Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 141 of 317

2801Mishkaat-al-Masabih

دجال سے مدینہ کی حفاظت

عن أبي بكرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يدخل المدينة رعب المسيح الدجال لها يومئذ سبعة أبواب على كل باب ملكان . رواه البخاري

حضرت ابوبکرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مدینہ میں کانے دجال کا خوف (بھی) داخل نہیں ہوگا، اس دن (جب کہ کانا دجال نمودار ہوگا) مدینہ کے سات دروازے (یعنی سات راستے) ہوں گے اور ہر دروازہ یعنی ہر راستہ پر دائیں بائیں دو فرشتے (مدینہ کی حفاظت پر مامور) ہوں گے۔ (بخاری)

2802Mishkaat-al-Masabih

مدینہ میں برکت کے لئے آنحضرت ﷺ کی دعا

وعن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : اللهم اجعل بالمدينة ضعفي ما جعلت بمكة من البركة

حضرت انس ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے (بطور دعا) فرمایا۔ اے اللہ! مدینہ کو اس برکت سے دوگنی برکت عطا فرما جو تو نے مکہ کو عطا کی ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح دعا کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ! مکہ کی شان و شوکت کی نسبت مدینہ کو دوگنی شان و شوکت عطا فرما، یہ دعا مدینہ پر مکہ کی فضیلت کے منافی بایں اعتبار نہیں ہے کہ مکہ میں حسنات کی زیادتی اس کے افضل ہونے کی سب سے بڑی وجہ ترجیح ہے۔

2803Mishkaat-al-Masabih

حرمین میں سکونت پذیر ہونے کی سعادت

وعن رجل من آل الخطاب عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من زارني متعمدا كان في جواري يوم القيامة ومن سكن المدينة وصبر على بلائها كنت له شهيدا وشفيعا يوم القيامة ومن مات في أحد الحرمين بعثه الله من الآمنين يوم القيامة

اور خطاب کے خاندان کا ایک شخص ناقل ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص بالقصد میری زیارت کرے گا وہ قیامت کے دن میرا ہمسایہ اور میری پناہ میں ہوگا، جس شخص نے مدینہ میں سکونت اختیار کر کے اس کی سختیوں پر صبر کیا قیامت کے دن میں اس کی اطاعت کا گواہ بنوں گا اور اس کے گناہوں کی بخشش کے لئے شفاعت کروں گا اور جو شخص حرمین (مکہ اور مدینہ) میں سے کسی ایک میں مرے گا قیامت کے دن اسے اللہ تعالیٰ امن والوں میں اٹھائے گا (یعنی یہ قیامت کے دن عذاب کے خوف سے مامون رہے گا)۔ تشریح جو شخص بالقصد میری زیارت کرے گا، کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص تجارت، دکھانے سنانے، یا اسی طرح کی اور کسی دنیاوی غرض کے لئے نہیں بلکہ حصول ثواب کے پیش نظر صرف میری زیارت کے لئے آئے گا اسے مذکورہ سعادت حاصل ہوگی۔

2804Mishkaat-al-Masabih

روضہ اطہر کی زیارت کی فضیلت

وعن ابن عمر مرفوعا : من حج فزار قبري بعد موتي كان كمن زارني في حياتي . رواهما البيهقي في شعب الإيمان لإرساله

حضرت ابن عمر ؓ بطریق مرفوع (یعنی آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے حج کیا اور پھر میرے وصال کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو وہ اس شخص کی مانند ہوگا جس نے میری زندگی میں میری زیارت کی یہ دونوں روایتیں بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کی ہیں۔ تشریح روضہ اطہر کی زیارت کرنے والا آپ ﷺ کی زیارت کرنے والے کی مانند اس لئے ہوتا ہے کہ آپ ﷺ حیات ہیں! یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ روضہ اطہر کی زیارت حج کے افعال سے فراغت کے بعد کی جائے۔ ایک اور روایت میں منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص میری قبر کی زیارت کرتا ہے اس کے لئے میری شفاعت واجب و لازم ہوتی ہے ایک اور روایت میں یہ ہے کہ جس شخص نے حج بیت اللہ کی اور میری زیارت نہیں کی اس نے مجھ پر ظلم کیا۔ اسی طرح ایک روایت میں یہ منقول ہے کہ جس شخص نے مکہ یعنی حج کا قصد کیا اور پھر میری زیارت اور میری مسجد میں شرف حاضری کے حصول کا قصد کیا تو اس کے لئے یعنی اس کے نامہ اعمال میں دو مقبول حج لکھے جاتے ہیں۔

2805Mishkaat-al-Masabih

مدینہ سے آپ ﷺ کا کمال تعلق

وعن يحيى بن سعيد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان جالسا وقبر يحفر بالمدينة فاطلع رجل في القبر فقال : بئس مضجع المؤمن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بئس ما قلت قال الرجل إني لم أرد هذا إنما أردت القتل في سبيل الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا مثل القتل في سبيل الله ما على الأرض بقعة أحب إلي أن يكون قبري بها منها ثلاث مرات . رواه مالك مرسلا

حضرت یحییٰ بن سعید ؓ کہتے ہیں کہ مجھ تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ ایک دن مدینہ میں ایک قبر کھودی جا رہی تھی اور رسول کریم ﷺ بھی وہاں تشریف فرما تھے، ایک شخص نے قبر میں جھانکا اور کہنے لگا یہ قبر مومن کے لئے بری خوابگاہ ہے، رسول کریم ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ بری تو وہ چیز ہے کہ جو تم نے کہی ہے اس شخص نے عرض کیا کہ میرا منشاء یہ نہیں تھا، بلکہ اس بات سے میرا مطلب اللہ کی راہ میں شہید ہونے کی فضیلت کو ظاہر کرنا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا (ہاں یہ بات تو صحیح ہے کہ) اللہ کی راہ میں شہید ہونے سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے لیکن یہ بات بھی ہے کہ روئے زمین کا کوئی بھی ٹکڑا ایسا نہیں جس میں میری قبر بنے اور وہ مجھے مدینہ سے زیادہ محبوب ہو۔ آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔ اس روایت کو امام مالک نے بطریق ارسال نقل کیا ہے۔ تشریح بری تو وہ چیز ہے جو تم نے کہی ہے کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری یہ بات بری اور غلط ہے کہ قبر مؤمن کے لئے بری خوابگاہ ہے کیونکہ تم نے مؤمن کی قبر کو برا کہا ہے حالانکہ مؤمن کی قبر جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے۔ چناچہ اس شخص نے اپنی بات کی وضاحت کی کہ میرا منشاء قبر کو مطلقاً مؤمن کی بری خوابگاہ کہنا نہیں تھا بلکہ میرا مطلب تو یہ تھا کہ اللہ کی راہ میں شہید ہونا گھر میں مرنے سے بہتر ہے، آنحضرت ﷺ نے اس کے اس نکتہ کو پسند فرمایا اور تصدیق کی کہ واقعی اللہ کی راہ میں شہید ہونے کے برابر کوئی چیز نہیں ہے، پھر آپ ﷺ نے اپنی قبر کے لئے مدینہ کی زمین کو پسند فرما کر اس شخص کی فضیلت کو ظاہر کیا جو مدینہ میں مرے اور مدینہ ہی میں دفن کیا جائے خواہ وہ شہید ہو یا غیر شہید۔

2806Mishkaat-al-Masabih

وادی عقیق میں نماز کی فضیلت

وعن ابن عباس قال : قال عمر بن الخطاب : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو بوادي العقيق يقول : أتاني الليلة آت من ربي فقال : صل في هذا الوادي المبارك وقل : عمرة في حجة . وفي رواية : قل عمرة وحجة . رواه البخاري

حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے کہا کہ میں نے وادی عقیق میں (جو مدینہ کا ایک جنگل ہے) رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج کی رات میرے پروردگار کی طرف سے ایک آنے والا یعنی فرشتہ میرے پاس آیا اور کہا کہ اس مبارک وادی میں نماز پڑھئے اور وہ عمرہ کہئے جو حج کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اور عمرہ و حج کہئے (یعنی اس وادی میں نماز پڑھنا حج وعمرہ کے برابر ہے۔ (بخاری ) تشریح پہلے تو یہ سمجھ لیجئے کہ عربی قواعد کے مطابق لفظ قول فعل کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے، لہٰذا حدیث کے آخری جملہ قل عمرۃ فی حجۃ کے معنی ہیں اور اس نماز کو وہ عمرہ شمار کیجئے جو حج کے ساتھ ہوتا ہے گویا اس جملہ کے ذریعہ وادی عقیق میں ادا کی جانے والی نماز کی فضیلت کو بیان کرنا مقصود ہے کہ وادی عقیق میں جو نماز پڑھی جاتی ہے اس کا ثواب اس عمرہ کے برابر ہے جو حج کے ساتھ کیا جاتا ہے، اسی طرح دوسری روایت کے الفاظ وقل عمرۃ وحجۃ کا مطلب یہ ہے کہ وادی عقیق میں پڑھی جانے والی نماز عمرہ و حج کے برابر ہے۔ مدینہ منورہ کے کچھ اور فضائل علماء نے لکھا ہے کہ حکیم مطلق اللہ جل شانہ نے اس شہر پاک کی خاک پاک اور وہاں کے میوہ جات میں تاثیر شفا ودیعت فرمائی ہے۔ اکثر احادیث میں منقول ہے کہ مدینہ کے غبار میں ہر قسم کے مرض کی شفا ہے بعض دوسرے طرق سے منقول احادیث میں ہے کہ مدینہ کے غبار میں جذام اور برص کی شفا ہے آنحضرت ﷺ نے اپنے بعض صحابہ ؓ کو حکم فرمایا تھا کہ وہ بخار کا علاج اس کی خاک پاک سے کریں۔ چناچہ نہ صرف مدینہ ہی میں اس حکم پر عمل ہوتا رہا ہے بلکہ اس خاک پاک کو بطور دوا لے جانے کے سلسلہ میں بھی کتنے ہی آثار منقول ہیں اور بعض علماء نے تو اس معالجہ کا تجربہ بھی کیا ہے، حضرت شیخ مجددالدین فیروز آبادی کا بیان ہے کہ میں نے خود اس کا تجربہ کیا ہے کہ میرا ایک خدمت گار مسلسل ایک سال سے بخار کے مرض میں مبتلا تھا میں نے مدینہ کی وہ تھوڑی سی خاک پاک پانی میں گھول کر اس خدمت گار کو پلا دی اور وہ اسی دن صحت یاب ہوگیا۔ حضرت شیخ عبدالحق فرماتے ہیں کہ مدینہ کی خاک پاک سے معالجہ کا تجربہ مجھے بھی ہوا ہے وہ اس طرح کہ جن دنوں میں مدینہ منورہ میں مقیم تھا میرے پاؤں میں ایک سخت مرض پیدا ہوگیا جس کے بارے میں تمام اطباء کا یہ متفقہ فیصلہ تھا کہ اس کا آخری درجہ موت ہے اور اب صحت دشوار ہے۔ میں نے اسی خاک پاک سے اپنا علاج کیا، تھوڑے ہی دنوں میں بہت آسانی سے صحت حاصل ہوگئی۔ اسی قسم کی خاصیتیں وہاں کی کھجور کے بارے میں بھی منقول ہیں چناچہ صحیح احادیث میں وارد ہے کہ اگر کوئی شخص سات عجوہ کھجوریں (عجوہ مدینہ کی کھجور کی ایک قسم ہے) نہار منہ کھالیا کرے تو کوئی زہر اور کوئی سحر اس پر اثر نہیں کرے گا۔ فضائل مدینہ کے سلسلہ میں یہ بات بھی بطور خاص قابل لحاظ ہے کہ اس مقدس شہر کی عظمت و بزرگی ہی کی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو اس شہر کے رہنے والوں کی تعظیم و تکریم کی یہ وصیت کی تھی کہ میری امت کے لوگوں کو چاہئے کہ وہ میرے ہمسایوں یعنی اہل مدینہ کے احترام کو ہمیشہ پیش ملحوظ رکھیں، ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں، ان سے اگر کوئی لغزش ہوجائے تو اس پر مواخذہ نہ کریں اور اس وقت تک ان کی خطاؤں سے درگزر کریں جب تک کہ وہ کبائر سے اجتناب کریں (یعنی اگر وہ کبائر کے مرتکب ہوں تو پھر رعایت اور درگزر کا کوئی سوال نہیں ہے بلکہ اللہ اور بندوں کے حقوق کے سلسلے میں شریعت کا جو حکم ہو اسے جاری کرے) یاد رکھو، جو شخص ان کے احترام کو ہمیشہ ملحوظ رکھے گا میں قیامت کے دن اس کا گواہ اور شفاعت کرنے والا ہوں گا اور جو شخص اہل مدینہ کے احترام و حرمت کو ملحوظ نہیں رکھے گا اسے طینۃ الخبال کا سیال پلایا جائے گا (واضح رہے کہ طینۃ الخبال دوزخ کے ایک حوض کا نام ہے جس میں دوزخیوں کی پیپ اور لہو جمع ہوتا ہے) ایک روایت میں یہ منقول ہے کہ ایک دن آنحضرت ﷺ نے دست دعا بلند کئے اور یوں گویا ہوئے خداوندا! جو شخص میرے اور میرے شہر والوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے اس کو جلد ہی ہلاک کر دے نیز آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس شخص نے اہل مدینہ کو ڈرایا اس نے گویا مجھے ڈرایا نسائی کی روایت میں یہ ہے کہ جس شخص نے اہل مدینہ کو اپنے ظلم کے خوف میں مبتلا کیا اسے (اللہ تعالیٰ خوف میں مبتلا کرے گا اور اس پر اللہ کی، فرشتروں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی اور ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ایسے شخص کا کوئی بھی عمل بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں ہوگا خواہ فرض ہو یا نفل۔ حج کے کچھ مسائل اور ادائیگی حج کا طریقہ اگرچہ احادیث کی تشریح میں حج کے اکثر مسائل بیان کئے جا چکے ہیں مگر اب کتاب الحج کے اختتام پر مناسب ہے کہ کچھ اور مسائل یکجا طور پر ذکر کر دئیے جائیں اور حج کی ادائیگی کا طریقہ بھی بیان کردیا جائے۔ حج میں چار چیزیں فرض ہیں۔ (١) احرام۔ (٢) عرفہ کے دن وقوف عرفات (٣) طواف الزیارت (٤) ان فرائض میں ترتیب کا لحاظ یعنی احرام کو وقوف عرفات پر وقوف عرفات کو طواف الزیارت پر مقدم کرنا۔ واجبات حج یہ ہیں، وقوف مزدلفہ، صفا ومروہ کے درمیاں سعی، رمی جمار، آفاقی کے لئے طواف قدوم، حلق یا تقصیر، احرام میقات سے باندھنا، غروب آفتاب تک وقوف عرفات، طواف حجر اسود سے شروع کرنا (بعض علماء نے اسے سنت کہا ہے) طواف کی ابتداء دائیں طرف سے کرنا، طواف پیادہ پا کرنا بشرطیکہ کوئی عذر لاحق نہ ہو، طواف باطہارت کرنا، طواف میں ستر ڈھانکنا، سعی کی ابتداء صفا سے کرنا، سعی پا پیادہ کرنا بشرطیکہ کوئی عذر نہ ہو، قارن اور متمتع کو بکری یا اس کی مانند جانور ذبح کرنا، ہر سات شوط یعنی ایک طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا، رمی حلق اور قربانی میں ترتیب کا لحاظ رکھنا بایں طور کہ پہلے رمی کی جائے پھر قربانی پھر حلق اور پھر طواف زیارت کی جائے، طواف الزیارۃ ایام نحر میں کرنا، طواف اس طرح کرنا کہ حطیم طواف کے اندر آجائے، سعی طواف کے بعد کرنا، حلق حرم اور ایام نھر میں کرنا، وقوف عرفہ کے بعد ممنوعات احرام مثلاً جماع وغیرہ سے اجتناب، نیز وہ چیزیں بھی واجبات حج میں شامل ہیں، جن کو ترک کرنے سے دم لازم آتا ہے، ان چیزوں کے علاوہ اور سب حج کے مستحبات اور آداب میں سے ہیں۔ غنی کا حج فقیر کے حج سے افضل ہے، والدین کی فرمانبرداری سے حج فرض تو اولیٰ ہے لیکن حج نفل اولیٰ نہیں ہے۔ بلکہ والدین کی فرمانبرداری ہی حج نفل سے افضل ہے۔ سرائے بنانا حج نفل سے افضل ہے۔ البتہ صدقہ کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں کہ بعض تو صدقہ کو افضل کہتے ہیں۔ اور بعض نے حج نفل کو افضل کہا ہے، تاہم بزازیہ میں ہے کہ حج نفل کی فضیلت ہی کو ترجیح دی گئی ہے، کیونکہ حج میں مال بھی خرچ ہوتا ہے اور جسمانی مشقت بھی ہوتی ہے جب کہ صدقہ میں صرف مال خرچ ہوتا ہے جس حج میں وقوف عرفات جمعہ کے دن ہو وہ حج ستر حجوں پر فضیلت رکھتا ہے اور اس حج میں ہر شخص کی بلاواسطہ مغفرت ہوتی ہے، اس بارے میں اختلافی اقوال ہیں کہ آیا حج کی وجہ سے کبیرہ گناہ ساقط ہوجاتے ہیں یا نہیں؟ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ ساقط ہوجاتے ہیں جس طرح کہ جب کوئی حربی کافر اسلام قبول کرتا ہے تو اس کے سب گناہ ساقط ہوجاتے ہیں لیکن بعض حضرات کا یہ قول ہے کہ حج کی وجہ سے حقوق اللہ تو معاف ہوجاتے ہیں لیکن حقوق العباد معاف نہیں ہوتے جس طرح کہ جب کوئی ذمی کافر، اسلام قبول کرلیتا ہے تو اس کے ذمہ سے حقوق اللہ تو ساقط ہوجاتے ہیں لیکن حقوق العباد ساقط نہیں ہوتے۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ تمام علماء اہل سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ کبیرہ گناہ صرف توبہ ہی سے ساقط ہوتے ہیں، محض حج کی وجہ سے بھی ساقط نہیں ہوتے، نیز کوئی بھی عالم حج کی وجہ سے دین (قرض) کے ساقط ہونے کا بھی قائل نہیں ہے۔ خواہ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ ہی سے ہو جیسے نماز و زکوۃ، ہاں ادائیگی قرض یا ادائیگی نماز وغیرہ میں تاخیر کا گناہ ضرور ساقط ہوجاتا ہے لہٰذا جو علماء کبیرہ گناہ کے ساقط ہوجانے کے قائل ہیں ان کی مراد بھی یہی ہے۔ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہونا مستحب ہے بشرطیکہ خود اس کو یا کسی اور کو اس سے تکلیف نہ پہنچے، خانہ کعبہ کا غلاف اور پردہ بنی شیبہ سے خریدنا جائز نہیں ہے ہاں امام سے یا اس کے نائب سے لینا جائز ہے، خانہ کعبہ کے غلاف و پردہ کو لباس میں استعمال کرنا جائز ہے اگرچہ جنبی (ناپاک) یا حائضہ ہی کیوں نہ ہو، اگر کوئی شخص کسی کو قتل کر کے حرم میں پناہ لے لے تو اس کو بطور قصاص قتل کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک کہ وہ حرم میں رہے، ہاں اگر قاتل نے حرم ہی میں قتل کا ارتکاب کیا ہو تو اس کو بھی حرم میں مار ڈالنا جائز ہے لیکن خانہ کعبہ کے اندر قاتل کو اس صورت میں بھی قتل کرنا جائز نہیں ہے جب کہ اس نے خانہ کعبہ کے اندر ہی قتل کا ارتکاب کیا ہو۔ آب زمزم سے استنجا کرنا تو مکروہ ہے لیکن نہانا مکروہ نہیں ہے۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ سے افضل ہے لیکن مدینہ منورہ کی زمین کا وہ قطعہ پاک جس پر سرکار دو عالم ﷺ آرام فرما ہیں مطلقاً افضل ہے حتیٰ کہ کعبہ اور عرش و کرسی سے بھی افضل ہے۔ آنحضرت ﷺ کے روضہ اطہر کی زیارت کرنا مستحب ہے بلکہ بعض علماء تو یہ کہتے ہیں کہ اس شخص کے لئے واجب ہے جسے فراغت میسر ہو! حج فرض کی ادائیگی کی صورت میں حج روضہ اطہر کی زیارت سے پہلے کرنا چاہئے ہاں نفل کی صورت میں اختیار ہے کہ چاہے تو پہلے کیا جائے چاہے پہلے زیارت کی جائے بشرطیکہ مدینہ راستہ میں نہ پڑتا ہو۔ اگر مکہ کا راستہ مدینہ سے ہو کر گزرتا ہو تو پھر پہلے روضہ اطہر کی زیارت کرنا ضروری ہے، روضہ اطہر کی زیارت کے ساتھ مسجد نبوی ﷺ کی زیارت کی نیت بھی کرنی چاہئے کیونکہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ مسجد نبوی میں ادا کی جانے والی ایک نماز مسجد حرام کے علاوہ دوسری مساجد میں ادا کی جانے والی ہزار نمازوں سے بہتر ہے ٠ مسجد حرام کا استثناء اس لئے ہے کہ اس میں ادا کی جانے والی ایک نماز کا ثواب دس لاکھ نمازوں کے ثواب کے برابر ہوتا ہے) حج کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ جس خوش نصیب کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے حج کی سعادت عظمی کی توفیق بخشے اور وہ حج کا ارادہ کرے تو اسے چاہئے کہ پہلے وہ اپنی نیت کو درست کرے کہ اس کے پیش نظر محض اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور ادائیگی فرض ہو، کوئی دنیاوی غرض یا نام و نمود کا کوئی ہلکا سا تصور بھی نہ ہو ورنہ سب محنت اکارت جائے گی، پھر اپنے ماں باپ سے اجازت لے کر، اعزہ و احباب سے رخصت ہو کر، سب سے معافی تلافی کر کے اپنے وطن سے کم از کم ایسے وقت روانہ ہو کہ مکہ مکرمہ میں ساتویں ذی الحجہ سے پہلے پہنچ جائے اور ساتویں تاریخ کا خطبہ سن سکے، جب میقات پر پہنچے (ہندوستانیوں کی میقات یلملم ہے) تو احرام باندھے، اگر مفرد ہو تو صرف حج، کا قارن ہو تو حج وعمرہ دونوں کا اور متمتع وہ تو صرف عمرہ کا احرام باندھے، مستحب یہ ہے کہ احرام باندھنے سے پہلے ہاتھ پاؤں کے ناخن کٹوائے، زیر ناف اور بغل کے بال صاف کرے، حجامت بنوائے، اگر سر منڈانے کی عادت ہو تو سر منڈائے ورنہ بال درست کرائے اور ان میں کنگھی کرے، اگر بیوی ہمراہ ہو تو صحبت کرے، پھر وضو کرے یا نہائے لیکن نہانا افضل ہے اس کے بعد احرام کا لباس پہنے یعنی ایک لنگی باندھے اور ایک چادر اس طرح اوڑھے کہ سر کھلا رہے، یہ دونوں کپڑے نئے ہوں تو افضل ہے ورنہ صاف دھلے ہوئے ہونے چاہئیں، اگر کسی کے پاس دو کپڑے میسر نہ ہوں تو ایک ایسا کپڑا لپیٹ لینا بھی جائز ہے جس سے ستر پوشی ہوجائے پھر خوشبو لگائے، اس کے بعد نیت کرے، اگر قران کا ارادہ ہو تو اس طرح کہے۔ دعا (اللہم انی ارید الحج والعمرۃ فیسر ہمالی وتقبلہما منی)۔ اگر تمتع کا ارادہ ہو تو یوں کہے۔ دعا (اللہم انی ارید العمرۃ فیسرہا لی وتقبلہا منی)۔ اور اگر افراد کا ارادہ رکھتا ہو تو اس طرح کہے دعا (اللہم انی ارید الحج فیسرہ لی وت قبلہ منی۔ اگر نیت کے مذکورہ بالا الفاظ زبان سے ادا نہ کئے جائیں بلکہ دل ہی میں نیت کرلی جائے تو بھی جائز ہے، نیت کے بعد لبیک کہے حج یا عمرہ کی نیت کے ساتھ لبیک کہتے ہی محرم ہوجائے گا، لبیک کے الفاظ یہ ہیں۔ لبیک اللہم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک۔ ان الفاظ میں کمی نہ کی جائے ہاں زیادتی جائز ہے چناچہ یہ الفاظ بھی منقول ہیں جن کے اضافہ میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لبیک وسعدیک والخیر بیدیک لبیک والرغباء الیک والعمل لبیک لبیک الہ الخلق لبیک۔ بعد ازاں اکثر اوقات آواز بلند لبیک کہتا رہے خصوصا نماز کے بعد خواہ فرض ہو خواہ نفل نماز، صبح کے وقت، باہم ملاقات کے، بلندی پر چڑھتے یا نشیب میں اترتے وقت، غرضیکہ یہ سفر حج چونکہ نماز کے حکم میں ہے کہ جس طرح نماز میں ہر حالت کی تبدیلی پر تکبیر کہی جاتی ہے اس طرح اس سفر میں ہر حالت کی تبدیلی کے وقت لبیک کہنی چاہئے! احرام باندھ لینے کے بعد ان تمام چیزوں سے اجتناب کرنا ضروری ہے جو حالت احرام میں ممنوع ہیں مثلا سلے ہوئے کپڑے جیسے کرتہ، انگر کھا، پاجامہ، فرغل، جبہ، قبا، بارانی موزہ، دست تانہ اور ٹوپی وغیرہ نہ پہنے جائیں، جو کپڑے رنگ دار خوشبو جیسے زعفران وغیرہ میں رنگے ہوئے ہوں وہ بھی استعمال نہ کئے جائیں ہاں دھلنے کے بعد کہ جس سے خوشبو نہ آتی ہو استعمال کرنا جائز ہے، سر اور منہ کسی چیز سے نہ ڈھانکا جائے، جوئیں نہ ماری جائیں، بیوی سے نہ تو صحبت کی جائے اور نہ ان چیزوں کا ارتکاب کیا جائے جو جماع کا باعث بنتی ہیں مثلاً بوسہ لینا، شہوت کے ساتھ عورت کو ہاتھ لگانا یا اس کے سامنے فحش باتیں یا جماع کا ذکر کرنا وغیرہ وغیرہ۔ فسق و فجور سے پرہیز کیا جائے کسی کے ساتھ جنگ و جدل سے گریز کیا جائے، صحرائی وحشی جانوروں کا شکار نہ کیا جائے حتی ٰ کہ کوئی محرم نہ تو شکار کی طرف اشارہ کرے اور نہ شکار میں کسی کی اعانت کرے، ہاں دریائی جانوروں مثلا مچھلی کا شکار درست ہے۔ خوشبو کا استعمال نہ کیا جائے، ناخن نہ کٹوائے جائیں، سر داڑھی بلکہ تمام بدن کے بال نہ کتروائے جائیں نہ منڈوائے جائیں اور نہ اکھاڑے جائیں، سر و داڑھی کے بالوں کو خطمی سے نہ دھویا جائے البتہ محرم نہا سکتا ہے، حمام میں داخل ہوسکتا ہے، گھر اور کجاوہ کے سایہ میں بیٹھ سکتا ہے، ہمیانی (یعنی روپیہ رکھنے والی تھیلی) کمر میں باندھ سکتا ہے اور اپنے دشمن سے دفاعی لڑائی لڑ سکتا ہے۔ احرام کی حالت میں جن جانوروں کو مارنا جائز ہے اور جن کے مارنے کی وجہ سے بطور جزاء نہ دم لازم ہوتا ہے نہ صدقہ وہ یہ ہیں۔ کوا، چیل، سانپ، بچھو، چوہا، چیچڑی، کچھوا، بھیڑیا، گیدڑ، پتنگا، مکھی، چیونٹی، گرگٹ، بھڑ، مچھر، حملہ آور درندہ اور موذی جانور۔ جب مکہ مکرمہ کے قریب آجائے تو غسل کرے کہ یہ مستحب ہے پھر دن میں کسی وقت باب المعلیٰ سے مکہ میں داخل ہو اور اپنی قیام گاہ پر سامان وغیرہ رکھ کر سب سے پہلے مسجد حرام کی زیارت کرے، مستحب یہ ہے کہ مسجد حرام میں لبیک کہتا ہوا اور باب السلام سے داخل ہو اور اس وقت نہایت خشوع و خضوع کی حالت اپنے اوپر طاری کرے اور اس مقدس مقام کی عظمت و جلالت کا تصور دل میں رکھے اور کعبہ کے جمال دلربا پر نظر پڑتے ہی جو کچھ دل چاہے اپنے پروردگار سے طلب کرے پھر تکبیر و تہلیل کرتا ہوا حمد و صلوٰۃ پڑھتا ہوا حجر اسود کے سامنے آئے اور اس کو بوسہ دے اور بوسہ کے وقت اپنے دونوں ہاتھ کو اس طرح اٹھائے جس طرح تکبیر تحریمہ کے وقت اٹھاتے ہیں، اگر اژدھام کی وجہ سے بوسہ نہ دے سکے تو حجر اسود کو ہاتھ لگا کر ہاتھ کو چوم لے اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو کسی لکڑی سے حجر اسود کو چھو کر چومے اور اگر یہ بھی نہ کرسکے تو پھر دونوں ہتھیلیوں سے حجر اسود کی طرف اشارہ کر کے ہتھیلیوں کو چوم لے، حجر اسود کے استلام کے بعد حجر اسود کے پاس ہی سے اپنی داہنی جانب سے طواف قدوم شروع کرے، طواف میں سات شوط (چکر) کرے اور ہر شوط کو حجر اسود ہی پر ختم کرتے اور ہر شوط ختم کرنے کے بعد مذکورہ بالا طریقے سے حجر اسود کا استلام اور تکبیر و تہلیل کرے طواف میں حطیم کو بھی شامل کرے، طواف میں اضطباع کرے اور پہلے تین شوطوں میں رمل کرے نیز ہر شوط میں رکن یمانی کا ابھی استلام کرے مگر اس کے استلام میں اس کو چومنا نہیں چاہئے طواف ختم کرنے کے بعد دو رکعت نماز طواف مقام ابراہیم کے قریب پڑھے، یہ نماز حنفیہ کے نزدیک واجب ہے، اگر اژدحام وغیرہ کی وجہ سے اس نماز کو مقام ابراہیم کے قریب پڑھنا ممکن نہ ہو تو پھر مسجد حرام میں جہاں بھی چاہے پڑھ لے، اس نماز کی پہلی رکعت میں سورت فاتحہ کے بعد سورت قل یا ایہا الکافرون اور دوسری رکعت میں قل ھو اللہ کی قرأت کرے اور دعا میں جو چاہے اللہ سے مانگے، اس کے بعد چاہ زمزم پر آئے اور زمزم کا پانی پیٹ بھر کر پئے پھر مقام ملتزم میں آئے اور ہاتھ اٹھا کر اپنے مقصد کے لئے دعا مانگے پھر صفا سے مروہ کی طرف اپنی چال کے ساتھ چلے مگر جب وادی بطن پہنچے، تو میلین اخضرین کے درمیان تیز تیز چلے اور پھر جب مروہ پر چڑھے تو وہی کچھ یعنی تکبیر و تہلیل وغیرہ کرے جو صفا پر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح صفا ومروہ کے درمیان سات شوط کرے، ہر شوط کی ابتداء صفا سے ہو اور انتہا مروہ پر اور ہر شوط میں میلین اخضرین کے درمیان تیز تیز چلے، یہ بات ذہن میں رہے کہ سعی سے پہلے طواف کرنا ضروری ہے اگر کسی نے طواف سے پہلے سعی کرلی تو اس کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ طواف کے بعد پھر دوبارہ سعی کرے۔ یہ بھی معلوم رہنا چاہئے کہ اس سعی، وقوف عرفات، وقوف مزدلفہ اور رمی جمار کے لئے طہارت (پاکی) شرط نہیں ہے لیکن اولیٰ ضرور ہے جب کہ طواف کے لئے طہارت شرط ہے۔ نیز طواف و سعی کے وقت ٹھہرا رہے اور اس کے دوران نفل طواف جس قدر ہو سکے کرتا رہے، مگر نفل طواف کے درمیان رمل اور اس کے بعد سعی نہ کرے، پھر ساتویں ذی الحجہ کو مسجد حرام میں خطبہ سنے، اس خطبہ میں جو ظہر کی نماز کے بعد ہوتا ہے امام حج کے احکام و مسائل بیان کرتا ہے، پھر اگر احرام کھول چکا ہو تو آٹھ ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھ کر طلوع آفتاب کے بعد منیٰ روانہ ہوجائے، اگر ظہر کی نماز پڑھ کر منیٰ میں پہنچے تو بھی کوئی مضائقہ نہیں، رات منیٰ میں گزارے اور عرفہ کے روز یعنی نویں تاریخ کو فجر کی نماز اول وقت اندھیرے میں پڑھ کر طلوع آفتاب کے بعد عرفات جائے اگر کوئی آٹھویں تاریخ کو منیٰ میں نہ جائے بلکہ نویں کو عرفات میں پہنچ جائے تو بھی جائز ہے مگر یہ خلاف سنت ہے۔ عرفات میں بطن عر نہ کے علاوہ جس جگہ چاہے اترے لیکن جبل عرفات کے نزدیک اترنا افضل ہے پھر اسی دن زوال آفتاب کے بعد غسل کرے (جو سنت ہے) اور عرفات میں وقوف کرے (جو فرض ہے اور جس کے بغیر حج ہوتا ہی نہیں) امام جو خطبہ دے اسے سنے اور امام کے ساتھ بشرط احرام ظہر و عصر کی نماز ایک وقت میں پڑھے اور جبل رحمت کے پاس کھڑا ہو کر نہایت خشوع و خضوع اور تذلل و اخلاص کے ساتھ تکبیر و تہلیل کرے، تسبیح پڑھے، اللہ کی ثنا کرے آنحضرت ﷺ پر درود بھیجے اور اپنے تمام اعزہ و احباب کے لئے استغفار کرے اور تمام مقاصد دینی و دنیوی کے لئے دعا مانگے، پھر غروب آفتاب کے بعد امام کے ہمراہ مزدلفہ کی طرف روانہ ہوجائے اور راستہ میں استغفار، لبیک، حمد و صلوۃ اور اذکار میں مشغول رہے مزدلفہ پہنچ کر امام کے ہمراہ مغرب و عشاء کی نماز ایک ساتھ پڑھے اور رات میں وہیں رہے کیونکہ رات میں وہاں رہنا واجب ہے، نیز اس پوری رات میں نماز، تلاوت قرآن اور ذکر و دعا میں مشغول رہنا مستحب ہے، جب صبح ہوجائے تو (یعنی دسویں ذی الحجہ کو) فجر کی نماز اول وقت اندھیرے میں پڑھے اور وہاں وقوف کرے، مزدلفہ میں سوائے بطن محسر کے جہاں چاہے وقوف کرسکتا ہے، اس وقوف کی حالت میں نہایت الحاح وزاری کے ساتھ اپنے دینی و دنیاوی مقصد کے لئے خداوند والم سے دعا مانگے، آفتاب نکلنے سے کچھ پہلے وقوف ختم کرلیا جائے، پھر جب روشنی خوب پھیل جائے تو آفتاب سے پہلے منیٰ واپس پہنچ کر جمرۃ العقبہ پر سات کنکریاں مارے اور پہلی کنکری مارتے ہی تلبیہ موقوف کر دے، اس کے بعد قربانی کرے پھر سر منڈوائے یا بال کتروائے، اس کے بعد وہ تمام چیزیں جو حالت احرام میں ممنوع تھیں، سوائے رفث کے، جائز ہوجائیں گی، پھر عید کی نماز منیٰ ہی میں پڑھ کر اسی دن مکہ آجائے اور طواف زیارت کرے، اس طواف کے بعد سعی نہ کرے ہاں اگر پہلے سعی نہ کرچکا ہو تو وہ پھر اس طواف کے بعد سعی کرے، اس کے بعد رفث بھی جائز ہوجائے گا طواف زیارت سے فارغ ہو کر پھر منیٰ واپس آجائے اور رات میں وہاں قیام کرے۔ گیارہویں تاریخ کو تینوں جمرات کی رمی کرے بایں طور کہ پہلے تو اس جمرہ پر سات کنکریاں مارے جو مسجد خیف کے قریب ہے اور جس کو جمرۃ اولیٰ کہتے ہیں اس کے بعد اس جمرہ پر جو اس کے قریب ہے اور جس کو جمرۃ وسطیٰ کہتے ہیں سات کنکریاں مارے اور پھر سوار ہو کر پا پیادہ ہی جمرہ عقبہ پر سات کنکریاں مارے اور ہر کنکری مارتے وقت تکبری کہتا رہے، اسی طرح بارہویں تاریخ ہی کو منیٰ سے رخصت ہوگیا تو پھر اس پر تیرہویں تاریخ کو واجب نہیں ہوگی۔ گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں تاریخوں میں رمی کا وقت زوال آفتاب کے بعد ہے لیکن تیرہویں تاریخ کو اگر طلوع فجر کے بعد اور زوال آفتاب سے پہلے بھی رمی کرے تو جائز ہے مگر مسنون زوال آفتاب کے بعد ہی ہے جب کہ گیارہویں اور بارہویں تاریخوں میں زوال آفتاب سے پہلے رمی جائز نہیں ہے۔ آخری دن رمی سے فارغ ہو کر مکہ روانہ ہوجائے اور راستہ میں تھوڑی دیر کے لئے محصب میں اترے، پھر جب مکہ مکرمہ سے وطن کے لئے روانہ ہونے لگے طواف وداع کرے اس طواف میں بھی رمل اور اس کے بعد سعی نہ کرے طواف کے بعد دو رکعت پڑھ کر زمزم کا مبارک پانی گھونٹ گھونٹ کر کے پیے اور ہر مرتبہ کعبہ مکرمہ کی طرف دیکھ کر حسرت سے آہ سرد بھرے نیز اس مبارک پانی کو منہ، سر اور بدن پر ملے پھر خانہ کعبہ کی طرف آئے اگر ممکن ہو بیت اللہ کے اندر داخل ہو اگر اندر نہ جاسکے تو اس کی مقدس چوکھٹ کو بوسہ دے اور اپنا سینہ اور منہ ملتزم پر رکھ دے اور کعبہ مکرمہ کے پردوں کر پکڑ پکڑ کر دعا کرے اور روئے اور اس وقت بھی تکبیر و تہلیل، حمد و ثنا اور دعاء استغفار میں مشغول رہے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے مقاصد کی تکمیل طلب کرے۔ اس کے بعد پچھلے پیروں یعنی کعبہ مکرمہ کی طرف پشت نہ کر کے مسجد حرام سے باہر نکل آئے حج تمام افعال ختم ہوگئے۔

2807Mishkaat-al-Masabih

عمرہ کے احکام

عمرہ واجب نہیں ہے بلکہ عمر بھر میں ایک مرتبہ سنت مؤ کدہ ہے عمرہ کے لئے کسی خاص زمانہ کی شرط نہیں ہے، جیسا کہ حج کے لئے ہے بلکہ جس وقت چاہے کرسکتا ہے اسی طرح ایک سال میں کئی مرتبہ بھی عمرہ کیا جاسکتا ہے، البتہ غیر قارن کو ایام حج میں عمرہ کرنا مکروہ ہے ایام حج کا اطلاق یوم عرفہ یوم نحر اور ایام تشریق پر ہوتا ہے۔ عمرہ کا رکن طواف ہے اور اس میں دو چیزیں واجب ہیں ایک تو صفا ومروہ کے درمیان سعی اور دوسرے سر منڈوانے یا بال کتروانا۔ جو شرائط اور سنن و آداب حج کے ہیں وہی عمرہ کے بھی ہیں۔

2808Mishkaat-al-Masabih

جنایات کے احکام

حج کے بیان میں جنایت اس حرام فعل کو کہتے ہیں جس کی حرمت احرام یا حرم کے سبب سے ہو اور جس کے مرتکب پر کوئی چیز مثلاً قربانی یا صدقہ بطور جزاء یعنی بطور کفارہ واجب ہوتی ہو، چناچہ اس کی کچھ تفصیل اس طرح ہے کہ اگر محرم اپنے کسی ایک پورے عضو پر خوشبو لگائے یا کوئی خوشبودار چیز کھا کر منہ کو خوشبو دار کرے بشرطیکہ وہ خوشبو خالص ہو اور اس میں کسی دوسری چیز کی آمیزش نہ ہو یا رقیق مہندی کا استعمال کرے خواہ سر میں لگائے یا داڑھی یا ہاتھ پر وغیرہ میں یا زیتون لگائے یا پورے ایک دن سلے ہوئے کپڑے رواج و عادت کے موافق استعمال کرے یا پورا دن اپنا سر ڈھانکے رکھے یا سر، داڑھی چوتھائی یا اس سے زیادہ منڈوائے یا پوری ایک بغل کے بال یا زیر ناف بال یا گردن کے بالوں کو دور کرے یا دونوں ہاتھوں یا دونوں پیروں یا ایک ہاتھ اور ایک پیر کے ناخن ترشوائے یا طواف قدوم یا طواف صدر حلالت جناب میں کرے یا طواف زیارت (یعنی طواف فرض) بےوضو کرے یا عرفات سے امام سے پہلے واپس آجائے یا سعی چھوڑے یا وقوف مزدلفہ چھوڑ دے یا تمام دنوں کی رمی یا ایک دن کی یا پہلے دن کی رمی نہ کرے، یا حلق و تقصیر حرم سے باہر کرائے یا احرام کی حالت میں بیوی کا بوسہ لے لے یا اس کو شہوت کے ساتھ چومے یا حلق و تقصری یا طواف زیارت ایام نحر گزر جانے کے بعد کرے، یا افعال حج کی واجب ترتیب کو بدل دے مثلاً قربانی سے پہلے سر منڈوا لے تو ان تمام صورتوں میں اس پر بطور جزاء ایک قربانی واجب ہوگی۔ اور اگر محرم تلبید کرے یعنی اپنے سر کے بال گوند وغیرہ لگا کر جما لے یا قارن ہونے کی صورت میں قربانی سے پہلے حلق یا تقصیر کرائے تو اس پر دو قربانی واجب ہوں گی۔ اور اگر محرم ایک عضو سے کم میں خوشبو استعمال کرے یا ایک دن سے کم اپنا سر ڈھانکے یا سلا ہوا کپڑا پہنے یا سر داڑھی چوتھائی حصہ سے کم منڈوائے یا پانچ ناخن سے کم ترشوائے یا پانچ ناخن مختلف مجلسوں میں ترشوائے یا طواف صدر یا طواف قدوم بےوضو کرے یا یوم نحر کے بعد تینوں جمرات میں سے کسی ایک جمرہ کی رمی ترک کر دے تو ان سب صورتوں میں اس پر صدقہ واجب ہوگا جس کی مقدار نصف صاع گیہوں ہے۔ اگر محرم کسی عذر یا بیماری کی وجہ سے خوشبو استعمال کرے یا سر منڈوائے یا سلا ہوا کپڑا پہنے تو ان صورتوں میں اسے اختیار ہوگا کہ چاہے تو ایک بکری ذبح کرے چاہے چھ مسکینوں ایک ایک مقدار صدقہ فطر دے دے اور چاہے تین روزے مسلسل یا غیر مسلسل رکھ لے۔ خوشبو یا خوشبودار پھول یا خوشبو دار میوہ سونگھنے سے محرم پر کچھ واجب نہیں ہوتا تاہم یہ مکروہ ہے۔ اگر کوئی محرم جوں مارے تو بطور صدقہ تھوڑی سی کھانے کی چیز مثلاً ایک مٹھی آٹا دے دے بشرطیکہ اس نے وہ جوں اپنے بدن سے یا سر سے یا کپڑے سے نکال کر ماری ہو اور اگر زمین سے پکڑ کر مارے تو کچھ بھی واجب نہیں ہوتا اور اگر اس نے اپنے کپڑے دھوپ میں اس نیت سے ڈال دیئے کہ اس میں موجود جوئیں مرجائیں اور پھر بہت ساری جوئیں مرجائیں تو اس پر نصف صاع گیہوں کا صدقہ واجب ہوگا۔ ہاں اگر کپڑے کو خشک کرنے کی نیت سے دھوپ میں ڈالے اور جوئیں مارنا اس کا مقصد نہ ہو اور پھر اس صورت میں جوئیں مرجائیں تو اس پر کچھ واجب نہیں ہوگا۔ اگر محرم شکار مارے یا کسی کو شکار کی راہ بتائے یا شکار کی طرف کسی کو متوجہ کرے تو اس پر بطور جزاء اس شکار کی وہ قیمت واجب ہوگی جو دو عادل شخص تجویز کریں اور وہ قیمت اس مقام کے اعتبار سے ہو جہاں شکار مارا گیا ہے ہو یا اس کے قریب تر مقام کے اعتبار سے ہو، اس بارے میں محرم کو اختیار ہوگا کہ چاہے تو وہ اس قیمت سے قربانی کا کوئی جانور خرید کر ذبح ہونے کے لئے حرم بھیج دے چاہے اس قیمت سے گیہوں وغیرہ خرید کر ہر فقیر کو صدقہ فطر کی ایک مقدار تقسیم کر دے اور چاہے ہر فقیر کی مقدار صدقہ کے عوض ایک ایک روزہ رکھ لے۔ آخر میں یہ بات بھی بتا دینی ضروری ہے کہ ان تمام جنایات کے ارتکاب میں قصدا اور اضطرار علم اور لاعلمی، رغبت اور جبر سب برابر ہے یعنی محرم ممنوعات احرام میں سے جو بھی فعل کرے گا اس پر جزاء بہر صورت واجب ہوگی خواہ اس سے اس فعل کا ارتکاب قصداً ہوا ہو یا بلا قصد اس کے علم کے باوجود ہوا ہو یا اس کی لاعلمی کی وجہ سے اور اس نے وہ فعل اپنی رغبت سے کیا ہو یا کسی دوسرے کی زبردستی کی وجہ سے۔

2809Mishkaat-al-Masabih

روضہء اطہر کی زیارت کے احکام وآداب :

جو کوئی حج کرنے جائے اس کو چاہئے کہ اگر حج فرض ہو تو پہلے اپنے حج سے فارغ ہوجائے پھر روضہ اطہر کی زیارت کے لئے مدینہ جائے اور اگر حج نفل ہو تو اختیار ہے کہ چاہے تو پہلے زیارت کرے اور اس کے بعد حج کرے چاہے پہلے حج کرلے بعد میں زیارت کرے بشرطیکہ حج کے لئے مکہ جانے والا راستہ مدینہ کی طرف سے نہ ہو،۔ جب زیارت کے لئے چلے تو یہ نیت کرے کہ میں آنحضرت ﷺ کی قبر مبارک اور آپ ﷺ کی مسجد انور کی زیارت کے لئے سفر کرتا ہوں۔ راستہ میں جتنی مسجدیں ملیں سب میں نماز پڑھے، راستہ میں درود پڑھتا رہے، جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو اس شہر مقدس کی عظمت کو دل میں جاگزیں کرے، جب مدینہ منورہ بالکل سامنے آجائے تو بہ خیال ادب اور بہ مقتضائے شوق اپنی سواری سے اتر پڑے اور اگر ممکن ہو تو وہاں سے مسجد شریف تک پاپیادہ جائے۔ حدود شہر میں داخل ہونے سے پہلے اگر ممکن ہو تو غسل کرلے ورنہ وضو کر کے عمدہ اور خاص طور پر سفید کپڑے پہن لے اور خوشبو لگائے، شہر کے اندر پہنچ کر سب سے پہلے مسجد نبوی ﷺ میں جائے، مسجد نبوی میں داخلہ سے پہلے غسل کرلے تو بہتر ہے ورنہ وضو کرے اور خوشبو لگائے، مسجد نبوی پہنچ کر تحیۃ المسجد اور نماز شکر پڑھے، اس کے بعد اس تصور و یقین کے ساتھ بصد ادب و احترام قبر اقدس کی زیارت کی طرف متوجہ ہو کہ میں اس باعظمت درگارہ میں حاضر ہو رہا ہوں جس کے سامنے تمام دنیا کے پر جلال بادشاہوں کی بھی کوئی وقعت نہیں، پھر مرقد اطہر کے پاس آ کر نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ نماز کی طرح داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر اس طرح کھڑا ہو کہ حضرت سید بشر ﷺ کی طرف منہ ہو اور قبلہ کی طرف پیٹھ اور اس بات کا یقین کرے کہ آنحضرت ﷺ میری حاضری سے واقف ہیں، میرے سلام کا جواب دیتے ہیں اور میری دعا پر آمین کہتے ہیں اور پھر انتہائی شوق و ذوق کے ساتھ معتدل آواز میں سلام و صلوٰۃ پیش کرے اور عرض و معروض کرے، جب اپنی عرض و نیاز سے فارغ ہوجائے تو اپنے اعزاء و احباب میں سے جس نے عرض سلام کی درخواست کی ہو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اس کی طرف سے اس طرح سلام عرض کر دے کہ یا رسول اللہ! ﷺ فلاں بن فلاں نے آپ کو سلام عرض کیا ہے آپ ﷺ اس کے لئے پروردگار سے شفاعت کریں۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق اور پھر حضرت عمر فاروق ؓ کے سر مبارک کے سامنے کھڑا ہو اور ان کی خدمت میں سلام عرض کرے، اس کے بعد پھر آنحضرت ﷺ کے سر مبارک کے سامنے پہلے کی طرح دست بستہ کھڑا ہو اور بہت ذوق و شوق کے ساتھ آپ ﷺ کی خدمت میں سلام عرض کرے اور جو جو خواہش رکھتا ہو، آپ ﷺ کے طفیل میں حق تعالیٰ سے مانگے، وہاں سے ہٹ کر حضرت ابولبابہ ؓ کے ستون کے پاس جس قدر ممکن ہو نوافل پڑھے اور توبہ و استغفار کرے اس کے بعد آثار نبویہ کی زیارت کرے جو معلمین بتا دیتے ہیں اور جنت البقیع جائے وہاں صحابہ کرام اور اہل بیعت کے مزارات مقدسہ کی زیارت کرے پھر شہدائے احد خصوصاً سید الشہداء حضرت امیر حمزہ ؓ کی قبر کی زیارت کرے اور ان تمام مشاہد و مزارات پر فاتحہ پڑھے اور شنبہ کے دن یا جس دن ممکن ہو مسجد قبا کی زیارت کرے اور دو رکعت نماز بہ نیت تحیۃ المسجد پڑھے۔ مدینہ منورہ اور روضہ اطہر کی زیارت کے آداب یہ ہیں کہ جتنے دنوں مدینہ منورہ میں قیام ہو سکے اس کو غنیمت سمجھے حتی الامکان اپنا اکثر وقت مسجد شریف نبوی ﷺ میں صرف کرے وہاں اعتکاف کرے اور ہر قسم کی عبادت یعنی نماز، روزہ تلاوت، درود اور صدقہ و خیرات سے اپنے اوقات کو آباد رکھے، جب تک مسجد میں رہے حجرہ شریف کی طرف نہایت شوق کی نگاہوں سے نظر کرتا رہے اور اگر مسجد سے باہر ہو تو بنظر احترام و تعظیم اور انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ قبہ شریف کو دیکھتا رہے کیونکہ روضہ حبیب کبریا ﷺ پر نظر ڈالنا استحباباً حکم نظر کرنے کعبہ شریف کا ہے نیز شہر سے باہر قبہ شریف پر نظر کرنے سے اہل شوق کو جو نورانیت اور سرور و ذوق حاصل ہوتا ہے اس کا ادراک اسی حالت پر موقوف ہے جس کو الفاظ کے ذریعہ ظاہر نہیں کیا جاسکتا۔ ع ذوق ایں می نشناسی واللہ تانہ چشی۔ مسجد نبوی میں جس قدر بھی شب بیداری کی سعادت حاصل ہو سکے خواہ ایک ہی شب کے لئے ہو اسے ہاتھ سے نہ جانے دے کیونکہ شب قدر و منزلت کے اعتبار سے شب قدر سے کم نہیں ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے اس لئے اس ایک رات کو اپنی تمام عمر کا ماحصل اور خلاصہ سمجھ کر عبادت میں کاٹ دے بہتر یہی ہے کہ اس رات میں اور کوئی عبادت نہ کرے بلکہ صرف درود شریف پڑھتا رہے اور اگر نیند آنے لگے تو حبیب کبریا ﷺ کی حضوری اور آپ ﷺ کے جمال باکمال کا سرور آمیز تصور کر کے نیند کو دفع کرے جب آنحضرت ﷺ کے جمال کمال کا تصور اس کے دل و دماغ کو کیف حضوری کا سرور بخشے گا تو کہاں نیند رہے گی اور کہاں غفلت قرار چیست صبوری کدام وخواب کجا۔ مسجد نبوی ﷺ میں جب تک رہے اپنے دل، اپنی زبان اور تمام اعضاء کو برے کلمات و خیالات اور ہر خلاف اولیٰ فعل سے محفوظ رکھے اور محبوب دو عالم ﷺ کی حضوری کے تصور کے سوا اور کسی طرف متوجہ نہ ہو اگر کوئی اس کی مشغولیت میں مخل ہو تو اس سے کنارہ کشی اختیار کرے ہاں کسی سے نہایت ضروری گفتگو کرنی ہو تو مختصر کلام کر کے اسی جناب مقدس ﷺ کی طرف متوجہ ہوجائے، مسجد شریف کے آداب کے بطور خاص خیال رکھے تھوک وغیرہ وہاں نہ گرنے پائے مسجد میں آنے سے قبل روضہ اطہر اور منبر کے درمیان اپنا مصلے پہلے سے نہ بچھوائے رکھے بلکہ اس اگر اس مقدس مقام پر ادائیگی نماز کی فضیلت کے حصول کا شوق ہو تو سب سے پہلے مسجد میں پہنچنے کی کوشش کرے اور وہاں بیٹھ جائے اس مقدس مسجد میں جو نزول قرآن و جبرائیل کی جگہ ہے قرآن پاک ختم کرنے میں کوتاہی نہ کرے کم از کم ایک قرآن مجید کا ختم اس مسجد پاک میں ضرور کرے اگر ممکن ہو تو ایسی کتابیں پڑھے یا سنے جس میں آنحضرت ﷺ کے مبارک حالات و خصائل اور فضائل ہوں تاکہ آپ ﷺ کی ملاقات اور عبادت کا شوق فزوں ہو۔ قبر شریف کے سامنے سے جتنی مرتبہ بھی گزرنا ہو وہاں تمام آداب زیارت کو ملحوظ رکھ کر کھڑا ہوجائے اور آپ ﷺ کی خدمت میں سلام و صلوٰ ۃ پیش کرے، مدینہ منورہ اور مسجد نبوی ﷺ کے رہنے والوں اور خدمت گاروں کی محبت و تعظیم کو ہمہ وقت ملحوظ رکھے چاہے ان میں کوئی بات خلاف شریعت و سنت ہی کیوں نہ دیکھے کیونکہ آنحضرت ﷺ کی ہمسائیگی کا شرف ہی ان کی سب سے بڑی فضیلت ہے جو کسی گناہ و بدعت کی وجہ سے ختم نہیں ہوتا اور انہیں حسن خاتمہ و مغفرت کی سعادت سے محروم نہیں ہونے دیتا۔ دیار مقدس سے وطن کو واپسی جب مدینہ منورہ میں قیام کی مدت ختم ہوجائے اور اس مقام مقدس سے جدا ہو کر وطن کو روانہ ہونے کا ارادہ ہوجائے تو مصلی نبوی یا اس کے قریب نماز پڑھ کر اور دعا مانگ کر مسجد نبوی ﷺ سے رخصت ہو بعد ازاں آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر وحضرت عمر ؓ کی زیارت کرے اور اللہ تعالیٰ سے نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے اعزاء و احباب کے لئے کونین کی سعادتوں کے حصول کی دعا مانگے نیز دیار مقدس میں اپنی تمام عبادات کی قبولیت اور اپنے اہل و عیال کے پاس امن و سلامتی کے ساتھ پہنچنے کی درخواست کرے اور یہ دعا پڑھے (اللہم انا نسئلک فی سفرنا ہذا لبر والتقویٰ ومن العمل ما تحب وترضی اللہم لا تجعل ہذا آخر العہد بنبیک ومسجدہ وحرمہ ویسر لی العود الیہ والعکوف لدیہ وارزقنی العفو والعافیۃ فی الدنیا والآخرۃ ورددنا الی اھلنا سالمین غانمین آمنین۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ مقبولیت دعا اور حصول مقصد کی علامت یہ ہے کہ اس وقت بےاختیار آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں اور دل دیار محبوب کی جدائی کی حسرت و یاس سے معمور ہو بلکہ درحقیقت تمام اوقات دعا میں گریہ وزاری حصول رزق کا باعث اور امیدواری رحمت کی علامت ہے ایں دلم باغست وچشم ابروش ابر گرید باغ خندوشادوخوش!۔ اس وقت اگر خدانخواستہ کسی شخص پر حالت گریہ وزاری طاری نہ ہو تو وہ بہ تکلف اپنے اوپر یہ حالت طاری کرے اور ان باتوں کا تصور کرے جو ذوق اور گریہ و رقت کی حالت پیدا کریں کیونکہ اس وقت حالت گریہ ہی بہر صورت قبولیت کی علامت ہے اور پھر وہاں کی جدائی سے بہ چشم نم اور بہ حسرت و یاس رخصت ہو اور رخصت ہوتے وقت پچھلے پیروں نہ لوٹے کیونکہ یہ صرف خانہ کعبہ کے ساتھ مخصوص ہے اور وقت وداع جس قدر ہو سکے صدقہ و خیرات کرے اور ان تمام آداب کو ملحوظ رکھے جو سفر سے واپسی کے وقت کے سلسلہ میں منقول ہیں اور پھر جب اپنے شہر کے قریب پہنچ جائے تو یہ دعا پڑھے۔ (اللہم انی اسئلک خیرہا وخیر اھلہا وخیر ما فیہا واعوذبک من شرہا وشر اھلہا وشر ما فیہا اللہم اجعل لنا بہا قرار اور زقا حسنا)۔ اور جب شہر میں پہنچ جائے تو یہ دعا پڑھے۔ ( لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شیء قدیر اٰئبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون لاالہ الا اللہ وحدہ صدق وعدہ ونصر عبدہ وھزم الاحزاب وحدہ واعز جندہ فلا شیء بعدہ)۔ اور چاہئے کہ اپنے شہر و مکان تک پہنچنے سے پہلے اپنے اعزہ کو خبر کر دے کہ میں فلاں دن فلاں وقت پہنچ رہا ہوں بغیر اطلاع کے ایک دم نہ پہنچ جائے نیز اپنے شہر میں پہنچنے کا بہترین وقت چاشت ہے یا شام۔ رات کے وقت نہ پہنچے پھر جب اپنے مکان پہنچ جائے۔ تو مکان کے اندر جانے سے پہلے اگر وقت مکروہہ نہ ہو تو مسجد میں جا کردو رکعت نماز پڑھے دعا مانگے اور بخیر و عافیت وطن واپس پہنچ جانے پر باری تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ کہے الحمد للہ الذی بنعمتہ و جلالہ تتم الصالحات۔ الحمدللہ کہ آج مورخہ ١٩ ذی الحجہ ١٤٢٩ ھ مطابق 19 اکتوبر 2008 ء بروز اتوار بوقت ساڑھے سات بجے شب مظاہر حق جلد دوم کی کمپوزنگ اللہ رب العزت کی مدد سے اور توفیق سے مکمل ہوئی۔ حق تعالیٰ مجھ سیہ کار انسان کی اس خدمت کو قبول و مقبول فرمائے۔ آمین۔ صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وعلیٰ آلہ وا صحابہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین۔

2810Mishkaat-al-Masabih

خرید وفروخت کا بیان

اسلامی نقطہ نظر سے کائنات انسانی کی عملی زندگی کی دو محور ہیں اول حقوق اللہ کہ جسے عبادات کہتے ہیں اور دو حقوق العباد کہ جسے معاملات کہا جاتا ہے یہی دو اصطلاحیں ہیں جو انسانی نظام حیات کے تمام اصول وقواعد اور قوانین کی بنیاد ہیں ان دونوں میں چونکہ حقوق اللہ کی عمومیت حاصل ہے کہ اس کا تعلق کائنات انسانی کے ہر فرد سے ہے اس لئے مصنف کتاب نے پہلے ان کو بیان کیا اب اس کے بعد حقوق العباد یعنی معاملات کا بیان شروع کیا ہے جس کا سب سے اہم جزو بیع ہے۔ بیع کے معنی بیع کے معنی ہیں بیچنا یعنی فروخت کرنا لیکن کبھی اس کے معنی خریدنا بھی مراد ہوتے ہیں اس لئے بیع کا ترجمہ اصطلاحی طور پر خریدوفروخت کیا جاتا ہے۔ فخر الاسلام کا بیان ہے کہ اصطلاح شریعت میں آپس کی رضا مندی سے مال کے ساتھ مال بدلنا بیع کہلاتا ہے بیع کی شرعیت بیع یعنی خریدو فروخت کا شرعی ہونا قرآن کریم کی اس آیت (وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا) 2۔ البقرۃ 275) (اللہ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے) اور رسول کریم ﷺ کی احادیث جو ( آگے آئیں گی) سے ثابت ہے بیع کی قسمیں بیع یعنی خریدوفروخت میں بنیادی طور پر تین چیزیں ہوتی ہیں اول تو عقد بیع یعنی نفس معاملہ کہ ایک شخص کوئی چیز فروخت کرتا ہے اور دوسرا اسے خریدتا ہے دوم مبیع یعنی وہ چیز جس کو فروخت کیا جاتا ہے اور سوم ثمن یعنی قیمت ان تینوں کے اعتبار سے فقہی طور پر بیع کی کچھ قسمیں ہیں۔ چناچہ نفس معاملہ اور اس کے حکم کہ بیع صحیح ہوئی یا نہیں۔ کے اعتبار سے بیع کی چار قسمیں ہیں 1 نافذ 2 موقوف 3 فاسد 4 باطل بیع نافذ اس بیع کو کہتے ہیں کہ طرفین میں مال ہو یعنی بیچنے والے کے پاس بیع ہو خریدار کے پاس ثمن ہو اور عاقدین یعنی بیچنے والا اور خریدار دونوں عاقل ہوں نیز وہ دونوں بیع یا تو اصالۃ کریں یا وکالۃ اور دلالۃ جس بیع میں یہ تینوں چیزیں پائی جائیں گی وہ بیع بالکل صحیح اور نافذ ہوگی بیع موقوف اس بیع کو کہتے ہیں جس میں کوئی شخص کسی دوسرے کی چیز کو اس کی اجازت یا ولایت کے بغیر فروخت کرے۔ اس بیع کا حکم یہ ہے کہ جب تک کہ اصل مالک کی اجازت و رضا مندی حاصل نہ ہوجائے یہ بیع صحیح نہیں ہوتی۔ اجازت کے بعد صحیح ہوجاتی ہے بیع فاسد وہ بیع ہے جو باصلہ یعنی معاملہ کے اعتبار سے تو درست ہو مگر بوصفہ یعنی کسی خاص وجہ کی بنا پر درست نہ ہو بیع باطل اس بیع کو کہتے ہیں جو نہ باصلہ درست ہو اور نہ بوصفہ بیع فاسد اور بیع باطل کی تفصیل اور ان کی مثالیں انشاء اللہ باب المنہی عنہا من البیوع میں ذکر کی جائیں گی مبیع یعنی فروخت کی جانے والی چیز کے اعتبار سے بھی مبیع کی چار قسمیں ہیں۔ 1 مقائضہ 2 صرف 3 سلم 4 بیع مطلق بیع مقائضہ یہ ہے کہ مبیع بھی مال اور ثمن بھی مال ہو مثلا ایک شخص کپڑا دے اور دوسرا شخص اس کے بدلے میں اس کو غلہ دے۔ گویا بیع کی یہ وہ صورت ہے جسے عرف عام میں تبادلہ مال کہا جاتا ہے۔ بیع صرف یہ ہے کہ نقد کا تبادلہ نقد سے کیا جائے مثلا ایک شخص ایک روپیہ کا نوٹ دے اور دوسرا شخص اس کے بدلے میں ایک روپیہ کے پیسے دے یا ایک شخص اشرفی دے اور دوسرا شخص اس کے بدلے میں اسے روپیہ دے گویا روپیہ بھنانا یا روپیہ کی ریزگاری لینا دینا بیع صرف کی ایک قسم ہے۔ بیع سلم یہ ہے کہ بیچنے والا خریدار سے کسی چیز کی قیمت پیشگی لے لے اور یہ طے ہوجائے کہ خریدار یہ چیز اتنی مدت مثلا ایک دو مہینے کے بعد لے لے گا۔ بیع مطلق یہ ہے کہ کسی چیز کی بیع نقد کے عوض کی جائے مثلا بیچنے والا ایک من گیہوں دے اور خریدار اس کی قیمت کے طور پر تیس روپے ادا کرے۔ ثمن یعنی قیمت کے اعتبار سے بیع کی چار قسمیں یہ ہے۔ 1 مرابحہ 2 تولیت 3 ودیعت 4 مساومت مرابحہ کی یہ صورت ہے کہ بیچنے والا مبیع کو اپنے خریدار سے نفع لے کر فروخت کرے تولیت کی یہ صورت ہے کہ بیچنے والا مبیع کو بلا نفع کے اس قیمت پر فروخت کرے جتنی قیمت میں اس نے خود خریدی ہو اور مساومت کی صورت یہ ہے کہ بیچنے والا اور خریدار آپس کی رضا مندی سے کسی چیز کی خریدوفروخت چاہے جس قیمت پر کریں اور اس میں بیچنے والے کی قیمت خرید کا کوئی لحاظ نہ ہو۔

2811Mishkaat-al-Masabih

کسب اور طلب حلال کا بیان

کسب اور طلب حلال کا مطلب ہے اپنی معاشی ضروریات مثلا روٹی کپڑے وغیرہ کے حصول کے لئے کمانا اور پاک روزی و حلال پیشہ کو بہرصورت اختیار کرنا چناچہ اس باب میں کسب معاش کی فضیلت ذکر کی گئی ہے اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ کون سا کسب اور کون سا پیشہ اچھا ہے اور کون سا برا ہے۔ فقہ کی کتابوں میں اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ سب سے بہتر کسب وپیشہ جہاد ہے اس کے بعد تجارت٫ پھر زراعت اور پھر دستکاری یعنی کتابت وغیرہ۔ کسب یعنی کمانا فرض بھی ہے اور مستحب بھی اسی طرح مباح بھی ہے اور حرام بھی چناچہ اتنا کمانا فرض ہے جو کمانے والے اور اس کے اہل و عیال کی معاشی ضروریات کے لئے اور اگر اس کے ذمہ قرض ہو تو اس کی ادائیگی کے لئے کافی ہوجائے اس سے زیادہ کمانا مستحب ہے بشرطیکہ اس نیت کے ساتھ زیادہ کمائے کہ اپنے اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات سے جو کچھ بچے گا وہ فقراء و مساکین اور اپنے دوسرے مستحق اقرباء پر خرچ کروں گا اسی طرح ضروریات زندگی سے زیادہ کمانا اس صورت میں مباح ہے جب کہ نیت اپنی شان و شوکت اور اپنے وقار و تمکنت کی حفاظت ہو البتہ محض مال و دولت جمع کر کے فخر وتکبر کے اظہار کے لئے زیادہ حرام ہے اگرچہ حلال ذرائع ہی سے کیوں نہ کمایا جائے۔ کمانے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی کمائی کو اپنی ذات پر اور اپنے اہل و عیال پر اس طرح خرچ کرے کہ نہ تو اسراف میں مبتلا ہو اور نہ بخل وتنگی کرے۔ جو شخص کمانے اور اپنی روزی خود فراہم کرنے پر قادر ہو اس پر لازم ہے کہ وہ کمائے اور جس طرح بھی ہو سکے حلال ذرائع سے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ابرومندانہ زندگی کے تحفظ کے لئے معاشی ضروریات خود فراہم کر کے دوسروں پر بار نہ بنے ہاں جو شخص کسی بھی مجبوری اور عذر کی وجہ سے کسب و کمائی پر قادر نہ ہو تو پھر اس کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ وہ دوسروں سے سوال کر کے اپنی زندگی کی حفاظت کرے اگر اس صورت میں کوئی شخص محض اس وجہ سے کہ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا اس کی غیرت کو گوارا نہیں اس نے کسی سے سوال نہیں کیا یہاں تک کہ بھولو افلاس نے اس کی زندگی کے چراغ کو گل کردیا تو نہ صرف یہ کہ وہ اپنی موت کا خود ذمہ دار ہوگا بلکہ ایک گنہگار کی موت مرے گا۔ نیز جو شخص خود کما کر اپنا پیٹ بھرنے سے عاجز ہو تو اس کا حال جاننے والے پر یہ فرض ہے کہ وہ اس کی سفارش کرے جو اس کی مدد کرنے پر قادر ہو حضرت مولانا شاہ عبد العزیز دہلوی نے اس آیت کریمہ (يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ ) 2۔ البقرۃ 172) (اے مؤمنو تم صرف وہی پاک و حلال رزق کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے) کی تفسیر میں یہ لکھا ہے کہ سب سے بہتر کسب جہاد ہے بشرطیکہ جہاد کے ارادے کے وقت مال غنیمت کے حصول کا خیال دل میں قطعًا نہ ہو بلکہ نیت میں اخلاص ہو اس کے بعد تجارت کا درجہ ہے خاص طور پر وہ تجارت جو ایک ملک سے دوسرے ملک میں یا ایک شہر سے دوسرے شہر میں مسلمانوں کی ضروریات خاص کی چیزوں کو لانے لے جانے کا ذریعہ ہو اس قسم کی تجارت کرنے والا شخص اگر حصول منفعت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی خدمت اور ان کی حاجت روائی کی نیت بھی رکھے تو اس کی تجارت عبادت کی بھی ایک صورت بن جائے گی۔ تجارت کے بعد زراعت کا درجہ ہے زراعت کا پیشہ بھی دنیاوی منفعت کے علاوہ اجروثواب کا ایک بڑا ذریعہ بنا جاتا ہے جب کہ اس میں مخلوق اللہ یعنی انسانوں اور جانوروں کی غذائی ضروریات کی فراہمی کی نیت خیر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت یعنی بارش وہوا وغیرہ پر توکل اور اعتماد ہو ان تینوں پیشوں کے علاوہ اور پیشے آپس میں کوئی فضیلت نہیں رکھتے البتہ کتابت کا پیشہ بہتر درجہ ضرور رکھتا ہے کیونکہ اس پیشے میں نہ صرف یہ کہ علم کی خدمت ہوتی ہے بلکہ دینی علوم٫ شرعی احکام انبیاء اور بزرگوں کے احوال بھی یاد ہوجاتے ہیں۔ مذکورہ بالا پیشوں کے بعد ان پیشوں کا درجہ آتا ہے جو بقاء عالم اور معاشرت و تمدن کی اصل ضروریات کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے ہیں مثلا معماری٫ بیلداری٫ خشت سازی٫ چونا بنانا گھی اور تیل نکالنا روئی بیچنا سوت کا تنا کپڑے سینا اور آٹا پیسنا وغیرہ یہ تمام کسب اور پیشے ان پیشوں سے بہتر ہیں جو محض تکلف وتزئین اور اظہار امارت و دولت کے کام آتے ہیں جیسے زردوزی ونقاشی مٹھائی بنانا عطر بنانا بیچنا اور رنگریزی وغیرہ تاہم یہ پیشے بھی اگر حسب موقع ہوں بایں طور کہ ان کی وجہ سے خلاف شرع امور کا ارتکاب نہ ہوتا ہو تو ان میں بھی کچھ کراہیت نہیں ہے۔ بخلاف ان پیشوں کے جن میں آلودگی نجاست مخلوق اللہ کی بد خواہی گناہوں کے ارتکاب میں اعانت دین فروشی کذب وجہل سازی اور فریب ودغا کا دخل رہتا ہو جیسے شاخ کشی جاروب کشی دباغی احتکار غلہ حمالی مردہ شوئی کفن فروشی کٹنائی ناچنا گانا نقالی جرہ بازی (پہلے زمانے میں ایک مستقل پیشہ تھا کہ کچھ چہل باز شارع عام پر ایک شخص کو کھڑا کردیتے جو راہ چلتے آدمی کو کوکھ میں اس طرح ٹھوکا مار دیتا کہ اسے یہ پتہ نہ چلتا کہ یہ کس کی حرکت ہے چناچہ جب وہ اس پر حیران و پریشان ہوتا تو سب چہل باز اس پر قہق ہے لگاتے اس کو جرہ بازی کہتے تھے) نقالی دلالی اور وکالت (جس میں جھوٹ فریب سے کام لیا جاتا ہو) امام اذان اور خدمت مسجد کی اجرت اور قرآن کی تلاوت وتعلیم کا معاوضہ لینا وغیرہ یہ سب پیشے مکروہ ہیں (شاہ عبد العزیز ) مغنی الطالب میں لکھا ہے کہ کسب اور کسب کرنے والے کی فضیلت احادیث میں بہت منقول ہے اسی طرح جو شخص کسب پر قادر ہونے کے باوجود ازراہ کسل وسستی کسب نہ کرے بلکہ اپنی گزر اوقات کے لئے دوسروں سے مانگتا پھرے اس کے حق میں بڑی وعید بیان کی گئی ہے لیکن جو شخص اللہ کی رزاقی پر اعتماد و بھروسہ کرتے ہوئے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے اور نہ ہی اپنی دینی مصروفیات اور عبادت و اذکار میں خلل پڑنے کی وجہ سے کسب وغیرہ کرے تو اس وعید میں داخل نہیں بشرطیکہ اپنی امداد کے لئے دوسرے لوگوں کی طرف نہ تو اس کا دل متوجہ ہو اور نہ وہ کسی سے اپنی امداد واعانت کی توقع رکھتا ہو کیونکہ اسے سوال دلی کہتے ہیں جو سوال زبانی سے کہیں بدتر چیز ہے۔ جو شخص اتنا مال زر رکھتا ہو جو اس کی معاشی ضروریات کے لئے کافی ہو یا اوقات وغیرہ اسے بقدر ضروریات روپیہ پیسہ مل جاتا ہو (مطلب یہ کہ گھر بیٹھے اسے کسی بھی جائز وسیلے سے بقدر ضروریات آمدنی ہوجاتی ہو) تو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ عبادت وغیرہ میں مشغول رہے اپنے اوقات کسی کسب وغیرہ میں صرف نہ کرے٫ اسی طرح دینی علوم کی تعلیم دینے والے مفتی٫ قاضی اور اسی زمرہ کے دوسرے لوگوں کے لئے بھی یہی حکم ہے اگر یہ لوگ بقدر کفایت ضروریات آمدنی رکھتے ہوں تو ان کو اپنے امور ہی میں مصروف رہنا چاہئے کسب وغیرہ میں مصروف نہ ہوں۔ جو شخص کسی کسب مثلا تجارت وغیرہ کا پیشہ اختیار کرے تو اس پر فرض ہے کہ وہ صرف حلال اور جائز مال کمائے حرام سے کلیۃً اجتناب کرے اور اپنے پیشے وہنر میں احکام شرعی کی رعایت بہرصورت ملحوظ رکھے نیز اپنے پیشہ میں تمام تر محنت وجدوجہد کے باوجود اللہ کی ذات پر توکل و اعتماد رکھے کہ رزاق مطلق صرف اللہ تعالیٰ اور کسب محض ایک ظاہری وسیلہ کے درجہ کی چیز ہے اپنے پیشے وکسب کو رزاق ہرگز نہ سمجھے کیونکہ یہ شرک خفی ہے۔ حرام کسب کے ذریعے حاصل ہونے والے مال و زر سے مکمل پرہیز کرے کیونکہ اس کے بارے میں سرکار دو عالم ﷺ کی یہ وعید منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص حرام مال سے صدقہ و خیرات کرتا ہے تو اس کا صدقہ قبول نہیں ہوتا اور مال حرام اپنے پیچھے یعنی مالک کی موت کے بعد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں رہتا کہ وہ اپنے مالک کے لئے ایسا برا زاد راہ بن جاتا ہے جو اسے یعنی مالک کو دوزخ کی آگ میں پہنچا دیتا ہے۔ بعض لوگ حرام مال کی بڑی تعداد سے تو پرہیز کرتے ہیں لیکن قلیل مقدار میں احتیاط نہیں کرتے حالانکہ حرام مال کی قلیل ترین مقدار سے بھی اسی طرح اجتناب کرنا چاہئے جس طرح بڑی سے بڑی مقدار سے اجتناب ضروری ہے اس بارے میں یہ احساس ہونا چاہئے کہ حرام مال کی وہ قلیل ترین مقدار بقیہ تمام حلال مال میں مل کر سارے مال کو مشتبہ بنادیگی اور مشتبہ مال ومشتبہ پیشے کے بارے میں بھی یہ مسئلہ ہے کہ اس سے اجتناب ہی اولی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کو بطور ہدیہ وغیرہ کوئی ایسی چیز یا اییسا مال دے جس کی حرمت وحلت کے بارے میں شبہ ہو تو چاہئے کہ اس چیز یا اس مال کو اچھے انداز میں اور نرمی کے ساتھ دینے والے کو واپس کر دے ہاں اگر واپس کرنے دینے والا آزردہ خاطر ہو تو پھر واپس نہ کرنا چاہئے یہی حکم اس مشتبہ مال کی تحقیق کرنے کا بھی ہے کہ اگر وہ مشتبہ مال دینے والا آزردہ خاطر نہ ہو تو تب اس مال کی تحقیق کی جائے اور اگر وہ تحقیق کرنے سے آزردہ خاطر ہو تو پھر تحقیق بھی نہ کی جائے کیونکہ کسی مسلمان کو آزردہ خاطر کرنا حرام ہے جب کہ مشتبہ مال کی تحقیق کرنا ورع (تقوی) ہے اور اس بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ ورع کے لئے حرام کا ارتکاب نہ کرنا چاہئے ہاں جس مال کے بارے میں بالکل تحقیق ہو کہ یہ حرام محض ہے تو پھر اس کو واپس کردینا بہرصورت ضروری ہے اگرچہ دینے والا آزردہ خاطر ہی کیوں نہ ہو البتہ اگر اس مال کو واپس کرنے میں کسی فتنہ انگیزی کا خوف ہو تو پھر اسے بھی واپس نہ کرے بلکہ اسے لے کر کسی مضطرب کو دیدے اور اگر خود مضطر ہو تو اسے اپنے استعمال میں لے آئے۔ جس بازار میں حرام مال کی تجارت ہوتی ہو اس بازار سے بھی اجتناب کرنا چاہئے کہ اس میں خریدو فروخت نہ کرے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ فلاں مال حرام ہے مشتبہ ہے اس کی تحقیق و تفتیش ضروری نہیں کیونکہ حرمت وشبہ کے معلوم نہ ہونے کی صورت میں ہر جگہ اور ہر چیز کی تحقیق وتجسس محض وسوسہ ہے۔ غیر مشروع کسب کی اجرت بھی جرام ہے مثلا مردوں کے لئے ریشمی کپڑے سینا یا مردوں کے لئے سونے کے زیور بنانا اسی طرح غیر مشروع خریدو فروخت سے حاصل ہونے ولا نفع ومال بھی حرام ہے ی سے محتکرہ غلہ بیچنا تمام تجارتوں میں سب سے بہتر تجارت بزازی ہے اسی طرح تمام پیشوں میں سب سے بہتر پیشہ مشک بنانا وسینا ہے۔ خریدوفروخت میں کھوٹے سکوں کو پھیلانا قطعا ناجائز ہے اگر کھوٹے ہاتھ لگیں تو انہیں کنویں وغیرہ میں ڈال کر ضائع کردینا چاہئے۔ اسی طرح ہر تاجر اور دو کاندار کے لئے ضروری ہے کہ وہ معاملات میں مکروفریب سے کام نہ لے بات بات پر قسم نہ کھائے کسی چیز میں اگر کوئی عیب ہو تو اسے خریدار سے پوشیدہ نہ رکھے اپنی اشیاء کی تعریف و توصیف حقیقت سے زیادہ نہ کرے کوئی چیز کسی ایسے شخص کے ہاتھ فروخت نہ کرے جو اسے حرام کام میں استعمال کرے مثلا انگور کسی شراب ساز کو نہ بیچے یا ہتھیار وغیرہ کسی ڈاکو وقزاق وغیرہ کے ہاتھ فروخت نہ کرے دستکاروصنعت گر اپنی بنائی ہوئی چیز میں کھوٹ ملاوٹ اور غلط چیزوں کی آمیزش نہ کرے کیونکہ ایسی چیز سے حاصل ہونے والی اجرت و قیمت حرام ہوتی ہے ناپ تول میں کمی نہ کرے غبن ودھو کہ دہی میں اپنا دامن ملوث نہ کرے ہمہ وقت یہ تصور رکھے کہ ناجائز طریقوں اور حرام ذرائع سے حاصل ہونے والا ایک پیسہ بھی جنت میں داخل ہونے سے روک دے گا تھوڑے منافع پر اکتفاء کرے کہ یہ مستحب ہے اور جس تجارت وحرفت میں مشغول ہو اور اس سے اس کی ضروریات پوری ہوجاتی ہوں تو اسی پر قناعت کرے اس کی موجودگی میں دوسری تجارتوں اور دوسرے کاروبار کے ذریعے زیادہ کمانے کی حرص نہ رکھے بلکہ اپنے بقیہ اوقات کو آخرت کی بھلائیوں کو حاصل کرنے میں صرف کرے کیونکہ صرف اس دنیا کی فانی زندگی کی راحت وتعیش کے حصول میں ہمہ وقت لگے رہنا اور آخرت کی ابدی زندگی کی سعادتوں سے بےپرواہ ہوجانا عقل و دانش سے بعید تر بات ہے۔ اپنے ہاتھ کی محنت کی روزی سب سے بہتر ہے حضرت مقدام بن معدی کرب کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کبھی کسی نے اپنے ہاتھ کی محنت کی روزی سے بہتر کوئی کھانا نہیں کھایا یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے ہاتھوں کی محنت سے کمائی ہوئی روزی کھاتے تھے (بخاری) تشریح حضرت داؤد (علیہ السلام) اللہ کے ایک جلیل القدر نبی تھے اور ساتھ ہی اللہ نے انہیں دنیا کی سلطنت حکومت بھی عطا کی تھی۔ ان کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اپنی حکومت میں لوگوں سے اپنے بارے میں تجسس کرتے رہتے تھے چناچہ جو شخص ان کو نہیں پہچانتا تھا اس سے وہ دریافت کرتے کہ بتاؤ داؤد کیسا ہے؟ لوگوں میں اس کی سیرت و عادت کس درجے کی ہے اور اس کے بارے میں تمہارا تاثر کیا ہے ایک دن ایسا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ کو آدمی کی صورت میں ان کے پاس بھیجا انہوں نے اس سے بھی اس قسم کے سوال کئے اس نے کہا داؤد (علیہ السلام) ہیں تو بہت اچھے آدمی مگر اتنی بات ضرور ہے کہ وہ بیت المال سے روزی کھاتے ہیں بس یہ سننا تھا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے دل و دماغ میں ایک بجلی سی کوند گئی فورا اپنے پروردگار سے دعا کی کہ رب العالمین مجھے بیت المال سے مستغنی بنا دے اور مجھے کوئی ایسا ہنر عطا کر دے کہ جس سے میں اپنی روزی کما سکوں چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں زرہ بنانے کا ہنر عطا فرمایا منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں کو ایسی خاصیت عنایت کی کہ لوہا ان کے ہاتھوں میں پہنچتے ہی موم کی طرح نرم ہوجاتا تھا جس سے وہ زرہ بناتے اور جو چار چار ہزار درہم میں فروخت ہوتی بلکہ بعض علماء نے تو یہ لکھا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) ہر روز ایک زرہ بناتے اور اس کو چھ ہار درہم میں فروخت کرتے پھر اس چھ ہزار کو اس طرح صرف کرتے کہ دو ہزار تو اپنی ذات اور اہل و عیال پر خرچ کرتے اور چار ہزار درہم بنی اسرائیل کے فقراء و مساکین میں بطور صدقہ و خیرات تقسیم کردیتے۔ بہرکیف آنحضرت ﷺ نے مذکورہ بالا ارشاد گرامی کے ذریعے جہاں یہ ارشاد فرمایا کہ کسب یعنی اپنی روزی خود پیدا کرنا انبیاء کی سنت ہے جیسا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے عمل سے معلوم ہوا اس لئے تم بھی ان کے طریقے کو اختیار کرو وہیں گویا آپ نے اپنی روزی خود اپنی صنعت وحرفت کے ذریعے پیدا کرنے پر لوگوں کو ترغیب دلائی ہے کیونکہ اس میں بڑے بڑے فائدے ہیں مثلا جو شخص اپنی صنعت وحرفت سے کماتا ہے نہ صرف یہ کہ خود اسے منافع حاصل ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی صنعت وحرفت سے فائدہ پہنچتا ہے پھر یہ کہ ایسا شخص اپنے پیشے میں مصروف رہنے کی وجہ سے بری باتوں اور لہو ولعب سے محفوظ رہتا ہے نیز چونکہ اپنا کام اپنے ہاتھ سے کرنے کی وجہ سے کسرنفسی بھی پیدا ہوتی ہے اس لئے وہ اپنے نفس کی سرکشی سے بچتا ہے اور پھر سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ایسا شخص کسی کا محتاج نہیں رہتا کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرتا کسی کے آگے جھکتا نہیں اور اسے ایک ابرومندانہ زندگی حاصل رہتی ہے۔

2812Mishkaat-al-Masabih

صرف حلال مال کھانے کی فضیلت اور حرام مال سے بچنے کا اثر

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين فقال : ( يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا ) وقال : ( يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم ) ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر يمد يديه إلى السماء : يا رب يا رب ومطعمه حرام ومشربه حرام وملبسه حرام وغذي بالحرام فأنى يستجاب لذلك ؟ . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمام کمی اور عیوب سے پاک ہیں اس پاک ذات کی بارگاہ میں صرف وہی صدقات و اعمال مقبول ہوتے ہیں جو شرعی عیوب اور نیت کے فساد سے پاک ہوں۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ نے جس چیز (یعنی حلال مال کھانے اور اچھے اعمال) کا حکم اپنے رسولوں کو دیا ہے اسی چیز کا حکم تمام مؤمنوں کو بھی دیا ہے چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے آیت (یا ایہا الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحا) ( یعنی اے رسولو حلال روزی کھاؤ اور اچھے اعمال کرو) نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (یا ایہا الذین امنوا کلوا من طیبات ما رزقنکم) (یعنی اے مؤمنو تم صرف وہی پاک و حلال رزق کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطاء کیا ہے) پھر آپ ﷺ نے بطور مثال ایک شخص کا حال ذکر کیا کہ وہ طول طویل سفر اختیار کرتا ہے پراگندہ بال اور غبار آلودہ ہے وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتا ہے اور کہتا ہے اے میرے رب اے میرے رب یعنی وہ اپنے مقاصد کے لئے دعا مانگتا ہے حالانکہ کھانا اس کا حرام لباس اس کا حرام شروع سے اب تک پرورش اس کی حرام ہی غذاؤں سے ہوئی پھر کیونکر اس کی دعا قبول کی جائے۔ (مسلم) تشریح اس ارشاد گرامی میں پہلے تو حلال مال کمانے کی فضیلت اور اس کا حکم بیان کرتے ہوئے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کہ خود پاک ہے اور حلال رزق کو اس کی جناب پاک میں اس وجہ سے ایک نسبت حاصل ہے کہ حلال رزق بھی حرمت کی نجاستوں سے پاک ہوتا ہے تو تقاضاء عبودیت یہی ہے کہ بندہ حلال ہی رزق کھائے تاکہ اس پاک و حلال رزق کی وجہ سے اس بندہ کو بارگاہ الٰہی میں تقرب کی دولت حاصل ہو٫ اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ بتایا ہے کہ حرام مال سے اجتناب نہ کرنے کا اثر دعا کا قبول نہ ہونا ہے چناچہ اس بات کو آپ ﷺ نے اس مثال کے ذریعے ظاہر فرمایا ہے کہ ایک شخص حج یا اور عبادات کے لئے طول طویل سفر اختیار کرتا ہے وہ ان مقامات مقدسہ تک پہنچنے میں پوری مشقت وجد وجہد کرتا ہے جہاں مانگی جانے والی دعا باب قبولیت تک پہنچتی ہے یہاں تکہ کہ وہ ان مقامات تک پہنچ جاتا ہے وہاں پہنچ کر وہ اس حال میں دست سوال اٹھاتا ہے کہ سفر کی مشقت وطوالت کی وجہ سے اس کے بال پراگندہ ہیں پورا جسم گرد و غبار سے آلودہ ہے اور تضرع والحاح کی پوری کیفت اس پر طاری ہے ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں اس کی دعا بظاہر قبول ہونی چاہئے کیونکہ اول تو ایک عبادت گزار بندہ ہے پھر وہ مسافر بھی ہے اور مسافر کے بارے میں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ اس کی دعا باب قبولیت تک پہنچ کر رہتی ہے دوسرے یہ کہ اس جگہ دعا مانگ رہا ہے جہاں مانگی جانے والی ہر دعا کی لاج رکھی جاتی ہے غرضیکہ قبولیت دعا کے تمام آثار موجود ہیں مگر اس شخص کی دعا قبول نہیں ہوتی کیوں اس لئے کہ جاننے والا جانتا ہے کہ وہ حرام مال سے پرہیز نہیں کرتا گویا اس کی ساری محنت ومشقت اور اس کی ساری عبادت وحالت اس کی دعا کو صرف اس لئے مؤثر نہیں بنا سکی وہ حرام مال کھاتا ہے حرام لباس پہنتا ہے اور کمائی کے حرام ذرائع سے اجتناب نہیں کرتا اس سے معلوم ہوا کہ دعا کی قبولیت حلال رزق پر موقوف ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ دعا کے دو بازو ہیں (جن کے سہارے وہ دعا باب قبولیت تک پہنچتی ہے) ایک تو اکل حلال دوسرا صدق مقال یعنی حلال کھانا اور سچ بولنا۔

2813Mishkaat-al-Masabih

آنے والے زمانہ کے بارے میں ایک پیش گوئی

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يأتي على الناس زمان لا يبالي المرء ما أخذ منه أمن الحلال أم من الحرام . رواه البخاري

اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئیگا کہ آدمی کو جو مال ملے گا اس کے بارے میں وہ اس کی پرواہ نہیں کرے گا کہ یہ حلال ہے یا حرام (بخاری) تشریح قیامت کے قریبی زمانہ میں جہاں عام گمراہی کی وجہ سے افکار و اعمال کی اور بہت سی خرابیاں پیدا ہونگی وہیں ایک بڑی خرابی بھی پیدا ہوگی کہ لوگ حلال و حرام مال کے درمیان تمیز کرنا چھوڑ دینگے جس کو جو بھی مال ملے گا اور جس ذریعہ سے بھی ملے گا اسے یہ دیکھے بغیر کہ یہ حلال ہے یا حرام ہضم کر جائے گا اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ یہ پیش گوئی آج کے زمانہ پر پوری طرح منطبق ہے آج ایسے کتنے لوگ ہیں جو حلال و حرام مال کے درمیان تمیز کرتے ہیں ہر شخص مال و زر بٹورنے کی ہوس میں مبتلا ہے مال حلال ہے یا حرام ہے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی بس ہاتھ لگنا چاہئے کسی نے سچ کہا ہے (ہرچہ آمد بدہان شاں خورند و آنچہ آمد بزبان شان گفتند) یہ اس دور کی عام وبا ہے جس سے کوئی طبقہ اور کوئی جماعت محفوظ نہیں ہے۔

2814Mishkaat-al-Masabih

مشتبہ چیزوں سے بھی اجتناب کرنا چاہئے

وعن النعمان بن بشير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحلال بين والحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهاب استبرأ لدينه وعرضه ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه ألا وإن لكل ملك حمى ألا وإن حمى الله محارمه ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله وإذا فسدت فسد الجسد كله ألا وهي القلب

اور حضرت نعمان ابن بشیر راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حلال ظاہر ہے حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے لہذا جس شخص نے مشتبہ چیزوں سے پرہیز کیا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو پاک و محفوظ کرلیا ( یعنی مشتبہ چیزوں سے بچنے والے کے نہ تو دین میں کسی خرابی کا خوف رہیگا اور نہ کوئی اس پر طعن وتشنیع کرے گا اور جو شخص مشتبہ چیزوں میں مبتلا ہوا وہ حرام میں مبتلا ہوگیا اور اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو ممنوعہ چراگاہ کی مینڈ پر چراتا ہے اور ہر وقت اس کا امکان رہتا ہے کہ اس کے جانور اس ممنوعہ چراگاہ میں گھس کر چرنے لگیں۔ جان لو ہر بادشاہ کی ممنوعہ چراگاہ ہوتی ہے اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ چراگاہ حرام چیزوں ہیں اور اس بات کو بھی ملحوظ رکھو کہ انسان کے جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جب وہ درست حالت میں رہتا ہے یعنی جب وہ ایمان و عرفان اور یقین کے نور سے منور رہتا ہے تو اعمال خیر اور حسن اخلاق و احوال کی وجہ سے پورا جسم درست حالت میں رہتا ہے اور جب اس ٹکڑے میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے یاد رکھو گوشت کا وہ ٹکڑا دل ہے (بخاری ومسلم) تشریح حلال ظاہر ہے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ چیزیں تو وہ ہیں جن کا حلال ہونا سب کو معلوم ہے نیک کلام اچھی باتیں وہ مباح چیزیں ہیں جن کو کرنا یا جن کی طرف دیکھنا درست ہے شادی بیاہ کرنا اور چلنا پھرنا وغیرہ وغیرہ اسی طرح حرام ظاہر ہے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا حرام ہونا نص کے ذریعہ بالکل واضح طور پر معلوم ہوگیا ہے جیسے شراب خنزیر مردار جانور٫ جاری خون زنا سود جھوٹ غیبت چغل خوری امرد اور اجنبی عورت کی طرف بہ نظربد دیکھنا وغیرہ وغیرہ ایسے ہی کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جن کی حرمت یا حلت کے بارے میں دلائل کے تعارض کی بناء پر کوئی واضح حکم معلوم نہیں ہوتا بلکہ یہ اشتباہ ہوتا ہے کہ یہ حرام ہیں یا حلال ایسی کتنی ہی چیزیں ہیں جن کے حلال ہونے کی دلیلیں بھی ہیں اور حرام ہونے کی بھی اس صورت میں کوئی واضح فیصلہ کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی چیزوں کے بارے میں دونوں طرف کی دلیلوں میں سے کسی ایک طرف کی دلیل کو اپنی قوت اجتہاد اور بصیرت فکر ونظر کے ذریعہ راجح قرار دے کر کوئی واضح فیصلہ کرلیتے ہیں۔ بہرکیف مشتبہ چیز کے بارے میں علماء کے تین قول ہیں۔ -1 ایسی چیز کو نہ حلال سمجھا جائے نہ حرام اور نہ مباح یہی قول سب سے زیادہ صحیح ہے اور اسی پر عمل کرنا چاہئے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی چیز سے اجتناب کرنا ہی بہتر ہے۔ -2 ایسی چیز کو حرام سمجھا جائے -3 ایسی چیز کو مباح سمجھا جائے اب ان تینوں اقول کو ذہن میں رکھ کر مشتبہ کو بطور مثال اس طرح سمجھئے کہ مثلًا ایک شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا ایک دوسری عورت نے آ کر کہا کہ میں نے ان دونوں کو اپنا دودھ پلایا ہے اس صورت میں وہ منکوحہ عورت اس شخص کے حق میں مشتبہ ہوگئی کیونکہ ایک طرف تو عورت کا بیان ہے کہ میں نے چونکہ ان دونوں کو دودھ پلایا ہے اس لئے یہ دونوں رضاعی بہن بھئی ہوئے اور ظاہر ہے کہ رضاعی بھائی بہن کے درمیان نکاح درست نہیں ہوتا لہذا اس دلیل کا تو یہ تقاضا ہے کہ اس نکاح کو قطعًا ناجائز کہا جائے مگر دوسری طرف نکاح کے جائز رہنے کی یہ دلیل ہے کہ صرف یہ ایک عورت کی بات ہے جس پر کوئی شرعی گواہی نہیں ہے اس پر کیسے یقین کرلیا جائے کہ یہ عورت صحیح ہی کہہ رہی ہے ہوسکتا ہے کہ یہ محض بدنیتی کی وجہ سے یہ بات کہ کر ان دونوں کے درمیان افتراق کرانا چاہتی ہے اس صورت میں کہا جائے گا کہ نکاح جائز اور درست ہے دلائل کے اس تعارض کی وجہ سے لا محالہ یہی حکم ہوگا کہ یہ ایک مشتبہ مسئلہ ہوگیا ہے اس لئے اس شخص کے حق میں بہتر یہی ہوگا کہ وہ اس عورت کو اپنے نکاح میں نہ رکھے کیونکہ مشتبہ چیز سے اجتناب ہی اولی ہے مشتبہ چیز کی دوسری مثال یہ ہے کہ مثلا ایک شخص کے پاس کچھ روپے ہیں جن میں سے کچھ تو جائز آمدنی کے ہیں اور کچھ ناجائز آمدنی کے اس صورت میں وہ سب روپے اس شخص کے حق میں مشتبہ ہیں لہذا اس کو ان روپیوں سے اجتناب و پرہیز کرنا چاہئے۔ ارشاد گرامی میں حرام چیزوں کو ممنوعہ چراگاہ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح کوئی حاکم کسی خاص چراگاہ کو دوسروں کے لئے منوع قرار دے دیتا ہے جس کے نتیجہ میں لوگوں کے لئے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے جانوروں کو اس ممنوعہ چراگاہ سے دور رکھیں اسی طرح جو چیزیں شریعت نے حرام قرار دی ہیں وہ لوگوں کے لئے ممنوع ہیں کہ ان کے ارتکاب سے اجتناب و پرہیز واجب و ضروری ہے اور مشتبہ چیزوں میں مبتلا ہونے کو ممنوعہ چراگاہ کی مینڈ (منڈیر) پر عام جانور چرانے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح چرواہے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے جانوروں کو ممنوعہ چراگاہ سے دور رکھ کر چرائے تاکہ اس کے جانور اس ممنوعہ چراگاہ میں نہ گھس جائیں اور اگر وہ اپنے جانوروں کو ممنوعہ چراگاہ کی مینڈ پر چرائے گا تو پھر اس بات کا ہر وقت احتمال رہے گا کہ اس کے جانور ممنوعہ چراگاہ میں گھس جائیں جس کے نتیجہ میں اسے مجرم قرار دے دیا جائے گا اسی طرح انسان کو چاہئے کہ وہ مشتبہ چیزوں سے دور رہے تاکہ محرمات حارم چیزوں میں مبتلا نہ ہوجائے اس کے بعد آپ نے مذکورہ بالا تشبیہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ جان لو کہ ہر بادشاہ کا ایک ایسا ممنوعہ علاقہ ہوتا ہے جس میں جانور چرانا جرم سمجھا جاتا ہے (یہ گویا زمانہ جاہلیت کے بادشاہوں اور حکام کے بارے میں خبر دی ہے یا یہ کہ مسلمانوں میں سے ان بادشاہوں اور حکام کے بارے میں خبر دی ہے جو غیر عادل ہیں کیونکہ کسی علاقہ کی گھاس کو جانوروں کے چرنے سے روک کو ممنوعہ چراگاہ قرار دینا درست نہیں ہے) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ممنوعہ علاقہ حرام چیزیں ہیں کہ جن میں مبتلا ہونا لوگوں کے لئے ممنوع قرار دے دیا گیا ہے لہذا جو کوئی اس ممنوعہ علاقہ میں داخل ہوگا یعنی حرام چیزوں کا ارتکاب کرے گا اسے مستوجب عذاب قرار دیا جائے گا اور پھر ان حرام چیزوں میں بھی بعض چیزیں تو ایسی ہیں جن کے مرتکب کی بخشش ہی نہیں ہوگی جیسے شرک اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہیں کہ چاہے ان کے مرتکب کو بخشے چاہے نہ بخشے البتہ سچے دل کے ساتھ توبہ استغفار سے ہر چیز بخشی جائے گی۔ حضرت شیخ علی متقی نے اس موقع پر یہ ترتیب ضروری مباح مکروہ حرام کفر قائم کر کے لکھا ہے کہ جب بندہ اپنی معاشی تمدنی اور سماجی زندگی کے تمام گوشوں میں اس قدر ضرورت پر اکتفاء کرلیتا ہے جس سے اس کا وجود اور اس کی عزت باقی رہے تو وہ اپنے دین میں ہر خطرہ سے سلامت رہتا ہے مگر جب حد ضرورت سے گزرنے کی کوشش کرتا ہے تو حد مکروہات میں داخل ہوجاتا ہے یہاں تک کہ حرص وہوس حد مکروہات سے نکال کر محرمات کی مد میں داخل کردیتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا اگلا قدم کفر میں پہنچ جاتا ہے نعوذ باللہ من ذلک۔ حدیث کے آخر میں انسانی جسم میں گوشت کے اس ٹکڑے کی اہمیت بیان کی گئی ہے جسے دل کہا جاتا ہے چناچہ فرمایا کہ جب وہ ٹکڑا بگڑ جاتا ہے یعنی انکار شک اور کفر کی وجہ سے اس پر ظلمت طاری ہوجاتی ہے تو اس کے نتیجہ میں ارتکاب گناہ و مصیبت کی وجہ سے پورا جسم بگڑ جاتا ہے لہذا ہر عاقل وبالغ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے دل کی طرف متوجہ رہے اور اس کو خواہشات نفسانی میں منہمک ہونے سے روکے تاکہ وہ آگے بڑھ کر مشتبہ چیزوں کی حد میں داخل نہ ہوجائے کیونکہ جب دل خواہشات نفسانی کی طرف چل پڑتا ہے تو پھر اللہ کی پناہ وہ تمام حدوں کو پھلانگتا ہوا ظلمت کی آخری حدوں تک پہنچ جاتا ہے۔ آخر میں یہ سمجھ لیجئے کہ یہ حدیث اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ بدن کی بھلائی و بہتری حلال غذا پر موقوف ہے کیونکہ حلال غذا سے دل کو صفائی حاصل ہوتی ہے اور دل کی صفائی ہی سے تمام بدن اچھی حالت میں رہتا ہے بایں طور کہ اس کے ایک ایک عضو سے اچھے اعمال ہی صادر ہوتے ہیں اور تمام اعضاء کا برائی کی طرف میلان ختم ہوجاتا ہے۔ اور اب ایک بات یہ جان لیجئے کہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ حدیث علم و مسائل کے بڑے وسیع خزانے کی حامل ہے نیز جن حدیثوں پر اسلامی شرائع و احکام کا مدار ہے وہ تین ہیں ایک تو حدیث (انما الاعمال بالنیات) دوسری حدیث (من حسن اسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ) اور تیسری ہی ہے حدیث (الحلال بین) الخ۔

2815Mishkaat-al-Masabih

زانیہ کی اجرت مال حرام ہے

وعن رافع بن خديج قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثمن الكلب خبيث ومهر البغي خبيث وكسب الحجام خبيث . رواه مسلم

اور حضرت رافع ابن خدیج کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کتے کی قیمت ناپاک مال ہے زنا کار عورت کی اجرت حرام مال ہے سینگی کھینچنے والے کی کمائی ناپسندیدہ مال ہے۔ تشریح پہلے تو یہ سمجھ لیجئے کہ لفظ خبیث کے لغوی معنی، ناپاک اور برا، کے ہیں لیکن فقہی طور پر اس کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ ائمہ مجتہدین اور فقہاء حسب موقع و محل اس کے معنی کبھی حرام کبھی ناپاک اور کبھی مکروہ وغیرہ مراد لیتے ہیں۔ چنانچہ حضرت امام شافعی نے ثمن الکلب خبیث میں خبیث کے معنی حرام مراد لیتے ہوئے کہا ہے کہ حدیث سے چونکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ کتے کی قیمت کے طور پر حاصل ہونے والا مال حرام ہے اس لئے کتے کی خریدوفروخت بھی ناجائز ہے۔ کتا خواہ معلم (یعنی سدھایا ہوا ہو خواہ غیر معلم (یعنی سدھایا ہوا نہ) ہو حضرت امام اعظم ابوحنیفہ حضرت امام محمد اور بعض دوسرے ائمہ کا قول یہ ہے کہ ان کتوں چیتوں اور درندوں کی خریدو فروخت جائز ہے جن سے فائدے حاصل ہوتے ہیں خواہ وہ معلم ہوں یا غیر معلم ان حضرات نے ثمن الکلب خبیث کے بارے میں یہ کہا ہے کہ لفظ خبیث محض حرمت ہی پر دلالت نہیں کرتا جس کی واضح مثال اس حدیث کے الفاظ وکسب الحجام خبیث ہیں اگر لفظ خبیث سے حرام ہی مراد لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا سینگی کھینچنے والے کو جو اجرت حاصل ہوتی ہے وہ بھی حرام ہے حالانکہ متفقہ طور پر تمام علماء کے نزدیک وہ حرام نہیں ہے لہذا ثمن الکلب خبیث میں لفظ خبیث کے معنی ناپاک مراد لیتے ہوئے اس جملہ کا مطلب یہ ہوگا کہ کتے کی قیمت کے طور پر حاصل ہونے والا مال ناپاک یعنی مکروہ ہے حرام نہیں ہے۔ کسب الحجام خبیث میں لفظ خبیث کے معنی ناپسندیدہ مراد لئے گئے ہیں کیونکہ خود آنحضرت ﷺ کے بارے میں ثابت ہے کہ آپ نے سینگی کھنچوانے کی اجرت ادا کی ہے اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو آپ خود کیوں دیتے لہذا اس جملہ کا مطلب یہ ہوگا کہ سینگی کھینچنے والے کو اپنی اجرت کے طور پر جو مال ملتا ہے وہ ناپسندیدہ یعنی مکروہ تنزیہی ہے۔

2816Mishkaat-al-Masabih

کتے کی قیمت کا مسئلہ

وعن أبي مسعود الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن ثمن الكلب ومهر البغي وحلوان الكاهن

اور حضرت ابومسعود انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت بدکار عورت کی اجرت اور کاہن کے حلوان یعنی اس کی اجرت کے طور پر حاصل ہونے والے مال کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ تشریح کتے کی خریدوفروخت اور اس کی قیمت کے طور پر حاصل ہونے والے مال کے سلسلہ میں تفصیلی بحث اس سے پہلی حدیث کی تشریح میں کی جا چکی ہے چناچہ اس حدیث میں کتے کی قیمت کے ممنوع ہونے کا جو حکم بیان کیا گیا اس کے بارے میں حنفی علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ حکم اس وقت تھا جب کہ آنحضرت ﷺ نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا تھا نیز آپ نے کتوں سے فائدہ حاصل کرنی کی بھی ممانعت کردی تھی مگر پھر بعد میں آپ نے یہ اجازت دے دی تھی کہ کتوں سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے یہاں تکہ یہ بھی منقول ہے کہ ایک شخص نے ایک شکاری کتے کو مار ڈالا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ مالک کو اس کتے کے بدلہ میں ایک دنبہ دے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ نہ تو کتے کی خریدوفروخت جائز ہے اور نہ کسی کتے کو مار ڈالنے والے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اس کتے کی قیمت اس کے مالک کو ادا کرے کتا خواہ معلم ہو یا غیر معلم ہو اسی طرح خواہ اس کتے کا پالنا جائز ہو یا ناجائز ہو لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے اس کتے کی خریدو فروخت جائز قرار دی ہے جس سے فائدہ اٹھانا مقصود ہو مثلا گھر بار کی نگرانی یا ریوڑ گلوں کی نگہبانی وغیرہ نیز حضرت امام اعظم نے ایسے کتے کو مار ڈالنے والے کے لئے یہ ضروری قرار دیا ہے کہ وہ اس کتے کی قیمت اس کے مالک کو ادا کرے۔ بدکار عورت کے اس مال کا حکم جو اس نے اپنی بدکاری کی اجرت کے طور پر حاصل کیا ہو گذشتہ حدیث کی تشریح میں ذکر کیا جا چکا ہے کاہن اس شخص کو کہتے ہیں جو آنیوالے زمانہ کی خبریں بتایا کرتا ہے اسی طرح حلوان کے لغوی معنی اگرچہ شیرینی اور مٹھائی ہے لیکن اصطلاحی طور پر عربی میں حلوان اس اجرت کو کہتے ہیں جو کاہن آئندہ کی خبریں معلوم کرنے والے سے وصول کرتا ہے خواہ وہ مٹھائی اور کھانے وغیرہ کی صورت میں ہو یا کپڑے زیور اور نقدی وغیرہ کی شکل میں کاہن کی اجرت کو حلوان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح شیرینی اور مٹھائی کھانے سے طبیعت کو فرحت محسوس ہوتی ہے اسی طرح کاہن کو اپنی یہ اجرت لے کر بہت ہی فرحت محسوس ہوتی ہے کیونکہ بغیر کسی محنت ومشقت کے وہ اچھا خاصا مال بٹور لیتا ہے۔ یہ بات تو معلوم ہی ہوگی کہ جس طرح کاہن کے پاس جانا اور ان سے آئندہ کی خبریں معلوم کرنا حرام ہے اسی طرح پوشیدہ باتوں کو معلوم کرنے کے لئے نجومی اور پامسٹ وغیرہ کے پاس جانا اور ان کی بتائی ہوئی باتوں پر یقین کرنا حرام ہے اس بارے میں کسی عالم کا کوئی اختلاف نہیں ہے اس کی تفصیلی بحث انشاء اللہ باب السحر والکہانۃ میں آئے گی۔

2817Mishkaat-al-Masabih

خون بیچنا حرام ہے

وعن أبي حجيفة أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن ثمن الدم وثمن الكلب وكسب البغي ولعن آكل الربا وموكله والواشمة والمستوشمة والمصور . رواه البخاري

اور حضرت ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے خون کی قیمت کتے کی قیمت اور بدکار عورت کی اجرت کے طور پر حاصل ہونے والے مال کے استعمال سے منع فرمایا ہے نیز آپ نے سود لینے والے اور سود دینے والے گودنے والے اور گودوانے والے اور مصور پر لعنت فرمائی ہے۔ تشریح خون کی قیمت سے منع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے خون کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے کیونکہ خون نجس ہوتا ہے اور اس کی خریدوفروخت جائز نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ جس چیز کی خریدوفروخت ناجائز ہوتی ہے اس کی قیمت کے طور پر حاصل ہونے والا مال بھی ناجائز ہوتا ہے بعض حضرات نے ثمن الدم (خون کی قیمت) کو سینگی کھینچنے والے کی اجرت پر محمول کیا ہے اس صورت میں ممانعت کا تعلق مکروہ تنزیہی سے ہوگا کتے کی قیمت اور بدکار عورت کی اجرت کے بارے میں گزشتہ احادیث میں بیان کی جا چکی ہے۔ گودنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جسم کے کسی حصہ پر یا پورے جسم پر سوئی سے گود کر سرمہ یا تیل بھر دیتے ہیں جس سے سرمئی یا نیلے داغ ہوجاتے ہیں چناچہ آپ نے گودنے والے پر بھی اور گودوانے والے پر بھی لعنت فرمائی ہے۔ کیونکہ یہ فاسقوں اور غیر مسلموں کا کام ہے نیز اس طریقہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا شدہ جسم کی اصل خلقت میں تغیر وبدنمائی ہوتی ہے اگر کسی مسلمان کے جسم پر گودنے کے داغ ہوں تو اس کے بارے میں تعلیق القرار میں لکھا ہے کہ اسے کسی بھی تدبیر سے مٹا دیا جائے اور اگر زخم و خراش پیدا کئے بغیر کسی بھی تدبیر سے اس کو مٹانا ممکن نہ ہو تو پھر چھوڑ دیا جائے ان کو مٹانے کے لئے زخم وخراش کی تکلیف برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ہے تاہم بہرصورت اس قبیح فعل پر ندامت کے ساتھ توبہ کی جائے توبہ کے بعد گناہگار نہیں رہے گا۔ آپ نے مصور پر بھی لعنت فرمائی ہے لیکن مصور سے مراد یہ ہے وہ جانور کا فوٹو کھینچنے یا جاندار کی تصویر بنائے یا تصویر گاڑھے غیر جاندار چیزوں مثلا مکانات درخت اور پہاڑ وغیرہ کی تصویریں کھینچنا بنانا اور گاڑنا درست ہے۔ خطابی نے لکھا ہے کہ تصویر کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک تو یہ ہے کہ جس چیز پر تصویر بنائی جاتی ہے وہ چیز تصویر کی ایک ضمنی شئ ہوتی ہے اور تصویر مقصود بالذات ہوتی ہے مثلا جب فوٹو کھینچا جاتا ہے یا کاغذ پر تصویر بنائی جاتی ہے تو اس فوٹو یا تصویر کے کاغذ کی حیثیت محض ضمنی ہوتی ہے اصل مقصد کا تعلق تصویر سے ہوتا ہے دوسری قسم یہ ہے کہ جس چیز پر تصویر بنی ہوئی ہوتی ہے وہ چیز مقصود بالذات ہوتی ہے اور تصویر اس چیز کا ایک ضمنی وصف ہوتا ہے مثلا برتن دیواروں چھتوں قالینوں اور پردوں وغیرہ پر بنی ہوئی تصویریں۔ لہذا دوسری قسم کی خریدو فروخت جائز ہے جب کہ بنانا دونوں ہی کا ناجائز ہے۔

2818Mishkaat-al-Masabih

حرام چیزوں کی خرید وفروخت بھی حرام ہے

وعن جابر أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول عام الفتح وهو بمكة : إن الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام . فقيل : يا رسول الله أرأيت شحوم الميتة ؟ فإنه تطلى بها السفن ويدهن بها الجلود ويستصبح بها الناس ؟ فقال : لا هو حرام . ثم قال عند ذلك : قاتل الله اليهود إن الله لما حرم شحومها أجملوه ثم باعوه فأكلوا ثمنه

اور حضرت جابر سے روایت ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال مکہ میں رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے شراب مردار خنزیر اور بتوں کی خریدوفروخت کو حرام قرار دیا ہے جب آپ سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ہمیں مردار کی چربی کا حکم بھی بتائیے جو کشتیوں پر ملی جاتی ہے نیز اس سے چمڑوں کو چکنا کیا جاتا ہے اور لوگ (گھروں میں) اس سے چراغ جلاتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ مردار کی چربی بھی حرام ہے اس لئے اس سے یہ فائدے اٹھانے جائز نہیں پھر آپ نے اسی وقت یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہود پر لعنت فرمائے جب اللہ تعالیٰ نے مردار کی چربی کو حرام قرار دیا تو یہود (نے یہ حیلہ اختیار کیا کہ وہ) چربی کو پگھلاتے اور بیچ ڈالتے اور پھر اس کی قیمت کھا جاتے ( بخاری ومسلم) تشریح عطاء نے لکھا ہے کہ شراب وغیرہ کے مذکورہ بالا حکم میں باجا بھی داخل ہے کہ اس کی خریدوفروخت بھی جائز نہیں ہے نیز اگر کوئی شخص کسی باجے کو تلف کر دے تو اس پر ضمان یعنی مالک کو اس کی قیمت ادا کرنا واجب نہیں ہوتا۔ حضرت امام شافعی کا مسلم یہ ہے کہ مردار کی چربی کی خریدوفروخت تو جائز نہیں ہے لیکن اس چربی سے فائدہ اٹھانا یعنی اس کو کھانے اور آدمی کے جسم پر ملنے کے علاوہ اور کام میں استعمال کرنا جائز ہے خواہ کشتی پر ملے خواہ چراغ میں جلائے اور خواہ کسی اور کام میں لائے اسی طرح ان کے مسلک کے مطابق جو گھی یا زیت یا اور کوئی تیل نجاست پڑجانے کی وجہ سے نجس ہوگیا ہو تو اس کو چراغ میں جلانے یا اس کا صابون بنانا جائز ہے جب کہ جمہور کا مسلک یہ ہے کہ جس طرح مردار کی خریدوفروخت ناجائز ہے اسی طرح اس سے کسی بھی طرح کا فائدہ اٹھانا یعنی اس کی کسی بھی چیز کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہے کیونکہ مردار کی حرمت بطریق عموم ثابت ہے البتہ دباغت کیا ہوا چمڑا اس سے مستثنی ہے کیونکہ اس کا جواز خصوصی طور پر ثابت ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور ان کے متبعین علماء نے نجس زیت کو بیچنے کی اجازت دی ہے البتہ ان کے نزدیک نجس تیل کو چراغ میں جلانا بالخصوص مسجد میں جلانا مکروہ ہے۔ حدیث کے آخر میں یہودیوں کی ایک خاص عیاری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جب ان کے لئے مردار کی چربی کو حرام قرار دیا تو انہوں نے یہ حیلہ اختیار کیا کہ وہ چربی کو پگھلا کر اس کو بیچ دیتے تھے اور پھر اس کی قیمت کے طور پر حاصل ہونے والے مال کو اپنے استعمال میں لے آتے اور یہ کہتے تھے کہ اللہ نے تو چربی کھانے سے منع کیا ہے اور ہم چربی نہیں کھاتے بلکہ اس کی قیمت کے طور پر حاصل ہونے والا مال کھاتے ہیں گویا وہ جاہل چربی کو پگھلا کر یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے چربی کی حقیقت کو بدل دیا ہے کہ پگھلنے کے بعد وہ چربی نہیں رہ گئی ہے اس لئے اس صورت میں حکم الٰہی کی خلاف ورزی نہیں ہوتی آنحضرت ﷺ نے ان کی اس عیارانہ چال کی وجہ سے ان کو اللہ کی لعنت کا مستحق قرار دیا اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ایسا حیلہ اختیار کرنا کہ جس کے سبب سے حرام کا ارتکاب ہوتا ہو بالکل غلط ہے نیز یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ کسی چیز کی قیمت حکم کے اعتبار سے اسی چیز کے تابع ہے کہ اگر وہ چیز حرام ہوگی تو اس کی قیمت بھی حرام ہوگی اور جو چیز حلال ہوگی اس کی قیمت بھی حلال ہوگی۔

2819Mishkaat-al-Masabih

یہودیوں کی ایک عیاری

وعن عمر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : قاتل الله اليهود حرمت عليهم الشحوم فجملوها فباعوها

اور حضرت عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے ان پر مردار کی چربیاں حرام کی گیں تو انہوں نے اس کو پگھلایا تاکہ چربی کا نام باقی نہ رہے اور پھر اس کی خریدوفروخت شروع کردی اس کی وضاحت حدیث بالا میں کی جا چکی ہے۔ (بخاری ومسلم)

2820Mishkaat-al-Masabih

بلی کی خرید وفروخت کا مسئلہ

وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن ثمن الكلب والسنور . رواه مسلم

اور حضرت جابر کہتے کہیں کہ رسول کریم ﷺ نے کتے اور بلی کی قیمت کو استعمال میں لانے سے منع فرمایا ہے (مسلم) تشریح علامہ طیبی کہتے ہیں کہ بلی کی قیمت کو استعمال میں لانے کی یہ ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے چناچہ تقریبا تمام علماء نے بلی کی خریدوفروخت ہبہ کرنے اور عاریۃ دینے کو جائز کہا ہے البتہ حضرت ابوہریرہ اور تابعین میں سے کچھ حضرات اس حدیث کے ظاہری معنی کے پیش نظر اس کے جواز کے قائل نہیں تھے۔