Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 179 of 317

3561Mishkaat-al-Masabih

دوبارہ اور سہ بارہ چوری کرنے کی سزا

وعن أبي سلمة عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال في السارق : إن سرق فاقطعوا يده ثم إن سرق فاقطعوا رجله ثم إن سرق فاقطعوا يده ثم إن سرق فاقطعوا رجله . رواه في شرح السنة (2/319) 3603 - [ 14 ] ( لم تتم دراسته ) وعن جابر قال : جيء بسارق إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : اقطعوه فقطع ثم جيء به الثانية فقال : اقطعوه فقطع ثم جيء به الثالثة فقال : اقطعوه فقطع ثم جيء به الرابعة فقال : اقطعوه فقطع فأتي به الخامسة فقال : اقتلوه فانطلقنا به فقتلناه ثم اجتررناه فألقيناه في بئر ورمينا عليه الحجارة . رواه أبو داود والنسائي (2/319) 3604 - [ 15 ] ( لم تتم دراسته ) وروي في شرح السنة في قطع السارق عن النبي صلى الله عليه و سلم : اقطعوه ثم احسموه

اور حضرت ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ ؓ یہ نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے چور کے بارے میں فرمایا کہ جب وہ چوری کرے تو اس کا (دایاں) ہاتھ کاٹا جائے، پھر اگر چوری کرے تو اس کا (بایاں) ہاتھ کاٹا جائے اور پھر اگر چوری کرے تو اس کا (دایاں) پیر کاٹا جائے۔ (شرح السنۃ) تشریح پہلی مرتبہ چوری کرنے پر دایاں ہاتھ کاٹنا اور پھر دوبارہ چوری کرنے پر بایاں پیر کاٹنا تو علماء کا متفقہ مسلک ہے لیکن پھر تیسری مرتبہ چوری کرنے پر بایاں ہاتھ کاٹنے اور چوتھی مرتبہ چوری کرنے پر دایاں ہاتھ اور بایاں پیر کاٹا جائے، لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ تیسری مرتبہ چوری کرنے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا بلکہ اس کو قید خانہ میں ڈال دیا جائے گا تاآنکہ وہ اسی میں مرجائے یا توبہ کرے امام اعظم کے اس مسلک کی دلیل یہ ہے کہ اول تو اس بات پر صحابہ کا اجماع و اتفاق ہوگیا تھا، دوم یہ کہ کسی شخص کو اس کے چاروں ہاتھ پیر سے محروم کردینا گویا اس کو اپنے وجود کی بقاء کے سارے ذرائع و اسباب سے محروم کردینا ہے جو اس کے حق میں سزا سے بڑھ کر ایک قسم کی زیادتی ہے جہاں تک اس حدیث کا سوال ہے تو پہلی بات یہ ہے کہ اصل میں یہ حدیث تہدید و سیاسی مصالح پر محمول ہے، دوسری بات یہ کہ محدثین نے اس کے صحیح ہونے میں کلام کیا ہے چناچہ طحاوی نے اس حدیث پر ان الفاظ میں طعن کیا ہے کہ میں نے صحابہ کے بہت سارے آثار وقضایا (اور نظائر و فیصلے) دیکھے لیکن انتہائی تلاش کے باوجود مجھے اس حدیث کی کوئی بنیاد نہیں مل سکی، علاوہ ازیں میں نے بہت سے حفاظ حدیث سے ملاقات کی وہ سب اس حدیث (کی واقفیت) سے انکار کرتے تھے۔ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ پیر کاٹنے کے بارے میں اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ گھٹنے کے پاس سے پاؤں کاٹا جائے۔ اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک چور کو لایا گیا تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا (دایاں) ہاتھ کاٹ دو، چناچہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، دوبارہ اس کو پھر لایا گیا تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ (اس کا بایاں پاؤں) کاٹ دیا گیا پھر تیسری مرتبہ لایا گیا تو آپ ﷺ نے حکم دیا (اس کا بایاں ہاتھ) کاٹ دو، چناچہ اس کا بایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر چوتھی مرتبہ لایا گیا تو فرمایا کہ (اس کا دایاں پیر) کاٹ دو، چناچہ (اس کا دایاں پیر) کاٹ دیا گیا اور پھر جب پانچویں مرتبہ اس کو لایا گیا تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کو مار ڈالو، چناچہ ہم اس کو (پکڑ کر) لے گئے اور مار ڈالا، اس کے بعد ہم اس کی لاش کو کھینچتے ہوئے لائے اور کنویں میں ڈال کر اوپر سے پتھر پھینک دئیے (ابو داؤد، نسائی) اور بغوی نے شرح السنۃ میں چور کے ہاتھ کاٹنے کے سلسلے میں نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ اس کا ہاتھ کاٹو اور پھر اس (ہاتھ کو داغ دو )۔ تشریح اور پھر اس کو داغ دو کا مطلب یہ ہے کہ جس ہاتھ کو کاٹا گیا ہے اس کو گرم تیل یا گرم لوہے سے داغ دو تاکہ خون بند ہوجائے اگر داغا نہ جائے گا تو جسم کا تمام خون بہہ جائے گا اور چور ہلاک ہوجائے گا۔ خطابی فرماتے ہیں کہ میرے علم میں ایسا کوئی فقیہہ وعالم نہیں ہے جس نے چور کو مار ڈالنا مباح رکھا ہو خواہ وہ کتنی ہی بار چوری کیوں نہ کرے، چناچہ وہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد گرامی حدیث (لا یحل دم امرء الا باحدی ثلث) کے ذریعہ منسوخ ہے، بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس چور کو مار ڈالنے کا حکم دیا وہ سیاسی وانتظامی مصالح کی بناء پر تھا، چناچہ امام وقت (حاکم) کو یہ حاصل ہے کہ وہ مفسدہ پردازوں، چور اچکوں اور ملکی امن و قانون کے مجرموں کی تعزیر میں اپنی رائے و اجتہاد پر عمل کرے اور جس طرح چاہے ان کو سزا دے۔ اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو یہ معلوم ہوا ہوگا کہ یہ شخص مرتد ہوگیا ہے اس لئے آپ ﷺ نے اس کا خون مباح کردیا اور اس کو مار ڈالنے کا حکم دیا۔ اسی طرح بعض حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ اس حدیث کو اس بات پر محمول کرنا اولی ہے کہ وہ شخص چوری کو حلال جانتا تھا اس لئے بار بار اس کا ارتکاب کرتا تھا اسی وجہ سے اس کو اتنی سخت سزا دی گئی بہرکیف ان تاویلات میں سے کسی بھی ایک تاویل کو اختیار کرنا ضروری ہے کیونکہ اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کو مار ڈالنے کے بعد اس کی لاش کو اس طرح کھینچ کر کنویں میں ڈال دینا ہرگز مباح نہ ہوتا۔

3562Mishkaat-al-Masabih

چور کا کٹا ہوا اس کی گردن میں لٹکا دینے کا مسئلہ

وعن فضالة بن عبيد قال : أتي رسول الله صلى الله عليه و سلم بسارق فقطعت يده ثم أمر بها فعلقت في عنقه . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه

اور حضرت فضالہ ابن عبید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک چور لایا گیا چناچہ (آنحضرت ﷺ کے حکم سے) اس کا ہاتھ کاٹا گیا پھر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا کٹا ہوا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا جائے (تا کہ اس سے دوسرے عبرت پکڑیں) چناچہ وہ ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۔ (ابو داود، نسائی ابن ماجہ ) تشریح ابن ہمام فرماتے ہیں کہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد سے یہ منقول ہے کہ چور کا کٹا ہوا ہاتھ اس کی گردن لٹکا دینا سنت ہے جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک یہ امام (حاکم) کی مرضی پر موقوف ہے کہ اگر وہ مناسب جانے تو چور کا کٹا ہوا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دے، یہ سنت نہیں ہے کیونکہ یہ ثابت نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے چور کا کٹا ہوا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکایا ہو۔

3563Mishkaat-al-Masabih

جو غلام چوری کرنے لگے اس کو بیچ ڈالو :

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا سرق المملوك فبعه ولو بنش . رواه أبو داود والنسائي وابن ماجه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر غلام چوری کرے تو اس کو بیچ ڈالو اگرچہ نش کے بدلے میں اس کو بیچنا پڑے۔ (ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ) تشریح نش نون کے زبر اور شین کے ساتھ) نصف اوقیہ یعنی بیس درہم کو کہتے تھے مراد یہ ہے کہ چوری کرنے والے غلام کو بیچ ڈالو اگرچہ اس کو کتنی ہی کم قیمت میں کیوں نہ بیچنا پڑے کیونکہ چوری کا ارتکاب کر کے وہ عیب دار ہوگیا ہے اور عیب دار غلام کو اپنے پاس رکھنا مناسب نہیں ہے۔ حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی اور اکثر اہل علم یہ فرماتے ہیں کہ اگر غلام چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے خواہ وہ بھگوڑا ہو یا غیر بھگوڑا۔ اس بارے میں امام اعظم ابوحنیفہ کا قول یہ ہے کہ اگر خاوند بیوی میں سے کوئی ایک دوسرے کا مال چرائے یا کوئی غلام اپنے مالک یا اپنے مالک کی بیوی اور یا اپنی مالکہ کے خاوند کے مال کی چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ عام طور پر خاوند بیوی کو ایک دوسرے کے مال پر اور غلام کو اپنے آقا اور اس کے گھر والوں کے مال و اسباب پر خود ان کی اجازت سے دسترس حاصل ہوتی ہے اس صورت میں حرز کی شرط پوری طرح نہیں پائی جاتی جو قطع ید کی سزا کے لئے ضروری ہے۔

3564Mishkaat-al-Masabih

مجرم کو معاف کردینے کا حق حاکم کو حاصل نہیں ہے :

عن عائشة قالت : أتي رسول الله صلى الله عليه و سلم بسارق فقطعه فقالوا : ما كنا نراك تبلغ به هذا قال : لو كانت فاطمة لقطعتها . رواه النسائي

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ (ایک دن ) رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک چور لایا گیا اور جب آنحضرت ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو صحابہ نے عرض کیا کہ ہمیں یہ خیال نہ تھا کہ آپ ﷺ اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمائیں گے (بلکہ ہمارا گمان تو یہ تھا کہ آپ اس کو معاف کردیں گے) آنحضرت ﷺ نے (یہ سن کر ) فرمایا اگر فاطمہ (بنت محمد ﷺ بھی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کٹوا دیتا۔ تشریح بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ چور کوئی ایسا شخص تھا جس سے آنحضرت ﷺ کی کوئی قرابت تھی، یا آپ ﷺ کے متعلقین میں سے کوئی فرد تھا اور اسی وجہ سے صحابہ کے گمان کے مطابق اس کے ساتھ نرمی اور رعایت کئے جانے کا امکان تھا چناچہ آنحضرت ﷺ نے واضح کردیا کہ قطع ید کی سزا اللہ تعالیٰ کا حق ہے جس کو نافذ کرنا مجھ پر واجب ہے، اس میں چشم پوشی کرنا نہ صرف یہ کہ عدل و انصاف کے منافی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی اور اس کے حق میں بےجا مداخلت کے مترادف بھی ہے اگر بالفرض میرے جگر کا ٹکڑا فاطمہ سے بھی یہ فعل صادر ہوتا تو میں اس پر بھی یہ سزا نافذ کرتا اور اس کے ہاتھ کٹوا دیتا۔

3565Mishkaat-al-Masabih

اگر غلام اپنے مالک کی چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا

وعن ابن عمر قال : جاء رجل إلى عمر بغلام له فقال : اقطع يده فإنه سرق مرآة لامرأتي فقال عمر رضي الله عنه : لا قطع عليه وهو خادمكم أخذ متاعكم . رواه مالك

اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر فاروق کے پاس اپنے غلام کو لے کر آیا اور کہا کہ اس کے ہاتھ کٹوا دیجئے کیونکہ اس نے میری بیوی کا آئینہ چرا لیا ہے، لیکن حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ قطع ید کا مستوجب نہیں ہے کیونکہ یہ تمہارا خدمت گار ہے اور تمہاری ہی چیز اس نے لی ہے۔ (مالک ) تشریح گویا حضرت عمر نے اپنے فیصلہ کے ذریعہ اس پر قطع ید کی سزا نافذ نہ کرنے کی علت و وجہ کی طرف اشارہ کیا اور وہ اذن (یعنی اجازت) کا پایا جانا ہے کہ تمہارے خادم ہونے کی حیثیت سے جب اس کو تمہارے ساتھ رہنے سہنے اور تمہارے مال و اسباب کی دیکھ بھال کرنے کی اجازت حاصل ہے اور اس اعتبار سے تمہارے اور تمہارے گھر کا مال خود تمہاری مرضی سے اس کی دسترس میں ہے تو اس صورت میں احراز یعنی مال کا غیر کی دسترس سے محفوظ ہونا نہ رہا اور جب احراز نہ رہا تو پھر یہ قطع ید کا سزاوار بھی نہیں ہوگا چناچہ حنیفہ اور حضرت امام احمد کا یہی مسلک ہے جب کہ دوسرے علماء کا مسلک اس کے برخلاف ہے۔

3566Mishkaat-al-Masabih

کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے یا نہیں ؟

وعن أبي ذر قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أبا ذر قلت : لبيك يا رسول الله وسعديك قال : كيف أنت إذا أصاب الناس موت يكون البيت فيه بالوصيف يعني القبر قلت : الله ورسوله أعلم . قال : عليك بالصبر قال حماد بن أبي سليمان : تقطع يد النباش لأنه دخل على الميت بيته . رواه أبو داود

اور حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے ابوذر! میں نے عرض کیا میں حاضر ہوں یا رسول اللہ! اور فرمانبردار ہوں، فرمائیے کیا ارشاد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم اس وقت کیا کرو گے جب لوگوں کو موت) یعنی کوئی وبا اپنی لپیٹ میں لے لے کی (کیا اس وقت تم موت سے بھاگ کھڑے ہو گے یا صبر و استقامت کی راہ اختیار کرو گے؟ اور گھر یعنی قبر کی جگہ ایک غلام کے برابر ہوجائے گی (یعنی اس وقت وبا کی وجہ سے اتنی کثرت سے اموات ہوں گی کہ ایک قبر کی جگہ ایک ایک غلام کی قیمت کے برابر خریدی جائے گی میں نے عرض کیا اس کے بارے میں اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں (یعنی میں نہیں جانتا کہ اس وقت میرا کیا ہوگا، آیا میں صبر و استقامت کی راہ اختیار کروں یا اپنا مسکن چھوڑا کر بھاگ کھڑا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس وقت تم پر صبر لازم ہے حضرت حماد ابن سلمہ کہتے ہیں کہ کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے کیونکہ وہ میت کے گھر میں داخل ہوا ہے۔ (ابوداؤد ) تشریح حضرت حماد ابن ابوسلیمان نے آنحضرت ﷺ کے ارشاد سے بظاہر بڑا لطیف نکتہ پیدا اور یہ استدلال کیا کہ آنحضرت ﷺ نے چونکہ قبر کو گھر کہا ہے اس طرح گھر کی طرح قبر بھی حرز ہوئی جیسے اور کوئی شخص گھر میں سے کوئی چیز چرائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے ایسے ہی اگر کوئی شخص قبر میں سے کفن چرائے گا تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت حماد کا یہ استدلال مضبوط نہیں ہے کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ جگہ حرز کے حکم میں ہوں جس پر گھر کا اطلاق ہوتا ہو مثال کے طور پر فرض کیجئے اگر کوئی شخص کسی ایسے گھر میں سے کچھ مال چراتا ہے جس کا دروازہ بند نہ ہو یا جس میں کوئی نگہبان موجود نہ ہو تو متفقہ طور پر تمام علماء کا فیصلہ یہ ہے کہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ اگرچہ اس نے ایک گھر کے اندر سے مال چوری کیا ہے مگر اس گھر کے عدم محفوظ ہونے کی وجہ سے وہ حرز نہیں رہا اور جب اس صورت میں حرز کی شرط نہیں پائی گئی تو اس پر قطع ید کی سزا بھی نافذ نہیں ہوگی۔ ٹھیک اسی طرح قبر کو اگرچہ گھر فرمایا گیا ہے لیکن چونکہ وہ حرز یعنی محفوظ نہیں ہے اس لئے اس میں سے کفن چرانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام محمد کا مسلک یہ ہے کہ ہاتھ کاٹنے کی سزا کفن چور پر نافذ نہیں ہوگی جب کہ تینوں آئمہ او حنفیہ میں سے) حضرت امام ابویوسف کا قول یہ ہے کہ کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اس مسئلہ کی باقی تفصیل مرقات میں دیکھی جاسکتی ہے۔

3567Mishkaat-al-Masabih

حدود کے مقدمہ میں شفارش کا بیان

اس باب میں وہ احادیث نقل کی جائیں گی جن سے یہ معلوم ہوگا کہ امام یعنی حاکم کو سفارش کرنا کہ وہ فلاں مجرم کو معاف کر دے اور اس پر حد جاری نہ کرے، جائز ہے یا نہیں اور یہ کہ حاکم اس سفارش کو قبول کرنے کا اختیار رکھتا ہے یا نہیں،

3568Mishkaat-al-Masabih

حدود میں سفارش نہیں قبول کی جاسکتی

عن عائشة رضي الله عنها أن قريشا أهمهم شأن المرأة المخزومية التي سرقت فقالوا : من يكلم فيها رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فقالوا : ومن يجترئ عليه إلا أسامة بن زيد حب رسول الله صلى الله عليه و سلم فكلمه أسامة . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتشفع في حد من حدود الله ؟ ثم قام فاختطب ثم قال : إنما أهلك الذين قبلكم أنهم كانوا إذا سرق فيهم الشريف تركوه وإذا سرق فيهم الضعيف أقاموا عليه الحد وايم الله لو أن فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها . متفق عليه . وفي رواية لمسلم : قالت : كانت امرأة مخزومية تستعير المتاع وتجحده فأمر النبي صلى الله عليه و سلم بقطع يدها فأتى أهلها أسامة فكلموه فكلم رسول الله صلى الله عليه و سلم بقطع يدها فأتى أهلها أسامة فكلموه فكلم رسول الله صلى الله عليه و سلم فيها ثم ذكر الحديث بنحو ما تقدم

حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ (ایک مرتبہ) قریشی صحابہ ایک مخزومی عورت کے بارے میں بہت فکر مند تھے جس نے چوری کی تھی (اور لوگوں سے عاریۃ) سامان لے کر مکر بھی جاتی تھی اور آنحضرت ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تھا) ان قریشی صحابہ نے آپس میں یہ مشورہ کیا کہ اس عورت کے مقدمہ میں کون شخص آنحضرت ﷺ سے گفتگو (یعنی سفارش) کرسکتا ہے اور پھر انہوں نے یہ کہا کہ حضرت اسامہ ابن زید سے رسول کریم ﷺ کو بہت محبت وتعلق ہے اس لئے اس بارے میں آپ سے کچھ کہنے کی جرأت اسامہ کے علاوہ اور کسی کو نہیں ہوسکتی (چنانچہ ان سب نے حضرت اسامہ کو اس پر تیار کیا کہ وہ اس عورت کے بارے میں آنحضرت ﷺ سے گفتگو کریں ) حضرت اسامہ نے (ان لوگوں کے کہنے پر ) آنحضرت ﷺ سے گفتگو کی، رسول کریم ﷺ نے (ان کی بات سن کر) فرمایا کہ تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو؟ اور پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے خطبہ دیا اور (حمد وثنا کے بعد اس خطبہ میں) فرمایا کہ تم سے پہلے لوگ جو گذرے ہیں ان کو اسی چیز نے ہلاک کیا کہ ان میں سے کوئی شریف آدمی (یعنی دنیاوی عزت و طاقت رکھنے والا) چوری کرتا تو وہ اس کو (سزا دیئے بغیر) چھوڑ دیتے تھے اور اگر ان میں سے کوئی کمزور و غریب آدمی چوری کرتا تو سزا دیتے تھے، قسم ہے اللہ کی! اگر محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالوں۔ (بخاری ومسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ حضرت عائشہ نے بیان کیا ایک مخزومی عورت (کی یہ عادت) تھی کہ وہ لوگوں سے عاریۃً کوئی چیز لیتی اور پھر اس سے انکار کردیتی تھی، چناچہ نبی کریم ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ ڈالنے کا حکم دے دیا (جب) اس عورت کے اعزا (کو اس کا علم ہوا تو وہ) حضرت اسامہ کے پاس آئے اور ان سے اس بارے میں گفتگو کی (کہ وہ آنحضرت ﷺ سے سفارش کریں) اور پھر حضرت اسامہ نے آنحضرت ﷺ سے اس کے متعلق عرض کیا۔ اس کے بعد حدیث کے وہی الفاظ مذکور ہیں جو اوپر کی حدیث میں نقل کئے گئے ہیں۔ تشریح حدیث میں جس عورت کا ذکر کیا گیا ہے اس کا نام فاطمہ بنت اسود ابن الاسد تھا اور وہ حضرت ابوسلمہ کے بھائی کی بیٹی تھی، چونکہ وہ بنی مخزوم سے تھی جو قریش کا ایک بڑا قبیلہ تھا۔ اس لئے قبیلہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے اس کو مخزومیہ کہا گیا ہے۔ اس حدیث کے بموجب علماء کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ جب حد کا کوئی قضیہ امام (حاکم) کے پاس پہنچ جائے تو اس کے بعد مجرم کے حق میں امام سے سفارش کرنا بھی حرام ہے اور کسی دوسرے سے سفارش کرانا بھی حرام۔ ہاں امام کے پاس قضیہ پہنچنے سے پہلے سفارش کرنے کرانے کی اکثر علماء نے اجازت دی ہے بشرطیکہ جس شخص کے حق میں سفارش کی جائے وہ شریف اور لوگوں کو ایذاء پہنچانے والا نہ ہو۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے کسی ایسے جرم و گناہ کا ارتکاب کیا ہو جس میں حد جاری نہ ہوتی ہو بلکہ تعزیر نافذ ہوتی ہو تو اس کے حق میں سفارش کرنا اور سفارش کرانا بہرصورت جائز ہے خواہ اس کا قضیہ امام کے پاس پہنچ چکا ہو یا نہ پہنچا ہو کیونکہ ایسی صورت میں سفارش کرنا نہ صرف یہ کہ آسان ہے بلکہ مستحب بھی ہے بشرطیکہ جس شخص کے حق میں سفارش کی جائے وہ کوئی شریف اور لوگوں کو ایذاء پہنچانے والا نہ ہو۔ مسلم کی جو دوسری روایت نقل کی گئی ہے اس کے الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس عورت کو اس جرم میں ہاتھ کاٹنے کی سزا دی تھی کہ وہ لوگوں سے عاریۃً چیزیں لے کر مکر جاتی تھی حالانکہ یہ واقعہ کے بھی خلاف ہے اور شرعی مسئلہ کے بھی منافی ہے، چناچہ اس کا جواب یہ ہے کہ دوسری روایت میں انکار کا ذکر محض اس عورت کا حال بتانے کے لئے ہے کہ وہ عورت اس قسم کی تھی اور اس کو قطع ید کی جو سزا دی گئی اس کا تعلق اس کے چوری کے جرم سے تھا جیسا کہ پہلی روایت (جس کو بخاری ومسلم دونوں نے نقل کیا ہے) میں بیان ہوا۔ گویا حاصل یہ نکلا کہ دوسری روایت لفظ وتجحدہ کے بعد لفظ فسرقت مقدر ہے، یعنی یہ لفظ فسرقت اگرچہ عبارت میں نہیں ہے مگر اس کے معنی مراد لئے جائیں گے۔ جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ جو شخص کسی سے عاریۃً کوئی چیز لے کر اس سے مرجائے اس کو ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں دی جائے گی جب کہ حضرت امام احمد اور اسحاق کا قول یہ ہے کہ ایسے شخص کا بھی ہاتھ کاٹنا واجب ہے۔ ہذا الباب خال عن الفصل الثانی۔ اس باب میں دوسری فصل نہیں ہے۔

3569Mishkaat-al-Masabih

حد میں سفارش کرنے والا گویا اللہ کے حکم کی مخالف کرنے والا ہے

عن عبد الله بن عمر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من حالت شفاعته دون حد من حدود الله فقد ضاد الله ومن خاصم في باطل وهو يعلمه لم يزل في سخط اله تعالى حتى ينزع ومن قال في مؤمن ما ليس فيه أسكنه الله ردغة الخبال حتى يخرج مما قال . رواه أحمد وأبو داود وفي رواية للبيهقي في شعب الإيمان من أعان على خصومة لا يدري أحق أم باطل فهو في سخط الله حتى ينزع

حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کی سفارش اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد کے درمیان حائل ہو (یعنی جو شخص اپنی سفارش کے ذریعہ حاکم کو نفاذ حد سے روکے) اس نے اللہ تعالیٰ سے ضد کی (اور گویا اس طرح اس نے اللہ تعالیٰ کی خلاف ورزی کی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہی ہے کہ حد جاری کی) اور جو شخص جانتے ہوئے بھی کسی ناحق اور جھوٹی بات میں کسی سے جھگڑتا ہے) تو وہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے غضب میں رہتا ہے جب کہ اس سے باز نہ آجائے۔ اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں پائی جاتی (یعنی مؤمن کو کوئی عیب لگائے یا اس کی طرف کسی غلط بات کی تہمت کر کے اس کو نقصان پہنچائے) تو اس کو اللہ تعالیٰ اس وقت تک دوزخیوں کے کیچڑ، پیپ اور خون میں رکھے گا جب تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نہ نکل آئے یعنی جب تک کہ وہ توبہ کر کے اس گناہ سے نہ نکل آئے وہ دوزخیوں کی سی حالت میں رہے گا، یا یہ کہ جب تک کہ وہ اس گناہ عذاب کو بھگت کر پاک نہ ہوجائے دوزخیوں کے درمیان رہے گا) اس روایت کو احمد اور ابوداؤد نے نقل کیا ہے۔ اور بہیقی نے شعب الایمان میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ جو شخص کسی ایسے جھگڑے میں مدد کرے جس کے حق و ناحق ہونے کا اس کو علم نہیں تو جب تک کہ وہ اپنی مدد سے باز نہ آجائے اللہ تعالیٰ کے غضب میں رہے گا۔

3570Mishkaat-al-Masabih

اقرار جرم پر چوری کی سزا

وعن أبي أمية المخزومي : أن النبي صلى الله عليه و سلم أتي بلص قد اعترف اعترافا ولم يوجد معه متاع فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما إخالك سرقت . قال : بلى فأعاد عليه مرتين أو ثلاثا كل ذلك يعترف فأمر به فقطع وجيء به فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : استغفر الله وتب إليه فقال : أستغفر الله وأتوب إليه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم تب عليه ثلاثا . رواه أبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي هكذا وجدت في الأصول الأربعة وجامع الأصول وشعب الإيمان ومعالم السنن عن أبي أمية (2/322) 3613 - [ 4 ] وفي نسخ المصابيح عن أبي رمثة بالراء والثاء المثلثة بدل الهمزة والياء

اور حضرت ابوامیہ مخزومی بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک چور کو پیش کیا گیا جس نے اپنے جرم کا صریح اعتراف و اقرار کیا لیکن (چوری کے مال میں سے) کوئی چیز اس کے پاس نہیں نکلی چناچہ رسول کریم ﷺ نے اس سے فرمایا کہ میرا خیال نہیں ہے کہ تم نے چوری کی ہے اس نے کہا کہ ہاں! میں نے چوری کی ہے آنحضرت ﷺ نے دو بار یا تین بار یہ کہا (کہ میرا خیال نہیں ہے کہ تم نے چوری کی ہے) مگر وہ ہر بار یہ اعتراف و اقرار کرتا تھا (کہ میں نے چوری کی ہے) آخر کار آنحضرت ﷺ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم جاری کیا پھر کٹنے کے بعد) اس کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو رسول کریم ﷺ نے اس سے فرمایا کہ (اپنی زبان کے ذریعہ) اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرو (اور اپنے دل کے ذریعہ) اس کی طرف متوجہ ہو۔ اس نے کہا میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور اس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں (یعنی توبہ کرتا ہوں) رسول کریم ﷺ نے تین بار فرمایا اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔ (ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی) اور صاحب مشکوٰ ۃ فرماتے ہیں کہ) میں نے اس روایت کو ان چاروں اصل کتابوں (ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی) میں جامع الاصول میں، بہیقی کی شعب الایمان میں اور خطابی کی معالم السنن میں اسی طرح یعنی ابوامیہ سے منقول پایا ہے لیکن مصابیح کے بعض نسخوں میں اس روایت میں ابورمثہ (ہمزہ اور یا کی بجائے را مکسورہ اور ثا مثلثہ کے ساتھ) منقول ہے مگر حضرت شیخ حافظ ابن حجر عسقلانی نے وضاحت کی ہے کہ اس روایت کا ابورمثہ سے منقول ہونا غلط ہے اور ابورمثہ اگرچہ صحابی ہیں لیکن یہ روایت ان سے منقول نہیں ہے۔ تشریح اس ارشاد میں، میں خیال نہیں کرتا الخ سے آنحضرت ﷺ کا منشاء یہ تھا کہ وہ شخص اپنے اعتراف سے رجوع کرے تاکہ اس پر حد ساقط ہوجائے اور اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے، جیسا کہ آنحضرت ﷺ زنا کا اقرار کرنے والوں کے سامنے اس طرح کے جملے ارشاد فرماتے تھے جن کا مقصد تلقین عذر ہوتا تھا۔ یہ حضرت امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک قول ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور دوسرے آئمہ کے نزدیک اس طرح کی تلقین عذر اور تلقین رجوع صرف زنا کی حد کے ساتھ مخصوص ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اس شخص کو جو استغفار کا حکم دیا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس شخص پر حد جاری ہوئی ہے اس کو وہ حد بالکل (یعنی تمام گناہوں سے) پاک نہیں کرتی بلکہ اس کے اسی گناہ کو ختم کرتی ہے جس کی وجہ سے اس پر حد جاری ہوئی ہے کہ حد جاری ہوجانے کے بعد وہ پروردگار کی جانب سے اس کے سبب دوبارہ عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائے گا۔

3571Mishkaat-al-Masabih

شراب کی حد بیان

شراب کی حرمت شراب جس کو ام الخبائث کہا گیا ہے، بعثت نبوی ﷺ سے پہلے ہی جزوزندگی کا درجہ رکھتی تھی اس لئے بعثت نبوی کے بعد ابتداء اسلام میں بھی اس کا رواج برقرار رہا اور عام طور پر لوگ اس کو پینے پلانے میں مبتلا رہے لیکن اس کی برائی اور اس کے نقصان کی وجہ سے مسلمانوں کے دل میں کھٹک بھی پیدا ہوتی تھی اور حضرت عمر کے قول (انہا تذہب المال وتذہب العقل) (یہ شراب مال کو بھی برباد کرتی اور عقل کو بھی ختم کرتی ہے) کے پیش نظر لوگوں میں یہ احساس تمنا بھی روز بروز بڑھتا جاتا تھا کہ اس کی اباحت جتنی جلد ختم ہوجائے اتنا ہی اچھا ہے، ادھر چونکہ پوری سوسائٹی اس لعنت میں گرفتار تھی اور ایک ایسی عادت تھی جس کی جڑیں پورے معاشرے میں بہت دور تک پھیلی ہوئی تھیں اس لئے مصلحت شریعت یہ تھیں کہ اس کی حرمت کا نفاذ دفعتًا کرنے کی بجائے بتدریج روبہ عمل میں لایا جائے کہ شریعت کا مقصد بھی پورا ہوجائے اور لوگ اس لعنت سے بھی نجات پاجائیں، چناچہ جب کچھ صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے شراب کے بارے میں دریافت کیا تو اس سلسلہ میں سب سے پہلے یہ آیت نازل ہوئی (يَسْ َ لُوْنَكَ عَنِ الْخَ مْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيْهِمَا اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَاِثْ مُهُمَا اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا) 2۔ البقرۃ 219) (اے محمد ﷺ لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور (بظاہر) ان میں لوگوں کے لئے کچھ فائدے ہیں لیکن ان کا گناہ ان کے فائدوں سے بہت بڑھا ہوا ہے۔ جو سعید روحیں پہلے ہی سے شراب کے مضر اثرات کا احساس رکھتی تھیں اور جو لوگ اس کی برائی سے طبعًا بیزار تھے ان کے لئے تو بس اتنا ہی کافی تھا کہ قرآن کریم نے شراب کو گناہ کہہ دیا لہٰذا انہوں نے شراب نوشی قطعًا ترک کردی، لیکن چونکہ اس آیت میں شراب کی حرمت کا کوئی واضح اور قطعی حکم نہیں ہے اس لئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے مے نوشی کا مشغلہ بدستور جاری رکھا۔ اور پھر اس سلسلہ میں یہ دوسری آیت نازل ہوئی ( يٰ اَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ ) 4۔ النساء 43)۔ اے ایمان والو! تم ایسی حالت میں نماز کے پاس مت جاؤ کہ تم نشہ کی حالت میں مست ہو، یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو کہ منہ سے کیا کہتے ہو۔ اس آیت نے شراب نوشی کے جاری مشغلہ پر ایک ضرب لگائی اور نماز کے اوقات میں شراب نوشی بالکل ترک کردی گئی البتہ نماز کے علاوہ اوقات میں بعض لوگوں کے یہاں اب بھی شراب نوشی کا مشغلہ بند نہیں ہوا اور آخر کا ر ٣ ھ میں یہ تیسری آیت نازل ہوئی جس میں حرمت شراب کو واضح کردیا گیا (يٰ اَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْ ا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ) 5۔ المائدہ 90) اے ایمان والو! اس میں شبہ نہیں کہ شراب اور جوا اور بت اور قرعہ کے بیریہ سب گندی چیزیں شیطانی کام ہیں سو ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد شراب نوشی بالکل بند ہوگئی، شراب کے مٹکے توڑ ڈالے گئے اور شراب مدینہ کی گلیوں میں پانی کی طرح بہنے لگی اور اس شراب کی حرمت کا حکم نافذ ہوگیا۔ شراب نوشی کی سزا تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن وسنت کے حکم اور اجماع امت کے مطابق شراب حرام ہے اور جو شخص شراب پئے وہ حد (شرعی سزا) کا مستوجب ہے جو جمہور علماء کے قول کے مطابق اسی ٨٠ کوڑے مارنا ہے حنیفہ کا بھی یہی مسلک ہے اور حضرت امام شافعی اور کچھ دوسرے علماء کے قول کے مطابق چالیس کوڑے مارنا ہے۔ سزا کا نفاذ اگر کوئی شخص شراب پئے اگرچہ اس نے ایک ہی قطرہ پی ہو اور پھر اس کو حاکم وقاضی کے سامنے پیش کیا جائے اور اس وقت شراب کی بو موجود ہو یا اس کو نشے کی حالت میں پیش کیا گیا ہو اگرچہ وہ نشہ نبیذ پینے کی وجہ سے ہو اور دو شخص اس کی شراب نوشی کی گواہی دیں یا وہ خود اپنی شراب نوشی کی گواہی دیں یا وہ خود اپنی شراب کا ایک مرتبہ اور امام ابویوسف کے قول کے مطابق دو مرتبہ اقرار کرلے نیز یہ معلوم ہوجائے کہ اس نے اپنی خوشی سے شراب پی ہے کسی کی زبردستی سے نہیں پی ہے تو اس پر حد جاری کی جائے یعنی اگر وہ شخص آزاد ہو تو اس کو اسی ٨٠ کوڑے مارے جائیں اور اگر غلام ہو تو چالیس کوڑے مارے جائیں اور یہ کوڑے اس وقت مارے جائیں جب کہ اس کا نشہ ختم ہوجائے نیز زنا کی حد اور اس حد میں بھی اس طرح کوڑے مارے جائیں کہ بدن کے مختلف حصوں پر چوٹ آئے یعنی پورے کوڑے بدن کے کسی ایک ہی حصہ پر نہ مارے جائیں بلکہ مختلف حصوں پر مارے جائیں۔ اگر کسی شخص نے اپنی شراب نوشی کا اقرار اس وقت کیا جب کہ شراب کی بو ختم ہوگئی ہو یا دو آدمیوں نے کسی کی شراب نوشی کی گواہی اس وقت دی جب کہ بو ختم ہوگئی تو اس پر حد جاری نہ کی جائے اس طرح اگر کسی شخص میں صرف شراب کی بو پائی گئی یا اس نے صرف شراب کی قے کی، یا اس نے پہلے تو اپنی شراب نوشی کا اقرار کیا مگر بعد میں مکر گیا۔ اور یا اس نے نشے کی حالت میں اقرار کیا تو ان صورتوں میں بھی اس پر حد جاری نہ کی جائے۔ واضح رہے کہ جو نشہ حد کو واجب کرتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ شخص مرد و عورت اور زمین و آسمان کے درمیان امتیاز نہ کرسکے۔ لیکن صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کا قول یہ ہے کہ نشہ سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص ہزیان اور واہی تباہی باتیں بکنے لگے۔ حنفی مسلک میں فتویٰ اسی قول پر ہے۔

3572Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے زمانے میں شراب نوشی کی سزا

عن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم ضرب في الخمر بالجريد والنعال وجلد أبو بكر رضي الله عنه أربعين (2/322) 3615 - [ 2 ] ( متفق عليه ) وفي رواية عنه : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يضرب في الخمر بالنعال والجريد أربعين

حضرت انس کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے شراب نوشی کی حد (سزا میں کھجور کی ٹہنیوں (چھڑیوں) اور جوتوں سے مارا (یعنی مارنے کا حکم دیا) اور حضرت ابوبکر نے (اپنے دور خلافت میں شراب پینے والے کو چالیس کوڑے مارے۔ (بخاری، مسلم) اور روایت میں حضرت انس ہی سے یوں منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ شراب نوشی کی حد (سزا) میں چالیس کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے مارتے تھے یعنی مارنے کا حکم دیتے تھے۔ تشریح پہلی روایت میں تو حد کا ذکر عدد کے تعین کے بغیر ہے اس اعتبار سے وہ مجمل ہے جس کی وضاحت دوسری روایت نے کی ہے جس میں عدد کا تعین کیا گیا ہے اور وہ چالیس ہے چناچہ یہ حدیث حضرت امام شافعی کے مسلک کی دلیل ہے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک کی دلیل وہ احادیث ہیں جن میں مے نوشی کی شرعی سزا اسی کوڑے مارنا بیان کیا گیا ہے ملا علی قاری نے اپنی کتاب مرقات میں نقل کیا ہے۔

3573Mishkaat-al-Masabih

اسی کوڑے کی سزا عہد صحابہ میں متعین ہوئی ہے

وعن السائب بن يزيد قال : كان يؤتى بالشارب على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم وإمرة أبي بكر وصدرا من خلافة عمر فنقوم عليه بأيدينا ونعالنا وأرديتنا حتى كان آخر إمرة عمر فجلد أربعين حتى إذا عتوا وفسقوا جلد ثمانين . رواه البخاري

اور حضرت سائب ابن یزید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے عہد مبارک میں حضرت ابوبکر کے ایام خلافت میں اور حضرت عمر فاروق کے زمانہ خلافت کے ابتدائی دور میں یہ معمول تھا کہ جب کوئی شراب پینے والا لایا جاتا تو ہم اٹھ کر اس کو اپنے ہاتھوں اپنے جوتوں اور اپنی چادروں سے یعنی چادروں کو کوڑے بنا کر اس کی پٹائی کرتے پھر حضرت عمر فاروق اپنی خلافت کے آخری دور میں چالیس کوڑے مارنے کی سزا دینے لگے یہاں تک کہ جب شراب پینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا اور سرکشی بڑھ گئی تو حضرت عمر نے اسی کوڑے کی سزا متعین کی۔ (بخاری) تشریح حضرت سائب ابن یزید کی مراد یہ ظاہر کرنا ہے کہ اس وقت شراب نوشی کی حد نفاذ عدد کے تعین کئے بغیر ہوتا تھا لیکن زیادہ صحیح یہ ہے کہ ان کی مراد یہ ظاہر کرنا ہے کہ اس زمانہ میں شراب پینے کی سزا چالیس کوڑوں سے بھی کم تھی جیسا کہ ان کے قول پھر حضرت عمر فاروق اپنی خلافت کے دور میں چالیس کوڑے مارنے کی سزا دینے لگے سے ثابت ہوتا ہے۔ بہرکیف اس حدیث سے واضح ہوا کہ شراب کی حد کے طور پر اسی کوڑے کی سزا عہد نبوی ﷺ میں نافذ نہیں تھی بلکہ عہد صحابہ میں طے پائی ہے چناچہ حضرت عمر فاروق نے شراب کے معاملہ میں بڑھتی ہوئی شرکشی کو دیکھتے ہوئے اور قانونی اور وانتظامی مصالح کے پیش نظر شراب پینے والے کو اسی ٨٠ کوڑے مارنے کی سزا متعین کی اور اسی پر تمام صحابہ کا اجماع و اتفاق ہوگیا لہٰذا اب کسی کے لئے جائز نہیں ہے چناچہ حضرت علی کا یہ ارشاد ہے کہ آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق نے شراب پینے والے کو چالیس کوڑے کی سزا دی اور اس سزا کو حضرت عمر فاروق نے کامل کیا بایں طور کہ انہوں نے اسی کوڑے کی سزا متعین کی اور اگرچہ سب سنت ہے لیکن اسی کوڑے ہی پر اجماع و اتفاق ہے۔

3574Mishkaat-al-Masabih

شرابی کو قتل کردینے کا حکم منسوخ ہے

عن جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من شرب الخمر فاجلدوه فإن عاد في الرابعة فاقتلوه قال : ثم أتي النبي صلى الله عليه و سلم بعد ذلك برجل قد شرب في الرابعة فضربه ولم يقتله . رواه الترمذي (2/323) 3618 - [ 5 ] ( لم تتم دراسته ) ورواه أبو داود عن قبيصة بن دؤيب (2/323) 3619 - [ 6 ] ( لم تتم دراسته ) وفي أخرى لهما وللنسائي وابن ماجه والدارمي عن نفر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم منهم ابن عمر ومعاوية وأبو هريرة والشريد إلى قوله : فاقتلوه

حضرت جابر نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص شراب پئے اس کو کوڑے مارو اور جو شخص بار بار پئے یہاں تک کہ چوتھی مرتبہ پیتا ہوا پایا جائے تو اس کو قتل کر ڈالو حضرت جابر کہتے ہیں کہ اس ارشاد گرامی کے بعد ایک دن آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک ایسے شخص کو پیش کیا گیا جس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تھی تو آپ ﷺ نے اس کی پٹائی کی اور اس کو قتل نہیں کیا۔ (ترمذی) ابو داؤد کی ایک روایت میں نسائی ابن ماجہ اور دارمی کی روایت میں جو انہوں نے رسول کریم ﷺ کے صحابہ کی ایک جماعت سے نقل کی ہے جس میں حضرت ابن عمرو، حضرت ابوہریرہ اور حضرت ثرید بھی شامل ہیں یہ حدیث لفظ (فاقتلوہ) تک منقول ہے یعنی ان روایتوں میں (ثم اتی) الخ کی عبارت نہیں ہے۔ تشریح تو اس کو قتل کر ڈالو اس حکم سے یہ تو یہ مراد ہے کہ اس شخص کی بہت پٹائی کرو اور خوب مارو، یا پھر یہ کہ آپ ﷺ نے یہ حکم زجر و تہدید کے طور پر اور قانونی وانتظامی مصالح کے پیش نظر دیا تھا اس کا تعلق کسی مستقل قانون اور وجوب سے نہیں تھا نیز بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ ابتداء اسلام میں یہی حکم تھا مگر بعد میں منسوخ ہوگیا۔ اس کو قتل نہیں کیا اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ قتل کردینے کا حکم زجروتہدید اور قانونی وانتظامی مصلحتوں کی بناء پر تھا یا پہلے تو یہی حکم تھا مگر بعد میں آپ نے خود اپنے اس عمل سے کہ اس کو قتل نہیں کیا یہ حکم منسوخ قرار دے دیا۔ نووی نے امام ترمذی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ میری کتاب میں دو حدیثوں کے علاوہ اور کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جس کو متروک العمل قرار دینے پر پوری امت کا اجماع و اتفاق ہو ان دونوں میں سے ایک حدیث تو وہ ہے کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی خوف و دہشت یا بارش نہ ہو تب بھی جمع بین الصلوتین کی اجازت ہے اور دوسری حدیث یہ ہے کہ جس میں چوتھی بار شراب پینے والے کو قتل کردینے کا حکم ہے گویا امام ترمذی کے اس قول کو نقل کرنے کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ حدیث جس میں چوتھی بار شراب پینے والے قتل کردینے کا حکم ہے منسوخ ہے اور اس کی منسوخی پر سب کا اتفاق واجماع ہے۔

3575Mishkaat-al-Masabih

شرابی کی تحقیر

وعن عبد الرحمن بن الأزهر قال : كأني أنظر إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ أتي برجل قد شرب الخمر فقال للناس : اضربوه فمنهم من ضربه بالنعال ومنهم من ضربه بالعصا ومنهم من ضربه بالميتخة . قال ابن وهب : يعني الجريدة الرطبة ثم أخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم ترابا من الأرض فرمى به في وجهه . رواه أبو داود

اور حضرت عبدالرحمن بن ازہر کہتے ہیں کہ گویا وہ منظر اس وقت بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ ایک دن رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک ایسے شخص کو پیش کیا گیا جس نے شراب پی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کی پٹائی کرو چناچہ ان لوگوں میں سے بعض نے اس کو جوتوں سے مارا اور بعض نے کھجور کی ٹہنی (چھڑی) سے مارا۔ حضرت ابن وہب جو اس حدیث کے راوی ہیں کہتے کہ حضرت عبدالرحمن نے میتخہ سے کھجور کی ہری ٹہنی جس پر پتے نہ ہوں یعنی چھڑی مراد لی تھی۔ پھر حضرت عبدالرحمن نے بیان کیا کہ جب سب لوگ اس شرابی کی پٹائی کرچکے تو آنحضرت ﷺ نے زمین سے مٹی اٹھائی اور اس کے منہ پر پھینک دی اس کے منہ پر مٹی پھینک کر گویا آپ ﷺ نے اس کے تئیں حقارت کا اظہار کیا کیونکہ اس نے شراب پی کر ایک بہت ہی شنیع فعل کا ارتکاب کیا تھا۔ (ابو داؤد)

3576Mishkaat-al-Masabih

شرابی کو سزا دو اس کو عار دلاؤ لیکن اس کے حق میں بدعا نہ کرو

وعن أبي هريرة قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتي برجل قد شرب الخمر فقال : اضربوه فمنا الضارب بيده والضارب بثوبه والضارب بنعله ثم قال : بكتوه فأقبلوا عليه يقولون : ما اتقيت الله ما خشيت الله وما استحييت من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال بعض القوم : أخزاك الله . قال : لا تقولوا هكذا لا تعينوا عليه الشيطان ولكن قولوا : اللهم اغفر له اللهم ارحمه . رواه أبو داود

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ایک دن رسول کریم ﷺ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی آنحضرت ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ اس کی پٹائی کرو۔ چناچہ ہم میں سے بعض نے جوتیوں سے اس کی پٹائی کی پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اب زبان سے اس کو تنبیہ کردو اور عار دلاؤ۔ چناچہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے کہنا شروع کیا کہ تو نے اللہ کی مخالفت سے اجتناب نہیں کیا تو اللہ سے نہیں ڈرا اور تو رسول اللہ ﷺ کی متابعت ترک کرنے یا اس حالت میں آپ کے سامنے آنے سے بھی نہیں شرماتا۔ اور پھر جب بعض لوگوں نے یہ کہا اللہ تعالیٰ تجھ کو (دنیا وآخرت دونوں جگہ یا آخرت میں) ذلیل ورسوا کرے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس طرح نہ کہو اور اس پر شیطان کے غالب ہوجانے میں مدد نہ کرو بلکہ یوں کہو کہ اے اللہ! اس گناہ کو مٹا کر اس کو بخشش دے اور اس کو طاعت ونی کی کی توفیق عطا فرما کر اس پر رحم کر یا اس کو دنیا میں بخشش دے اور عاقبت میں اس پر اپنا رحم فرما۔ (ابو داؤد) تشریح آنحضرت ﷺ نے زبان سے تنبیہ کرنے کا جو حکم دیا وہ استحباب کے طور پر تھا جب کہ آپ ﷺ کا پہلا حکم کہ اس کی پٹائی کرو وجوب کے طور پر تھا۔ اس پر شیطان کے غالب ہوجانے میں مدد نہ کرو کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کی بدعا کر کے شیطان کی اعانت نہ کرو کیونکہ جو اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل و رسوا کر دے گا تو اس پر شیطان کا تسلط ہوجائے گا یا جب وہ تم کو یہ بدعا کرتے ہوئے سنے گا۔ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید و مایوس ہوجائے گا اور یہ مایوسی ونا امیدی اس کو گناہوں میں منہمک رکھے گی اس طرح اس پر اپنا غلبہ رکھنے کا شیطان کا مقصد بھی پورا ہوگا اور اس کا گناہوں اصراروتکرار اللہ کے غضب کا سبب بھی ہوگا لہٰذا اس اعتبار سے تمہاری بدعا شیطان کے بہکانے میں مدد گا ہوگی۔ بلکہ یوں کہو اس حکم کا مطلب یا تو یہ تھا کہ شروع ہی میں اس کے لئے مغفرت ورحمت کی دعا کرنی چاہئے یا یہ کہ اب اس کے لئے دعاء مغفرت ورحمت کرو اور زیادہ صحیح یہی بات ہے کیونکہ شروع میں تو اس کو عار دلانا مطلوب تھا اور ظاہر ہے کہ اس دعا (اللہم اغفرلہ) کے ساتھ عار دلانے یا اس کو تنبیہ کرنے کا کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔

3577Mishkaat-al-Masabih

ثبوت جرم کے بغیر سزا نہیں

وعن ابن عباس قال : شرب رجل فسكر فلقي يميل في الفج فانطلق به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما حاذى دار العباس انفلت فدخل على العباس فالتزمه فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فضحك وقال : أفعلها ؟ ولم يأمر فيه بشيء . رواه أبو داود

اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے شراب پی اور بدمست ہوگیا یہاں تک کہ لوگوں نے اس کو راستہ میں اس حال میں پایا کہ وہ جھومتا چلا جاتا تھا جیسا کہ شرابیوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ نشہ کی حالت میں لڑکھڑاتے جھومتے راستہ چلتے ہیں، چناچہ لوگوں نے اس کو پکڑ لیا اور رسول کریم ﷺ کی خدمت میں لے چلے، لیکن جب وہ حضرت عباس کے مکان کے قریب پہنچا تو لوگوں کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور حضرت عباس کے پاس پہنچ کر ان سے چمٹ گیا یعنی اس نے اس طرح حضرت عباس سے سفارش اور پناہ چاہی جب نبی کریم ﷺ سے یہ بیان کیا گیا تو آپ ﷺ ہنس دیئے اور فرمایا کیا اس نے ایسا کہا اور پھر آپ ﷺ نے اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا۔ (ابو داؤد) تشریح آنحضرت ﷺ نے نہ تو اس شخص پر حد جاری کرنے کا حکم دیا اور نہ اس کو کوئی دوسری سزا دی اس کا سبب یہ تھا کہ اس کا شراب پینا نہ تو خود اس کے اقرار سے اور نہ عادل گواہوں کی گواہی کے ذریعہ ثابت ہوا۔ اگر وہ دربار رسالت میں حاضر ہو کر اپنی شراب نوشی کا اعتراف و اقرار کرتا یا گواہوں کے ذریعہ اس کی شراب نوشی کا جرم ثابت ہوتا تو یقینا اس پر حد جاری کرنے کا حکم دیا جاتا۔ اور جہاں تک اس شخص کا راستہ میں نشہ کی حالت میں پائے جانے کا تعلق ہے تو یہ مسئلہ ہے کہ شرعی قانون کی نظر میں کسی شخص کا محض راستہ میں لڑکھڑاتے اور جھومتے ہوئے چلنا اس نشہ کے ثبوت کے لئے کافی نہیں ہے جو اس پر حد کے جاری ہونے کو واجب کرے۔

3578Mishkaat-al-Masabih

جو شخص سزاء کوڑے کھاتے ہوئے مرجائے اس کی دیت واجب نہیں ہوگی

عن عمير بن سعيد النخفي قال : سمعت علي بن أبي طالب يقول : ما كنت لأقيم على أحد حدا فيموت فأجد في نفسي منه شيئا إلا صاحب الخمر فإنه لو مات وديته وذلك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يسنه

حضرت عمیر ابن سعید نخعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر میں کسی شخص پر حد جاری کروں اور وہ شخص حد مارے جانے کی وجہ سے مرجائے تو مجھ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا یعنی مجھے کوئی غم نہیں ہوگا کیونکہ اس پر حد جاری کرنا شریعت کے حکم کے مطابق ہوگا اور شریعت کے حکم کے نفاذ میں رحم و شفقت کا کوئی محل نہیں ہے ہاں شراب پینے والے کی بات دوسری ہے کہ اگر وہ چالیس سے زیادہ کوڑے مارے جانے کی وجہ سے مرجائے تو میں اس کی دیت بھروں گا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے شراب پینے کی حد سزا متعین نہیں فرمائی۔ (بخاری ومسلم) تشریح حد مقرر نہیں فرمائی کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے شراب پینے کی حد سزا کو متعین نہیں کیا ہے کہ اتنے کوڑے مارنے چاہئیں اگرچہ بعض احادیث میں چالیس یا چالیس کے مانند کے عدد کا ذکر ہے اس لئے اگر میں نے شراب پینے والے کو اسی ٨٠ کوڑے مارے اور وہ مرگیا تو میں ڈرتا ہوں کہ شاید یہ زیادتی میری طرف سے منسوب ہوجائے اس اعتبار سے میں اس مرنے والے کی دیت ادا کروں گا۔ حضرت علی کی یہ بات محض احتیاط پسندی پر محمول ہے حالانکہ جب حضرت عمر نے شراب پینے والے کو سزاء مارے جانے والے کوڑوں کی تعداد متعین کرنی چاہی اور صحابہ سے اس بارے میں مشورہ کیا تو خود حضرت علی نے یہ فرمایا کہ شرابی کو اسی کوڑے مارنا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔

3579Mishkaat-al-Masabih

حضرت عمر کی طرف سے شراب نوشی کا سزا کا تعین

وعن ثور بن زيد الديلمي قال : إن عمر استشار في حد الخمر فقال له علي : أرى أن تجلده ثمانين جلدة فإنه إذا شرب سكر وإذا سكر هذى وإذا هذى افترى فجلد عمر رضي الله عنه في حد الخمر ثمانين . رواه مالك

اور حضرت ثور ابن زید دیلمی کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق نے شراب کی حد سزا کے تعین کے بارے میں صحابہ سے مشورہ کیا تو حضرت علی نے ان سے فرمایا کہ میری رائے یہ ہے کہ شرابی کو اسی کوڑے مارے جائیں کیونکہ جب وہ شراب پیتا ہے تو بدمست ہوجاتا ہے اور ہذیان بکتا ہے اور جب ہذیان بکتا ہے تو بہتان لگاتا ہے۔ چناچہ حضرت عمر نے حکم جاری کیا کہ شراب پینے والے کو اسی کوڑے مارے جائیں۔ (مالک) تشریح حضرت علی نے اپنی رائے کی دلیل میں بڑی جاندار بات فرمائی کہ شراب پینے والے کی عقل ماؤف ہوجاتی ہے اور وہ نشہ کی حالت میں اول فول بکتا ہے اور خواہ مخواہ کسی پر الزام لگاتا پھرتا ہے یہاں تک کہ نیک پارسا اور پاکدامن عورتوں پر زنا کا بہتان لگانے سے بھی باز نہیں رہتا، اس اعتبار سے اس کا نشہ گویا قذف پر قیاس کرتے ہوئے شرابی کی سزا بھی زیادہ سے زیادہ یہی ہوسکتی ہے گویا حضرت علی نے یہ بات اغلب کا اعتبار کرتے ہوئے فرمائی کہ زیادہ تر شرابی اپنے نشے کی حالت میں اول فول بکتے ہیں اور دوسروں پر الزام لگاتے ہیں اور چونکہ حکم کا انحصار اغلب پر ہوتا ہے اس لئے ہر شرابی کے لئے یہ ایک ہی سزا مقرر ہوگئی خواہ نشہ کی حالت میں اول فول بکے یا نہ بکے اور کسی پر الزام لگائے یا نہ لگائے بہرحال حضرت عمر نے حضرت علی کی اس رائے کو تسلیم کیا اور شراب پینے کی سزا اسی کوڑے متعین فرمائی جس پر تمام صحابہ نے اجماع و اتفاق کیا۔

3580Mishkaat-al-Masabih

جس پر حد جاری کی جائے اس کے حق میں بددعا نہ کرنے کا بیان

اس باب میں یہ بیان کیا جائے گا کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کرے جس کی وجہ سے وہ حد (شرعی سزا) کا مستوجب ہوتا ہو اور پھر اس پر وہ حد جاری ہوجائے تو اس کے حق میں کسی طرح کی بد دعا نہ کی جائے جیسا کہ جب ایک شخص نے ایک شراب پینے والے کے حق میں یہ بددعا کی ( اخزاک اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ تجھ کو ذلیل ورسوا کرے تو آنحضرت ﷺ نے منع فرمایا کہ یوں نہ کہو بلکہ اس کے حق میں مغفرت ورحمت کی دعا کرو۔