حج کارکن اعظم قیام عرفات ہے
وعن عبد الرحمن بن يعمر الديلي قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : الحج عرفة من أدرك عرفة ليلة جمع قبل طلوع الفجر فقد أدرك الحج أيام منى ثلاثة أيام فمن تعجل في يومين فلا إثم عليه ومن تأخر فلا إثم عليه . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث حسن صحيح هذا الباب خال عن الفصل الثالث
حضرت عبدالرحمن بن یعمر دیلی کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حج عرفہ ہے (یعنی حج کا سب سے بڑا رکن ذی الحجہ کی نو یا دس تاریخ میں قیام عرفات ہے) جس نے مزدلفہ کی رات یعنی ذی الحجہ کی دسویں رات میں طلوع فجر سے پہلے وقوف عرفات پا لیا اس نے حج کو پا لیا۔ منیٰ میں ٹھہرنے کے تین دن ہیں یعنی ذی الحجہ کی گیارہویں، بارہویں تیرہویں تاریخ جنہیں ایام تشریق کہتے ہیں، ان دنوں میں منیٰ میں قیام کیا جاتا ہے اور رمی جمار کی جاتی ہے پس جو شخص جلدی کرے اور دو ہی دن کے بعد چلا آئے اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو شخص تاخیر کرے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، نیز امام ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی)
تشریح
اس نے حج کو پا لیا کا مطلب یہ ہے کہ اس کا حج فوت نہیں ہوا اور وہ حج میں کسی خرابی اور فساد سے مامون رہا بشرطیکہ اس نے احرام کا وقت پورا ہونے سے پہلے بیوی سے ہم بستری یا کسی ایسے فعل کا ارتکاب نہ کیا ہو جو احرام کی حالت میں ممنوع ہے اور یہ بات تو پہلے بھی بتائی جا چکی ہے کہ جس شخص کا حج فوت ہوجائے یعنی وہ ذی الحجہ کی دسویں رات کو طلوع فجر تک ایک منٹ کے لئے بھی وقوف عرفات نہ کرسکے تو اس پر یہ واجب ہوگا کہ وہ عمرہ کے افعال یعنی طواف و سعی کے بعد احرام کھول دے، آئندہ سال کے حج تک مسلسل احرام باندھے رہنا اس کے لئے حرام ہے۔ جو شخص جلدی کرے الخ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بارہویں تاریخ کو ظہر کے بعد تینوں مناروں پر کنکریاں مار کر مکہ چلا آئے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اور تیرہویں رات میں قیام منیٰ اور تیرہویں تاریخ کو کنکریاں مارنا اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گا۔ اسی طرح جو شخص تاخیر کرے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بارہویں تاریخ کو رمی جمرات کے بعد منیٰ ہی میں ٹھہرا رہے تآنکہ تیرہویں رات کو بھی رمی جمرات کرے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، گویا جواز کے اعتبار سے تو دونوں صورتیں برابر ہیں، البتہ کثرت عبادت کے پیش نظر تاخیر افضل ہے۔ منقول ہے کہ اہل جاہلیت میں دو فریق تھے، ایک فریق تو تعجیل کو گناہ کہتا تھا اور دوسرا فریق تاخیر کو، چناچہ یہ حکم نازل ہوا کہ تعجیل اور تاخیر دونوں برابر ہیں ان میں سے کسی میں کوئی گناہ نہیں ہے۔
حرم مکہ (اللہ تعالیٰ اس کی حرمت کو آفات سے محفوظ رکھے) کی حرمت کا بیان
حرم زمین کے اس قطعہ کو کہتے ہیں جو کعبہ اور مکہ کے گرداگرد ہے۔! اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی عظمت کے سبب اس زمین کو بھی معظم و مکرم کیا ہے۔ اس زمین کو حرم اس لئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس خطہ زمین کی بزرگی کی وجہ سے اس کی حدود میں ایسی بہت سی چیزیں حرام قرار دی ہیں جو اور جگہ حرام نہیں ہیں۔ مثلاً حدود حرم میں شکار کرنا، درخت کاٹنا اور جانوروں کو ستانا وغیرہ درست نہیں۔! بعض علماء کہتے ہیں کہ زمین کا یہ حصہ حرم اس طرح مقرر ہوا کہ جب حضرت آدم زمین پر اتارے گئے تو شیاطین سے ڈرتے تھے کہ مجھے ہلاک نہ کر ڈالیں چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت و نگہبانی کے لئے فرشتوں کو بھیجا ان فرشتوں نے مکہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا لہٰذا مکہ کے گرداگرد جہاں جہاں فرشتوں نے کھڑے ہو کر حد بندی کی وہ حرم کی حد مقرر ہوئی اور اس طرح کعبہ مکرمہ اور ان فرشتوں کے کھڑے ہونے کی جگہ کے درمیان جو زمین آگئی، وہ حرم ہوئی۔ بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم نے جب کعبہ بناتے وقت حجر اسود رکھا تو اس کی وجہ سے ہر چہار طرف کی زمین روشن ہوگئی چناچہ اس کی روشنی اس زمین کے چاروں طرف جہاں جہاں تک پہنچی وہیں حرم کی حد مقرر ہوئی زمین حرم کے حدود یہ ہیں، مدینہ منورہ کی طرف تین میل (مقام تنعیم تک) یمن، طائف، جعرانہ اور جدہ کی طرف سات سات میل بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ جدہ کی طرف دس میل اور جعرانہ کی طرف نو میل۔ چاروں طرف جہاں جہاں حرم کی زمین ختم ہوتی ہے۔ وہاں حدود کی علامت کے طور پر برجیاں بنی ہوئی ہیں مگر جدہ اور جعرانہ کی طرف برجیاں نہیں ہیں۔
عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم فتح مكة : لا هجرة ولكن جهاد ونية وإذا استنفرتم فانفروا . وقال يوم فتح مكة : إن هذا البلد حرمه الله يوم خلق السماوات والأرض فهو حرام بحرمة الله إلى يوم القيامة وإنه لم يحل القتال فيه لأحد قبلي ولم يحل لي إلا ساعة من نهار فهو حرام بحرمة الله إلى يوم القيامة لا يعضد شوكه ولا ينفر صيده ولا يلتقط لقطته إلا من عرفها ولا يختلى خلاها . فقال العباس : يا رسول الله إلا الأذخر فإنه لقينهم ولبيوتهم ؟ فقال : إلا الأذخر وفي رواية لأبي هريرة : لا يعضد شجرها ولا يلتقط ساقطتها إلا منشد
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا کہ اب مکہ سے مدینہ کو ہجرت فرض نہیں ہے البتہ جہاد اور عمل میں نیت کا اخلاص ضروری ہے لہٰذا جب تمہیں جہاد کے لئے بلایا جائے یعنی تمہارا امیر تمہیں جو جہاد کا حکم دے تو جہاد کے لئے نکل کھڑے ہو۔ نیز آپ ﷺ نے فتح مکہ ہی کے دن یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس شہر یعنی تمام زمین حرم کو حرام کیا ہے بایں طور کہ تمام لوگوں پر اس مقدس خطہ زمین کی ہتک و بےحرمتی حرام ہے اور اس کی تعظیم واجب ہے اسی دن سے جب کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا یعنی اس خطہ زمین کی حرمت شروع ہی سے ہے لہٰذا یہ خطہ زمین اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی حرمت کے سبب قیامت تک کے لئے حرام کیا گیا بلاشہ اس خطہ زمین میں نہ تو مجھ سے پہلے کسی کے لئے قتل و قتال حلال کیا گیا تھا اور نہ میرے لئے حلال ہوا ہے علاوہ فتح مکہ کے دن کی ایک ساعت کے پس اس دن کے بعد یہ خطہ زمین اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی حرمت کے سبب قیامت کے دن پہلا صور پھونکے جانے تک ہر شخص کے لئے حرام کردیا گیا ہے لہٰذا نہ تو اس زمین کا کوئی خاردار درخت ہی کاٹا جائے اگرچہ وہ ایذاء دے نہ اس کا شکار بہکایا جائے یعنی کوئی شکار کی غرض سے یا محض بھڑکانے ستانے کے لئے یہاں کے کسی جانور کے ساتھ تعرض نہ کرے اور نہ یہاں کا لقطہ اٹھایا جائے ہاں وہ شخص اس کو اٹھا سکتا ہے جو اس کا اعلان کرے اور نہ اس کی زمین کی گھاس کاٹی جائے۔ حضرت عباس ؓ نے یہ سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مگر اذخر (ایک قسم کی گھاس) تو ایسی چیز ہے جو لوہاروں اور سناروں کے لئے لوہا اور سونا گلانے کے کام آتی ہے اور گھروں کی چھتیں بنانے میں اس کی ضرورت پڑتی ہے اس کو کاٹنے کی اجازت دے دیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں! اذخر کاٹی جاسکتی ہے۔ (بخاری ومسلم) اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ نہ یہاں کا درخت کاٹا جائے اور نہ یہاں کی گری پڑی کوئی چیز اٹھائی جائے البتہ اس کے مالک کو تلاش کرنے والا اٹھا سکتا ہے۔
تشریح
آنحضرت ﷺ جب مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو اس وقت ہجرت ہر اس شخص پر فرض تھی جو اس کی استطاعت رکھتا تھا۔ پھر جب مکہ فتح ہوگیا تو اس ہجرت کا سلسلہ منقطع ہوگیا جو فرض تھی کیونکہ اس کے بعد مکہ دارالحرب نہیں رہا تھا لہٰذا ارشاد گرامی اب ہجرت نہیں الخ، کا مطلب یہی ہے کہ اگر اب کوئی ہجرت کرے تو اسے وہ درجہ حاصل نہیں ہوگا جو مہاجرین کو حاصل ہوچکا ہے البتہ جہاد اور اعمال میں حسن نیت کا اجر اب بھی باقی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے گا، اسی طرح وہ ہجرت بھی باقی ہے جو اپنے دین اور اسلام کے احکام و شعائر کی حفاظت کے لئے ہوتی ہے اور اس کا اجر بھی ملتا ہے۔ نہ کوئی خاردار درخت کاٹا جائے اس سے معلوم ہوا کہ بغیر خاردار درخت کو کاٹنا تو بدرجہ اولیٰ جائز نہیں ہوگا ہدایہ میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص زمین حرم کی ایسی گھاس یا ایسا درخت کاٹے جو کسی کی ملکیت میں نہ ہو اور خود رو ہو تو اس پر اس گھاس یا درخت کی قیمت بطور جزاء واجب ہوگی، البتہ خشک گھاس کاٹنے کی صورت میں قیمت واجب نہیں ہوتی لیکن اس کا کاٹنا بھی درست نہیں ہے۔! زمین حرم کی گھاس کو چرانا بھی جائز نہیں ہے، البتہ اذخر کو کاٹنا بھی جائز ہے اور چرانا بھی، اسی طرح کماۃ یعنی کھنبی (ایک قسم کا خود رو ساگ) بھی مستثنی ہے کیونکہ یہ نباتات میں سے نہیں ہے! حضرت امام شافعی کے مسلک میں زمین حرم کی گھاس میں جانوروں کو چرانا بھی جائز ہے۔ لقطہ اس چیز کو کہتے ہیں جو کہیں گری پڑی پائی جائے اور اس کا مالک معلوم نہ ہو۔ زمین حرم کے علاوہ عام طور پر لقطہ کا حکم تو یہ ہے کہ اس کو اٹھانے والا عام لوگوں میں یہ اعلان کراتا رہے کہ میں نے کسی کی کوئی چیز پائی ہے جس شخص کی ہو وہ حاصل کرلے۔ اگر اس اعلان کے بعد بھی اس چیز کا مالک نہ ملے تو وہ شخص اگر خود نادار و مستحق ہو تو اسے اپنے استعمال میں لے آئے اور اگر نادار نہ ہو تو پھر کسی نادار کو بطور صدقہ دے دے پھر اگر بعد میں اس کا مالک مل جاے تو اس کو اس کی قیمت ادا کرے لیکن زمین حرم کے لقطہ میں، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوا، یہ بات نہیں ہے بلکہ صرف اعلان ہے جب تک کہ اس کا مالک نہ مل جائے یعنی جب تک اس کے مالک کا پتہ نہ لگے اس وقت تک اس کا اعلان کیا جاتا رہے اور مالک کا انتظار کیا جائے، اس کو آخر تک نہ تو اپنے استعمال میں لاسکتا ہے نہ کسی کو بطور صدقہ دیا جاسکتا ہے اور نہ اپنی ملکیت بنایا جاسکتا ہے، چناچہ حضرت امام شافعی کا یہی مسلک ہے لیکن اکثر علماء کے نزدیک حرم اور غیر حرم کے لقطہ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے حنفیہ کا مسلک بھی یہی ہے، ان کی دلیل وہ احادیث ہیں جن میں مطلق طور پر لقطہ کا حکم بیان کیا گیا ہے جو انشاء اللہ لقطہ کے باب میں آئیں گی۔ حدیث کے الفاظ الا من عرفہا کا مطلب ان علماء کے نزدیک یہ ہے کہ زمین حرم کے لقطہ کو اٹھانے والا پورے ایک برس تک مکہ میں اس کا اعلان کرتا کراتا رہے جیسا کہ اور جگہ کرتے ہیں، اعلان کو صرف ایام حج کے ساتھ مخصوص نہ کرے، گویا حدیث کے اس جملہ کا حاصل یہ ہوا کہ زمین حرم کے لقطہ کے بارے میں کسی کو یہ غلط فہمی و گمان نہ ہونا چاہئے کہ وہاں اس کا اعلان صرف ایام حج ہی کے دوران کرنا کرانا کافی ہے۔
مکہ میں بلا ضرورت ہتھیار اٹھانا درست نہیں
وعن جابر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا يحل لأحدكم أن يحمل بمكة السلاح . رواه مسلم
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے کسی کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے۔ (مسلم)
تشریح
اکثر علماء کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ مکہ میں بلاضرورت ہتھیار اٹھانا درست نہیں ہے، لیکن حضرت امام حسن فرماتے ہیں کہ مکہ میں نہ صرف بلا ضرورت بلکہ بضرورت بھی ہتھیار اٹھانا درست نہیں ہے۔
حرم مکہ میں قصاص اور حد جاری کرنے کا مسئلہ
وعن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل مكة يوم الفتح وعلى رأسه المغفر فلما نزعه جاء رجل وقال : إن ابن خطل متعلق بأستار الكعبة . فقال : اقتله
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ معظمہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ کے سر مبارک پر خود تھا، جب آپ ﷺ نے اس خود کو اتارا تو ایک شخص (یعنی فضل بن عبید ؓ نے عرض کیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردہ کو پکڑے ہوئے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو مار ڈالو۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
علامہ طیبی نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا خود پہن کر مکہ میں داخل ہونا حضرت امام شافعی کے اس مسلک کی دلیل ہے کہ جو شخص نسک حج یا عمرہ کا ارادہ نہ رکھتا ہو وہ احرام کے بغیر مکہ میں داخل ہوسکتا ہے۔ لیکن حنفیہ کا مسلک چونکہ یہ ہے کہ جو شخص (بشرطیکہ وہ آفاقی ہو) مکہ میں داخل ہونا چاہے خواہ وہ حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتا ہو یا کسی اور غرض سے مکہ جا رہا ہو تو وہ میقات سے احرام باندھے بغیر مکہ میں داخل نہ ہو۔ اس لئے شمنی کہتے ہیں کہ حنفیہ کی دلیل آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ کوئی شخص احرام باندھے بغیر میقات سے آگے نہ بڑھے۔ نیز یہ کہ احرام تو محص اس مقدس جگہ یعنی خانہ کعبہ کی تعظیم کے لئے باندھا جاتا ہے اس لئے چاہے کوئی حج یا عمرہ کے لئے مکہ جائے چاہے کسی اور غرض سے، اس کے لئے ضروری ہے کہ خانہ کعبہ کی تعظیم کے پیش نظر احرام کے بغیر مکہ میں داخل نہ ہو۔ اب رہی یہ بات کہ پھر آنحضرت ﷺ احرام کے بغیر مکہ میں کیسے داخل ہوئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ فتح مکہ کے دن اس خاص ساعت میں بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہونا آپ ﷺ کے لئے حلال ہوگیا تھا، چناچہ اس کی تائید باب کی پہلی حدیث کے ان الفاظ ولم یحل لی الا ساعۃ من نہا (اور نہ میرے لئے حلال ہوا ہے علاوہ دن کی ایک ساعت کے) سے ہوئی ہے۔ ابن خطل کے بارے میں علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ یہ مسلمان تھا مگر پھر مرتد ہوگیا تھا اور اس نے ایک مسلمان کو قتل کردیا تھا۔ جو اس کا خدمت گار تھا، نیز اس نے ایک پیشہ ور گانے والی لڑکی پال رکھی تھی جو آنحضرت ﷺ، آپ کے صحابہ کرام اور اسلام کے احکام و شعائر کی ہجو کرتی تھی اس لئے آپ ﷺ نے اس کو مار ڈالنے کا حکم دیا۔ اس بات سے حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی یہ استدلال کرتے ہیں کہ حرم مکہ میں قصاص اور حدود سزائیں جاری کرنا جائز ہے، حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے، امام صاحب فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ابن خطل کے قتل کا حکم اس لئے دیا کہ وہ مرتد ہوگیا تھا، تاہم اگر یہ مان لیا جائے کہ آپ ﷺ نے اس کو قصاص کے طور پر قتال کرایا تو پھر یہ کہا جائے گا کہ اس کا قتل اس خاص ساعت میں ہوا ہوگا جس میں آنحضرت ﷺ کے لئے زمین حرم مباح کردی گئی تھی۔
وعن جابر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دخل يوم فتح مكة وعليه عمامة سوداء بغير إحرام . رواه مسلم
حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ فتح مکہ کے دن بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہوئے اور اس وقت آپ ﷺ کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا۔ (مسلم)
تشریح
بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے سر پر خود پہن کر اس کے اوپر سیاہ عمامہ باندھ رکھا ہوگا، بغیر احرام مکہ میں داخل ہونے کے بارے میں حدیث نمبر ٣ کی تشریح میں بحث کی جا چکی ہے۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سیاہ رنگ کی پگڑی استعمال کرنا مستحب ہے جیسا کہ حنفیہ کا مسلک ہے۔
کعبہ کی تخریب کے بارے میں ایک پیشگوئی
وعن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يغزو جيش الكعبة فإذا كانوا ببيداء من الأرض يخسف بأولهم وآخرهم . قلت : يا رسول الله وكيف يخسف بأولهم وآخرهم وفيهم أسواقهم ومن ليس منهم ؟ قال : يخسف وآخرهم ثم يبعثون على نياتهم
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک لشکر خانہ کعبہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کرے گا تاکہ وہ خانہ کعبہ کو نقصان پہنچائے، چناچہ جب وہ لشکر زمین کے ایک میدانی حصہ میں، پہنچے گا تو وہ اول سے آخر تک (یعنی پورا لشکر) زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ میں نے یہ سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ وہ لشکر اول سے آخر تک (یعنی سب کو) کس طرح دھنسا دیا جائے گا جب کہ ان میں کاروباری لوگ بھی ہوں گے اور ان میں وہ شخص بھی ہوگا جو ان میں سے نہیں ہے، لشکر میں ایسے لوگ بھی شامل ہوں گے جو نہ سب لشکر والوں کی طرح کافر ہوں گے اور نہ کعبہ کو نقصان پہنچانے میں ان کے ہمنوا و شریک ہوں گے بلکہ ان کو زبردستی لشکر میں شامل کرلیا ہوگا تو کیا ایسے لوگ بھی زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اول سے آخرت تک سب ہی دھنسا دئیے جائیں گے البتہ انہیں ان کی نیتون کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
یہ گویا آنحضرت ﷺ نے اس زمانہ کے بارے میں پیش گوئی فرمائی ہے جب دنیا اپنی عمر کے آخری دور میں ہوگی، چناچہ اس آخری زمانہ میں حضرت امام مہدی کے ظہور کے بعد مصر کے حکمران سفیانی کا ایک لشکر خانہ کعبہ کو نقصان پہنچانے کے ناپاک ارادہ کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوگا مگر وہ اپنے اس ناپاک ارادہ میں کامیاب ہونے سے پہلے ہی زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ایسے لوگ لشکر کے ناپاک ارادوں کے ہمنوا نہ ہوں گے اور خانہ کعبہ کو نقصان پہنچانا یا اس کی توہین کرنا ان کا مقصد نہیں ہوگا مگر چونکہ وہ لشکر میں شامل ہو کر نہ صرف یہ کہ ان کی بھیڑ میں اضافہ کریں گے بلکہ ایک طرح سے ان کے ناپاک ارادوں میں اعانت کا سبب بھی بنیں گے اس لئے پورے لشکر کے ساتھ ان کو بھی زمین میں دھنسا دیا جائے، ہاں پھر قیامت میں سب کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا کہ جو شخص کسی مجبور اور زبردستی کے تحت لشکر میں شامل ہوا ہوگا اور اس کی نیت صاف اور اس کا قلب ایمان و اسلام کی روشنی سے منور ہوگا وہ جنت میں داخل کیا جائے گا اور جو لوگ واقعی ناپاک ارادوں کے ساتھ اور بہ نیت کفر لشکر میں شامل ہوں گے انہیں دوزخ کی آگ کے حوالہ کردیا جائے گا۔
مخرب کعبہ کے بارے میں پیش گوئی
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يخرب الكعبة ذو السويقتين من الحبشة
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا خانہ کعبہ کو نقصان پہنچانے والا حبشیوں میں سے وہ شخص ہوگا جس کی پنڈلیاں چھوٹی اور پتلی ہوں گی۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
یہ مقدر ہوچکا ہے کہ خانہ کعبہ کی تخریب ایک حبشی کے ہاتھوں ہوگی! چناچہ یہ عبرت پکڑنے کی بات ہے کہ خانہ کعبہ باوجود اپنی قدر عظمت کے ایک حقیر آدمی کے ہاتھوں تباہ و خراب ہوگا اور جب خانہ کعبہ تباہ و خراب ہوگا تو قیامت آجائے گی جس کے نتیجہ میں پوری دنیا تباہ وخراب ہوجائے گی کیونکہ اس عالم کی آبادی وغیرہ خانہ کعبہ کے وجود کے ساتھ متعلق ہے۔
مخرب کعبہ کے بارے میں پیش گوئی
وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : كأني به أسود أفحج يقلعها حجرا حجرا . رواه البخاري
حضرت ابن عباس ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ گویا میں خانہ کعبہ کی تخریب کرنے والے کو دیکھ رہا ہوں، وہ ایک سیاہ رنگ کا اور پھڈا شخص ہوگا جو خانہ کعبہ کا ایک پتھر اکھاڑ ڈالے گا۔ (بخاری)
تشریح
افحج (پھڈا) اس شخص کو کہتے ہیں جس کے پنجے آپس میں ملے ہوں ہو اور ایڑیاں اور پنڈلیاں دور دور ہوں۔
عن يعلى بن أمية قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : احتكار الطعام في الحرم إلحاد فيه . رواه أبو داود
حضرت یعلی بن امیہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حرم میں غلہ کا احتکار (یعنی گراں بیچنے کے لئے غلہ کی ذخیر اندوزی) کجروی ہے۔ (ابوداؤد)
تشریح
احتکار کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً کوئی شخص گراں بازاری کے دور میں غلہ اس نیت سے خرید کر رکھے کہ جب گرانی اور زیادہ بڑے گی تو اسے فروخت کرے گا۔ یہ نہ صرف یہ کہ ایک سماجی اور معاشرتی ظلم ہے بلکہ شرعی طور پر گناہ بھی ہے اسلامی نقطہ نظر سے یہ قابل نفریں فعل ویسے تو ہر جگہ اور ہر شہر میں حرام ہے لیکن حرم میں اس کا ارتکاب اشد حرام ہے جس پر کجروی یعنی حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف مائل ہونا کا اطلاق فرمایا گیا ہے اور حرم میں کجروی کے بارے میں حق تعالیٰ نے یوں ارشاد فرمایا ہے۔ آیت (ومن یرد فیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم)۔ اور جو شخص حرم میں ظلم کے ساتھ کجروی کا ارادہ کرے گا ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھا دینگے۔ مسئلہ گراں فروشی کی نیت سے انسان اور جانوروں کی غذائی چیزوں کو روکے رکھنا اس شہر میں مکروہ ہے جس کے رہنے والوں کو اس سے تکلیف پہنچتی ہو۔
وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لمكة : ما أطيبك من بلد وأحبك إلي ولولا أن قومي أخرجوني منك ما سكنت غيرك . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن صحيح غريب إسنادا
حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فتح مکہ کے بعد وہاں سے واپس ہوتے وقت مکہ کی نسبت فرمایا کہ تو کتنا اچھا شہر ہے! اور تو مجھے بہت ہی پیارا ہے! اگر میری قوم قریش کے لوگ مجھے یہاں سے نہ نکال چکے ہوتے تو میں اس شہر کے علاوہ کہیں نہ رہتا۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث اسناد کے اعتبار سے حسن، صحیح، غریب ہے۔
تشریح
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ سے افضل ہے چناچہ اکثر علماء کا یہی قول ہے لیکن امام مالک کے نزدیک مدینہ کی فضیلت مکہ سے زیادہ ہے۔
وعن عبد الله بن عدي بن حمراء رضي الله عنه قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم واقفا على الحزورة فقال : والله إنك لخير أرض الله وأحب الله إلى الله ولولا أني أخرجت منك ما خرجت . رواه الترمذي وابن ماجه
حضرت عبداللہ بن عدی بن حمراء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا رسول کریم ﷺ حزورہ پر کھڑے ہوئے (مکہ کی نسبت) فرما رہے تھے کہ اللہ کی قسم! تو اللہ کی زمین کا سب سے بہتر قطعہ ہے اور تو اللہ کے نزدیک اللہ کی زمین کا سب سے محبوب حصہ ہے۔ اگر مجھے تجھ سے نہ نکالا جاتا تو میں کبھی نہ نکلتا۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
تشریح
حزورہ مکہ میں ایک جگہ کا نام ہے، آپ ﷺ نے اسی جگہ کھڑے ہو کر مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے مذکورہ بالا جملے ارشاد فرمائے۔ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ مؤمن کی شان کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ اس شہر مقدس میں اپنے قیام کو ایک عظیم سعادت تصور کرتے ہوئے مکہ کی اقامت کو اس وقت تک ترک نہ کرے جب تک وہ اس پر حقیقۃً یا حکما (یعنی دینی و دنیاوی ضرورت کے تحت) مجبور نہ ہو اسی لئے کہا گیا ہے کہ مکہ میں داخل ہونا سعادت اور وہاں سے نکلنا شقاوت ہے۔ درمختار میں لھا ہے کہ مکہ اور مدینہ کی مجاورت (یعنی ان دونون شہروں میں مستقل طور پر رہنا) اس شخص کے لئے مکروہ نہیں ہے جس کو اپنے نفس پر قابو حاصل ہو۔ گویا جس شخص کو یہ یقین ہو کہ مجھ سے گناہ سرزد نہیں ہوں گے تو وہ ان شہروں میں اقامت حاصل کرے مگر جس شخص کو یہ یقین حاصل نہ ہو وہ اقامت اختیار نہ کرے۔
عن أبي شريح العدوي أنه قال لعمرو بن سعيد وهو يبعث البعوث إلى مكة : ائذن لي أيها الأمير أحدثك قولا قام به رسول الله صلى الله عليه و سلم الغد من يوم الفتح سمعته أذناي ووعاه قلبي وأبصرته عيناي حين تكلم به : حمد الله وأثنى عليه ثم قال : إن مكة حرمها الله ولم يحرمها الناس فلا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يسفك بها دما ولا يعضد بها شجرة فإن أحد ترخص بقتال رسول الله صلى الله عليه و سلم فيها فقولوا له : إن الله قد أذن لرسوله ولم يأذن لرسوله ولم يأذن لكم وإنما أذن لي فيها ساعة نهار وقد عادت حرمتها اليوم كحرمتها بالأمس وليبلغ الشاهد الغائب . فقيل لأبي شريح : ما قال لك عمرو ؟ قال : قال : أنا أعلم بذلك منك يا أبا شريح إن الحرم لا يعيذ عاصيا ولا فارا بدم ولا فارا بخربة . متفق عليه . وفي البخاري : الخربة : الجناية
حضرت ابوشریح عدوی ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے اس وقت جب کہ وہ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ سے مقابلے پر مکہ کی طرف لشکر بھیج رہے تھے، یہ کہا کہ میرے سردار مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے سامنے وہ بات بیان کروں جس کو رسول کریم ﷺ نے فتح مکہ کے اگلے دن ایک خطبہ کے دوران ارشاد فرمایا تھا، اس بات کو میرے کانوں نے سنا، میرے دل نے یاد رکھا اور میری آنکھوں نے آنحضرت ﷺ کو وہ بات فرماتے دیکھا ہے! چناچہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا کہ مکہ کو اللہ تعالیٰ نے عظمت بخشی ہے، اس کو لوگوں نے بزرگی نہیں دی ہے، لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اس شہر میں خونریزی کرے یعنی کوئی مسلمان اس شہر میں کسی کو قتل نہ کرے اگرچہ وہ لائق قتل ہی کیوں نہ اور جو شخص لائق قتل نہ ہو اس کو قتل کرنا ہر جگہ حرام ہے خواہ حرم مکہ کے اندر ہو خواہ اس کے باہر اور یہ حلال ہے کہ اس کی زمین کا درخت کاٹے اور اگر کوئی شخص اس شہر میں قتل و قتال کے لئے رسول اللہ ﷺ کے عمل سے (جیسا کہ حدیث نمبر ٣ میں ابن خطل کے قتل کا واقعہ گزرا) جواز پیدا کرے تو اس سے کہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اجازت دے دی تھی اور تم کو اجازت نہیں ہے، چناچہ مجھے بھی ایک دن کی صرف ایک ساعت کے لئے اس شہر میں قتل کرنے کی اجازت دی گئی تھی اور اب آج کے دن (جب کہ یہ خطبہ دیا جا رہا ہے) اس شہر کی عظمت و حرمت بحالہ ہے جو کل گزشتہ اس مباح ساعت کے علاوہ تھی۔ جو لوگ یہاں موجود ہیں ان کو چاہئے کہ میری اس بات کو ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں ابوشریح ؓ سے پوچھا گیا کہ عمرو بن سعید ؓ نے یہ حدیث سن کر آپ سے کیا کہا۔ انہوں نے فرمایا کہ عمرو بن سعید ؓ نے مجھ سے کہا کہ ابوشریح! میں اس حدیث کو تم سے زیادہ جانتا ہوں لیکن سر زمین حرم نافرمان کو پناہ نہیں دیتی اور نہ اس شخص کو پناہ دیتی ہے جو خون کر کے بھاگا ہو یا کوئی تقصیر کر کے فرار ہوا ہو۔ (بخاری ومسلم) بخاری کی روایت میں الخربۃ کے معنی قصور کے ہیں
تشریح
عمرو بن سعید، خلیفہ عبدالملک بن مروان کی جانب سے مدینہ کے حاکم تھے، انہوں نے جب حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کو قتل کرنے کے لئے مدینہ سے مکہ کو لشکر روانہ کیا تو حضرت ابوشریح صحابی ؓ نے ان کے اس فیصلہ سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی مذکورہ بالا حدیث بیان کی جس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ حرم مکہ میں تو لائق قتل شخص کو بھی قتل کرنے کی اجازت نہیں ہے چہ جائکہ آپ ایک جلیل القدر صحابی کا خون بہانے کے لئے وہاں لشکر بھیج رہے ہیں۔ اس کے جواب میں عمرو بن سعید نے کہا کہ زمین حرم اس شخص کو پناہ نہیں دیتی جو خلیفہ سے بغاوت کر کے نافرمانی کا مرتکب ہوا ہو، گویا عمرو بن سعید کے گمان میں عبدالملک بن مروان، خلیفہ برحق تھا اور حضرت عبداللہ بن زبیر اس کے باغی، حالانکہ عبدالملک بن مروان خلیفہ برحق نہیں تھا کہ اس کی خلافت کا انکار کرنے والے کو شرعی نقطہ نظر سے باغی قرار دیا جاتا، اسی طرح عمرو بن سعید نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی شخص کسی کا خون کر کے حرم میں چلا جائے تو حرم اس کو بھی پناہ نہیں دیتا ایسے ہی اگر کوئی شخص تقصیر کر کے یعنی دین میں فساد کا بیج بو کر یا کوئی دینی جرم کر کے یا کوئی اور قصور کر کے مثلاً کسی کا مال تلف کر کے یا کسی کا حق غصب کر کے بھاگ جائے اور حرم میں پناہ لے لے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سے درگذر کرلیا جائے! گویا عمرو بن سعید کے جواب کا حاصل یہ تھا کہ عبداللہ بن زبیر ایک گنہگارو نافرمان شخص ہیں کیونکہ انہوں نے خلیفہ کی اطاعت سے انحراف کیا ہے، اگر وہ زمین حرم سے باہر آجائیں گے تو وہاں ان کو سزا دی جائے گی اور اگر حرم ہی میں رہیں گے تو ان کو حرم ہی میں سزا دوں گا، چناچہ ایسا ہی ہوا یعنی زمین حرم ہی میں ان کو شہید کردیا گیا۔
وعن عياش بن أبي ربيعة المخزومي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تزال هذه الأمة بخير ما عظموا هذه الحرمة حق تعظيمها فإذا ضيعوا ذلك هلكوا . رواه ابن ماجه
حضرت عیاش ابن ابی ربیعہ مخزومی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ یہ امت اس وقت تک بھلائی کے ساتھ رہے گی جب تک کہ اس حرمت یعنی مکہ کی حرمت کی تعظیم کرتی رہے گی جیسا کہ اس کی تعظیم کا حق ہے اور جب لوگ اس تعظیم کو ترک کردیں گے تو ہلاک کر دئیے جائیں گے۔ (ابن ماجہ)
حرم مدینہ (اللہ اس کو آفات سے محفوظ رکھے) کا بیان
مدینہ اور اس کی گرداگرد زمین کی حرمت کے بارے میں بھی احادیث منقول ہیں، لیکن اس سلسلہ میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں، چناچہ حنفی علماء کے نزدیک مدینہ اور اس کی گرداگرد زمین کی حرمت کا مطلب یہ ہے کہ اس شہر مقدس اور اس کی چاروں طرف کی زمین کی تعظیم و تکریم کی جائے، نہ یہ کہ اس کا بھی وہی حکم ہے جو مکہ اور اس کی گردا گرد زمین کا ہے، لہٰذا حنفی مسلک کے مطابق مدینہ اور اس کی اطراف کی زمین میں درخت وغیرہ کاٹنا اور شکار کرنا حرام نہیں ہے۔ لیکن ائمہ ثلاثہ کے نزدیک چونکہ حرم مکہ اور حرم مدینہ کا ایک ہی حکم ہے اس لئے ان کے مسلک میں مدینہ اور اس کے اطراف کی زمین میں وہ تمام چیزیں جو حرام ہیں جو مکہ اور اس کے اطراف کی زمین میں حرام ہیں تاہم ان ائمہ کے ہاں بھی حرم مدینہ میں ان چیزوں کے ارتکاب سے جزاء واجب نہیں ہوتی۔
عن علي رضي الله عنه قال : ما كتبنا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا القرآن وما في هذه الصحيفة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المدينة حرام ما بين عير إلى ثور فمن أحدث فيها حدثا أو آوى محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل ذمة المسلمين واحدة يسعى بها أدناهم فمن أخفر مسلما فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل ومن والى قوما بغير إذن مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل وفي رواية لهما : من ادعى إلى غير أبيه أو تولى غير مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کے طرف سے علاوہ قرآن اور ان باتوں کے جو اس صحیفہ میں ہیں اور کچھ نہیں لکھا ہے! حضرت علی نے فرمایا کہ میں نے اس صحیفہ میں رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بھی لکھا ہے کہ مدینہ عیر اور ثور کے درمیان حرام ہے، لہٰذا جو شخص مدینہ میں بدعت پیدا کرے یعنی ایسی بات کہے یا رائج کرے جو قرآن و حدیث کے خلاف ہو یا کسی بدعتی کو پناہ دے تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، اس شخص کے نہ (کامل طور) فرض (اعمال) قبول کئے جاتے ہیں نہ نفل! مسلمانوں کے عہد ایک ہے جس کے لئے ان کا ادنیٰ شخص بھی کوشش کرسکتا ہے لہٰذا جو شخص کسی مسلمان کے عہد کو توڑے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، نہ تو اس کے فرض قبول کئے جاتے ہیں اور نہ نفل! جو شخص اپنے ساتھوں کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے موالات (دوستی) قائم کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب آدمیوں کی لعنت ہے، نہ تو اس کے فرض قبول کئے جاتے ہیں اور نہ نفل! (بخاری ومسلم) بخاری اور مسلم ہی کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ جو شخص اپنے باپ کی بجائے کسی دوسرے کی طرف اپنی نسبت کا دعویٰ کرے (یعنی یوں کہے کہ میں زید کا بیٹا ہوں جب کہ حقیقت میں وہ بکر کا بیٹا ہو) یا اپنے مالک کی بجائے کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے (مثلاً یوں کہے کہ میں زید کا غلام یا خدمت گار ہوں جب کہ حقیقت میں وہ بکر کا غلام یا خدمت گار ہو) تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے نہ تو اس کے فرض قبول کئے جاتے ہیں اور نہ نفل۔
تشریح
کچھ لوگوں نے آپس میں کہا ہوگا کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ کو قرآن کریم کے علاوہ کوئی اور کتاب بطور خاص عنایت کی ہے جس کا علم اور کسی کو نہیں ہے، جب یہ بات حضرت علی ؓ نے سنی تو اس کی تردید کی اور فرمایا کہ میں نے تو آنحضرت ﷺ کی طرف سے صرف قرآن کریم لکھا ہے یا پھر چند احکام پر مشتمل وہ احادیث لکھی ہیں جو اس صحیفہ میں ہیں، ان کے علاوہ نہ تو میں نے کوئی اور کتاب لکھی ہے اور نہ آنحضرت ﷺ نے قرآن کریم کے علاوہ مجھے اور کوئی کتاب دی ہے، چناچہ اس صحیفہ سے مراد وہ لکھا ہوا ورق تھا جس میں آنحضرت ﷺ نے دیات کے احکام اور چند دوسرے احکام تحریر کرائے تھے اور جو حضرت علی ؓ کی تلوار کی نیام میں رہتا تھا۔ اس صحیفہ یا ورق میں دیات کے احکام کے علاوہ اور جو احکام لکھے ہوئے تھے ان میں مدینہ کے بارے میں بھی یہی حکم تھا، جو حضرت علی ؓ نے مذکورہ بالا حدیث میں بیان کیا۔ لہٰذا مدینہ عیر اور ثور کے درمیان حرام ہے، کا مطلب یہ ہے کہ مدینہ منورہ اور اس کے گرداگرد زمین کا وہ حصہ جو عیر اور ثور کے درمیان ہے بزرگ قدر اور باعظمت ہے! اس میں ایسی چیزوں کا ارتکاب ممنوع ہے، جو اس مقدس شہر اور اس کی باعظمت زمین کی توہین و حقارت کا سبب ہوں، لیکن حضرت امام شافعی کے نزدیک حرام سے مراد حرم ہے یعنی مدینہ، حرم مکہ کی مانند ہے کہ جو چیزیں مثلاً شکار وغیرہ حرم مکہ میں حرام ہیں وہ مدینہ میں بھی حرام ہیں، اس طرح ان کے ہاں حرم مدینہ کی حدود عیر اور ثور نامی پہاڑ ہیں جو مدینہ مطہرہ کے دونوں طرف واقع ہیں۔ لایقبل منہ صرف ولاعدل، میں لفظ صرف کے معنی فرض بھی مراد لئے جاسکتے ہیں اور نفل بھی نیز توبہ اور شفاعت بھی اس لفظ کے معنی ہوسکتے ہیں، اس طرح لفظ عدل کے معنی نفل بھی مراد لئے جاسکتے ہیں اور فرض بھی۔ نیز فدیہ اور بعض حضرات کے قول کے مطابق شفاعت، یا توبہ، بھی اس لفظ کے معنیٰ ہوسکتے ہیں۔ حضرت علی ؓ نے اس صحیفہ میں سے آنحضرت ﷺ کا لکھوایا ہو ادوسرا حکم یہ بیان کیا کہ مسلمانوں کا امان ایک شئے واحد کی مانند ہے کہ اس کا تعلق ملت کے ہر فرد سے ہوسکتا ہے خواہ وہ برتر ہو یا کمتر، مثلاً جس طرح کسی اعلیٰ حیثیت کے مسلمان کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی کو عہد امان دے اسی طرح کسی ادنیٰ ترین مسلمان کو بھی عہد امان دینے کا اختیار حاصل ہے اور اس کے عہد امان کا لحاظ کرنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے، گویا اس حکم کا حاصل یہ ہوا کہ مسلمانوں میں سے اگر کوئی بھی شخص خواہ وہ کتنا ہی حقیر و کمتر ہو (جیسے غلام وغیرہ) کسی غیر مسلم کو امان دے اور اس سے اس کی جان و مال کی حفاظت کا عہد کرے، اس کو اپنی پناہ میں لے لے تو اس کے عہد کو توڑنا کسی دوسرے مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے عہد امان کو پامال کرے گا بایں طور کہ اس کے زیر امان غیر مسلم کی جان و مال کو نقصان پہنچائے تو وہ اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام مسلمانوں کی لعنت کا مستحق ہوگا۔ حضرت علی ؓ نے اس صحیفہ کا ایک حکم یہ بھی بیان کیا کہ جو شخص اپنے ساتھیوں اور دوستوں کی اجازت کے بغیر دوسرے لوگوں سے سلسلہ موالات یعنی رابطہ دوستی قائم کرے وہ بھی لعنت کا مستحق ہوتا ہے! اس ضمن میں کچھ تفصیل ہے اس کو جان لینا چاہئے ولاء کی دو قسمیں ہیں پہلی قسم تو ولاء موالات ہے جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مثلا اہل عرب کا یہ معمول تھا کہ کچھ لوگ آپس میں دوستی کا رشتہ قائم کر کے یہ عہد کرتے اور قسم کھاتے تھے کہ ہم دوسرے کے بھلے برے میں شریک رہیں گے، زندگی کے ہر مرحلہ پر ہر ایک دوسرے کا ممد و معاون رہے گا، آپس میں ایک دوسرے کے دوست سے دوستی رکھیں گے اور دشمن کو دشمن سمجھیں گے۔ اسی کو ولاء موالات کہتے ہیں۔ ایام جاہلیت میں تو آپس کے عہد و پیمان کا تعلق صحیح و غلط، حق و ناحق، ہر معاملہ سے ہوتا تھا، ایک شخص چاہے حق پر ہو چاہے ناحق پر، اس کے دوسرے ساتھی اس کی مدد ہر حال میں کرتے تھے۔ لیکن جب اسلام کی روشنی نے عہد جاہلیت کی ظلمت کو ختم کیا تو مسلمانوں نے اس میں اتنی ترمیم کی کہ ان کا ایک دوسروں کے ساتھ تعان و اشتراک صرف صحیح اور حق معاملہ تک محدود رہتا لیکن اس کے باوجود یہ معمول جاری رہا یہاں تک کہ اکثر اہل عجم، عرب میں آ کر صحابہ سے اس کا سلسلہ قائم کرتے تھے۔ دوسری قسم ولاء عتاقت ہے اس کی صورت یہ ہے کہ مثلاً اگر کوئی شخص اپنے کسی غلام کو آزاد کرتا ہے تو اس غلام پر یہ حق ولاء ثابت ہوجاتا ہے کہ اس کے عصبہ (بیٹا پوتا وغیرہ) نہ ہونے کی صورت میں وہ آزاد کرنے والا اس کا وارث بن جاتا ہے لہٰذا ذوی الفروض (باپ دادا وغیرہ سے جو کچھ بچتا ہے وہ اس کا مالک ہوتا ہے۔ اس تفصیل کو ذہن میں رکھ کر اب سمجھئے کہ حدیث میں مذکورہ موالات سے ولاء کی پہلی قسم بھی مراد ہوسکتی ہے، اس صورت میں اس حکم کے معنی یہ ہوں گے کہ جس شخص کے موالی یعنی مذکورہ بالا عہد و پیمان کے مطابق دوست اور رفقاء ہوں تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے ان دوستوں کی اجازت کے بغیر کسی اور جماعت کو اپنا موالی (دوست) نہ بنائے کیونکہ اس کی وجہ سے ایک طرح کی عہد شکنی بھی ہوتی ہے اور مسلمانوں کو قلبی اذیت اور روحانی تکلیف میں مبتلا کرنا بھی ہوتا ہے جو کسی مسلمان کے لئے قطعا مناسب نہیں ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ موالات سے ولاء کی دوسری قسم مراد ہو، اس کے پیش نظر معنی یہ ہوں گے کہ جو شخص اپنی آزادی کی نسبت آزاد کرنے والے کی بجائے کسی دوسرے کی طرف کرے تو وہ مستحق لعنت ہوتا ہے جیسا کہ اپنے باپ کی بجائے کسی غیر کی طرف اپنی نسبت کرنے والا شخص مستحق لعنت ہوتا ہے اس صورت میں بغیر اذن موالیہ کی قید اکثر کے اعتبار سے ہوگی کہ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ اگر آزادی یافتہ غلام اپنے مالک سے اس بات کی اجازت چاہتا ہے کہ وہ اپنی آزادی کی نسبت اس کی بجائے کسی دوسرے کی طرف کرے تو وہ اس کی اجازت نہیں دیتا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر مالک اجازت دے دے تو پھر غیر مالک کی طرف نسبت کرنا درست ہوجائے گا کیونکہ پھر جھوٹ کی صورت بن جائے گی جو ویسے بھی جائز نہیں ہے۔ شیعوں کے قول کی تردید شیعہ یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ سے ایک وصیت نامہ مرتبہ کرایا تھا، جس میں جہاں اور بہت سی خاص باتیں تھیں وہیں حضرت علی ؓ کو اپنا خلیفہ اول مقرر کرنے کی ہدایت بھی تھی۔ اس وصیت نامہ کا علم اہل بیت میں سے چند مخصوص افراد (مثلاً حضرت علی ؓ وحضرت فاطمہ ؓ وغیرہ) کے علاوہ اور کسی کو نہیں تھا، ظاہر ہے کہ شیعہ حضرات کا یہ قول اختراع سے زیادہ کچھ اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ مذکورہ بالا حدیث اس قول کی تردید میں مضبوط دلیل ہے، چناچہ حضرت علی ؓ خود وضاحت کے ساتھ فرما رہے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کی طرف سے قرآن کریم اور صحیفہ مذکورہ کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں لکھی ہے۔ آخر میں ایک بات یہ بھی جان لیجئے کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ علم کی باتوں کو لکھنا اور مرتب کرنا مستحب ہے، جو ایک عظیم الشان خدمت بھی ہے اور اجر وثواب کا باعث بھی۔
مدینہ میں رہنا دنیا وعقبی کی بھلائی ہے
وعن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني أحرم ما بين لابتي المدينة : أن يقطع عضاهها أو يقتل صيدها وقال : المدينة خير لهم لو كانوا يعلمون لا يدعها أحد رغبة عنها إلا أبدل الله فيها من هو خير منه ولا يثبت أحد على لأوائها وجهدها إلا كنت له شفيعا أو شهيدا يوم القيامة . رواه مسلم
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں مدینہ کے دونوں پہاڑوں کے کناروں کے درمیان کو حرام (باعظمت) قرار دیتا ہوں، لہٰذا نہ تو اس زمین کے ( جو، ان دونوں پہاڑوں کے درمیان ہے) خاردار درخت کاٹے جائیں اور نہ اس میں شکار مارا جائے (حنفیہ کے نزدیک یہ ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے) مدینہ ان (لوگوں) کے لئے ( جو مدینہ میں رہتے ہیں) بہتر ہے (یعنی مدینہ کا قیام دنیا و عقبی کی بھلائی کا ضامن ہے) بشرطیکہ وہ اس کی بھلائی و بہتری کو جانیں تو اس شہر کی اقامت کو ترک نہ کریں اور دنیا کے آرام و راحت کے لئے اس کو چھوڑ کر اور کہیں نہ جائیں جو بھی شخص بےرغبتی کے ساتھ (یعنی بلا ضرورت) اس شہر کو چھوڑے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی دوسرے ایسے شخص کو مقیم کر دے گا جو اس سے بہتر ہوگا (یعنی بےرغبتی کے ساتھ مدینہ کو چھوڑنا مدینہ کے لئے نقصان دہ نہیں ہوگا بلکہ اس کے لئے مفید ہی ہوگا کہ اس شخص کی جگہ کوئی اس سے بہتر شخص آ کر مقیم ہوگا کہ ضرورت و مجبوری کے تحت مدینہ کو چھوڑنا اس حکم میں داخل نہیں) اور جو بھی شخص مدینہ میں سختیوں اور بھوک پر ثابت قدم رہے گا (یعنی وہاں کی ہر تنگی و پریشانی پر صبر کرے گا) تو میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا یا یہ فرمایا کہ میں اس (کی اطاعت) کا گواہ بنوں گا۔ (مسلم)
تشریح
اس حدیث میں جہاں مدینہ کے رہنے والوں کے لئے خاتمہ بخیر کی سعادت عظمی کی بشارت ہے وہیں یہ تنبیہ بھی ہے کہ مومن کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ حرمین شریفین یعنی مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کی سکونت پر اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت پر شکر بھی کرتا رہے اور وہاں کی ہر سختی و مصیبت پر صابر بھی رہے، نیز یہ کہ وہ ان مقدس شہروں کی بھلائی سے صرف نظر کر کے دوسری جگہوں کی ظاہری نعمت اور راحت و آرام پر نظر نہ رکھے کیونکہ اصل نعمت اور اصل راحت تو آخرت کی نعمت اور وہاں کی راحت ہے جیسا کہ یہ حدیث ہے۔ اللہم لا عیش الا عیش الآخرۃ۔ اے اللہ! آخرت کی راحت و آرام کے علاوہ اور کوئی راحت و آرام نہیں ہے۔
مدینہ میں تکلیف ومصیبت کے وقت صبر کرنے والے کا اجر
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يصبر على لأواء المدينة وشدتها أحد من أمتي إلا كنت له شفيعا يوم القيامة . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ میری امت کا جو بھی شخص مدینہ میں سختی و بھوک پر اور وہاں کی کسی بھی تکلیف و مشقت پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا۔ (مسلم)
مدینہ کے لئے آنحضرت ﷺ کی دعا
وعنه قال : كان الناس إذا رأوا أول الثمرة جاءوا به إلى النبي صلى الله عليه و سلم فإذا أخذه قال : اللهم بارك لنا في ثمرنا وبارك لنا في مدينتنا وبارك لنا في صاعنا وبارك لنا في مدنا اللهم إن إبراهيم عبدك وخليلك ونبيك وإني عبدك ونبيك وإنه دعاك لمكة وأنا أدعوك للمدينة بمثل ما دعاك لمكة ومثله معه . ثم قال : يدعو أصغر وليد له فيعطيه ذلك الثمر . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں کا معمول تھا کہ جب وہ کوئی نیا پھل دیکھتے تو اس کو رسول کریم ﷺ کی خدمت میں لاتے اور جب آپ ﷺ اس پھل کو لیتے تو فرماتے، اے اللہ! ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما، ہمارے شہر میں برکت عطا فرما، ہمارے صاع میں برکت عطا فرما (صاع ایک پیمانہ کا نام تھا) ہمارے مد میں برکت عطا فرما (مد بھی ایک پیمانہ کا نام تھا) اور اے اللہ! ابراہیم تیرے بندے تھے، تیرے خاص دوست تھے اور تیرے نبی تھے اور میں بھی تیرا بندہ ہوں اور تیرا نبی ہوں، ابراہیم نے تجھ سے مکہ کے لئے دعا مانگی تھی (جو اس آیت ( فَاجْعَلْ اَفْى ِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ ) 14۔ ابراہیم 37) اور میں بھی تجھ سے مدینہ کے لئے دعا مانگتا ہوں اسی طرح کی دعا جو ابراہیم نے مکہ کے لئے مانگی تھی بلکہ اس کی مانند اور بھی دعا (یعنی ابراہیم نے جو دعا مانگی تھی میں نہ صرف اسی طرح کی دعا بلکہ اس سے بھی دو چند دعا مانگتا ہوں) پھر ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ اس کے بعد آنحضرت ﷺ اپنے خاندان کے سب سے چھوٹے بچے کو بلاتے اور اس کو وہ پھل عنایت فرماتے (تاکہ وہ بچہ خوش ہوجائے) (مسلم)
تشریح
برکت کے معنی ہیں زیادہ ہونا لہٰذا پھل میں برکت کی دعا مانگنے کا مطلب تو ظاہر ہی ہے، البتہ شہر میں برکت کا مطلب یہ ہے کہ شہر میں وسعت ہو، اس میں لوگ کثرت سے آباد ہوں اور اس کی تہذیبی و تمدنی حیثیت مثالی درجہ اختیار کرے چناچہ آپ ﷺ کی دعا اس طرح قبول ہوئی کہ شہر کا رقبہ بڑھا، اس کی آبادی بڑھی، مسجد نبوی کی بھی توسیع ہوئی اور دور دور سے آ کر مسلمان کثیر تعداد میں یہاں آباد ہوئے اور اس کے علاوہ یہ شہر اپنی تہذیبی و تمدنی حیثیت سے بھی مثالی درجہ پر پہنچا! صاع اور مد میں برکت سے مراد یہ ہے کہ رزق میں فراخی ہو۔ حضرت ابراہیم اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں اور آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے حبیب! اس کے باوجود کہ خلیل سے حبیب کا مرتبہ بڑا ہے آپ ﷺ نے حضرت ابراہیم کی اس صفت کو ذکر کیا مگر سبب تواضع و انکسار اپنی صفت کو ذکر نہیں کیا اپنے کو صف اللہ کا بندہ اور اس کا نبی کہنے پر اکتفاء فرمایا۔
وعن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن إبراهيم حرم مكة فجعلها حراما وإني حرمت المدينة حراما ما بين مأزميها أن لا يهراق فيها دم ولا يحمل فيها سلاح لقتال ولا تخبط فيها شجرة إلا لعلف . رواه مسلم
حضرت ابوسعید ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا حضرت ابرہیم نے مکہ کو بزرگی دی اور اس کو حرم قرار دیا (یعنی انہوں نے مکہ کی بزرگی اور حرم کو ظاہر کیا) اور میں نے مدینہ کو بزرگی دی ہے اور مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان کی بزرگی کا تقاضا یہ ہے کہ نہ تو اس میں خونریزی کی جائے نہ وہاں جنگ کے لئے ہتھیار اٹھایا جائے اور نہ اس کے درخت کے پتے جھڑے جائیں البتہ جانوروں کے کھانے کے لئے جھاڑے جاسکتے ہیں۔ (مسلم)
تشریح
علامہ تو پشتی کہتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ وانی حرمت المدینہ میں تحریم سے مراد تعظیم ہے (جیسا کہ ترجمہ میں ظاہر کی گیا ہے) اس سے وہ احکام مراد نہیں جو حرم سے متعلق ہیں یعنی شکار وغیرہ کا حرام ہونا چناچہ اس بات کی دلیل خود آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ اور نہ اس کے درخت کے پتے جھاڑے جائیں البتہ جانوروں کے کھانے کے لئے جھاڑے جاسکتے ہیں (اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حرم مکہ کا جو حکم ہے وہ حرم مدینہ کا نہیں ہے) کیونکہ مکہ کے جو درخت ہیں ان کے پتے جھاڑنے کسی حالت میں بھی درست نہیں ہیں، جہاں تک شکار کا تعلق ہے تو اگرچہ بعض صحابہ نے مدینہ میں شکار مارنے کو حرام کہا ہے لیکن اکثر صحابہ نے مدینہ کے پرندوں کے شکار کا انکار (یعنی اس سے منع) نہیں کیا ہے نیز اس بارے میں آنحضرت ﷺ کی کوئی ممانعت کسی ایسے طریق سے ہم تک نہیں پہنچی ہے جس پر اعتماد کیا جاسکے، یہ علامہ تو پشتی کا اقتباس ہے اس بارے میں ملا علی قاری نے بڑی تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے، اہل علم ان کی شرح سے مراجعت کرسکتے ہیں۔