وعن عامر بن سعد : أن سعدا ركب إلى قصره بالعقيق فوجد عبدا يقطع شجرا أو يخبطه فسلبه فلما رجع سعد جاءه أهل العبد فكلموه أن يرد على غلامهم أو عليهم ما أخذ من غلامهم فقال : معاذ الله أن أرد شيئا نفلنيه رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبى أن يرد عليهم . رواه مسلم
حضرت عامر بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت سعد بن وقاص ؓ جو عشرہ مبشرہ میں سے ایک جلیل القدر صحابی ہیں اپنی حویلی کی طرف جو مدینہ کے قریب مقام عقیق میں تھی، سوار ہو کر چلے تو راستہ میں انہوں نے ایک غلام کو دیکھا جو ایک درخت کاٹ رہا تھا یا اس درخت کے پتے جھاڑ رہا تھا، حضرت سعد ؓ نے بطور سزا و تنبیہ اس غلام کے کپڑے چھین لئے، پھر جب وہ مدینہ واپس آئے تو غلام کے مالک ان کی خدمت میں آئے اور یہ گفتگو کی کہ انہوں نے جو چیز ان کے غلام سے لی ہے یعنی اس کے کپڑے اسے وہ غلام کو واپس کردیں یا ان مالکوں کو دے دیں۔ حضرت سعد ؓ نے فرمایا کہ اللہ کی پناہ میں اس چیز کو کیسے واپس کرسکتا ہوں جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے دلوائی ہے۔ چناچہ سعد نے کپڑے واپس کرنے سے بالکل انکار کردیا۔ (مسلم)
تشریح
ان یرد علی غلامہم او علیہم، حرف او راوی کے شک کو ظاہر کر رہا ہے کہ ان کے مالکوں نے یا تو کہا تھا کہ غلام کے کپڑے غلام کو واپس کردیں یا اس کے بجائے یہ کہا تھا کہ جو کپڑے ہمارے غلام سے لئے ہیں وہ ہمیں دے دیں۔ حدیث کے اس جملہ جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے دلوائی ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس بات کی اجازت دی تھی کہ جو شخص کسی کو مدینہ میں شکار مارتے یا درخت کاٹتے دیکھے تو وہ اس کے کپڑے ضبط کرلے، لہٰذا کہا جائے گا کہ یا تو یہ حدیث منسوخ ہے یا پھر یہ کہ آپ ﷺ کی طرف سے یہ اجازت زجر تنبیہ کے طور پر دی گئی تھی۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ مدینہ میں شکار مارنے یا درخت کاٹنے کی وجہ سے بدلہ کفارہ واجب نہیں ہوتا بلکہ مدینہ میں یہ چیزیں بغیر بدلہ کے حرام ہیں، جب کہ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ جس طرح مکہ میں ان چیزوں کے ارتکاب سے بدلہ واجب ہوتا ہے اسی طرح مدینہ میں بھی ان کی وجہ سے بدلہ میں واجب ہوتا ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک مدینہ میں یہ چیزیں حرام نہیں ہیں البتہ مکروہ ہیں۔
مدینہ کی آب وہوا کی اصلاح کے لئے آنحضرت ﷺ کی دعا
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : لما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة وعك أبو بكر وبلال فجئت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبرته فقال : اللهم حبب إلينا المدينة كحبنا مكة أو أشد وصححها وبارك لنا في صاعها ومدها وانقل حماها فاجعلها بالجحفة
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ اور صحابہ جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت بلال ؓ بخار میں مبتلا ہوگئے، چناچہ میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ ﷺ کو ان کی بیماری کی خبر دی، آپ ﷺ نے یہ دعا فرمائی اے اللہ! تو مدینہ کو ہمارا محبوب بنا دے جس طرح تو نے مکہ کو ہمارا محبوب بنایا تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ اور مدینہ کی آب و ہوا درست فرما دے اور مدینہ کے صاع و مد میں ہمارے لئے برکت عطا فرما، نیز مدینہ کے بخار کو (یعنی بخار کی کثرت و وباء کو) کو یہاں سے نکال کر جحفہ میں منتقل کر دے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
منقول ہے کہ جب حضرت ابوبکر ؓ شدت بخار میں مبتلا ہوئے اور حضرت عائشہ ؓ نے ان کی مزاج پرسی کی تو اس وقت وہ مکہ اور وہاں کی آب و ہوا، وہاں کے مکانات اور پہاڑوں کی صحت افزاء فضاؤں وغیرہ کا بآواز بلند ذکر کرنے لگے، چناچہ حضرت عائشہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے یہ حال ذکر کیا تو آپ ﷺ نے مذکورہ بالا دعا فرمائی۔ جحفہ ایک مقام کا نام ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے، اس مقام پر یہودی آباد تھے، یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے کفار کے لئے مہلک امراض اور ان کے شہروں کی خرابی کی بددعا کرنا جائز ہے، چناچہ اس حدیث کے علاوہ ایک روایت یہ بھی منقول ہے کہ مدینہ میں آنحضرت ﷺ کی ہجرت سے پہلے بیماری اور وباؤں کی کثرت تھی آپ ﷺ نے ان وباؤں کو (اللہ تعالیٰ سے دعا کے ذریعہ) کفار کے علاقوں میں بھیج دیا۔
آپ ﷺ کا ایک خواب اور اس کی تعبیر
وعن عبد الله بن عمر في رؤيا النبي صلى الله عليه و سلم في المدينة : رأيت امرأة سوداء ثائرة الرأس خرجت من المدينة حتى نزلت مهيعة فتأولتها : أن وباء المدينة نقل إلى مهيعة وهي الجحفة . رواه البخاري
حضرت عبداللہ بن عمر مدینہ سے متعلق نبی کریم ﷺ کے خواب کے سلسلہ میں یہ حدیث نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں نے ایک کالی عورت کو دیکھا جس کے بال پراگندہ تھے وہ مدینہ سے نکلی اور مہیعہ چلی گئی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اس خواب کی تعبیر یہ لی کہ مدینہ کی وباء مہیعہ یعنی جحفہ کی طرف منتقل کردی گئی ہے۔ (بخاری )
مدینہ کے کچھ لوگوں کے بارے میں آنحضرت ﷺ کی ایک پیش گوئی
وعن سفيان بن أبي زهير رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يفتح اليمن فيأتي قوم يبسون فيتحملون بأهليهم ومن أطاعهم والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون ويفتح الشام فيأتي قوم يبسون فيتحملون بأهليهم ومن أطاعهم والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون ويفتح العراق فيأتي قوم يبسون فيتحملون بأهليهم ومن أطاعهم والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون
حضرت سفیان بن ابوزہیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے سنا، رسول کریم ﷺ فرماتے تھے۔ جب یمن فتح ہوجائے گا تو ایک ایسا گروہ آئے گا جو آہستہ رو ہوگا (یعنی مدینہ میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے، جو محنت و مشقت سے دور رہ کر دنیا کی راحت و آرام کے طالب ہوں گے) چناچہ وہ لوگ اپنے و اہل و عیال کے ساتھ مدینہ سے چلے جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر جگہ ہوگی اگر وہ مدینہ کے بہتر ہونے کو جانیں تو مدینہ کو نہ چھوڑیں۔ جب شام فتح ہوگا تو ایک گروہ آئے گا جو آہستہ رو ہوگا چناچہ وہ لوگ اپنے اہل و عیال کے ساتھ مدینہ سے چلے جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر جگہ ہوگی اگر وہ جانیں۔ اسی طرح جب عراق کو فتح کیا جائے گا تو ایک گروہ آئے گا جو آہستہ رو ہوگا چناچہ وہ لوگ اپنے اہل و عیال کو لے کر مدینہ سے چلے جائیں گے۔ حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر جگہ ہوگی اگر وہ جانیں (تو مدینہ کو نہ چھوڑیں گے)۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
یہ آپ ﷺ نے مدینہ کے کچھ لوگوں کے بارے میں پیش گوئی فرمائی ہے کہ جب مذکورہ بالا ممالک مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوجائیں تو وہ لوگ مدینہ کی سخت کوش زندگی سے اکتا کر طلب معاش اور دنیا کے فانی فائدوں اور آسائشوں کی خاطر اس مقدس و بابرکت شہر کو چھوڑ کر ان ممالک میں جا بسیں گے، حالانکہ ہر اعتبار سے مدینہ ہی ان کے لئے سب سے بہتر جگہ ہوگی، اگر وہ اس حقیقت کو جان لیں اور دنیا و آخرت کی سعادت و بھلائی ان کے پیش نظر رہے تو مدینہ کو نہ چھوڑیں۔
مدینہ برے آدمیوں کو نکال دیتا ہے
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أمرت بقرية تأكل القرى . يقولون : يثرب وهي المدينة تنفي الناس كما ينفي الكير خبث الحديد
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ مجھے ایک ایسی بستی کی طرف ہجرت کا حکم دیا گیا ہے جو تمام بستیوں پر غالب رہتی ہے اور اس بستی کو لوگ یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے جو برے آدمیوں کو اس طرح نکال دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو نکال دیتی ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
جو تمام بستیوں پر غالب رہتی ہے کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ مدینہ میں رہتے ہیں وہ دوسرے لوگوں پر غالب رہتے ہیں اور دوسرے شہروں کو فتح کرتے ہیں، چناچہ تاریخی طور پر اس عظیم الشان شہر کی یہ خصوصیت ثابت ہے کہ مدینہ میں آکر بسنے والے دوسروں پر غالب اور بیشتر شہروں کے فاتح رہے ہیں، پہلے قوم عمالقہ آ کر شہر میں آباد ہوئی اس نے غلبہ حاصل کیا اور کتنے ہی شہروں اور علاقوں کو فتح کیا، پھر یہود آئے تو وہ عمالقہ پر غالب ہوئے پھر انصار پہنچے تو انہوں نے یہودیوں پر اپنا اقتدار قائم کیا، یہاں تک کہ جب سرکار دو عالم ﷺ اور مہاجرین کرام ؓ نے اس شہر کو اپنا مسکن بنایا تو ان کو جس طرح غلبہ حاصل ہوا اور جس طرح انہوں نے مشرق سے لے کر مغرب تک پورے عالم کو اپنے زیر اثر کیا وہ سامنے کی بات ہے۔ اس شہر کا نام پہلے یثرب اور اثرب تھا، جب رسول کریم ﷺ ہجرت فرما کر یہاں تشریف لائے تو آپ ﷺ نے اس شہر کی مدنیت اور کثرت آبادی کے پیش نظر اس کا نام مدینہ رکھا نیز آپ ﷺ نے حکم دیا کہ آئندہ اس شہر کو یثرب نہ کہا جائے کیونکہ اول تو یہ زمانہ اسلام سے قبل کا نام تھا جس سے عہد جاہلیت کی بو آتی تھی، دوسرے یہ کہ معنوی طور پر بھی یہ نام بالکل نامناسب تھا اس لئے کہ یثرب کے معنی ہیں ہلاک و فساد نیز یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یثرب ایک بت یا ایک بہت بڑے ظالم شخص کا نام تھا۔ بخاری نے اپنی تاریخ میں ایک روایت نقل کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ یثرب کہے تو اسے چاہئے کہ وہ دس مرتبہ مدینہ کہے تاکہ اس مقدس شہر کا ممنوع نام لینے کا تدارک اور اس کی تلافی ہوجائے، نیز ایک روایت یہ بھی ہے کہ جو شخص یثرب کہے وہ استغفار کرے۔ برے آدمیوں سے مراد اہل کفر و شرک ہیں، جو اسلام کا غلبہ ہوجانے کے بعد اس شہر سے نکال دئیے گئے تھے، چناچہ کفار و مشرکین پر اس شہر کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند کر دئیے گئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدینہ کا نام
وعن جابر بن سمرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله سمى المدينة طابة . رواه مسلم
حضرت جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے سنا، رسول کریم ﷺ یہ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے۔ (مسلم)
تشریح
اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی لسان مقدس کے ذریعہ مدینہ کا نام طابہ ظاہر فرمایا ہے اور ایک روایت میں طیبہ ہے جس کے معنی ہیں پاک و خوش یعنی یہ شہر مقدس کفر و شرک کی نجاستوں سے پاک ہے، اس کی آب و ہوا طبائع سلیم کو موافق ہے اور یہاں کے رہنے والے خوش و خرم ہیں۔
وعن جابر بن عبد الله : أن أعرابيا بايع رسول الله صلى الله عليه و سلم فأصاب الأعرابي وعك بالمدينة فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا محمد أقلني بيعتي فأبى رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم جاءه فقال : أقلني بيعتي فأبى ثم جاءه فقال : أقلني بيعتي فأبى فخرج الأعرابي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنما المدينة كالكير تنفي خبثها وتنصع طيبها
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں رہنے کی آپ ﷺ سے بیعت کی، کچھ ہی دنوں کے بعد جب وہ مدینہ کے شدید بخار میں مبتلا ہوا اور اس صورت میں اس سے مدینہ رہنا گوارا نہ ہوا اور وہاں سے چلے جانے کا ارادہ کیا تو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے محمد! میری بیعت فسخ کر دیجئے۔ مگر آپ ﷺ نے انکار کردیا، وہ پھر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے محمد! میری بیعت فسخ کر دیجئے۔ آپ ﷺ نے اس مرتبہ بھی انکار کردیا، اس کے بعد وہ پھر آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد! میری بیعت فسخ کر دیجئے۔ آپ ﷺ نے پھر انکار کردیا، چناچہ وہ آپ ﷺ کی اجازت کے بغیر ہی مدینہ سے بھاگ گیا، جب آپ ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی مانند ہے جو اپنے میل کو دور کردیتا ہے اور اپنے اچھے آدمی کو نکھار دیتا ہے یعنی برے آدمی کو نکال باہر کرتا ہے اور پاک باطن و مخلص آدمی کو پلید ذہن اور بدطینت آدمی سے الگ کردیتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
آنحضرت ﷺ نے اس کی بیعت کو فسخ کرنے سے اس لئے انکار فرمایا کہ جس طرح اسلام کی بیعت کو فسخ کردینا جائز نہیں تھا اسی طرح آپ ﷺ کے ساتھ رہنے کی بیعت کو بھی فسخ کردینے کی اجازت نہیں تھی۔ علماء لکھتے ہیں کہ مدینہ کی اس خاصیت یعنی برے آدمیوں کو نکال دینے اور اچھے آدمیوں کو خالص کردینے کا تعلق یا تو آنحضرت ﷺ ہی کے زمانہ کے ساتھ خاص تھا یا پھر آخر زمانہ میں قیامت کے قریب اس مقدس شہر کی یہ خاصیت ظاہر ہوگی کہ جب دجال نمودار ہوگا تو مدینہ کو تین مرتبہ ہلایا اور جھنجھوڑا جائے گا چناچہ اس وقت مدینہ میں جتنے بھی برے لوگ ہوں گے (خواہ وہ کافر ہوں یا منافق) اس شہر سے نکل پڑیں گے اور دجال کے پاس پہنچ جائیں گے، نیز یہ احتمال بھی ہے کہ اس خاصیت کا تعلق ہر زمانہ کے ساتھ ہو۔
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تقوم الساعة حتى تنفي المدينة شرارها كما ينفي الكير خبث الحديد . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ مدینہ اپنے شریر (یعنی برے) لوگوں کو اس طرح نہ نکال پھینکے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو نکال پھینکتی ہے۔ (مسلم)
مدینہ میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہوگا
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : على أنقاب المدينة ملائكة لا يدخلها الطاعون ولا الدجال
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مدینہ کے راستوں یا اس کے دروازوں پر بطور نگہبان فرشتے متعین ہیں، نہ تو مدینہ میں طاعون کی بیماری داخل ہوگی نہ دجال داخل ہوگا (بخاری ومسلم)
تشریح
طاعون وبا کے علاوہ ایک خاص بیماری کو بھی کہتے ہیں چناچہ یہاں حدیث میں اسی خاص بیماری کے بارے میں فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کی دعا کی برکت سے یہ بیماری مدینہ میں داخل نہیں ہوگی، گویا یہ آنحضرت ﷺ کا ایک صریح معجزہ ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے اپنی کتاب میں طاعون کا ترجمہ وباء ہی کیا ہے اور فرمایا ہے کہ مدینہ میں وباء کا داخل نہ ہونا یا تو دجال کے ظاہر ہونے کے وقت ہوگا یا یہ کہ اس کا تعلق ہر زمانہ سے ہے۔
مدینہ میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہوگا
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس من بلد إلا سيطؤه الدجال إلا مكة والمدينة ليس نقب من أنقابها إلا عليه الملائكة صافين يحرسونها فينزل السبخة فترجف المدينة بأهلها ثلاث رجفات فيخرج إليه كل كافر ومنافق
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مکہ اور مدینہ کے علاوہ ایسا کوئی شہر نہیں ہے جسے دجال نہ روندے گا اور مدینہ، یا مکہ اور مدینہ میں سے ہر ایک کے راستوں میں ایسا کوئی راستہ نہیں ہے جس پر صف باندھے ہوئے فرشتے نہ کھڑے ہوں جو اس شہر کی نگہبانی کرتے ہیں چناچہ جب دجال مدینہ سے باہر زمین شور میں نمودار ہوگا تو مدینہ اپنے باشندوں کے ساتھ زلزلہ کی صورت میں تین مرتبہ ہلے گا جس کے نتیجہ میں ہی کافر و منافق مدینہ سے نکل پڑے گا اور دجال کے پاس چلا جائے گا۔ (بخاری ومسلم)
اہل مدینہ سے مکروفریب کرنے والے کی سزا
وعن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يكيد أهل المدينة أحد إلا انماع كما ينماع الملح في الماء
حضرت سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص بھی مدینہ والوں سے مکر و فریب کرے گا وہ اس طرح گھل جائے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
تاریخ اسلام کی بدنام ترین شخصیت یزید کا یہی حال ہوا کہ وہ واقعہ حرہ کے بعد دق اور سل کی بیماری میں گھل گھل کر مرگیا۔
مدینہ سے آنحضرت ﷺ کی محبت
وعن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا قدم من سفر فنظر إلى جدرات المدينة أوضع راحلته وإن كان على دابة حركها من حبها . رواه البخاري
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب کسی سفر سے واپس ہوتے تو مدینہ منورہ کی دیواریں (یعنی اس کی عمارتیں) دیکھ کر اپنے اونٹ کو دوڑانے لگتے اور اگر گھوڑے یا خچر پر سوار ہوتے تو اس کو تیز کردیتے اور یہ اس وجہ سے تھا کہ آپ ﷺ کو مدینہ سے محبت تھی۔ (بخاری)
وعنه أن النبي صلى الله عليه و سلم طلع له أحد فقال : هذا جبل يحبنا ونحبه اللهم إن إبراهيم حرم مكة وإني أحرم ما بين لابتيها
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی نظر مبارک جب احد پہاڑ پر پڑی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں (پھر آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ) اے اللہ! حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرام کیا (یعنی اس کے حرم ہونے کو ظاہر کیا) اور میں اس قطعہ زمین کو حرام کرتا ہوں (یعنی قابل تعظیم قرار دیتا ہوں) جو سنگسان مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے یہ جملہ بلا شک و شبہ اپنے طاہری معنی ہی پر محمول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جمادات (یعنی پتھروں وغیرہ) میں بھی ان کے حسب حال علم و فہم اور محبت و عداوت، خاص طور سے انبیاء و اولیاء اور بالاخص حضرت سید الانبیاء ﷺ کی محبت پیدا کی ہے، نیز یہ کہ پروردگار عالم جس کو دوست رکھتا ہے اس کو تمام چیزیں دوست رکھتی ہیں کیونکہ ہر چیز پروردگار کی مخلوق اور اس کی تابعدار ہے، چناچہ آنحضرت ﷺ کی مفارقت کی وجہ سے کھجور کے تنے کے رونے کا واقعہ اس دعویٰ کی صریح دلیل ہے۔ وانی احرم ما بین لابتیہا کا مطلب جیسا کہ ترجمہ میں بھی ظاہر کیا گیا، یہ ہے کہ میں اس قطعہ زمین کو جس میں مدینہ ہے بزرگ قدر اور قابل تعظیم قرار دیتا ہوں، اس جملہ سے یہ مراد نہیں ہے کہ مکہ کی طرح مدینہ اور اس کے اطراف کی زمین بھی بایں معنی حرم ہے کہ اس کا درخت کاٹنا اور اس میں شکار وغیرہ حرام ہے۔
وعن سهل بن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أحد جبل يحبنا ونحبه . رواه البخاري
حضرت سہل بن سعد ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ (بخاری)
عن سليمان بن أبي عبد الله قال : رأيت سعد بن أبي وقاص أخذ رجلا يصيد في حرم المدينة الذي حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم فسلبه ثيابه فجاءه مواليه فكلموه فيه فقال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم حرم هذا الحرم وقال : من أخذ أحدا يصيد فيه فليسلبه . فلا أرد عليكم طعمة أطعمنيها رسول الله صلى الله عليه و سلم ولكن إن شئتم دفعت إليكم ثمنه . رواه أبو داود
حضر سلیمان بن ابوعبداللہ (تابعی) کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے ایک شخص کو پکڑا جو اس حرم مدینہ (یعنی مدینہ کے اطراف) میں شکار مار رہا تھا جسے رسول اللہ ﷺ نے حرام ٠ یعنی قابل تعظیم) قرار دیا ہے، چناچہ حضرت سعد ؓ نے اس شخص کے کپڑے زجر و تنبیہ کے طور پر چھین لئے، پھر اس شخص کے مالک آئے اور حضرت سعد ؓ سے اس کے بارے میں گفتگو کی، حضرت سعد ؓ نے ان سے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے اس حرم کو حرام قرار دیا ہے، نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی ایسے آدمی کو پکڑے جو اس میں شکار مار رہا ہو تو وہ اس کا سامان چھین لے۔ لہٰذا جو چیز رسول اللہ ﷺ نے مجھے دلوائی ہے (یعنی جو چیز میں نے آپ ﷺ کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے حاصل کی ہے) وہ تو میں (کسی حال میں بھی) واپس نہیں کروں گا، ہاں اگر تم چاہو تو میں اس کی قیمت (از راہ مروت و احسان) تمہیں دے دوں۔ (ابوداؤد)
وعن صالح مولى لسعد أن سعدا وجد عبيدا من عبيد المدينة يقطعون من شجر المدينة فأخذ متاعهم وقال يعني لمواليهم سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى أن يقطع من شجر المدينة شيء وقال : من قطع منه شيئا فلمن أخذه سلبه . رواه أبو داود
حضرت سعد ؓ کے آزاد کردہ غلام صالح کہتے ہیں کہ حضرت سعد ؓ نے مدینہ کے غلاموں میں سے کچھ غلاموں کو مدینہ کا درخت کاٹتے ہوئے پایا تو انہوں نے ان کے اسباب ضبط کر لئے اور پھر ان کے مالکوں سے فرمایا کہ میں نے خود سنا ہے، رسول کریم ﷺ نے مدینہ کے درخت کا کوئی بھی حصہ کاٹنے سے منع فرمایا ہے نیز آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص مدینہ کے درخت کا کچھ بھی حصہ کاٹے تو اس کا اسباب اس شخص کے لئے ہے جو اس کو پکڑے۔ (ابوداؤد)
تشریح
عن صالح مولیٰ لسعد (حضرت سعد ؓ کے آزاد کردہ غلام صالح کہتے ہیں) کے بجائے صحیح یوں ہے عن صالح عن مولیٰ لسعد (صالح حضرت سعد کے آزاد کردہ غلام سے روایت کرتے ہیں) گویا مولیٰ لسعد سے پہلے لفظ عن یا تو کاتب کی غلطی سے نہیں لکھا گیا، یا پھر اس بارے میں خود مصنف کو سہو ہوا ہے کیونکہ صالح حضرت سعد کے آزاد کردہ غلام نہیں بلکہ توامہ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور صالح نے یہ روایت حضرت سعد ؓ کے آزاد کردہ غلام سے نقل کی ہے۔
وج میں شکار وغیرہ کی ممانعت
وعن الزبير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن صيد وج وعضاهه حرم محرم لله . رواه أبو داود وقال محيى السنة : وج ذكروا أنها من ناحية الطائف وقال الخطابي : إنه بدل إنها
حضرت زبیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا وج کا شکار اور اس کے خاردار درخت حرام ہیں جو اللہ تعالیٰ کے لئے (یعنی اللہ تعالیٰ بموجب) حرام کئے گئے (یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں یعنی غازیوں کی وجہ سے) حرام کئے گئے ہیں۔ (ابوداؤد) امام محی السنہ فرماتے ہیں کہ وج کے بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ یہ یعنی وج طائف کے کنارے ایک مقام ہے، نیز خطابی نے انہا من ناحیۃ الطائف میں انہا کی بجائے انہ لکھا ہے۔
تشریح
علماء لکھتے ہیں کہ مقام وج میں شکار وغیرہ کی حرمت حمی کے طور پر تھی (حمی اس چراگاہ کو کہتے ہیں جس میں دوسروں کے جانور کو چرانے کی ممانعت ہو) چناچہ مقام وج میں چونکہ غازیوں کے گھوڑوں کے لئے گھاس وغیرہ روکی جاتی تھی اس لئے اس مقام میں شکار کے لئے جانا یا اس کے درخت وغیرہ کاٹنا ممنوع تھا، حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مقام وج کی مذکورہ بالا حرمت حرم کے طور پر تھی اور اگر یہ حرمت حرم ہی کے طور پر تھی تو پھر کہا جائے گا کہ اس حرمت کا تعلق ایک مخصوص زمانہ کے ساتھ تھا جو بعد میں منسوخ ہوگئی تھی۔ امام شافعی اس بات کے قائل ہیں کہ مقام وج میں نہ تو شکار کیا جائے نہ وہاں کے درخت وغیرہ کاٹے جائیں تاہم انہوں نے اس میں ضمان (یعنی بطور جزاء و کفارہ کسی چیز کا واجب ہونا) ذکر نہیں کیا ہے۔
وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من استطاع أن يموت بالمدية فليمت لها فإني أشفع لمن يموت بها . رواه أحمد والترمذي وقال : هذا حديث حسن صحيح غريب إسنادا
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص مدینہ میں مرسکتا ہو اسے مدینہ ہی میں مرنا چاہئے کیونکہ جو شخص مدینہ میں مرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا۔ (احمد، ترمذی) امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث سند کے اعتبار سے حسن صحیح غریب ہے۔
تشریح
حدیث کے پہلے جزو کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس بات پر قادر ہو کہ مدینہ میں اپنی زندگی کے آخری لمحات تک رہ سکے، تو اسے چاہئے کہ وہ مدینہ ہی میں رہے تاآنکہ اس کی موت اسی مقدس شہر میں واقع ہو اور میں اس کی شفاعت کروں بایں طور کہ اگر وہ گنہگار ہوگا تو میں اسے بخشواؤں گا اور اگر نیکوکار ہوگا تو اس کے درجات بلند کراؤں گا۔ واضح رہے کہ یہاں شفاعت سے مراد وہ خاص شفاعت ہے جو صرف مدینہ میں رہنے والوں ہی کو حاصل ہوگی اور کسی دوسرے کو نصیب نہ ہوگی، البتہ آنحضرت ﷺ کی شفاعت عام ہر مسلمان کے لئے ہوگی۔ لہٰذا افضل یہ ہے کہ جس کی عمر زیادہ ہوجائے یا کشف وغیرہ کے ذریعہ اسے معلوم ہوجائے کہ اس کی موت کا وقت قریب آگیا ہے تو وہ مدینہ منورہ میں جا رہے تاکہ وہاں مرنے کی وجہ سے وہ آنحضرت ﷺ کی شفاعت خاص کی اس سعادت عظیم کا حق دار ہوجائے، حضرت عمر ؓ کی دعا کیا خوب ہے۔ اللہم ارزقنی شہادۃ فی سبیلک واجعل موتی ببلدرسولک۔ اے اللہ! مجھی اپنی راہ میں شہادت نصیب کر اور اپنے رسول ﷺ کے شہر میں مجھے موت دے۔ دعا ہے کہ رب کریم ہم جیسے بےرز و بےپر کو بھی یہ دولت نصیب کرے۔ آمین
قرب قیامت میں مدینہ سب سے آخر میں ویران ہوگا
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : آخر قرية من قرى الإسلام خرابا المدينة . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ویران و اجاڑ ہونے والے اسلامی شہروں میں سب سے آخری نمبر مدینہ کا ہوگا امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جب قیامت قریب ہوگی تو تمام آبادیاں اور شہر ویران و اجاڑ ہوجائیں گے اور ان میں مدینہ سب سے آخر میں ویران و اجاڑ ہوگا۔ گویا مدینہ کو یہ برکت آنحضرت ﷺ کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔
آنحضرت ﷺ کی ہجرت کے لئے مدینہ کا تعین
وعن جرير بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله أوحى إلي : أي هؤلاء الثلاثة نزلت فهي دار هجرتك المدينة أو البحرين أو قنسرين . رواه الترمذي
حضرت جریر بن عبداللہ ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی مجھے مطلع فرمایا کہ آپ ﷺ ان تین شہروں (١) مدینہ (٢) بحرین (٣) قنسرین۔ میں سے جس شہر میں (رہنے کے لئے) اتریں گے وہی آپ ﷺ کے لئے دارالہجرت (ہجرت کا مکان) ہوگا۔ (ترمذی)
تشریح
بحرین موجودہ جغرافیائی نقشہ کے مطابق ان متعدد جزیروں کے مجموعہ کا نام ہے جو خلیج غربی کے جنوب مغربی گوشے میں واقع ہیں، ان جزیروں میں سب سے بڑا جزیرہ، جزیرہ منامہ ہے جس کا دوسرا نام بحرین بھی ہے اسی جزیرہ کے نام پر پورے ملک کو بحرین کہتے ہیں۔ لیکن حدیث شریف اور تاریخ کی کتابوں میں بحرین کا لفظ اس علاقہ کے متعلق آیا ہے جو جزیرہ العرب کے مشرقی ساحل پر خلیج بصرہ سے قطر اور عمان تک پھیلا ہوا ہے اور موجودہ بحرین کے مغرب میں واقع ہے۔ اس علاقہ کو اب احساء کہا جاتا ہے، لہٰذا یہاں حدیث میں بھی بحرین سے مراد وہی علاقہ ہے جس کا نام اب احساء ہے۔ قنسرین ملک شام کے ایک شہر کا نام ہے! بہرکیف آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا تھا کہ ان تین شہروں میں جس شہر کے بارے میں آپ ﷺ کی خواہش ہو مکہ سے ہجرت کر کے وہاں چلے جائیں اور اسی شہر کو اپنا مسکن قرار دیجئے۔ لیکن تاریخ مدینہ میں لکھا ہے کہ اگرچہ شروع میں آنحضرت ﷺ کو ان تین شہروں میں سے کسی بھی ایک شہر میں رہنے کا اختیار دیا گیا تھا مگر آخر میں مدینہ ہی کو متعین کردیا گیا تھا، چناچہ آپ ﷺ مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے آئے۔