امانت دار شرکاء اللہ تعالیٰ محافظ رہتا ہے
عن أبي هريرة رفعه قال : إن الله عز و جل يقول : أنا ثالث الشريكين ما لم يخن صاحبه فإذا خانه خرجت من بينهما . رواه أبو داود وزاد رزين : وجاء الشيطان
اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ میں دو شریکوں کے درمیان ایک تیسرا نگہبان ہوں جب تک کہ ان میں سے کوئی اپنے دوسرے شریک کے ساتھ خیانت نہیں کرتا۔ اور جب وہ خیانت و بددیانتی پر اتر آتے ہیں تو میں ان کے درمیان سے ہٹ جاتا ہوں (ابوداؤد) اور رزین نے اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ اور پھر ان کے درمیان شیطان آجاتا ہے۔
تشریح
میں دو شریکوں کے درمیان ایک تیسرا ہوں کا مطلب یہ ہے کہ شرکاء جب تک دیانت امانت اور ایمان داری کے ساتھ باہم شریک رہتے ہیں میری محافظت و برکت کا سایہ ان پر رہتا ہے بایں طور کہ میں انہیں ہر نقصان و تباہی سے محفوظ رکھتا ہوں ان کے مال پر کوئی آفت نازل نہیں کرتا ان کے رزق میں وسعت بخشتا ہوں ان کے معاملات میں خیر و بھلائی برقرار رکھتا ہوں ان کے مال پر کوئی آفت نازل نہیں کرتا ان کے رزق میں وسعت بخشتا ہوں ان کے معاملات میں خیر و بھلائی برقرار رکھتا ہوں اور ہر موقع پر ان کی مدد ونصرت کرتا ہوں۔ ان کے درمیان سے ہٹ آتا ہوں کا مطلب یہ ہے کہ جب شرکاء میں بددیانتی کے جراثیم پیدا ہوجاتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ خیانت کرنے لگتے ہیں تو میری محافظت و برکت کا سایہ ان سے ہٹ جاتا ہے اور اس کے بجائے شیطان اپنا تسلط جما لیتا ہے جس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ شرکاء مکمل نقصان و تباہی کے کنارے پہنچ جاتے ہیں اور ان کے مال ورزق سے برکت ختم ہوجاتی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ معاملات بطور خاص تجارت وغیرہ میں شرکت مستحب ہے کیونکہ اس کیوجہ سے کاروبار اور مال و سرمایہ میں اللہ تعالیٰ کی وہ برکت نازل ہوتی ہے جو تنہا کاروبار کرنے والے کو حاصل نہیں ہوتی اس لئے کہ جب کسی کاروبار میں دو آدمی شریک ہوتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک اپنے دوسرے شریک کے مال کی حفاظت و نگرانی میں کوشاں رہتا ہے اور یہ معلوم ہی ہے کہ کوئی بندہ جب تک اپنے مسلمان بھائی کی مدد اور خیر خواہی میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے۔
خائن سے انتقام کا جذبہ تمہیں خیانت پر نہ اکسادے
وعنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أد الأمانة إلى من ائتمنك ولا تخن من خانك . رواه الترمذي وأبو داود والدارمي
اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے تمہیں امین بنایا ہے اس کی امانت اس تک پہنچا دو جو شخص تمہارے ساتھ خیانت کرے تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو ( ترمذی ابن ماجہ دارمی)
تشریح
قاضی کہتے ہیں کہ حدیث کی آخری ہدایت سے مراد یہ ہے کہ خائن نے تمہارے ساتھ جو معاملہ کیا ہے وہی معاملہ تم اس کے ساتھ نہ کرو یعنی اگر کسی شخص نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہے تو تم بھی اس کے ساتھ خیانت نہ کرو کیونکہ اگر تم بھی خیانت کرو گے تو پھر جس طرح وہ خائن ہے اسی طرح تم بھی خائن قرار دیئے جاؤ گے۔ ہاں اس سے وہ شخص مستثنی ہے جو ظالم (کسی کا مال لے کر مکر جانیوالا) سے اپنے حق کے بقدر اس کا مال لے لے، کیونکہ وہ تو اپنا حق اس سے لیتا ہو جو کوئی عدو ان یعنی ظلم و زیادتی نہیں ہے جب کہ خیانت ایک صریح عدوان ظلم ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کا کوئی حق مثلا مال کسی کے ذمہ واجب ہو اور اس کا مال اس صاحب حق کی دسترس میں ہو تو وہ اپنے مال کے بقدر اس کے مال میں سے لے لے بشرطیکہ جو مال کی دسترس میں ہے وہ اس مال کی جنس سے ہو جو مال والے کے ذمہ ہے مثلا زید کے دس روپے بکر کے ذمہ واجب ہیں اور بکر کے کچھ روپے زید کی دسترس میں ہیں تو اب زید کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان روپوں میں سے اپنے دس روپے لے لے۔
- [ 6 ] وعن جابر قال : أردت الخروج إلى خيبر فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فسلمت عليه وقلت : إني أردت الخروج إلى خيبر فقال : إذا أتيت وكيلي فخذ منه خمسة عشر وسقا فإن ابتغى منك آية فضع يدك على ترقوته . رواه أبو داود
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے خیبر جانے کا ارادہ کیا تو رخصت ہونے کے ارادہ سے) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا اور عرض کیا کہ میں نے خیبر جانے کا ارادہ کرلیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم خیبر میں میرے وکیل کے پاس جاؤ تو اس سے پندرہ وسق (کھجوریں) لے لینا اگر وہ تم سے کوئی نشانی مانگے تو اپنا ہاتھ اس کے حلق پر رکھ دینا ( ابوداؤد)
تشریح
آنحضرت ﷺ نے جس شخص کو خیبر میں اپنا وکیل مقرر کر رکھا تھا اسے یہ ہدایت دے رکھی ہوگی کہ اگر کوئی شخص میری طرف سے کچھ مانگنے آئے اور تم اس سے میرا فرستادہ ہونے کی کوئی نشانی و علامت طلب کرو اور وہ اپنا ہاتھ تمہارے حلق پر رکھ دے تو سمجھ لینا کہ اس شخص کو میں نے بھیجا ہے چناچہ آپ ﷺ نے حضرت جابر کو یہی نشانی سکھا کر بھیجا تاکہ وکیل اس نشانی کے ذریعہ ان کو پندرہ وسق کھجوریں دیدے۔
شرکت مضاربت میں خیر و بھلائی
عن صهيب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث فيهن البركة : البيع إلى أجل والمقارضة وإخلاط البر بالشعير للبيت لا للبيع . رواه ابن ماجه
حضرت صہیب کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جن میں برکت یعنی بہت زیادہ خیر و بھلائی) حاصل ہوتی وعدہ پر بیچنا یعنی خریدار کو ادائیگی قیمت میں مہلت دینا ٢ مضاربت ٣ گیہوں میں جو ملانا گھر کے خرچ کے لئے بیچنے کے لئے نہیں (ابن ماجہ)
تشریح
مضاربت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اپنا مال تجارت کے لئے دے اور وہ اپنی محنت سے کاروبار کرے پھر اس کا روبار سے جو نفع حاصل ہو وہ دونوں آپس میں تقسیم کرلیں۔ گھرکے خرچ کے لئے گیہوں میں جو ملانا ایک فائدہ مند چیز ہے کیونکہ اس طرح گھر کی غذائی ضرورت کی تکمیل کفایت کے ساتھ ہوجاتی ہے البتہ بیچے جانیوالے گیہوں میں جو ملا دینا مطلقًا ممنوع ہے کیونکہ یہ گناہ و فریب ہے۔ ایک واقعہ اور حضرت حکیم ابن حزام کے بارے میں منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے انہیں ایک دینار دیکر بھیجا تاکہ وہ اس دینار سے آپ ﷺ کے لئے قربانی کا جانور خرید لیں چناچہ انہوں نے اس دینار کے عوض ایک مینڈھا یا دنبہ خریدا اور پھر اسے دو دینار میں بیچ دیا اس سے فارغ ہو کر انہوں نے قربانی کا جانور ایک دینار میں خریدا اور اس جانور کے ساتھ وہ دینار بھی لا کر آنحضرت ﷺ کو دیدیا جو پہلے خریدے گئے جانور کی وصول شدہ قیمت میں سے بچ گیا تھا آنحضرت ﷺ نے اس دینار کو تو صدقہ کردیا اور حضرت حکیم ابن حزام کے حق میں یہ دعا فرمائی کہ اللہ ان کی تجارت میں برکت عطاء فرمائے (ترمذی ابوداؤد)
شرکت و وکالت کے بارے میں کچھ اصولی باتیں باب کی ابتداء میں اور پھر کچھ مسائل احادیث کی
تشریح
ات میں بیان ہوچکے ہیں چونکہ باب ختم ہو رہا ہے اس لئے مناسب ہے کہ اس موضوع سے متعلق کچھ اور ضروری مسائل یکجا طور پر ذکر کر دئیے جائیں۔
کسی تجارتی کاروبار یا معاملہ میں جو لوگ شریک وحصہ دار ہوتے ہیں۔ ان کی دو شکلیں ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ اس کاروباریا معاملہ کا ہر شریک مالک و متصرف یا صرف متصرف ہوتا ہے اس طرح اس کاروبار یا معاملہ میں جملہ شرکاء کے باہمی مشورے پر عمل درآمد ہوتا ہے اسی شکل کی وہ چار قسمیں شرکت مفاوضہ شرکت عنان شرکت صنائع والتقبل اور شرکت وجوہ ہیں جن کا بیان باب کی ابتداء میں ہوچکا ہے۔ شرکاء کی دوسری شکل یہ ہوتی ہے کہ چند افراد کی ایک جماعت کسی تجارتی معاملہ میں شریک وحصہ دار ہو اور وہ تمام افراد کسی قانونی نظام اور مقررہ قواعد و ضوابط کے پابند ماتحت ہوں اور ان میں سے ہر ایک شریک اپنے آپ کو مالکانہ حیثیت سے علیحدہ تصور کرے اس شکل کو موجودہ دور کے مشترک تجارتی اداروں اور کمپنیوں پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔ اس بارے میں فقہی مسئلہ یہ ہے کہ -1 ایسے کسی بھی مشترکہ تجارتی ادارے یا کمپنی کا نظم ونسق چلانے قانون پر عملدرآمد کرنے اور اجرائے کار کے لئے شرکاء ہی میں سے یا ان کے علاوہ لوگوں میں سے ایک شخص یا کئی آدمیوں کو جملہ شرکاء کے مشورہ سے منتخب کیا جائے۔ -2 کوئی بھی شریک بانصر اور تصرف کا حق نہیں رکھتا البتہ حق ملک ہر شریک کو حاصل ہوتا ہے۔ -3 جملہ شرکاء کی جماعت بہیئت مجموعی مالک و متصرف ہوگی اور یہ ہئیت مجموعی خواہ باتفاق کل حاصل ہو یا بکثرت آراء۔ -4 کوئی بھی شریک اپنے مشترک تجارتی ادارہ کا اجیر وملازم بن سکتا ہے -5 کوئی بھی شریک علیحدگی اختیار نہیں کرسکتا البتہ اپنا حصہ بذریعہ ہبہ یا بذریعہ بیع منتقل کرسکتا ہے -6 جب تعداد شرکاء محدود ومکمل ہوجائے اور کوئی شریک اپنا حصہ بیچے تو دوسرے شرکاء مقدم سمجھے جائیں۔ -7 اگر کوئی حصہ میراث یا بیع وغیرہ کے ذریعہ تقسیم ہوجائے تو کارکنان کمپنی اس بات پر مجبور ہوں گے کہ اس حصہ کے جملہ ورثاء یا حقداروں سے لین دین کرنے میں جو کچھ زحمت ہو اسے برداشت کریں اس حصہ کے جملہ ورثاء یا شرکاء خواہ مل کرداد وستد (لین دین) کریں یا کسی ایک کو وکیل بنادیں ایسے حصہ کے جملہ شرکاء کا مجموعہ ایک ذات کے برابر سمجھا جائے گا۔ شرکاء کمپنی کاروبار چلانے کے لئے جو قانون مرتب ونافذ کریں گے ان کی پابندی تمام شرکاء پر ضروری ہوگی البتہ خلاف شرع قانون بنانا معصیت و گناہ اور اس کی پابندی ناجائز ہے۔ -9 ایسے جملہ قانون جو کسی نظم ونسق کی حالت کے لئے وضع کئے جائیں صرف مباحات سے متعلق رہیں گے منصوصات شرعیہ میں اثر انداز نہیں ہونگے۔ -10 یہ شرط کہ شرکاء ذاتی طور پر کسی دین اور نقصان کے ذمہ دار نہیں صرف اس صورت میں معتبر ہے جب کہ اس کا اعلان کیا جا چکا ہو۔ فسخ شراکت جو تجارتی کاروبار یا کوئی معاملہ دو فریق کے زیر شرکت ہو اس کو فسخ کردینے یعنی شرکت کو ختم کردینے کی دو صورتیں ہیں اول یہ کہ شرکت کو ختم کردینے پر دونوں فریق راضی ہیں دوم یہ کہ ایک فرق علیحدگی چاہے جیسے وہ مرگیا یا مجنوں ہوگیا یا کسی مطالبے میں مال دینا پڑا جس سے سرمایہ قائم نہیں رہ سکتا یا علیحدگی کی کوئی اور وجہ ہو ان تمام صورتوں میں شرکت ختم ہو کر تقسم عمل میں آجائے گی اگرچہ میت کے ورثاء اور مجنوں کے اولیاء شراکت کو باقی رکھنا چاہیں۔ فسخ شراکت میں فقہی ہدایت یہ ہے کہ -1 پہلے تمام مطالبات ادا کئے جائیں -2 ان معاہدوں کی تکمیل کا انتظام بھی ہوجائے جو شراکت کے ذمہ تھے -3 وہ تمام حقوق جو اصل وہم میں معتبر سمجھے گئے ہیں مثل اموال قیمتی کے تقسم ہوں گے -4 جو مطالبات دوسروں پر واجب ہیں اور جن کا وصول ہونا باقی ہے وہ بوقت وصول بقدر حصہ ملا کریں گے اور ہر شریک دوسرے کا وکیل سمجھا جائے گا تاکہ تقاضہ اور وصول کرتا رہے -5 فسخ شراکت کی دوسری صورت میں ان دو چیزوں کا لحاظ ضروری ہے اول یہ کہ شراکت سے علیحدگی اختیار کرنے والا فریق یا اس کے قائم مقام ذمہ داریوں کے بارے میں سبکدوش نہیں ہو سکیں گے۔ دوم یہ کہ جملہ حقوق معتبر مثل دکان ونام وغیرہ میں فریق خارج کو کوئی حق نہیں دیا جائے گا۔ -6 شراکتی جماعتوں یعنی مشترک تجارتی اداروں اور کمپنیوں پر اس ادارہ یا کمپنی کے مقررہ قانون کے حکم یا حاکم کے حکم کے بغیر ایسے انفساخ کا اثر نہیں پڑھ سکتا کیونکہ کسی شریک کی موت جنون کا افلاس وغیرہ سے اس کا تعلق نہیں ہے۔
فسخ شرکت کی صورت میں تقسیم کی ترتیب
جب شراکت ختم ہوجائے اور فریقین کے درمیان سرمایہ و اموال کی تقسیم ہونے لگے تو ان امور کی ترتیب اور ان کا لحاظ ضروری ہے۔ -1 جو مطالبات شراکت کے ذمہ ہوں ان کی ادائیگی یا جو معاہدات کئے گئے ہوں ان کی تکمیل کا انتظام پیش نظر رہے -2 جملہ حقوق معتبرہ اور اموال قیمتی کی قیمت متعین کردی جائے اور درصورت اختلاف ونزاع قرعہ سے فیصلہ کرنا شرعا جائز ہے۔ -3 فریق خارج کو کوئی حق آئندہ نہ دلایا جائے گا گو ذمہ داری کے بار سے وہ سبکدوش نہیں ہے۔ -4 شراکت کے جو مطالبات دوسروں کے ذمہ ہوں ان میں حسب دستور وکالت رہے گی وصول ہونے پر بقدر حصہ تقسیم کرنا چاہئے۔
وکالت کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ وکیل اور مؤ کل مجنوں نابالغ غلام اور محجور نہ ہو -2 کسی اسی چیز میں وکیل بنانا جائز نہیں جو کسی کی مملوک نہ ہو جیسے جنگ کی گھاس یا لکڑیا جمع کرنا دریا سے پانی لانا، غوطہ لگا کر موتی نکالنا یا صدقہ لینے کے لئے وکیل بنانا۔ -3 جائز ہے کہ وکیل چاہے تو مفت خدمات انجام دے چاہے اپنی اجرت وصول کرلے اور چاہے نفع میں شریک ہو۔ -4 ہر ایسے تصرف میں جس کی نسبت اپنی اور مؤ کل دونوں کی طرف کرسکتا ہے وکیل مثل اصل کے مدعی اور مدعا علیہ بن سکتا ہے جیسے خریدو فروخت اور ہر ایسے امر میں جس کی نسبت اپنی طرف نہیں کرسکتا وکیل کو حقوق عقد سے کوئی واسطہ نہیں جیسے نکاح، طلاق -5 وکیل کو یہ حق حاصل نہیں کہ اپنی ذات کے لئے مالکانہ تصرف کرے کیونکہ وہ صرف امین ہے -6 مؤ کل اپنے وکیل کو تصرف سے پہلے معزول کرسکتا ہے تصرف کے بعد اسے و کیل کے انجام دئیے ہوئے کام کو قبول و تسلیم کرلینے کے علاوہ اور کوئی حق حاصل نہیں -7 وکیل کو حق ہے کہ وہ مؤ کل کے لئے جو مال لایا ہے اس کے دام وصول کئے بغیر اس کے حوالے نہ کرے مگر دے کر واپس نہیں کرسکتا۔ -8 جب کہ وکیل دام وصول کرنے کے لئے مال نہ روکے امین ہے اور روکنے کے بعد ضامن ہوجائے گا۔ -9 وکیل کو جائز نہیں کہ جس چیز کے لئے وکیل بنایا گیا ہے اس کا معاملہ اپنی ذات کے لئے کرے۔ مسئلہ -1 زید نے اپنے نوکر سے کسی دکان سے کوئی چیز منگوائی اور نوکر وہ چیز دکاندار سے ادھارلے آیا تو وہ دکاندار زید سے قیمت کا تقاضہ نہیں کرسکتا بلکہ اسی نوکر سے تقاضہ کرے اور وہ نوکر زید سے تقاضا کرے۔ بشرطیکہ زید نے قیمت اسے نہ دی ہو اسی طرح اگر زید نے اپنی کوئی چیز اپنے نوکر سے بکوائی تو زید کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا کہ وہ خریدار سے تقاضہ کرے یا اس سے قیمت وصول کرے کیونکہ خریدار نے جس شخص سے وہ چیز حاصل کی ہے اسی کو قیمت ادا کرے گا ہاں اگر خریدار زید کو ازخود قیمت دیدے تو یہ جائز ہے مطلب یہ کہ اگر خریدار زید کو قمیت نہ دے تو زید زبردستی نہیں کرسکتا۔ -2 زید نے اپنے نوکر سے ایک من گیہوں منگوایا تھا مگر وہ ڈیڑھ من اٹھا لایا تو زید کو پورا ڈیڑھ من لینا واجب نہیں ہے بلکہ اگر وہ نہ لے تو آدھ من نوکر کو لینا پڑے گا۔ -3 زید نے کسی سے کہا کہ فلاں بکری جو فلاں کے پاس ہے تم جا کر اس کو پندرہ روپے میں لے آؤ تو اب وہ شخص وہی بکری خود اپنے لئے نہیں خرید سکتا۔ مطلب یہ ہے کہ جو چیز خاص کر کے وکیل کو بتادی جائے اس وقت وکیل کو خود اپنے لئے اس کو خریدنا جائز نہیں ہے البتہ مؤ کل نے جو دام بتائے ہیں اس سے زیادہ میں اگر وکیل اپنے لئے خریدے تو جائز ہے اور اگر مؤ کل نے کچھ دام نہ بتائے ہوں صرف خریدنے کے لئے کہا ہو تو پھر کسی صورت میں بھی وہ چیز وکیل اپنے لئے نہیں خرید سکتا۔ -4 زید کے وکیل نے زید کے لئے ایک بکری خریدی پھر ابھی وکیل زید کو دینے نہ پایا تھا کہ بکری مرگئی یا چوری ہوگئی تو اس بکری کے دام زید ہی کو دینا پڑیں گے۔ اگر زید وکیل سے یہ کہے کہ تم نے وہ بکری میرے لئے نہیں بلکہ اپنے لئے خریدی تھی تو زید کی اس بات کا اعتبار نہیں ہوگا بشرطیکہ زید نے اس بکری کے دام وکیل کو پہلے ہی دیدئیے ہوں ہاں اگر اس نے دام پہلے نہیں دئیے تھے تو اس صورت میں اگر زید قسم کھا کر وکیل سے یہ کہے کہ تم نے وہ بکری اپنے لئے خریدی تھی تب اس کی بات کا اعتبار ہوگا اور اس بکری کا نقصان وکیل کو برداشت کرنا ہوگا اور اگر زید قسم نہ کھا سکے تو پھر وکیل ہی کی بات کا اعتبار کرنا ہوگا۔ -5 زید کا نوکر اگر کوئی چیز گراں خرید لائے تو اگر تھوڑا ہی فرق ہو تو وہ چیز زید کو لینی پڑے گی اور اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی اور اگر بہت زیادہ گراں خرید لاتا ہے کہ وہ چیز اتنی قیمت میں کوئی نہیں خرید سکتا تو اس کا لینا واجب نہیں ہے اگر زید وہ چیز نہ لے تو خود نوکر اس چیز کا ذمہ دار ہوگا۔ -6 زید نے اپنی کوئی چیز بکر کو دی کہ وہ اسے فروخت کر دے تو بکر کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اس چیز کو خود لے لیوے اور اس کے دام زید کو دیدے۔ اسی طرح اگر زید نے بکر سے کہا کہ فلاں کی چیز مجھے خرید لاؤ تو بکر کو یہ اجازت نہیں ہوگی کہ وہ اپنی چیز زید کو لا کر دیدے اور اس سے اس کی قیمت وصول کرلے اگر بکر اپنی چیز دینا یا خود لینا چاہے تو زید سے صاف صاف کہدے کہ یہ چیز میں لیتا ہوں مجھ کو دیدو یا یوں کہدے کہ یہ میری چیز لے لو اور اتنی قیمت مجھے دیدو بغیربتلائے ہوئے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ -7 زید نے اپنے نوکر سے بکری کا گوشت منگوایا اور وہ بھینس کا لے آیا تو زید کو اختیار ہوگا کہ چاہے تو لے چاہے نہ لے اسی طرح زید نے نوکر سے آلو منگوائے اور وہ بھنڈی لے آیا تو اس کا لینا ضروری نہیں ہے اگر زید لینے سے انکار کر دے تو نوکر کو خود لینا پڑے گا۔ -8 زید نے دو آدمیوں کو بھیجا کہ بازار جا کر فلاں چیز لے آؤ تو اس چیز کی خریداری کے وقت ان دونوں آدمیوں کو موجود رہنا ضروری ہے صرف ایک آدمی کو خریدنا جائز نہیں ہے۔ اگر ایک ہی آدمی خریداری کرے تو بیع موقوف رہے گی۔ اگر زید صرف ایک آدمی کی خریداری کو منظور کرلے گا تو صحیح ہوجائے گا۔ -9 زید نے کسی شخص سے کہا کہ بازار سے فلاں چیز خرید لاؤ مگر اس شخص نے وہ چیز خود نہیں خریدی بلکہ کسی دوسرے سے خریدنے کے لئے کہ دیا تو اب اس چیز کو لینا زید پر واجب نہیں رہے گا چاہے وہ لے لے چاہے لینے سے انکار کردے دونوں اختیار ہیں البتہ اگر وہ شخص خود خریدے تو پھر زید کو لینا پڑے گا۔
وکیل کو قبل تصرف برطرف کردینے کا ہر وقت اختیار ہے مثلا زید نے کسی سے کہا تھا کہ مجھے ایک بکری کی ضرورت ہے کہیں مل جائے تو لے لینا پھر منع کردیا کہ میں نے تم سے جو بکری خریدنے کے لئے کہا تھا اب نہ خریدنا اس کے باوجود وہ شخص بکری خرید لے تو زید کے لئے یہ ضروری نہیں ہوگا کہ وہ بکری لے لے کیونکہ منع کرنے کے بعد اس شخص کو زید کے لئے بکری خریدنے کا اختیار نہیں رہا تھا۔ ہاں اگر اس نے بکری خرید لی اور پھر اس کے بعد زید نے منع کیا تو اس صورت میں زید پر واجب ہوگا کہ وہ بکری لے لے اور اس کی قیمت ادا کر دے۔ اور اگر یہ صورت ہو کہ زید نے خود اس کو منع نہیں کیا بلکہ خط لکھ کر بھیجا یا آدمی بھیج کر اطلاع دی کہ اب میرے لئے بکری نہ خریدنا تب بھی وہ شخص وکالت سے برطرف ہوگیا اور اگر زید نے برطرفی کی اطلاع نہیں دی بلکہ کسی اور آدمی نے اس سے کہہ دیا کہ زید نے تمہیں وکالت سے برطرف کردیا ہے اس کے لئے نہ خریدنا تو اس صورت میں اگر اطلاع دینے والے دو آدمی ہوں یا ایک ہی آدمی نے اطلاع دی مگر وہ معتبر اور پابند شرع ہے تو اس اطلاع پر بھی برطرفی عمل میں آجائیگی اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ شخص وکالت سے برطرف نہیں ہوگا اگر اس نے بکری خرید لی تو زید کو لینی پڑیگی۔
غصب کے معنی چھیننے کے ہیں اور اصطلاح شریعت میں غصب کہتے ہیں چوری کے بغیر ازراہ ظلم وجور کسی کا مال زبردستی چھین لینا ایسے شخص کو کہ جو کسی کی کوئی چیز زبردستی چھین لے یا ہڑپ کرلے غاصب کہتے ہیں اور مغصوب اس چھینی ہوئی یا ہڑپ کی ہوئی چیز کو کہتے ہیں خواہ وہ کچھ ہو۔ عاریت کے معنی ہیں ما نگی ہوئی چیز اصطلاحی طور پر بغیر کسی عوض کے کسی دوسرے شخص کو اپنی کسی چیز کے نفع و فائدہ کا مالک بنادینا عاریت کہلاتا ہے۔
عن سعيد بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين
حضرت سعید ابن زید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی کی بالشت بھر زمین بھی ازراہ ظلم لے گا قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں بطور طوق ڈالی جائے گی ( بخاری ومسلم)
تشریح
کسی کی کوئی بھی چیز خواہ وہ زیادہ ہو یا کتنی کم ہو اور راہ زور زبردستی چھین لینا یا ہڑپ کرلینا نہ صرف سماجی طور پر ایک ظلم اور اخلاقی طور پر ایک بھیانک برائی ہے بلکہ شرعی طور پر بھی انتہائی سخت جرم اور گناہ ہے۔ اسلام نے انسانی حقوق کے تحفظ کا جو اعلی تصور پیش کیا ہے اور اسلامی شریعت نے حقوق العباد پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو جن سخت سزاؤں اور عقوبتوں کا مستوجب گردانا ہے۔ یہ حدیث گرامی اس کا ایک نمونہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص کسی دوسرے کی زمین کا ایک بالشت بھر حصہ بھی زبردستی ہتھیائے گا اسے اس کے ظلم وجور کی یہ سزا دی جائے گی کہ قیامت کے دن زمین کا صرف وہی حصہ نہیں جو وہ غصب کرے گا بلکہ ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین لے کر اس کے گلے میں بطور طوق ڈالی جائے گی العیاذ باللہ۔ شرح السنۃ میں طوق ڈالنے کا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص کسی کی زمین کا بالشت بھر حصہ بھی غصب کرے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے زمین میں دھنسائے گا چناچہ زمین کا وہ قطعہ جو اس نے غصب کیا ہوگا اس کے گلے کو طوق کی مانند جکڑ لے گا۔
کسی جانور کا دودھ مالک کی اجازت کے بغیر نہ دوہو
وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يحلبن أحد ماشية امرئ بغير أذنه أيحب أحدكم أن يؤتى مشربته فتكسر خزانته فينتقل طعامه وإنما يخزن لهم ضروع مواشيهم أطعماتهم . رواه مسلم
اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے جانور کا دودھ اس کی اجازت یعنی اس کے حکم ورضا کے بغیر نہ دوہے کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرسکتا ہے کہ کوئی شخص اس کے خزانہ یعنی اس کے غلہ کو گودام میں آئے اور اس کا خزانہ گودام کھول دے یہاں تک کہ اس کا غلہ اٹھا لیا جائے اسی طرح جان لو کہ دوسروں کے جانوروں کے تھن ان کی غذائی ضرورت یعنی دودھ کی حفاظت کرتے ہیں۔ (مسلم)
تشریح
جانوروں کے تھن کو غلہ وغیرہ کے گودام سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح تم اپنے غلوں کو گوداموں میں بھر کر محفوظ رکھتے ہو اسی طرح دوسرے لوگوں کے جانور اپنے تھنوں میں اپنے مالک کی غذائی ضرورت یعنی دودھ کو محفوظ رکھتے ہیں لہذا جس طرح تم اس بات کو کبھی بھی پسند و گوارا نہیں کرسکتے کہ کوئی دوسرا شخص تمہارے گوداموں اور تمہارے خزانوں کو غیر محفوظ بن کر وہاں سے غلہ یا دوسری محفوظ اشیاء نکال لے اسی طرح تمہارا یہ فعل بھی جانوروں کے مالکوں کو کیسے گوارہ ہوسکتا ہے کہ تم ان جانوروں کے تھنوں سے دودھ نکال لو۔ حاصل یہ کہ تم دوسروں کے مال پر بری نگاہ نہ ڈالو اور دوسروں کے حقوق کو غصب نہ کرو تاکہ کوئی دوسرا تمہارے مال کو غصب نہ کرے۔ اور جس طرح تم اپنا مال غصب کیا جانا گوارہ نہیں کرسکتے اسی طرح کسی دورے کا مال خود غصب کرنا بھی گوارہ نہ کرو۔ شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ اکثر علماء نے اس ارشاد گرامی پر عمل کرتے ہوئے یہ فتوی دیا ہے کہ کسی کے جانور کا دودھ مالک کی اجازت کے بغیر دوہنا جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص بھوک سے بےحال ہو رہا ہو تو اس کے لئے اتنی اجازت ہے کہ وہ بقدر ضرورت کسی کے جانور کا دودھ پی لے مگر پھر اس کی قیمت ادا کرے۔ اگر اس کے پاس موجود ہو تو اسی وقت یہ قیمت دیدے ورنہ بعد میں جب بھی قادر ہو قیمت کی ادائیگی کر دے۔ ایک واقعہ اور حضرت انس کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ اپنی کسی زوجہ مطہرہ (یعنی حضرت عائشہ) کے ہاں قیام فرماتے کہ ازواج مطہرات میں سے کسی نے (یعنی حضرت زینب یا حضرت صفیہ اور یا حضرت ام سلمہ نے) ایک رکابی بھیجی جس میں کھانے کی کوئی چیز تھی اسے دیکھتے ہی ان زوجہ مطہرہ نے کہ جن کے ہاں آپ ﷺ قیام فرما تھے ( یعنی حضرت عائشہ نے) خادم کے ہاتھ پر اس طرح مارا کہ وہ رکابی گر پڑی اور ٹوٹ گئی۔ نبی کریم ﷺ نے رکابی کے وہ ٹوٹے ہوئے ٹکڑے اکٹھا کئے اور پھر ان ٹکڑوں میں کھانے کی وہ چیز جمع کی جو رکابی میں تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری ماں کو غیرت آگئی تھی بہرکیف آپ ﷺ نے کچھ دیر خادم کو روکے رکھا یہاں تک کہ جن زوجہ مطہرہ کے گھر آپ ﷺ قیام فرما تھے ( یعنی حضرت عائشہ ان کے ہاں سے دوسری رکابی مہیا کی گئی اور پھر آپ ﷺ نے اسی خادم کے ذریعہ ان زوجہ مطھرہ کے ہاں کہ جن کے ہاں رکابی ٹوٹ گئی تھی وہ صحیح وسالم رکابی بھیج دی اور وہ ٹوٹی ہوی رکابی ان زوجہ مطہرہ کے گھر رکھ لی جنہوں نے اس رکابی کو توڑا تھا ( بخاری) تشریح خادم غلام کو بھی کہتے ہیں اور لونڈی کو بھی چناچہ یہاں خادم سے مراد لونڈی ہی ہے کیونکہ حضرت عائشہ کے ہاں لونڈی ہی وہ رکابی اور اس میں کھانے کی کوئی چیز لے کر آئی تھی۔ جب وہ رکابی گر کر ٹوٹ گئی اور اس میں سے کھانے کی وہ چیز بھی زمین پر گرگئی جو اس رکابی میں تھی تو آنحضرت ﷺ نے نہ صرف رکابی کے ٹکڑوں کو اکٹھا کیا بلکہ کھانے کی اس چیز کو بھی نہایت احتیاط کے ساتھ جمع کیا اس فعل سے آپ ﷺ کے کمال تحمل انتہائی توضع اور ازواج مطہرات کے ساتھ آپ ﷺ کی خوش مزاجی اور عفو درگزر کے عالی جذبات ہی کا اظہار نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی بہت زیادہ تعظیم کرتے تھے۔ تمہاری ماں کو غیرت آگئی تھی یہ دراصل اس واقعہ کو سننے پڑھنے والوں سے آپ ﷺ کا خطاب عام ہے اس ارشاد کے ذریعہ گویا آپ ﷺ نے حضرت عائشہ کی طرف سے عذر بیان کیا کہ حضرت عائشہ ؓ جو یہ اضطراری فعل صادر ہوا وہ درحقیقت اس غیرت کی بناء پر تھا جو ہر عورت کی جبلت وسرشت میں داخل ہے کہ کوئی بھی عورت خواہ وہ کتنے ہی اونچے مقام پر کیوں فائز ہو اپنی سوکن کے تئیں مخصوص رقیبانہ اور رشک آمیز جذبات و احساسات سے عاری نہیں ہوسکتی اور نہ کسی بھی عورت کے بس کی یہ بات ہے کہ وہ اپنی طبیعت اور اپنے نفس کو اس طبعی اور جبلی جذبہ سے محفوظ رکھ لے۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ نے یہ الفاظ ارشاد فرمائے تاکہ لوگ حضرت عائشہ کے اس فعل کو برائی پر محمول نہ کریں بلکہ یہ جان لیں کہ ان سے یہ فعل بتقاضائے بشریت سرزد ہوگیا تھا جس میں ان کے مقصد و ارادے یا کسی برائی کا قطعًا کوئی دخل نہیں تھا۔ قاضی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو اس باب میں نقل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ رکابی توڑ دینا ایک طرح کا غصب تھا کیونکہ اس سے ایک دوسرئے کا مال تلف ہوا اگرچہ اس کا سبب خواہ کچھ ہی رہا ہو۔ یا پھر یہ کہ کھانے کی جو چیز بھیجی گئی تھی وہ تو تحفہ کے طور پر تھی لیکن جس رکابی میں وہ چیز بھیجی گئی تھی وہ بطریق عاریت کے تھی اس لئے اس مناسبت سے یہ حدیث اس باب میں ذکر کی گئی ہے۔
کسی مسلمان کا مال لوٹنا حرام ہے
وعن عبد الله بن يزيد عن النبي صلى الله عليه و سلم : أنه نهى عن النهبة والمثلة . رواه البخاري
اور حضرت عبداللہ بن یزید نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے لوٹنے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے ( بخاری)
تشریح
کسی مسلمان کا مال لوٹنا حرام ہے لیکن اس کا یہ مطلب قطعًا نہیں ہے کہ غیر مسلم کا مال لوٹنا حرام نہیں ہے بلکہ مقصد تو صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو کسی بھی حال میں اس کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ مسلمان بھائیوں کے مال کو ناحق طور پر اور زور زبردستی سے لوٹ مار لیں کیونکہ اس کا تعلق صرف حقوق العباد کی پامالی ہی سے نہیں ہے بلکہ معاشرہ اور سوسائٹی کے امن و سکون کی مکمل تباہی سے بھی ہے لہذا امن و سلامتی کے سرچشمہ اسلام کا تابعدار ہونے کے ناطے ایک مسلمان پر یہ ذمہ داری سب سے زیادہ عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے معاشرہ اپنی قوم اور اپنے ملک کے نظام امن وامان کو درہم برہم ہونے اور لاقانونیت پھیلنے سے بچائے جس کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ دوسرے کے مال دوسرے کی جائیداد اور دوسرے کے حقوق کی پامالی اور لوٹ مار کو اسی طرح ناقابل برداشت سمجھا جائے جس طرح اپنے مال اپنی جائیداد اور اپنے حقوق پر کسی کی دست درازی قطعًا برداشت نہیں ہوسکتی۔ مثلہ جسم کے کسی عضو مثلا ناک اور کان وغیرہ کاٹ ڈالنے کو کہتے ہیں اسے شریعت نے حرام قرار دیا ہے کیونکہ اس طرح اللہ کی تخلیق میں بگاڑ اور بد نمائی پیدا کرنا لازم آتا ہے۔
حاجیوں کا سامان چرانے والے کا عبرتناک حشر
وعن جابر قال : انكسفت الشمس في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم مات إبراهيم بن رسول الله صلى الله عليه و سلم فصلى بالناس ست ركعات بأربع سجدات فانصرف وقد آضت الشمس وقال : ما من شيء توعدونه إلا قد رأيته في صلاتي هذه لقد جيء بالنار وذلك حين رأيتموني تأخرت مخافة أن يصيبني من لفحها وحتى رأيت فيها صاحب المحجن يجر قصبه في النار وكان يسرق الحاج بمحجته فإن فطن له قال : إنما تعلق بمحجتي وإن غفل عنه ذهب به وحتى رأيت فيها صاحبة الهرة التي ربطتها فلم تطعمها ولم تدعها تأكل من خشاش الأرض حتى ماتت جوعا ثم جيء بالجنة وذلك حين رأيتموني تقدمت حتى قمت في مقامي ولقد مددت يدي وأنا أريد أن أتناول من ثمرتها لتنظروا إليه ثم بدا لي أن لا أفعل . رواه مسلم
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے زمانے میں آپ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کی وفات کے دن سورج گرہن ہوا چناچہ آپ ﷺ نے لوگوں کو سورج گرہن کی نماز چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھائی (یعنی دو رکعتیں پڑھیں اور ہر رکعت میں تین تین رکوع اور دو دو سجدے کئے) اور جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج پہلے کی طرح روشن ہوچکا تھا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس چیز کا یعنی جنت اور دوزخ کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ میں آج اپنی اس نماز میں دیکھ لی ہے چناچہ دوزخ کو میرے سامنے پیش کیا گیا اور یہی وہ وقت تھا جب نماز کے دوران تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا تھا اور میں اس خوف سے پیچھے ہٹ گیا تھا کہ کہیں اس کی گرمی مجھ تک نہ پہنچ جائے میں نے اس وقت دوزخ میں خمدار لکڑی والے یعنی عمرو ابن لحی کو اس حال میں دیکھا کہ وہ اس میں اپنی انتڑیوں کو کھینچ رہا تھا یہ شخص اپنی خمدار لکڑی کے ذریعہ حاجیوں کا سامان چرایا کرتا تھا (جس کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ وہ چلتے چلتے کسی کی کوئی چیز اپنی خمدار لکڑی میں الجھا لیتا تھا) اگر کوئی اس کی یہ حرکت دیکھ لیتا تو وہ یہ کہہ دیتا کہ یہ چیز اپنے آپ میری لکڑی میں الجھ آئی ہے اور اگر کوئی نہ دیکھ پاتا تو وہ اس چیز کو غائب کردیتا تھا۔ نیز میں نے اس وقت دوزخ میں اس بلی والی عورت کو بھی دیکھا جس نے ایک بلی باندھ رکھی تھی جسے نہ وہ کچھ کھلاتی تھی اور نہ اسے چھوڑتی تھی کہ وہ حشرات الارض یعنی چوہے وغیرہ کھالے یہاں تک کہ وہ بلی مارے بھوک کے مرگئی۔ پھر میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا اور یہی وہ وقت تھا کہ جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا تھا مگر پھر میں اپنی جگہ ٹھہر گیا اور میں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تاکہ میں اس کے پھل توڑ لوں جسے تم بھی دیکھ لو لیکن میں نے سوچا کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے تاکہ تمہارے ایمان بالغیب میں رخنہ نہ پڑے) (مسلم)
تشریح
اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں اول یہ کہ جنت اور دوزخ عالم وجود میں آچکی ہیں اور موجود ہیں چناچہ اہل سنت کا یہی مسلک ہے دوم یہ کہ عذاب اور ہلاکت کی جگہ سے ہٹ جانا سنت ہے سوم یہ کہ بعض لوگ اس وقت بھی دوزخ کے عذاب میں گرفتار ہیں اور چہارم یہ کہ تھوڑا سا عمل نماز کو باطل نہیں کرتا جیسا کہ آنحضرت ﷺ نماز کے دوران جنت اور دوزخ کو دیکھ کر آگے بڑھے اور پیچھے ہٹے۔
جانور کا عاریۃ مانگ لینا جائز ہے
وعن قتادة قال : سمعت أنسا يقول : كان فزع بالمدينة فاستعار النبي صلى الله عليه و سلم فرسا من أبي طلحة يقال له : المندوب فركب فلما رجع قال : ما رأينا من شيء وإن وجدناه لبحرا
اور حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ ایک دن (ایک دن اس خیال سے کہ کفار کا لشکر مدینہ کے قریب آگیا ہے) مدینہ میں گھبراہٹ اور خوف کی ایک فضا پیدا ہوگئی ہے۔ (یہ دیکھ کر) نبی کریم ﷺ نے حضرت طلحہ کا گھوڑا کہ جسے مندوب یعنی سست کہا جاتا تھا عاریۃً مانگا اور اس پر سوار ہو کر تحقیق حال کے لئے مدینہ سے باہر نکلے پھر جب آپ ﷺ واپس آئے تو فرمایا کہ میں نے خوف و گھبراہٹ کی کوئی چیز نہیں دیکھی ہے نیز میں نے اس گھوڑے کو کشادہ قدم یعنی تیز رفتار پایا ہے ( بخاری ومسلم)
تشریح
حضرت ابوطلحہ کا گھوڑا پہلے بہت ڈھیلا اور سست رفتار تھا اسی واسطے اس کا نام ہی مندوب یعنی سست رکھ دیا گیا تھا مگر جب آنحضرت ﷺ اس پر سوار ہوئے تو آپ ﷺ کی برکت سے وہ گھوڑا بڑا چاق وچوبند اور تیز رفتار ہوگیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی جانور کو عاریۃً مانگنا اور اسے اپنے استعمال میں لانا جائز ہے نیز کسی جانور کو کسی نام سے موسوم کردینا بھی جائز ہے اسی طرح سامان جنگ کا نام رکھنا بھی جائز ہے۔ یہ حدیث جہاں آنحضرت ﷺ کی شجاعت وبہادری اور کمال جانبازی کو ظاہر کرتی ہے کہ جب دشمن کی فوج کے مدینہ کے قریب آجانے کے خوف سے پورے مدینہ میں اضطراب و گھبراہٹ کی ایک عام فضا پیدا ہوگئی تھی تو آپ ﷺ بالکل بےخوف ہو کر تحقیق حال کے لے تن تنہا مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے وہیں یہ حدیث اس بات کی بھی غماز ہے کہ دشمنوں کی ٹوہ لینی اور ان کے حالات پر مطلع ہونے کے لئے سعی کرنا ضروری ہے۔ نیز حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی خوف و اضطراب کے موقع پر خوف کے خاتمہ کی خوشخبری لوگوں کو دینا مستحب ہے۔
بنجر زمین کا آباد کرنیوالا اس زمین کا مالک ہے
عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : من أحيى أرضا ميتة فهي له وليس لعرق ظالم حق . رواه أحمد والترمذي وأبو داود
حضرت سعید بن زید نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص مردہ زمین کو زندہ کرے یعنی بنجر وویران زمین کو آباد کرے وہ اسی کی ہے اور ظالم کی رگ کا کوئی استحقاق نہیں ہے اس روایت کو احمد ترمذی ابوداؤد نے بطریق اتصال نقل کیا ہے جب کہ مالک نے اس روایت کو عروہ سے بطریق ارسال کیا ہے نیز امام ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تشریح
حدیث کے پہلے جزء کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی زمین ویران وبنجرپڑی ہوئی ہو اور کوئی شخص اپنی محنت ومشقت سے اس زمین کو قابل کاشت بنائے یا اس کو آباد کرے تو وہ زمین اس شخص کی ملکیت ہوجاتی ہے بشرطیکہ وہ پہلے کسی مسلمان کی ملکیت میں نہ ہو اور نہ شہر وگاؤں کی کسی ضرورت و مصلحت سے متعلق ہو جیسے وہ جانوروں کے بیٹھنے کی جگہ ہو کھلیان کے کام آتی ہو یا دھوبی کپڑے دھو کر وہاں پھیلاتے ہوں اور یا اس سے کسی بھی عوامی فائدہ کا تعلق ہو، حضرت امام اعظم کے نزدیک بنجر وویران زمین کو قابل کاشت یا قابل آبادی کر کے اپنی ملکیت بنانے کی ایک شرط امام یعنی حکومت وقت کی اجازت بھی ہے اگر اسے سرکار کی طرف سے اجازت مل جائے تب وہ اس کا مالک ہوسکتا ہے جبکہ حضرت امام شافعی حضرت امام احمد اور حنفیہ میں سے حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کے ہاں یہ اجازت شرط نہیں ہے ان سب کی دلیلیں فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ اور ظالم کی رگ کا کوئی استحقاق نہیں ہے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی آباد کی ہوئی زمین میں کاشت کرے یا اس میں کوئی درخت لگا لے تو وہ اس کی وجہ سے اس زمین کا مالک نہیں بن جائے گا۔
کسی دوسرے کا مال بغیر اجازت حلال نہیں ہے
وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى
اور حضرت ابوحرہ رقاشی تابعی اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا خبردار کسی پر ظلم نہ کرنا جان لو کسی بھی دوسرے شخص کا مال لینا یا استعمال کرنا اس کی مرضی و خوشی کے بغیر حلال نہیں ہے۔ اس روایت و بیہقی نے شعب الایمان میں اور دارقطنی نے مجتبی میں نقل کیا ہے۔ کسی کا مال لوٹنے والا اسلامی برادری کا فرد بننے کے قابل نہیں اور حضرت عمران بن حصین نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا نہ جلب جائز ہے اور نہ جنب اور نہ شغار اسلام میں جائز ہے اور یاد رکھو جو شخص کسی کو لوٹتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے یعنی وہ ہماری جماعت میں سے نہیں ہے یا ہمارے طریقہ پر نہیں ہے حاصل یہ کہ ایسا شخص اس قابل نہیں کہ اسے اسلامی برادری کا ایک فرد سمجھ جائے (ترمذی)
تشریح
جلب اور جنب یہ دو اصطلاحی الفاظ ہیں۔ ان کا تعلق سباق سے بھی ہے اور صدقہ سے بھی سباق ومسابقت یعنی گھوڑ دوڑ کے مقابلے کو کہتے ہیں مثلا دو آدمی اس شرط کے ساتھ آپس میں گھوڑے دوڑائیں کہ دیکھیں کون آگے نکل جاتا ہے لہذا سباق میں جلب یہ ہے کہ گھوڑا دوڑانے والا ایک آدمی اپنے گھوڑے کے پیچھے رکھے جس کا کام یہ ہو کہ وہ گھوڑے کو مارے آوازیں لگائے اور اس کو دوڑائے۔ اور جنب یہ ہے کہ گھوڑا اپنے ساتھ رکھے تاکہ سواری کا گھوڑا اگر تھک جائے تو اس دوسرے گھوڑے پر سوار ہو کر آگے نکل جائے۔ صدقہ میں جلب کی صورت یہ ہے کہ صدقات وزکوۃ وصول کرنیوالا جب صدقہ وزکوۃ وصول کرنے لوگوں کے پاس جائے تو آبادی سے باہر یا ان لوگوں سے دور کہیں بھی دوسری جگہ ٹھہر جائے اور کسی دوسرے آدمی کو ان لوگوں کے پاس یہ کہلا کر بھیجے کہ جن جن لوگوں پر زکوٰۃ واجب ہے وہ اپنی زکوٰۃ کا مال لے کر یہاں آجائیں۔ اسی طرح جنب یہ ہے کہ جس شخص پر زکوٰۃ واجب ہو وہ اپنا مال لے کر اپنے مکان سے کہیں دور چلاجائے اور زکوٰۃ وصول کرنے والے سے کہے کہ وہ اس کے پاس وہیں پہنچ کر زکوٰۃ وصول کرے اس کا بیان کتاب زکوٰۃ میں گزر چکا ہے چناچہ یہاں بھی جلب و جنب سے منع فرمایا گیا ہے خواہ ان کا تعلق سباق سے یا ہو صدقہ سے۔ شغار یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بہن یا بیٹی کا نکاح کسی سے اس شرط کے ساتھ کرے کہ وہ اپنی بہن یا بیٹی کا نکاح اس کے ساتھ کر دے اور مہر کچھ نہ مقرر ہو بلکہ یہ شرط ہی مہر کے قائم مقام ہو۔ حدیث میں اس قسم کے عقد کو اسلام کے طریقہ کے خلاف فرمایا گیا ہے چناچہ اکثر علماء کے نزدیک ایسا عقد فاسد ہے لیکن حضرت امام ابوحنیفہ اور سفیان کے نزدیک یہ عقد نہ کرنا چاہئے۔
کسی کی کوئی چیز ہنسی مذاق میں لیکر ہڑپ نہ کر جاؤ
يزيد عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يأخذ أحدكم عصا أخيه لاعبا جادا فمن أخذ عصا أخيه فليردها إليه . رواه الترمذي وأبو داود وروايته إلى قوله : جادا
اور حضرت سائب بن یزید اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی بھائی کا عصا (لاٹھی) ہنسی مذاق میں اس مقصد سے نہ لے کہ وہ اس کو رکھ لے گا جو شخص اپنے کسی بھائی سے عصا لے تو اسے واپس کردینا چاہئے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ مثلا کوئی شخص کسی سے اس کی لاٹھی یا چھڑی بظاہر تو ہنسی مذاق میں لے مگر مقصد یہ ہو کہ اسے ہڑپ کرلوں گا جیسا کہ آج کل اس کا بہت رواج ہے کہ ایک دوسرے کی چیز ہنسی مذاق میں چھپا دی جاتی ہے اگر مالک کو اس کا علم ہوجاتا ہے تو وہ چیز اسے واپس دیدی جاتی ہے اگر اسے علم نہیں ہو پاتا تو پھر ہمیشہ کے لئے غائب کردی جاتی ہے اس سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ حدیث میں بطور خاص عصاء کا ذکر بطریق مبالغہ ہے جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ جب اتنی حقیر اور کم تر چیز کا لینا منع ہے تو اس سے زیادہ حیثیت کی چیز کا لینا بطریق اولی ممنوع ہوگا۔
اپنا چوری کا مال جس کے پاس دیکھو اس سے لے لو
وعن سمرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من وجد عين ماله عند رجل فهو أحق به ويتبع البيع من باعه . رواه أحمد وأبو داود والنسائي
اور حضرت سمرۃ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنا مال بعینہ کسی کے پاس دیکھے تو وہ اس کو لے لینے کا حقدار ہے اور اس کو خریدنے والا اس شخص کا پیچھا کرے جس نے اسے بیچا ہے ( احمد ابوداؤد نسائی)
تشریح
حدیث کے مفہوم کا حاصل یہ ہے کہ مثلا ایک شخص نے کسی کا کوئی مال غصب کیا یا کسی کی کوئی چیز چوری کی یا کسی شخص کی کوئی گمشدہ چیز اس کے ہاتھ لگ گئی اور اس نے وہ چیز کسی دوسرے شخص کو بیچ دی تو اب اگر مالک اپنی وہ چیز خریدنے والے کے پاس دیکھے تو اسے اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی چیز اس سے لے لے اور خریدنے والے نے وہ چیز جس سے خریدی ہے اس کا پیچھا کر کے اس سے اپنی قیمت واپس لے لے۔
جس سے کوئی چیز لو اس کو واپس کردو
وعنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : على اليد ما أخذت حتى تؤدي . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
اور حضرت سمرۃ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کسی سے لی گئی چیز لینے والے کے ہاتھ کے اوپر ہے جب تک کہ وہ واپس نہ کردی جائے ( ترمذی ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے کسی سے کوئی چیز لی ہے وہ اس کے ذمہ واجب الاداء جب تک کہ وہ چیز اس کے مالک کو واپس نہ کردی جائے۔ حاصل یہ کہ اگر کسی شخص نے کسی کی کوئی چیز چھین رکھی ہے یا کسی کی کوئی چیز چرا رکھی ہے یا کسی کی کوئی چیز مستعار لے رکھی ہے اور یا کسی کی کوئی چیز اپنے پاس بطور امانت رکھ چھوڑی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اس چیز کو مالک کے حوالے کر دے لہذا چھینا ہوا مال اس کے مالک کو واپس کرنا واجب ہے اگرچہ مالک اس کا مطالبہ نہ کرے اسی طرح عاریۃ لی ہوئی چیز وہ مدت پوری ہوجانے کے بعد مالک کو واپس کردینا ضروری ہے اگر کوئی مدت مقرر کی گئی ہو جو چیز بطور امانت اپنے پاس رکھی ہوئی ہو اس کو اسی وقت واپس کرنا لازم ہوگا جب کہ مالک مطالبہ کرے مالک کے مطالبہ سے پہلے واپس کرنا واجب نہیں ہے۔