Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,333 hadiths in order · Page 185 of 317
قومی خزانے اور بیت المال میں ناحق تصرف کرنے والوں کے بارے میں وعید
وعن خولة الأنصارية قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن رجالا يتخوضون في مال الله بغير حق فلهم النار يوم القيامة . رواه البخاري
اور حضرت خولہ انصاریہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بہت سے لوگ اللہ کے مال میں ناحق تصرف کرتے ہیں (یعنی زکوٰۃ غنیمت اور بیت المال کے مال میں امام و حکمران کی اجازت کے بغیر تصرف کرتے ہیں اور اپنے حق اور اپنی محنت سے زیادہ وصول کرتے ہیں وہ قیامت کے دن دوزخ کی آگ کے سزاوار ہوں گے۔ (بخاری)
امام وقت بیت المال سے اپنی تنخواہ لینے کا حقدار ہے
وعن عائشة قالت : لما استخلف أبو بكر رضي الله عنه قال : لقد علم قومي أن حرفتي لم تكن تعجز عن مؤونة أهلي وشغلت بأمر المسلمين فسيأكل آل أبي بكر من هذا المال ويحترف للمسلمين فيه . رواه البخاري
اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق جب خلیفہ بنائے گئے تو فرمایا کہ میری قوم کے لوگ (یعنی مسلمان جانتے ہیں کہ میرا کاروبار میرے اہل عیال کے اخرجات کے لئے کافی تھا، اب میں مسلمانوں کے امور میں مشغول ہوگیا ہوں (اور اس کی وجہ سے ابوبکر کے اہل و عیال بیت المال) کے مال سے کھائیں گے اور ابوبکر اس بیت المال کی آمدنی میں اضافہ کرنے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو مسلمانوں کی ضروریات و دیگر مصارف میں اس کو خرچ کرنے کے ذریعہ مسلمانوں کی خدمت کرے گا۔ (بخاری)
تشریح
حضرت ابوبکر صدیق بازار میں کپڑے کی تجارت کرتے تھے اور اس کے ذریعہ اپنے اہل و عیال کے مصارف پورے کرتے تھے لیکن جب مسلمانوں نے ان کو منصب خلافت پر فائز کیا تو انہوں نے صحابہ کو اطلاع دے دی کہ اب میں امور خلافت کی انجام دہی اور مسلمانوں کی خدمت میں مشغول ہوگیا ہوں اس لئے اپنا کاروبار جاری نہیں رکھ سکتا لہٰذا اپنے اور اپنے اہل و عیال کے اخراجات کے بقدر بیت المال سے تنخواہ لیا کروں گا۔
جلیل القدر صحابہ کی تجارتیں
حضرت ابوبکر کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ کپڑے کی تجارت کرتے تھے، اسی طرح حضرت عمر فاروق غلہ کی تجارت کرتے تھے، حضرت عثمان کے ہاں کھجوروں اور کپڑے کا کاروبار ہوتا تھا اور حضرت عباس عطاری کرتے تھے۔ علماء نے لکھا ہے کہ تجارت کی انواع میں سب سے بہتر تجارت کپڑے کی اور پھر عطر کی ہے نیز حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر جنتی تجارت کرتے تو کپڑے کی تجارت کرتے اور دوزخی تجارت کرتے تو صرف یعنی سونے چاندی کی تجارت کرتے۔
تنخواہ سے زیادہ لینا خیانت ہے
عن بريدة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من استعملناه على عمل فرزقناه رزقا فما أخذ بعد ذلك فهو غلول . رواه أبو داود
حضرت بریدہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص کو ہم نے کسی کام پر مامور کیا اور اس کو رزق دیا (یعنی اس کے اس کام کی اجرت وتنخواہ مقرر کردی اس کے بعد اگر وہ (اپنی تنخواہ سے زائد) کچھ وصول کرے گا تو یہ مال غنیمت میں خیانت ہے۔ (ابو داؤد)
وعن عمر رضي الله عنه قال : عملت على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فعملني . رواه أبو داود
اور حضرت عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے زمانے میں مجھے عامل بنایا گیا اور اس کی اجرت (تنخواہ) مجھ کو دی گئی۔ (ابوداؤد)
وعن معاذ قال : بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى اليمن فلما سرت أرسل في أثري فرددت فقال : أتدري لم بعثت إليك ؟ لا تصيبن شيئا بغير إذني فإنه غلول ومن يغلل يأت بما غل يوم القيامة لهذا دعوتك فامض لعملك . رواه الترمذي
اور حضرت معاذ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھے (عامل ) بنا کر بھیجا (جب میں یمن جانے کے لئے روانہ ہوا اور کچھ دور چلا گیا) تو آپ ﷺ نے (مجھے بلانے کے لئے ایک شخص کو) میرے پیچھے بھیجا میں لوٹ کر آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو، میں نے تمہیں بلانے کے لئے (آدمی) کیوں بھیجا تھا؟ (میں یہ آگاہی دینے کے لئے تمہیں بلایا ہے کہ) تم (اپنی مدت ملازمت کے دوران) میری اجازت کے بغیر کچھ نہ لینا کیونکہ یہ خیانت ہے اور جو شخص خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن وہ چیز لے کر آئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہے یہی کہنے کے لئے میں نے تمہیں بلایا تھا اب تم اپنے کام پر جاؤ۔ (ترمذی)۔
بلا تنخواہ حاکم کے مصارف کا بیت المال کفیل ہوگا
وعن المستورد بن شداد قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : من كان لنا عاملا فليكتسب زوجة فإن لم يكن له خادم فليكتسب خادما فإن لم يكن له مسكن فليكتسب مسكنا . وفي رواية : من اتخذ غير ذلك فهو غال . رواه أبو داود
اور حضرت مستورد ابن شداد کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کو ہم نے عامل (کسی جگہ کا حاکم وکار پرداز) بنایا (اگر اس کے بیوی نہ ہو تو) اس کو چاہے کہ وہ ایک بیوی بیاہ لے اگر اس کے پاس کوئی خادم (غلام و لونڈی) نہ تو اس کو چاہئے کہ وہ ایک خادم خرید لے اور اگر اس کا کوئی گھر نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ ایک گھر بنا لے یا خرید لے۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ اگر وہ اس کے علاوہ کچھ لے گا تو وہ خیانت کرنے والا ہوگا۔ (ابو داؤد )۔
تشریح
حدیث کا حاصل یہ ہے کہ عامل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے زیر تصرف بیت المال سے اپنی بیوی کے مہر، اس کے نان نفقے اور اس کے لباس کے بقدر حاجت (بلا اسراف) روپیہ ومال لے سکتا ہے اسی طرح وہ اپنی رہائشی ضروریات کے مطابق ایک مکان اور خدمت کے لئے خادم (کی قیمت واجرت کے بقدر بھی اس بیت المال سے لے سکتا ہے البتہ اگر وہ ان ضرورت و حاجت سے زیادہ لے گا تو وہ اس کے حق میں حرام ہوگا۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ اس عامل کے لئے کوئی تنخواہ واجرت مقرر نہ کی گئی ہو اور بیت المال اس کی (تنخواہ واجرت کا اور اس کے مذکورہ مصارف) کا کفیل ہوسکتا ہو۔
قومی محاصل وبیت المال میں خیانت نہ کرو
وعن عدي بن عميرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا أيها الناس من عمل منكم لنا على عمل فكتمنا منه مخيطا فما فوقه فهو غال يأتي به يوم القيامة . فقام رجل من الأنصار فقال : يا رسول الله اقبل عني عملك . قال : وما ذاك ؟ قال : سمعتك تقول : كذا وكذا قال : وأنا أقول ذلك من استعملناه على عمل فليأت بقليله وكثيره فما أوتي منه أخذه وما نهي عنه انتهى . رواه مسلم وأبو داود واللفظ له
اور حضرت عدی ابن عمیرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (ایک دن مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے) فرمایا لوگو! تم میں سے جو شخص ہماری طرف سے کسی کام کا عامل بنایا جائے (یعنی جس کو ہم کسی خدمت مثلًا زکوٰۃ وغیرہ وصول کرنے پر مامور کریں) اور وہ اپنے اس کام کے حاصل (آمدنی) میں سے سوئی برابر یا اس سے زائد ہم سے چھپائے (یعنی وہ جو کچھ وصول تحصیل کرے اس میں سے ہماری اجازت اور ہمارے علم کے بغیر تھوڑا یا بہت لے لے ) تو وہ خیانت کرنے والا ہے اور وہ قیامت کے دن اس (خیانت کی ہوئی چیز) کو لے کر آئے گا۔ (یہ سن کر) ایک انصاری شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے (وصول تحصیل کا) جو کام میرے سپرد کیا ہے وہ مجھ سے واپس لے لیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کیوں؟ اس نے عرض کیا کہ میں نے جو آپ کو اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے (یعنی آپ ﷺ نے اس کام کے سلسلے میں جو وعید بیان فرمائی ہے اس کی وجہ سے میں بہت خوفزدہ ہوگیا ہوں، کیونکہ یہ کام لغزش سے خالی نہیں ہے، اگر میں کسی لغزش میں مبتلا ہوگیا تو قیامت کے دن کیا جواب دوں گا؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، میں پھر یہی کہتا ہوں کہ ہم جس شخص کو عامل مقرر کریں اس کو چاہئے کہ وہ جو کچھ وصول کریں، وہ تھوڑا ہو یا زیادہ سب ہمارے پاس لے کر آئے اور اس میں سے اس کو (اس کی اجرت تنخواہ کے طور پر) جس قدر دیا جائے وہ اس کو لے لے اور جو نہ دیا جائے اس سے باز رہے (اب اس واضح ہدایت و تنبیہ کے بعد جو شخص اس کام کو انجام دے سکے وہ اس کی ذمہ داری قبول کرے اور جو شخص ان شرائط کے ساتھ اس کی انجام دہی میں اپنے معذور سمجھے وہ اس کی ذمہ داری کو قبول نہ کرے۔ مسلم وابو داؤد۔ الفاظ ابوداؤد، کے ہیں۔
رشوت دینے، لینے والے پر آنحضرت ﷺ کی لعنت
وعن عبد الله بن عمرو قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم الراشي والمرتشي . رواه أبو داود وابن ماجه (2/354) 3754 - [ 10 ] ( صحيح ) ورواه الترمذي عنه وعن أبي هريرة (2/354) 3755 - [ 11 ] ( صحيح ) ورواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان عن ثوبان وزاد : والرائش يعني الذي يمشي بينهما
اور حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے رشوت لینے اور رشوت دینے والے (دونوں) پر لعنت فرمائی ہے۔ ابوداؤد، ابن ماجہ۔ ترمذی نے اس روایت کو حضرت عبداللہ ابن عمرو اور حضرت ابوہریرہ ؓ اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ثوبان سے نقل کیا ہے نیز بیہقی کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے رائش یعنی وہ شخص جو رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے کے درمیان واسطہ و ذریعہ بننے اس پر بھی لعنت فرمائی ہے۔
تشریح
رشوت (یا راء کے پیش کے ساتھ یعنی رُشوَت) اس مال کو کہتے ہیں جو کسی (حاکم وعامل وغیرہ) کو اس مقصد کے لئے دیا جائے کہ وہ باطل (ناحق) کو حق کر دے اور حق کو باطل کر دے۔ ہاں اگر اپنا حق ثابت کرنے یا اپنے اوپر ہونے والے کے دفعیہ کے لئے کچھ دیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
حلال ذرائع سے کمایا ہوا مال ایک اچھی چیز ہے
وعن عمرو بن العاص قال : أرسل إلي رسول الله صلى الله عليه و سلم : أن اجمع عليك سلاحك وثيابك ثم ائتني قال : فأتيته وهو يتوضأ فقال : يا عمرو إني أرسلت إليك لأبعثك في وجه يسلمك الله ويغنمك وأزعب لك زعبة من المال . فقلت : يا رسول الله ما كانت هجرتي للمال وما كانت إلا لله ولرسوله قال : نعما بالمال الصالح للرجل الصالح . رواه في شرح السنة وروى أحمد نحوه وفي روايته : قال : نعم المال الصالح للرجل الصالح
اور حضرت عمرو ابن العاص کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے کسی شخص کے ذریعہ میرے پاس یہ کہلا بھیجا کہ تم اپنے ہتھیاروں اور کپڑوں کو اکٹھا کرلو (یعنی سفر کی تیاری کرلو) اور پھر میرے پاس آجاؤ حضرت عمرو کہتے ہیں کہ میں (آنحضرت ﷺ کے فرمان کے مطابق سفر کی تیاری کر کے) آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت وضو کر رہے تھے۔ (مجھے دیکھ کر فرمایا کہ عمرو! میں نے تمہارے پاس آدمی بھیج کر تمہیں اس لئے بلایا ہے کہ میں تمہیں ایک طرف (یعنی کسی جگہ کا حاکم یا عامل بنا کر) بھیجوں، اللہ تعالیٰ تمہیں عافیت و سلامتی کے ساتھ رکھے، تمہیں مال غنیمت عطا فرمائے اور میں بھی تمہیں کچھ مال دوں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرا ہجرت کرنا (یعنی میرا ایمان قبول کرنا اور اپنا وطن چھوڑ کر آپ ﷺ کے پاس آجانا) مال کی خاطر نہیں تھا (بلکہ میرا ایمان قبول کرنا خالصۃً للہ تھا اور) میری ہجرت صرف اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی ورضا ) کے لئے تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا نیک بخت آدمی کے لئے اچھا مال اچھی چیز ہے۔ شرح السنۃ) امام احمد نے بھی اس طرح کی روایت نقل کی ہے اور ان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ (نیک مرد کے لئے اچھا مال اچھی چیز ہے۔
تشریح
حضرت عمرو بن العاص نے ٥ ھ میں اسلام قبول کیا اور حضرت خالد ابن ولید کی ہمراہی میں حبشہ سے مدینہ کو ہجرت کی بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ٨ ھ میں اسلام قبول کیا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو عمان کا حاکم مقرر فرمایا تھا۔ اغلب ہے کہ اس روایت کا تعلق اس وقت سے ہے جب کہ ان کو بطور حاکم عامل عمان بھیجا جا رہا تھا۔ اچھا مال وہ ہے جو حلال ذریعہ سے کمایا گیا ہو اور اچھی جگہوں اور نیک مصارف میں خرچ کیا گیا ہو اور نیک بخت مرد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کو بھی ادا کرے اور بندوں کے حقوق کی بھی ادائیگی کرے۔
سفارش کرنے والا کوئی ہدیہ وتحفہ قبول نہ کرے
عن أبي أمامة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من شفع لأحد شفاعة فأهدى له هدية عليها فقبلها فقد أتى بابا عظيما من أبواب الربا . رواه أبو داود
حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص (کسی بادشاہ وحاکم سے) کسی (شخص مثلاً زید) کی سفارش کرے اور وہ (زید) اس (سفارش کرنے والے) کے پاس سفارش کے عوض کوئی چیز بطور ہدیہ تحفہ بھیجے اور وہ سفارش کرنے والا) اس تحفہ کو قبول کرے تو وہ سود کے دروازوں میں سے ایک بڑے دروازہ میں داخل ہوا۔ (ابو داؤد)
تشریح
اس طرح کا تحفہ ہدیہ اگرچہ رشوت کی تعریف میں آتا ہے مگر اس کو سود اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ وہ شفارش کرنے والے کو بلا کسی عوض کے حاصل ہوا ہے۔
قضیوں اور شہادتوں کا بیان
قضیہ اس نزاعی معاملے کو کہتے ہیں جو حاکم وقاضی کے پاس اس غرض سے لے جایا جائے کہ وہ فریقین کے درمیان کوئی حکم و فیصلہ کرے۔ اور شہادت گواہی دینے کو کہتے ہیں اور گواہی کا مطلب ہے دو فریقوں میں سے ایک فریق کے مقابلہ پر دوسرے فریق کے حق کا اقرار و اثبات کرنا۔
مدعی کا دعوی گواہوں کے بغیر معتبر نہیں
عن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لو يعطى الناس بدعواهم لادعى ناس دماء رجال وأموالهم ولكن اليمين على المدعى عليه . رواه مسلم وفي شرحه للنووي أنه قال : وجاء في رواية البيهقي بإسناد حسن أو صحيح زيادة عن ابن عباس مرفوعا : لكن البينة على المدعي واليمين على من أنكر
حضرت ابن عباس نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر لوگوں کو محض ان کے دعوی پر (ان کے مدعا) دیا جائے (یعنی اگر مدعی سے نہ تو گواہ طلب کئے جائیں اور نہ مدعا علیہ سے تصدیق کیا جائے بلکہ محض اس کے دعوی پر اس کا از قسم مال وجان مدعا کو دے دیا جائے) تو لوگ اپنے آدمیوں کے خون اور اپنے مال کا (جھوٹا) دعوی کرنے لگیں (لہٰذا صرف مدعی کا بلا گواہی کے بیان معتبر نہیں ہے) لیکن قسم کھانا مدعا علیہ پر ضروری ہے ( مسلم) اور نووی نے اپنی کتاب شرح مسلم میں لکھا ہے کہ بیہقی کی روایت میں جو حسن یا صحیح اسناد سے منقول ہے حضرت ابن عباس ؓ سے (مذکورہ بالا حدیث میں بطریق مرفوع ان الفاظ کا اضافہ بھی منقول ہے کہ گواہ پیش کرنا نہ مدعی کے ذمہ ہے اور قسم کھانا اس شخص کا حق ہے جو انکار کرے یعنی مدعاعلیہ۔
تشریح
لیکن قسم کھانا مدعاعلیہ کا حق ہے کا مطلب یہ ہے کہ اگر فریق دوم یعنی مدعاعلیہ، فریق اول یعنی مدعی کے دعوی سے انکار کرے اور مدعی اس سے قسم کا مطالبہ کرے تو اس (مدعاعلیہ) پر قسم کھانا ضروری ہے اس (مسلم کی) روایت میں مدعی سے گواہ طلب کرنے کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا کہ یہ مدعی کا گواہ پیش کرنے کا ذمہ دار ہونا شریعت کا ثابت شدہ اور بالکل ظاہری ضابطہ ہے اس اعتبار سے گویا یہ فرمایا گیا ہے کہ گواہ پیش کرنے کی ذمہ داری مدعی پر ہے اگر مدعی گواہ پیش نہ کرے تو پھر مدعا علیہ قسم اور جحد (انکار) کے ذریعہ اپنی صفائی پیش کرنے کا حق رکھتا ہے یہ مفہوم حضرت ابن عباس کی دوسری روایت سے ظاہر ہے۔
عدالت میں جھوٹی قسم کھانے والے کے بارے میں وعید
وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حلف على يمين صبر وهو فيها فاجر يقتطع بها مال امرئ مسلم لقي الله يوم القيامة وهو عليه غضبان فأنزل الله تصديق ذلك : ( إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا ) إلى آخر الآية (2/356) 3760 - [ 3 ] ( صحيح ) وعن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من اقتطع حق امرئ مسلم بيمينه فقد أوجب الله له النار وحرم الله عليه الجنة فقال له رجل : وإن كان شيئا يسير يا رسول الله ؟ قال : وإن كان قضيبا من أراك . رواه مسلم
اور حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی چیز پر مقید ہو کر (یعنی حاکم کی مجلس میں) قسم کھائے اور وہ اپنی قسم میں جھوٹا ہو کہ اس کا مقصد قسم کھا کر کسی مسلمان شخص کا مال حاصل کرنا ہو تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوگا۔ چناچہ اس ارشاد کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی (اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَ مَنًا قَلِيْلًا اُولٰ ى ِكَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِي الْاٰخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُھُمُ اللّٰهُ وَلَا يَنْظُرُ اِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيْهِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ) 3۔ آل عمران 77)۔ (بخاری )
تشریح
پوری آیت اور اس کا ترجمہ یہ ہے۔ (اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَ مَنًا قَلِيْلًا اُولٰ ى ِكَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِي الْاٰخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُھُمُ اللّٰهُ وَلَا يَنْظُرُ اِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيْهِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ )۔ 3۔ آل عمران 77) یقینا جو لوگ معاوضہ حقیر لے لیتے ہیں بمقابلہ اس عہد کے جو اللہ تعالیٰ سے (انہوں نے) کیا ہے اور (بمقابلہ اپنی قسموں کے، ان لوگوں کو کچھ حصہ آخرت میں (وہاں کی نعمت کا) نہیں ملے گا اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ نہ ان سے (لطف کا) کلام فرمائیں گے اور نہ ان کی طرف (نظر محبت سے دیکھیں گے۔ اور نہ (ان کے گناہوں کو معاف کر کے) ان کو پاک کریں گے۔ اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا۔ حدیث کی عبارت من حلف علی یمین صبر کے لغوی معنی ہیں حبس، روکنا، لزوم اور یمین صبر سے مراد یہ ہے کہ حاکم عدالت میں کسی شخص پر قسم کھانا لازم ہے گویا علی یمین صبر میں علی حرف با کے معنی میں ہے اور اس سے مراد محلوف علیہ ہے! بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ یمین صبر یہ ہے کہ کسی چیز پر قسم کھانے والا اس مقصد سے دیدہ و دانستہ غلط بیانی کرتا ہے کہ ایک مسلمان کا مال تلف کر دے یا اس کو ہڑپ کرلے، چناچہ (وہو فیہا فاجر) اور وہ اپنی قسم میں جھوٹا ہو، کے الفاظ سے اس مفہوم کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ اور حضرت امامہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنی (جھوٹی) قسم کے ذریعہ کسی مسلمان شخص کا حق غصب کیا بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے آگ کو واجب کیا اور اس پر بہشت کو حرام کردیا۔ ایک شخص نے (یہ سن کر) آپ ﷺ سے عرض کیا اگرچہ وہ حق کوئی معمولی ہی چیز ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا (ہاں) اگرچہ پیلو کے درخت کا ایک ٹکڑا (یعنی مسواک) ہی کیوں نہ ہو۔ (مسلم ) تشریح اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے آگ کو واجب کیا اس جملہ کی دو تاویلیں ہیں ایک تو یہ کہ یہ حکم اس شخص پر محمول ہے جو جھوٹی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان کا حق غصب کرنا حلال جانے اور اسی عقیدہ پر اس کی موت ہوجائے دوسری تاویل یہ ہے کہ ایسا شخص اگرچہ دوزخ کی آگ کا یقینا سزاوار ہوگا لیکن یہ بھی غیربعید نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کو معاف کر دے! اسی طرح بہشت کو اس پر حرام کردیا۔ کی تاویل یہ ہے کہ ایسا شخص اول وہلہ میں نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ جنت میں داخل ہونے سے محروم قرار دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ جس طرح جھوٹی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان کے حق کو ہڑپ کرنے والے کے بارے میں مذکورہ وعید ہے اسی طرح وہ شخص بھی اس وعید میں شامل ہے جو جھوٹی قسم کے ذریعہ کسی ذمی کا حق مارے۔
وعن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إنما أنا بشر وإنكم تختصمون إلي ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض فأقضي له على نحو ما أسمع منه فمن قضيت له بشيء من حق أخيه فلا يأخذنه فإنما أقطع له قطعة من النار
اور حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اس میں کوئی شک نہیں کہ میں ایک انسان ہوں اور تم اپنے قضیے (جھگڑے) لے کر میرے پاس آتے ہو، ممکن ہے تم میں سے کوئی شخص اپنے دلائل پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ فصیح وبلیغ بیان کا حامل ہو اور میں اس کا (مدلل) بیان سن کر اسی کے مطابق فیصلہ کر دوں لہٰذا وہ شخص کہ میں جس کے حق میں کسی ایسی چیز کا فیصلہ کروں جو حقیقت میں اس کے بھائی مسلمان کی ہو، اس چیز کو نہ لے کیونکہ (ایسی صورت میں گویا) میں اس کے حق میں آگ کے ایک ٹکڑے کا فیصلہ کروں گا۔ (بخاری، ومسلم)
تشریح
میں ایک انسان ہوں کے ذریعہ اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ سہو اور نسیان کسی انسان سے بعید نہیں ہے اور انسان کی فطرت اور وضع بشری کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ کسی معاملہ کے صرف اسی پہلو کو دیکھے جو ظاہری طور پر عیاں ہو اور اس کے متعلق اسی بات کو قبول کرے جو ایک کھلی ہوئی دلیل کی صورت میں اس کے سامنے آئے اور چونکہ میں بھی ایک انسان اور اس حیثیت سے وہ تمام احکام و عوارض مجھ پر بھی پیش آتے ہیں جو بشریت کا خاصہ ہیں اور جن کا تعلق انسانی جبلت سے ہے، لہٰذا جن معاملات میں مجھے وحی کے ذریعہ براہ راست بار گاہ الوہیت سے حقیت رسی کی قوت عطا کی جاتی ہے اور حق سبحانہ تعالیٰ کی جانب سے مجھے تعلیم و ہدایت دی جاتی ہے ان کے علاوہ دوسرے امور میں مجھے انہی ضابطوں اور قاعدوں کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے جن کی بنیاد انسانی عقل اور بشری تقاضوں پر ہے۔ چناچہ جب میرے سامنے کوئی قضیہ آتا ہے تو میں اس کے ظاہری پہلوؤں کے مطابق ہی فیصلہ کرتا ہوں۔ اگر مدعی اپنے دلائل اپنے گواہ اور اپنے زور بیان سے میرے سامنے یہ ثابت کردیتا ہے کہ اس کا دعوی صحیح ہے اور اس نے جس چیز کا مطالبہ کیا ہے وہ اسی کا حق ہے تو میں اس کے حق میں فیصلہ کردیتا ہوں کہ ظاہری حکم کا تقاضہ یہی ہے اب اس کے بعد مدعی جانے کہ اگر حقیقت میں اس کا دعوی صحیح ہے اور جس چیز کا اس نے مطالبہ کیا ہے وہ اسی کا حق ہے تو وہ اپنی مراد پالے۔ لیکن اگر حقیقت میں اس کا دعوی صحیح نہ تھا اور جس چیز کا اس نے مطالبہ کیا تھا وہ اس کا حق نہیں تھا بلکہ کسی دوسرے کا حق تھا اور میں نے اس کے ظاہری دلائل و ثبوت اور اس کی چرب زبانی اور قوت لسانی سے یہ سمجھا کہ اس کا دعوی صحیح ہے۔ اور اس کا مدعا اس کو دلوا دیا تو اس کو چاہئے کہ وہ اس چیز کو اپنے حق میں حلال نہ جانے بلکہ یہ سمجھ کر کہ یہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے جو ملا ہے۔ اس سے اجتناب کرے۔
ناحق مقدمہ بازی کرنے والے کے بارے میں وعید
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أبغض الرجال إلى الله الألد الخصم
اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں بدترین اور مبغوض ترین وہ شخص ہے جو بہت زیادہ ناحق جھگڑے والا ہے۔ (بخاری ومسلم )
کیا مدعی ایک گواہ اور ایک قسم کے ذریعہ اپنا دعوی ثابت کرسکتا ہے۔
وعن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قضى بيمين وشاهد . رواه مسلم
اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (ایک قضیہ میں) ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ صادر فرمایا۔ (مسلم)
تشریح
حدیث کا ظاہری مفہوم یہ بتاتا ہے کہ اگر مدعی اپنے دعوی کے ثبوت میں صرف ایک گواہ پیش کرسکے تو اس (مدعی) سے دوسرے گواہ کے بدلے ایک قسم لے لی جائے اور اس قسم کو ایک گواہ کا قائم مقام قرار دے کر اس کا دعوی تسلیم کرلیا جائے چناچہ حضرت امام شافعی، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد تینوں کا یہی مسلک ہے۔ لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے بلک دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے اور چونکہ قرآن کے حکم کو خبر واحد کے ذریعہ منسوخ کرنا جائز نہیں ہے اس لئے اس روایت کی بناء پر ایسے مسلک کی بنیاد صحیح نہیں ہوسکتی جو قرآن کے حکم کے منافی ہو درآنحالیکہ اس رویت کے بارے میں یہ احتمال بھی ہے جب مدعی اپنا دعوی لے کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آیا ہو اور وہ اپنے دعوی کے ثبوت میں صرف ایک گواہ پیش کرسکا ہو تو چونکہ وہ اپنے ثبوت شہادت کی تکمیل نہ کرسکا اور آنحضرت ﷺ نے صرف ایک گواہ کے وجود کے وجود کا اعتبار نہیں کیا اس لئے مدعا علیہ کو قسم کھانے کا حکم دیا مدعاعلیہ کے قسم کھانے کے بعد آپ ﷺ نے اس قضیہ کا فیصلہ دیا۔ اسی کو راوی نے ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ دینے سے تعبیر کیا۔ طیبی کہتے ہیں کہ آئمہ کا یہ اختلاف بھی اس صورت میں ہے جب کہ قضیہ کا تعلق کسی مالی دعوی سے ہو اگر دعوی کا تعلق مال کے علاوہ کسی اور معاملہ سے ہو تو اس صورت میں متفقہ طور پر تمام آئمہ کا مسلک یہی ہے کہ گواہ اور قسم (یعنی مدعی) کی طرف سے مثلًا ایک گواہ پیش کرنے اور ایک قسم کھانے کا اعتبار نہ کیا جائے۔
مدعاعلیہ کی قسم کا اعتبار کیا جائے خواہ وہ حقیقت میں جھوٹی قسم کیوں نہ ہو
وعن علقمة بن وائل عن أبيه قال : جاء رجل من حضرموت ورجل من كندة إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال الحضرمي : يا رسول الله إن هذا غلبني على أرض لي فقال الكندي : هي أرضي وفي يدي ليس له فيها حق فقال النبي صلى الله عليه و سلم للحضرمي : ألك بينة ؟ قال : لا قال : فلك يمينه قال : يا رسول الله إن الرجل فاجر لا يبالي على ما حلف عليه وليس يتورع من شيء قال : ليس لك منه إلا ذلك . فانطلق ليحلف فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لما أدبر : لئن حلف على ماله ليأكله ظلما ليلقين الله وهو عنه معرض . رواه مسلم
اور حضرت علقمہ ابن وائل اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا (ایک دن) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حضرموت کا رہنے والا اور ایک شخص کندہ کا۔ دونوں حاضر ہوئے حضرمی (یعنی حضرموت کے رہنے والے) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس شخص نے میری زمین (کو غصب کر کے اس) پر قضبہ کرلیا ہے کندی نے کہا کہ وہ میری زمین ہے اور ہاتھ (یعنی میرے قبضے) میں ہے، اس شخص کا اس زمین پر کوئی حق نہیں ہے۔ رسول کریم ﷺ نے دونوں فریق کا بیان سن کر حضرمی سے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس گواہ ہیں؟ اس نے کہا کہ نہیں! آنحضرت ﷺ نے فرمایا تو اب تمہارے دعوی کا دارومدار اس (مدعا علیہ کی قسم پر ہے (کہ اگر یہ قسم کھانے کا انکار کر دے گا تو تمہارا دعوی تسلیم کرلیا جائے گا اور اس نے قسم کھالی تو تمہارا دعوی باطل کردیا گا) اس (حضرمی) نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ شخص تو فاجر (جھوٹا ہے) اس کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ اس نے جس چیز کی قسم کھائی ہے وہ سچ ہے یا جھوٹ اور اس کو کسی چیز سے پرہیز نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ (بہرحال) تمہارے لئے اس شخص کی طرف سے سوائے اس (قسم) کے اور کچھ نہیں ہے۔ (یہ سن کر) وہ (کندی) شخص قسم کھانے کے لئے چلا اور جب اس نے پیٹھ پھیری تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر یہ شخص اس حضرمی) کے مال قسم کھائے گا تاکہ اس کا مال زبردستی ہضم کر جائے تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کریں گے کہ وہ (اللہ) اس سے بیزار ہوگا۔ (مسلم)
تشریح
وہ شخص قسم کھانے کے لئے چلا ممکن ہے کہ اس کا چلنا اس اعتبار سے ہے کہ جیسے شافعیہ کے یہاں یہ مسئلہ ہے کہ یہ قسم کھانے والا پہلے وضو کرتا ہے اور پھر ایک خاص وقت میں یعنی جمعہ کے روز عصر کے بعد قسم کھاتا ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ وہ مدعی کی طرف سے پیٹھ پھیر کر آنحضرت ﷺ کی طرف چلا تاکہ آپ ﷺ کے پاس پہنچ کر قسم کھائے۔ نووی کہتے ہیں کہ اس حدیث سے کئی مسئلے نکلتے ہیں کہ ایک تو یہ کہ اس طرح کے قضیے میں اس (اجنبی سے قبضے والا اولی ہے۔ جو اس کے زیر چیز پر دعوی کرے۔ دوسرا یہ کہ مدعا علیہ پر قسم کھانا لازم ہے جب کہ وہ مدعی کے دعوی کو تسلیم نہ کرے۔ اور تیسرا یہ کہ فاجر مدعا علیہ کی قسم کو بھی اس طرح تسلیم و قبول کیا جائے جس طرح عادل مدعا علیہ کی قسم تسلیم و قبول کی جاتی ہے نیز اس قسم کھا لینے کی وجہ سے اس پر سے مدعی کا مطالبہ ساقط ہوجاتا ہے (لیکن یہ واضح رہے کہ اگر عدالت میں سچی گواہی سے مدعا علیہ کی قسم کا جھوٹ معلوم ہوجائے تو پھر اس کی قسم کالعدم قرار پائے گی )۔
جھوٹا دعوی کرنے والے کا ٹھکانا دوزخ ہے
وعن أبي ذر رضي الله عنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من ادعى ما ليس له فليس منا وليتبوأ مقعده من النار . رواه مسلم
اور حضرت ابوذر ؓ روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص کسی ایسی چیز کا دعوی کرے جو اس کی نہیں ہے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے اور اس کو چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں ڈھونڈھ لے۔ (مسلم )
وعن زيد بن خالد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أخبركم بخير الشهداء ؟ الذي يأتي بشهادته قبل أن يسألها . رواه مسلم
اور زید ابن خالد کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تہیں بہترین گواہوں کے بارے میں نہ بتادوں؟ (سنو کہ) گواہوں میں بہترین گواہ وہ ہے جو گواہی طلب کئے جانے سے پہلے گواہی دے دے۔ (مسلم )
تشریح
مطلب یہ ہے کہ گواہی دراصل بیان حقیقت کا دوسرا نام ہے اور حقیقت بیان کرنے کو طلب و درخواست پر موقوف رکھنا غیرموزوں بات ہے۔ لہٰذا بہترین گواہ وہ ہے جو گواہی طلب کئے جانے سے پہلے اور قبل اس کے اس سے پوچھا جائے کہ کیا تم وہ ہو اور یہ کہ کیا تم گواہی دینا چاہتے ہو، وہ از خود گواہی دیدے اور اس طرح حق کو ظاہر کرنے کی ذمہ داری پوری کرے۔