اللہ تعالیٰ حقوق العباد معاف نہیں کرتا
وعن أبي قتادة قال : قال رجل : يا رسول الله أرأيت إن قتلت في سبيل الله صابرا محتسبا مقبلا غير مدبر يكفر الله عني خطاياي ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم . فلما أدبر ناداه فقال : نعم إلا الدين كذلك قال جبريل . رواه مسلم
اور حضرت ابوقتادہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! مجھے بتائیے اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں اس حال میں کہ میں صبر کرنیوالا اور ثواب کا خواہش مند ہوں (یعنی میں دکھانے سنانے کی غرض سے نہیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی خاطر اور ثواب کی طلب میں جہاد کروں) اور اس طرح جہاد کروں کہ میدان جنگ میں دشمن کو پیٹھ نہ دکھاؤں بلکہ ان کے سامنے سینہ سپر رہوں (یہاں تک کہ میں لڑتے لڑتے مارا جاؤں) تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو معاف کر دے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ ہاں! پھر جب وہ شخص اپنے سوال کا جواب پا کر واپس ہوا تو آپ ﷺ نے اسے آواز دی اور فرمایا کہ ہاں اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ یقینًا معاف کر دے گا مگر قرض کو معاف نہیں کرے گا مجھ سے جبرائیل نے یہی کہا ہے (مسلم)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حقوق العباد کا معاملہ بڑا سخت اور کٹھن ہے اللہ تعالیٰ اپنے حقوق یعنی عبادات و طاعات میں کوتاہی اور گناہ و معصیت کو معاف کردیتا ہے مگر بندوں کے حقوق یعنی قرض وغیرہ کو معاف نہیں کرتا نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آنحضرت ﷺ تک اللہ تعالیٰ کا صرف وہی پیغام نہیں پہنچاتے تھے جو قرآن کریم کی شکل میں ہمارے سامنے ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی دیگر ہدایات و احکام پہنچاتے رہتے تھے۔ ١٤) اور حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا شہید کے تمام (صغیرہ اور کبیرہ) گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں مگر دین یعنی حقوق کی معافی نہیں ہوتی (مسلم) تشریح دین سے مراد حقوق العباد ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص پر بندہ کا کوئی حق ہو یعنی خواہ اس کے ذمہ کسی کا مال ہو یا اس نے کسی کا ناحق خون کیا ہو یا کسی کی آبروریزی کی ہو یا کسی کو برا کہا ہو یا کسی کی غیبت کی ہو تو اگر وہ شخص شہید بھی ہوجائے تب بھی یہ چیزیں معاف نہیں کی جائیں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں کے حقوق کسی حال میں معاف نہیں کرتا۔ لیکن ابن مالک کہتے ہیں کہ بعض علماء کا یہ قول ہے کہ اس حدیث کا تعلق شہداء بر یعنی بری جنگ میں شہید ہونیوالوں سے ہے بحری جنگ میں شہید ہونیوالے اس سے مستثنی ہیں کیونکہ ابن ماجہ نے ابوامامہ کی یہ مرفوع روایت نقل کی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ بحری جنگ میں شہید ہونیوالوں کے تمام گناہ حتی کہ دین (یعنی حقوق العباد) بھی بخشے جاتے ہیں۔
قرض دار کی نماز جنازہ پڑھنے سے آنحضرت ﷺ کا اجتناب
وعن أبي هريرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يؤتي بالرجل المتوفى عليه الدين فيسأل : هل ترك لدينه قضاء ؟ فإن حدث أنه ترك وفاء صلى وإلا قال للمسلمين : صلوا على صاحبكم . فلما فتح الله عليه الفتوح قام فقال : أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم فمن توفي من المؤمنين فترك دينا فعلي قضاؤه ومن ترك فهو لورثته
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ کے سامنے کسی ایسے شخص کا جنازہ لایا جاتا جس پر قرض ہوتا تو آپ ﷺ پہلے پوچھتے کہ کیا یہ شخص اپنا قرض ادا کرنے کے لئے کچھ مال چھوڑ کر مرا ہے؟ اگر یہ بتایا جاتا کہ یہ شخص اتنا مال چھوڑ کر مرا ہے جس سے اس کا قرض ادا ہوسکتا ہے تو آپ ﷺ اس کی نماز جناہ پڑھ لیتے اور اگر یہ معلوم ہوتا کہ کچھ بھی چھوڑ کر نہیں مرا ہے تو پھر (آپ ﷺ اس کی نماز جنازہ خود نہ پڑھتے بلکہ) مسلمانوں سے فرماتے کہ تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو پھر جب اللہ تعالیٰ نے فتوحات کے دروازے کھول دئیے اور مشرکین و کفار سے جنگ کے بعد غنیمت کی صورت میں مال و زر میں وسعت و کشادگی نصیب ہوئی) تو آپ ﷺ ایک دن خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں دین ودنیا کے تمام امور میں مسلمانوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں لہذا جو مسلمان اس حالت میں مرے کہ اس پر قرض ہو ( اور اس نے اتنا مال نہ چھوڑا ہو جس سے اس کا قرض ادا ہو سکے) تو اس کے قرض کو ادا کرنے میں، میں ذمہ دار ہوں اور جو مسلمان مال چھوڑ کر مرے تو اس مال سے اس کا قرض ادا کرنے کے بعد جو کچھ بچے وہ اس کے وارثوں کا حق ہے (بخاری ومسلم)
تشریح
میں (دین ودنیا کے تمام امور میں) مسلمانوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں سے یہ بات ثابت ہوئی کہ مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز و محبوب رکھیں آپ ﷺ کے حکم اور آپ ﷺ کی خواہش کو اپنے نفس کے حکم اور اپنے نفس کی خواہش پر مقدم رکھیں آپ ﷺ کے حق کو اپنی جانوں کے حق سے مقدم جانیں اور ان کے قلوب اپنی جانوں کی شفقت و محبت سے زیادہ آنحضرت ﷺ کی شفقت و محبت سے لبریز ہوں اسی طرح آنحضرت ﷺ کی شان رحمت بھی یہی ہے کہ ایک مسلمان اپنی ذات پر جتنا شفیق و مہربان ہوسکتا ہے آنحضرت ﷺ اس کے حق میں اس سے کہیں زیادہ شفیق و مہربان ہیں ایک مسلمان کی جان اس کی عزت وآبرو اور اس کا دین آنحضرت ﷺ کو جتنا زیادہ عزیز و محبوب ہے اتنا خود اس کو نہیں ہے چناچہ مسلمانوں پر یہ مال و زبر کے دروازے کھول دیئے تو آپ ﷺ کو یہ ہرگز گوارا نہیں ہوا کہ اس مال و زر کو صرف اپنی ہی ذات تک محدود رکھیں بلکہ آپ ﷺ نے خود تو سختی و تنگدستی کی سابقہ حالت پر ہی قناعت کی اور سارا مال و زر مسلمانوں ہی کے لئے وقف کردیا۔ اسی لئے آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ اب جب کہ اللہ نے مال و زر کے خزانے میرے تصرف میں دے دئیے ہیں تو میں اس بات کا زیادہ حقدار ہوں کہ مسلمانوں کا مال وعزت و آبرو کا تحفظ کروں لہذا مسلمانوں کے قرض کی ادائیگی کے بقدر مال نہیں چھوڑ گیا ہے تو اس کا قرض میں ادا کروں گا۔ بعض حضرات تو یہ فرماتے تھے کہ آنحضرت ﷺ مردوں کے قرض کی ادائیگی بیت المال سے فرمایا کرتے تھے اور یہی بات زیادہ قرین قیاس ہے لیکن بعض علماء کا قول یہ ہے کہ آپ ﷺ ان کا قرض اپنے مال میں سے ادا کرتے تھے۔ اسی طرح بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ مردوں کی طرف سے قرض کی ادائیگی آنحضرت ﷺ پر واجب تھی اور بعض علماء کا قول یہ ہے کہ ان کا قرض ادا کرنا آپ ﷺ پر واجب نہیں تھا بلکہ آپ ﷺ تبرعًا یعنی ازراہ احسان و شفقت ان کے قرض کی ادائیگی کرتے تھے۔
عن أبي خلدة الزرقي قال : جئنا أبا هريرة في صاحب لنا قد أفلس فقال : هذا الذي قضى فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما رجل مات أو أفلس فصاحب المتاع أحق بمتاعه إذا وجده بعينه . رواه الشافعي وابن ماجه
حضرت ابی خلدہ زرقی کہتے ہیں ہم حضرت ابوہریرہ ؓ کے پاس اپنے ایک ساتھی کا معاملہ لے کر آئے جو مفلس ہوگیا تھا ( مگر اس کے پاس لوگوں کا وہ سامان موجود تھا جس کی قیمت اس نے ادا نہیں کی تھی) ہم نے حضرت ابوہریرہ ؓ پوچھا کہ اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ اس شخص کا معاملہ بالکل اس شخص جیسا ہے کہ جس کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا تھا کہ جو شخص مرجائے یا مفلس ہوجائے اور اس کے ذمے لوگوں کے مطالبات ہوں) تو جس شخص کا مال اس کے پاس ہے وہی شخص اس مال کا زیادہ حقدار ہے بشرطیکہ وہ مال جوں کا توں موجود ہو۔ اس کی وضاحت کے لئے اسی باب کی پہلی فصل میں حدیث نمبر ١ دیکھئے! (شافعی ابن ماجہ)
قرض دار کی روح قرض کی ادائیگی تک معلق رہتی ہے
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضى عنه . رواه الشافعي وأحمد والترمذي وابن ماجه والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث غريب
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مؤمن کی روح اپنے قرض کی وجہ سے اس وقت تک معلق رہتی ہے جب تک کہ اس کا قرض ادا نہ ہوجائے ( یعنی جب کوئی شخص قرضدار مرتا ہے تو اس کی روح اس وقت تک بندگان صالح کی جماعت میں داخل نہیں ہوتی جب تک کہ اس کا قرض ادا نہ ہوجائے ( شافعی احمد ترمذی ابن ماجہ دارمی)
تشریح
بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ جو قرض اپنی ادائیگی کے وقت تک مؤمن کی روح کو جنت اور بندگان صالح کی جماعت میں داخل ہونے سے روکتا ہے وہ قرض وہ ہے جو بلا ضرورت واقعی مال و زر کی صورت میں کسی سے لیا گیا ہو اور وہ مال و زر واہیات اور فضول کاموں میں خرچ کیا گیا ہو اور اسے اسراف کے طور پر لٹایا گیا ہو ہاں جس شخص نے اپنی واقعی ضرورت کے لئے مثلًا حقوق واجبہ کی تکمیل یا کسی کے مالی مطالبہ کی ادائیگی کے بقدر ضرورت روپیہ یا مال قرض لیا ہو اور پھر قرض دار اس کو ادا کرنے سے پہلے مرگیا ہو تو ایسا قرض اس کو جنت اور بندگان صالح کی جماعت میں داخل ہونے سے انشاء اللہ نہیں روکے گا مگر ایسے قرض کے بارے میں سلطان وقت یعنی حاکم (یا قرضدار کے متعلقین میں مستطیع لوگوں) کا یہ اخلاقی فریضہ ہے کہ اس کا قرض ادا کردیں اور اگر کوئی بھی اس کا قرض ادا نہیں کرے گا تو پر امید ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت میں قرض خواہوں کو راضی کر دے گا تاکہ وہ اس قرض دار سے آخرت میں کوئی مطالبہ نہ کریں۔
قرض دار کی روح قرض کی ادائیگی تک معلق رہتی ہے
وعن البراء بن عازب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صاحب الدين مأسور بدينه يشكو إلى ربه الوحدة يوم القيامة . رواه في شرح السنة
اور حضرت براء بن عازب کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قرض دار اپنے قرض کی وجہ سے محبوس کردیا جائے گا ( یعنی جنت میں داخل ہونے اور بندگان صالح کی صحبت میں پہنچنے سے روک دیا جائے گا) چناچہ وہ قیامت کے دن اپنے پروردگار سے اپنی تنہائی کی شکایت کرے گا (شرح السنۃ) منقول ہے کہ حضرت معاذ بن جبل قرض لیا کرتے تھے ایک مرتبہ ان کے قرض خواہ اپنے قرض کی وصولی کے سلسلے میں آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے معاذ کا سارا مال و اسباب ان کے قرض کی ادائیگی کے لئے بیچ ڈالا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاذ مفلس ہوگئے یہ حدیث مرسل ہے اور یہ الفاظ مصابیح کے نقل کردہ ہیں مشکوۃ کے مؤلف کہتے ہیں کہ) مجھے یہ روایت اصول یعنی صحاح ستہ وغیرہ میں نہیں ملی ہے البتہ یہ روایت منتقی میں ملی ہے اور وہ بھی اس طرح ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن مالک کہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل ایک سخی جوان تھا اور اپنی سخاوت کی وجہ سے کوئی مال و اسباب اپنے پاس نہیں رکھتے تھے ( کیونکہ ان کے پاس جو کچھ بھی ہوتا تھا وہ سب دوسروں کو دیدیا کرتے تھے) اسی وجہ سے وہ ہمیشہ قرض لیتے رہتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے اپنا مال و اسباب قرض کی نذر کردیا۔ پھر وہ ایک دن آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس بات کی خواہش کی کہ آپ ﷺ ان کے قرض خواہوں سے سفارش کردیں کہ وہ سارا قرض یا قرض کا کچھ حصہ معاف کردیں) چناچہ آپ ﷺ نے ان کے قرض خواہوں سے اس سلسلے میں گفتگو کی مگر انہوں نے کچھ بھی معاف نہیں کیا اور اگر وہ کسی کا قرض معاف کرسکتے تو آنحضرت ﷺ کی وجہ سے معاذ کا قرض ضرور معاف کردیتے ( لہذا جب انہوں نے معاف کرنے سے صاف انکار کردیا تو آنحضرت ﷺ نے ان قرض خواہوں کے مطالبات پورے کرنے کے لئے معاذ کا سارا مال و اسباب بیچ دیا یہاں تک کہ اس کی وجہ سے معاذ مفلس ہوگئے سعید نے اس روایت کو اپنی سنن میں بطریق ارسال نقل کیا ہے ( شرح السنۃ)
تشریح
اپنے پروردگار سے اپنی تنہائی کی شکایت کرے گا کا مطلب یہ ہے کہ جب اس شخص کو نہ تو جنت میں داخل ہونے کی اجازت ملے گی اور نہ نیک بخت لوگوں کی صحبت میں اسے جانے دیا جائے گا اور اس طرح جب وہ یہ دیکھے گا کہ تمام ہی نیک بخت لوگ تو جنت میں جا رہے ہیں اور میں ایسا بدبخت ہوں کہ ان کی رفاقت و صحبت کی سعادت سے بھی محروم ہوں نیز اسے کوئی ایسا سفارشی بھی نظر نہیں آئیگا جو اسے اس قید تنہائی سے نجات دلائے تو وہ اپنی تنہائی اور اس قید کی وحشت سے مضطرب ہو کر بارگاہ الٰہی میں شکوہ کرے گا چناچہ جب تک وہ قرض کی وجہ سے چھٹکارا نہ پا جائے گا بایں طور کہ یا تو وہ اس قرض کے عوض میں اپنی نیکیاں قرض خواہوں کو دے دے یا قرض خواہوں کے گناہوں کو ان کے قرض کے عوض اپنے اوپر لاد لے یا اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کے قرض خواہوں کو راضی کر دے اور وہ اپنا حق معاف کردیں اس وقت تک وہ اسی تنہائی میں رہے گا گویا یہ تنہائی بھی اس کے لئے ایک عذاب کے درجے کی چیز ہوگی جس سے وہ سخت رنج واذیت محسوس کریگا۔ ایک روایت میں یوں منقول ہے کہ قرض دار اپنے قرض کی وجہ سے اپنی قبر میں قید کیا جائے گا اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی قید تنہائی کا شکوہ کریگا۔ اصول ان کتابوں کو کہتے ہیں جن میں حدیثیں سند کے ساتھ نقل کی گئی ہیں منتقی ابن تیمی کی ایک کتاب کا نام ہے لہذا مشکوۃ کے مؤلف روایت کے الفاظ لم اجد الخ کے ذریعے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مصابیح کے مصنف نے یہ روایت وروی ان معاذا کان الخ جن الفاظ میں نقل کی ہے ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت مجھے اصول کی کتابوں میں نہیں ملی ہے بلکہ یہ روایت منتقی میں منقول ہے اور وہ بھی ان الفاظ میں وعن عبدالرحمن الخ۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ منتقی کے ہیں اور ان کو یہاں مؤلف مشکوۃ نے اس لئے نقل کیا ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ یہ حدیث اگرچہ اصول کی ان کتابوں میں نہیں ہے جنہیں مؤلف نے دیکھا ہے لیکن منتقی میں موجود ہے لہذا یہ روایت اگر اصول کی کتابوں میں نہ ہوتی تو صاحب منتقی اس کو اپنی کتاب میں نقل نہ کرتے
بلاعذر قرض ادا نہ کرنیوالا مستطیع شخص قابل ملامت ہے
وعن الشريد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لي الواجد يحل عرضه وعقوبته قال ابن المبارك : يحل عرضه : يغلظ له . وعقوبته : يحبس له . رواه أبو داود والنسائي
اور حضرت شرید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مستطیع شخص کا ادائیگی قرض میں تاخیر کرنا اس کی بےآبروئی اور اسے سزا دینے کو حلال کرنا ہے ابن مبارک فرماتے ہیں کہ ایسے شخص کی بےآبروئی کا حلال ہونا یہ ہے کہ اسے ملامت کی جائے اور اسے سزا دینا یہ ہے کہ اس کو قید کردیا جائے ( ابوداؤد نسائی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو شخص صاحب استطاعت اور مالدار ہونے کے باوجود بلاعذر اپنے قرض خواہ کا قرض ادا نہ کرے تو اس کی آبروریزی بھی مباح ہے اور اس کو سزا دینا بھی درست ہے کیونکہ اس کی طرف سے بلاعذر ادائیگی قرض میں ٹال مٹول اور تاخیر ایک طرح کا ظلم ہے۔ آبروریزی کا مطلب تو یہ ہے کہ اسے سرزنش کی جائے اور اسے برا بھلا کہا جائے اور اس کو سزا دینے کا مطلب یہ ہے کہ حاکم و عدالت سے چارہ جوئی کر کے اسے قید خانہ میں ڈلوا دیا جائے۔
قرض دار مرنے والے کی نماز جنازہ پڑھنے سے آنحضرت کا انکار
وعن أبي سعيد الخدري قال : أتي النبي صلى الله عليه و سلم بجنازة ليصلي عليها فقال : هل على صاحبكم دين ؟ قالوا : نعم قال : هل ترك له من وفاء ؟ قالوا : لا قال : صلوا على صاحبكم قال علي بن أبي طالب : علي دينه يا رسول الله فتقدم فصلى عليه . وفي رواية معناه وقال : فك الله رهانك من النار كما فككت رهان أخيك المسلم ليس من عبد مسلم يقضي عن أخيه دينه إلا فك الله رهانه يوم القيامة . رواه في شرح السنة
اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ ﷺ اس کی نماز پڑھیں آپ ﷺ نے جنازہ لانے والوں سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے اس ساتھی پر قرض بھی ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ ہاں، آپ ﷺ نے پھر پوچھا کہ کیا یہ شخص اپنے قرض کی ادائیگی کے بقدر مال چھوڑ گیا ہے جواب دیا گیا کہ نہیں آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر تم لوگ اس کی نماز جنازہ پڑھ لو میں نہیں پڑھوں گا حضرت علی نے یہ سن کر کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس کے قرض کی ادائیگی میں اپنے ذمہ لیتا ہوں اس کے بعد آنحضرت ﷺ آگے بڑھے اور اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ ایک روایت میں جو اسی مضمون کی منقول ہے (مگر اس کے الفاظ اس سے مختلف ہیں) یہ الفاظ بھی نقل کئے گئے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری جان کو دوزخ کی آگ سے اسی طرح نجات دے جس طرح تم نے اپنے ایک مسلمان بھائی کی جان کو قرض کے بوجھ سے نجات دی ( یاد رکھو) جو بھی مسلمان بندہ اپنے مسلمان بھائی کا قرض ادا کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جان کو نجات دے گا (شرح السنۃ)
قرض کے بوجھ سے ہلکا ہو کر مرنے والے کے لئے بشارت
وعن ثوبان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مات وهو بريء من الكبر والغلول والدين دخل الجنة . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي
اور حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اس حالت میں مرے کہ وہ تکبر خیانت اور قرض سے پاک ہو تو وہ مقبول بندوں کے ساتھ جنت میں داخل ہوگا (ترمذی ابن ماجہ دارمی)
بالکل مفلسی کی حالت میں قرض دارمرنا ایک بڑا گناہ ہے
وعن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن أعظم الذنوب عند الله أن يلقاه بها عبد بعد الكبائر التي نهى الله عنها أن يموت رجل وعليه دين لا يدع له قضاء . رواه أحمد وأبو داود
اور حضرت ابوموسی نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کبیرہ گناہ کہ جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے اللہ کے نزدیک ان کے بعد عظیم ترین گناہ کہ جس کا مرتکب ہو کر بندہ اللہ سے ملے یہ ہے کہ کوئی شخص اس حالت میں مرے کہ اس پر قرض کا بوجھ ہو اور اس نے اپنے پیچھے اتنا مال نہ چھوڑا ہو جس سے اس کا قرض ادا ہوجائے ( احمد ابوداؤد)
تشریح
بالکل مفلسی کی حالت میں قرض کا بوجھ لے کر مرنے کے گناہ کو گناہ کبیرہ کے بعد کا درجہ اس لئے دیا گیا ہے کہ گناہ کبیرہ تو بذات خود ممنوع ہے لیکن قرض لینا بذات خود ممنوع نہیں ہے کہ وہ گناہ کبیرہ ہو بلکہ بعض احادیث میں تو (اپنی واقعی ضروریات کی تکمیل کے لئے) قرض لینے کو مستحب کہا گیا ہے چناچہ بعض مواقع پر قرض کی جو ممانعت منقول ہے وہ اس عارض کی بناء پر ہے کہ بسا اوقات قرض لینے میں لوگوں کے حقوق ضائع ہوتے ہیں یعنی قرض لینے والا جب قرض کی ادائیگی نہیں کرتا تو قرض خواہ کا مال بلاوجہ ضائع ہوجاتا ہے اس صورت میں قرض لینا گناہ بن جاتا ہے۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ حدیث میں منقول گناہ کبیرہ کی اگر یہ وضاحت کردی جائے کہ ایسے گناہ کبیرہ جو مشہور ہیں جیسے شرک اور زنا وغیر ہما تو مطلب یہ ہوگا کہ باکل مفلسی کی حالت میں قرض دار مرنے کے گناہ کا درجہ مشہور کبیرہ گناہ جیسے شرک وغیرہ کے بعد ہے اس صورت میں یہ بھی مشہور کبیرہ گناہوں کے علاوہ دوسرے کبیرہ گناہوں کے زمرہ میں آجائے گا
حرام چیزوں میں صلح ناجائز ہے
وعن عمرو بن عوف المزني عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحا حرم حلالا أو أحل حراما والمسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما . رواه الترمذي وابن ماجه وأبو داود وانتهت روايته عند قوله شروطهم
اور حضرت عمر بن عوف مزنی نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے ہاں وہ صلح جائز نہیں ہے جو حلال چیز کو حرام یا حرام چیز کو حلال کر دے اور مسلمان اپنی شرطوں پر ہیں ( یعنی مسلمان صلح وجنگ یا ان کے علاوہ دوسرے معاملات میں آپس میں جو شرطیں یعنی عہد و پیمان کرتے ہیں ان کی پاسداری و پابندی ضروری ہے) ہاں اس شرط کی پابندی جائز نہیں ہے جو حلال کو حرام یا حرام کو حلال کر دے (ترمذی ابن ماجہ)
تشریح
ناجائز صلح کی مثال یہ ہے کہ مثلًا کوئی شخص اس بات پر صلح کرے کہ میں بیوی کی سوکن سے جماع نہیں کروں گا یہ صلح درست نہیں ہے کیونکہ اس میں ایک ایسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلینا لازم آتا ہے جو بالکل جائز اور حلال ہے اسی طرح وہ صلح بھی جائز نہیں ہے جو حرام چیز کو حلال کر دے مثلًا کوئی اس بات پر صلح کرے کہ میں شراب پیوں گا یا سور کھاؤں گا اس میں ایک چیز کو اپنے لئے حلال سمجھ لینا ہے جو قطعًا حرام ہے۔ جس طرح کی پاسداری و پابندی جائز نہیں ہے اس کی مثال یہ ہے کہ مثلًا کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ شرط وعہد کرلے کہ میں اپنی لونڈی سے جماع نہیں کروں گا اس میں ایک ایسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلینے کی شرط ہے جو حلال ہے یا مثلًا کوئی اس بات کی شرط کرے کہ میں اپنی بیوی کی موجودگی میں اس کی بہن سے شادی کرلوں گا اس شرط وعہد کی پاسداری بھی درست نہیں ہے کیونکہ اس میں ایک ایسی چیز کو اپنے لئے حلال قرار دے لینا لازم آتا ہے جو قطعًا حرام ہے۔ بظاہر یہ حدیث اس باب سے کوئی تعلق نہیں رکھتی لیکن چونکہ مؤلف کتاب نے اس حدیث کو یہاں نقل کیا ہے اس لئے کہا جائے گا کہ خریدو فروخت کے معاملات میں مفلس ودیوالیہ ہوجانے کے وقت اکثر صلح و شرائط کی نوبت آتی ہے اس لئے اس مناسبت سے اس حدیث کو یہاں نقل کیا ہے
عن سويد بن قيس قال : جلبت أنا ومخرفة العبدي بزا من هجر فأتينا به مكة فجاءنا رسول الله صلى الله عليه و سلم يمشي فساومنا بسراويل فبعناه وثم رجل يزن بالأجر فقال له رسول الله : زن وأرجح . رواه أحمد وأبو داود والترمذي وابن ماجه والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث حسن صحيح
حضرت سوید بن قیس کہتے ہیں کہ میں اور مخرفہ عبدی نے مقام ہجر سے ( جو مدینہ کے قریب واقع ہے) بیچنے کے لئے کپڑا لیا اور اسے لے کر مکہ میں آئے رسول اللہ ﷺ (کو جب یہ معلوم ہوا کہ ہم بیچنے کے لئے کپڑا لے کر مکہ آئے ہیں تو آپ ﷺ بہ نفس نفیس چل کر (بغیر سواری کے) ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے ایک پائجامہ خریدا چناچہ جب ہم نے وہ پائجامہ آپ ﷺ کو بیچا تو آپ ﷺ نے اس شخص سے کہ جو اس جگہ اجرت پر لوگوں کے اسباب تولا کرتا تھا فرمایا کہ تم میرے چاندی کے یہ ٹکڑے) تول دو تاکہ میں یہ ٹکڑے اس پائجامہ کی قیمت کے طور پر دیدوں) اور جتنے ٹکڑوں کی بات طے ہوئی ہے اس سے کچھ زیادہ ہی تول دینا) احمد ابوداؤد)
تشریح
ابولیلی نے اپنی سند میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے وہ پائجامہ چار درہم کے عوض خرید فرمایا تھا احادیث سے صرف آپ ﷺ کا پائجامہ خریدنا ثابت ہوتا ہے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ نے وہ پائجامہ پہنا بھی تھا۔ اس حدیث میں جہاں آنحضرت ﷺ کی تواضع و انکساری کا بیان ہے کہ آپ ﷺ پائجامہ خریدنے کے لئے بہ نفس نفیس تشریف لے گئے تھے وہیں اس حدیث سے آپ ﷺ کے کمال اخلاق و کرم فرمائی کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے پائجامہ بیچنے والے کو طے شدہ قیمت سے زائد مال عنایت فرمایا۔ یہ حدیث بھی بظاہر اس باب کے موضوع سے متعلق نہیں ہے الاّ یہ کہ یہ کہا جائے کہ بعض وقت بیچنے والے کے افلاس اور اس کی خستہ حالت کی وجہ سے اس کو ازراہ احسان و بھلائی متعینہ قیمت سے کچھ زائد بھی دیدیا جائے اس مناسبت سے یہ حدیث یہاں نقل کی گئی ہے۔
قرض کی واپسی میں غیر مشرو ط زیادتی جائز ہے
وعن جابر قال : كان لي على النبي صلى الله عليه و سلم دين فقضاني وزادني . رواه أبو داود
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ پر میرا کچھ قرض تھا چناچہ جب آپ ﷺ نے وہ قرض واپس کیا تو مجھے کچھ زیادہ دیا (ابوداؤد)
تشریح
ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی کا کوئی مطالبہ (مثلا قرض وغیرہ) ادا کرے اور اپنی طرف سے کچھ زیادہ بھی دیدے بشرطیکہ وہ زیادتی سرے سے مشروط نہ ہو تو یہ درست ہے۔ اس زیادتی کو سود نہیں کہیں گے۔ کیونکہ سود تو اس زیادتی کو کہتے ہیں کہ جو قرض خواہ قرض دیتے وقت مشروط کر دے مثلا ایک سو روپیہ ایک متعین مدت کے وعدے سے بطور قرض کسی کو دے اور یہ شرط عائد کر دے کہ اس قرض کی واپس کے وقت دس روپیہ مزید لوں گا یہ قطعًا حرام ہے۔
ادائیگی قرض کا جلد انتظام کرو
وعن عبد الله بن أبي ربيعة قال : استقرض مني النبي صلى الله عليه و سلم أربعين ألفا فجاءه مال فدفعه إلي وقال : بارك الله تعالى في أهلك ومالك إنما جزاء السلف الحمد والأداء . رواه النسائي
اور حضرت عبداللہ بن ابی ربیعہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ سے ایک موقع پر چالیس ہزار (درہم) قرض لئے تھے پھر جب آپ ﷺ کے پاس ایک بڑی مقدار میں مال آیا تو آپ ﷺ نے مجھے (وہ سب مال یا اس مال میں سے میرے قرض کے بقدر) دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اہل و عیال اور تمہارے اموال میں برکت عطاء فرمائے قرض کا بدلہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ (جب قرض مل جائے تو) شکر وثنا کی جائے اور جلد سے جلد اس کی ادائیگی کا انتظام کیا جائے ( نسائی)
وعن عمران بن حصين قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان له على رجل حق فمن أخره كان له بكل يوم صدقة . رواه أحمد
اور حضرت عمران بن حصین کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کا کسی پر کوئی حق (یعنی قرضہ وغیرہ) ہو اور وہ اس کو وصول کرنے میں تاخیر کرے یعنی قرض دار کو مہلت دے تو اسے دی ہوئی مہلت کے ہر دن کے بدلے صدقہ کا ثواب ملے گا (احمد)
وعن سعد بن الأطول قال : مات أخي وترك ثلاثمائة دينار وترك ولدا صغارا فأردت أن أنفق عليهم فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أخلك محبوس بدينه فاقض عنه . قال : فذهبت فقضيت عنه ولم تبق إلا امرأة تدعي دينارين وليست لها بينة قال : أعطها فإنها صدقة . رواه أحمد
اور حضرت سعد بن اطول کہتے ہیں کہ جب میرا بھائی مرا تو اس نے تین سو دینار اور چھوٹے چھوٹے لڑکے چھوڑے تھے چناچہ میں نے چاہا کہ ان تین سو دیناروں کو اس کے چھوٹے بچوں پر خرچ کر دوں اور اس کا قرض ادا نہ کروں لیکن رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تمہارا بھائی اپنے قرض کی وجہ سے عالم برزخ میں محبوس کردیا گیا ہے جس کے سبب وہ وہاں کی نعمتوں اور صلحاء کی صحبت سے محروم ہے لہذا تم اس کا قرض ادا کردو حضرت سعد کہتے ہیں کہ یہ سنتے ہی میں گھر آیا اور اپنے بھائی کا قرض ادا کیا پھر میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں نے اپنے بھائی کا قرض ادا کردیا ہے اب کسی کا کوئی مطالبہ باقی نہیں ہے ہاں ایک عورت باقی رہ گئی ہے جو دو دینار کا دعوی کر رہی ہے لیکن اس کا گواہ نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس کو بھی دو دینار دے دو وہ سچی عورت ہے ( احمد)
تشریح
یا تو آپ ﷺ کو سعد کے بھائی کے قرض کا حال بغیر وحی کے کسی اور ذریعے سے معلوم ہوا ہوگا اس لئے آپ ﷺ نے سعد کو اس کا قرض ادا کرنے کا حکم دیا کیونکہ حاکم کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنی معلومات پر اعتماد کرتے ہوئے حکم جاری کر دے یا پھر آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے اس کے قرض کا حال معلوم ہوا ہوگا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دین میراث پر مقدم ہے یعنی مرنیوالے کے مال و زر میں سے پہلے لوگوں کے وہ مطالبات ادا کئے جائیں جو اپنے ذمہ چھوڑ گیا ہو اس کے بعد جو کچھ بچے وہ وارثوں میں تقسم کیا جائے۔
بار بار کی شہادت بھی قرض کا کفارہ نہیں ہوسکتی
وعن محمد بن عبد الله بن جحش قال : كنا جلوسا بفناء المسجد حيث يوضع الجنائز ورسول الله جالس بين ظهرينا فرفع رسول الله صلى الله عليه و سلم بصره قبل السماء فنظر ثم طأطأ بصره ووضع يده على جبهته قال : سبحان الله سبحان الله ما نزل من التشديد ؟ قال : فسكتنا يومنا وليلتنا فلم نر إلا خيرا حتى أصبحنا قال محمد : فسألت رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما التشديد الذي نزل ؟ قال : في الدين والذي نفس محمد بيده لو أن رجلا قتل في سبيل الله ثم عاش ثم قتل في سبيل الله ثم عاش ثم قتل في سبيل الله ثم عاش وعليه دين ما دخل الجنة حتى يقضى دينه . رواه أحمد وفي شرح السنة نحوه
اور حضرت محمد بن عبداللہ بن جحش کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ مسجد نبوی ﷺ کے قریب اس صحن میں بیٹھے ہوئے تھے جہاں جنازے لا کر رکھے جاتے تھے ہمارے درمیان رسول کریم ﷺ تشریف فرما تھے اچانک آپ ﷺ نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی اور ادھر دیکھا پھر اپنی نظر جھکالی اور اپنا ہاتھ پیشانی پر رکھ کر انتہائی تعجب کے عالم میں فرمایا کہ سبحان اللہ سبحان اللہ کس قدر سختی نازل ہوئی ہے راوی کہتے ہیں کہ ہم خاموش رہے یعنی ہم نے آپ ﷺ سے کوئی سوال نہیں کیا) یہاں تک کہ وہ پورا دن گزرا پوری رات گزری اور ہمیں اچھائی کے علاوہ کوئی سخت بات نظر نہیں آئی یعنی صحابہ آپ ﷺ کے اس ارشاد سے یہ سمجھے کہ شاید اسی وقت کوئی عذاب نازل ہونیوالا ہے یا کوئی سخت مصیبت آنیوالی ہے مگر وہ پورا دن گزر گیا پوری رات گزر گئی نہ کوئی عذاب نازل ہونیوالا ہے یا کوئی سخت مصیبت مگر وہ پورا دن گزر گیا پوری رات گزر گئی نہ کوئی عذاب نازل ہوا اور نہ کوئی مصیبت پیش آئی تاآنکہ صبح ہوگئی حدیث کے راوی محمد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ وہ کیا سختی ہے جو نازل ہوئی ہے اور جس کا اظہار آپ ﷺ نے اتنے تعجب کے ساتھ کل فرمایا تھا آپ ﷺ نے فرمایا دین یعنی قرض وغیرہ کے بارے میں وہ سختی نازل ہوئی ہے قسم ہے اس پاک ذات کی جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں یعنی جہاد کرتے ہوئے مارا جائے اور پھر زندہ ہو پھر اللہ کی راہ میں مارا جائے اور پھر زندہ ہو پھر اللہ کی راہ میں مارا جائے اور پھر زندہ ہو اور اس پر قرض ہو تو وہ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوگا جب تک کہ اس کا قرض ادا نہ کردیا جائے یعنی اگر کوئی قرض دار بار بار بھی اللہ کی راہ میں مارا جائے تو یہ بار بار کی شہادت بھی اس کے قرض کا کفارہ نہیں ہوسکتی) اس روایت کو امام احمد نے نقل کیا ہے نیز شرح السنہ میں بھی اسی طرح کی حدیث منقول ہے ( جس کا مضمون تو یہی ہے مگر الفاظ دوسرے ہیں)
تشریح
اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ جنازہ کی نماز مسجد میں نہیں پڑھتے تھے بلکہ مسجد سے باہر دوسری جگہ پڑھتے تھے۔
لغت میں شرکت کے معنی ہیں ملانا لیکن اصطلاح شریعت میں شرکت کہتے ہیں دو آدمیوں کے درمیان ایک ایسا مثلًا تجارتی عقد و معاملہ ہونا جس میں وہ اصل اور نفع دونوں میں شریک ہوں۔ شرکت کی دو قسمیں ہیں شرکت ملک اور شرکت عقد شرکیت ملک اسے کہتے ہیں کہ دو آدمی یا کئی آدمی بذریعہ خرید یا ہبہ یا میراث کسی ایک چیز کے مالک ہوں یا دو شخص مشترک طور پر کسی مباح چیز کو حاصل کریں مثلًا دو آدمی مل کر شکار کریں اور وہ شکار دونوں کی مشترک ملکیت ہو یا دو آدمیوں کا ایک ہی جنس کا الگ الگ مال ایک دوسرے میں اس طرح مل جائے کہ ان دونوں کے مال کا امتیاز نہ ہو سکے۔ مثلا زید کا دودھ بکر کے دودھ میں مل جائے یا وہ دونوں اپنے اپنے مال کو قصدًا ایک دوسرے کے مال میں ملا دیں یہ سب شریک ملک کی صورتیں ہیں۔ اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ ہر شریک اپنے دوسرے شریک کے حصے میں اجنبی آدمی کی طرح ہے اور ہر شریک اپنا حصہ اپنے دوسرے شریک کی اجازت کے بغیر اس شریک کو یا کسی دوسرے شخص یعنی غیر شریک کو فروخت کرسکتا ہے البتہ آخری دونوں صورتوں میں (یعنی ایک دوسرے کے مال کے آپس میں مل جانے یا اپنے اپنے مال کو ایک دوسرے کے مال میں قصدًا ملا دینے کی صورت میں کوئی بھی شریک اپنا حصہ کسی دوسرے شخص یعنی غیرشریک کو اپنے دوسری شریک کی اجازت کے بغیر نہیں بیچ سکتا۔ شرکت عقد کا مطلب ہے شرکاء کا ایجاب و قبول کے ذریعے اپنے اپنے حقوق و اموال کو متحد کردینا اس کی صورت یہ ہے کہ مثلا ایک دوسرے سے یہ کہے کہ میں نے اپنے فلاں حقوق اور فلاں معاملات یعنی تجارت وغیرہ میں تمہیں شریک کیا اور دوسرا کہے کہ میں نے قبول کیا اس طرح شرکت عقد کا رکن تو ایجاب و قبول ہے اور اس کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ معاہدہ شرکت میں ایس کوئی دفعہ مطلقًا شامل نہ ہو جو شرکت کے بنیادی اصولوں کو فوت کر دے جیسے شرکاء میں سے کسی ایک کا فائدے میں سے کچھ حصے کو اپنے لئے متعین و مخصوص کرلینا مثلا کسی تجارت میں دو آدمی شریک ہوں اور ان میں سے کوئی ایک شریک یہ شرط عائد کر دے کہ اس تجارت سے حاصل ہونیوالے فائدے میں سے پانچ سو روپے ماہوار لیا کروں گا۔ یہ شرک مشترک ومتحد معاملات کے بالکل منافی ہے جو شرکت کے بنیادی اصول و مقاصد ہی کو فوت کردیتی ہے اس لئے معاہد شرکت میں ایس کسی دفعہ کا شامل نہ ہونا شرکت کے صحیح ہونے کے لئے شرط ہے۔ پھر شرکت عقد کی چار قسمیں ہیں (١) شرکت مفاوضہ (٢) شرکت عنان (٣) شرکت صنائع والتقبل (٤) اور شرکت وجوہ شرکت مفاوضہ تو یہ ہے کہ دو شخص یہ شرط کریں یعنی آپس میں ٹھہرا لیں کہ مال میں تصرف میں مفاوضہ میں دونوں شریک رہیں گے لیکن اس شرکت کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ دونوں دین و مذہب میں بھی یکساں اور برابر ہوں یہ شرکت ایک دوسرے کی وکالت اور کفالت کو لازم کردیتی ہے یعنی شرکت مفاوضہ میں شرکاء ایک دوسرے کے وکیل اور کفیل ہوتے ہیں لہذا یہ شرکت مسلمان اور ذمی کے درمیان جائز نہیں ہوتی کیونکہ دین و مذہب کے اعتبار سے دونوں مساوی اور یکساں نہیں ہیں اسی طرح غلام اور آزاد کے درمیان اور بالغ و نابالغ کے درمیان بھی یہ شرکت جائز نہیں کیونکہ یہ تصرف میں مساوی و یکساں نہیں ہیں۔ اس شرکت کے معاہدہ و شرائط میں لفظ مفاوضت یا اس کے تمام مقتضیات کو بیان و واضح کردینا ضروری ہے اس شرکت میں عقد و معاہدہ کے وقت شرکاء کا اپنا اپنا مال دینا یا اپنے اپنے مال کو ملانا شرط نہیں ہے۔ اس شرکت میں شرکاء چونکہ ایک دوسرے کے کفیل ووکیل ہوتے ہیں اس لئے اگر اس میں کوئی بھی اپنے بال بچوں کے کھانے اور کپڑے کے علاوہ جو کچھ خریدے گا وہ تمام شرکاء کی ملکیت ہوگا۔ حضرت امام محمد کے نزدیک شرکت مفاوضت اور عنان صرف ایسے سرمایہ اور مال میں صحیح ہوسکتی ہے جو روپے اشرفی اور رائج الوقت سکوں کی شکل میں ہو ہاں سونے اور چاندی کے ڈلوں اور ٹکڑوں میں بھی جائز ہے بشرطیکہ ان کے ذریعے لین دین ہوتا ہو اور اگر شرکاء میں سے کوئی ایک وارث یا کسی اور ذریعے سے کسی ایسے مال کا مالک ہوا جس میں مفاوضت درست ہوسکتی ہے جیسے روپے اور اشرفی وغیرہ تو شرکت مفاوضت باطل ہو کر شرکت عنان ہوجائے گی اور اگر شرکاء میں سے کوئی ایک کسی ایسے مال کا وارث ہوگیا جس میں شرکت مفاوضت نہیں ہوسکتی جیسے اسباب مکان اور زمین وغیرہ تو شرکت مفاوضت باقی رہے گی۔ شرکت عنان یہ ہے کہ دو آدمی ایک خاص طور کے معاملے مثلا تجارت میں شریک ہوں اور وہ دونوں مذکورہ بالا چیزوں یعنی تصرف اور دین و مذہب وغیرہ میں یکساں و برابر ہوں یا یکساں و برابر نہ ہوں یہ شرکت ایک دوسرے کی وکالت کو تو لازم کرتی ہے مگر کفالت کو لازم نہیں کرتی۔ ہاں شرکاء ایک دوسرے کے وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ کفیل وامین بھی ہوتے ہیں مگر اسی کام میں جس میں وہ شریک ہوں۔ شرکت صنائع والتقبل یہ ہے کہ دو پیشہ ور مثلا دو درزی یا دو رنگریز اس شرط پر شرکت میں کام کریں کہ دونوں شریک کام لیں گے اور دونوں اس کام کو مل جل کر کریں گے اور پھر جو اجرت حاصل ہوگی اسے دونوں تقسیم کریں گے۔ اگر ان کے معاہدہ شرکت میں یہ شرط ہو کہ کام تو دونوں ادھوں آدھ کریں گے مگر نفع میں سے ایک تو دو تہائی لے گا اور دوسرا ایک تہائی تو یہ شرط جائز ہے۔ دونوں شرکاء میں سے جو بھی کسی کا کام لے گا اس کو کرنا دونوں کے لئے ضروری ہوگا یہ نہیں کہ جس شریک نے کام لیا ہو وہی اسے کرے بھی اسی طرح ان کے یہاں کام کرانے والا دونوں شرکاء میں سے کسی سے بھی اپنا کام طلب کرسکتا ہے ایسے ہی دونوں شرکاء میں سے ہر ایک کو مساوی طور پر یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی کام کی اجرت حاصل کرلے اور ان میں سے کسی ایک کو اجرت دینے والا بری الذمہ ہوجائیگا۔ کام کے منافع اور کمائی میں دونوں شریک حصہ دار ہوں گے خواہ کام دونوں کریں یا صرف ایک کرے۔ شرکت وجوہ یہ ہے کہ ایسے دو آدمی جن کے پاس اپنا کوئی سرمایہ اور مال نہ ہو اس شرط پر مشترک کاروبار کریں کہ دونوں اپنی اپنی حیثیت اور اپنے اپنے اعتبار پر قرض سامان لا کر فروخت کریں گے اور اس کا نفع آپس میں تقسیم کریں گے۔ اگر ان دونوں کی شرکت میں مفاوضت کی شرط ہوگی تو وہ صحیح ہوجائے گی اور اگر وہ شرکت کو بلا شرط مفاوضت یعنی مطلق رکھیں گے تو ان کی یہ شرکت بطور عنان ہوگی یہ شرکت تجارت کے لئے خریدے گئے مال میں وکالت کو لازم کرتی ہے یعنی وہ اپنے یہاں فروخت کرنے کے لئے جو مال خرید کر لائیں گے اس میں وہ ایک دوسرے کے وکیل ہوں گے لہذا اگر دونوں میں یہ شرط طے پائی ہو کہ تجارت کے لئے جو مال خریدا جائے گا وہ دونوں کا آدھوں آدھ ہوگا تو اس کے نفع میں بھی دونوں آدھوں آدھ کے حقدار ہوں گے اور اگر یہ شرط طے پائے کہ جو مال خرید کر لایا جائے گا اس میں سے ایک تو نفع میں دو حصے لے لے اور دوسرا ایک حصہ لے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نفع کا استحقاق ضمان یعنی ذمہ داری کی وجہ سے ہوتا ہے اور ضمان اس خریدی ہوئی چیز کی ملک کے تابع ہے مثلا اگر ان میں سے کوئی مال کے نصف حصہ کا مالک بنا ہے تو اسے نصف قیمت ادا کرنی ہوگی اور جو دو حصوں کا مالک بنا ہے اسے دو حصوں کی قیمت ادا کرنی ہوگی اس لئے نفع بھی ملکیت کے مطابق ہی قرار پائیگا جو جتنے حصہ کا مالک بنے گا اسے اتنا ہی نفع ملے گا اور اس چیز میں شرکت جائز نہیں ہے جس میں وکالت صحیح نہ ہوتی ہو جیسے لکڑی کاٹنا گھاس کھودنا، شکار کرنا اور پانی لانا دونوں میں سے جو شخص پانی لائے گا وہی اس کا مالک ہوگا اگر دوسرا اس میں اس کی مدد کرے گا تو وہ رائج اجرتوں کے مطابق اپنی اجرت پانے کا مستحق ہوگا۔ وکالت کے معنی ہیں اپنے حقوق ومال کے تصرف یعنی لینے دینے میں کسی دوسرے کو اپنا قائم مقام بنانا وکالت کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ مؤ کل یعنی کسی دوسرے کو اپنا وکیل بنانیوالا) تصرف یعنی لین دین کا مالک ہو اور جس شخص کو وکیل بنایا جا رہا ہو وہ اس معاملہ کو جانتا ہو جس میں وہ وکیل بنایا گیا ہے۔ اور جو معاملہ آدمی کو خود کرنا جائز ہے اس میں دوسرے کو وکیل کرنا بھی جائز اور جو معاملہ آدمی کو خود کرنا جائز نہیں ہے اس میں وکیل کرنا بھی جائز نہیں ہے مثلا کوئی شخص شراب یا سور وغیرہ حرام چیزوں کی خریدو فروخت کے لئے کسی کو وکیل کر دے تو یہ درست نہیں ہوگا تمام حقوق کو ادا کرنے اور ان کے حاصل کرنے میں وکیل کرنا جائز ہے اسی طرح حقوق پر قبضہ کرنے کے لئے بھی وکیل کرنا جائز ہے مگر حدود اور قصاص میں جائز نہیں ہے کیونکہ ان کی انجام دہی پر باوجود مؤ کل کے اس جگہ موجود نہ ہونے کے لئے وکالت درست نہیں ہوتی۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ حقوق کی جواب دہی کے لئے وکیل کرنا فریق ثانی کی رضا مندی کے بغیر جائز نہیں ہے ہاں اگر مؤ کل بیمار ہو یا تین منزل کی مسافت یا اس سے زائد کی دوری پر ہو تو جائز ہے لیکن صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کہتے ہیں کہ فریق ثانی کی رضا مندی کے بغیر بھی حقوق کی جاب دہی کے لئے وکیل کرنا جائز ہے شرکت اور وکالت کے بارے میں یہ چند اصول و مسائل فقہ کی کتابوں سے تلخیص کر کے لکھ دئیے ہیں مزید تفصیل کے لئے اہل علم فقہ کی کتابوں کی طرف رجوع کریں۔
عن زهرة بن معبد : أنه كان يخرج به جده عبد الله بن هشام إلى السوق فيشتري الطعام فيلقاه ابن عمر وابن الزبير فيقولان له : أشركنا فإن النبي صلى الله عليه و سلم قد دعا لك بالبركة فيشركهم فربما أصاب الراحلة كما هي فيبعث بها إلى المنزل وكان عبد الله بن هشام ذهبت به أمه إلى النبي صلى الله عليه و سلم فمسح رأسه ودعا له بالبركة . رواه البخاري
حضرت زہرہ ابن معبد (تابعی) کے بارے میں منقول ہے کہ ان کو ان کے دادا حضرت عبداللہ بن ہشام بازار لے جایا کرتے تھے جہاں وہ غلہ خریدا کرتے تھے چناچہ ( جب وہ غلہ خرید لیتے تو) وہاں ان کو حضرت ابن عمر اور حضرت ابن زبیر ملتے اور وہ دونوں ان سے کہتے کہ ہم کو اپنا شریک بنا لو کیونکہ نبی کریم ﷺ نے تمہارے لئے برکت کی دعا کی ہے (حضرت زہرہ کہتے ہیں کہ میرے دادا ان کو شریک کرلیا کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ کی دعا کی برکت سے ان کو بلا کسی نقصان و خسارہ کے ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر غلہ کا فائدہ ہوتا تھا جسے وہ اپنے گھر بھیج دیا کرتے تھے۔ اور ان کے حق میں آنحضرت ﷺ کے دعا کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن ہشام کی والدہ انہیں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے گئیں تو آپ ﷺ نے ان کے سر پر اپنا دست مبارک پھیرا اور ان کے لئے برکت کی دعا کی (بخاری)
انصار کے مال میں مہاجرین کی شرکت
وعن أبي هريرة قال : قالت الأنصار للنبي صلى الله عليه و سلم : اقسم بيننا وبين إخواننا النخيل قال : لا تكفوننا المؤونة ونشرككم في الثمرة . قالوا : سمعنا وأطعنا . رواه البخاري
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب مکہ سے مہاجرین مدینہ آئے تو انصار یعنی مدینہ کے لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے درخواست کی کہ ہمارے کھجوروں کے درختوں کو ہمارے اور مہاجرین کے درمیان تقسیم فرما دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں درختوں کو تقسیم نہیں کروں گا تم ہی لوگ ہماری یعنی مہاجرین کی طرف سے بھی محنت کرلیا کرو ہم پیداوار میں تمہارے شریک رہیں گے۔ انصار نے کہا کہ ہم آپ ﷺ کی اس بات کو بسروچشم قبول کرتے ہیں (بخاری)
تشریح
جب مکہ کے مسلمانوں پر ان کے وطن کی زمین تنگ کردی گئی اور اللہ اور اللہ کے رسول کے حکم پر وہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آگئے تو چونکہ انہوں نے اپنا سارا سامان و اسباب اور مال ومتاع مکہ ہی میں چھوڑ دیا تھا اس لئے یہاں مدینہ میں ان کی معاشی زندگی کا تکفل مدینہ کے مسلمانوں نے کہ جنہیں انصار کہا جاتا ہے اپنے ذمہ لیا اس کی شکل یہ کی گئی کہ نبی کریم ﷺ نے انصار مدینہ اور مہاجرین مکہ کے درمین بھائی چارہ کرایا چناچہ انصار مدینہ نے اپنے تمام مال و اسباب میں مہاجرین کو برابر شریک بنا لیا۔ اسی موقع پر انصار نے آپ سے درخواست کی کہ ہمارے کھجوروں کے درختوں کو بھی ہمارے اور ہمارے مہاجربھائیوں کے درمیان تقسیم فرما دیجئے تاکہ ہم اپنے اپنے حصہ کے درختوں میں محنت مشقت کریں اور ان سے پھل پیدا کریں آپ نے ان سے فرمایا کہ میں درختوں کی تقسیم نہیں کروں گا بلکہ تمہیں لوگ ان درختوں کی دیکھ بھال کرو اور ان میں پانی وغیرہ دینے کی محنت ومشقت خود گوارہ کرلو کیونکہ تمہارے ان بیچارے مہاجرین بھائیوں سے یہ محنت ومشقت برداشت نہیں ہوگی۔ پھر جب پھل تیار ہوجائے گا تو میں تمہارے اور مہاجرین کے درمیان تقسیم کر دوں گا۔ آپ ﷺ کے اس فیصلہ کو انصار نے رضاء ورغبت اور بسروچشم قبول کرلیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کرنا، ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور ان کی طرف سے محنت ومشقت کرنا مستحب ہے نیز یہ حدیث بھی شرکت کے صحیح ہو نیکی دلیل ہے۔
معاملات میں وکیل بنانا جائز ہے
وعن عروة بن أبي الجعد البارقي : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أعطاه دينارا ليشتري به شاة فاشترى له شاتين فباع إحداهما بدينار وأتاه بشاة ودينار فدعا له رسول الله صلى الله عليه و سلم في بيعة بالبركة فكان لو اشترى ترابا لربح فيه . رواه البخاري
اور حضرت عروہ بن الجعد بارقی کے بارے میں منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے انہیں ایک دینار دیا تاکہ وہ آپ ﷺ کے لئے ایک بکری خرید لائیں چناچہ انہوں نے ایک دینار میں دو بکریاں خرید لیں اور پھر ان میں سے ایک بکری کو ایک دینار کے عوض کسی کے ہاتھ بیچ دیا اس طرح انہوں نے آنحضرت ﷺ کو ایک بکری دی اور ایک دینار بھی دیا۔ رسول کریم ﷺ نے ان کی اس ذہانت سو خوش ہو کر ان کے خریدو فروخت کے معاملات میں برکت کی دعا فرمائی۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ اگر وہ مٹی خرید لیتے تو اس میں بھی انہیں فائدہ ہوتا (بخاری)
تشریح
ابن ملک کہتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تجارتی معاملات میں وکالت جائز ہے اسی طرح ان تمام چیزوں میں بھی کسی کو اپنا وکیل بنانا درست ہے جن میں نیابت اور قائم مقامی چلتی ہو۔ اگر کوئی شخص کسی کا مال اس کی اجازت کے بغیر بیچے تو بیع منعقد ہوجاتی ہے لیکن اس کا صحیح ہونا مال کے مالک کی اجازت پر موقوف رہتا ہے اگر مال کا مالک اجازت دے دے گا تو بیع صحیح ہوجائے گی۔ یہ حنفیہ کا مسلک ہے لیکن حضرت امام شافعی کے نزدیک مالک کی اجازت کے بغیر اس کا مال بیچنا سرے سے جائز ہی نہیں ہے اگرچہ بعد میں مالک کی اجازت بھی حاصل کیوں نہ ہوجائے۔