Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 142 of 317

2821Mishkaat-al-Masabih

پچھنے لگانے کا پیشہ حلال ہے

وعن أنس رضي الله عنه قال : حجم أبو طيبة رسول الله صلى الله عليه و سلم فأمر له بصاع من تمر وأمر أهله أن يخففوا عنه من خراجه

اور حضرت انس کہتے ہیں کہ ابوطیبہ نے رسول کریم ﷺ کے پچھنے لگائے تو آپ نے اس کے مالکوں کو حکم دیا کہ وہ ابوطیبہ کی کمائی میں سے کم لیا کریں۔ تشریح اہل عرب کی عادت تھی کہ وہ اپنے غلاموں اور لونڈیوں کو مختلف پیشوں میں لگا دیتے تھے اور ان سے یہ طے کردیتے تھے کہ اجرت کے طور پر حاصل ہونے والے مال میں سے اتنا حصہ ہمارا ہوگا اور باقی کے تم حقدار ہوگے چناچہ ابوطیبہ نے جو بنی بیاضہ کے غلام تھے آنحضرت ﷺ کی خدمت گزاری کی تو آپ ان سے بہت خوش ہوئے اور ان کے مالکوں سے کہا کہ تم لوگ ابوطیبہ کی کمائی میں جو کچھ روزانہ لیا کرتے ہو اس میں کمی کردو۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ پچھنے لگانے کا پیشہ ایک حلال پیشہ ہے اور اس کی اجرت دینا جائز ہے نیز اس حدیث سے چند اور مسائل ثابت ہوتے اول یہ کہ علاج کرنا اور علاج کرانے کی اجرت دینا مباح ہے دوم یہ کہ مالک کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے غلام کو کمائی پر لگا دے اور اس کے کمائے ہوئے مال میں سے اپنا کوئی حصہ مقرر کرے سوم یہ کہ صاحب حق اور صاحب مطالبہ سے سفارش کرنا جائز ہے۔

2822Mishkaat-al-Masabih

اولاد کی کمائی کھانا جائز ہے

عن عائشة قالت : قال النبي صلى الله عليه و سلم : إن أطيب ما أكلتم من كسبكم وإن أولادكم من كسبكم . رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه . وفي رواية أبي داود والدارمي : إن أطيب ما أكل الرجل من كسبه وإن ولده من كسبه

اور حضرت عائشہ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو کچھ تم کھاتے ہو اس میں سب سے بہتر وہ چیز ہے جو تمہیں کمائی سے حاصل ہوئی ہے اور تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی ہے ( ترمذی نسائی ابن اجہ) تشریح اولاد کو کمائی اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ وہ ماں باپ کے آپس کے نکاح کے نتیجہ ہی میں پیدا ہوتی ہے گویا اس ارشاد کے ذریعہ اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ ماں باپ اگر خود کمانے کے قابل نہ ہوں تو ان کے لئے اپنی اولاد کی کمائی کھانا جائز ہے ہاں اگر ماں باپ اپنے دست وبازو کی محنت سے اپنے رزق کی راہیں خود بنا سکتے ہوں تو پھر ان کے لئے یہ جائز نہیں ہوگا کہ وہ اپنی اولاد پر بار بنیں البتہ اولاد کی خوشنودی ومرضی اگر یہی ہو کہ ماں اس کی کمائی کھائیں تو پھر بہرصورت اولاد کی کمائی کھانا جائز ہوگا چناچہ حنفی علماء کا یہی قول ہے۔ علامہ طیبی کہتے ہیں کہ اگر والدین محتاج ہوں تو ان کی ضور رت زندگی کی کفالت لڑکے پر واجب ہے لیکن حضرت امام شافعی کے مسلک میں اس وجوب کی شرط یہ ہے وہ کمانے سے معذور بھی ہوں جب کہ دوسرے علماء کے ہاں یہ شرط نہیں ہے۔

2823Mishkaat-al-Masabih

مال حرام کا حکم

وعن عبد الله بن مسعود عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يكسب عبد مال حرام فتيصدق منه فيقبل منه ولا ينفق منه فيبارك له فيه ولا يتركه خلف ظهره إلا كان زاده إلى النار . إن الله لا يمحو السيئ بالسيئ ولكن يمحو السيئ بالحسن إن الخبيث لا يمحو الخبيث . رواه أحمد وكذا في شرح السنة

اور حضرت عبداللہ بن مسعود رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ کوئی بندہ حرام مال کما کر اس میں سے صدقہ و خیرات کرتا ہو اور اس کا وہ صدقہ قبول کرلیا جاتا ہو یعنی اگر کوئی شخص حرام ذرائع سے کمایا ہوا مال صدقہ و خیرات کرے تو اس کا صدقہ قطعًا قبول نہیں ہوتا اور نہ اسے کوئی ثواب ملتا ہے اور نہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ شخص اس حرام کو اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہو اور اس میں اسے برکت حاصل ہوتی ہو یعنی حرام مال میں سے جو بھی خرچ کیا جاتا ہے اس میں بالکل برکت نہیں ہوتی اور جو شخص اپنے مرنے کے بعد حرام مال چھوڑ جاتا ہے اس کی حیثیت اس کے علاوہ اور کچھ نہیں رہتی کہ وہ مال اس شخص کے لئے ایک ایسا توشہ بن جاتا ہے جو اسے دوزخ کی آگ تک پہنچا دیتا ہے اور یہ بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ برائی کو برائی کے ذریعہ دور نہیں کرتا بلکہ برائی کو بھلائی کے ذریعہ دور کرتا ہے اسی طرح ناپاک مال ناپاک کو دور نہیں کرتا یعنی حرام مال برائی کو دور نہیں کرتا بلکہ حلال مال برائی کو دور کرتا ہے (شرح السنۃ) تشریح اللہ کی پناہ مال و زر کی ہوس انسان کو کتنا اندھا بنا دیتی ہے کہ وہ اس چند روزہ دنیا کی جائز و ناجائز آسائشوں کی خاطر عاقبت کی کبھی نہ ختم ہونیوالی زندگی کو تباہ و برباد کرلیتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ جس مال و زر کی خاطر وہ اپنی زندگی کو عزت و آبرو کی بڑی سے بڑی نیلام گاہ میں لا کھڑا کرتا ہے جس کے تنیجہ میں کبھی جھوٹ بولتا ہے کبھی مکروفریب سے کام لیتا ہے کبھی دوسروں کا حق غصب کرتا ہے کبھی غریبوں کا خون چوستا ہے یہاں تکہ کہ اپنے دین و ایمان کا سودا کرتا ہے اپنے ضمیر کو گروی رکھتا ہے اپنی عزت کو داؤ پر لگاتا ہے اور انسانی شرف و عظمت کی ساری حدوں کو پار کرجاتا ہے آخر کار ان تمام ذرائع اور حرام طریقوں سے کمایا ہوا وہی مال وزر اپنے کمانے والے کے لئے بعد مرگ ایک ایسا توشہ اور ذریعہ بن جاتا ہے جو اسے جہنم کی آگ تک پہنچا دیتا ہے کیونکہ اول تو حرام ذرائع سے کمانے اور پھر اس کمائی سے فائدہ اٹھانے کا گناہ اس پر ہوتا ہے اس کے علاوہ مرنے کے بعد وہ جو کچھ حرام مال وزر چھوڑ جاتا ہے وہ یکے بعد دیگرے اس کے وارثوں کی ملکیت میں جاتا ہے جس سے فائدہ اٹھانے کی وجہ سے وہ سب گناہ و معصیت میں مبتلا ہوتے ہیں اور انجام کار اس حرام مال کے ذریعہ قیامت تک صادر ہونے والے گناہوں کی سیاہی اس کے نامہ اعمال کو داغدار کرتی رہتی ہے۔ (ان اللہ لا یمحوا لسئی) یہ جملہ مستانفہ یعنی ایک علیحدہ جملہ ہے جو بمنزلہ تعلیل عدم قبول یعنی مال حرام کے صدقہ کے قبول نہ ہونے کی علت کو بیان کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ حرام مال میں سے صدقہ دینا ثواب کا ذریعہ تو کیا ہوتا یہ خود ایک برائی اور گناہ ہے اور اللہ تعالیٰ برے اعمال کو برائیوں کے ذریعہ دور نہیں کرتا یعنی اگر کوئی یہ چاہے کہ اپنے حرام مال میں سے کچھ اللہ کے نام پر صدقہ دے کر اپنے گناہوں میں تخفیف کا سامان کرے تو یہ ناممکن ہے کیونکہ حرام مال میں سے صدقہ دینا خود گناہ ہے بلکہ بعض علماء نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اگر کوئی حرام مال میں سے صدقہ و خیرات کرے اور پھر اس پر ثواب کی امید رکھے تو وہ کفر کی حد تک پہنچ جاتا ہے نیز اگر کسی فقیرومحتاج کو یہ معلوم ہوجائے کہ اسے صدقہ دینے والا بطور صدقہ جو مال دے رہا ہے وہ حرام ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے اور اس کے باوجود وہ صدقہ دینے والے کے لئے دعا کرے تو وہ بھی کفر کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔ (ولکن یمحوا السیئی بالحسن) کا تعلق ما قبل کے جملہ سے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ گناہوں میں تخفیف یا گناہوں کی بخشش تو نیک اعمال اور اچھے کاموں کے ذریعہ ہوتی ہے مثلا حلال میں سے صدقہ کرنا ایک نیک عمل ہے جو شخص اپنے حلال مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا اسے اس کا ثواب بھی ملے گا اور اس کے گناہ بھی دور کئے جائیں گے گویا اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے آیت (اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّ يِّاٰتِ ) 11۔ ہود 114) (بلاشبہ نیکیاں برائیوں کو دور کرتی ہیں) اور یہ سب جملے اصل حدیث کی آخری عبارت (ان الخبیث) کی تمہید ومقدمہ کے طور پر ہیں۔

2824Mishkaat-al-Masabih

حرام مال کھانے پر وعید

وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يدخل الجنة لحم نبت من السحت وكل لحم نبت من السحت كانت النار أولى به . رواه أحمد والدارمي والبيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت جابر راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ گوشت جس نے حرام مال سے پرورش پائی ہے جنت میں داخل نہیں ہوگا اور جو گوشت یعنی جو جسم حرام مال سے نشو و نما پائے وہ دوزخ کی آگ ہی کے لائق ہے (احمد دارمی بیہقی) تشریح حرام مال سے نشو و نما پانے والے جسم کے دوزخ میں داخل ہونے سے مراد یا تو یہ ہے کہ ایسا شخص شروع میں نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوگا بلکہ اس نے جتنا حرام مال کھایا ہوگا اس کے بقدر جب سزا بھگت لے گا تو اس کو جنت میں داخل کیا جائے گا یا یہ کہ ایسا شخص جنت کے اعلی درجات میں داخل نہیں ہو سکے گا یا یہ مراد ہے وہ لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے جو حرام مال کو حرام مال سمجھ کر نہیں بلکہ حلال مال یقین کر کے کھاتے ہیں یا پھر یہ کہ اس ارشاد گرامی کا اصل مقصد حرام مال کھانے کی برائی بیان کرنا ہے اور اس سے مراد زجر و توبیخ تہدید اور سخت وعید ہے۔ جو شخص حرام مال کھانے کمانے کے بعد اپنے اس قبیح فعل پر ندامت و شرمندگی کے ساتھ سچے دل سے توبہ کرے یا اللہ تعالیٰ اس کو بغیر توبہ کے محض اپنے فضل و کرم سے بخش دے اور اس نے جن لوگوں کا مال حرام طریقوں سے کمایا ہوگا ان کو راضی کر دے اور یا اسے کسی کی شفاعت حاصل ہوجائے تو وہ شخص اس وعید سے مستثنی ہوگا۔

2825Mishkaat-al-Masabih

شبہات میں پڑنے سے بچو

وعن الحسن بن علي رضي الله عنهما قال : حفظت من رسول الله صلى الله عليه و سلم : دع ما يريبك إلى ما لا يريبك فإن الصدق طمأنينة وإن الكذب ريبة . رواه أحمد والترمذي والنسائي وروى الدارمي الفصل الأول

اور حضرت حسن ابن علی کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کے اس ارشاد گرامی کو خود سنا ہے اور اسے یاد رکھا ہے کہ جو چیز تم کو شک میں ڈالے اس کو چھوڑ دو اور اس چیز کی طرف میلان رکھو جو تم کو شک میں نہ ڈالے کیونکہ حق دل کے اطمینان کا باعث ہے اور باطل شک وتردد کا موجب ) تشریح ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ شبہات میں پڑنے سے بچو اور جو چیزیں شبہات میں مبتلا کرنے والی ہوں ان سے اجتناب کرو بعض علماء کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ ازقسم اقوال و اعمال جس چیز کی حلت و حرمت کے بارے میں تمہارا ضمیر شک میں مبتلا ہوجائے تو اس چیز کو چھوڑ کر اس چیز کو اختیار کرلو جس کے بارے میں تمہارا ضمیر کسی شک میں مبتلا نہ ہو کیونکہ انسان کا ضمیر چونکہ غلط راہنمائی نہیں کرتا اس لئے کسی چیز کے بارے میں ضمیر کا شک میں مبتلا ہونا اس چیز کے غلط اور باطل ہونے کی علامت ہے اور کسی چیز کے بارے میں ضمیر کا مطمئن ہوجانا اس چیز کے صحیح اور حق ہونے کی علامت ہے گویا کسی چیز کے صحیح یا غلط ہونے اور اس کے حلال یا حرام ہونے کی پہچان کے لئے یہ ایک قاعدہ اور کسوٹی ہے تاہم یہ ذہن نشین رہنا چاہئے کہ یہ بات ہر شخص کو حلال نہیں ہوتی بلکہ یہ وصف خاص ان صالح انسانوں کو نصیب ہوتا ہے جن کے ذہن وفکر اور جن کے دل و دماغ تقوی و ایمان داری اور راستبازی وحق پسندی کے جوہر سے معمور ہوتے ہیں۔

2826Mishkaat-al-Masabih

اچھائی اور برائی کی پہچان

وعن وابصة بن معبد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا وابصة جئت تسأل عن البر والإثم ؟ قلت : نعم قال : فجمع أصابعه فضرب صدره وقال : استفت نفسك استفت قلبك ثلاثا البر ما أطمأنت إليه النفس واطمأن إليه القلب والإثم ما حاك في النفس وتردد في الصدر وإن أفتاك الناس . رواه أحمد والدارمي

اور حضرت وابصہ ابن معبد کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا وابصہ تم یہی پوچھنے آئے ہو ناں کہ نیکی کیا ہے اور گناہ کیا ہے میں نے عرض کیا کہ جی ہاں ان کا بیان ہے کہ یہ سن کر آپ نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کیا اور میرے سینے پر مار کر فرمایا کہ اپنے آپ سے دریافت کرو اپنے دل سے دریافت کرو آپ ﷺ نے یہ الفاظ تین مرتبہ فرمائے اور پھر فرمایا کہ نیکی وہ ہے جس سے انسان خود مطمئن ہوجائے اور جس سے اس کے دل کو سکون حاصل ہوجائے اور گناہ وہ ہے جس سے انسان کا وجود خلش محسوس کرے اور جس سے اس کے دل و سینہ میں شک و تردد پیدا ہوجائے اگرچہ لوگ اسے صحیح کہیں (احمد، دارمی) تشریح اس ارشاد گرامی میں نیکی وبدی اور اچھائی و برائی کو پہچاننے کی ایک ایسی واضح علامت بتائی گئی ہے جسے ہر صالح انسان اپنے ہر قول و فعل کی کسوٹی بنا سکتا ہے جس قول اور جس عمل پر اپنا جی مطمئن ہوجائے اور دل سکون محسوس کرے تو سمجھنا چاہئے کہ وہ قول یا عمل نیک اور اچھا ہے اور جس قول یا عمل پر طبیعت میں خلش وچبھن اور دل میں شک وتردد کی کسک پیدا ہوجائے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ قول یا فعل غلط اور برا ہے چناچہ حدیث کا حاصل یہی ہے کہ ہر قول وفعل کے بارے میں خود اپنے ضمیر کی راہنمائی حاصل کرو جس چیز سے خاطر جمعی حاصل ہو اور دل میں یہ خلجان نہ ہو کہ یہ بری ہے سمجھو کہ وہی نیکی ہے اور جس چیز سے خاطر جمعی حاصل نہ ہو اور دل میں تردد وخلجان پیدا ہوجائے سمجھو کہ وہی گناہ ہے اگرچہ لوگ اس چیز کے بارے میں یہی کیوں نہ کہیں کہ یہ صحیح اور اچھی ہے اور کوئی مفتی اس کے صحیح ہونے کا فتوی ہی کیوں نہ دیدے لہذا ان کے کہنے پر عمل نہ کرو۔ مثلا اگر کسی شخص کے بارے میں تمہیں یہ معلوم ہو کہ اس کے پاس حلال مال بھی ہے اور حرام مال بھی اور وہ شخص تمہیں اپنے مال میں سے کچھ دینا چاہتا ہے تو اگر تمہارا دل اس پر مطمئن ہو کہ وہ تمہیں جو مال دے رہا ہے وہ وہی مال ہے جو اس نے صرف حلال ذرائع سے کمایا ہے تو تم لے لو اور اگر تمہارا دل مطمئن نہ ہو اور تمہیں یہ خوف ہو کہ کہیں یہ وہ مال نہ ہو جو اس نے حرام ذرائع سے کمایا ہے تو تم اس سے ہرگز کچھ نہ لو اگرچہ وہ خود یہ کہے کہ میں تمہیں اپنے حلال میں سے دے رہا ہوں اور کوئی مفتی یہ فتوے بھی دے رہا ہو کہ تمہارے لئے یہ مال لینا جائز ہے کیونکہ فتوی اور چیز ہے اور تقوی اور چیز ہے تقوی پر عمل کرنا فتوی پر عمل کرنے سے کہیں بہتر ہے۔ گزشتہ حدیث کی تشریح میں بھی یہ بات بتائی جا چکی ہے کہ ضمیر کی صحیح راہنمائی کا جوہر ہر شخص کو نصیب نہیں ہوتا اور اب اس موقع پر بھی جان لیجئے کہ حدیث میں اپنے دل سے دریافت کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس کا تعلق ان صالح لوگوں سے ہے جن کے دل خواہشات نفسانی کی کدورت سے صاف اور تقوی و خدا ترسی کے جوہر سے معمور ہوتے ہیں کیو کہ ان کے طبائع اور ان کے قلوب صرف خیروبھلائی کی طرف مائل اور برائی سے بیزار رہتے ہیں جبکہ برے لوگ نفسانی خواہشات میں گرفتار رہتے ہیں اور نیکی و بھلائی سے بےاعتنائی اختیار کئے ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں انہیں ضمیر کی صحیح راہنمائی حاصل نہیں ہوسکتی نیز یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہئے کہ اپنے دل سے دریافت کرنے کا یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ کسی چیز کے بارے میں کوئی واضح شرعی فیصلہ سامنے نہ ہو چناچہ جب کسی چیز کے حکم کے بارے میں قرآن کی آیتوں میں تعارض نظر آئے تو واجب ہے کہ حدیث کی طرف رجوع کیا جائے حدیث جس آیت کے مطابق فیصلہ کرے اسی آیت پر عمل کیا جائے اگر حدیثوں میں بھی تعارض ہو تو پھر علماء کے اقوال کی طرف رجوع کرنا واجب ہے اور اگر علماء کے اقوال میں بھی تعارض ہو تو پھر اس کے بعد اپنے دل کی راہنمائی حاصل کرے اور ان اقوال میں سے اس قول کے مطابق عمل کرے جس کو اپنا دل صحیح و راجح تسلیم کرے اور اس پر مطمئن ہوجائے۔ آخر میں یہ بتادینا ضروری ہے کہ جب حضرت وابصہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنی حاضری کا مقصد خود بیان نہیں کیا تھا بلکہ یہ اعجاز نبوت تھا کہ آنحضرت ﷺ نے ازخود ازراہ مکاشفہ ان کے دل کی بات بیان فرما دی نیز آنحضرت ﷺ نے اپنی انگلیاں اٹھا کر ان کے سینہ پر اس لئے ماریں تاکہ آپ کے مبارک ہاتھوں کی برکت کی وجہ سے ان کو آپ کے کلام کی پوری سمجھ حاصل ہوجائے دوسرے ان کے دل کی طرف اشارہ کرنا بھی مقصود تھا کہ دل یہاں ہے اس سے دریافت کرلو۔

2827Mishkaat-al-Masabih

کامل پرہیزگاری کا درجہ

وعن عطية السعدي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يبلغ العبد أن يكون من المتقين حتى يدع ما لا بأس به حذرا لما به بأس . رواه الترمذي وابن ماجه

اور حضرت عطیہ سعدی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بندہ اس وقت تک کامل پرہیزگاروں کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ ان چیزوں کو نہ چھوڑ دے جن میں کوئی قباحت نہیں ہے تاکہ اس طرح وہ ان چیزوں سے بچ سکے جن میں قباحت ہے (ترمذی ابن ماجہ) تشریح شرعی نقطہ نظر سے متقی یعنی پرہیزگار وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو ان چیزوں سے دور رکھے جنہیں اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے عذاب کا سبب ہو۔ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ تقوی یعنی پرہیزگاری کے تین درجے ہیں۔ اول شرک سے اجتنا ب چنانچہ جو بندہ شرک سے بچتا ہے وہ دائمی عذاب سے نجات پاتا ہے اس آیت کریمہ (وَاَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى) 48۔ الفتح 26) ( اور اللہ نے ان مؤمنوں کو پرہیزگاری کی بات (یعنی توحید پر قائم کیا) میں یہی درجہ مراد ہے۔ دوم ہر گناہ یہاں تک کہ صغیرہ گناہوں سے بھی اجتناب۔ چناچہ بعض علماء کے نزدیک تقوی کی جو مشہور شرعی اصطلاح ہے اس کا اطلاق اسی درجہ پر ہوتا ہے اور اس آیت کریمہ (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰ ي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا) 7۔ الاعراف 96) (اور اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور پرہیزگار ہوجاتے) میں بھی یہی درجہ مراد ہے۔ سوم ہر چیز میں پوری احتیاط ملحوظ رکھنا یہاں تک کہ بعض مباح چیزوں کو بھی احتیاط اور مصلحت کے پیش نظر ترک کردینا اپنا دل غیر اللہ میں نہ لگانا اور غیر اللہ سے اپنا دھیان ہٹا کر صرف اسی کی طرف متوجہ رکھنا چناچہ اس آیت کریمہ (يٰ اَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِھ) 3۔ آل عمران 102) (اے مؤمنو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے) میں تقوی کے یہی معنی مراد ہیں اور مذکورہ بالا حدیث میں بھی تقوی یعنی پرہیزگاری کا یہی کامل درجہ مراد ہے۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ کوئی بندہ اس وقت تک پورا متقی و پرہیزگار نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اس خوف کی وجہ سے مباح چیزیں بھی نہیں چھوڑ دیتا کہ مبادا یہ مباح چیز کسی حرام یا مکروہ یا مشتبہ چیز تک پہنچنے کا ذریعہ بن جائے مثلا اگر وہ شادی شدہ نہ ہو تو شہوت کا غلبہ بھی زیادہ ہوتا ہے اسی طرح خوشبو وغیرہ نہ لگائے اور نہ کوئی ایسی مباح چیز استعمال کرے جس سے جذبات میں ہیجان پیدا ہوتا ہو بہرکیف حرام مکروہ اور مشتبہ چیزوں سے اجتناب کے بعد احتیاط کے پیش نظر بعض مباح چیزوں سے بھی بچنا تقوی و پرہیزگاری کا کامل ترین درجہ ہے چناچہ حضرت عمر فاروق ؓ فرمایا کرتے تھے کہ ہم لوگ حرام میں مبتلا ہوجانے کے خوف سے دس حلال حصوں میں سے نو حصے چھوڑ دیتے تھے۔ اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق کے بارے میں منقول ہے وہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم لوگ حرام میں مبتلا ہوجانے کے خوف سے از قسم مباح ستر حصے ترک کردیتے تھے۔

2828Mishkaat-al-Masabih

متعلقین شراب پر لعنت

وعن أنس قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الخمر عشرة : عاصرها ومعتصرها وشاربها وحاملها والمحمولة إليه وساقيها وبائعها وآكل ثمنها والمشتري لها والمشترى له . رواه الترمذي وابن ماجه

حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے شراب کے معاملہ میں ان دس آدمیوں پر لعنت فرمائی ہے 1 شراب کشید کرنے والا 2 شراب کشید کر انیوالا 3 شراب پینے والا 4 شراب اٹھانے والا یعنی وہ شخص جو کسی کو شراب اٹھا کر دے 5 شراب اٹھوانے والا یعنی وہ شخص جو کسی کو شراب اٹھا لانیکا حکم دے 6 شراب پلانے والا 7 شراب بیچنے والا 8 شراب کی قیمت کھانیوالا 9 خریدوانے والا یعنی وہ شخص جو کسی دوسرے کے پینے کے لئے یا اس کی تجارت کے لئے بطریق وکالت یا بطریق ولایت 10 شراب خریدے خریدوانے والا یعنی وہ شخص جو کسی دوسرے سے اپنے پینے یا اپنی تجارت کے لئے شراب خرید منگوائے تشریح کشید کرنے والے سے مراد وہ شخص ہے جو شراب بنانے کے لئے انگور کا شیرہ کشید کرے خواہ اپنے لئے کشید کرے خواہ دوسرے کے لئے اسی طرح کشید کرانے والا خواہ اپنے لئے کشید کرائے خواہ دوسرے کے لئے بہرصورت وہ لعنت کا مستحق ہے بیچنے والے سے مراد وہ شخص بھی ہے جو خود اپنی تجارت کے طور پر شراب بیچتا ہو اور وہ شخص بھی مراد ہے جو کسی دوسرے کی طرف سے بطور دلال یا بطور وکیل بیچتا ہو نیز جو شخص شراب کشید کرنے والے کے ہاتھ انگور بیچتا ہے اور اس انگور کی قیمت کے طور پر حاصل ہونیوالا مال کھاتا ہے وہ بھی اس لعنت کا مستحق ہے۔ اور حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے شراب پر شراب پینے والے پر شراب بیچنے والے پر شراب خریدنے والے پر شراب کشید کرنے والے پر شراب کشید کرانے والے پر شراب اٹھانے والے پر شراب اٹھوانے والے پر تشریح شراب پر اللہ تعالیٰ نے لعنت اس لئے فرمائی ہے کہ شراب ام الخبائث یعنی تمام برائیوں کی جڑ ہے تاہم یہ احتمال بھی ہے کہا یہاں شراب سے مراد وہ شخص ہو جو شراب کی قیمت کے طور پر حاصل ہونیوالا مال کھاتا ہے۔

2829Mishkaat-al-Masabih

پچھنے لگانے والے کی کمائی کا حکم

وعن محيصة أنه استأذن رسول الله صلى الله عليه و سلم في أجرة الحجام فنهاه فلم يزل يستأذنه حتى قال : اعلفه ناضحك وأطعمه رقيقك . رواه مالك والترمذي وأبو داود وابن ماجه

حضرت محیصہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پچھنے لگانے والے کی کمائی کھانے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے انہیں منع کردیا چناچہ جب وہ آپ ﷺ سے بار بار اجازت مانگتے رہے تو آپ نے انہیں یہ حکم دیا کہ اس کمائی کا مال اپنے اونٹ کو کھلا دو یا اپنے بردہ (غلام لونڈی) کو کھلاؤ۔ تشریح اکثر صحابہ کی ملکیت میں غلاموں کی ایک بڑی تعداد رہتی تھی جن میں سے کچھ غلاموں کو وہ پچھنے لگانے کے کام پر مامور کردیتے تھے اور پھر ان کی اجرت کے طور پر حاصل ہونے والے مال کو اپنے استعمال میں لا تے تھے چناچہ ایک صحابی حضرت محیصہ نے آنحضرت ﷺ سے یہ جاننا چاہا کہ پچھنے لگانے والے کی کمائی آیا جائز ہے یا نہیں اور یہ اجازت مانگی کہ میرا غلام پچھنے لگانے کی جو اجرت حاصل کرتا ہے چونکہ اس میں سے کچھ حصہ میری ملکیت میں آتا ہے اس لئے میں اپنے اس حصہ کو اپنے استعمال میں لاؤں یا نہیں آنحضرت ﷺ نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی چونکہ صحابہ اپنے بعض غلاموں سے پچھنے لگانے کی حاصل ہونے والی اجرت میں سے اپنا حصہ لے کر اسے اپنی ضروریات میں صرف کرتے تھے اور اسے وہ پسند بھی کرتے تھے اس لئے آنحضرت ﷺ سے اس کی اجازت نہ دینے سے محیصہ اس بارے میں دشواری محسوس ہوئی اور اس امید کی بناء پر کہ آپ اجازت دے دیں وہ بار بار اجازت طلب کرتے تھے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے انہیں اتنی اجازت دیدی کہ وہ اس اجرت کو اپنے اونٹوں کے گھاس اور چارے میں اور اپنے غلاموں لونڈیوں پر صرف کرلیں اور اس طرح آپ ﷺ نے ایک طرف تو اشارہ فرمایا کہ پچھنے لگانے سے جو اجرت حاصل ہوتی ہے وہ اگرچہ جائز مال ہے مگر چونکہ وہ خون نکالنے کی کمائی ہے اس لئے اس کو شرفاء کے لئے استعمال کرنا مکروہ اور ان کی شان کے خلاف ہے اور لونڈی غلام چونکہ آزاد لوگوں کے برخلاف ایسا شرف نہیں رکھتے جو اس پیشہ کی دنائت کے منافی ہو اس لئے پچھنے لگانے کی کمائی کھانا اس کی شان سے فروتر نہیں ہے۔ دوسری طرف آپ ﷺ نے اس کے ذریعہ گویا اولو العزمی اور عالی ہمتی کی ترغیب بھی دی ہے کہ شرفاء کو باوقار پیشہ اور اپنے دست وبازو کی محنت کی ہی کمائی کھانی چاہئے۔ بہرکیف آنحضرت ﷺ نے حضرت محیصہ کو جو اجازت نہیں دی وہ محض نہی تنزیہی کے طور پر ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پچھنے لگانے کی اجرت مال حرام ہے کیونکہ اگر یہ مال حرام ہوتا تو آپ ﷺ ان کو اسے اپنے جانور اور اپنے غلام لونڈی پر خرچ کی اجازت نہیں دیتے اس لئے کہ آقا کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے جانوروں یا اپنے غلام لونڈی کو حرام مال کھلائے لہذا حدیث کا حاصل یہ ہے کہ پچھنے لگانے والے کی کمائی کھانا مکروہ تنزیہی ہے۔

2830Mishkaat-al-Masabih

مغنیہ کی کمائی کھانے کی ممانعت

وعن أبي هريرة قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ثمن الكلب وكسب الزمارة . رواه في شرح السنة

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے کتے کی قیمت اور گانے والیوں کی کمائی کھانے سے منع فرمایا ہے (شرح السنۃ) تشریح بعض علماء کا قول یہ ہے کہ زمارۃ سے مراد مغنیہ یعنی گانے والی عورت کی بجائے وہ خوب صورت عورت ہے جو بدکاری کراتی ہے اسی طرح بعض حضرات کا کہنا یہ ہے کہ لفظ زمارۃ مشتق ہے زمر سے جس کے معنی ہیں چشم و ابرو کے ذریعہ اشارہ کرنا اور بدکار عورتیں چونکہ مردوں کو اپنے چشم وابرو کے اشاروں سے فریفتہ کرکے انہیں اپنے چنگل میں پھنساتی ہیں اس لئے ارشاد گرامی میں بدکار عورت کو زمارۃ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

2831Mishkaat-al-Masabih

گانے والی لونڈیوں کی خرید وفروخت کا حکم

وعن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تبيعوا القينات ولا تشتروهن ولا تعلموهن وثمنهن حرام وفي مثل هذا نزلت : ( ومن الناس من يشتري لهو الحديث ) رواه أحمد والترمذي وابن ماجه وقال الترمذي هذا حديث غريب وعلي بن يزيد الرواي يضعف في الحديث وسنذكر حديث جابر : نهى عن أكل أهر في باب ما يحل أكله إن شاء الله تعالى

حضرت ابوامامہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو نہ ان کو خریدو اور نہ لونڈیوں کو گانا سکھاؤ اور ان گانے والی لونڈیوں کی حاصل ہونے والی قیمت مال حرام ہے اور اسی سلسلہ میں یعنی گانے والیوں کو خریدنے کی مذمت میں یہ آیت نازل کی گئی ہے (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ ) 31۔ لقمان 6) یعنی اور انسانوں میں بعض ایسے نادان وغلط کار لوگ ہیں جو کھیل کی بات خریدتے ہیں (احمد ترمذی ابن ماجہ) امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے اور اس کے ایک راوی علی ابن یزید روایت حدیث کے سلسلہ میں ضعیف شمار کئے جاتے ہیں۔ تشریح بعض علماء نے حدیث کے ظاہری الفاظ (وثمنہن حرام) (یعنی ان کی حاصل ہونے والی قیمت مال حرام ہے) کے پیش نظر یہ کہا ہے کہ گانے والی لونڈیوں کو بیچنا جائز نہیں ہے جبکہ بقیہ تمام علماء یہ کہتے ہیں کہ ان کو بیچنا جائز ہے یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے جس کی بناء پر اس کو کسی مسلک کی دلیل قرار دینا مناسب نہیں ہے لیکن اس کے باوجود (ثمنہن حرام) کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ اس حدیث کا مطلب صرف ان کے گانے کی اجرت کی حرمت کو بیان کرنا ہے یعنی ان کے گانے سے حاصل ہونیوالی اجرت مال حرام ہے جیسا کہ کسی شراب فروش یا شراب بنانے والے کے ہاتھ جو انگور فروخت کئے جاتے ہیں کہ اس کی حاصل ہونیوالی قیمت مال حرام کے حکم میں ہوتی ہے نہ کہ فی نفسہ انگور کی قیمت حرام ہوتی ہے اسی طرح گانے والی لونڈیوں کی وہ اجرت جو ان کے گانے کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے اس لئے مال حرام ہے کہ وہ ایک حرام ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے نہ کہ اس لئے حرام ہے کہ ان لونڈیوں کی خریدوفروخت جائز نہیں ہے۔ آیت کریمہ میں کھیل کی بات سے مراد ہیں وہ گانے گیت اور حرام آوازیں جو ذکر اللہ سے باز رکھیں اور گناہ و معصیت کا سبب بنیں چناچہ کہانیاں جھوٹی باتیں خرافات بکنا ٹھٹھے کی باتی موسیقی سیکھنا اور اسی قسم کی اور تمام فضول و لغو چیزیں بھی اس حکم میں داخل ہیں اس آیت کے نازل ہونے کا پس منظر یہ ہے کہ ایک شخص نصر ابن حارث تھا جو گانیوالی لونڈیاں اس مقصد سے خریدتا تھا کہ ان کے ذریعہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے گمراہ کرے چناچہ اس کی مذمت میں یہ آیت نازل ہوئی اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ نضر ابن حارث نے عجمیوں کی لکھی ہوئی چند کتابیں خریدی تھیں جن کی جھوٹی سچی کہانیاں پڑھ کر قریش کو سنایا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ محمد ﷺ تو تمہارے سامنے قوم عاد وثمود کے قصص بیان کرتے ہیں اور میں تمہارے سامنے رستم و اسفندیار اور بادشاہوں کی کہانیاں سناتا ہوں چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت بالا کے ذریعہ اس کی مذمت بیان فرمائی۔

2832Mishkaat-al-Masabih

حلال روزی کمانا ایک فرض ہے

عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : طلب كسب الحلال فريضة بعد الفريضة . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حلال روزی کمانا فرض کے بعد ایک فرض ہے ( بیہقی) تشریح مطلب یہ ہے کہ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی معاشی ضروریات کی کفالت کے لئے اپنے دست وبازو کی محنت سے کمانا فرض ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جو فرائض مقرر کئے ہیں جیسے نماز روزہ وغیرہ پہلے ان کا درجہ ہے کہ ان فرائض کی تکمیل کے بعد حلال روزی کمانا فرض ہے۔ اس بارے میں فقہی مسئلہ یہ ہے کہ کمانا اس شخص پر فرض ہے جو اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال (کہ جن کی کفالت اس کے ذمہ ضروری ہے) کی ضروریات زندگی کی کفالت کے لئے کمائی کا محتاج ہو۔ حدیث میں مذکور کسب حلال یعنی حلال کمائی سے مراد وہ روزی ہے جس کا حرام نہ ہونا یقینی ہو گویا یہاں حلال روزی کا اطلاق اس مال پر بھی ہوسکتا ہے جو مشتبہ ہو کیونکہ احادیث میں مشتبہ سے پرہیز کرنے کا حکم محض احتیاط کے طور پر ہے فرض ہونے کے طور پر نہیں ہے نیز ایک بات یہ بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ اس حدیث میں حلال روزی کمانے کو جو فرض کہا گیا ہے اس کا مخاطب ہر شخص بذاتہ نہیں ہے کیونکہ ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کی ضروریات زندگی کی کفالت دوسروں پر واجب ہوتی ہے جس کیوجہ سے خود انہیں کمانا ضروری نہیں ہوتا۔

2833Mishkaat-al-Masabih

کتابت قرآن کی اجرت جائز ہے

وعن ابن عباس رضي الله عنهما أنه سئل عن أجرة كتابة المصحف فقال : لا بأس إنما هم مصورون وإنهم إنما يأكلون من عمل أيديهم . رواه رزين

حضرت ابن عباس کے بارے میں منقول ہے کہ ان سے کتابت قرآن کی اجرت کا حکم دریافت کیا گیا کہ کتابت قرآن کی اجرت کھانا جائز ہے یا نہیں تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ کاتب لوگ تو صرف نقش کھینچنے والے ہیں جو اپنے ہاتھوں کی کمائی کھاتے ہیں (رزین) تشریح سائل نے گویا کتابت قرآن کی اجرت لینے اور اس کے کھانے کو ایک بعید سی بات جانی اس لئے اس نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کا حکم دریافت کیا چناچہ ابن عباس نے اسے جواب دیا کہ کاتب تو کاغذ پر الفاظ نقش بناتے ہیں یعنی ان کا کام صرف کتابت کرنا اور لکھنا ہے جس کی وہ اجرت حاصل کرتے ہیں خواہ وہ قرآن کی کتابت کریں یا کسی اور کتاب کی اور یہی ان کا ہنروپیشہ ہوتا ہے جو ان کی حلال روزی کا ذریعہ ہے۔

2834Mishkaat-al-Masabih

کون سا کسب افضل ہے

وعن رافع بن خديج قال : قيل : يا رسول الله أي الكسب أطيب ؟ قال : عمل الرجل بيده وكل بيع مبرور . رواه أحمد

حضرت رافع بن خدیج راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے یہ پوچھا گیا کہ کونسا کسب پاکیزہ یعنی افضل ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کا اپنے ہاتھ سے کمانا اور ہر وہ تجارت جو مقبول یعنی شرعی اصول وقواعد کے مطابق ہو (احمد) تشریح آپ ﷺ کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ سب سے بہتر تو وہ کسب وپیشہ ہے جس میں انسان کو اپنے ہاتھوں سے محنت کرنی پڑتی ہو جیسے زراعت اور کتابت وغیرہ اور اگر کوئی شخص ہاتھوں کی محنت والا کسب اختیار نہ کرسکے تو پھر ایسی تجارت کے ذریعے اپنی حلال روزی پیدا کرے جس میں دیانت و امانت کی روح بہرصورت کار فرما رہے کیونکہ ایسی تجارت بھی ایک پاک و حلال کسب ہے۔

2835Mishkaat-al-Masabih

دودھ کی قیمت کا حکم

وعن أبي بكر بن أبي مريم قال : كانت لمقدام بن معدي كرب جارية تبيع اللبن ويقبض المقدام ثمنه فقيل له : سبحان الله أتبيع اللبن ؟ وتقبض الثمن ؟ فقال نعم وما بأس بذلك سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ليأتين على الناس زمان لا ينفع فيه إلا الدينار والدرهم . رواه أحمد

حضرت ابوبکر ابن مریم تابعی کہتے ہیں کہ حضرت مقدام ابن معدی کرب (صحابی) کی ایک باندی ان کے گھر کے جانوروں کا دودھ بیچا کرتی تھی اور مقدام اس سے دودھ کی حاصل ہونیوالی قیمت لے لیا کرتے تھے چناچہ ایک روز مقدام سے کسی نے کہا کہ سبحان اللہ کتنی عجیب بات ہے کہ باندی دودھ بیچتی ہے اور تم اس کی قیمت لے لیتے ہو مقدام نے کہا کہ ٹھیک تو ہے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک ایسا زمانہ آئیگا جس میں درہم و دینار کے علاوہ کوئی چیز فائدہ نہیں دے گی۔ تشریح گویا لوگوں نے حضرت مقدام کو طعنہ دیا کہ آپ کی باندی آپ کے جانوروں کا دودھ بیچتی ہے اور آپ اس دودھ کی قیمت لے کر کھاتے ہیں حالانکہ دودھ کے بارے میں تو بہتر یہی ہے کہ اسے فقراء و مساکین میں صدقہ و خیرات کے طور پر تقسیم کردیا جائے یا اسے اپنے دوستوں اور متعلقین پر صرف کیا جائے دودھ کو بیچنا اور ان کی قیمت وصول کرنا آپ جیسوں کی شان کے لائق نہیں ہے اس کا جواب حضرت مقدام نے یہ دیا کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے جس میں کوئی شرعی نقصان ہو دودھ بیچنا اور اس کی قیمت وصول کرنا نہ ہی حرام ہے اور نہ مکروہ ہے اور پھر میرا یہ فعل کسی لالچ کی بناء پر یا مال وزر کی ہوس میں نہیں ہے بلکہ دراصل میں اپنی ضروریات زندگی کی تکمیل کے لئے اس کا محتاج ہوں اس کے بعد حضرت مقدام نے آنے والے زمانے میں مال و زر کی طرف لوگوں کے شدید میلان کے بارے میں آنحضرت ﷺ کی یہ پیش گوئی بیان کی کہ ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جس میں لوگوں کی تمام تر توجہ اور کوششوں کا مرکز صرف مال وزر بن جائے گا۔ چونکہ لوگ اپنی ضروریات کا دائرہ وسیع کریں گے اور اسباب معیشت کی قلت وگرانی ہمہ قسم کی پریشانیوں اور نقصانات میں مبتلا کر دے گی اس لئے نہ علم وہنر کی طرف توجہ ہوگی اور نہ اہل علم و کمال کی قدر و منزلت بلکہ صرف مال و زر کی طرف توجہ ہوگی اور مالداروں کی قدر و منزلت۔ منقول ہے کہ صحابہ آپس میں فرمایا کرتے تھے کہ تجارت و محنت کے ذریعے اتنا مال و زر ضرور کما لیا کرو جس سے ابرومندانہ زندگی کا تحفظ ہو سکے اور یاد رکھو کہ ایک ایسا بھی دور آنیوالا ہے کہ جب تم میں سے کوئی محتاج وتنگدست ہوگا تو سب سے پہلے اپنے دین و ایمان ہی کو کھاجائے گا۔

2836Mishkaat-al-Masabih

مقررہ ذریعہ معاش کو بلاسبب ترک نہ کرو

وعن نافع قال : كنت أجهز إلى الشام وإلى مصر فجهزت إلى العراق فأتيت إلى أم المؤمنين عائشة فقلت لها : يا أم المؤمنين كنت أجهز إلى الشام فجهزت إلى العراق فقالت : لا تفعل مالك ولمتجرك ؟ فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إذا سبب الله لأحدكم رزقا من وجه فلا يدعه حتى يتغير له أو يتنكر له . رواه أحمد وابن ماجه

حضرت نافع کہتے ہیں کہ میں اپنی تجارت کا مال و اسباب تیار کر کے اپنے ملازموں اور وکیلوں کی سپردگی میں شام اور مصر بھیجا کرتا تھا پھر بعد میں ایک مرتبہ میں نے اپنا تجارتی سامان عراق کی طرف بھیجنے کا ارادہ کیا اور ام المؤمنین حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ ام المؤمنین میں (پہلے تو) اپنا تجارتی سامان شام بھیجا کرتا تھا مگر اب میرا ارادہ ہے کہ اپنا تجارتی سامان لے کر عراق کی طرف جاؤں یہ سن کر حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو تمہیں اور تمہاری تجارت کو کیا ہوا ہے کہ تم شام کے سلسلہ تجارت کو منقطع کرتے ہو میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کے رزق کا کوئی سبب کسی صورت میں پیدا کر دے تو اس کو چھوڑنا نہیں چاہئے حتی کہ اس میں کوئی تبدیلی پیدا ہوجائے یا نقصان پہنچنے لگے۔ تشریح آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ کسی کے رزق کا جو بھی جائز ذریعہ ہو مثلا وہ سامان تجارت کہیں باہر بھیجتا ہو جس کے نفع سے اسے رزاق حاصل ہوتا ہو تو وہ اس کو بلاسبب چھوڑے نہیں ہاں اگر کوئی ایسا امر پیش آجائے جس کی بناء پر اس ذریعے کو ختم کرنا ہی ضروری ہو مثلا نفع ہونا بند ہوجائے یا اصل مال میں نقصان واقع ہونے لگے تو ایسی صورت میں اسے چھوڑ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو شخص ازقسم مباح کسی اچھی چیز کو حاصل کرلے تو اسے چاہئے کہ وہ اس کو اللہ کی ایک نعمت سمجھ کر اس پر قائم و برقرار رہے اور بغیر کسی قوی عذر کے اسے چھوڑ کر اس کے بغیر کی طرف مائل نہ ہو۔

2837Mishkaat-al-Masabih

حضرت ابوبکر کا وصف احتیاط وتقوی

وعن عائشة قالت : كان لأبي بكر رضي الله عنه غلام يخرج له الخراج فكان أبو بكر يأكل من خراجه فجاء يوما بشيء فأكل منه أبو بكر فقال له الغلام : تدري ما هذا ؟ فقال أبو بكر : وما هو ؟ قال : كنت تكهنت لإنسان في الجاهلية وما أحسن الكهانة إلا أني خدعته فلقيني فأعطاني بذلك فهذا الذي أكلت منه قالت : فأدخل أبو بكر يده فقاء كل شيء في بطنه . رواه البخاري

حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق کے پاس ایک غلام تھا جو اپنی کمائی میں سے ایک مقررہ حصہ حضرت ابوبکر کو دیا کرتا تھا (جیسا کہ اہل عرب کا معمول تھا کہ وہ اپنے غلاموں کو کمائی پر لگا دیتے تھے اور ان کو حاصل ہونیوالی اجرت میں سے کوئی حصہ اپنے لئے مقرر کرلیتے تھے) چناچہ حضرت ابوبکر اس غلام کی لائی ہوئی چیز کو کھالیا کرتے تھے ایک مرتبہ وہ غلام کوئی چیز لایا جس میں سے حضرت ابوبکر نے بھی کھایا ان کے کھانے کے بعد غلام نے کہا کہ آپ جانتے بھی ہیں یہ کیسی چیز ہے حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ مجھے کیا معلوم تم ہی بتاؤ یہ کیسی چیز ہے غلام نے کہا کہ میں ایام جاہلیت میں (یعنی اپنی حالت کفر میں) ایک شخص کو غیب کی باتیں بتایا کرتا تھا حالانکہ میں کہانت کا فن (یعنی پوشیدہ باتیں بتانے کا فن) اچھی طرح نہیں جانتا تھا بلکہ میں اس کو (غلط سلط باتیں بنا کر) فریب دیا کرتا تھا (اتفاقا آج) اس شخص سے میری ملاقات ہوگئی تو اس نے مجھے یہ چیز دی یہ وہی چیز ہے جو آپ نے کھائی ہے حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ یہ سنتے ہی حضرت ابوبکر نے اپنے منہ (یعنی حلق) میں ہاتھ ڈال کر قے کردی اور جو کچھ پیٹ میں تھا (ازراہ احتیاط) سب باہر نکال دیا (بخاری) تشریح یہ حدیث حضرت ابوبکر صدیق کی دینی احتیاط اور ان کے کمال تقوی کی واضح مثال ہے کہ انہیں جیسے ہی معلوم ہوا کہ ان کے پیٹ میں ایک چیز ایسی چلی گئی ہے جو ایک حرام سلسلے میں حاصل ہوئی تھی انہوں نے فوارا قے کر کے اسے باہر نکال دیا بلکہ وہ چیز چونکہ کہانت اور اس کے ساتھ ہی فریب کی آمیزش کی وجہ سے بڑی شدید حرمت کی حامل تھی اس لئے انہوں نے قے کر کے صرف اسی چیز کو نکال دینے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ ہر اس چیز کو نکالنا ضروری سمجھا جو پیٹ کے اندر اس کے علاوہ تھی کیونکہ انہیں خوف تھا کہ اس چیز کے کسی بھی جزء نے پیٹ میں دوسری چیزوں کو بھی ملوث کردیا ہوگا۔ حضرت ابوبکر کے اس فعل سے حضرت امام شافعی نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اگر کسی شخص نے کوئی حرام چیز کھالی ہو اور وہ اس نے اس کی حرمت کے علم کے باوجود کھائی یا لاعلمی میں کھائی ہو اور بعد میں اسے معلوم ہوا کہ وہ حرام چیز تھی تو اس پر لازم ہے کہ فورا قے کر کے اس چیز کو پیٹ سے نکال دے۔ حضرت امام غزالی نے منہاج العابدین میں لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر کا یہ فعل ورع یعنی تقوی و پرہیزگاری کی قسم سے ہے نیز انہوں نے لکھا ہے کہ ورع کا حکم یہ ہے کہ تم کسی سے کوئی چیز اس وقت تک نہ لو جب تک کہ اس کے بارے میں پوری تحقیق نہ کرلو پھر تحقیق کے بعد یہ یقین بھی حاصل کرلو کہ اس چیز میں کسی بھی درجے کا کوئی اشتباہ نہیں ہے اگر اس چیز کے بارے میں پوری تحقیق اور یہ یقین حاصل نہ ہو سکے تو اس چیز کو نہ لو اور اگر لے لی ہو تو اسے واپس کردو۔

2838Mishkaat-al-Masabih

حرام مال کھانے پروعید

وعن أبي بكر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يدخل الجنة جسد غذي بالحرام . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت ابوبکر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس بدن نے حرام مال سے پرورش پائی ہوگی وہ شروع ہی میں نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ اور جزا بھگتے بغیر جنت میں داخل نہ ہوگا۔

2839Mishkaat-al-Masabih

حضرت عمرکے تقوی اور احتیاط کی ایک مثال

وعن زيد بن أسلم أنه قال : شرب عمر بن الخطاب لبنا وأعجبه وقال للذي سقاه : من أين لك هذا اللبن ؟ فأخبره أنه ورد على ماء قد سماه فإذا نعم من نعم الصدقة وهم يسقون فحلبوا لي من ألبانها فجعلته في سقائي وهو هذا فأدخل عمر يده فاستقاءه . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت زید ابن اسلم جو حضرت عمر فاروق کے آزاد کردہ غلام تھے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ابن خطاب نے دودھ پیا جو ان کو عجیب معلوم ہوا انہوں نے اس شخص سے کہا جس نے دودھ لا کر پلایا تھا پوچھا کہ یہ دودھ تمہیں کہاں سے ملا تو اس نے ان کو بتایا کہ وہ (یعنی میں) پانی کے ایک چشمے یا کنویں پر گیا تھا اس نے چشمے یا کنویں کا نام بھی بتایا وہاں میں نے دیکھا کہ زکوٰۃ کے کچھ جانور (یعنی اونٹ وبکری وغیرہ پانی پینے کے لئے آئے ہوئے) ہیں اور ان جانوروں کے نگران ان کا دودھ نکال کر لوگوں کو پلا رہے ہیں چناچہ انہوں نے میرے لئے بھی دودھ دوہا جسے میں نے لے کر اپنی مشک میں ڈال لیا یہ وہی دودھ تھا یہ سن کر حضرت عمر نے اپنے حلق میں ہاتھ ڈال کر قے کردی اور اس دودھ کو پیٹ سے باہر نکا دیا کیونکہ وہ زکوٰۃ کا مال تھا جو ان کے لے جائز نہیں تھا ان دونوں روایتوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔ تشریح حضرت سید جمال الدین محدث نے لکھا ہے کہ یہ حدیث مشکوک ہے اکثر نسخوں میں اس موقع پر مذکور نہیں ہے چناچہ ہم نے مشکوۃ کے جس نسخے میں اپنے استاد سے حدیثیں سماعت کی ہیں اس میں بھی یہاں یہ حدیث نہیں البتہ اس کے حاشیے میں لکھی ہوئی ہے اس لئے مناسب یہی ہے کہ یہ حدیث اس باب سے محذوف رکھی جائے ویسے بھی یہ حدیث چونکہ مشکوۃ کی کتاب الزکوۃ میں چند الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ نقل کی جا چکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ نقل کرنا مشکوۃ کی ترتیب کے مطابق موزوں نہیں ہے۔ لہذا جن نسخوں میں اس موقع پر یہ حدیث نقل نہیں کی گئی ہے ان میں پہلی حدیث یعنی حضرت ابوبکر کی روایت کے بعد یہ عبارت (رواہما البیہقی) لکھا ہوا ہے۔

2840Mishkaat-al-Masabih

حرام مال کا قلیل ترین جز بھی عبادت کے نتیجے پر اثرانداز ہوجاتا ہے

وعن ابن عمر قال : من اشترى ثوبا بعشرة دراهم وفيه درهم حرام لم يقبل الله له صلاة ما دام عليه ثم أدخل أصبعيه في أذنيه وقال صمتا إن لم يكن النبي صلى الله عليه و سلم سمعته يقوله . رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان . وقال : إسناده ضعيف

حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ اگر کو ئش شخص مثلا ایک کپڑا دس درہم میں خریدے اور ان میں ایک درہم بھی حرام مال کا ہو تو اللہ تعالیٰ اس وقت تک اس شخص کی نماز نہیں قبول کرے گا جب تک کہ آدمی کے جسم پر وہ کپڑا ہوگا اس کے بعد حضرت ابن عمر نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالیں اور کہا کہ یہ دونوں کان بہرے ہوجائیں اگر میں نے یہ رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے نہ سنا ہو۔ (احمد بیہقی اور بیہقی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی اسناد ضعیف ہیں) تشریح حدیث کا حاصل یہ ہے کہ اگر حرام مال کا قلیل ترین جزء بھی جسم پر موجود ہو تو اس سے عبادت کا نتیجہ اثرپذیر ہوجاتا ہے چناچہ اس بات کو بطور مثال بیان کیا گیا کہ اگر کوئی شخص ایک کپڑا دس درہم میں خریدے اور ان دس درہم میں ایک درہم ہو جو اسے کسی بھی حرام ذریعے سے حاصل ہوا تو وہ کپڑا جب تک کہ اس کے جسم پر رہے گا اس کی نماز قبول نہیں ہوگی اگرچہ اس شخص کے ذمہ سے فرضیت ساقط ہوجائے گی مگر اس کی نماز اس لائق نہیں ہوگی کہ اسے ثواب سے نوازا جائے جس طرح کہ اگر کوئی شخص کسی غصب کردہ زمین پر نماز پڑھتا ہے تو اگرچہ اس کے ذمہ سے فرضیت ساقط ہوجاتی ہے مگر اس سے نماز کا پورا ثواب نہیں ملتا۔ روایت کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ جو بات میں نے کہی ہے وہ کوئی میری اپنی بات نہیں ہے بلکہ آنحضرت ﷺ کا وہ ارشاد گرامی ہے جسے خود میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے اگر میں نے یہ حدیث اپنے کانوں سے نہ سنی ہو اور میں یہ غلط کہہ رہا ہوں تو اللہ کرے میرے دونوں کان بہرے ہوجائیں۔