شے مرہون راہن کی ملکیت سے باہر نہیں ہوتی ہے
عن سعيد بن المسيب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يغلق الرهن الرهن من صاحبه الذي رهنه له غنمه وعليه غرمه . رواه الشافعي مرسلا وروي مثله أو مثل معناه لا يخالف عنه عن أبي هريرة متصلا
حضرت سعید بن مسیب (تابعی) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی چیز کو گروی رکھنا مالک کو کہ جس نے وہ گروی رکھی ہے (ملکیت سے) نہیں روکتا (یعنی کسی چیز کو گروی رکھ دینے سے راہن کی ملکیت ختم نہیں ہوتی) اس لئے اس گروی رکھی ہوئی چیز کے ہر نفع و بڑھوتری کا حقدار راہن ہے اور وہی اس کے نقصان کا ذمہ دار ہے اس روایت کو امام شافعی نے بطریق ارسال نقل کیا ہے اور اس قسم کی ایک اور حدیث (یعنی ہم معنی بھی اور ہم لفظ بھی ( حضرت سعید بن مسیب سے روایت کی گئی ہے جسے سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ بطریق اتصال نقل کیا ہے یا وہ روایت ہم معنی ہے اور اس کے الفاظ محتلف ہیں مگر الفاظ کا یہ اختلاف ایسا نہیں ہے جو اس کے ہم معنی ہونے کے منافی ہو۔
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی کوئی چیز کسی کے پاس رہن رکھ دے تو اس کا یہ رہن رکھنا اس چیز کی ملکیت کو ختم نہیں کرتا بلکہ وہ چیز جوں کی توں راہن کی ملکیت میں رہتی ہے اس لئے حدیث نے اس کی بھی وضاحت کردی ہے کہ اس رہن رکھی ہوئی چیز سے اگر کوئی نفع حاصل ہوتا ہے یا اس میں کوئی بڑھوتری ہوتی ہے تو وہ راہن کا حق ہے بایں طور کہ اگر اس چیز کا کرایہ آتا ہے تو راہن وہ کرایہ وصول کرسکتا ہے اگر وہ کوئی جانور ہے تو اس پر سوار ہوسکتا ہے یا اسے اپنی باربرداری میں استعمال کرسکتا ہے ایسے ہی اگر اس جانور کے بچے ہوں تو وہ بچے بھی راہن ہی کا حق ہوتے ہیں۔ پھر جس طرح راہن رہن رکھی ہوئی چیز کے منافع کا حقدار ہوتا ہے اسی طرح اس کے نقصان کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے بایں طور کہ اگر وہ چیز مرتہن کے ہاں ہلاک و ضائع ہوجاتی ہے تو اس کا نقصان راہن ہی برداشت کرتا ہے اس کی وجہ سے مرتہن کے حق (یعنی جو قرض وغیرہ اس نے راہن کو دیا ہے) میں سے کچھ بھی ساقط نہیں ہوتا بلکہ راہن کو پورا پورا قرض واپس کرنا ہوتا ہے۔ لفظ روی مشکوۃ کے بعض نسخوں میں معروف کے ساتھ یعنی وری منقول ہے اس صورت میں اس کے فاعل امام شافعی ہوں گے اور لفظ مثلہ اور مثل منصوب ہی رہیں گے۔
حقوق شرعیہ میں پیمانہ اور وزن کا اعتبار
وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : المكيال مكيال أهل المدينة والميزان ميزان أهل مكة . رواه أبو داود والنسائي
اور حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (پیمانہ اہل مدینہ کا معتبر ہے اور وزن اہل مکہ کا معتبر ہے )
تشریح
اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ حقوق شرعیہ مثلًا زکوٰۃ وغیرہ لین دین کے لئے پیمانہ میں اہل مدینہ کے پیمانہ کا اعتبار ہے اور وزن میں اہل مکہ کے وزن کا اعتبار ہے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ آنحضرت کے زمانہ میں مکہ اور مدینہ کے پیمانوں اور اوزان میں کچھ فرق و اختلاف تھا۔ مدینہ کے پیمانہ اور وزن کی مقدار کچھ اور تھی اور مکہ کے پیمانہ اور وزن کی مقدار کچھ اور اس کی وجہ سے حقوق شرعیہ یعنی زکوٰۃ و صدقہ فطر وغیرہ میں لینا دینا خلجان کا باعث بنتا ہوگا۔ اس لئے آپ نے مذکورہ بالا ہدایت جاری فرمائی۔ گویا اس کا حاصل یہ تھا کہ مثلًا درہموں میں زکوٰۃ اسی وقت واجب ہوگی جب کہ وہ مکہ کے وزن مطابق دو سو ہوں گے اور صدقہ فطر و دیگر صدقات واجبہ کیں اہل مدینہ کا صاع معتبر ہوگا۔ مدینہ کے وزن کے مقابلہ میں مکہ کے وزن کو اور مکہ کے پیمانہ کے مقابلہ میں مدینہ کے پیمانہ کو ترجیح دینے کی وجہ یہ تھی کہ اس زمانہ میں وہاں غلہ کا لین دین پیمانہ ہی کے ذریعے ہوا کرتا تھا اور اہل مدینہ چونکہ زراعت پیشہ تھے اس لئے انہیں پیمانوں کے بارے میں زیادہ واقفیت رہا کرتی تھی اور اوزان کا استعمال چونکہ تجارت میں زیادہ ہوتا ہے اور اہل مکہ تجارت پیشہ تھے اس لئے وہ اوزان کی واقفیت زیادہ رکھتے تھے۔
ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے وعید
وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأصحاب الكيل والميزان : إنكم قد وليتم أمرين هلكت فيهما الأمم السابقة قبلكم . رواه الترمذي
اور حضرت ابن عباس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ناپ تول کرنے والوں سے فرمایا کہ تمہارے ذمہ دو کام ایسے ہیں (یعنی ناپنا اور تولنا) جن کے سبب تم سے پہلی امتیں ہلاک کی جا چکی ہیں۔
تشریح
امت محمدیہ سے قبل کچھ ایسی قومیں گذری ہیں جن کے افراد اس بدترین خصلت میں مبتلا تھے کہ جی وہ کوئی چیز لوگوں سے لیتے تھے تو اسے پورا پورا ناپ تے تولتے مگر جب کسی کو کوئی چیز دیتے تھے تو اس کی ناپ تول میں کمی کردیتے تھے۔ ان کی اس عام برائی کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور وہ تہس نہس کردیئے گئے ایسی قوموں میں سر فہرست حضرت شعیب (علیہ السلام) کو قوم کا نام آتا ہے اسی لئے آنحضرت نے اپنی امت کے افراد کو متنبہ کیا کہ تم ناپنے تولنے میں کمی کرنے سے پوری طرح اجتناب کرو تاکہ اس لعنت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے کہیں تم بھی اللہ کے قہر و غضب کا شکار نہ ہوجاؤ۔
بیع سلم کی مبیع کو قبل قبضہ فروخت کرنے کی ممانعت
2891 - [ 9 ] ( لم تتم دراسته ) عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أسلف في شيء فلا يصرفه إلى غيره قبل أن يقبضه . رواه أبو داود وابن ماجه
حضرت ابوسعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی چیز کے لئے بیع سلم کا معاملہ کرے تو اس چیز کو قبضہ میں کرنے سے پہلے کسی دوسرے کی طرف منتقل نہ کرے۔
تشریح
کسی دوسرے کی طرف منتقل نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ چیز اپنے قبضہ میں وہ آجائے اسے کسی دوسرے کے ہاتھ فروخت نہ کرے اور نہ ہبہ کرے یا یہ مطلب ہے کہ اس چیز کو کسی دوسری چیز سے نہ بدلے یعنی جس چیز کی بیع سلم کی ہوئی ہے معاملہ کے مطابق اسی کو لے قبل قبضہ اس کے بدلے میں کوئی دوسری چیز نہ لے۔
احتکار کا معنی لغوی طور پر معنی ہیں گراں فروشی کی نیت سے غلہ کی ذخیرہ اندوزی۔ اور شریعت کی اصطلاح میں احتکار کا مفہوم ہے ہر ایسی چیز کو مہنگا بیچنے کے لئے روک رکھنا جو انسان یا حیوان کی غذائی ضرورت میں کام آتی ہو۔ مثلًا گراں بازاری کے زمانے میں جب کہ مخلوق اللہ کو غلہ وغیرہ کی زیادہ ضرورت ہو کوئی شخص غلہ خرید کر اس نیت سے اپنے پاس روک رکھے کہ جب اور زیادہ گرانی ہوگی تو اسے بیچوں گا یہ احتکار کہلاتا ہے۔
شرعی نقطہ نظر سے احتکار حرام ہے اس قابل نفریں فعل میں مبتلا ہونے والا شخص شریعت کی نظر میں انتہائی ناپسندیدہ ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص اپنی زمین سے پیدا شدہ غلہ کی ذخیرہ اندوزی کرے یا ارزانی کے زمانہ میں غلہ خرید کر رکھ چھوڑے اور پھر اسے گرانی کے وقت بیچے تو یہ حرام نہیں ہے اسی طرح اشیاء کو روک رکھنا جو غذائی ضروریات میں استعمال نہ ہوتی ہوں حرام نہیں ہے۔ ہدایہ میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ انسانوں اور جانوروں کی غذائی چیزوں کا احتکار مکروہ ہے بشرطیکہ یہ احتکار ایسے شہر میں ہو جہاں اس کی وجہ سے شہر والوں کو تکلیف و نقصان نہ پہنچے یعنی اگر کوئی چھوٹا شہر ہو تو وہاں احتکار کی وجہ سے چونکہ غلہ کی قلت پیدا ہوجائے گی جس کی بنا پر غلہ کی گرانی بڑھ جائے گی اور لوگوں کو نقصان پہنچے گا اس لئے ایسے شہر میں احتکار ممنوع ہوگا ہاں اگر بڑا شہر ہو اور وہاں کسی کے احتکار کی وجہ سے اہل شہر کو نقصان نہ پہنچ سکتا ہو تو پھر ایسے شہر میں احتکار ممنوع نہ ہوگا۔ اسی طرح ہدایہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص زمین کے غلہ کا احتکار کرے یا کسی اور شہر سے غلہ خرید کر لائے اور اس کو احتکار کرے تو ایسے شخص کو شرعی طور پر احتکار کرنے والا نہیں کہیں گے۔
احتکار کرنے والا گنہگار ہے
عن معمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من احتكر فهو خاطئ . رواه مسلم وسنذكر حديث عمر رضي الله عنه كانت أموال بني النضير في باب الفيء إن شاء الله تعالى
حضرت معمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص احتکار کرے وہ گنہگار ہے۔ اور حضرت عمر کی روایت (کانت اموال بنی النضیر) کو ہم انشاء اللہ باب الفئ میں نقل کریں گے
احتکار کرنے والے کے لئے وعید
عن عمر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الجالب مرزوق والمحتكر ملعون . رواه ابن ماجه والدارمي
حضرت عمر کہتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا تاجر کو رزق دیا جاتا ہے اور احتکار کرنے والا ملعون ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو شخص کہیں باہر سے شہر میں غلہ وغیرہ لاتا ہے کہ اسے موجودہ اور رائج نرخ پر فروخت کرے اور گراں فروشی کی نیت سے اس کی ذخیرہ اندوزی نہ کرے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق دیا جاتا ہے یعنی اسے بغیر گناہ کے فائدہ حاصل ہوتا ہے اور اس کے رزق میں برکت عطا کی جاتی ہے اس کے خلاف مخلوق اللہ کی پریشانیوں اور غذائی قلت سے فائدہ اٹھا کر غلہ وغیرہ کی ناجائز ذخیرہ اندوزی کرنے والا گنہگار ہوتا ہے اور خیر و بھلائی سے دور رہتا ہے جب تک کہ وہ اس لعنت میں مبتلا رہتا ہے اس کو برکت حاصل نہیں ہوتی۔
حاکم اپنی طرف سے نرخ مقرر نہ کرے
وعن أنس قال : غلا السعر على عهد النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا : يا رسول الله سعر لنا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق وإني لأرجو أن ألقى ربي وليس أحد منكم يطلبنني بمظلة بدم ولا مال . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي
اور حضرت انس کہتے ہیں ایک مرتبہ رسول اللہ کے زمانہ میں غلہ کا نرخ مہنگا ہوگیا تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارے لئے نرخ مقرر فرما دیجئے یعنی تاجروں کو حکم دیدیجئے کہ وہ اس نرخ سے غلہ فروخت کیا کریں۔ نبی کریم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی نرخ مقرر کرنے والا اللہ ہی تنگی پیدا کرنے والا اللہ ہی فراخی دینے والا اور اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ میں اس بات کا امیدوار اور خواہشمند ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملوں کہ مجھ پر تم میں سے کسی کے خون اور مال کا کوئی مطالبہ نہ ہو۔
تشریح
اللہ ہی نرخ مقرر کرنے والا ہے کا مطلب یہ ہے کہ گرانی اور ارزانی اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے نرخ جس کا ظاہری سبب بنتا ہے چناچہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو کبھی تو نرخوں میں کمی اور ارزانی کے ذریعے لوگوں کے رزق میں وسعت و فراخی پیدا کرتا ہے اسی کو بعض لوگ نرخ آسمانی سے تعبیر کرتے ہیں لہذا جب گراں بازاری کا دور ہو اور نرخوں میں اضافے ہوجائیں تو اللہ کی طرف رجوع کیا جائے اور اسی سے مدد مانگی جائے اپنے عقائد و اعمال میں درستی اور اصلاحی کر کے اللہ کی رضا و خو شنودی کا سامان کیا جائے تاکہ وہ اپنے بندوں سے خوش ہو اور ان پر ارزانی وسعت رزق کی رحمت نازل فرمائے۔ حدیث کے آخری جزء میں اس بات کا امیدوار اور خواہشمند ہوں سے دراصل اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ سرکار و حکومت کی طرف سے نرخ مقرر کیا جانا ممنوع ہے کیونکہ اس طرح لوگوں کے معاملات میں بیجا دخل اندازی ہوتی ہے اور ان کے مال میں ان کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا لازم آتا ہے جو ظلم کی ایک صورت ہے پھر نرخ مقرر کرنے کا ایک برا نتیجہ یہ بھی برآمد ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے بسا اوقات لوگ کاروبار بند کردیتے ہیں اور تجارتی زندگی میں اضمحلال پیدا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے قحط وقت تک نوبت آجاتی ہے انجام کار جو چیز مخلوق اللہ کی بھلائی کے لئے اختیار کی جاتی ہے وہی ان کی پریشانیوں اور مصیبتوں کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ لہذا آپ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ نرخ مقرر کر کے لوگوں کو تکلیف و پریشانی میں مبتلا نہ کیا جائے اور تاجروں پر کوئی نرخ لازم نہ کیا جائے بلکہ اس کی بجائے تاجروں کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ مخلوق اللہ کے ساتھ ہمدردی و انصاف اور خیر خواہی کا معاملہ کریں اور ان کے ضمیر و احساس کو اس طرح بیدار کیا جائے کہ دراز جو نرخوں میں کمی کر کے لوگوں کی پریشانی و مصیبت دور کریں۔
غلہ کی ناجائز ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے لئے موعظت وعبرت
عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من احتكر على المسلمين طعامهم ضربه الله بالجذام والإفلاس . رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان . ورزين في كتابه
حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول کریم یہ فرماتے تھے کہ جو شخص غلہ روک کر گراں نرخ پر مسلمانوں کے ہاتھ فروخت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جذام و افلاس میں مبتلا کردیتا ہے۔
تشریح
اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص مخلوق اللہ اور خاص طور پر مسلمانوں کو تکلیف و نقصان میں ڈالتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جسمانی و مالی بلاؤں میں مبتلا کرتا ہے اور جو شخص انہیں نفع و فائدہ پہنچاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے جسم و مال میں خیر و برکت عطا فرماتا ہے۔ (٥) اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے چالیس دن تک گرانی کے خیال سے غلہ روک رکھا گویا وہ اللہ سے بیزار ہوا اور اللہ اس سے بیزار ہوا۔ تشریح وہ اللہ سے بیزار ہوا کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کا وہ عہد توڑ ڈالا جو اس نے احکام شریعت کی بجاآوری اور مخلوق اللہ کے ساتھ ہمدردی و شفقت کے سلسلے میں باندھا ہے۔ اسی طرح اور اللہ اس سے بیزار ہوا کا مطلب یہ ہے کہ جب اس نے اس بدترین عمل کے ذریعہ مخلوق اللہ کی پریشانی و تکلیف کا سامان کیا تو اللہ نے اس پر سے اپنی حفاظت اٹھا لی اور اس کو اپنا نظر کرم و عنایت سے دور کردیا۔ (٦) اور حضرت معاذ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غلہ وغیرہ کی ناجائز ذخیرہ اندوزی کرنے والا بندہ برا ہے اگر اللہ تعالیٰ نرخوں میں ارزانی کرتا ہے تو وہ سنجیدہ ہوتا ہے اور اگر نرخوں کو گراں کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے۔ (٧) اور حضرت ابوامامہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے گراں فروشی کی نیت سے غلہ کو چالیس روز تک روکے رکھا اور پھر اسے اللہ کی راہ میں خیرات کردیا تو وہ اس کے لئے کفارہ نہیں ہوگا۔ تشریح یہ گویا اس شخص کے لئے وعید و سزا ہے جو چالیس دن تک گراں فروشی کی نیت سے غلہ کو روکے رکھے کہ نہ تو اسے بازار میں لا کر بیچے اور نہ اس کے ذریعہ مخلوق اللہ کی غذائی ضروریات کو پورا کرے اور جو شخص اس سے کم مدت کے لئے احتکار کرے اس کے لئے بھی سزا ہے مگر اس سے کم درجہ کی۔
افلاس اور مہلت دینے کا بیان
انسانی زندگی میں کسی ایک حالت کو قرار و دوام نہیں ہے آج کچھ ہے کل کچھ یہ روزانہ کے مشاہدہ کی بات ہے انسان کی اقتصادی و مالی زندگی کو ہی دیکھ لیجئے جس طرح ایک مفلس اور قلاش شخص راتوں رات رحمت الٰہی کے نتیجہ میں مال و زر کے خزانوں کا مالک بن جاتا ہے اسی طرح بڑے بڑے کاروباری دیکھتے ہی دیکھ تے دیوالیہ ہوجاتے ہیں جو لوگ ہر وقت لاکھوں میں کھیلتے رہتے ہیں مال و زر ہی جن کا اوڑھنا بچھونا ہوتا ہے چشم وزدن میں وہ پائی پائی کے محتاج نظر آتے ہیں۔ یہی کائنات کا نظام ہے اور یہی تقدیر کا کھیل ہے حالات کو کسی ایک راستے پر برقرار رکھنا نہ کبھی کسی کے بس میں رہا ہے اور نہ کبھی کسی کے بس میں رہے گا۔ یہ سارے کھیل قدرت الٰہی کے پابند رہے ہیں اور ہمیشہ اسی طرح پابند رہیں گے لیکن بدلے ہوئے حالات کو متوارن بنانا اور متوازن بنانے میں مدد دینا انسان کے بس میں ہے جسے وہ اختیار کر کے ایک دوسرے کے دکھ درد کو بانٹ بھی سکتا ہے اور بدلے ہوئے حالات کو سنوارنے میں مدد بھی دے سکتا ہے چناچہ یہاں جو باب قائم کیا گیا ہے اس کے تحت نقل کی جانے والی احادیث کا یہی حاصل ہے کہ اگر کوئی شخص حالات کی تبدیلی کا شکار ہوجائے بایں طور کہ افلاس و تنگدستی اسے اپنی لپیٹ میں لے لے تو دوسرے انسانوں کا نہ صرف یہ فریضہ ہے کہ اس کے ساتھ اظہار ہمدردی کریں بلکہ اگر اس شخص پر کسی کا کوئی حق و مطالبہ ہو اور وہ مفلس ہوجانے کی وجہ سے اس کی ادائیگی سے وقتی طور پر عاجز ہو تو صاحب حق اسے اتنی مہلت دے دے کہ جب بھی اس کے حالات سدھریں وہ اس کا حق ادا کر دے۔
مفلس ہوجانے والے کے بارے میں ایک مسئلہ
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما رجل أفلس فأدرك رجل ماله بعينه فهو أحق به من غيره
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص مفلس ہوجائے اور وہ شخص (کہ جس نے اس کے ہاتھ اپنے مال بیچا تھا اس کے پاس اپنا مال بعینہ پائے تو وہ کسی دوسرے کے مقابلے میں اس مال کا زیادہ حق دار ہے۔
تشریح
اس ارشاد گرامی کو مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ زید نے بکر سے کوئی مال خریدا مگر اس کی قیمت ابھی ادا نہیں کر پایا تھا کہ مفلس ہوگیا اور حاکم و قاضی نے بھی اس کے مفلس و دیوالیہ ہوجانے کا فیصلہ کردیا اب بکر (یعنی بیچنے والے) نے دیکھا کہ زید کے پاس اس کا بیچا ہوا مال جوں کا توں موجود ہے یعنی نہ تو وہ ظاہری طور پر ضائع و ہلاک ہوا ہے اور نہ تصرفات شرعیہ مثلًا ہبہ ووقف کے ذریعہ معنوی طو پر ختم ہوا ہے تو اس صورت میں بکر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی کی ہوئی بیع کو فسخ کر دے اور زید سے اپنا مال واپس لے لے کیونکہ دوسرے قرض خواہوں کی بہ نسبت وہ مقدم ہے لہذا بجائے اس کے کہ وہ مال دوسرے قرض خواہ زید سے لیں بکر اس کے لینے کا زیادہ حق دار ہے۔ اور اگر زید نے مال کی خریداری کے وقت قیمت کا کچھ حصہ ادا کردیا ہو اور بقیہ حصہ ادا کرنے سے پہلے مفلس ودیوالیہ ہوگیا ہو تو اس صورت میں بکر اس مال کی اتنی ہی مقدار لے جو قیمت کے بقیہ حصہ کے بقدر ہو چناچہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک کا یہی مسلک ہے ان حضرات کی طرف سے اس حدیث کا یہی مطلب بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن حنفیہ کے نزدیک چونکہ اس صورت میں بیچنے والے کو نہ تو بیع فسخ کردینے کا اختیار ہے اور نہ وہ مال واپس لے لینے کا حق اسے پہنچتا ہے اس لئے حنفیہ اس حدیث کو عقد بالخیار پر محمول کرتے ہیں یعنی ان کے نزدیک اس حدیث کا تعلق اس صورت سے ہے جب کہ بیع اس شرط کے ساتھ ہوئی ہو کہ بیچنے والے کو فلاں مدت تک اس بیع کو فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا چناچہ بیع کے بعد اگر خریدار مفلس ودیوالیہ ہوجائے اور مدت خیار کے اندر بائع (بچنے والا) کو معلوم ہوگیا کہ خریدار مفلس و دیوالیہ ہوگیا ہے تو اب اس کے لئے زیادہ بہتر یہی ہے کہ بیع کو فسخ کر دے اور اپنا مال واپس لے لے۔
مفلس ہوجانے والے کی امداد کرنے کا حکم
وعن أبي سعيد قال : أصيب رجل في عهد النبي صلى الله عليه و سلم في ثمار ابتاعها فكثر دينه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تصدقوا عليه فتصدق الناس عليه فلم يبلغ ذلك وفاء دينه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لغرمائه خذوا ما وجدتم وليس لكم إلا ذلك . رواه مسلم
اور حضرت ابوسعید کہتے ہیں کہ رسول کریم کے زمانے میں ایک شخص پھلوں کے سخت نقصان میں مبتلا ہوگیا جو اس نے خریدے تھے اور اس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ قرضدار ہوگیا اس کی حالت دیکھ کر رسول کریم نے لوگوں سے فرمایا کہ صدقہ کے ذریعہ اس کی مدد کرو (تا کہ یہ قرض کے بوجھ سے ہلکا ہو) لوگوں نے صدقہ کے ذریعہ اس کی مدد کی مگر لوگوں کی مدد بھی اس کے قرض کی پوری ادائیگی کے لئے کافی نہ ہوسکی اس کے بعد آپ نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا کہ تمہیں اس سے جو کچھ بھی حاصل ہو بس وہ لے لو اس سے اس کے علاوہ اور کچھ تمہیں نہیں ملے گا۔
تشریح
اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ آنحضرت کے زمانے میں ایک شخص نے ایک پھل دار درخت خریدا اور درخت پر لگے ہوئے پھل ابھی اس کے تصرف میں نہیں آئے تھے سوء اتفاق سے ان پر آفت نازل ہوئی اور وہ سب جھڑ گئے ادھر اس نے اس کی قیمت بھی ادا نہیں کی تھی چناچہ جب بیچنے والے نے قیمت کا مطالبہ کیا تو اس نے لوگوں سے قرض لے کر وہ قیمت ادا کی اس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ قرض دار ہوگیا۔ آنحضرت نے جب اس کی پریشان حالی دیکھی تو لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کیا کہ وہ صدقہ و خیرات کے ذریعہ ہی اس کی مدد کریں تاکہ وہ قرض کے بار سے ہلکا ہوجائے۔ لوگوں نے اس کی مدد کی مگر ان کی مدد بھی اس کے قرض کی ادائیگی کے لئے کافی نہیں ہوسکی۔ لوگوں کی مدد سے جتنا قرض وہ ادا کرسکتا تھا اتنا ادا کردیا بقیہ قرض کی ادائیگی سے جب وہ بالکل ہیں عاجز ہوگیا تو آنحضرت نے قرض خواہوں سے وہ الفاظ ارشاد فرمائے جو حدیث کے آخر میں نقل کئے گئے ہیں۔ چنانچہ قرض خواہوں سے آنحضرت کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ جب اس شخص کا افلاس بالکل ظاہر ہوگیا ہے اور اس کی خستہ حالی عیاں ہوچکی ہے تو اب تمہارے لئے یہ قطعًا مناسب نہیں ہے کہ تم اسے پریشان کرو اسے ڈراؤ دھمکاؤ یا اسے قید وبند کی مصیبت میں مبتلا کرو بلکہ اس صورت میں تم لوگوں پر واجب ہے کہ اسے مہلت دے دو جب دیکھو کہ اس کے پاس ادائیگی قرض کا کچھ سامان فراہم ہوگیا ہے اس وقت مطالبہ کرنا اور اس سے اپنا قرض واپس لے لینا آپ کے ارشاد کا یہ مطلب قطعًا نہیں تھا کہ قرضدار کے ذمہ سے قرض خواہوں کا حق ہی سرے سے ساقط ہوگیا ہے بلکہ جیسا کہ ابھی بتایا گیا اس سے آپ کا مقصد صرف یہ تھا کہ قرض دار کو مہلت مل جائے۔
وصولئی قرض میں در گذر کرنے کا اجر
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : كان رجل يدائن الناس فكان يقول لفتاه : إذا أتيت معسرا تجاوز عنه لعل الله أن يتجاوز عنا قال : فلقي الله فتجاوز عنه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا ایک شخص تھا جو لوگوں سے قرض لین دین کا معاملہ کرتا تھا (یعنی لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا) اور اس نے اپنے کارندے سے یہ کہہ رکھا تھا کہ جب کسی تنگدست کے پاس (قرض وصول کرنے جاؤ) تو اس سے در گذر کرو شاید اللہ تعالیٰ ہم سے در گذر فرمائے۔ چناچہ آپ نے فرمایا کہ جب اس نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی (یعنی اس کا انتقال ہو) تو اللہ تعالیٰ نے اس سے در گذر فرمایا (اور اس کے گناہوں پر مؤ اخذہ نہیں کیا) (٤) اور حضرت ابوقتادہ کہتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی سختیوں سے محفوظ رکھے تو اسے چاہئے کہ وہ مفلس و تنگدست سے اپنا قرض وصول کرنے میں تاخیر کرے یا اس کو معاف کر دے (یعنی اپنا پورا قرض یا جس قدر ممکن ہو معاف کردیے۔
تشریح
یوں تو فرض اعمال نفل اعمال سے ستر درجے زیادہ فضیلت کے حامل ہیں لیکن بعض مسائل و معاملات میں نفل اعمال فرض اعمال سے زیادہ فضیلت کے رکھتے ہیں انہیں میں سے ایک تو تنگدست و مفلس کو اپنا حق (مثلًا قرض وغیرہ) معاف کردینا ہے کہ یہ اگرچہ مستحب ہے لیکن مفلس و تنگدست کو قرض وغیرہ ادا کرنے میں مہلت دینے سے افضل ہے جو واجب ہے دوسرے سلام کرنے میں پہل کرنا سنت ہے لیکن یہ افضل ہے سلام کا جواب دینے سے جو فرض ہے تیسرے وقت سے پہلے وضو کرنا مستحب ہے لیکن یہ افضل ہے وقت شروع ہوجانے کے بعد وضو کرنے سے جو فرض ہے۔ (٥) اور حضرت ابوقتادہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ فرماتے تھے جو شخص اپنا مطالبہ وصول کرنے میں مفلس کو مہلت دے یا اس کو اپنا پورا مطالبہ یا اس کا کچھ حصہ معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی سختیوں سے نجات دے گا۔ (مسلم) ٦) اور حضرت ابوالیسر کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول کریم ﷺ فرماتے تھے جو شخص تنگدست کو مہلت دے یا اس کو معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے گا (یعنی قیامت کے دن اسے گرمی کی تپش اور اس دن کی سختیوں سے محفوظ رکھے گا (مسلم) تشریح امام احمد، ابن ماجہ اور حاکم نے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی نقل کیا ہے کہ جو شخص مفلس وتنگدست کو مہلت دے تو ادائیگی کا دن آنے تک اس کو ہر دن کے بدلے اس کے قرض کے برابر صدقہ کا ثواب ملتا ہے اور پھر جب ادائیگی کا دن آئے اور وہ پھر اسے مہلت دے دے اور اس کی ادائیگی کا دن آنے تک ہر دن کے بدلے اس کے قرض کے برابر صدقہ کا ثواب ملتا ہے اور پھر جب ادائیگی کا دن آئے اور وہ پھر اسے مہلت دے دے تو اس کو ہر دن کے بدلے اس کے قرض کی دگنی مقدار کے برابر صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔ اس روایت کو تمثیلی طور پر یوں سمجھئے کہ مثلًا ایک شخص نے کسی کو دو مہینے کے وعدے پر ایک سو روپے قرض دیئے اور دو مہینے کے بعد اس کی مفلسی و تنگدستی کو دیکھتے ہوئے اس نے ایک مہینے کی مہلت دیدی تو اسے پورے مہینے اس طرح کا ثواب ملتا رہے گا کہ گویا وہ ہر دن ایک سو روپیہ صدقہ و خیرات کرتا ہے اسی طرح ایک مہینے کی مدت گزر جانے کے بعد دوبارہ مہلت دینے میں ایسا ہی ثواب ملتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب تیسری مرتبہ مہلت دے گا تو اسے ہر دن ایسا ثواب ملے گا جیسے کہ وہ ہر دن دو سو روپے صدقہ و خیرات کرتا ہے۔
خوبی کے ساتھ قرض ادا کرنیوالا بہترین شخص ہے
وعن أبي رافع قال : استسلف رسول الله صلى الله عليه و سلم بكرا فجاءته إبل من الصدقة قال : أبو رافع فأمرني أن أقضي الرجل بكره فقلت : لا أجد إلا جملا خيارا رباعيا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعطه إياه فإن خير الناس أحسنهم قضاء . رواه مسلم
اور حضرت أبورافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ نے ایک جوان اونٹ قرض لیا اور پھر جب آپ ﷺ کے پاس زکوٰۃ کے اونٹ آئے تو ابورافع کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس شخص کو کہ جس سے آپ ﷺ نے اونٹ قرض لیا تھا ایسا ہی ایک اونٹ دیدوں میں نے عرض کیا کہ مجھے ایسا ہی اونٹ کوئی نظر نہیں آ رہا ہے البتہ ایک اونٹ ہے جو اس کے اونٹ سے اچھا ہے اور ساتویں برس میں لگا ہے (لہذا میں اس کے اونٹ سے اچھا اونٹ کیسے دیدوں) آپ ﷺ نے فرمایا اسے اچھا ہی اونٹ دیدو کیونکہ لوگوں میں بہترین وہی شخص ہے جو ادائیگی قرض میں سب سے اچھا ہو ( مسلم)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جانور کا قرض لینا جائز ہے جیسا کہ حضرت امام شافعی حضرت امام مالک اور اکثر علماء کا مسلک ہے لیکن حضرت امام ابوحنیفہ کے نزیدک یہ جائز نہیں ہے چناچہ وہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ سے واضح ہوا کہ جو چیز قرض لی ہے اس کی واپسی میں اس کی بہ نست اچھی چیز دینا مستحب بھی ہے اور عالی ہمتی بھی بشرطیکہ قرض لیتے وقت اس کی شرط نہ کی گئی ہو۔
وعن أبي هريرة أن رجلا تقاضى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأغلظ له فهم أصحابه فقال : دعوه فإن لصاحب الحق مقالا واشتروا له بعيرا فأعطوه إياه قالوا : لا نجد إلا أفضل من سنه قال : اشتروه فأعطوه إياه فإن خيركم أحسنكم قضاء
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے اس اونٹ کا تقاضہ کیا (جو آپ ﷺ نے اس سے بطور قرض لیا تھا) اور تقاضہ بھی بڑی سخت کلامی کے ساتھ کیا آپ ﷺ کے صحابہ نے جب اس کو اس سخت کلامی اور آداب نبوت کے خلاف اس کی حرکت پر سزا دینی چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے کچھ نہ کہو کیونکہ جس کا حق ہے اسے کہنے کا اختیار ہے البتہ ایسا کرو کہ ایک اونٹ خرید کر اسے دیدو تاکہ اس کا مطالبہ ادا ہوجائے اور اسے پھر کچھ کہنے کا حق نہ رہے) صاحبہ نے عرض کیا کہ اس نے آپ ﷺ کو بطور قرض جو اونٹ دیا تھا اس کی عمر کا کوئی اونٹ نہیں مل رہا ہے بلکہ اس سے زیادہ عمر کا مل رہا ہے یعنی اس کا اونٹ چھوٹا اور کمتر تھا اور ہمیں جو اونٹ مل رہا ہے وہ اس کے اونٹ سے بڑا اور اچھا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جو اونٹ تمہیں مل رہا ہے اسی کو خرید لو (اگرچہ وہ اس کے اونٹ کی بہ نسبت بڑا اور اچھا ہے) اور اسے دیدو یاد رکھو تم میں بہتر وہ شخص ہے جو قرض ادا کرنے میں اچھا ہو ( بخاری ومسلم)
تشریح
آپ ﷺ سے اپنے قرض کا تقاضہ کرنے والا اور پھر تقاضہ میں سخت کلامی کرنیوالا کوئی کافر رہا ہوگا خواہ وہ یہودی ہو یا کوئی اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ شاید کوئی اجڈ گنوار و دیہاتی ہوگا جو مجلس نبوت اور مقام نبوت کے آداب سے مطلقًا بےبہرہ تھا جسے یہ سلیقہ بھی نہیں تھا کہ کس سے کس طرح بات کی جاتی ہے اس کے برعکس سرکار دو عالم ﷺ نے اس کی باتوں کو جس عالی ظرفی اور خوش اخلاقی کے ساتھ برداشت کیا وہ صرف نبوت ہی کا خاصہ ہوسکتا ہے۔ جس کا حق ہے اسے کہنے کا اختیار ہے، کے بارے میں ابن ملک فرماتے ہیں کہ یہاں حق سے مراد قرض ہے یعنی اگر کسی شخص کا کسی پر قرض ہو اور وہ قرض دار ادائیگی قرض میں تاخیر کرے تو قرض خواہ کو یہ حق پہنچتا ہے کہ اس سے سختی کے ساتھ تقاضہ کرے اس پر اظہار ناراضگی کرے اور اگر وہ پھر بھی قرض ادا نہ کرے تو حاکم و عدالت کی طرف رجوع کرے۔
ادائیگی قرض پر قادر ہونے کے باوجود قرض ادانہ کرنا ظلم ہے
وعنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : مطل الغني ظلم فإذا أتبع أحدكم على مليء فليتبع
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا صاحب استطاعت کا ادائیگی قرض میں تاخیر کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو صاحب استطاعت کے حوالہ کیا جائے تو اسے اس حوالہ کو قبول کرلینا چاہئے ( بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے پہلے جزء کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص کوئی چیز خریدے اور اس کی قیمت ادا کرنے کی استطاعت رکھنے کے باوجود قیمت ادا نہ کرے یا کسی کا قرض دار ہو اور ادائیگی قرض پر قادر ہونے کے باوجود (قرض ادا کرنے میں تاخیر کرے تو یہ ظلم ہے) بلکہ بعض علماء نے تو یہ لکھا ہے کہ یہ فسق ہے اور اس کی وجہ سے ایسے شخص کی گواہی رد ہوتی ہے اگرچہ یہ نادہندگی ایک ہی مرتبہ کیوں نہ ظاہر ہوئی ہو لیکن بعض دوسرے علماء کا قول یہ ہے کہ اس شخص کی گواہی قابل رد ہے جو صاحب استطاعت ہونیکے باوجود بار بار نادہندگی میں مبتلا ہو اور ادائیگی میں تاخیر کرنا اس کی عادت بن چکی ہو۔ حدیث کے دوسرے جزء اور جب تم سے کسی کو صاحب استطاعت کے حوالہ کیا جائے الخ۔ کا مطلب یہ ہے کہ مثلًا کسی شخص کا کسی پر قرض ہو اور وہ قرض دار ادائیگی قرض پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے کسی مالدار شخص سے یہ کہے کہ تم میرا قرض ادا کردینا تو قرض خواہ کو چاہئے کہ وہ قرضدار کی اس بات کو فورًا قبول کرلے تاکہ اس کا مال ضائع نہ ہو یہ حکم استحباب کے طور پر ہے لیکن بعض علماء کا قول ہے کہ یہ حکم بطریق وجوب ہے جب کہ کچھ علماء اس حکم کو بطریق اباحت کہتے ہیں
قرض خواہ وقرض دار کا تنازعہ ختم کرنا جائز ہے
وعن كعب بن مالك : أنه تقاضى ابن أبي حدرد دينا له عليه في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم في المسجد فارتفعت أصواتهما حتى سمعها رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو في بيته فخرج إليهما رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى كشف سجف حجرته ونادى كعب بن مالك قال : يا كعب قال : لبيك يا رسول الله فأشار بيده أن ضع الشطر من دينك قال كعب : قد فعلت يا رسول الله قال : قم فاقضه
اور حضرت کعب ابن مالک کے بارے میں منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانے میں (ایک دن) انہوں نے مسجد نبوی ﷺ میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کی واپسی کا تقاضہ کیا یہاں تک کہ جب دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں اور رسول کریم ﷺ نے جو اس وقت اپنے حجرہ مبارک میں تشریف فرما تھے ان دونوں کی آوازیں سنیں تو حجرہ سے باہر آنے کا ارادہ فرمایا چناچہ آپ ﷺ نے اپنے حجرہ کا پردہ ہٹایا اور کعب بن مالک کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کعب کعب بن مالک نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ حاضر ہوں آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے ان کی طرف اشارہ کیا کہ اپنے قرض کا نصف حصہ معاف کردو کعب نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ﷺ میں نے معاف کیا اس کے بعد آپ ﷺ نے ابن ابی حدرد سے فرمایا کہ اب اٹھ جاؤ اور باقی قرض ادا کردو (بخاری)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد میں کسی سے اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرنا جائز ہے نیز حقدار سے سفارش کرنا جھگڑنے والوں میں صلح صفائی کرانا اور کسی کی سفارش قبول کرنا بشرطیکہ اس سفارش کا تعلق کسی معصیت و برائی سے نہ ہو جائز ہے۔
ادائیگی قرض میں تاخیر کرنیوالوں کے لئے ایک عبرتناک واقعہ
وعن سلمة بن الأكوع قال : كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه و سلم إذ أتي بجنازة فقالوا : صل عليها فقال : هل عليه دين ؟ قالوا : لا فصلى عليها ثم أتي بجنازة أخرى فقال : هل عليه دين ؟ قالوا : نعم فقال : فهل ترك شيئا ؟ قالوا : ثلاثة دنانير فصلى عليها ثم أتي بالثالثة فقال : هل عليه دين ؟ قالوا : ثلاثة دنانير قال : هل ترك شيئا ؟ قالوا : لا قال : صلوا على صاحبكم قال أبو قتادة : صلى الله عليه و سلم عليه يا رسول الله وعلي دينه فصلى عليه . رواه البخاري
اور حضرت سلمہ بن اکوع کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول کریم ﷺ کی مجلس میں حاضر تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا، صحابہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ جنازہ کی نماز پڑھ لیجئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس پر قرض تو نہیں ہے صحابہ نے کہا کہ نہیں چناچہ آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس پر قرض تو نہیں؟ عرض کیا گیا کہ ہاں ہے آپ ﷺ نے فرمایا یہ کچھ چھوڑ کر بھی مرا ہے یا نہیں صحابہ نے عرض کیا کہ تین دینار اس نے چھوڑے ہیں یہ سن کر آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی پھر ایک تیسرا جنازہ لایا گیا آپ ﷺ نے پوچھا کہ اس پر قرض تو نہیں ہے صحابہ نے عرض کیا کہ ہاں تین دینار اس پر قرض ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کچھ چھوڑ کر بھی مرا ہے یا نہیں عرض کیا گیا کہ کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ابوقتادہ نے جب یہ سنا تو کہا کہ یا رسول اللہ آپ ﷺ اس کی نماز جنازہ پڑھ لیجئے اس کا قرض میں ادا کر دوں گا تب آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی (بخاری)
تشریح
ہوسکتا ہے کہ تینوں جنازے ایک ہی دن اور ایک ہی مجلس میں لائے گئے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ الگ الگ دن اور الگ الگ مجلس میں یہ جنازے لائے گئے ہوں۔ دوسرے شخص پر جو فرض تھا اس کی مقدار انہیں تین دینار کے برابر رہی ہوگی جو وہ چھوڑ کر مرا تھا اس لئے جب آپ ﷺ کو یہ معلوم ہوگیا کہ اس شخص پر جتنا قرض ہے اس کی ادائیگی کے بقدر اثاثہ چھوڑ کر مرا ہے تو آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھ لی۔ تیسرا چونکہ اپنے قرض کی ادائیگی کے بقدر مال چھوڑ کر نہیں مرا تھا اس لئے آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کردیا اس انکار کی وجہ یا تو یہ تھی کہ اس سے لوگوں کو عبرت حاصل ہو اور وہ قرض سے پرہیز کریں اور اگر بدرجہ مجبوری قرض لیں تو اس کی ادائیگی میں تاخیر و تقصیر سے باز رہیں یا یہ کہ آنحضرت ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھنا اس لئے مناسب نہیں سمجھا کہ میں اس کے لئے دعا کروں اور دعا قبول نہ ہو کیونکہ اس پر لوگوں کا حق تھا جس سے بری الذمہ ہوئے بغیر وہ مرگیا تھا۔ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ میت کی طرف سے ضامن ہونا جائز ہے خواہ میت نے ادائیگی قرض کے لئے مال چھوڑا ہو یا نہ چھوڑا ہو چناچہ حضرت امام شافعی اور اکثر علماء کا یہی مسلک ہے بخلاف حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے۔ بعض حنفی علماء کہتے ہیں کہ حضرت امام مالک حضرت امام شافعی حضرت امام احمد اور حنفیہ میں سے حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد نے اس حدیث سے اس بات کا استدلال کیا ہے کہ اس میت کی طرف سے کفالت جائز ہے جس نے کچھ بھی مال نہ چھوڑا ہو اور اس پر قرض ہو یہ حضرات کہتے ہیں کہ اگر میت کی طرف سے کفالت جائز نہ ہوتی تو آنحضرت ﷺ اس تیسرے جنازہ کی نماز نہ پڑھتے۔ لیکن حضرت امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ مفلس میت کی طرف سے کفالت صحیح نہیں ہے کیونکہ مفلس میت کی طرف سے کفالت دراصل دین ساقط کی کفالت ہے اور یہ بالکل صاف مسئلہ ہے کہ دین ساقط کی کفالت باطل ہے۔ اب رہی یہ بات کہ حضرت ابوقتادہ نے میت کی طرف سے اس کے قرض کی کفالت کی اور آنحضرت ﷺ نے ابوقتادہ کی کفالت کو تسلیم کر کے اس کی نماز جنازہ پڑھ لی تو اس کے بارے میں امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ سے صرف یہی ثابت نہیں ہوتا کہ ابوقتادہ نے اس شخص کی زندگی ہی میں اس کی طرف سے کفالت کرلی ہوگی اس موقع پر تو انہوں نے صرف آپ ﷺ کے سامنے اس بات کا اقرار و اظہار کیا کہ میں اس کی کفالت پہلے ہی کرچکا ہوں اب میں اس کے قرض کا ذمہ دار ہوں چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کے اس اقرار و اظہار پر نماز جنازہ پڑھی۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ابوقتادہ نے اس وقت میت کی طرف سے کفالت کی نہیں تھی بلکہ ازراہ احسان وتبرع یہ وعدہ کیا تھا کہ میں اس کا قرض ادا کر دوں گا۔
قرض کو ادا کرنے کی نیت رکھنے والے کی اللہ تعالیٰ مدد کرتے ہیں
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أخذ أموال الناس يريد أداءها أدى الله عنه ومن أخذ يريد إتلافها أتلفه الله عليه . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کا مال لے اور اس کے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو (یعنی کسی ضرورت و احتیاج ہی کی بناء پر قرض لے اور قرض کی ادائیگی کا ارادہ بھی رکھتا ہو اور اس کو ادا کرنے کی کوشش بھی کرتا ہو) تو اللہ تعالیٰ اس سے وہ مال ادا کرا دیتا ہے (یعنی قرض کو ادا کرنے کی نیت رکھنے والے کی اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے بایں طور کہ یا تو دنیا میں قرض ادا کرنے کی استطاعت دے دیتا ہے یا آخرت میں حقدار کو راضی کردیتا ہے) اور جو شخص لوگوں کا مال لے اور ضائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہو (یعنی احتیاج و ضرورت کے بغیر کسی سے قرض لے اور پھر اس قرض کی ادائیگی کی نیت بھی نہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے مال کو ضائع کردیتا ہے ( یعنی جو شخص کسی سے قرض لے اور اس قرض کو نہ ادا کرے اور نہ ادا کرنے کی نیت رکھے تو اللہ تعالیٰ نہ صرف یہ کہ ادائیگی قرض پر اس کی مدد نہیں کرتا اور اس کے رزق میں وسعت وفراخی عطاء نہیں کرتا بلکہ اس کا مال تلف وضائع بھی کردیتا ہے کیونکہ وہ ایک مسلمان کا مال ضائع کرنے کی نیت رکھتا ہے ( بخاری)