Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 150 of 317

2981Mishkaat-al-Masabih

کسی کے باغ وغیرہ کو جانور کے نقصان پہچانے کا مسئلہ

وعن حرام بن سعد بن محيصة : أن ناقة للبراء بن عازب دخلت حائطا فأفسدت فقضى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أهل الحوائط حفظها بالنهار وأن ما أفسدت المواشي بالليل ضامن على أهلها . رواه مالك وأبو داود وابن ماجه

اور حضرت حرام بن سعد بن محیصہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت بار بن عازب کی اونٹنی ایک باغ میں گھس گئی اور باغ کو خراب کر ڈالا جب یہ معاملہ رسول کریم ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ ﷺ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ دن میں باغات کی حفاظت باغ والوں کے ذمہ ہے اور جو جانور رات میں باغات کو خراب کریں تو اس کا ضمان یعنی تاوان جانوروں کے مالکوں پر ہے ( مالک ابوداؤ ابن ماجہ) تشریح ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہے کہ اگر کوئی جانور دن میں کسی کے باغ کو خراب کر دے تو اس کا تاوان جانور کے مالک پر نہیں آتا کیونکہ دن میں باغ کی حفاظت کرنا باغ والے کی ذمہ داری ہے لہذا یہ اس کی اپنی کوتاہی ہے کہ اس نے اپنے باغ کی نگہبانی کیوں نہیں کی اور کسی جانور کو باغ میں کیوں گھسنے دیا۔ اور اگر کوئی جانور رات میں کسی کے باغ کو نقصان پہنچائے تو اس کا تاوان اس جانور کے مالک پر واجب ہوگا کیونکہ یہ جانور کے مالک کا قصور ہے کہ جب رات میں اپنے جانوروں کی نگہبانی اس کے ذمہ ہے تو اس نے اپنے جانور کو آزاد چھوڑ کر ایک دوسرے شخص کے نقصان کا باعث کیوں بنا؟ یہ ساری تفصیل اس صورت میں ہے جب کہ جانور کا مالک جانور کے ساتھ نہ ہو اگر مالک جانور کے ساتھ ہوگا خواہ وہ جانور پر سوار ہو یا اسے کھینچ کر لائے جا رہا ہو تو پھر دن میں بھی جانور کے پہنچائے ہوئے نقصان کا تاوان جانور کے مالک پر ہوگا چاہے وہ جانور اپنے ہاتھ پاؤں سے نقصان پہنچائے چاہے منہ سے۔ یہ تو حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی کا مسلک ہے اس بارے میں حنفی مسلک یہ ہے کہ اگر جانور کے ساتھ نہ ہو تو پھر اس پر نقصان کا تاوان واجب نہیں ہوتا خواہ وہ جانور دن میں نقصان پہنچائے خواہ رات میں۔ اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا پاؤں کا روندا ہوا معاف ہے اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا کہ آگ کا جلایا ہوا معاف ہے ( ابوداؤد) تشریح یعنی اگر کوئی جانور کسی کی چیز کو پاؤں سے روند کچل کر تلف وضائع کر دے تو اس کی وجہ سے اس جانور کے مالک پر تاوان واجبہ نہیں ہوگا بشرطیکہ وہ مالک جانور کے ساتھ نہ ہو اسی طرح اگر کسی شخص نے کسی برے مقصد مثلا ایذاء رسانی وغیرہ کے بغیر محض اپنی ضرورت یا کسی اور وجہ سے آگ جلائی اور اس کی کوئی چنگاری ہوا میں اڑ کر کسی دوسرے کے سامان پر جا پڑی جس سے وہ سامان جل گیا تو اس صورت میں آگ جلانے والے پر نقصان کا تاوان نہیں واجب ہوگا بشرطیکہ اس نے جس وقت آگ جلائی ہو اس وقت ہوا ٹہری ہوئی ہو اور آگ جلنے کے بعد چلی ہو اور اگر اس نے ایسے وقت آگ جلائی جب کہ ہوا چل رہی تھی اور اس کی وجہ سے آگ سے نقصان پہنچ جانے کا احتمال تھا تو پھر اس پر تاوان واجب ہوگا۔

2982Mishkaat-al-Masabih

حالت اضطرار میں دوسرے کے جانور کا دودھ پینے کی اجازت

وعن الحسن عن سمرة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا أتى أحدكم على ماشية فإن كان فيها صاحبها فليستأذنه وإن لم يكن فيها فليصوت ثلاثا فإن أجابه أحد فليستأذنه وإن لم يجبه أحد فليحتلب وليشرب ولا يحمل . رواه أبو داود

اور حضرت حسن حضرت سمرہ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص دودھ کے جانوروں کے پاس آئے تو اگر وہاں ان جانوروں کا مالک موجود ہو تو اس سے دودھ پینے کی اجات مانگے اور اگر وہاں موجود نہ ہو تو اس شخص کو چاہئے کہ وہ تین مرتبہ آواز دے اس کی آواز سن کر اگر کوئی جواب دے تو اس سے پوچھ لے اور اگر کوئی جواب نہ دے تو وہ بقدر ضرورت دودھ دھو کر پی لے مگر دودھ اپنے ساتھ بالکل نہ لے جائے (ابوداؤد) تشریح اس حدیث میں مذکورہ ہدایت کا تعلق اس شخص سے ہے جو حالت اضطرار کو پہنچ چکا ہو یعنی بھوک کے مارے مرا جا رہا ہو ایسے شخص کے لئے یہ اجازت ہے کہ اگر وہ دودھ کے جانور کے پاس ہو اور وہاں ان کا مالک موجود نہ ہو جس سے وہ اجازت لے کر دودھ پی سکے تو وہ مذکورہ ہدایت کے مطابق ان جانوروں کا بقدر ضرورت دودھ پی لے۔

2983Mishkaat-al-Masabih

دوسرے کے باغ کا پھل مالک کی اجازت کے بغیر کھانے کا مسئلہ

وعن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من دخل حائطا فليأكل ولا يتخذ خبنة . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي هذا حديث غريب

اور حضرت ابن عمر نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی دوسرے شخص کے باغ میں جائے تو اسے چاہئے کہ وہ وہاں کے پھل کھالے جیب اور جھولے میں بھر کر نہ لے جائے ( ترمذی ابن ماجہ) امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے تشریح اس حدیث کا مقصد اس بات کی عام اجات دینا نہیں ہے کہ جو بھی چاہے کسی غیر شخص کے باغ میں جا کر پھل توڑے اور کھالے کیونکہ کسی دوسرے کی کوئی بھی چیز اس کی اجازت ومرضی کے بغیر لینا اور کھانا مطلقا درست نہیں ہے بلکہ یہ حدیث بھی پہلی حدیث کی طرح یا تو حالت اضطرار پر محمول ہے یا اس کا تعلق ایسے مقامات سے ہے جہاں کسی کے باغ میں پہنچ کر باغ والے کی اجازت کے بغیر پھل کھا لینا ممنوع نہیں ہوتا۔

2984Mishkaat-al-Masabih

مستعار لی ہوئی چیز امانت کے حکم میں ہے

وعن أمية بن صفوان عن أبيه : أن النبي صلى الله عليه و سلم استعار منه أدراعه يوم حنين فقال : أغصبا يا محمد ؟ قال : بل عارية مضمونة . رواه أبو داود

اور حضرت امیہ بن صفوان اپنے والد (صفوان) سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حنین کی جنگ کے دن ان (صفوان) سے کئی زرہیں عاریۃً لیں انہوں نے پوچھا کہ اے محمد ﷺ کیا آپ ﷺ یہ زرہیں غصب کے طریقہ پر لے رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ عاریۃً لے رہا ہوں جو کہ واپس کردی جائیں گی (أبوداؤد) تشریح غزوۃ حنین کے موقع پر جب کہ آپ ﷺ نے کچھ زرہیں صفوان سے مستعار لیں تو چونکہ صفوان اسلام کی دولت سے بہرہ ور نہیں تھے اسی لئے انہوں نے آپ ﷺ کو زرہیں دیتے ہوئے جو سوال کیا وہ بظاہر حد ادب سے گرا ہوا معلوم ہوتا ہے لیکن بعد میں صفوان اسلام کی دولت سے مشرف ہوگئے تھے ؓ۔ حضرت شریح، حضرت نخعی حضرت سفیان ثوری اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہم اللہ تعالیٰ کا مسلک یہ ہے کہ جو چیز مستعار لی جاتی ہے وہ مستعار لینے والے کے پاس بطور امانت ہوتی ہے کہ اگر وہ تلف وضائع ہوجائے تو اس کا بدلہ دینا واجب نہیں ہوتا ہاں اگر مستعار لینے والا اس چیز کو قصدًا ضائع کر دے تو پھر اس پر اس چیز کا بدل واجب ہوتا ہے لیکن حضرت ابن عباس حضرت ابوہریرہ حضرت امام شافعی اور امام احمد کا مسلک یہ ہے کہ اگر وہ چیز ضائع وتلف ہوجائے تو مستعار لینے اولے پر اس کا بدل یعنی اس چیز کی قیمت ادا کرنا واجب ہوتا ہے اسی لئے ان حضرات کے نزدیک لفظ مضمونۃ جو واپس کردی جائیں گی کے یہ معنی ہیں تلف ہوجانے کی صورت میں ان کا بدل ادا کیا جائے گا۔

2985Mishkaat-al-Masabih

مستعار چیز کو واپس کردینا واجب ہے

وعن أبي أمامة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : العارية مؤداة والمنحة مردودة والدين مقضي والزعيم غارم . رواه النرمذي وأبو داود

اور حضرت ابوامامۃ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول کریم ﷺ فرماتے تھے کہ مستعار چیز واپس کی جائے (یعنی کسی کی کوئی چیز مستعار لینے والے پر واجب ہے کہ وہ اس چیز کو اس کے مالک کے پاس واپس پہنچا دے) منحہ کا واپس کرنا ضروری ہے قرض کو ادا کیا جائے یعنی قرض کو ادا کرنا واجب ہے اور ضامن ضمانت پوری کرنے پر مجبور ہے یعنی اگر کوئی شخص کسی کے قرض وغیرہ کا ضامن ہو تو اس کی ادائیگی اس پر لازم ہے (ترمذی ابوداؤد) تشریح منحہ اسے کہتے ہیں کہ کوئی شخص کسی کو اپنا جانور دودھ پینے کے لئے دیدے یا کسی کو اپنی زمین یا اپنا باغ پھل وغیرہ کھانے کے لئے دیدے لہذا منحہ میں چونکہ صرف منفعت کا مالک بنایا جاتا ہے نہ کہ اصل اس چیز کا اس لئے اس چیز مثلا جانور سے فائدہ اٹھانے کے بعد اسے مالک کو واپس کردینا واجب ہے۔

2986Mishkaat-al-Masabih

درخت سے گرے ہوئے پھل اٹھانے کا مسئلہ

وعن رافع بن عمرو الغفاري قال : كنت غلاما أرمي نخل الأنصار فأتي بي النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا غلام لم ترمي النخل ؟ قلت : آكل قال : فلا ترم وكل مما سقط في أسفلها ثم مسح رأسه فقال : اللهم أشبع بطنه . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه وسنذكر حديث عمرو بن شعيب في باب اللقطة إن شاء الله تعالى

اور حضرت رافع عمرو غفاری کہتے ہیں کہ جب میں بچہ تھا تو انصار کے کھجوروں کے درختوں پر پتھر پھینکا کرتا تھا ایک دین انصار مجھے پکڑ کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے گئے آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے لڑکے! تو کھجوروں پر پتھر کیوں پھینکتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ کھجوریں کھاتا ہوں (یعنی کھجوریں کھانے کے لئے ان کے درختوں پر پتھر مارتا ہوں کسی اور مقصد سے پتھر نہیں پھینکتا) آپ ﷺ نے فرمایا کہ پتھر نہ پھینکا کر وہاں جو کھجوریں درخت کے نیچے گری پڑی ہوں ان کو کھالیا کرو پھر آپ ﷺ نے میرے سر پر اپنا دست مبارک پھیرا اور فرمایا کہ اے اللہ تو اس کا پیٹ بھر (ترمذی، ابوداؤد ابن ماجہ) تشریح آنحضرت ﷺ نے رافع کو درخت کے نیچے گری پڑی کھجوریں کھا لینے کی اجازت اس لئے عطا فرمائی کہ عام طور پر درختوں پر سے گرے ہوئے پھلوں کو کھانے سے کوئی منع نہیں کرتا۔ خاص طور پر بچے چونک کچے پکے اور گرے پڑے پھلوں کی طرف بہت راغب ہوتے ہیں اس لئے ان کو اس سے کوئی بھی منع نہیں کرتا تاکہ وہ درخت کے نیچے گرے پڑے پھل اٹھا کر کھا لیں۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ اگر رافع حالت اضطرار میں ہوتے یعنی بھوک کی وجہ سے مجبور ہوتے تو آنحضرت ﷺ انہیں گرے پڑے پھلوں ہی کے کھانے کی اجازت دینے پر اکتفاء نہ فرماتے بلکہ درخت پر سے کھجوریں توڑ کر کھا لینے کی بھی اجازت دیدیتے۔ وسنذکر حدیث عمرو بن شعیب فی باب اللقطۃ انشاء اللہ تعالیٰ۔

2987Mishkaat-al-Masabih

زمین غصب کرنے کی سزا

عن سالم عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أخذ من الأرض شيئا بغير حقه خسف به يوم القيامة إلى سبع أرضين . رواه البخاري

حضرت سالم اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بیان کیا کہ جو شخص زمین کا کوئی حصہ بھی ناحق لے گا (یعنی کسی کی زمین کا کوئی بھی قطعہ ازراہ ظلم و زبردستی لے گا) تو قیامت کے دن اسے زمین کے ساتویں طبقہ تک دھنسایا جائے گا ( بخاری) اور حضرت یعلی بن مرۃ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول کریم ﷺ یہ فرماتے تھے کہ جو شخص زمین کا کوئی بھی حصہ ناحق (یعنی ازراہ ظلم) لے گا اسے حشر کے دن اس بات پر مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس زمین کی ساری مٹی اپنے سر پر اٹھائے ( احمد) تشریح ازراہ ظلم کسی کی زمین غصب کرنیوالے کی مختلف سزاؤں کا ذکر کیا گیا ہے پہلی فصل میں تو یہ فرمایا گیا تھا کہ قیامت کے دن ایسے شخص کے گلے میں زمین کا وہ قطعہ طوق بنا کر ڈالا جائے گا جو اس نے کسی سے زبردستی ہتھیایا ہوگا اوپر کی حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہ کہ کسی کی زمین پر ناحق قبضہ کرنیوالا قیامت کے دن زمین کے ساتویں طبقہ تک دھنسایا جائے گا۔ یہاں اس حدی ث میں یہ سزا ذکر کی گئی ہے کہ کسی کی زمین پر ناجائز طریقہ سے قبضہ کرنیوالا حشر کے دن اس بات پر مجبور کیا جائے گا کہ اس زمین کی ساری مٹی اپنے سر پر اٹھائے۔ آنیوالی حدیث اس بارے میں سزا کی ایک اور قسم کو بیان کررہی ہے۔ گویا عذاب و سزا کی مختلف صورتیں اور قسمیں ہیں چناچہ کسی کو اس طرح عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور کسی کو اس طرح سزا دی جائے گی۔ اور حضرت یعلی بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص کسی کی بالشت بھر بھی زمین ازراہ ظلم لے گا سے اس کی قبر میں اللہ تعالیٰ اس بات پر مجبور کرے گا کہ وہ اس زمین کو ساتویں طبقہ زمین تک کھودتا رہے پھر وہ زمین اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالی جائے گی اور وہ قیامت تک اسی حال میں رہے گا حتی کہ قیامت کے دن لوگوں کا حساب کتاب ہوجائے (احمد)

2988Mishkaat-al-Masabih

شفعہ کا بیان

وعن يعلى بن مرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أخذ أرضا بغير حقها كلف أن يحمل ترابها المحشر . رواه أحمد

شفعہ مشتق ہے شفع سے جس کے لغوی معنی ہیں ملانا اور جفت کرنا شفعہ اصطلاح فقہ میں اس ہمسائیگی یا شراکت کو کہتے ہیں جس کی وجہ سے کسی ہمسایہ یا کسی شریک کو اس کے دوسرے ہمسایہ یا دوسرے شریک کے فروخت ہونیوالی زمین یا فروخت ہونیوالے مکان کو خریدنے کا ایک مخصوص حق حاصل ہوتا ہے اور یہ حق صرف زمین یا مکان کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے جس شخص کو یہ حق حاصل ہوتا ہے اسے شفیع کہتے ہیں۔ اس حق کا نام شفعہ اس لئے ہے کہ یہ خاص حق فروخت ہونیوالی زمین یا مکان کو شفیع کی زمین یا مکان سے ملاتا ہے۔ حضرت امام شافعی حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد کے نزدیک حق شفعہ صرف شریک کو حاصل ہوتا ہے ہمسایہ کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا جبکہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ حق شفعہ جس طرح شریک کے لئے ثابت ہے اسی طرح ہمسایہ کے لئے بھی ثابت ہے۔ ایک صحیح روایت کے مطابق حضرت امام احمد بھی اسی کے قائل ہیں ہمسایہ کے حق شفعہ کے ثبوت میں احادیث منقول ہیں جو بالکل صحیح درجے کی ہیں ان کی موجودگی میں ہمسایہ کو حق شفعہ دینے سے انکار ایک بےدلیل بات ہے۔ حنفی مسلک کے مطابق شفیع کے تین درجے ہیں اول خلیط فی النفس المبیع یعنی فروخت ہونیوالے مکان کی ملکیت میں کئی آدمی شریک ہوں خواہ وہ مکان ان سب شرکاء کو وراثت میں پہنچا ہو یا ان سب نے مشترک طور پر اسے خریدا ہو اور یا کسی نے ان سب کو مشترک طور پر ہبہ کیا ہو۔ دوم خلیط فی حق المبیع یعنی اس فروخت ہونیوالے مکان یا زمین کی ملکیت میں شریک نہ ہو بلکہ اس زمین یا مکان کے حقوق میں شریک ہو جیسے حق مرور یعنی آمدورفت کا حق حق مسیل یعنی پانی کے نک اس کا حق اور حق شرب یعنی کھیت وغیرہ کو سیراب کرنے کے لئے پانی لے جانے کی نالی وغیرہ کا حق۔ سوم جار یعنی ہمسایہ جس کا مکان فروخت ہونیوالے مکان سے متصل ہو اور ان دونوں مکانوں کی دیواریں ملی ہوئی ہوں نیز دونوں کے دروازوں کا راستہ ایک ہو۔ ان تینوں کے علاوہ اور کوئی شفیع نہیں ہوسکتا لہذا سب سے پہلے تو حق شفعہ اس شخص کو حاصل ہوتا ہے جو اس فروخت ہونیوالے مکان یا زمین کی ملکیت میں شریک ہو اس کی موجودگی میں حق شفعہ نہ تو حقوق میں شریک کو حاصل ہوگا اور نہ ہمسایہ کو اگر یہ شریک حق شفعہ سے دست کشی اختیار کرے تو پھر حق شفعہ اس شخص کو پہنچے گا جو حقوق میں شریک ہو اور یہ بھی دست کشی اختیار کرلے تب حق شفعہ ہمسایہ کو حاصل ہوگا اور اگر یہ ہمسایہ بھی اپنے اس حق سے دست کش ہوجائے تو اس کے بعد کسی کو بھی حق شفعہ حاصل نہیں ہوگا۔

2989Mishkaat-al-Masabih

حق شفعہ صرف شریک کو حاصل ہوتا ہے یا ہمسایہ کو بھی

وعنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أيما رجل ظلم شبرا من الأرض كلفه الله عز و جل أن يحفره حتى يبلغ آخر سبع أرضين ثم يطوقه إلى يوم القيامة حتى يقضى بين الناس . رواه أحمد

حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہر اس غیر منقول چیز میں حق شفعہ ثابت ہونے کا فیصلہ صادر فرمایا ہے (جو شراکت میں ہو) اور شرکاء کے درمیان تقسیم نہ کی گئی ہو لہذا جب حدود مقرر ہوجائیں یعنی مشترک ملکیت کی زمین یا مکان باہم تقسیم ہوجائے اور ہر ایک حصہ کے راستے الگ الگ کر دئیے جائیں تو پھر شفعہ باقی نہیں رہتا یعنی اس صورت میں چونکہ شرکت باقی نہیں رہتی اس لئے کسی کو بھی حق شفعہ حاصل نہیں ہوتا ( بخاری) تشریح جب کسی زمین یا کسی مکان کے مشترک طور پر کئی مالک ہوں تو اس کے شرکاء کو ہر ایک کے حصے میں حق شفعہ اسی وقت تک حاصل رہتا ہے جب تک کہ اس زمین یا اس مکان کی باہم تقسیم نہ ہو اگر وہ زمین یا مکان شرکاء آپس میں تقسیم کرلیں اور سب کے حصے الگ ہوجائیں اور سب حصوں کے راستے بھی جدا جدا ہوجائیں تو اس صورت میں کسی کو بھی حق شفعہ حاصل نہیں رہتا۔ اس طرح یہ حدیث اس بات کی دلیل ہوگی کہ حق شفعہ صرف شریک کو حاصل ہوتا ہے ہمسایہ کو حاصل نہیں ہوتا چناچہ حضرت امام شافعی کا مسلک یہی ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے ہاں ہمسایہ کو بھی حق شفعہ حاصل ہوتا ہے ان کی دلیل دوسری احادیث ہیں ان کے نزدیک اس حدیث کی مراد یہ ہے کہ اس زمین یا مکان کی تقسیم کے بعد شرکت کا شفعہ باقی نہیں رہتا لہذا حدیث کا یہ مفہوم مراد لینے کی صورت میں ہمسائیگی کے شفعہ کی نفی لازم نہیں آتی۔

2990Mishkaat-al-Masabih

حق شفعہ صرف زمین اور مکان کے ساتھ مخصوص ہے

عن جابر قال : قضى النبي صلى الله عليه و سلم بالشفعة في كل ما لم يقسم فإذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة . رواه البخاري

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے یہ حکم صادر فرمایا کہ ہر ایسی مشترک زمین میں شفعہ ثابت ہے جو تقسیم نہ کی گئی ہو خواہ وہ گھر ہو یا باغ ہو نیز ایسی مشترک زمین کے کسی بھی شریک کو اپنا حصہ بیچنا حلال نہیں ہے جب تک کہ وہ اپنے دوسرے شریک کو مطلع نہ کر دے اطلاع کے بعد وہ دو سرا شریک چاہے تو وہ حصہ خود خرید لے اور چاہے تو چھوڑ دے یعنی کسی دوسرے کو بیچنے کی اجازت دیدے اور اگر کسی شریک نے اپنے دوسرے شریک کو اطلاع دئیے بغیر اپنا حصہ بیچ دیا تو وہ دوسرا شریک اس بات کا حقدار ہے کہ وہ اس فروخت شدہ حصہ کو خرید لے (مسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حق شفعہ صرف غیرمنقولہ جائیداد (یعنی زمین مکان اور باغ کے ساتھ مخصص ہے اشیاء منقولہ جیسے اسباب اور جانور وغیرہ میں شفعہ کا حق نہیں ہوتا چناچہ تمام علماء کا متفقہ طور پر یہی مسلک ہے پھر حق شفعہ صرف مسلمان کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ مسلمان اور ذمی کے درمیان بھی شفعہ کا حق جاری ہوتا ہے (ذمی اس غیر مسلم کو کہتے ہیں جو جزیہ یعنی اپنے جان ومال اور اپنی عزت وآبرو کی حفاظت کا ایک مخصوص ٹیکس ادا کر کے اسلامی سلطنت کا اطاعت گزار شہری ہو)

2991Mishkaat-al-Masabih

مشترک زمین یا مکان کے کسی حصہ کے فروختگی کے وقت دوسرے شریک کو اطلاع دینا ضروری ہے

ارشاد گرامی کے الفاظ (لا یحل لہ) الخ (کسی بھی شریک کو اپنا حصہ بیچنا حلال نہیں ہے الخ) سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اگر کسی مشترک زمین یا مکان کا کوئی حصہ دار اپنا حصہ بیچنا چاہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ فروختگی کے ارادے کے وقت ہی اپنے دوسرے حصہ دار کو اس کی اطلاع دیدے تاکہ اگر وہ خریدنا چاہے تو اس حصہ کو خرید لے ورنہ عدم اطلاع کی صورت میں اس دوسرے حصہ دار کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ بذریعہ شفعہ اس حصہ کو حاصل کرلے۔

2992Mishkaat-al-Masabih

ہمسایہ کو حق شفعہ حاصل ہونیکی دلیل

وعن أبي رافع قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الجار أحق بسقبه . رواه البخاري

اور حضرت ابورافع کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہمسایہ اپنے قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ حقدار ہے (بخاری) تشریح مطلب یہ ہے کہ ہمسایہ شفعہ کا زیادہ حق دار ہے اور یہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ شفعہ کا حق صرف اسی ہمسایہ کو ہوتا ہے کہ جو نزدیک اور متصل ہو۔ یہ حدیث بڑی وضاحت کے ساتھ حنفیہ کے اس مسلک کی دلیل ہے کہ حق شفعہ صرف شریک ہی کو حاصل نہیں ہوتا بلکہ ہمسایہ کو بھی حاصل ہوتا ہے۔

2993Mishkaat-al-Masabih

ہمسائیگی کا حق

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يمنع جار جاره أن يغرز خشبة في جداره

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کوئی ہمسایہ اپنے دوسرے ہمسایہ کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع نہ کرے ( بخاری ومسلم) تشریح منع نہ کرنے کا یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ لکڑی گاڑنے کی وجہ سے کوئی نقصان وضرر نہ پہنچتا ہو حضرت امام احمد اور محدثین کے نزدیک مذکورہ بالا حکم وجوب کے طور پر ہے جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ حکم استحباب کے طور پر ہے۔

2994Mishkaat-al-Masabih

راستے کے سلسلے میں ایک ہدایت

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا اختلفتم في الطريق جعل عرضه سبعة أذرع . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب راستہ کی بابت تم میں اختلاف ہوجائے تو اس کی چوڑائی سات ہاتھ متعین کردو (مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کسی افتادہ زمین پر راستہ بنا ہو اور وہاں کچھ لوگ عمارت بنانا چاہیں تو بہتری ہی ہے کہ آپس کے اتفاق و اتحاد سے مناسب راستہ کے لائق زمین کا کچھ حصہ چھوڑ کر اس کے ارد گرد عمارت بنا لی جائے لیکن اگر راستہ کے لئے زمین کی کسی مقدار پر اتفاق نہ ہو اور آپس میں اختلاف پیدا ہوجائے تو اس صورت میں واضح ہدایت یہ ہے کہ راستہ کے لئے چوڑائی میں سات ہاتھ زمین متعین کردی جائے اور اس سات کے اندر کوئی کچھ نہ بنائے۔ مذکورہ بالا حدیث کی مراد تو یہ ہے کہ لیکن اس بارے میں ایک یہ مسئلہ بھی ذہن نشین رہنا چاہئے کہ اگر کوئی چلتا ہوا راستہ سات ہاتھ سے زائد چوڑا ہو تو اس صورت میں کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے وہ اس پورے زائد حصے یا اس میں سے کچھ پر قابض ہوجائے اور یہ کہے کہ راستہ کی سات ہاتھ چوڑائی کافی ہے۔

2995Mishkaat-al-Masabih

غیرمنقولہ جائداد کو بلا ضرورت بیچنا مناسب نہیں ہے

عن سعيد بن حريث قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من باع منكم دارا أو عقارا قمن أن لا يبارك له إلا أن يجعله في مثله . رواه ابن ماجه والدارمي

حضرت سعید بن حریث کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص اپنا مکان یا زمین فروخت کرے تو مناسب یہ ہے کہ اس کی قیمت میں برکت نہ ہو الاّ یہ کہ وہ اس قیمت کو اس ہی جیسی جائیداد کی خریداری میں صرف کرے (ابن ماجہ دارمی) تشریح مطلب یہ ہے کہ غیرمنقولہ جائیداد مثلا مکانات اور زمین کو بلا ضرورت بیچنا اور اس سے حاصل ہونیوالی قیمت سے منقولہ اشیاء خریدنا غیرمستحب اور غیر مناسب ہے کیونکہ غیرمنقولہ جائیداد میں منافع بھی بہت ہیں اور اس کے اتلاف و نقصان کے خطرات بھی کم ہوتے ہیں جیسے اسے کوئی چور چرا نہیں سکتا اور کوئی لٹیرا لوٹ کر نہیں جاسکتا بخلاف اشیاء منقولہ کے کہ ان کی چوری کا ہر وقت خوف رہتا ہے لہذا عقل و دانش کا تقاضہ یہی ہونا چاہئے کہ بلا ضرورت غیرمنقولہ جائیداد کو فروخت نہ کیا جائے اگر فروخت ہی کیا جائے تو اس کی قیمت کو دوسرے مکانات و زمین کی خریداری میں صرف کیا جائے۔

2996Mishkaat-al-Masabih

ہمسایہ کو حق شفعہ حاصل ہوتا ہے

وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الجار أحق بشفعته ينتظر لها وإن كان غائبا إذا كان طريقهما واحدا . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه . والدارمي

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہمسایہ اپنے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے اگر وہ موجود نہ ہو تو اس کے شفعہ کی وجہ سے اس کا انتظار کیا جائے اور ہمسایہ شفعہ کا اس صورت میں حق دار ہے جب کہ دونوں کا راستہ ایک ہو ( احمد ترمذی ابوداؤد ابن ماجہ)

2997Mishkaat-al-Masabih

شفعہ کا تعلق ہر غیرمنقولہ جائیداد سے ہے

وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الشريك شفيع والشفعة في كل شيء . رواه الترمذي قال :

اور حضرت ابن عباس نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا وہ شخص جو فروخت کی جانیوالی جائیداد میں شریک ہو شفعہ کا حق رکھتا ہے اور شفعہ کا تعلق ہر اس چیز سے ہے جو غیرمنقولہ جائیداد ہو جیسے زمین اور باغ وغیرہ) اس روایت کو امام ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حضرت ابن ابی ملیکہ نے بھی نبی کریم ﷺ سے بطریق ارسال نقل کیا ہے اور وہی زیادہ صحیح ہے۔

2998Mishkaat-al-Masabih

بیری کا درخت کاٹنے پر وعید

وعن عبد الله بن جحش قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قطع سدرة صوب الله رأسه في النار . رواه أبو داود وقال : هذا الحديث مختصر يعني : من قطع سدرة في فلاة يستظل بها ابن السبيل والبهائم غشما وظلما بغير حق يكون له فيها صوب الله رأسه في النار

اور حضرت عبداللہ ابن حبیش کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص بیری کا درخت کاٹے گا اللہ تعالیٰ اسے الٹے سر دوزخ میں ڈالے گا امام ابوداؤد نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث مختصر ہے جس کا پورا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص جنگل میں بیری کے کسی ایسے درخت کو کہ جس کے سایہ میں مسافر اور جانور پناہ حاصل کرتے ہیں ازراہ ظلم و زیادتی اور بغیرحق کے کاٹے گا اللہ تعالیٰ اسے الٹے سر دوزخ میں ڈالے گا۔ تشریح جملہ غشمًا وظلمًا بغیر حق میں لفظ ظلم اور بغیر حق لفظ غشمًا کی تاکید کے طور پر استعمال کیا گیا ہے یا پھر یہ کہ لفظ ظلم تو غشما کی تاکید کے طور پر لیکن بغیر حق سے مراد شفعہ ہے۔ ابوداؤد کی کتاب مرقات الصعود میں لکھا ہے کہ طبرانی نے اپنی کتاب اوسط میں یہ وضاحت کی ہے کہ جو شخص حدود حرم میں بیری کا درخت کاٹے گا اس کے لئے یہ وعید ہے بعضوں نے کہا ہے کہ یہاں مدینہ کی بیری کا درخت مراد ہے بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ جنگل کی وہ بیری کا درخت مراد ہے جس کے سائے میں مسافر اور جانور راحت پاتے ہیں اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ کہ اس وعید کا تعلق اس شخص سے ہے جو کسی دوسرے شخص کا بیری کا درخت ازراہ ظلم و زیادتی کاٹ ڈالے۔

2999Mishkaat-al-Masabih

ہرغیرمنقول جائیداد میں شفعہ ہے خواہ وہ تقسیم ہوسکتی ہے یا ناقبال تقسیم ہو

عن عثمان بن عفان رضي الله عنه قال : إذا وقعت الحدود في الأرض فلا شفعة فيها . ولا شفعة في بئر ولا فحل النخل . رواه مالك

حضرت عثمان ابن عفان فرماتے ہیں کہ جب زمین میں حدیں قائم ہوجائیں یعنی مشترک زمین شرکاء میں باہم تقسیم ہوجائے اور ہر ایک کے حصے الگ الگ ہوجائیں تو شرکت کا شفعہ باقی نہیں رہتا اور نہ کنویں میں شفعہ کا حق حاصل ہوتا ہے اور نہ نر کھجور کے درخت میں۔ (مالک) تشریح کنواں ایک ایسی چیز ہے جو تقسیم کا احتمال نہیں رکھتا اور چونکہ شفعہ کا حق اسی زمین میں حاصل ہوتا ہے جو تقسیم کا احتمال رکھتی ہو اس لئے کنویں میں شفعہ نہیں ہوتا چناچہ حضرت امام شافعی کا یہی مسلک ہے لیکن حنفیہ کے نزدیک شفعہ ہر زمین میں ثابت ہے خواہ وہ تقسیم کا احتمال رکھتی ہو جیسے مکانات اور باغات وغیرہ یا تقسیم کا احتمال نہ رکھے جیسے کنواں حمام اور چکی وغیرہ حنفیہ کی دلیل آنحضرت ﷺ کا یہ واضح ارشاد گرامی ہے کہ (الشفعۃ فی کل چیز یعنی) شفعہ ہر غیرمنقولہ چیز میں ہے۔ اور نہ نر کھجور کے درخت میں یعنی مثلا چند لوگوں کو کھجور کے کچھ درخت مشترک طور پر وراثت میں حاصل ہوئے جنہیں انہوں نے آپس میں تقسیم کرلیا لیکن ان میں ایک نر درخت بھی تھا جس کے پھول لے کر سب ہی لوگ اپنے اپنے کھجور کے درختوں پر ڈالتے تھے اب ان ہی میں کا ایک شخص اپنے حصے کے کھجور کے درختوں کے ساتھ اس نر درخت کے اپنے حقوق بھی فروخت کرے تو شرکاء کو اس فروخت میں شفعہ کا حق حاصل نہیں ہوگا کیونکہ نہ تو وہ کوئی زمین ہے اور نہ اس کو تقسیم کرلینا ممکن ہے۔

3000Mishkaat-al-Masabih

مساقات اور مزارعت کا بیان

مساقات کی صورت یہ ہے کہ مثلا زید اپنا باغ یا اپنے کچھ درخت بکر کو اس شرط کے ساتھ دے کہ تم ان درختوں کو سیراب کرنا ان کی دیکھ بھال کرنا پھر ان پر جو پھل آئیں گے ان کو آدھوں آدھ یا تہائی یا چوتھائی وغیرہ جو بھی مقدار مقرر ہو آپس میں تقسیم کرلیں گے۔ مزارعت کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مثلا زید اپنی زمین بکر کو اس شرط کے ساتھ دے کہ تم اس کو جوتنا بونا اس کی جو پیداوار ہوگی اسے آدھوں آدھ یا تہائی اور یا چوتھائی جو بھی مقدار مقرر ہو آپس میں تقسیم کرلیں گے۔ گویا مساقات اور مزارعت دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے یعنی بٹائی پر دینا فرق صرف اتنا ہے کہ مساقات کا تعلق تو درختوں سے ہوتا ہے اور مزارعت کا تعلق زمین سے ہے ان دونوں کا فقہی حکم بھی ایک ہے مساقات اور مزارعت یعنی اپنے درختوں یا زمین کوئی بٹائی پر دینا حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک فاسد ہے جب کہ حضرت امام شافعی حضرت امام مالک حضرت امام احمد اور حنفیہ میں سے حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد نیز دوسرے علماء کے نزدیک یہ جائز ہے۔ حضرت امام اعظم کی دلیل یہ ہے کہ یہ ایک ایسا اجارہ ہے جس میں اجر مجہول اور معدوم ہوتا ہے پھر یہ کہ آنحضرت ﷺ سے مخابرت مزارعت کی نہی ثابت ہے لیکن فتوی چونکہ حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کے قول پر ہے اس لئے حنفیہ کے ہاں بھی مساقات اور مزارعت جائز ہے۔