Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 130 of 317

2581Mishkaat-al-Masabih

احرام میں خوشبو لگانے کا مسئلہ

عن عائشة رضي الله عنها قالت : كنت أطيب رسول الله صلى الله عليه و سلم لإحرامه قبل أن يحرم ولحله قبل أن يطوف بالبيت بطيب فيه مسك كأني أنظر إلى وبيص الطيب في مفارق رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو محرم

ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کو آپ ﷺ کے احرام کے لئے احرام باندھنے سے پہلے اور آپ ﷺ کے احرام سے نکلنے کے لئے طواف کعبہ سے پہلے خوشبو لگاتی تھی اور ایسی خوشبو لگتی تھی جس میں مشک ہوتا تھا گویا میں اب بھی آپ ﷺ کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اس حال میں کہ آپ ﷺ احرام باندھے ہوئے ہیں یعنی وہ چمک گویا میری آنکھوں تلے پھرتی ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح حضرت عائشہ ؓ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ جب احرام کا ارادہ کرتے تو احرام باندھنے سے پہلے میں آپ ﷺ کو خوشبو لگاتی اور وہ خوشبو ایسی ہوتی جس میں مشک بھی ہوتا تھا۔ لہٰذا اس سے یہ ثابت ہوا کہ اگر خوشبو احرام سے پہلے لگائی جائے اور اس کا اثر احرام کے بعد بھی باقی رہے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ خوشبو کا احرام کے بعد استعمال کرنا ممنوعات احرام سے ہے نہ کہ احرام سے پہلے۔ چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام احمد کا مسلک بھی یہی ہے کہ احرام کے بعد خوشبو استعمال کرنا ممنوع ہے احرام سے پہلے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی کے ہاں احرام سے پہلے بھی ایسی خوشبو لگانا مکروہ ہے جس کا اثر احرام باندھنے کے بعد بھی باقی رہے۔ ولحلہ قبل ان یطوف بالبیت ( اور آپ ﷺ کے احرام سے نکلنے کے لئے الخ) کا مفہوم سمجھنے سے پہلے یہ تفصیل جان لینی چاہے کہ بقر عید کے روز (یعنی دسویں ذی الحجہ کو) حاجی مزدلفہ سے منیٰ میں آتے ہیں اور وہاں رمی جمرہ عقبہ (جمرہ عقبہ پر کنکر مارنے) کے بعد احرام سے نکل آتے ہیں یعنی وہ تمام باتیں جو حالت احرام میں منع تھیں اب جائز ہوجاتی ہیں البتہ رفث (جماع کرنا یا عورت کے سامنے جماع کا ذکر اور شہوت انگیز باتیں کرنا) جائز نہیں ہوتا یہاں تک کہ جب مکہ واپس آتے ہیں اور طواف افاضہ کرلیتے ہیں تو رفث بھی جائز ہوجاتا ہے۔ لہٰذا حضرت عائشہ ؓ کے اس جملہ کی مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جب احرام سے نکل آتے یعنی مزدلفہ سے منیٰ آ کر رمی جمرہ عقبہ سے فارغ ہوجاتے لیکن ابھی تک مکہ آ کر طواف افاضہ نہ کرچکے ہوتے تو میں اس وقت بھی آپ ﷺ کو خوشبو لگاتی تھی۔

2582Mishkaat-al-Masabih

تلبید وتلبیہ

وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يهل ملبدا يقول : لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك . لا يزيد على هؤلاء الكلمات

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو تلبیہ اس طرح بآواز بلند کہتے سنا اور اس وقت آپ تلبید کئے ہوئے تھے۔ لبیک اللہم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک۔ یعنی حاضر ہوں میں تیری خدمت میں اے اللہ! حاضر ہوں تیری خدمت میں، میں تیری خدمت میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، حاضر ہوں میں تیری خدمت میں بیشک تمام تعریف اور ساری نعمت تیرے ہی لئے ہے اور بادشاہت بھی تیری ہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔ آپ ﷺ ان کلمات سے زیادہ نہیں کہتے تھے۔ (بخاری ومسلم) تشریح تلبید کرنا یہ کہ محرم (احرام باندھنے والا) اپنے سر کے بالوں میں گوند یا خطمی یا مہندی یا اور کوئی چیز لگا لیتا ہے تاکہ بال آپس میں یکجا رہیں اور چپک جائیں ان میں گرد و غبار نہ بیٹھے اور جوؤں سے محفوظ رہیں۔ تلبیہ یعنی لبیک کہنے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک احرام کے صحیح ہونے کے لئے تلبیہ شرط ہے، حضرت امام مالک کہتے ہیں کہ تلبیہ واجب نہیں ہے لیکن تلبیہ ترک کرنے کی وجہ سے دم (جانور ذبح کرنا) لازم آتا ہے اور حضرت امام شافعی کے ہاں تلبیہ سنت ہے اس کو ترک کرنے کی صورت میں دم لازم نہیں ہوتا۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ تلبیہ میں اکثر اتنے ہی الفاظ کہتے تھے کیونکہ اور روایتوں میں تلبیہ کے الفاظ کے علاوہ دوسرے الفاظ بھی منقول ہیں چناچہ اس بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ تلبیہ کے جو الفاظ یہاں حدیث میں نقل کئے گئے ہیں، ان میں کمی کرنا تو مکروہ ہے زیادتی مکروہ نہیں ہے بلکہ مستحب ہے۔ حدیث سے یہ مسئلہ بھی واضح ہوگیا کہ تلبیہ بآواز بلند ہونا چاہئے چناچہ تمام علماء کے نزدیک بلند آواز سے لبیک کہنا مستحب ہے۔

2583Mishkaat-al-Masabih

تلبیہ کب کیا جائے

وعنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أدخل رجله في الغرز واستوت به ناقته قائمة أهل من عند مسجد ذي الحليفة

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جب اپنے پاؤں رکاب میں ڈالے اور اونٹنی آپ ﷺ کو لے کر کھڑی ہوئی تو آپ ﷺ نے ذوالحلیفہ کی مسجد کے قریب تلبیہ کیا (یعنی بآواز بلند لبیک کہی) (بخاری ومسلم) تشریح آنحضرت ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر رخت سفر باندھا اور ظہر کی نماز مدینہ میں پڑھ کر روانہ ہوئے۔ عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں پڑھی جو اہل مدینہ کے لئے میقات ہے رات وہیں گزاری اور پھر صبح کو آپ ﷺ نے احرام باندھا۔ اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے اونٹ کی پیٹھ پر بیٹھ کر اور اونٹ کے کھڑے ہوجانے کے بعد لبیک کہی جب ایک دوسری روایت میں یہ منقول ہے کہ احرام کے لئے بہ نیت نفل دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد لبیک کہی نیز ایک روایت یہ بتاتی ہے کہ آپ ﷺ نے بیداء پہنچ کر جو ایک بلند جگہ کا نام ہے لبیک کہی اس طرح لبیک کہنے کے وقت کے سلسلہ میں تین طرح کی روایتیں منقول ہیں۔ چناچہ حضرت امام شافعی نے تو پہلی روایت پر کہ جو یہاں نقل کی گئی ہے عمل کرتے ہوئے کہا کہ اونٹ پر (یا جو بھی سواری ہو اس پر) بیٹھ کر لبیک کہی جائے، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد نے دوسری روایت کو اختیار کیا ہے۔ لہٰذا ان تینوں ائمہ کے ہاں مستحب یہ ہے کہ دو رکعت نماز نفل پڑھنے کے بعد احرام کی نیت کی جائے اور پھر وہیں مصلیٰ پر بیٹھے ہی ہوئے لبیک کہے تو یہ جائز ہے لیکن نماز کے بعد ہی لبیک کہنا افضل ہے۔ اب ان تینوں روایتوں کے تضاد کو اس تطبیق کے ساتھ دور کیجئے کہ آنحضرت ﷺ نے نماز پڑھ کر مصلےٰ پر بیٹھے ہوئے لبیک کہی پھر جب اونٹنی پر بیٹھے تو اس وقت بھی لبیک کہی اور اس کے بعد جب مقام بیداء پر پہنچے تو وہاں بھی لبیک کہی چناچہ علماء نے اسی لئے لکھا ہے کہ حالت وقت اور جگہ کے تغیرات کے وقت لبیک کی تکرار مستحب ہے۔ بہر کیف آپ ﷺ نے اس طرح تین مرتبہ لبیک کہی اور جس راوی نے جہاں لبیک کہتے سنا وہ یہ سمجھا کہ آپ ﷺ نے یہیں سے لبیک کہنی شروع کی ہے اس لئے ہر ایک راوی نے اپنے سننے کے مطابق ذکر کردیا۔ اس تطبیق و توجیہ کی بنیاد حضرت ابن عباس ؓ کی وہ روایت ہے جسے شیخ عبدالحق نے اشعۃ اللمعات میں شرح کتاب خرقی کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔

2584Mishkaat-al-Masabih

تلبیہ کا ذکر اور حج کی قسمیں

وعن أبي سعيد الخدري قال : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم نصرخ بالحج صراخا . رواه مسلم

حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم ﷺ کے ہمراہ سفر حج میں اس طرح روانہ ہوئے کہ ہم حج کے لئے چلاتے تھے (یعنی حج کے لئے بآواز بلند لبیک کہتے تھے) (مسلم) تشریح صرف حج ہی کا ذکر اس لئے کیا کہ حج ہی اصل اور مقصود اعظم ہے اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ یہ بات راوی نے اپنے بارے میں کہی ہے زیادہ سے زیادہ اس کا تعلق ان لوگوں سے بھی ہوسکتا ہے جو راوی کی طرح صرف حج کے لئے تلبیہ کرتے تھے۔ یا زیادہ وضاحت سے یوں کہئے کہ یہ حدیث صرف ان لوگوں کا حال بیان کر رہی ہے جنہوں نے افراد کا احرام باندھا تھا۔ جہاں تک آنحضرت ﷺ کا تعلق ہے تو آپ ﷺ کے بارے میں یہ حدیث ساکت ہے کہ اس کی وضاحت دوسری روایت سے ہوگی اس لئے یہ روایت روایت آئندہ کے منافی نہیں ہے۔

2585Mishkaat-al-Masabih

تلبیہ کا ذکر اور حج کی قسمیں

وعن أنس رضي الله عنه قال : كنت رديف أبي طلحة وإنهم ليصرخون بهما جميعا : الحج والعمرة . رواه البخاري

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ میں سواری پر حضرت ابوطلحہ ؓ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور اکثر صحابہ دونوں چیزوں یعنی حج وعمرہ کے لئے چلاتے تھے۔ (یعنی بآواز بلند کہتے تھے) (بخاری) تشریح اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قران افضل ہے چناچہ حنفیہ کا یہی مسلک ہے۔ اس حدیث کو مستدل قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ ؓ آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھے وہ آنحضرت ﷺ کے خلاف عمل کرنا کب گوارا کرسکتے تھے۔ لہٰذا آنحضرت ﷺ نے قران کیا ہوگا اس لئے اکثر صحابہ نے بھی آپ ﷺ کی اتباع ہی میں قران کیا۔ قران کے معنی اگلی حدیث میں بیان کئے جائیں گے۔

2586Mishkaat-al-Masabih

تلبیہ کا ذکر اور حج کی قسمیں

وعن عائشة قالت : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم عام حجة الوداع فمنا من أهل بعمرة ومنا من أهل بحج وعمرة ومنا من أهل بالحج وأهل رسول الله صلى الله عليه و سلم بالحج فأما من أهل بعمرة فحل وأما من أهل بالحج أو جمع الحج والعمرة فلم يحلوا حتى كان يوم النحر

ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع کے سال رسول کریم ﷺ کے ہمراہ حج کے لئے روانہ ہوئے چناچہ ہم میں سے بعض تو وہ تھے جنہوں نے صرف عمرہ کے لئے احرام باندھا اور رسول کریم ﷺ نے بھی صرف حج کا احرام باندھا تھا لہٰذا جس نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ تو حلال ہوگیا یعنی احرام سے باہر ہوگیا اور جنہوں نے صرف حج کا یا حج وعمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا وہ حلال نہیں ہوتے یہاں تک کہ قربانی کا دن آیا۔ (بخاری ومسلم) تشریح حج کرنے والوں کی قسمیں ہیں۔ (١) مفرد (٢) قارن (٣) متمتع۔ مفرد اسے کہتے ہیں جو صرف حج کا احرام باندھے چناچہ صرف حج کا احرام باندھنے اور صرف حج پر اکتفا کرنے کو افراد کہتے ہیں۔ قارن اسے کہتے ہیں جو حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ کر پہلے عمرہ کرے اور پھر حج کرے چناچہ حج اور عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھ کر پہلے عمرہ اور پھر حج کرنے کو قران کہتے ہیں۔ متمتع اسے کہتے ہیں جو حج کے مہینوں میں میقات سے عمرہ کا احرام باندھے اور عمرہ کے افعال ادا کرے پھر اگر ہدی (قربانی کا جانور) ساتھ لایا ہو تو احرام باندھے رہے اور اگر ہدی ساتھ نہیں لایا ہے تو احرام سے نکل آئے اور مکہ میں مقیم رہے، جب حج کے دن آئیں تو حج کا احرام حرم سے باندھے اور حج کرے چناچہ حج کے مہینوں میں پہلے عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کرنا اور عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد وطن جانے سے پہلے بغیر احرام کھولے (اگر قربانی کا جانور ساتھ لایا ہے) یا احرام کھول کر پھر حج کے دنوں میں حرم سے حج کا احرام باندھ کر حج کرنے کو تمتع کہتے ہیں۔ یہاں اجمالی طور پر صرف تعریفات بیان کردی گئی ہیں۔ تفصیلی احکام انشاء اللہ آگے آئیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حجۃ الوداع میں کس قسم کے لئے احرام باندھا تھا، آیا آپ ﷺ مفرد تھے یا قارن اور یا متمتع؟ علماء لکھتے ہیں کہ اس بارے میں مختلف احادیث منقول ہیں، بعض حدیثوں سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ مفرد تھے چناچہ یہاں جو حدیث نقل کی گئی ہے یہ بھی انہیں میں سے ہے، اکثر احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ قارن تھے۔ اور بعض احادیث سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ متمتع تھے۔ لہٰذا ان تمام احادیث میں تطبیق یوں کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ کے رفقاء میں سے بعض تو احرام باندھتے وقت آنحضرت ﷺ سے صرف لبیک بحجۃ ہی سنا اور لفظ وعمرۃ نہ سنا لہٰذا انہوں نے یہ کہا کہ آپ ﷺ مفرد تھے۔ بعض نے لبیک بحجۃ وعمرۃ سنا لہٰذا انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ قارن تھے اور بعض نے لبیک بعمرۃ سنا لہٰذا انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ متمتع تھے۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ آپ ﷺ نے کبھی تو لبیک بحجۃ کہا ہو کبھی لبیک بعمرۃ اور کبھی لبیک بحجۃ وعمرہ کہا ہو، لہٰذا جس نے جو کچھ سنا وہی روایت کیا نیز یہ کہ قران و تمتع کے افعال آپس میں چونکہ مشابہ ہیں اس لئے بعض صحابہ نے جانا کہ آنحضرت ﷺ نے حج قران کیا ہے انہوں نے اسی کو نقل کیا اور بعض صحابہ نے جانا کہ آپ ﷺ نے تمتع کیا ہے اس لئے انہوں نے اسی کو نقل کیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس روایت میں تمتع منقول ہے وہاں اس کے لغوی معنی مراد ہوں کیونکہ تمتع کے معنی ہیں نفع اٹھانا اور ظاہر ہے کہ یہ مفہوم قران سے بھی حاصل ہوتا ہے بایں طور کہ قارن عمرہ سے منتفع ہوتا ہے جو وہ حج کے ساتھ کرتا ہے۔ فاما من اہل بعمرۃ فحل الخ (لہٰذا جس نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ تو حلال ہوگیا الخ) کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے حج سے پہلے صرف عمرہ کے لئے احرام باندھا تھا وہ طواف و سعی کرنے اور حلق یعنی سر منڈانے کے بعد عمرہ کے احرام سے باہر ہوگئے اور پھر انہوں نے حج کا احرام باندھا اور جن لوگوں نے صرف حج کا یا حج وعمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا وہ احرام سے باہر نہیں ہوئے یہاں تک کہ نحر (قربانی) کا دن گزر گیا، نحر کے دن وہ بھی رمی جمرۃ العقبہ (جمرہ عقبہ پر کنکری مارنے اور حلق کے بعد احرام سے باہر آگئے جس کے بعد تمام ممنوعات احرام ان کے لئے جائز ہوگئے علاوہ عورت کے ساتھ مباشرت کے کہ یہ طواف رکن (کہ جس کو طواف افاضہ بھی کہتے ہیں) کے بعد جائز ہوئی۔

2587Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کا حج

وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : تمتع رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع بالعمرة إلى الحج بدأ فأهل بالعمرة ثم أهل بالحج

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حجۃ الوداع میں عمرہ کو حج سے ملا کر تمتع کیا (یعنی فائدہ اٹھایا) بایں طور کہ آپ ﷺ نے عمرہ کے احرام سے ابتدا کی اور پھر حج کا احرام باندھا (اس طرح آپ ﷺ نے حج وعمرہ کو ملا دیا اور قارن ہوگئے۔ (بخاری ومسلم)

2588Mishkaat-al-Masabih

احرام کے کپڑے

عن زيد بن ثابت أنه رأى النبي صلى الله عليه و سلم تجرد لإهلاله واغتسل . رواه الترمذي والدارمي

حضرت زید بن ثابت ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ رسول کریم ﷺ اپنے احرام کے لئے ننگے ہوئے اور غسل کیا۔ (ترمذی، دارمی) تشریح ننگے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے سلے ہوئے کپڑے اپنے بدن سے اتار دیئے اور تہمد باندھ کر چادر اوڑھ لی جو احرام کے کپڑے ہیں چناچہ احرام کی حالت میں سلا ہوا کپڑا مثلاً کرتا، پائجامہ، ٹوپی عبا، قبا اور موزہ وغیرہ پہننا منع ہے۔ جیسا کہ حدیث سے معلوم ہوا احرام کے لئے غسل کرنا مسنون و افضل ہے، اگر غسل نہ ہو سکے تو پھر وضو پر اکتفا بھی جائز ہے حیض و نفاس والی عورت اور نابالغ بچوں کے لئے بھی غسل مسنون ہے۔

2589Mishkaat-al-Masabih

تلبید کا ذکر

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم لبد رأسه بالغسل . رواه أبو داود

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے سر کے بالوں کو ان چیزوں کے ذریعہ جمایا جن سے سر دھویا جاتا ہے۔ (ابوداؤد) تشریح آپ نے احرام کے وقت اپنے سر کے بالوں کو گوند یا خطمی وغیرہ سے جما لیا تھا تاکہ وہ گرد و غبار سے محفوظ رہیں، اسی کو تلبید کہتے ہیں۔ اس کے بارے میں پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے۔

2590Mishkaat-al-Masabih

تلبیہ میں آواز بلند کرنے کا حکم

وعن خلاد بن السائب عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أتاني جبريل فأمرني أن آمر أصحابي أن يرفعوا أصواتهم بالإهلال أو التلبية . رواه مالك والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي

حضرت خلاد بن سائب اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے یہ امر کیا کہ میں اپنے صحابہ کو اس بات کا حکم دوں کہ وہ اہلال یا تلبیہ میں اپنی آوازیں بلند کریں۔ ٠ مالک، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی) تشریح بالاہلا او التلبیۃ میں حرف اور راوی کے شک کو ظاہر کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یا تو بالاہلال فرمایا یا بالتلبیۃ کہا معنی دونوں کے ایک ہی ہیں یعنی لبیک کہنا۔ بآواز بلند لبیک کہنا مردوں کے لئے مستحب ہے لیکن آواز کو اتنا بلند نہ کرنا چاہئے جس سے تکلیف پہنچے، عورتیں اتنی آہستہ آواز سے لبیک کہیں کہ وہ خود ہی سن سکیں دوسروں تک ان کی آواز نہ پہنچے۔

2591Mishkaat-al-Masabih

لبیک کہنے والے کی فضیلت وعظمت

وعن سهل بن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مسلم يلبي إلا لبى من عن يمينه وشماله : من حجر أو شجر أو مدر حتى تنقطع الأرض من ههنا وههنا . رواه الترمذي وابن ماجه

حضرت سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی بھی مسلمان لبیک کہتا ہے تو اس کے دائیں اور بائیں کی ہر چیز خواہ وہ پتھر ہو یا درخت اور یا ڈھیلے سب لبیک کہتے ہیں یہاں تک کہ اس طرف سے یعنی اس کی دائیں طرف کی ساری زمین اور اس طرف سے یعنی اس کی بائیں طرف کی ساری زمین اس میں شامل ہوتی ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ) تشریح یہ حدیث گویا لبیک اور لبیک کہنے والے کی عظمت و فضیلت کو ظاہر کر رہی ہے کہ جب کوئی بھی مسلمان لبیک کہتا ہے تو زمین کی تمام چیزیں لبیک کہنے والے کی ہمنوائی کرتی ہیں بایں طور کہ وہ بھی لبیک کہتی ہیں۔

2592Mishkaat-al-Masabih

احرام کے لئے دو رکعت نماز پڑھنا مسنون ہے

وعن ابن عمر قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يركع بذي الحليفة ركعتين ثم إذا استوت به الناقة قائمة عند مسجد ذي الحليفة أهل بهؤلاء الكلمات ويقول : لبيك اللهم لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل . متفق عليه ولفظه لمسلم

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ (احرام باندھتے وقت) ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھتے اور پھر جب ذوالحلیفہ کی مسجد کے قریب اونٹنی آپ ﷺ کو لے کر کھڑی ہوتی تو آپ ﷺ ان کلمات کو (یعنی لبیک کے مشہور کلمات کو جو پہلے گزر چکے ہیں) بآواز بلند کہتے اور (پھر) یہ کلمات (مزید) کہتے لبیک اللہم لبیک لبیک وسعدیک والخیر فی یدیک لبیک والرغباء الیک والعمل۔ حاضر ہوں تیری خدمت میں اے اللہ! میں تیری خدمت میں حاضر ہوں، حاضر ہوں تیری خدمت میں اور نیک بختی حاصل کرتا ہوں تیری خدمت میں اور بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے حاضر ہوں تیری خدمت میں اور رغبت و توجہ تیری طرف ہے اور عمل تیرے ہی لئے ہے۔ اس روایت کو بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے لیکن الفاظ مسلم کے ہیں۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ ذوالحلیفہ پہنچتے تو وہاں پہلے آپ ﷺ دو رکعت نماز بہ نیت نفل پڑھتے جو احرام کے لئے مسنون ہے اور ان دونوں رکعتوں میں آیت (قل یا ایہا الکافرون) اور (قل ہو اللہ احد) کی قرأت کرتے پھر نیت کرتے اس کے بعد لبیک کہتے اور پھر جب آپ مسجد ذوالحلیفہ کے پاس اونٹنی پر سوار ہوتے اور اونٹنی آپ ﷺ کو لے کر کھڑی ہوتی تو اس وقت بھی پہلے تو آپ ﷺ انہیں کلمات کے ذریعہ تلبیہ کرتے جو مشہور ہیں اور پھر لبیک کے مزید وہ کلمات کہتے جو حدیث میں نقل کئے گئے ہیں۔

2593Mishkaat-al-Masabih

تلبیہ کے بعد درود ودعا

وعن عمارة بن خزيمة بن ثابت عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان إذا فرغ من تلبيته سأل الله رضوانه والجنة واستعفاه برحمته من النار . رواه الشافعي

حضرت عمارہ بن خزیمہ بن ثابت اپنے والد مکرم حضرت خزیمہ ؓ سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ جب تلبیہ (یعی لبیک کہنے) سے فارغ ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کی خوشنودی اور جنت مانگتے اور اس کی رحمت کے ذریعہ دوزخ کی آگ سے معافی کے خواستگار ہوتے۔ (شافعی) تشریح حنفی علماء فرماتے ہیں کہ یہ مستحب ہے کہ جو شخص تلبیہ سے فارغ ہو تو وہ نبی کریم ﷺ پر درود پڑھے اور درود پڑھتے وقت اپنی آواز تلبیہ کی آواز کی بہ نسبت پست و دھیمی رکھے نیز اللہ تعالیٰ سے اس کی خوشنودی اور جنت مانگے، دوزخ کی آگ سے اس کی پناہ چاہے اور اپنی جس دینی و دنیاوی فلاح و بھلائی کے لئے چاہے دعا مانگے۔ یہ مسئلہ بھی ذہن میں رہنا چاہئے کہ تلبیہ کرنے والے کو سلام کرنا مکروہ ہے ہاں اگر کوئی تلبیہ کرنے کی حالت میں سلام ہی کرلے تو اس کے سلام کو جواب دینا جائز ہے نیز حنفی علماء کے نزدیک ایک مرتبہ تلبیہ کرنا تو فرض ہے اور ایک مرتبہ سے زیادہ سنت ہے ایسی سنت کہ جس کو ترک کرنے والا برا سمجھا جاتا ہے۔

2594Mishkaat-al-Masabih

حجۃ الوداع کے موقع پر اعلان عام

عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما أراد الحج أذن في الناس فاجتمعوا فلما أتى البيداء أحرم . رواه البخاري

حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جب حج کا ارادہ کیا تو لوگوں کو خبردار کیا (یعنی اعلان کرایا) چناچہ لوگ جمع ہوگئے اور پھر جب بیداء کے میدان میں پہنچے تو احرام باندھا۔ (بخاری) تشریح جب حج فرض ہوا اور آپ ﷺ نے دس ہجری میں اس فریضہ کی ادائیگی کا ارادہ فرمایا تو یہ اعلان عام کرا دیا کہ رسول اللہ ﷺ حج کا ارادہ رکھتے ہیں جن لوگوں پر حج فرض ہے وہ سفر حج کے لئے تیار ہوجائیں چناچہ وقت مقررہ پر مدینہ میں مسلمانوں کی کثیر تعداد جمع ہوگئی اور آپ تمام رفقاء کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوگئے پھر جب آپ ﷺ بیداء کے میدان میں جو ذوالحلیفہ کے قریب ہے پہنچے تو احرام باندھا۔ اب اس موقع پر اتنی بات سمجھ لیجئے کہ یہاں احرام باندھنے سے مراد یہ ہے کہ بیداء میں آپ ﷺ نے دوبارہ لبیک کہہ کر اپنے محرم ہونے کا اظہار کیا، کیونکہ پہلے بتایا جا چکا ہے اور یہی ثابت بھی ہے کہ آپ ﷺ نے ابتداء ً ذوالحلیفہ ہی میں احرام کے لئے دو رکعت نماز پڑھ کر احرام باندھ لیا تھا۔

2595Mishkaat-al-Masabih

مشرکوں کا تلبیہ

وعن ابن عباس قال : كان المشركون يقولون : لبيك لا شريك لك فيقول رسول الله صلى الله عليه و سلم : ويلكم قد قد إلا شريكا هو لك تملكه وما ملك . يقولون هذا وهم يطوفون بالبيت . رواه مسلم

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مشرک لوگ جب تلبیہ کہتے اور یہ کلمات ادا کرتے لبیک لا شریک لک (حاضر ہیں تیری خدمت میں، تیرا کوئی شریک نہیں) تو رسول اللہ ﷺ فرماتے افسوس ہے تم پر! بس بس (یعنی بس اتنا ہی کہو اس سے زیادہ مت کہو، مگر مشرک کب ماننے والے تھے وہ پھر اس کے بعد یہ کہتے) الا شریکا ہو لک تملکہ وما ملک (یعنی تیرا کوئی شریک نہیں ہاں وہ بت تیرا شریک ہے جو تیری ملک میں ہے، تو اس کا مالک ہے وہ شریک تیرا مالک نہیں ہے۔ مشرک لوگ تلبیہ کے یہ کلمات خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے کہا کرتے تھے۔ (مسلم) تشریح مشرک بھی حج وعمرہ اور طواف وغیرہ کیا کرتے تھے نیز وہ خانہ کعبہ کی تعطیم بھی ہمیشہ کیا کرتے تھے اور اس کا احترام ملحوظ رکھتے مگر جب لبیک کہتے تو اپنے شریک کی وجہ سے اس طرح کہتے لبیک لا شریک لک الا شریکا ہو لک تملکہ وما ملک یعنی وہ حق تعالیٰ سے شرک کی نفی تو کرتے مگر بتوں کا استثناء کرتے اور یہ کہتے کہ وہ بت اللہ کے شریک ہیں لیکن اس کے مملوک ہیں اور اللہ ان بتوں کا مالک ہے، چناچہ وہ جب تلبیہ کہنا شروع کرتے اور یہ کہتے لبیک لاشریک لک تو آنحضرت ﷺ فرماتے کہ یہاں تک تو ٹھیک بس تم اتنا ہی کہو کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے، اس سے آگے نہ کہو مگر مشرکین کی عقلوں پر تو پردے پڑے ہوئے تھے وہ ہدایت کو کیسے مان لیتے اس لئے وہ آگے کے الفاظ کہنے سے باز نہیں آتے تھے، حالانکہ ان کے یہ کلمات الا شریکا ہولک الخ درحقیقت ان کی انتہائی حماقت اور بےوقوفی ہی کو ظاہر کرتے تھے کہ بتوں کو اللہ کی ملکیت بھی بتاتے تھے اور پھر انہیں شریک بھی کہتے تھے حالانکہ اگر انہیں عقل سلیم کی ذرا بھی رہنمائی حاصل ہوتی تو وہ خود یہ سمجھ سکتے تھے کہ بھلا مملوک اپنے مالک کا شریک کیوں کر ہوسکتا ہے؟

2596Mishkaat-al-Masabih

حجۃ الوداع کے واقعہ کا بیان

وداع واؤ کے زبر کے ساتھ کے معنی ہیں رخصت کرنا اور حجۃ الوداع اس حج کو کہتے ہیں جو آنحضرت ﷺ نے حج کی فرضیت نازل ہونے کے بعد ١٠ ھ میں کیا! اس حج کا یہ نام اس لئے رکھا گیا کہ آنحضرت ﷺ نے اس حج میں احکام شریعت کی تعلیم دی، ان کو رخصت کیا، اس دنیا سے اپنے رخصت ہونے کی انہیں خبر دی اور منصب رسالت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی و انجام دہی اور دینی و تشریعی احکام کو دنیا کے سامنے پہنچا دینے اور نافذ کردینے پر ان کو اپنا گواہ بنایا۔ اس باب میں سب سے پہلے حضرت جابر ؓ کی جو طویل و بسیط حدیث نقل کی جا رہی ہے یہ احادیث میں سب سے جامع حدیث ہے اس حدیث سے ڈیڑھ سو فقہی مسئلے مستنبط ہوتے ہیں اور اگر کوئی زیادہ غور تامل کرے تو اس سے بھی زیادہ مسئلے سامنے آسکتے ہیں۔

2597Mishkaat-al-Masabih

حجۃ الوداع کی تفصیل حضرت جابر کی زبانی

عن جابر بن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مكث بالمدينة تسع سنين لم يحج ثم أذن في الناس بالحج في العاشرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حاج فقدم المدينة بشر كثير فخرجنا معه حتى إذا أتينا ذا الحليفة فولدت أسماء بنت عميس محمد بن أبي بكر فأرسلت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم : كيف أصنع ؟ قال : اغتسلي واستثقري بثوب وأحرمي فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم في المسجد ثم ركب القصواء حتى إذا استوت به ناقته على البيداء أهل بالتوحيد لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك . قال جابر : لسنا ننوي إلا الحج لسنا نعرف العمرة حتى إذا أتينا البيت معه استلم الركن فطاف سبعا فرمل ثلاثا ومشى أربعا ثم تقدم إلى مقام إبراهيم فقرأ : ( واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى ) فصلى ركعتين فجعل المقام بينه وبين البيت وفي رواية : أنه قرأ في الركعتين : ( قل هو الله أحد و ( قل يا أيها الكافرون ) ثم رجع إلى الركن فاستلمه ثم خرج من الباب إلى الصفا فلما دنا من الصفا قرأ : ( إن الصفا والمروة من شعائر الله ) أبدأ بما بدأ الله به فبدأ بالصفا فرقي عليه حتى رأى البيت فاستقبل القبلة فوحد الله وكبره وقال : لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير لا إله إلا الله وحده أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده . ثم دعا بين ذلك قال مثل هذا ثلاث مرات ثم نزل ومشى إلى المروة حتى انصبت قدماه في بطن الوادي ثم سعى حتى إذا صعدنا مشى حتى أتى المروة ففعل على المروة كما فعل على الصفا حتى إذا كان آخر طواف على المروة نادى وهو على المروة والناس تحته فقال : لو أني استقبلت من أمري ما استدبرت لم أسق الهدي وجعلتها عمرة فمن كان منكم ليس معه هدي فليحل وليجعلها عمرة . فقام سراقة بن مالك بن جعشم فقال : يا رسول الله ألعامنا هذا أم لأبد ؟ فشبك رسول الله صلى الله عليه و سلم أصابعه واحدة في الأخرى وقال : دخلت العمرة في الحج مرتين لا بل لأبد أبد . وقدم علي من اليمن ببدن النبي صلى الله عليه و سلم فقال له : ماذا قلت حين فرضت الحج ؟ قال : قلت : اللهم إني أهل بما أهل به رسولك قال : فإن معي الهدي فلا تحل . قال : فكان جماعة الهدي الذي قدم به علي من اليمن والذي أتى به النبي صلى الله عليه و سلم مائة قال : فحل الناس كلهم وقصروا إلا النبي صلى الله عليه و سلم ومن كان معه من هدي فما كان يوم التروية توجهوا إلى منى فأهلوا بالحج وركب النبي صلى الله عليه و سلم فصلى بها الظهر والعصر والمغرب والعشاء والفجر ثم مكث قليلا حتى طلعت الشمس وأمر بقبة من شعر تضرب له بنمرة فسار رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا تشك قريش إلا أنه واقف عند المشعر الحرام كما كانت قريش تصنع في الجاهلية فأجاز رسول الله صلى حتى أتى عرفة فوجد القبة قد ضربت له بنمرة فنزل بها حتى إذا زاغت الشمس أمر بالقصواء فرحلت له فأتى بطن الوادي فخطب الناس وقال : إن دماءكم وأموالكم حرام عليكم كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا ألا كل شيء من أمر الجاهلية تحت قدمي موضوع ودماء الجاهلية موضوعة وإن أول دم أضع من دمائنا دم ابن ربيعة بن الحارث وكان مسترضعا في بني سعد فقتله هذيل وربا الجاهلية موضوع وأول ربا أضع من ربانا ربا عباس بن عبد المطلب فإنه موضوع كله فاتقوا الله في النساء فإنكم أخذتموهن بأمان الله واستحللتم فروجهن بكلمة الله ولكم عليهن أن لا يوطئن فرشكم أحدا تكرهونه فإن فعلن ذلك فاضربوهن ضربا غير مبرح ولهن عليكم رزقهن وكسوتهن بالمعروف وقد تركت فيكم ما لن تضلوا بعده إن اعتصمتم به كتاب الله وأنتم تسألون عني فما أنتم قائلون ؟ قالوا : نشهد أنك قد بلغت وأديت ونصحت . فقال بأصبعه السبابة يرفعها إلى السماء وينكتها إلى الناس : اللهم اشهد اللهم اشهد ثلاث مرات ثم أذن بلال ثم أقام فصلى الظهر ثم أقام فصلى العصر ولم يصل بينهما شيئا ثم ركب حتى أتى الموقف فجعل بطن ناقته القصواء إلى الصخرات وجعل حبل المشاة بين يديه واستقبل القبلة فلم يزل واقفا حتى غربت الشمس وذهبت الصفرة قليلا حتى غاب القرص وأردف أسامة ودفع حتى أتى المزدلفة فصلى بها المغرب والعشاء بأذان واحد وإقامتين ولم يسبح بينهما شيئا ثم اضطجع حتى طلع الفجر فصلى الفجر حين تبين له الصبح بأذان وإقامة ثم ركب القصواء حتى أتى المشعر الحرام فاستقبل القبلة فدعاه وكبره وهلله ووحده فلم يزل واقفا حتى أسفر جدا فدفع قبل أن تطلع الشمس وأردف الفضل بن عباس حتى أتى بطن محسر فحرك قليلا ثم سلك الطريق الوسطى التي تخرج على الجمرة الكبرى حتى أتى الجمرة التي عند الشجرة فرماها بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة منها مثل حصى الخذف رمى من بطن الوادي ثم انصرف إلى المنحر فنحر ثلاثا وستين بدنة بيده ثم أعطى عليا فنحر ما غبر وأشركه في هديه ثم أمر من كل بدنة ببضعة فجعلت في قدر فطبخت فأكلا من لحمها وشربا من مرقها ثم ركب رسول الله صلى الله عليه و سلم فأفاض إلى البيت فصلى بمكة الظهر فأتى على بني عبد المطلب يسقون على زمزم فقال : انزعوا بني عبد المطلب فلولا أن يغلبكم الناس على سقايتكم لنزعت معكم . فناولوه دلوا فشرب منه . رواه مسلم

حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہجرت کے بعد مدینہ میں نو برس اس طرح گزارے کہ حج نہیں کیا البتہ آپ ﷺ نے عمرے کئے جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے پھر جب حج کی فرضیت نازل ہوئی تو دسویں سال آپ ﷺ نے لوگوں میں اعلان کرایا کہ رسول اللہ حج کا ارادہ رکھتے ہیں جو لوگ حج کے لئے جانا چاہتے ہیں وہ رفاقت کے لئے تیار ہوجائیں اس اعلان کو سن کر مخلوق اللہ کی ایک بہت بڑی تعداد مدینہ میں جمع ہوگئی چناچہ ہم آپ ﷺ کے ساتھ ماہ ذی قعدہ کے ختم ہونے سے پانچ دن پہلے ظہر و عصر کے درمیان مدینہ سے روانہ ہوگئے جب ہم لوگ ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں اسماء بنت عمیس ؓ کے بطن سے محمد بن ابوبکر پیدا ہوئے۔ اسماء نے کسی کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بھیجا اور دریافت کرایا کہ اب میں کیا کروں؟ آیا احرام باندھوں یا نہ باندھوں اور اگر باندھوں تو کس طرح باندھوں؟ آپ ﷺ نے کہلا بھیجا کہ غسل کر کے کپڑے کا لنگوٹ باندھوں اور پھر احرام باندھ لو بہرکیف رسول کریم ﷺ نے مسجد ذوالحلیفہ میں نماز پڑھی اور قصواء پر کہ جو آنحضرت ﷺ کی اونٹنی کا نام تھا سوار ہوئے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کی اونٹنی آپ ﷺ کو لے کر بیداء کے میدان میں کھڑی ہوئی تو آپ ﷺ نے بآواز بلند تلبیہ کے یہ کلمات کہے لبیک اللہم لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک۔ حاضر ہوں تیری خدمت میں اے اللہ! تیری خدمت میں حاضر ہوں، حاضر ہوں تیری خدمت میں تیرا کوئی شریک نہیں حاضر ہوں تیری خدمت میں بیشک تعریف اور نعمت تیرے لئے ہے اور بادشاہت بھی تیرے ہی لئے ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہم اس سے پہلے حج ہی کی نیت کیا کرتے تھے اور ہم حج کے مہینوں میں عمرہ سے واقف بھی نہیں تھے بہرکیف جب ہم آنحضرت ﷺ کے ساتھ بیت اللہ پہنچے تو حجر اسود پر ہاتھ رکھا اور اس کو بوسہ دیا اور تین بار رمل یعنی تیز رفتار سے اور اکڑ کر خانہ کعبہ کا طواف کیا اور چار مرتبہ اپنی رفتار سے یعنی آہستہ آہستہ چل کر طواف کیا اور طواف کے بعد مقام ابراہیم کی طرف بڑھے اور یہ آیت پڑھی۔ ( وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى) 2۔ البقرۃ 125) مقام ابراہیم کے اطراف کو نماز پڑھنے کی جگہ بناؤ یعنی وہاں نماز پڑھو پھر آنحضرت ﷺ نے مقام ابراہیم اور بیت اللہ کو اپنے درمیان کر کے دو رکعت نماز پڑھی اور ایک روایت کے مطابق ان دو رکعتوں میں قل ہو اللہ اور قل یا ایہا الکافرون کی قرأت کی پھر حجر اسود کی طرف لوٹے اور اس کو بوسہ دیا اس سے فارغ ہو کر مسجد کے دروازہ یعنی باب الصفا سے نکلے اور صفا پہاڑ کی طرف چلے چناچہ جب صفا کے قریب پہنچے تو یہ آیت پڑھی۔ (ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ) بلا شبہ صفا اور مروہ اللہ کے دین کی نشانیوں میں سے ہیں اور فرمایا میں بھی اسی چیز کے ساتھ ابتداء کرتا ہوں۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں پہلے صفا کا ذکر کیا ہے پھر مروہ کا اسی طرح میں بھی پہلے صفا پر چرھتا ہوں پھر مروہ پر چڑھونگا، چناچہ آپ ﷺ نے سعی کی ابتداء صفا سے کی اور اس پر چڑھے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے جب صفا سے بیت اللہ کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی بڑائی بیان کی یعنی لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہا اور یہ کلمات فرمائے۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شیء قدیر لا الہ الا اللہ وحدہ انجز وعدہ ونصر عبدہ وہزم الاحزاب وحدہ۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے تعریف ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے تعریف ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا و تنہا ہے اس نے اسلام کا بول بالا کرنے کا اپنا وعدہ پورا کیا اس نے اپنے بندوں کی مدد کی اور کفار کے لشکر کو تنہا شکست دی یعنی غزوہ خندق۔ پھر اس کے درمیان دعا کی اور تین مرتبہ اسی طرح کہا (یعنی پہلے یہ کلمات کہے اور پھر دعا کی اور اسی طرح تین مرتبہ کہا) اس کے بعد صفا سے اترے اور مروہ پہاڑ کی طرف چلے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کے دونوں قدم چڑھنے لگے (یعنی نشیب سے مروہ کی بلندی پر چڑھنے لگے) تو (دوڑنا موقوف کر کے) آہستہ آہستہ چلنے لگے اور پھر جب مروہ پر پہنچ گئے تو وہی کیا جو صفا پر کیا تھا یہاں تک کہ جب آپ ﷺ نے مروہ پر سعی کا اختتام کیا تو لوگوں کو آواز دی در آنحالیکہ آپ ﷺ مروہ کے اوپر تھے۔ اور لوگ اس کے نیچے اور فرمایا اگر اپنے بارے میں مجھے پہلے سے وہ بات معلوم ہوتی جو بعد کو معلوم ہوئی ہے تو ہدی قربانی کا جانور اپنے ساتھ نہ لاتا اور اپنے حج کو عمرہ کردیتا لہٰذا تم میں سے جو شخص ہدی اپنے ساتھ نہ لایا ہو وہ حلال ہوجائے یعنی حج کا احرام کھول دے اور حج کو عمرہ بنا لے یہ سن کر حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمارے واسطے یہ حکم اسی سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ آنحضرت ﷺ نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر فرمایا عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے آپ ﷺ نے یہ بات دو مرتبہ کہی اور پھر فرمایا نہیں یہ حکم خاص طور پر اسی سال کے لئے نہیں ہے بلکہ ہمیشہ کے لئے ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ جائز ہے اس کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ جو یمن کے حاکم مقرر ہوگئے تھے جب آنحضرت ﷺ کے لئے قربانی کے واسطے یمن سے اونٹ لے کر آئے تو آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کہ جب تم نے اپنے اوپر حج لازم کیا تھا تو اس وقت یعنی احرام باندھنے کے وقت کیا کہا تھا؟ تو نے کس چیز کے لئے احرام باندھا تھا اور کیا نیت کی تھی؟ حضرت علی کرم اللہ وجھہ نے کہا کہ میں نے اس طرح کہا تھا کہ۔ اللہم انی اہل بنا اہل بہ رسولک۔ یعنی اے اللہ! میں اس چیز کا احرام باندھتا ہوں جس چیز کا احرام تیرے رسول ﷺ نے باندھا ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میرے ساتھ تو قربانی کا جانور ہے اور میں عمرے کا احرام باندھے ہوئے ہوں، اس لئے جب تک عمرہ اور حج دونوں سے فارغ نہ ہوجاؤں اس وقت تک احرام سے نہیں نکل سکتا اور چونکہ تم نے وہی نیت کی ہے جو میں نے کی ہے تو تم بھی احرام نہ کھولو۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ وہ اونٹ جو آنحضرت ﷺ کے لئے قربانی کے واسطے حضرت علی کرم اللہ وجھہ یمن سے لے کر آئے تھے اور وہ اونٹ جو آنحضرت ﷺ خود اپنے ہمراہ لائے تھے، سب کی مجموعی تعداد سو تھی۔ حضرت جابر ؓ کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق سب لوگوں کے کہ جن کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا عمرہ کر کے، احرام کھول دیا اپنے سروں کے بال کٹوا دئیے مگر آنحضرت ﷺ اور وہ لوگ جن کے ساتھ قربانی کے جانور تھے احرام کی حالت میں رہے پھر جب ترویہ کا دن آیا یعنی ذی الحجہ کی آٹھویں تایخ آئی تو سب لوگ منیٰ کی طرف روانہ ہونے کے لئے تیار ہوئے چناچہ ان صحابہ نے کہ جو عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد احرام سے نکل آئے تھے حج کا احرام باندھا اور آنحضرت ﷺ بھی آفتاب طلوع ہونے کے بعد سوار ہوئے اور منیٰ پہنچ گئے منیٰ کی مسجد خیف میں ظہر و عصر، مغرب عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھی گئیں اور نویں تاریخ کی فجر کی نماز پڑھنے کے بعد تھوڑی دیر قیام کیا یہاں تک کہ آفتاب نکل آیا اور آنحضرت ﷺ نے حکم دیا کہ آپ ﷺ کے لئے وادی نمرہ عرفات میں خیمہ نصب کیا جائے جو بالوں کا بنا ہوا تھا پھر رسول کریم ﷺ منیٰ سے عرفات کو روانہ ہوئے قریش کو گمان تھا کہ آنحضرت ﷺ مشعر حرام مزدلفہ میں قیام کریں گے جیسا کہ قریش زمانہ جاہلیت میں حج کے موقعہ پر کیا کرتے تھے مگر رسول کریم ﷺ مزدلفہ سے آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ جو میدان عرفات میں آئے اور وادی نمرہ میں اپنے خیمہ کو کھڑا پایا چناچہ آپ ﷺ اس میں آئے اور قیام کیا یہاں تک کہ جب دوپہر ڈھل گیا تو قصواء کو جو آپ ﷺ کی اونٹنی کا نام تھا، لانے کا حکم دیا جب قصواء آگئی تو اس پر پالان کس دیا گیا ور آپ ﷺ اس پر سوار ہو کر وادی نمرہ میں تشریف لائے اور لوگوں کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا۔ لوگو! تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے اس دن عرفہ میں تمہارے اس مہینہ ذی الحجہ میں اور تمہارے اس شہر (مکہ میں حرام ہیں یعنی جس طرح تم عرفہ کے دن ذی الحجہ کے مہینہ میں اور مکہ مکرمہ قتل و غارت گری اور لوٹ مار کو حرام سمجھتے ہو اسی طرح ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اور ہر جگہ ایک مسلمان کی جان و مال دوسرے پر حرام ہے لہٰذا تم میں سے کوئی بھی کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ کسی کا خون نہ کر کسی کا مال چوری و دغابازی سے نہ کھاجائے اور کسی کو کسی جانی اور مالی تکلیف و مصیبت میں بھی مبتلا نہ کرے، یاد رکھو! زمانہ جاہلیت کی ہر چیز میرے قدموں کے نیچے ہے اور پامال و بےقدر یعنی موقوف باطل ہے لہٰذا اسلام سے پہلے جس نے جو کچھ کیا میں نے وہ سب معاف کیا اور زمانہ جاہلیت کے تمام رسم و رواج کو موقوف و ختم کردیا زمانہ جاہلیت کے خون معاف کردیئے گئے ہیں لہٰذا زمانہ جاہلیت میں اگر کسی نے کسی کا خون کردیا تھا تو اب نہ اس کا قصاص ہے نہ دیت اور نہ کفارہ بلکہ اس کی معافی کا اعلان ہے اور سب سے پہلا خون جسے میں اپنے خونوں سے معاف کرتا ہوں ربیعہ بن حارث کے بیٹے کا خون ہے۔ جو ایک شیر خوار بچہ تھا اور قبیلہ بنی سعد میں دودھ پیتا تھا اور ہزیل نے اس کو مار ڈالا تھا۔ زمانہ جاہلیت کا سود معاف کردیا گیا ہے اور سب سے پہلا سود جسے میں اپنے سودوں سے معاف کرتا ہوں عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے لہٰذا وہ زمانہ جاہلیت کا سود ہے لہٰذا وہ زمانہ جاہلیت کا سود بالکل معاف کردیا گیا ہے۔ لوگو! عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو، تم نے ان کو اللہ کی امان کے ساتھ لیا ہے یعنی ان کے حقوق کی ادائیگی اور ان کو عزت و احترام کے ساتھ رکھنے کا جو عہد اللہ نے تم سے لیا ہے یا اس کا عہد جو تم نے اللہ سے کیا ہے اسی کے مطابق عورتیں تمہارے پاس آئی ہیں اور ان کی شرم گاہوں کو اللہ کے حکم سے (یعنی فانکحوا کے مطابق رشتہ زن و شو قائم کر کے) اپنے لئے حلال بنایا ہے اور عورتوں پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس کا آنا تم کو ناگوار گزرے یعنی وہ تمہارے گھروں میں کسی کو بھی تمہاری اجازت کے بغیر نہ آنے دیں خواہ وہ مرد ہو یا عورت، پس اگر وہ اس معاملہ میں نافرمانی کریں کہ تمہاری اجازت کے بغیر کسی کو گھر آنے دیں اور ڈانٹ ڈپٹ کے بعد بھی وہ اس سے باز نہ آئیں تو تم اس کو مارو مگر اس طرح نہ مارو جس سے سختی و شدت ظاہر ہو اور انہیں کوئی گزند پہنچ جائے اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم ان کو اپنی استطاعت و حیثیت کے مطابق کھانے پینے کا سامان اور مکان اور کپڑا دو۔ لوگو! میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑتا ہوں جس کو اگر تم مضبوطی سے تھامے رہو گے تو میرے بعد (یا اس کو مضبوطی سے تھامے رہنے اور اس پر عمل کرنے کے بعد) تم ہرگز گمراہ نہیں ہو گے اور وہ چیز کتاب اللہ ہے اور اے لوگو! میرے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا کہ میں نے منصب رسالت کے فرائض پوری طرح انجام دئیے یا نہیں؟ اور میں نے دین کے احکام تم تک پہنچا دئیے یا نہیں؟ تو تم کیا جواب دو گے؟ اس موقع پر صحابہ نے (بیک زبان) کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپ ﷺ نے دین کو ہم تک پہنچا دیا اپنے فرض کو ادا کردیا اور ہماری خیر خواہی کی اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا بایں طور کہ اسے آسمان کی طرف اٹھایا اور پھر لوگوں کی طرف جھکا کر تین مرتبہ یہ کہا کہ اے اللہ! اپنے بندوں کے اس اقرار اور اعتراف پر تو گواہ رہ اے اللہ! تو گواہ رہ۔ اس کے بعد حضرت بلال ؓ نے اذان دی اور اقامت کہی اور ظہر کی نماز پڑھی گئی پھر دوبارہ اقامت کہی گئی اور عصر کی نماز ہوئی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی چیز یعنی سنت و نفل نہیں پڑھی گئی پھر آنحضرت ﷺ سوار ہوئے اور میدان عرفات میں ٹھہرنے کی جگہ پہنچے وہاں اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ پتھروں کی طرف کیا اور جبل مشاۃ یہ ایک جگہ کا نام ہے اپنے آگے رکھا پھر قبلہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوگیا، زردی بھی تھوڑی سی جاتی رہی اور آفتاب کی ٹکیہ غائب ہوگئی۔ آپ ﷺ نے حضرت اسامہ ؓ کو اپنے پیچھے بٹھایا اور تیز تیز چل کر مزدلفہ آگئے یہاں ایک اذان اور دو تکبیروں کے ساتھ مغرب و عشاء کی نمازیں پڑھیں اور ان دونوں نمازوں کے درمیان اور کچھ نہیں پڑھا پھر آپ ﷺ لیٹ گئے یہاں تک کہ جب فجر طلوع ہوگئی تو آپ ﷺ نے صبح کی روشنی پھیل جانے پر اذان و اقامت کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی پھر آپ ﷺ اونٹنی پر سوار ہو کر مشعر حرام میں آئے اور وہاں قبلہ رو ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔ تکبیر کہی۔ لا الہ اللہ پڑھا اور اللہ کی وحدانیت کی یعنی لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ آخر تک پڑھا وہیں کھڑے تکبیر و تہلیل وغیرہ میں مصروف رہے یہاں تک کہ صبح خوب روشن ہوگئی تو سورج نکلنے سے پہلے وہاں سے چلے اور حضرت فضیل بن عباس ؓ کو اپنے پیچھے سوار کیا جب وادی محسر میں پہنچے تو اپنی سواری کو تیز چلانے کے لئے تھوڑی سی حرکت دی اور اس درمیانی راہ پر ہو لئے جو جمرہ کبریٰ کے اوپر نکلتی ہے تاآنکہ آپ اس جمرہ کے پاس پہنچے جو درخت کے قریب ہے اور اس پر سات کنکریں ماریں اس طرح کہ ان میں سے ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے اور وہ کنکریاں باقلہ کے دانہ کے برابر تھیں اور آپ ﷺ نے وہ کنکریاں نالے یعنی وادی کے درمیان سے ماریں اس کے بعد قربانی کرنے کی جگہ جو منیٰ میں ہے واپس آئے اور یہاں آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے تریسٹھ اونٹ ذبح کئے اور باقی اونٹ حضرت علی کرم اللہ وجھہ کے سپرد کئے چناچہ باقی سینتیس اونٹ حضرت علی ؓ نے ذبح کئے۔ آنحضرت ﷺ نے حکم دیا کہ ہر اونٹ میں سے گوشت کا ایک ٹکڑا لیا جائے چناچہ وہ سب گوشت لے کر ایک ہانڈی میں ڈال دیا گیا اور اسے پکایا گیا جب گوشت پک گیا تو آنحضرت ﷺ اور حضرت علی ؓ نے قربانی کے اس گوشت میں سے کھایا اور اس کا شوربہ پیا۔ آنحضرت ﷺ سوار ہوئے اور خانہ کعبہ کی طرف روانہ ہوگئے، وہاں پہنچ کر طواف کیا اور مکہ میں ظہر کی نماز پڑھی پھر عبدالمطلب کی اولاد یعنی اپنے چچا حضرت عباس اور ان کی اولاد کے پاس تشریف لائے جو زمزم کا پانی پلا رہے تھے آپ ﷺ نے ان سے فرمایا۔ عبدالمطلب کی اولاد زمزم کا پانی کھینچو اور پلاؤ کہ یہ بہت ثواب کا کام ہے اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ لوگ تمہارے پانی پلانے پر غلبہ پالیں گے تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی کھینچتا ابھی اس بات کا خوف ہے کہ لوگ مجھے پانی کھینچتا دیکھ کر میری اتباع میں خود بھی پانی کھینچنے لگیں گے اور یہاں بہت زیادہ جمع ہوجائیں گے جس کی وجہ سے زمزم کا پانی کھینچنے اور پلانے کی یہ سعادت تمہارے ہاتھ سے چلی جائے گی اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا تو میں خود بھی تم لوگوں کے ساتھ پانی کھنیچتا اور لوگوں کو پلاتا، چناچہ عبدالمطلب کی اولاد نے آپ ﷺ کو پانی کا ایک ڈول دیا جس میں سے آپ ﷺ نے پانی پیا۔ (مسلم) تشریح حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرت ﷺ کے ساتھ کتنے آدمی تھے؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں چناچہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس حج میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ نوے ہزار آدمی تھے، بعض حضرات نے ایک لاکھ تیس ہزار اور بعضوں نے اس سے بھی زائد تعداد بیان کی ہے۔ بعض حضرات نے ایک لاکھ تیس ہزار اور بعضوں نے اس سے بھی زائد تعداد بیان کی ہے۔ حضرت اسماء بنت عمیس ؓ پہلے حضرت جعفر بن ابی طالب کے نکاح میں تھیں ان کے انتقال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کے نکاح میں آئیں۔ حضرت ابوبکر ؓ کے انتقال کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ان سے نکاح کیا۔ چناچہ جب آنحضرت ﷺ حجۃ الوداع کے لئے روانہ ہوئے ہیں تو اس وقت یہ حضرت ابوبکر ؓ صدیق کے نکاح میں تھیں اور ان سے محمد بن ابوبکر پیدا ہوئے۔ آنحضرت ﷺ کی طرف سے حضرت اسماء ؓ کو غسل کرنے کی ہدایت اس بات کی دلیل ہے کہ نفاس والی عورت کو احرام کے لئے غسل کرنا مسنون ہے اور یہ غسل نظافت یعنی ستھرائی کے لئے ہوتا ہے طہارت یعنی پاکی کے لئے نہیں، اسی لئے نفاس والی عورت کو تیمم کرنے کا حکم نہیں دیا گیا اور یہی حکم حائضہ کا بھی ہے نیز ان کو آپ ﷺ کے اس حکم کہ اور پھر احرام باندھ لو یعنی احرام کی نیت کرو اور لبیک کہو سے یہ بات ثابت ہوتی ہوتی ہے کہ نفاس والی عورت کا احرام صحیح ہوتا ہے۔ چناچہ اس مسئلہ پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔ رسول کریم ﷺ نے مسجد ذوالحلیفہ میں نماز پڑھی کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے احرام کی سنت دو رکعت نماز پڑھی، اس بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ اگر میقات میں مسجد ہو تو مسجد ہی میں یہ دو رکتعتیں پڑھنا زیادہ بہتر اور اولیٰ ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص مسجد کے علاوہ کسی دوسری جگہ پڑھ لے تو بھی کوئی مضائقہ نہیں، نیز اوقات مکروہہ میں یہ نماز نہ پڑھی جائے، علماء یہ بھی لکھتے ہیں کہ تحیۃ المسجد کی طرح فرض نماز بھی اس نماز کے قائم مقام ہوجاتی ہے۔ لسنا نعرف العمرۃ (اور ہم عمرہ سے واقف نہیں تھے۔ یہ جملہ در اصل پہلے جملہ لسنا ننوی الا الحج ہم حج ہی کی نیت کیا کرتے تھے) کی تاکید کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ان جملوں کی وضاحت یہ ہے کہ ایام جاہلیت میں یہ معمول تھا کہ لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو بڑا گناہ سمجھتے تھے، چناچہ اس وقت آنحضرت ﷺ نے اس کا رد کیا اور حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کا حکم فرمایا اس کی تفصیل آگے آئے گی۔ جب ہم آنحضرت ﷺ کے ساتھ بیت اللہ پہنچے یعنی پہلے ہم ذی طویٰ میں اترے اور رات کو وہیں قیام کیا اور پھر ١٤ ذی الحجہ کو نہا دھو کر ثنیہ علیا کی طرف سے یعنی جانب بلند سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور پھر باب السلام کی جانب سے مسجد حرام میں آئے اور وہاں آ کر تحیۃ المسجد کی نماز نہیں پڑھی کیونکہ بیت اللہ کا طواف ہی وہاں کا تحیۃ ہے۔ تین بار رمل کیا اور چار مرتبہ اپنی رفتار سے طواف کیا اس بارے میں یہ تفصیل جان لینی چاہئے کہ خانہ کعبہ کے گرد مطاف پر سات چکر کرنے کو طواف کہتے ہیں۔ کل طواف کے ساتھ چکر ہوتے ہیں اور ہر چکر حجر اسود سے شروع ہو کر حجر اسود ہی پر ختم ہوتا ہے ہر چکر کو اصطلاح شریعت میں شوط کہا جاتا ہے۔ طواف کے سات چکروں میں سے پہلے تین چکر میں تو رمل کرنا چاہئے اور پہلوانوں کی طرف کندھے ہلا ہلا کر، اکڑ کر اور کچھ تیزی کے ساتھ قریب قریب قدم رکھ کر چلنا رمل کہلاتا ہے، طواف کے باقی چار چکروں میں آہستہ آہستہ یعنی اپنی معمولی چال کے ساتھ چلنا چاہئے۔ رمل یعنی اکڑ کر تیز تیز چلنے کی وجہ یہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ عمرۃ القضاء کے لئے مکہ تشریف لائے تو مشرکین نے آپ کو دیکھ کر کہا کہ تپ یثرب یعنی مدینہ کے بخار نے ان کو بہت ضعیف و سست کردیا ہے لہٰذا آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ اس طرح چل کر اپنی قوت و چستی کا اظہار کرو۔ وہ وقت تو گزر گیا مگر اس علت اور وجہ کے دور ہوجانے کے بعد بھی یہ حکم باقی رہا چناچہ یہ طریقہ اب تک جاری ہے۔ اس حدیث میں اضطباع کا ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن طواف کے وقت اضطباع بھی مسنون ہے چناچہ دوسری احادیث میں اس کا ذکر موجود ہے۔ چادر کو اس طرح اوڑھنا کہ ان کا ایک سرا داہنے کاندھے سے اتار کر اور داہنی بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کاندھے پر ڈال لیا جائے اضبطاع کہلاتا ہے چادر کو اس طرح اوڑھنے کا حکم بھی اظہار قوت کے لئے دیا گیا تھا اور یہ حکم بھی بعد میں باقی رہا۔ مقام ابراہیم کے معنی ہیں حضرت ابراہیم کے پاؤں کے نشان بن گئے تھے جو آج تک قائم ہیں۔ بعض حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ مقام ابراہیم ایک پتھر ہے کہ جب حضرت ابراہیم اپنے فرزند حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو دیکھنے مکہ آتے تھے تو اونٹ سے اسی پتھر پر اترتے تھے اور جب جانے لگتے تو اسی پتھر پر کھڑے ہو کر سوار ہوتے اس پتھر پر ان کے دونوں مبارک قدموں کا نشان بن گیا ہے! بہرکیف یہ پتھر اب خانہ کعبہ کے آگے ایک حجرے میں رکھا ہوا ہے، آنحضرت ﷺ نے طواف سے فارغ ہو کر اسی مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی یہ دو رکعت نماز اگرچہ اسی جگہ کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے لیکن جائز حرم میں ہر جگہ پڑھنا ہے چاہے مسجد حرام میں پڑھی جائے اور چاہے مسجد حرام سے باہر نیز ہر طواف کے بعد یہ نماز حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک واجب ہے جب کہ حضرت امام شافعی کے ہاں سنت ہے۔ ان دو رکعتوں میں قل ہو اللہ احد اور قل یا ایہا الکافرون کی قرأت کی اس عبادت سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے قل ہو اللہ احد پہلی رکعت میں پڑھی اور قل یا ایہا الکافرون دوسری رکعت میں جب کہ اس طرح سورت مقدم پر سورت متاخر کی تقدیم یعنی بعد کی سورت کو پہلے اور پہلے کی سورت کو بعد میں پڑھنے کی صورت لازم آتی ہے، اس لئے علماء نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ حدیث میں اس بارے میں جو عبارت نقل کی گئی ہے اس میں حرف واؤ صرف اظہار جمع کے لئے یعنی آپ کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ آپ ﷺ نے ان دونوں رکعتوں میں یہ دونوں سورتیں پڑھیں، اب یہ کہ ان میں سے کون سی پہلی رکعت میں پڑھی اور کون سی سورت دوسری رکعت میں؟ اس کی وضاحت نہ اس سے مقصود ہے اور نہ یہاں اس کی وضاحت موجود ہی ہے اس توجیہ کے پیش نظر کوئی اشکال پیدا نہیں ہوسکتا۔ پھر طیبی نے اس عبارت میں ان دونوں سورتوں کے ذکر کی مذکورہ ترتیب کے بارے میں یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ قل ہو اللہ احد، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے اثبات و اظہار کے لئے ہے اور قل یا ایہا الکافرون شرک سے بیزاری کے واسطے ہے، اس لئے توحید کی عظمت شان اور اس کی سب سے زیادہ اہمیت کی بناء پر اس سورت کو پہلے ذکر کیا جس سے توحید کا اثبات ہوتا ہے۔ ان تمام باتوں کے علاوہ بعض روایتوں میں اس عبارت کو اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ اس میں پہلے قل یا ایہا الکافرون ذکر ہے اور بعد میں قل ہو اللہ احد کا اس صورت میں بات بالکل ہی صاف ہوجاتی ہے۔ آپ ﷺ نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی سات بار کی، بایں طور کہ صفا سے مروہ تک ایک بار، مروہ سے صفا تک دوسری بار، اسی طرح آپ ﷺ نے ساتھ پھیرے کئے اس طرح سعی کی ابتداء تو صفا سے ہوئی اور ختم مروہ پر ہوئی جیسا کہ حدیث کے الفاظ یہاں تک کہ جب آپ ﷺ نے مروہ سعی کا اختتام کیا سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ سعی یعنی صفا مروہ کے درمیان پھیرے کرنا واجب ہے اس کی اصل یہ ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جن دنوں چھوٹے تھے تو ان کی والدہ حضرت ہاجرہ پانی کی تلاش کو گئیں جب نشیب میں پہنچیں تو حضرت اسماعیل ان کی نظر سے پوشیدہ ہوگئے وہ صفا اور مروہ پر چڑھ کر ان کو دیکھنے کے لئے ان دونوں کے درمیان پھیرے کرتی تھیں، چناچہ یہ سعی انہیں کی سنت ہے جسے آنحضرت ﷺ نے پورا کیا اب صفا ومروہ کے درمیان چونکہ مٹی بھر گئی ہے اس لئے وہ نشیب باقی نہیں رہا البتہ وہاں نشان بنا دیئے گئے ہیں اور حضرت ہاجرہ کی سنت کو پورا کرنے کے لئے وہاں دوڑتے پھرتے ہیں۔ لو انی استقبلت من امری الخ اگر اپنے بارے میں مجھے پہلے سے وہ بات معلوم ہوتی الخ۔ اس سلسلہ میں اگرچہ بڑی طویل بحث ہے تاہم خلاصہ کے طور پر سمجھ لیجئے کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ پہنچے اور عمرہ سے فارغ ہوگئے تو صحابہ کو حکم دیا کہ جو شخص قربانی کا جانور اپنے ساتھ نہیں لایا ہے وہ عمرہ کے بعد احرام سے باہر آجائے اور حج کو عمرہ کے ساتھ فسخ کر دے یعنی حج کے احرام کو عمرہ کا احرام قرار دے لے جب حج کے دن آجائیں تو دوبارہ احرام باندھے اور حج کرے اور جو شخص قربانی کا جانور اپنے ساتھ لایا ہے وہ عمرہ کے بعد احرام نہ کھولے بلکہ حج تک حالت احرام ہی میں رہے اور حج کے بعد احرام کھول دے۔ چونکہ رسول کریم ﷺ قربانی کا جانور اپنے ساتھ لائے تھے اس لئے آپ ﷺ نے احرام نہیں کھولا بلکہ عمرہ کے بعد بھی حالت احرام ہی میں رہے۔ یہ حکم صحابہ کو بڑا گراں گزرا، ایک تو اس لئے ہم تو احرام کھول دیں اور سرکار دو عالم ﷺ حالت احرام میں رہیں اس طرح آپ ﷺ کی متابعت کا ترک ہوگا جو صحابہ کو کسی حال میں بھی گوارا نہیں تھا، دوسرے انہوں نے یہ سوچا کہ اب عرفہ میں صرف پانچ رہ گئے ہیں اس لئے یہ بات مناسب نہیں معلوم ہوتی کہ احرام کھول دیا جائے اور پھر ہم اس عرصہ میں اپنی عورتوں کے پاس جاتے ہیں اور جب عرفہ کا دن آئے تو فوراً احرام باندھ کر عرفات روانہ ہوجائیں اور حج کریں۔ ان کی خواہش تھی کہ یہ درمیانی پانچ دن بھی احرام ہی کی حالت میں گزر جائیں اس طرح رسول کریم ﷺ کی متابعت بھی ہوگی اور ان ایام میں طبعی خواہشات اور دنیاوی امور میں مشغولیت سے اجتناب بھی رہے گا۔ پھر یہ کہ ایام جاہلیت میں چونکہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو برا سمجھا جاتا تھا اور ان کے ذہن میں بھی ابھی تک یہی بات تھی اس لئے وہ نہیں چاہتے تھے کہ اس وقت مستقل طور پر عمرہ کی صورت پیدا ہوجائے انہیں سب وجوہ کی بناء پر وہ چاہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ ہمیں احرام کھولنے کا حکم نہ دیں، اسی بناء پر آنحضرت ﷺ نے برہمی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ یہ تو دین کی بات ہے میں کیا کرو، اللہ تعالیٰ نے جس طرح حکم دیا ہے اسی طرح کرنا پڑے گا، چاہے طبیعت پر بار ہی کیوں نہ ہو، اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ میری متابعت کے ترک کی بناء پر تم لوگوں کو احرام کھولنا گراں گزرے گا تو میں بھی قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور احرام کھول کر اس وقت حج کو عمرہ کے ساتھ فسخ کردیتا لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ حکم الٰہی یہ ہوگا۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ عمرہ کے ساتھ اس فسخ حج کے بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ آیا یہ اس سال میں صرف صحابہ ہی کے لئے تھا یا ہمیشہ کے لئے دوسروں کو بھی ایسا جائز ہے؟ چناچہ امام احمد اور اہل ظاہر کی ایک جماعت نے تو یہ کہا ہے کہ یہ فسخ حج صرف صحابہ ہی کے لئے نہیں تھا بلکہ یہ حکم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باقی ہے، لہٰذا اس شخص کے لئے کہ جو حج کا احرام باندھے اور ہدی اس کے ساتھ نہ ہو یہ جائز ہے کہ وہ حج کا احرام عمرہ کے ساتھ فسخ کر دے اور افعال عمرہ کی ادائیگی کے بعد حلال ہوجائے یعنی احرام کھول دے، جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ، حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی اور علماء سلف وخلف کی اکثریت کا کہنا یہ ہے کہ یہ حکم صرف اسی سال میں صحابہ کے لئے تھا کہ زمانہ جاہلیت میں حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو جو حرام سمجھا جاتا تھا اس کی تردید ہوجائے۔ نیز اسی حدیث کے پیش نظر حضرت امام ابوحنیفہ اور حضرت امام احمد کا مسلک یہ بھی ہے کہ جو شخص عمرہ کا احرام باندھے اور ہدی اپنے ساتھ نہ لائے تو افعال عمرہ کی ادائیگی کے بعد احرام سے باہر آجائے اور اگر ہدی ساتھ لایا ہو تو احرام سے باہر نہ ہو تاآنکہ نحر قربانی کے دن اس کی ہدی ذبح ہوجائے، لیکن حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک یہ کہتے ہیں کہ محض افعال عمرہ کی ادائیگی کے بعد احرام سے باہر آجانا جائز ہے خواہ ہدی ساتھ لایا ہو یا ساتھ نہ ہو۔ معشر حرام مزدلفہ میں ایک پہاڑی کا نام ہے۔ ایام جاہلیت میں قریش کا یہ طریقہ تھا کہ وہ حج کے لئے بجائے عرفات میں ٹھہرنے کے مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے اور یہ کہا کرتے تھے کہ یہ موقف حمس یعنی قریش اور حرم والوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ قریش کے علاوہ تمام اہل عرب عرفات میں ہی وقوف کرتے تھے، آنحضرت ﷺ چونکہ قریش سے تھے اس لئے اہل قریش نے یہ گمان کیا کہ آنحضرت ﷺ بھی عرفات کی بجائے مزدلفہ ہی میں وقوف کریں گے لیکن آنحضرت ﷺ نے وہاں وقوف نہیں کیا بلکہ سیدھے عرفات میں پہنچنے میں خطبہ ارشاد فرمایا آپ ﷺ نے دو خطبے پڑھے، پہلے خطبہ میں تو حج کے احکام بیان کئے اور عرفات میں کثرت ذکر و دعا پر ترغیب دلائی، دوسرا خطبہ پہلے خطبہ کی بہ نسبت چھوٹا تھا اس میں صرف دعا تھی۔ ربیعہ ابن حارث کے بیٹے کے خون کا قصہ یہ ہے کہ حارث آنحضرت ﷺ کے چچا اور عبدالمطلب کے بیٹے تھے ان کا لڑکا تھا ربیعہ اور ربیعہ کا ایک شیر خوار بچہ تھا جس کا نام تھا ایاس، عرب کے عام قاعدہ کے مطابق یا اس کو دودھ پلانے کے لئے قبیلہ بنی سعد میں دے دیا گیا تھا جن دنوں قبیلہ بنی سعد اور قبیلہ ہزیل کے درمیان معرکہ آرائی ہو رہی تھی ایاس قبیلہ بنی سعد ہی میں تھا، اسی لڑائی کے دوران قبیلہ ہذیل کے کسی شخص نے ایاس کو پتھر مارا جس سے وہ شیر خوار بچہ مرگیا ایاس چونکہ آنحضرت ﷺ کے چچا کا پوتا تھا اس لئے اس کے قتل کا انتقام لینے کا حق آنحضرت ﷺ کو حاصل تھا مگر آنحضرت ﷺ نے اس کا خون معاف کردیا۔ اس طرح حضرت عباس بن عبدالمطلب جو آنحضرت ﷺ کے عم محترم تھے، ایام جاہلیت میں سود کا لین دین کرتے تھے اسی وقت کا ان کا بہت زیادہ سود لوگوں کے ذمہ باقی تھا اسے بھی آنحضرت ﷺ نے معاف فرما دیا۔ پھر (دوبارہ) اقامت کہی گئی اور عصر کی نماز ہوئی یعنی ظہر ہی کے وقت پہلے تو ظہر کی نماز پڑھی گئی، پھر عصر کی نماز ہوئی، گویا ظہر و عصر کی نماز کو جمع کر کے پڑھا گیا۔ اس کو جمع تقدیم کہتے ہیں عرفات میں وقوف کے لئے یہ دونوں نمازیں ملا کر ظہر کے وقت پڑھی جاتی ہیں اس طرح کہ ظہر کے چار فرض کے بعد مؤذن دوسری اقامت کہتا ہے اور پھر عصر کی نماز ہوتی ہے نیز ان دونوں نمازوں کے درمیان سنن و نوافل وغیرہ نہیں پڑھی جاتیں تاکہ دونوں نمازوں کے درمیان وقفہ ہوجانے کی وجہ سے جمع باطل نہ ہوجائے کیونکہ ان نمازوں کو پے درپے پڑھنا واجب ہے۔ اور تیز تیز چل کر مزدلفہ آگئے۔ مزدلفہ منیٰ اور عرفات کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے، دسویں تاریخ کی رات پھر مزدلفہ میں ٹھہرنا حنفیہ کے نزدیک سنت ہے اور حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد کے ہاں واجب ہے۔ حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مزدلفہ پہنچ کر مغرب و عشاء کی نمازیں ایک اذان اور دو تکبیر کے ساتھ پڑھیں جس طرح کہ آپ ﷺ جس طرح کہ آپ ﷺ نے عرفات میں ظہر و عصر کی نماز ایک اذان اور دو تکبیر کے ساتھ پڑھی تھی چناچہ حضرت امام شافعی حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد کا یہی مسلک ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے ہاں مزدلفہ میں یہ دونوں نمازیں ایک اذان اور ایک ہی تکبیر کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں کیونکہ اس موقع پر عشاء کی نماز چونکہ اپنے وقت میں پڑھی جاتی ہے اس لئے زیادتی اعلام کے لئے علیحدہ سے تکبیر کی ضرورت نہیں برخلاف عرفات میں عصر کی نماز کے کہ وہاں عصر کی نماز چونکہ اپنے وقت میں نہیں ہوتی بلکہ ظہر کے وقت ہوتی ہے اس لئے وہاں زیادتی اعلام کے لئے علیحدہ تکبیر کی ضرورت ہے، صحیح مسلم میں حضرت ابن عمر ؓ سے یہی روایت منقول ہے اور ترمذی نے بھی اس کی تحسین و تصحیح کی ہے۔ مشعر حرام جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے عرفات میں ایک پہاڑ کا نام ہے، دسویں تاریخ کی صبح وہاں وقوف حنفیہ کے نزدیک واجب ہے جب کہ حضرت امام شافعی کے نزدیک رکن حج ہے۔ وادی محسر مزدلفہ اور منیٰ کے درمیان ایک گھاٹی کا نام ہے کہا جاتا ہے کہ اصحاب فیل یہیں عذاب الٰہی میں مبتلا ہو کر ہلاک و برباد ہوئے تھے، رسول اللہ ﷺ جب مشعر حرام مزدلفہ سے روانہ ہوئے اور اس وادی میں پہنچے تو اپنی سواری کو تیز کردیا اور اس وادی کی مسافت کو تیزی سے گزر کر پورا کیا، کیونکہ آپ ﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جس جگہ کسی قوم پر عذاب نازل ہوا ہوتا تو آپ ﷺ از راہ عبرت اس جگہ سے تیزی سے گزر جاتے۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ حج کے موقعہ پر نصاریٰ یا مشرکین عرب وادی محسر میں ٹھہرا کرتے تھے اس لئے آپ ﷺ نے ان کی مخالفت کے پیش نظر اس وادی میں اپنی سواری کو تیز تیز چلا کر وہاں سے جلد گزر گئے۔ بہرحال آنحضرت ﷺ کی پیروی کے پیش نظر ہر شخص کے لئے مستحب ہے کہ اس وادی میں تیزی سے گزرے۔ اور اس درمیانی راہ پر ہوئے جو جمرہ کبریٰ کے اوپر نکلتی ہے کا مطلب یہ ہے کہ جس راستہ سے جاتے ہوئے آپ ﷺ تشریف لے گئے تھے وہ راستہ اور تھا اور یہ راستہ دوسرا تھا جو جمرہ کبریٰ یعنی جمرہ عقبہ پر جا کر نکلتا ہے۔ پہلا راستہ جس سے آپ ﷺ عرفات و مزدلفہ تشریف لے گئے تھے اس کو طریق ضب کہتے تھے اور یہ راستہ جس سے آپ ﷺ رمی جمرہ کے لئے منیٰ واپس آ رہے تھے۔ طریق مازمین کہلاتا تھا ضب اور مازمین دو پہاڑوں کے نام ہیں۔ تا ان کہ آپ ﷺ اس جمرہ کے پاس پہنچے جو درخت کے قریب ہے یہاں جمرہ سے جمرہ عقبہ مراد ہے جس کا پہلے ذکر ہوا جمرہ منار کو کہتے ہیں منیٰ میں کئی ایسے منار ہیں جن پر سنگریزے مارے جاتے ہیں اس کا تفصیلی بیان انشاء اللہ آگے آئے گا۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی قربانی کے جانوروں میں حضرت علی ؓ کو بھی شریک کرلیا تھا۔ یعنی آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ کو کچھ اونٹ دے دئیے تاکہ وہ اپنی طرف سے ذبح کرلے اب یا تو آپ ﷺ نے انہیں وہ اونٹ اپنے باقی اونٹوں میں سے دئیے یا پھر دوسرے اونٹوں میں سے دئیے گئے ہوں گے آنحضرت ﷺ اور حضرت علی ؓ نے اپنی قربانی کا گوشت کھایا اور اس کا شوربہ پیا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اپنی قربانی میں سے گوشت کھانا مستحب ہے۔ اور خانہ کعبہ کی طرف روانہ ہوگئے وہاں پہنچ کر طواف کیا اس طواف کو طواف افاضہ بھی کہتے ہیں اور طواف رکن بھی یہ طواف حج کا ایک رکن ہے، اس پر حج کا اختتام ہوجاتا ہے۔ ویسے تو یہ طواف قربانی کے دن ہی کرنا افضل ہے لیکن بعد میں کرنا بھی جائز ہے۔ اور مکہ میں ظہر کی نماز پڑھی یہ بات حضرت ابن عمر ؓ کی اس روایت کے خلاف ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے ظہر کی نماز تو مکہ ہی میں پڑھی البتہ آپ ﷺ نے منیٰ میں نفل نماز پڑھی تھی جسے حضرت ابن عمر ؓ نے ظہر کی نماز گمان کیا یا یوں کہا جائے کہ جب دونوں راوایتیں متعارض ہوئیں تو دونوں ساقط ہوگئیں اب ترجیح اس بات کو دی جائے گی کہ آپ ﷺ نے ظہر کی نماز مکہ میں پڑھی کیونکہ مکہ میں نماز پڑھنا افضل ہے۔ واللہ اعلم۔

2598Mishkaat-al-Masabih

احرام کے طریقے اور حج کی اقسام

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : خرجنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع فمنا من أهل بعمرة ومنا من أهل بحج فلما قدمنا مكة قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أهل بعمرة ولم يهد فليحلل ومن أحرم بعمرة وأهدى فليهل بالحج مع العمرة ثم لا يحل حتى يحل منها . وفي رواية : فلا يحل حتى يحل بنحر هديه ومن أهل بحج فليتم حجه . قالت : فحضت ولم أطف بالبيت ولا بين الصفا والمروة فلم أزل حائضا حتى كان يوم عرفة ولم أهلل إلا بعمرة فأمرني النبي صلى الله عليه و سلم أن أنقض رأسي وأمتشط وأهل بالحج وأترك العمرة ففعلت حتى قضيت حجي بعث معي عبد الرحمن بن أبي بكر وأمرني أن أعتمر مكان عمرتي من التنعيم قالت : فطاف الذين كانوا أهلوا بالعمرة بالبيت وبين الصفا والمروة ثم حلوا ثم طافوا بعد أن رجعوا من منى وأما الذين جمعوا الحج والعمرة فإنما طافوا طوافا واحدا

حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب ہم نبی کریم ﷺ کے ہمراہ جحۃ الوداع کے موقع پر روانہ ہوئے تو ہم میں سے بعض تو وہ تھے جنہوں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا اور بعض وہ تھے جنہوں نے صرف حج کا (یا حج وعمرہ دونوں کا) احرام باندھا چناچہ جب ہم مکہ پہنچے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے صرف عمرہ کا احرام باندھا ہے اور اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہیں لایا وہ افعال عمرہ کے بعد اپنے سر کے بال منڈوا کر یا کتروا کر، احرام کھول دے اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور قربانی کا جانور لایا ہے تو وہ عمرہ کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے یعنی حج کو عمرہ کے ساتھ شامل کر کے قارن ہوجائے اور جب حج وعمرہ دونوں سے فارغ نہ ہوجائے احرام نہ کھولے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جب تک کہ وہ (بقر عید کے دن) اپنی قربانی کے جانور کے ذبح کرنے سے فارغ نہ ہوئے احرام نہ کھولے اور جس نے حج کا احرام باندھا ہے خواہ وہ قربانی کا جانور اپنے ساتھ لایا ہو یا نہ لایا ہو اور اس نے حج کے ساتھ عمرہ کا بھی احرام باندھا ہو یا نہ باندھا ہو وہ اپنا حج پورا کرے مگر جن لوگوں کو عمرہ کے ساتھ حج فسخ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ گزشتہ روایت میں گزرا وہ اپنا حج پورا نہ کریں حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ چونکہ میں حائضہ تھی اس لئے مکہ پہنچ کر نہ تو میں نے عمرہ کرنے کے لئے طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی، میں حیض ہی کی حالت میں تھی کہ عرفہ کا دن آگیا اور میں نے چونکہ عمرہ کا احرام باندھا تھا اس لئے رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ میں اپنا سر کھول ڈالوں اور بالوں میں کنگھی کرلوں یعنی احرام کھول دوں تاکہ جو چیزیں احرام کی حالت میں ممنوع ہیں وہ مباح ہوجائیں اور پھر حج کا احرام باندھ لوں، نیز یہ کہ عمرہ چھوڑ دوں یعنی حج سے فارغ ہو کر عمرہ کے احرام کی قضا کروں چناچہ میں نے ایسا ہی کیا اور جب میں حج ادا کرچکی تو آپ ﷺ نے میرے ساتھ عبدالرحمن بن ابوبکر کو تنعیم بھیجا اور مجھے حکم دیا کہ مقام تنعیم سے احرام باندھ کر اپنے قضا شدہ عمرہ کے بدلے عمرہ کروں! حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جن لوگوں نے حج وعمرہ دونوں کو جمع کیا تھا یعنی شروع ہی سے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا انہوں نے عمرہ کے لئے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور پھر صفا ومروہ کے درمیان سعی کی۔ اس کے بعد انہوں نے احرام کھول ڈالا لوگوں نے منیٰ سے مکہ واپس آ کر دوبارہ اپنے حج کا طواف کیا جسے طواف افاضہ کہتے ہیں اور جن لوگوں نے حج وعمرہ دونوں کو جمع کیا تھا یعنی شروع میں سے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا۔ یا بعد میں ایک کو دوسرے کے ساتھ شامل کیا۔ انہوں نے صرف ایک ہی یعنی یوم نحر کے دن طواف کیا۔ (بخاری و مسلم) تشریح تنعیم ایک جگہ کا نام ہے جو مکہ سے ڈھائی تین میل کے فاصلہ پر شمال مغربی جانب واقع ہے۔ یہ جگہ حدود حرم سے باہر ہے حجاج عمرہ کا احرام باندھنے کے لئے یہیں آجاتے ہیں۔ عمرہ کے احرام کے لئے ضروری اور شرط ہے کہ حل سے یعنی حدود حرام سے باہر باندھا جائے عمرہ کرنے والا خواہ مکی ہو یا غیر مکی جب کہ حج کا احرام غیر مکی تو حل سے باندھے اور مکی حدود حرم ہی میں کہیں سے باندھے۔ انہوں نے صرف ایک ہی طواف کیا سے اگرچہ یہ بات مفہوم ہوتی ہے کہ قارن کو ایک طواف عمرہ اور حج دونوں کے لئے کافی ہے، جیسا کہ حضرت امام شافعی کا مسلک ہے لیکن حنفیہ کے ہاں قارن کو دو طواف کرنے ضروری ہیں ایک طواف تو عمرہ کے لئے جو مکہ میں داخل ہونے کے بعد کیا جائے اور دوسرا طواف حج کے لئے وقوف عرفات کے بعد کیا جائے کیونکہ حدیث سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقوع پر نبی کریم ﷺ قارن تھے، چناچہ آپ ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو ایک طواف اس وقت کیا اور دوسری مرتبہ طواف الزیارۃ وقوف عرفات کے بعد کیا نیز دارقطنی نے ایک روایت نقل کی ہے جس کا حاصل بھی یہی ہے کہ قارن دو طواف کرے اور صفا ومروہ کے درمیان دو مرتبہ سعی کرے! حضرت علی ؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے بھی یہی بات منقول ہے کہ قارن دو طواف اور دو مرتبہ سعی کرے۔

2599Mishkaat-al-Masabih

احرام کے طریقے اور حج کی اقسام

وعن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال : تمتع رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع بالعمرة إلى الحج فساق معه الهدي من ذي الحليفة وبدأ فأهل بالعمرة ثم أهل بالحج فتمتع الناس مع النبي صلى الله عليه و سلم بالعمرة إلى الحج فكان من الناس من أهدى ومنهم من لم يهد فلما قدم النبي صلى الله عليه و سلم مكة قال للناس : من كان منكم أهدى فإنه لا يحل من شيء حرم منه حتى يقضي حجه ومن لم يكن منكم أهدى فليطف بالبيت وبالصفا والمروة وليقصر وليحلل ثم ليهل بالحج وليهد فمن لم يجد هديا فيلصم ثلاثة أيام في الحج وسبعة إذا رجع إلى أهله فطاف حين قدم مكة واستلم الركن أول شيء ثم خب ثلاثة أطواف ومشى أربعا فركع حين قضى طوافه بالبيت عند المقام ركعتين ثم سلم فانصرف فأتى الصفا فطاف بالصفا والمروة سبعة أطواف ثم لم يحل من شيء حرم منه حتى قضى حجه ونحر هديه يوم النحر وأفاض فطاف بالبيت ثم حل من كل شيء حرم منه وفعل مثل ما فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم من ساق الهدي من الناس

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کیا (یعنی فائدہ اٹھایا بایں طور پر کہ پہلے عمرے کا احرام باندھا پھر حج کا) اور ذوالحلیفہ سے (کہ جہاں آپ ﷺ نے احرام باندھا تھا) قربانی کا جانور ساتھ لے لیا تھا، چناچہ پہلے تو آپ ﷺ نے عمرہ کا احرام باندھا تھا، پھر حج کا احرام باندھا اور لوگوں نے بھی نبی کریم ﷺ کے ہمراہ عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کیا، بعض لوگ کہ جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ تھے جو قربانی کے جانور اپنے ساتھ لائے تھے اور بعض وہ تھے جو قربانی کا جانور اپنے ساتھ نہیں لائے تھے، جب آنحضرت ﷺ مکہ پہنچے تو (عمرہ کرنے والے) لوگوں سے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص قربانی کا جانور ساتھ لایا ہو وہ اس چیزش کو حلال نہ کرے جس سے وہ باز رہا ہے (یعنی احرا نہ کھولے) یہاں تک کہ وہ اپنا حج ادا کرے اور جو شخص قربانی کا جانور ساتھ نہ لایا ہو تو وہ (عمرہ کے لئے) خانہ کعبہ کا طواف کرے، صفا ومروہ کے درمیان سعی کرے، بال کتروائے اور پھر وہ (عمرہ کا) احرام کھول دے (یعنی جو چیزیں حالت احرام میں ممنوع تھیں انہیں مباح کرلے) اس کے بعد حج کے لئے دوبارہ احرام باندھے اور رمی جمار کے بعد سر منڈانے سے پہلے نحر کے دن قربانی کرے (کیونکہ ادائیگی حج وعمرہ کی توفیق اور حق تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کی شگر گزاری کے طور پر متمتع پر قربانی واجب ہے) اور جس شخص کو قربانی کا جانور میسر نہ ہو تو وہ تین روزے رکھے حج کے دنوں میں (یعنی حج کے مہینوں میں احرام کے بعد اور قربانی کے دن سے پہلے) رکھے اس بارے میں افضل یہ ہے کہ ذی الحجہ کی ساتویں، آٹھویں اور نویں تاریخ کو تین روزے رکھے اور سات روزے رکھ لے چاہے گھر پہنچ کر) بہرکیف آنحضرت ﷺ نے مکہ پہنچ کر (عمرہ کے لئے) خانہ کعبہ کا طواف کیا اور (طواف کے جو افعال ہیں ان میں) سب چیزوں سے پہلے (مگر لبیک کہنے کے بعد) حجر اسود کو بوسہ دیا اور طواف میں تین مرتبہ تو جلدی جلدی (یعنی اکڑ کر اور تیز رفتار سے) چلے اور چار مرتبہ معمولی رفتار سے چلے، پھر خانہ کعبہ کے گرد طواف پورے کرنے کے بعد مقام ابراہیمی پر دو رکعت نماز پڑھی اور سلام پھیرا (یعنی صلوۃ الطواف پڑھی، حنفیہ کے نزدیک یہ نماز واجب ہے) اس کے بعد (خانہ کعبہ) سے چل کر صفاء پر آئے اور صفا ومروہ کے درمیان سات پھیرے کئے (یعنی سعی کی) اس کے بعد کسی ایسی چیز کے ساتھ حلال نہیں ہوئے جس سے اجتناب کیا جاتا ہے (یعنی احرام سے باہر نہ آئے) یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنا حج پورا کیا اور نحر کے دن (دسویں ذی الحجہ کو) اپنی قربانی کا جانور ذبح کرلیا (تو اب سر منڈانے کے بعد وہ تمام چیزیں جو حالت احرام میں ممنوع تھیں مباح ہوگئیں علاوہ بیوی سے ہمبستری) اور پھر (منی سے) چلے اور (مکہ پہنچ کر) خانہ کعبہ کا طواف (یعنی طواف افاضہ) کیا اور اس کے بعد وہ چیز حلال ہوگئی جو ممنوع تھی (یعنی اب طواف سے فراغت کے بعد بیوی سے ہمبستری بھی حلال ہوگئی) پھر جن لوگوں کے ساتھ قربانی کے جانور تھے انہوں نے بھی وہی کیا جو رسول کریم ﷺ نے کیا تھا۔ (بخاری و مسلم) تشریح اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے حج تمتع کیا تھا جب کہ زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ آپ ﷺ قارن تھے لہٰذا اب حدیثوں کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ یہاں تمتع سے مراد اس کے لغوی معنی ہیں یعنی نفع اٹھانا اور یہ مفہوم قرآن میں بھی موجود ہے بایں طور کہ قارن حج کے ساتھ عمرہ ملا کر منتفع ہوتا ہے۔

2600Mishkaat-al-Masabih

حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا جائز ہے

وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم هذه عمرة استمتعنا بها فمن لم يكن عنده الهدي فليحل الحل كله فإن العمرة قد دخلت في الحج إلى يوم القيامة . رواه مسلم وهذا الباب خال عن الفصل الثاني

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھایا ہے جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو وہ ہر طرح سے حلال ہوجائے (یعنی عمرہ کے بعد پورا احرام کھول دے) کیونکہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا قیامت تک کے لئے جائز ہوگیا ہے۔ (مسلم) تشریح اس حدیث میں بھی تمتع سے مراد اس کے لغوی معنی ہیں یعنی فائدہ اٹھانا۔ اس کی بقیہ وضاحت پہلے ذکر ہوچکی ہے۔