قالت : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن البتع وهو نبيذ العسل فقال : كل شراب أسكر فهو حرام
اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے بتع یعنی شہد کی نبیذ کے بارے میں پوچھا گیا (کہ آیا اس کا پینا جائز ہے یا نہیں؟ ) تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ مشروب جو نشہ لائے، حرام ہے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
اس حدیث میں تو بتع کو با کے زیر اور تا کے جزم کے ساتھ یعنی بتع نقل کیا گیا ہے جب کہ یہ بعض جگہ تا کے زیر کے ساتھ منقول ہے شہد کی نبیذ اس شہد کو کہتے ہیں جس کو کسی برتن میں ڈال کر رکھ چھوڑا جائے تاکہ کھجور کی نبیذ کی طرح اس میں ایک خاص قسم کی تیزی پیدا ہوجائے، چناچہ اس کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر شہد کی نبیذ بھی نشہ لائے تو وہ بھی حرام ہے اور تمر کی نبیذ کا بھی یہی حکم ہے کہا جاتا ہے کہ اہل یمن کی شراب یہی بتع ہوتی ہے۔
جو شخص اس دنیا میں شراب پئے گا وہ شراب طہور سے محروم رہے گا
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل مسكر خمر وكل مسكر حرام ومن شرب الخمر في الدنيا فمات وهو يدمنها لم يتب لم يشربها في الآخرة . رواه مسلم
اور حضرت ابن عمر راوی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو چیز نشہ لائے وہ شراب ہے اور جو چیز نشہ لانے والی ہے وہ حرام ہے (خواہ مقدار میں تھوڑی ہو یا زیادہ ہو) اور جو شخص دنیا میں شراب پئے گا وہ ہمیشہ پیتا رہے یہاں تک کہ بغیر توبہ کئے مرجائے گا تو اس کو آخرت میں شراب پینا نصیب نہ ہوگا۔ (مسلم)
تشریح
اس کو آخرت میں شراب پینا نصیب نہ ہوگا سے مراد یا تو اس شخص کی حالت کو بیان کرنا ہے جو شراب کو حلال جانتے ہوئے ہمیشہ پیتا تھا۔ یا یہ ارشاد زجر وتوبیخ اور شراب پینے کی شدید ممانعت پر محمول ہے اور یا یہ مراد ہے کہ اس شخص کو آخرت میں ان لوگوں کے ساتھ شراب طہور پینا نصیب نہیں ہوگا جو نجات یافتہ اور جنت میں پہلے داخل ہونے والوں میں ہونگے۔
وعن جابر أن رجلا قدم من اليمن فسأل النبي صلى الله عليه و سلم عن شراب يشربونه بأرضهم من الذرة يقال له المزر فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أو مسكر هو ؟ قال : نعم قال : كل مسكر حرام إن على الله عهدا لمن يشرب المسكر أن يسقيه من طينة الخبال . قالوا : يا رسول الله وما طينة الخبال ؟ قال : عرق أهل النار أو عصارة أهل النار . رواه مسلم
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ یمن کا ایک شخص (دربار نبوی ﷺ میں آیا اور نبی کریم ﷺ سے جوار کی شراب کے بارے میں پوچھا جو یمن میں پی جاتی تھی اور جس کو مزر کہا جاتا، آنحضرت ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا وہ نشہ لاتی ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں آپ ﷺ نے فرمایا نشہ لانے والی ہر چیز حرام ہے اور (یاد رکھو) کہ اللہ تعالیٰ کا یہ عہد ہے کہ جو شخص نشہ لانے والی کوئی بھی چیز پئے گا وہ اس کو طینہ الخبال پلائے گا۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! طینۃ الخبال کیا ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خبال دوزخیوں کا پسینہ ہے۔ یا فرمایا کہ۔ خبال وہ پیپ اور لہو ہے جو دوزخیوں کے زخموں سے بہتا ہے۔ (مسلم )
وعن أبي قتادة : أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن خليط التمر والبسر وعن خليط الزبيب والتمر وعن خليط الزهو والرطب . وقال : انتبذوا كل واحد على حدة . رواه مسلم
اور حضرت ابوقتادہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے خشک کھجور اور کچی کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے، خشک کھجور اور خشک کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے کہ کچی کھجور اور تر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے کہ (اگر نبیذ بنانا ہی ہو تو) ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بناؤ۔ (مسلم )
تشریح
آنحضرت ﷺ نے دو پھلوں کو ملا کر بھگونے (یعنی ان کا نبیذ بنانے) سے منع فرمایا اور الگ الگ کر کے بھگونے (اور اس کی نبیذ بنانے) کو جائز رکھا ہے اس میں حکمت یہ ہے کہ جب دو مختلف طرح کے پھل ایک ساتھ بھگوئے جائیں گے تو ایک پر پانی جلد اثر کرے گا۔ اور دوسرے پر دیر سے، نتیجہ یہ ہوگا جو پانی سے جلد تغیر قبول کرے گا اس میں نشہ پیدا ہوجائے گا اور اس کا اثر دوسرے تک پہنچے کا، اس طرح جو نبیذ تیار ہوگی اس میں ایک نشہ آور چیز مخلوط ہوجانے کا قوی امکان ہوگا جس کا امتیاز کرنا ممکن نہیں ہوگا لہٰذا جب اس نیبذ کو پیا جائے گا تو گویا ایک حرام چیز کو پینا لازم آئے گا۔ چناچہ حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد نے اسی کی بنیاد پر اس حدیث کے ظاہری مفہوم پر عمل کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی نبیذ پینا جو دو پھلوں کو باہم بھگو کر بنائی گئی ہو، حرام ہے خواہ اس میں نشہ ہو یا نشہ نہ ہو لیکن جمہور علماء یہ فرماتے ہیں کہ ایسی نبیذ کا پینا اسی صورت میں حرام ہوگا جب کہ وہ نشہ آور ہو۔
شراب کا سرکہ بنا کر اس کو کھانے پینے کے کام میں لانا جائز ہے
وعن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم سئل عن الخمر يتخذ خلا ؟ فقال : لا . رواه مسلم
اور حضرت انس راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ اگر شراب (میں نمک وپیاز وغیرہ ڈال کر اس) کا سرکہ بنا لیا جائے تو وہ حلال ہے یا نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں (مسلم )
تشریح
حنیفہ کہتے کہ اگر شراب، سرکہ میں تبدیل ہوجائے تو اس کو کھانے پینے کے مصرف میں لانا جائز ہوگا خواہ شراب میں کوئی چیز ڈال کر اس کا سرکہ بنا لیا گیا ہو یا اس میں کوئی چیز ڈالے بغیر مثلاً زیادہ دن رکھے رہنے یا دھوپ میں رکھ دینے کی وجہ سے خود بخود اس کا سرکہ بن گیا ہو۔ حضرت امام شافعی یہ فرماتے ہیں کہ اگر شراب میں کوئی چیز ڈال کر اس کا سرکہ بنایا تو وہ حلال نہیں ہے۔ اور اگر کچھ ڈالے بغیر مثلاً دھوپ میں رکھ دینے کی وجہ سے اس کا سرکہ بن گیا ہو تو اس کے بارے میں ان کے دو قول ہیں جس میں سے صحیح قول یہ ہے کہ وہ شراب، شراب نہیں رہے گی بلکہ اس میں پاکی آجائے گی اور اس کو کھانے پینے کے کام میں لانا جائز ہوگا۔ حنفیہ کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اول تو بلا کسی قید کے یہ فرمایا ہے کہ حدیث (نعم الادام الخل) (بہترین سالن، سرکہ ہے) لہٰذا جو چیز بھی سرکہ ہوگی اس کا استعمال حلال ہوگا، دوسرے جب شراب میں سے وہ بری خاصیت نکل گئی جس کی وجہ سے وہ حرام تھی اور اس میں اچھی خاصیت پیدا ہوگئی تو اب وہ ایک مباح چیز کے درجہ میں آگئی لہٰذا اس کا کھانا پینا حلال ہوگا جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں حنفیہ کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس کو حلال اس لئے نہیں فرمایا تھا کہ اس وقت شراب کی حرمت نازل ہوئے تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا اور لوگوں نے بڑی طویل عادت کو ترک کر کے شراب سے منہ موڑا تھا اور یہ ایک فطری بات ہے کہ انسان جس کو ایک طویل عادت کے بعد چھوڑتا ہے اس کی طرف اس کی طبیعت اور خواہش کا میلان کافی عرصہ تک رہتا ہے، لہٰذا آنحضرت ﷺ نے اس وقت شیطان کی مداخلت سے خوف محسوس فرما کر کہ مبادا شیطان لعین کو اپنا حربہ آزمانے کا موقع مل جائے اور اس کے نتیجہ میں لوگ اس چیز کو شراب پینے کا وسیلہ بنالیں، آپ نے اس کو حلال نہیں فرمایا لیکن شراب کی حرمت پر طویل عرصہ گذر جانے اور شراب کی طرف لوگوں کے میلان کے ہلکے سے بھی شائبے کی جڑیں تک اکھڑ جانے کے بعد جب اس قسم کا کوئی خوف نہ رہا اور اس طرح وہ مصلحت ختم ہوگئی جس کی بناء اس کو حلال نہ فرمایا گیا تھا تو وہ حرمت زائل ہوگئی اور پھر شراب سے بنے ہوئے سرکہ کو استعمال کرنا بھی حلال ہوگیا۔ علاوہ ازیں صاحب ہدایہ نے ایک روایت بھی نقل کی ہے جس کو بیہقی نے اپنی کتاب معرفت میں حضرت جابر سے بطریق مرفوع نقل کیا ہے کہ حدیث (خیر خلکم خل خمرکم)۔ (بیہقی ) یعنی تمہارے سرکوں میں بہترین سرکہ وہ ہے۔ جو شراب سے بنا ہو۔
شراب کو دوا کے طور پر بھی استعمال کرنا جائز نہیں ہے
وعن وائل الحضرمي أن طارق بن سويد سأل النبي صلى الله عليه و سلم عن الخمر فنهاه . فقال : إنما أصنعها للدواء فقال : إنه ليس بدواء ولكنه داء . رواه مسلم
اور حضرت وائل حضرمی روایت کرتے ہیں کہ طارق ابن سوید نے نبی کریم ﷺ سے شراب نوشی کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ان کو منع فرمایا پھر طارق نے کہا کہ ہم تو شراب کو دوا کے طور پر استعمال کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ دوا نہیں ہے بلکہ (خود ایک) بیماری ہے۔ (مسلم )
تشریح
اکثر علماء نے شراب کو دوا کے طور پر بھی استعمال کرنے سے منع کیا ہے جب کہ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اگر حاذق طبیب ومعالج کے کہنے کے مطابق شراب ہی کسی مرض کا واحد علاج ہو یعنی معالج یہ کہے کہ اس مرض کی بس شراب ہی دوا ہے اور کوئی دوا نہیں ہے تو اس صورت میں اس کا استعمال مباح ہوگا، اسی طرح اگر حلق میں کوئی لقمہ وغیرہ اٹک اور اس کی وجہ سے جان کی ہلاکت کا خوف ہو نیز اس وقت پانی یا ایسی اور کوئی چیز موجود نہ ہو جس سے وہ لقمہ وغیرہ حلق سے اتر جائے تو اس صورت میں تمام علماء کا متفقہ فیصلہ یہ ہے کہ صرف اتنی شراب پی لینا حلال ہے جس سے وہ لقمہ وغیرہ حلق سے نیچے چلا جائے۔ کسی حرام چیز میں اللہ نے شفا نہیں رکھی ہے، پچھلے باب کے ابتدا میں بتایا گیا تھا کہ شراب کی حرمت دفعۃً نازل ہونے کی بجائے بتدریج نازل ہوئی ہے، چناچہ اس سلسلہ میں جو پہلی آیت نازل ہوئی ہے وہ بھی اس موقع پر نقل کی گئی ہے اس آیت میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ (ومنافع للناس) یعنی اس شراب میں لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں۔ وہ فائدے کیا ہیں، اس بارے میں مفسرین نے بہت کچھ لکھا ہے لیکن بعض مفسرین نے وضاحت کی ہے کہ فائدے سے مراد انسانی بدن کی صحت ہے کہ شراب نسان کی جسم کو کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے یا اس کے ذریعہ کسی مرض سے نجات مل سکتی ہے۔ اس ضمن میں آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بھی ملحوظ رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی حرام چیز میں شفا نہیں رکھی ہے۔
عن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من شرب الخمر لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا فإن تاب تاب الله عليه . فإن عاد لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا فإن تاب تاب الله عليه فإن عاد لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا فإن تاب تاب الله عليه فإن عاد في الرابعة لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا فإن تاب لم يتب الله عليه وسقاه من نهر الخبال . رواه الترمذي (2/330) 3644 - [ 11 ] ( لم تتم دراسته ) ورواه النسائي وابن ماجه والدارمي عن عبد الله بن عمرو
حضرت عبداللہ ابن عمرو راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص (پہلی مرتبہ) شراب پیتا ہے (اور توبہ نہیں کرتا) تو اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا، پھر اگر وہ (خلوص دل سے) توبہ کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے، پھر اگر وہ (دوسری مرتبہ) شراب پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا اور پھر اگر وہ توبہ کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے پھر اگر وہ (تیسری مرتبہ) شراب پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا اور پھر اگر وہ توبہ کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ چوتھی مرتبہ شراب پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ (نہ صرف یہ کہ) چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا (بلکہ) اگر وہ توبہ کرتا ہے تو اس کی توبہ (بھی) قبول نہیں کرتا اور (آخرت میں) اس کو دوزخیوں کی پیپ اور لہو کی نہر سے پلائے گا۔ (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے اس روایت کو عبداللہ ابن عمرو سے نقل کیا ہے۔
تشریح
اس کی نماز قبول نہیں کرتا کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کو اپنی نماز کا ثواب نہیں ملتا اگرچہ وقت پر نماز کی ادائیگی کا فرض اس پر سے ساقط ہوجاتا ہے۔ یہاں خاص طور پر نماز کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ جب نماز جیسی عبادت قبول نہیں ہوتی جو تمام بدنی عبادتوں میں سب سے افضل ہے تو دوسری عبادتیں بطریق اولی قبول نہیں ہوں گی نیز چالیس دن کی تعداد شائد اس لئے لگائی گئی ہے کہ شراب پینے والے کے باطن میں شراب کا اثر مختلف نوعیتوں سے اتنی ہی مدت تک رہتا ہے۔ یہ بات محلوظ رہنی چاہئے کہ آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا کہ چوتھی مرتبہ میں قبول نہیں کی جاتی دراصل زجر وتشدید اور سخت تنبیہ پر محمول ہے کیونکہ ایک جگہ یہ فرمایا گیا ہے کہ جس شخص نے گناہ سے توبہ کی اور نادم ہوا اور اللہ تعالیٰ سے بخشش کی امید رکھی تو اس نے اصرار نہیں کیا (یعنی ایسے شخص کو مصر نہیں کہہ سکتے اور اس کی توبہ قبول ہوگی) اگرچہ ایک ہی دن میں وہی گناہ ستر بار کرے یا یہ مراد ہے کہ جو شخص بار بار شراب پیتا ہے تو اس ام الخبائث کے ارتکاب کی نحوست کی وجہ سے اس کو حقیقی توبہ کی توفیق عطا نہیں ہوتی اور آخرکار وہ مصر مرجاتا ہے۔
نشہ آور چیز کی قلیل مقدار بھی حرام ہے
وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما أسكر كثيره فقليله حرام . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
اور حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو چیز نشہ لاتی ہو اس کی قلیل ترین مقدار بھی حرام ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، )
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر مثلًا شراب کی کوئی ایسی قسم ہے جس کی زیادہ مقدار نشہ لاتی ہے، کم مقدار نشہ نہیں لاتی تو یہ نہیں ہے کہ اس کو کم مقدار میں پینا جائز ہوگا بلکہ اس کی کم مقدار بھی حرام ہوگی کیونکہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ پہلے جس چیز کی کم مقدار کو اختیار کرتا ہے وہی کم مقدار اس کو زیادہ مقدار تک پہنچا دیتی ہے لہٰذا اس کم مقدار سے بھی اجتناب کرنا ضروری ہوگا۔