عن عبد الله بن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دفع إلى يهود خيبر نخل خيبر وأرضها على أن يعتملوها من أموالهم ولرسول الله صلى الله عليه و سلم شطر ثمرها . رواه
حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے خیبر کی کھجوروں کے درخت اور وہاں کی زمین اس شرط پر خیبر کے یہودیوں کے حوالہ کردی کہ وہ اس میں اپنی جان اور اپنا مال لگائیں اور اس کا آدھا پھل رسول کریم ﷺ کے لئے ہوگا ( مسلم) اور بخاری کی روایت میں یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے خیبر کو یعنی وہاں کی زمین اور درخت کو اس شرط پر خیبر کے یہودیوں کے حوالہ کردیا تھا کہ وہ اس میں محنت کریں اور کاشت کاری کریں اور پھر اس کی پیداوار کا آدھا حصہ یہودیوں کا حق ہوگا اور آدھا حصہ آنحضرت ﷺ لے لیں گے۔
تشریح
خیبر ایک بستی کا نام ہے جو مدینہ سے تقریبا ٦٠ میل شمالی میں ایک حرے کے درمیان واقع ہے پہلے یہ ایک مشہور مقام رہ چکا ہے جہاں یہودیوں کی بود باش تھی لیکن اب یہ بستی چند گاؤں کا مجموعہ ہے چونکہ اس کی آب وہوا اچھی نہیں ہے اس لئے یہاں لوگ اقامت اختیار کرتے ہوئے گھبراتے ہیں اس کے علاقہ میں کھجور وغیرہ کی کاشت ہوتی ہے۔ بہرحال یہ حدیث علاوہ امام اعظم ابوحنیفہ کے تمام علماء کے اس مسلک کی دلیل ہے کہ مساقات ومزارعت جائز ہے حضرت امام اعظم یہ فرماتے ہیں کہ خیبر کی زمین اور درختوں کو وہاں کے یہودیوں کو دینا مساقات ومزارعت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ کیونکہ خیبر کی زمین اور وہاں کے درخت آنحضرت ﷺ کی ملکیت میں نہیں تھے کہ آپ ﷺ بطور مساقات ومزارعت وہاں کے یہودیوں کو دیتے بلکہ وہ زمین بھی یہودیوں ہی کی ملکیت تھی اور وہاں کے درختوں کے مالک بھی یہودی ہی تھے۔ آپ ﷺ نے ان کی املاک کو انہیں کے حوالے کیا اور اس کی پیداوار کا نصف بطور خراج اپنے لئے مقرر فرمایا چناچہ خراج کی دو قسمیں ہیں (١) خراج مؤظف (٢) خراج مقاسمت۔ خراج مؤظف کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اسلامی مملکت کی طرف سے جن لوگوں پر خراج عائد کیا جاتا ہے ان سے سربراہ مملکت ہر سال کچھ مال لینا مقرر کرلیتا ہے جیسا کہ اہل نجران سے ہر سال بارہ سو حلے یعنی جوڑے لئے جاتے تھے۔ خراج مقاسمت کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جن لوگوں پر خراج عائد کیا جاتا ہے ان کی زمین کی پیداوار ان لوگوں اور اسلامی حکومت کی درمیان کسی مقررہ مقدار میں تقسیم ہوتی ہے جیسا کہ اہل خیبر کے ساتھ ہوا کہ ان کی زمین اور درختوں کی نصف پیداوار آنحضرت ﷺ لے لیتے تھے
وعنه قال : كنا نخبر ولا نرى بذلك بأسا حتى زعم رافع ابن خديج أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عنها فتركناها من أجل ذلك . رواه مسلم
اور حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ ہم لوگ مخابرت کیا کرتے تھے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ جب حضرت رافع ابن خدیج نے یہ بتایا کہ رسول کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے تو ہم نے اس وجہ سے اسے ترک کردیا (مسلم)
تشریح
مخابرت اس مزارعت کو کہتے ہیں کہ جس کا ذکر اوپر کی حدیث میں ہوا حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک چونکہ مزارعت ممنوع ہے اس لئے یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔
اجرت یا لگان پر زمین دینے کا ذکر
وعن حنظلة بن قيس عن رافع بن خديج قال : أخبرني عماي أنهم كانوا يكرون الأرض على عهد النبي صلى الله عليه و سلم بما ينبت على الأربعاء أو شيء يستثنيه صاحب الأرض فنهانا النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك فقلت لرافع : فكيف هي بالدراهم والدنانير ؟ فقال : ليس بها بأس وكأن الذي نهي عن ذلك ما لو نظر فيه ذوو الفهم بالحلال والحرام لم يجيزوه لما فيه من المخاطرة
اور حضرت حنظلہ ابن قیس تابعی حضرت رافع بن خدیج صحابی سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے یعنی رافع نے فرمایا کہ مجھے میرے دو چچاؤں نے بتایا کہ کہ نبی کریم ﷺ کے مانے میں صحابہ کرام نالیوں پر ہونیوالی پیداوار کے عوض اپنی زمین اجرت پر دیا کرتے تھے (یعنی صحابہ اپنی زمین کو کسی دوسرے شخص کو اس شرط کے ساتھ اجرت پر دیدیا کرتے تھے کہ وہ شخص اپنی محنت اور اپنا تخم لگا کر اس میں کاشت کرے اور اس زمین کی پانی کی نالیوں کے کناروں پر جو کچھ پیدا ہوگا وہ اس زمین کی اجرت میں مالک کا حق ہوگا اور اس کے علاوہ باقی زمین کی پیداوار کاشت کرنے والے کا حق ہوگا یا اپنی زمین کو اس قطعہ کی پیداوار کے عوض اجرت پر دیتے تھے جسے مالک اپنے لئے علیحدہ کرلیتا تھا (یعنی زمین کو اجرت پر دینے کی دوسری صورت یہ ہوتی تھی کہ وہ اپنی زمین جب کسی کو کاشت کے لئے دیتے تو اس کا کوئی قطعہ اپنے لئے متعین کردیتے تھے اور یہ طے ہوجاتا تھا کہ کاشت کرنیوالا اپنی محنت اور اپنا تخم لگا کر پوری زمین پر کاشت کرے پھر اس متعین قطعہ کی جو کچھ پیداوار ہوگی وہ تو مالک لے لے گا اور باقی زمین کی پیداوار کاشت کرنیوالا لے گا چناچہ رسول کریم ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرمایا کیونہ اس میں نقصان اور فریب میں مبتلا ہونے کا خوف رہتا تھا) حدیث کے راوی حضرت حنظلہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رافع سے پوچھا کہ درہم و دینار کے عوض مزارعت کا کیا حکم ہے (یعنی اپنی زمین کسی کو کاشت کرنے کے لئے دیدی جائے اور اس کے عوض بطور لگان روپے لئے جائیں تو کیا حکم ہے حضرت رافع نے فرمایا کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور جس چیز سے رسول کریم ﷺ نے منع فرمایا ہے (یعنی مزارعت کی مذکورہ دونوں صورتیں) وہ ایسی چیز ہے کہ اگر حرام و حلال کی سمجھ رکھنے والا شخص اس میں غور کرے تو نقصان پہنچنے کے خوف سے اسے پسند نہ کرے ( بخاری ومسلم)
تشریح
اپنی زمین کو کاشت کے لئے دینے کی جو دو صورتیں ذکر کی گئی ہیں اور جن سے رسول کریم ﷺ نے منع فرمایا ہے وہ ان علماء کے نزدیک بھی محل نہی ہیں جو مزارعت کے جواز کے قائل ہیں۔ مزارعت کے سلسلے میں چونکہ مختلف احادیث منقول ہیں اس لئے جو علماء مزارعت کو جائز کہتے ہیں وہ بھی اپنے مسلک کو حدیث سے ثابت کرتے ہیں اور وہ علماء بھی حدیث ہی سے استدلال کرتے ہیں جن کے نزدیک مزارعت جائز نہیں ہے گویا دونوں طرف کے علماء کے لئے تاویل کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ یہ بات پہلے بتائی جا چکی ہے اکثر علماء مزارعت کو جائز کہتے ہیں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اس کے عدم جواز کے قائل ہیں لیکن حنفیہ کے دو جلیل القدر ائمہ حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد چونکہ جواز ہی کے قائل ہیں پھر یہ کہ دفع ضرورت کی مصلحت بھی پیش نظر ہے اس لئے حنفی مسلک میں بھی فتوی اسی بات پر ہے کہ مزارعت جائز ہے۔
وعن رافع بن خديج قال : كنا أكثر أهل المدينة حقلا وكان أحدنا يكري أرضه فيقول : هذه القطعة لي وهذه لك فربما أخرجت ذه ولم تخرج ذه فنهاهم النبي صلى الله عليه و سلم
اور حضرت رافع ابن خدیج کہتے ہیں کہ ہم اکثر مدینہ والے کاشتکاری کیا کرتے تھے اور ہم میں سے بعض لوگ اپنی زمین کو بٹائی پر کاشت کرنے کے لئے کسی دوسرے کو دیدیا کرتے تھے اور اس سے یہ کہ دیتے تھے کہ تم اس پوری زمین پر کاشت کرو اس کے عوض میں اس زمین کا یہ قطعہ میرے لئے ہے یعنی اس قطعہ کی پیدوار میں لے لوں گا اور یہ قطعہ تہارے لئے ہے ( یعنی اس دوسرے قطعہ کی پیداوار تم لے لینا) اور اکثر ایسا ہوتا تھا کہ ایک قطعہ میں پیداوار ہوجاتی تھی لیکن دوسرے قطعہ میں کچھ بھی پیدا نہیں ہوتا تھا چناچہ رسول کریم ﷺ نے مزارعت کی اس صورت سے منع فرمایا۔ کیونکہ اس کی وجہ سے ایک شخص کو تو زمین کی پوری پیداوار مل جاتی تھی اور دوسرے شخص کا حق بالکل ضائع ہوجاتا تھا ( بخاری ومسلم)
کسی کو اپنی زمین کاشت کرنے کے لئے بطور رعایت دینا بہتر ہے
وعن عمرو قال : قلت لطاووس : لو تركت المخابرة فإنهم يزعمون أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عنه قال : أي عمرو إني أعطيهم وأعينهم وإن أعلمهم أخبرني يعني ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم لم ينه عنه ولكن قال : ألا يمنح أحدكم أخاه خير له من أن يأخذ عليه خرجا معلوما
اور حضرت عمرو ابن دینار تابعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس تابعی سے کہا کہ اگر آپ مزارعت کو ترک کردیتے تو بہتر تھا کیونکہ علماء کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ طاؤس نے کہا کہ عمرو! میں اپنی زمین کاشت کرنے کے لئے لوگوں کو دیتا ہوں اور ان کی مدد کرتا ہوں اور سب سے بڑے عالم یعنی حضرت ابن عباس نے مجھے بتایا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اس سے منع نہیں فرمایا ہے لیکن آپ ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ اپنے کسی بھائی کو اپنی زمین کاشت کرنے کے لئے دیدینا اس سے بہتر ہے کہ اس پر اس زمین کا کوئی لگان وغیرہ متعین کر کے لے لیا جائے (بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ مزارعت میں تو یہ ہوتا ہے کہ کچھ دیا جاتا ہے اور کچھ لیا جاتا ہے یعنی اپنی زمین دی جاتی ہے اور اس کے عوض اس کی پیداوار میں سے کچھ حصہ متعین کر کے لیا جاتا ہے، لیکن اس کے برعکس اگر کسی کے ساتھ احسان کیا جائے بایں طور کہ اسے اپنی زمین بغیر کچھ لئے بطور رعایت دی جائے تو وہ اس سے فائدہ اٹھایا جائے تو یہ بہتر ہے۔
اپنی زمین کو بے کار نہ چھوڑو
وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كانت له أرض فليزرعها أو ليمنحها أخاه فإن أبي فليمسك أرضه
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس زمین ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اس میں خود کاشت کرے یا خود کاشت نہ کرسکے) تو اپنے کسی بھائی کو عاریۃً دیدے اور اگر یہ دونوں ہی باتیں پسند نہ ہوں تو پھر چاہئے کہ اپنی زمین اپنے پاس رکھے ( بخاری ومسلم)
تشریح
شیخ مظہر فرماتے ہیں کہ اس ارشاد گرامی کے پیش نظر انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے مال سے نفع حاصل کرے لہذا جس شخص کے پاس زمین ہو اسے چاہئے کہ وہ اس میں خود کھیتی باڑی کرے تاکہ اس سے پیداوار ہو اور اس کی وجہ سے اسے نفع ہو اور اگر کی وجہ سے وہ خود کاشت نہ کرسکتا ہو تو پھر وہ اس زمین کو اپنے کسی مستحق مسلمان بھائی کو عاریۃ دیدے تاکہ وہ اس میں محنت مشقت کر کے اپنا پیٹ بھرے اس صورت میں انسانی اخلاق و ہمدردی کا ایک تقاضہ بھی پورا ہوگا اور اسے ثواب بھی ملے گا لیکن اگر وہ ان دونوں صورتوں میں سے کوئی صورت پسند نہ کرے تو پھر اپنی زمین کو اپنے پاس رہنے دے یہ آخری حکم گویا ان دونوں صورتوں کو ترک کرنے اور مزارعت کو اختیار کرنے پر ازراہ تنبیہہ دیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص نہ تو اپنی زمین سے مالی فائدہ حاصل کرے کہ اس پر خود کاشت کرے اور نہ کسی مسلمان بھائی کو عاریۃ دے کر اس سے روحانی نفع حاصل کرے تو پھر بہتر یہی ہے کہ وہ اس زمین کو یوں ہی چھوڑ دے کسی کو بطور مزارعت نہ دے نیز اس میں ایسے لوگوں کے لئے بھی تنبیہ ہے جو اپنے مال سے نہ تو خود ہی فائدہ اٹھاتے ہیں اور نہ دوسرے کو نفع پہچاتے ہیں۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ تو پھر چاہئے کہ اپنی زمین اپنے پاس رکھے کے معنی یہ ہیں کہ اگر کوئی شخص اس کی زمین عاریۃ قبول کرنے سے انکار کر دے تو اپنی زمین اپنے پاس رہنے دے اس صورت میں یہ حکم اباحت کے طور پر ہوگا۔
زارعت میں مشغولیت کی وجہ سے جہاد ترک کرنے پروعید
وعن أبي أمامة ورأى سكة وشيئا من آلة الحرث فقال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : لا يدخل هذا بيت قوم إلا أدخله الذل . رواه البخاري
منقول ہے کہ حضرت ابوامامہ نے ایک جگہ) ہل اور کھیتی باڑی کا کچھ دیگر سامان دیکھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ سامان جس گھر میں داخل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گھر میں ذلت داخل کردیتا ہے ( بخاری)
تشریح
اس حدیث سے اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہونا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ کے نزدیک زراعت کا پیشہ ناپسندیدہ یا معیوب تھا یا اس سے آپ ﷺ کا مقصد کھیتی باڑی کرنیوالوں کی مذمت کرنا تھا بلکہ درحقیقت اس ارشاد گرامی کا منشاء جہاد کی ترغیب دینا ہے اور یہ آگاہ کرنا ہے کہ زراعت میں مشغول ہو کر جہاد کو ترک نہ کردیا جائے اگر کوئی شخص اپنی معاشی ضروریات کی جائز و حلال تکمیل کے لئے زراعت کے پیشے کو اختیار کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ کوئی غیرپسندیدہ بات نہیں ہے اور نہ ایسا شخص اس وعید میں داخل ہے۔ بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ اس وعید کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو دشمنان دین کے قریب یا ان کے ملک کی سرحدوں سے متصل اقامت پذیر ہوں کہ اگر ایسے لوگ اپنی تمام تر توجہ زراعت کی طرف مبذول کر کے جہاد کی ضرورت و اہمیت کو فراموش کردیں گے تو دشمن ان پر غالب آجائیں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے دشمن کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوجائیں گے۔
کسی کی زمین میں بلا اجازت کاشت نہ کرو
عن رافع بن خديج عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من زرع في أرض قوم بغير إذنهم فليس له من الزرع شيء وله نفقته . رواه الترمذي وأبو داود وقال الترمذي : هذا حديث غريب
حضرت رافع بن خدیج نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیر (یعنی مالک کی رضا اور حکم کے بغیر) کاشت کرے تو اس کے لئے اس زمین کی پیداوار میں سے علاوہ اس کے کہ جو اس نے خرچ کیا ہے اور کچھ نہیں ہوگا ( ترمذی ابوداود) امام ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث غریب ہے)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ کسی کی زمین میں مالک کی اجازت ومرضی کے بغیر اگر کوئی شخص کاشت کرے تو اس زمین میں ساری پیداوار زمین کے مالک ہی کو ملے گی ہاں کاشت کرنیوالے نے اپنا جو تخم اس کاشت میں لگایا ہوگا وہ اسے مل جائے گا اس کے علاوہ اور کچھ اسے نہیں ملے گا چناچہ حضرت امام احمد کا یہی مسلک ہے۔ لیکن دوسرے علماء یہ کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں زمین کی پیداوار کاشت کرنیوالے ہی کو ملے گی البتہ اس کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ وہ زمین کا نقصان اس کے مالک کو ادا کرے حنفیہ کے بعض علماء نے بھی اسی قول کو ذکر کیا ہے اور ابن مالک نے یہ کہا ہے کہ ایسے شخص پر زمین پر قبضہ کے دن سے اس کی کاشت کے دن سے زمین خالی ہونے کے دن تک اس زمین کا معاوضہ واجب ہوگا اور اس کی جو کچھ پیداوار ہوگی وہ اس شخص کی ہوگی۔
عن قيس بن مسلم عن أبي جعفر قال : ما بالمدينة أهل بيت هجرة إلا يزرعون على الثلث والربع وزارع علي وسعد بن مالك وعبد الله بن مسعود وعمر ابن عبد العزيز والقاسم وعروة وآل أبي بكر وآل عمر وآل علي وابن سيرين وقال عبد الرحمن بن الأسود : كنت أشارك عبد الرحمن بن يزيد في الزرع وعامل عمر الناس على : إن جاء عمر بالبذر من عنده فله الشطر . وإن جاؤوا بالبذر فلهم كذا . رواه البخاري
حضرت قیس بن اسلم حضرت ابوجعفر (یعنی امام محمد باقر سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا مدینہ میں مہاجرین کا کوئی ایسا گھر نہ تھا جو تہائی اور چوتھائی پر (کی بٹائی پر) کی تھی نہ کرتا ہو۔ حضرت علی حضرت سعد بن مالک یعنی سعد بن ابی وقاص حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت عمر بن عبدالعزیز قاسم عروہ حضرت ابوبکر کی والد حضرت عمر کی اولاد حضرت علی کی اولاد اور ابن سیرین یہ سب کھیتی کرتے تھے حضرت عبدالرحمن بن اسود تابعی کا بیان ہے کہ میں حضرت عبدالرحمن بن یزید کی شرکت میں مزارعت کیا کرتا تھا۔ نیز حضرت عمر نے لوگوں سے اس شرط پر مزارعت کا معاملہ کیا تھا کہ اگر عمر تخم اپنے پاس سے دیں گے تو پیداوار کا نصف حصہ ان کا ہوگا اور اگر وہ لوگ بیج دیں گے تو پیداوار میں اس کے مطابق ان کا حصہ ہوگا (یعنی نصف یا تہائی یا چوتھائی جو بھی مقرر ہوتا ہو) بخاری)
تشریح
میرک شاہ نے کہا ہے کہ خود بخاری کی عبارت اور اس کی شرحوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوجفعر کی عبارت لفظ والربع پر ختم ہوگئی ہے اس کے آگے وزارع سے آخر تک ساری عبارت خود بخاری کی ہے اور یہ سب آثار (یعنی صحابی یا تابعی کے اقوال) ہیں جن کو بخاری نے چونکہ بغیر اسناد نقل کیا ہے اس لئے معلق ہیں چناچہ مؤلف مشکوۃ کے لئے یہ ضروری تھا کہ وہ روایت کے آخر میں رواہ بخاری تعلیقا ( اس روایت کو بخاری نے بطریق تعلیق نقل کیا ہے) لکھتے۔
اجارہ کے معنی ہیں کسی چیز کو کرایہ پر دینا اور اصطلاح شریعت میں اجارہ کا مفہوم ہے اپنی کسی چیز کی منفعت کا کسی کو مالک بنا۔ فقہی طور پر قیاس تو یہ کہتا ہے کہ اجارہ میں چونکہ منفعت معدوم ہوتی ہے اس لئے اجارہ جائز ہونا چاہئے لیکن شریعت نے لوگوں کی احتیاج و ضرورت کے پیش نظر اس کو جائز قرار دیا ہے چناچہ اجارہ حدیث وآثار سے ثابت ہے۔
عن عبد الله بن مغفل قال : زعم ثابت بن الضحاك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن المزارعة وأمر بالمؤاجرة وقال : لا بأس بها . رواه مسلم (2/174) 2982 - [ 2 ] ( متفق عليه ) وعن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم احتجم فأعطى الحجام أجره واستعط
حضرت عبداللہ بن مغفل کہتے ہیں کہ حضرت ثابت بن ضحاک نے یہ بیان کیا کہ رسول کریم ﷺ نے مزارع سے منع فرمایا ہے اور اجارہ کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس میں مضائقہ نہیں ہے (مسلم)
تشریح
مزارعت سے منع فرمایا ہے میں مزارعت سے مراد مزارعت کی وہ صورتیں ہیں جس کا عدم جواز معلوم و متعین ہے اور جن کا تذکرہ گزشتہ باب کی حدیث نمبر ٣ میں (جو حضرت حنظلہ بن قیس سے منقول ہے) کیا گیا ہے۔ ٢) اور حضرت عبداللہ بن عباس راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ بھری ہوئی سینگی کھچوائی اور سینگی کھینچنے والے کو اجرت عطاء فرمائی نیز آپ ﷺ نے اپنی ناک میں دوا ڈالی (بخاری ومسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شاخ کشی (سینگی کھینچنے) کا پیشہ اور اجارہ مباح ہے اور علاج کرنا جائز ہے۔
سرکار دو عالم نے اجرت پر بکریا چرائی ہیں
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما بعث الله نبيا إلا رعى الغنم . فقال أصحابه : وأنت ؟ فقال : نعم كنت أرعى على قراريط لأهل مكة . رواه البخاري
اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی نبی مبعوث نہیں کیا ہے جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں یہ سن کر آپ ﷺ کے صحابہ نے پوچھا کہ کیا آپ ﷺ نے بھی بکریاں چرائی ہیں فرمایا ہاں میں چند قیراط کی اجرت پر اہل مکہ کی بکریاں چراتا تھا ( بخاری)
تشریح
منصب نبوت کے فریضہ کی ادائیگی جن اوصاف و خصوصیات کی حامل ہوتی ہے یا یوں کہئے کہ نبی کو اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہونے کے لئے معاشرہ اور سماج سے جو قریبی ربط وتعلق رکھنا پڑتا تھا اس کے لئے چونکہ یہ ضروری تھا کہ دعوت و تبلیغ اور اصلاح اور رہنمائی کے کسی بھی موڑ پر پورے معاشرے کے افراد اور نبی کے درمیان اجنبیت اور غیریت کی دیوار حائل نہ رہے اس لئے قدرت کی طرف سے ابتداء میں نبی کو ایک ایسے تربیتی اور آزمائشی دور سے گزارا جاتا تھا جس کے بعض مرحلے بظاہر تو بہت نچلی سطح کے معلوم ہوتے تھے لیکن نتائج و اثرات کے اعتبار سے وہی مرحلے بہت ہی دور رس اور کار آمد ثابت ہوتے تھے۔ ایسا ہی ایک مرحلہ بکریوں کا چرانا بھی ہے جو اگرچہ بہت معمولی درجہ کی چیز معلوم ہوتی ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہی بکریوں کا چرانا محبت و شفقت محنت ومشقت باہمی ربط وتعلق اور عام خیر خواہی ونگہداشت کا ایک بہترین سبق ہے جو کسی رہبرومصلح کی حیات کا ایک بنیادی وصف ہے چناچہ ہر نبی اسی لئے بکریاں چراتا تھا تاکہ اس تجربہ سے گزرنے کے بعد امت کی نگہبانی و شفقت اور معاشرے سے ربط وتعلق کا حقیقی جذبہ پوری زندگی میں سرایت کئے رہے اور قوم کی طرف سے پیش آنیوالی ہر سختی ومشقت پر صبر و تحمل کی قوت حاصل رہے نیز اس ذریعے سے وہ حقیقی خلوت و تنہائی بھی حاصل ہوجاتی تھی جو نبی کی ابتدائی زندگی کا ایک مطلوب ہوتی تھی۔ مذکورہ بالا نکتہ زیادہ واضح ہوجاتا ہے اگر یہ تجزیہ پیش نظر ہو کہ ایک رہبر اور ایک بادشاہ اپنی قوم یا اپنی رعایا کے ساتھ وہی نسبت وتعلق رکھتا ہے جو ایک چرواہا اپنی بکریوں کے ساتھ رکھتا ہے۔
مزدور کو اس کی مزدروی نہ دینے والے کے لئے وعید
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال الله تعالى : ثلاثة أنا خصمهم يوم القيامة : رجل أعطى بي ثم غدر ورجل باع حرا فأكل ثمنه ورجل استأجر أجيرا فاستوفى منه ولم يعطه أجره . رواه البخاري
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ تین شخص ایسے ہیں جن سے میں قیامت کے دن جھگڑوں گا، ایک تو وہ شخص جس نے میرے نام اور میری سوگند کے ذریعے کوئی عہد کیا اور پھر اس کو توڑ ڈالا دوسرا وہ شخص ہے جس نے ایک آزاد شخص کو فروخت کیا اور اس کا مول کھایا اور تیسرا شخص وہ ہے جس نے کسی مزدور کو مزدوری پر لگایا اور اس سے کام لیا (یعنی جس کام کے لئے لگایا تھا وہ پورا کام اس سے کرایا) لیکن اس کو اس کی مزدوری نہیں دی) (بخاری)
تشریح
اس حدیث میں ایسے تین اشخاص کی نشان دہی کی گئی ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے قہر وغضب کا خاص طور سے نشانہ ہوں گے ان میں سے پہلا شخص تو وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے نام پر یعنی اس کی قسم کھا کر کوئی عہد و معاہدہ کرتا ہے اور پھر اس کو توڑ ڈالتا ہے یوں تو عہد معاہدہ کی پاسداری بہرصورت ایک ضروری چیز ہے کیونکہ انسان کی شرافت و انسانیت کا تقاضہ یہی ہے کہ وہ جو عہد و معاہدہ کے نام پر کیا جاتا ہے تو پھر اس کی تکمیل کہیں زیادہ ضروری ہوجاتی ہے اس لئے جو شخص اللہ کے نام پر کئے ہوئے عہد و معاہدہ کو توڑتا ہے وہ بجا طور پر غضب الٰہی کا مستحق ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو کسی آزاد انسان کو بیچ ڈالے شرف انسانی کی توہین اس سے زیادہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ ایک انسان اپنے ہی جیسے ایک دوسرے آزاد انسان کو ایک بازاری مال بنا دے اور اس کی کی خریدو فروخت کرے چناچہ ایسے شخص کو بھی قیامت کے دن عذاب میں مبتلا ہونا پڑے گا۔ اس بارے میں یہ نکتہ ذہن نشین رہنا چاہئے کہ مذکورہ بالا ارشاد گرامی میں اس کا مول کھانے کی قید محض زیادتی تنبیہ کے لئے ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی آزاد انسان کو فروخت کرنا ہی ایک بڑے گناہ کی بات ہے خواہ اس کا مول کھائے یا نہ کھائے۔ اگر اس کا مول نہیں کھائے گا تب بھی گنہگار ہوگا اور اس وعید میں داخل ہوگا۔ تیسرا شخص وہ ہے جو کسی مزدور کو اپنے کسی کام کی تکمیل کے لئے مزدوری پر لگائے اور اپنا وہ کام پورا کرانے کے بعد اس کی مزدروی نہ دے یہ ایک انتہائی قابل نفریں فعل ہے کسی شخص کی محنت اس کی زندگی کا ایک قیمتی اثاثہ ہوتا ہے جسے حاصل کر کے اس کی اجرت نہ دینا شیوؤ انسانیت کے خلاف ہے یہ کتنے ظلم کی بات ہے کہ کوئی غریب اپنا پیٹ بھرنے کے لئے اپنا خون پسینہ ایک کر کے کسی کے یہاں محنت کرائی مگر اس کی محنت کی اجرت اسے نہ دی جائے چناچہ ایسے شخص کے بارے میں بھی کہ جو مزدور کی نہ دے اللہ تعالیٰ نے یہ آگاہی دی ہے کہ ایسا شخص قیامت کے دن اپنے اس انسانی ظلم کی ضرور سزا پائے گا۔
جھاڑ پھونک کرنیوالا اپنے عمل کی اجرت لے سکتا ہے
وعن ابن عباس : أن نفرا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم مروا بماء فبهم لديغ أو سليم فعرض لهم رجل من أهل الماء فقال : هل فيكم من راق ؟ إن في الماء لديغا أو سليما فانطلق رجل منهم فقرا بفاتحة الكتاب على شاء فبرئ فجاء بالشاء إلى أصحابه فكرهوا ذلك وقالوا : أخذت على كتاب الله أجرا حتى قدموا المدينة فقالوا : يا رسول الله أخذ على كتاب الله أجرا . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أحق ما أخذتم عليه أجرا كتاب الله . رواه البخاري وفي رواية : أصبتم اقسموا واضربوا لي معكم سهما
اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کی ایک جماعت ایک ایسے گاؤں سے گزری جس میں کسی شخص کو بچھو یا سانپ نے ڈس رکھا تھا چناچہ اس بستی کا ایک شخص ان صحابہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں میں کوئی شخص جھاڑ پھونک کرنیوالا بھی ہے کیونکہ ہماری بستی میں ایک شخص کو بچھو یا سانپ نے ڈس لیا ہے؟ (اگر ایسا کوئی شخص ہے تو وہ میرے ساتھ چل کر اس شخص پر دم کر دے) چناچہ ان میں سے ایک صحابی تشریف لے گئے اور انہوں نے بکریوں کے عوض سورت فاتحہ پڑھی۔ یعنی انہوں نے کہا کہ میں اس شخص پر اس شرط کے ساتھ جھاڑ پھونک کروں گا کہ میں اس کے عوض اتنی بکریاں لوں گا اسے بستی والوں نے منظور کرلیا لہذا ان صحابی نے سورت فاتحہ پڑھ کر اس شخص پر دم کیا کیونکہ منقول ہے کہ (فاتحۃ الکتاب شفاء من السم) یعنی سورت فاتحہ زہر کے لئے شفاء ہے لہذا وہ شخص اچھا ہوگیا پھر جب وہ صحابی بکریاں لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے تو ان ساتھیوں نے اس کو ناپسند کیا اور کہا کہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ تم نے کتاب اللہ پڑھنے پر مزدوری لی ہے یہاں تک وہ سب صحابہ مدینہ پہنچے اور آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! فلاں صحابی نے کتاب اللہ پڑھنے پر مزدوری لی ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جن چیزوں کی اجرت لیتے ہو ان میں سب سے بہتر کتاب اللہ ہے ( بخاری) ایک اور روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ تم نے اچھا کیا ان بکریوں کو آپس میں تقسیم کرلو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی لگاؤ۔
تشریح
لفظ (سلیم) اور لفظ (لدیغ) دونوں کے ایک ہی معنی ہیں یعنی سانپ کا ڈسا ہوا چناچہ روایت کے الفاظ (لدیغ) أو (سلیم) میں او سلیم راوی کے لفظی شک کو ظاہر کرتا ہے یعنی راوی نے یہ دونوں لفظ نقل کر کے یہ ظاہر کیا ہے کہ مجھے یہ صحیح یاد نہیں ہے کہ اس موقع پر لفظ لدیغ کہا گیا تھا یا لفظ سلیم اور علامہ طیبی یہ کہتے ہیں کہ اکثر وبیشتر لفظ لدیغ کا اطلاق اس شخص پر ہوتا ہے جسے بچھو کاٹ لے اور سلم کا اطلاق اس شخص پر ہوتا ہے جسے سانپ ڈس لے اس صورت میں کہا جائے گا کہ اس موقع پر راوی کو معنی کے اعتبار سے شک ہوا ہے کہ یا تو وہ شخص بچھو کا کاٹا ہوا تھا یا سانپ کا ڈسا ہوا تھا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ جن صحابی نے سورت فاتحہ پڑھ کر دم کیا تھا وہ حضرت ابوسعید خدری تھے اور صحابہ کی وہ جماعت تیس نفوس پر مشتمل تھی اسی اعتبار سے سورت فاتحہ پڑھنے والے صحابی نے تیس بکریاں لی تھیں۔ آنحضرت ﷺ نے ان بکریوں میں اپنا حصہ لگانے کے لئے اس واسطے فرمایا تاکہ وہ صحابہ خوش بھی ہوں اور یہ بھی جان لیں کہ سروۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرنے کے عوض حاصل ہونیوالی بکریاں بلا شک وشبہ حلال ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کی آیتوں اور ذکر اللہ کے ذریعے جھاڑ پھونک کرنا اور اس کی اجرت لینا جائز ہے چناچہ عامل روحانیات یعنی قرآن کریم کی آیتوں اور دیگر منقول دعا وعملیات کے ذریعے علاج کرنیوالے اپنے عمل یعنی تعویذ گنڈوں اور جھاڑ پھونک کی جو اجرت لیتے ہیں اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ تلاوت قرآن کی اجرت لینا جائز ہے کیونکہ ان دونوں میں فرق ہے اور وہ یہ کہ تلاوت قرآن ایک عبادت ہے اور عبادت کی قیمت لینا قطعًا جائز نہیں ہے اور کسی مریض و دکھی شخص پر قرآن پڑھ کر دم کرنا اور اس کی برکت سے شفاء حاصل ہوجانا عبادت نہیں ہے لہذا اس کی اجرت لینا جائز ہے۔ اس سے ثابت ہوگیا کہ مصحف یعنی قرآن کریم کو کتابی صورت میں بیچنا اس کو خریدنا اجرت پر اس کی کتابت کرنا اور دین کی دوسری کتابوں کو مزدوری پر لکھنا جائز ہے۔ اسی طرح متاخرین یعنی بعد کے علماء نے قرآن کریم کی تعلیم کو بھی اس پر قیاس کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم قرآن کی اجرت لینا جائز ہے جب کہ متقدمین یعنی پہلے زمانے کے علماء جیسے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ وغیرہ نے تعلیم قرآن کی اجرت لینے کو حرام کہا ہے۔
جس طرح غیرشرعی جھاڑ پھونک ناجائز ہے اسی طرح اس کی اجرت بھی حرام ہے
عن خارجة بن الصلت عن عمه قال : أقبلنا من عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتينا على حي من العرب فقالوا : إنا أنبئنا أنكم قد جئتم من عند هذا الرجل بخير فهل عندكم من دواء أو رقية ؟ فإن عندنا معتوها في القيود فقلنا : نعم فجاؤوا بمعتوه في القيود فقرأت عليه بفاتحة الكتاب ثلاثة أيام غدوة وعشية أجمع بزاقي ثم أتفل قال : فكأنما أنشط من عقال فأعطوني جعلا فقلت : لا حتى أسأل النبي صلى الله عليه و سلم فقال : كل فلعمري لمن أكل برقية باطل لقد أكلت برقية حق . رواه أحمد وأبو داود
حضرت خارجہ بن صلت اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ جب ہم لوگ رسول کریم ﷺ سے رخصت ہو کر اپنے وطن کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں ہمارا گزر عرب کے ایک قبیلے پر ہوا جس کے کچھ لوگوں نے ہم سے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تم اس شخص (یعنی رسول کریم ﷺ کے پاس سے بھلائی (یعنی قرآن پاک اور ذکر اللہ) لے کر آئے ہو تو کیا تمہارے پاس کوئی دوا یا جھاڑ پھونک بھی ہے؟ کیونکہ ہمارے ہاں ایک شخص پاگل ہوگیا ہے جو بیڑیوں میں جکڑا پڑا ہے ہم نے کہا ہاں (ہمارے پاس ایسا عمل ہے جس سے ہم اس کا علاج کرسکتے ہیں) چناچہ وہ اس پاگل کو بیڑیوں میں جکڑے ہوئے پاس لائے اور میں نے اس پر تین دن تک صبح وشام سورت فاتحہ اس طرح پڑھی کہ (پڑھتے وقت) اپنا تھوک جمع کرتا رہتا اور پھر (پڑھنے کے بعد) اس پر تھوک دیتا راوی کہتے ہیں کہ میرے چچا نے فرمایا کہ اس کے بعد (وہ اتنی جلدی اچھا ہوگیا) گویا اسے بندھی ہوئی رسی سے کھول دیا گیا ہے پھر انہوں نے مجھے اس کی اجرت کے طور پر کوئی چیز دی تو میں نے کہا کہ یہ چیز اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک کہ میں اس کے بارے میں آنحضرت ﷺ سے نہ پوچھ لوں چناچہ ( میں نے آپ ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو کچھ تمہیں ملا ہے اسے کھالو کیونکہ قسم ہے اپنی زندگی کی جو شخص باطل منتر کی اجرت کھاتا ہے وہ برا کرتا ہے تم نے تو حق اور سچے منتر کی اجرت کھائی ہے ( احمد ابوداؤد)
تشریح
باطل منتر ایسی جھاڑ پھونک کو کہتے ہیں جس میں ستاروں اور ارواح خبیثہ جنات اور اللہ کے علاوہ دوسری چیزوں کا ذکر ہو اور ان میں سے مدد مانگی جاتی ہو چناچہ ایسے عملیات جو غیر اللہ کے ذکر یا غیر اللہ سے مدد مانگنے کی وجہ سے غیر شرعی ہوں جس طرح ان کو اختیار کرنا ناجائز ہے اسی طرح ان کی اجرت کھانا بھی حرام ہے۔ حق منتر ایسی جھاڑ پھونک اور عملیات کو کہتے ہیں جن میں ذکر اللہ اور قرآن کریم کی آیتیں ہوں خواہ ان کا تعلق پڑھ کر دم کرنے سے ہو یا تعویذ وغیرہ لکھ کردینے سے ہو۔ حدیث کے الفاظ فلعمری (یعنی قسم ہے اپنی زندگی کی) سے یہ اشکال واقع ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسری چیزوں کی قسم کھانا منع ہے پھر آپ ﷺ نے اپنی زندگی کی قسم کس طرح کھائی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ لفظ فلعمری سے قسم مراد نہیں ہے بلکہ دراصل یہ اہل عرب کے کلام کا ایک خاص لفظ ہے جو اکثر وبیشتر دوران گفتگو ان کی زبان پر جاری ہوتا ہے۔ یا پھر یہ کہا جائے گا کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت نہیں ہوئی تھی۔ اور علامہ طیبی یہ کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اس قسم کی قسمیں کھانے کی اجازت حاصل ہو لہذا اس کا تعلق ان چیزوں سے ہوگا جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ مختص ہیں کہ وہ آپ ﷺ کے لئے تو جائز تھیں دوسروں کے لئے جائز نہیں ہے۔
مزدور کو اس کی مزدوری دینے میں تاخیر نہ کرو
وعن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعطوا الأجير أجره قبل أن يجف عرقه . رواه ابن ماجه (2/175) 2988 - [ 8 ] ( لم تتم دراسته ) وعن الحسين بن علي رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : للسائل حق وإن جاء على فرس . رواه أحمد وأبو داود وفي المصابيح : مرسل
اور حضرت عبداللہ بن عمر راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دیدو یعنی جب مزدور اپنا کام پورا کرچکے تو اس کی مزدوری فورًا دیدو اس میں تاخیر نہ کرو (ابن ماجہ) اور حضرت حسین بن علی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے سائل کے بارے میں فرمایا کہ وہ بہرصورت دئیے جانے کا مستحق ہے اگرچہ گھوڑے پر آئے ( احمد ابوداؤد) اور مصابیح میں کہا گیا ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے)
تشریح
اس ارشاد گرامی کا مقصد یہ تعلیم دینا ہے کہ سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ کرنا چاہئے اگرچہ وہ گھوڑے پر چڑھ کر بھی مانگنے آئے تو اس کا سوال پورا کیا جائے۔ چناچہ قاضی نے کہا ہے کہ سائل کو خالی نہ پھیرو اگرچہ ایسی حالت میں تمہارے پاس مانگنے آئے جو اس کے مستغنی ہونے پر دلالت کرے کیونکہ تمہیں یہ سوچنا چاہئے کہ اگر اسے سوال کرنے کی حاجت نہ ہوتی تو وہ اپنا دست سوال دراز کر کے تمہارے آگے اپنے آپ کو ذلیل و خوار کیوں کرتا۔ یہ حدیث بظاہر اس باب سے کوئی مناسب نہیں رکھتی سوائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ سائل کو جو کچھ دیا جاتا ہے وہ گویا اس کے سوالی کی اجرت ہے لہذا اس مناسبت سے اس حدیث کو باب الاجرہ میں نقل کیا گیا ہے۔ اس حدیث کی اسناد میں علاء نے نقل کیا ہے چناچہ حضرت امام احمد نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے اور کہا ہے کہ یہ بازار میں گشت کرتی ہے۔ امام ابوداؤد نے البتہ اس بارے میں سکوت اختیار کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک یہ حدیث قابل استدلال ہے مصابیح میں اس حدیث کو مرسل کہا گیا ہے لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ یہ مسند ہے چناچہ مصابیح کے بعض نسخوں میں لفظ مرسل مذکور بھی نہیں ہے۔
مزدروی کے سلسلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر
عن عتبة بن المنذر قال : كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فقرأ : ( طسم ) حتى بلغ قصة موسى قال : إن موسى عليه السلام آجر نفسه ثمان سنين أو عشرا على عفة فرجه وطعام بطنه . رواه أحمد وابن ماجه
حضرت عتبہ بن منذر کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے آپ ﷺ نے طسم پڑھی اور جب آپ ﷺ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ پر پہنچے تو فرمایا کہ موسیٰ نے اپنی شرم گاہ کو بچانے کے لئے اور پیٹ بھرنے کے لئے اپنے آپ کو آٹھ سال یا دس سال تک مزدوری میں دے رکھا تھا ( احمد ابن ماجہ)
تشریح
طسم یعنی سورت قصص میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ مدین پہنچے وہاں حضرت شعیب (علیہ السلام) سے ان کی ملاقات ہوئی پھر ان کی صاحبزادی سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نکاح ہوا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے عوض میں اپنے آپ کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی مزدوری میں دیا چناچہ آنحضرت ﷺ اس سورت کی تلاوت کے وقت جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس تذکرہ پر پہنچے تو آپ ﷺ نے مذکورہ بالا کلام ارشاد فرمایا۔ شرم گاہ بچانے سے مراد نکاح ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی صاحبزادی سے اس معاہدہ پر نکاح کیا کہ میں آٹھ یا دس سال تک تمہاری بکریاں چراؤں گا گویا اتنی مدت تک بکریاں چرانے کو انہوں نے اپنی بیوی کا مہر قرار دیا چناچہ ان کی شریعت میں یہ جائز تھا کہ آذاد شخص کی خدمت کو اس کی بیوی کا مہر قرار دیا جاسکتا تھا۔ لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس معاملے میں یہ بھی احتمال ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کا مہر تو کچھ اور مقرر کیا ہوگا اور بکریاں چرانے کی یہ خدمت بطریق احسان قبول کی ہوگی۔
خاوند کی خدمت بیوی کا مہر ہوسکتا ہے یا نہیں؟
اس بارے میں علماء کا فقہی اختلاف ہے چناچہ حنفی علماء تو یہ کہتے ہیں کہ یہ جائز نہیں ہے کہ کسی عورت کا نکاح اس چیز کے عوض کیا جائے کہ اس کا آزاد خاوند مثلا ایک سال تک اس کی خدمت کرے گا ہاں یہ جائز ہے کہ عورت کا نکاح اس چیز کے عوض میں کیا جائے کہ اس کے خاوند کا غلام مثلا ایک سال تک اس کی خدمت کرے گا۔ شافعی علماء کے نزدیک بعض کاموں کی مزدوری و خدمت کے عوض نکاح کرنا درست ہے جب کہ مستاجر لہ وہ ( وہ کام جو اجیر ومزدور انجام دے) اور مخدوم فیہ (وہ خدمت جو انجام دی جائے) معلوم و متعین چیز ہو
دین کی تعلیم دینے کی اجرت لینے کا مسئلہ
وعن عبادة بن الصامت قال : قلت : يا رسول الله رجل أهدى إلي قوسا ممن كنت أعلمه الكتاب والقرآن وليست بمال فأرمي عليها في سبيل الله قال : إن كنت تحب أن تطوق طوقا من نار فاقبلها . رواه أبو داود وابن ماجه
اور حضرت عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ایک شخص نے مجھے بطور تحفہ ایک کمان بھیجی ہے اور وہ شخص ان لوگوں میں سے ہے جنہیں میں کتاب و قرآن کی تعلیم دیا کرتا تھا اور میں سمجھتا ہوں (اس کمان کو قبول کرلینے میں اس لئے کوئی مضائقہ نہیں ہے) کہ کمان کوئی مال نہیں ہے۔ چناچہ اس کمان کے ذریعے اللہ کے راستہ (یعنی جہاد) میں تیر اندازی کروں گا آپ ﷺ نے فرمایا اگر تمہیں یہ پسند ہو کہ تمہارے گلے کو آگ کا طوق پہنایا جائے تو اسے قبول کرلو ( ابوداؤد ابن ماجہ)
تشریح
کمان کوئی مال نہیں ہے سے حضرت عبادہ کی یہ مراد تھی کہ کمان ایسی چیز نہیں ہے جسے مال یا اجرت شمار کیا جائے بلکہ یہ تو لڑائی کا ایک سامان ہے جسے میں اللہ کی راہ میں استعمال کروں گا بایں طور کہ جہاد میں اس کے ذریعے تیر اندازی کروں گا۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے انہیں متنبہ فرمایا کہ یہ کمان اگرچہ تمہیں کلام اللہ کی تعلیم کی اجرت کے طو پر نہیں ملی ہے اور نہ یہ کوئی ایسی چیز ہے جسے اجرت شمار کیا جاسکے لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ یہ تمہارے اس اخلاص کو ختم کردیگی جو تمہاری خدمت تعلیم کا محور تھا جس سے سرشار ہو کر تم نے ان لوگوں کو قرآن ودین کی تعلیم دی تھی لہذا تمہارے لئے مناسب یہی ہے کہ تم اسے قبول نہ کرو جو علماء قرآن ودین کی علیم دینے کی اجرت لینے کو حرام کہتے ہیں وہ اس حدیث کے ظاہری مفہوم سے استدلال کرتے ہیں۔
غیر آباد زمین کو آباد کرنے اور پانی پلانے کے حق کا بیان
نہایہ میں لکھا ہے کہ موات اس زمین کو کہتے ہیں جس میں نہ کوئی کھیتی ہو نہ مکان ہو اور نہ اس کا کوئی مالک ہو اور ہدایہ میں لکھا ہے کہ موات اس زمین کو کہتے ہیں جو پانی کے منقطع ہونے یا اکثر زیرآب رہنے کی وجہ سے ناقابل انتفاع ہو یا اس میں ایسی کوئی چیز ہو جو زراعت سے مانع ہو لہذا ایسی زمین جو عادی یعنی قدیم ہو کہ اس کا کوئی مالک نہ ہو یا اسلامی سلطنت کی مملوک ہو اور اس کے مالک کا پتہ نامعلوم ہو اور وہ زمین بستی سے اس قدر دوری پر ہو کہ اگر کوئی شخص بستی کے کنارے پر کھڑا ہو کر آواز بلند کرے تو اس کی آواز اس زمین تک نہ پہنچے تو وہ زمین موات ہے۔ احیا موات سے مراد ہے اس زمین کو آباد کرنا ہے اور اس زمین کو آباد کرنے کی صورت یہ ہے کہ یا تو اس زمین میں مکان بنایا جائے یا اس میں درخت لگایا جائے یا اس میں زراعت کی جائے یا اسے سیراب کیا جائے اور یا اس میں ہل چلا دیا جائے۔ اس قسم کی زمین یعنی موات کا شرعی حکم یہ ہے کہ جو شخص اس زمین کو آباد کرتا ہے وہ اس کا مالک ہوجاتا ہے لیکن اس بارے میں علماء کا تھوڑا سا اختلاف ہے اور وہ یہ کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ تو یہ فرماتے ہیں کہ اس زمین کو آباد کرنے کے لئے امام (یعنی حکومت وقت) سے اجازت لینا شرط ہے جب کہ حضرت امام شافعی اور صاحبین یعنی حنفیہ کے حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کے نزدیک اجازت شرط نہیں ہے۔ شرب کے لغوی معنی ہیں پینے کا پانی پانی کا حصہ گھاٹ اور پینے کا وقت اصطلاع شریعت میں اس لفظ کا مفہوم ہے پانی سے فائدہ اٹھانے کا وہ حق جو پینے برتنے اپنی کھیتی اور باغ کو سیراب کرنے اور جانوروں کو پلانے کے لے ہر انسان کو حاصل ہوتا ہے چناچہ پانی جب تک اپنے معدن ( یعنی دریا اور تالاب وغیرہ) میں ہے کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتا اس سے بلا تخصیص ہر انسان کو فائدہ اٹھانے کا حق حاصل ہے جس سے منع کرنا اور روکنا کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔ لیکن اس سلسلے میں دریا نہروں نالوں کے پانی اور اس پانی میں کہ جو برتنوں میں بھر لیا گیا ہو فرق ہے۔ جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے۔ اس موقع پر تو صرف اس قدر جان لیجئے کہ حنفی مسلک کے مطابق دریا کے پانی پر تمام انسانوں کا یکساں حق ہے چاہے کوئی اس کا پانی پینے پلانے کے استعمال میں لائے چاہے کوئی اس سے اپنی زمین سیراب کرے اور چاہے کوئی نہروں اور نالیوں کے ذریعے اس کا پانی اپنے کھیت و باغات میں لے جائے کسی کو بھی اور کسی صورت میں بھی دریا کے پانی کے استعمال سے نہیں روکا جاسکتا اور نہ کسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی کو روکے یا منع کرے چناچہ دریا کے پانی سے فائدہ اٹھانا چاند سورج اور ہوا سے فائدہ اٹھانے کی طرح ہے کہ اللہ نے ان نعمتوں کو بلا تخصیص کائنات کے ہر فرد کے لئے عام کیا ہے ان کا نفع و فائدہ کسی خاص شخص یا کسی خاص طبقے کے لے مخصوص نہیں ہے بلکہ ان سے فائدہ اٹھانے میں سب یکساں شریک ہیں اسی طرح کنویں اور نہروں کے پانی پر بھی سب کا حق ہے لیکن اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ کسی کنویں یا کسی نہر کے پانی سے موات کا احیاء کرے یعنی افتادہ زمین میں زراعت کرے تو اس صورت میں ان لوگوں کو کہ جن کے علاقے میں وہ کنواں اور نہر ہے منع کردینے کا حق حاصل ہے خواہ اس شخص کے افتادہ زمین میں پانی لے جانے سے اس کنویں اور نہر کے پانی میں کمی اور نقصان واقع ہوتا ہو یا نہ ہوتا ہو کیونکہ ان کے علاقے میں اس کنویں یا اس نہ رکے ہونے کی وجہ سے ان کے پانی پر انہیں بہر حال ایک خاص حق حاصل ہے اور جو پانی کسی برتن یا ٹینکی وغیرہ میں بھر لیا جاتا ہے وہ اس برتن وٹین کی والے کی ملکیت ہوجاتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس پانی پر ہر شخص کا حق ہوتا ہے کہ جو چاہے مار لے لیکن جب اسے کوئی شکاری پکڑ لیتا ہے تو اس کے قبضہ میں اتر آتے ہی وہ اس شکاری کی ملکیت ہوجاتا ہے اور اس پر بقیہ سب کا حق ساقط ہوجاتا ہے۔ اور کوئی کنواں یا نہر اور چشمہ کسی ایسی زمین میں ہو جو کسی خاص شخص کی ملیکت ہو تو اس شخص کو یہ حق حاصل ہوگا کہ اگر وہ چاہے تو اپنی حدود ملکیت میں پانی کے طلب گار کسی غیر شخص کے داخلے پر پابندی عائد کر دے بشرطیکہ وہ پانی کا طلبگار شخص وہاں کسی ایسے قریبی مقام سے پانی حاصل کرسکتا ہو جو کسی غیر کی ملکیت میں نہ ہو اور اگر وہاں کسی اور قریب جگہ سے پانی کا حصول اس کے لئے ممکن نہ ہو تو پھر اسی مالک سے کہا جائے گا کہ یا تو وہ خود اس نہر یا کنویں سے پانی لا کر دیدے یا اسے اجازت دیدے کہ وہ وہاں آ کر پانی لے سکے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ کنویں یا نہر کے کنارے کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔ اگر موات زمین میں کوئی کنواں کھدوایا گیا ہو تو اس زمین کو آباد کرنیوالے کو یہ حق نہیں پہنچے گا کہ وہ اس کنویں سے پانی لینے سے لوگوں کو منع کرے کیونکہ آباد کرنے کی وجہ سے جس طرح وہ زمین اس ملکیت میں آگئی ہے اس طرح اس کنویں کا پانی اس کی ملکیت نہیں آیا ہے اگر وہ کسی ایسے شخص کو منع کرے گا جو اس کنویں سے خود پانی پینا چاہتا ہے یا اپنے جانور کو پلانا چاہتا ہے اور پانی نہ ملنے کی صورت میں خود اس کی یا اس کے جانور کی ہلاکت کا خدشہ ہے تو اسے اس بات کی اجازت ہوگی کہ وہ زبردستی اس کنویں سے پانی حاصل کرے چاہے اس مقصد کے لئے اس کو لڑنا ہی کیوں نہ پڑے اور اس لڑائی میں ہتھیار استعمال کرنے کی نوبت کیوں نہ آجائے۔ کنواں بیشک کسی کی ذاتی ملکیت ہوسکتا ہے مگر اس کنویں کا پانی کنویں والے کی ملکیت نہیں ہوتا بلکہ وہ ہر شخص کے لئے مباح ہوتا ہے بخلاف اس پانی کے جو کسی نے اپنے برتن باسن میں بھر لیا ہو کہ وہ ذاتی ملکیت ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص پیاس کی شدت سے بےحال ہوا جا رہا ہو اور اس شخص سے وہ پانی مانگے جو اس نے اپنے برتن باسن میں بھر رکھا ہو اور وہ پانی دینے سے انکار کر دے تو اس پیاسے کو یہ حق ہوگا کہ لڑ جھگڑ کر اس سے پانی حاصل کرلے بشرطیکہ پانی نہ ملنے کی صورت میں جان چلی جانے کا خدشہ ہو اور وہ لڑائی میں کسی ہتھیار وغیرہ کا استعمال نہ کرے یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ اگر کوئی شخص بھوک کی وجہ سے مرا جا رہا ہو اور کسی کھانے والے سے کھانا مانگے اور وہ کھانا نہ دے تو اسے حق ہوتا ہے کہ اپنی جان بچانے کے لئے اس سے لڑ جھگڑ کر کھانا حاصل کرے مگر اس کو لڑائی میں ہتھیار وغیرہ استعمال کرنے کی قطعًا اجازت نہیں ہوتی۔ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے کنویں سے پانی نہ لینے دے تو اس بارے میں زبردستی پانی حاصل کرنے کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ وہ کنویں والے سے بغیر ہتھیار استعمال کئے لڑے جھگڑے اور اس کی اجازت بھی اس لئے ہے کہ کسی کو پانی جیسی اللہ کی عام نعمت سے روکنا گناہ کا ارتکاب کرنا ہے اور یہ لڑ جھگڑ کر پانی حاصل کرنا اس کے حق میں تعزیر سزا کے قائم مقام ہوگا۔