Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 129 of 317

2561Mishkaat-al-Masabih

حج علی الفور واجب ہے یا علی التراخی

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أراد الحج فليعجل . رواه أبو داود والدارمي

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص حج کا ارادہ کرے تو اسے چاہئے کہ جلدی کرے۔ (ابوداؤد، ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو شخص حج کرنے پر قادر ہو اور حج کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ جلدی کرے اور اس فرض کو ادا کرنے کے لئے ملے ہوئے موقع کو غنیمت جانے کیونکہ تاخیر کرنے کی صورت میں نہ معلوم کتنی رکاوٹیں پیدا ہوجائیں اور مآل کار اس نعمت عظمی سے محرومی رہے۔ اس بارے میں کہ حج علی الفور واجب ہے یا علی التراخی؟ حنفیہ کے ہاں سب سے صحیح قول یہ ہے کہ جب حج واجب ہو یعنی شرائط حج پائے جائیں اور حج کا وقت آجائے نیز قافلہ مل جائے (بشرطیکہ قافلے کی ضرورت ہو جیسا کہ پہلے زمانے میں بغیر قافلہ کے سفر کرنا تقریبا ناممکن ہوتا تھا) تو اسی سال حج کرے دوسرے سال تک تاخیر نہ کرے، اگر کوئی شخص بلا عذر کئی سال تاخیر کرتا رہے گا تو وہ فاسق کہلائے گا اور شرعی نقطہ نظر سے اس کی گواہی قبول نہ ہوگی۔ یعنی وہ شریعت کی نظر میں ناقابل اعتبار قرار پائے گا یہاں تک کہ اس عرصے میں اگر اسباب حج (کہ جن کی وجہ سے اس پر حج واجب ہوا تھا) جاتا رہے گا تو اس کے ذمہ سے فرض ساقط نہیں ہوگا بلکہ باقی رہے گا (جس کی وجہ سے حج نہ کرسکنے کی صورت میں گنہگار ہوگا) حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد رحمہما اللہ کا یہی مسلک ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) کے ہاں واجب علی التراخی ہے یعنی آخر عمر تک حج میں تاخیر جائز ہے جیسا کہ نماز میں آخر وقت تک تاخیر جائز ہے، حضرت امام محمد (رح) کا بھی یہی قول ہے لیکن اس سلسلے میں دونوں یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تاخیر اسی وقت جائز ہوگی جب کہ حج کے فوت ہوجانے کا گمان نہ ہو، اگر یہ گمان ہو کہ تاخیر کرنے میں حج فوت ہوجائے گا (یعنی کبھی حج نہیں کرسکے گا) تو پھر تاخیر نہ کرے، اس صورت میں اگر کوئی شخص حج فرض ہونے کے باوجود بغیر حج کے مرے گا تو تمام ہی علماء کے نزدیک گنہگار مرے گا چناچہ حج نہ کرنے کا اس سے مواخذہ ہوگا۔ حنفی علماء یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے شرائط حج پائے جانے کے بعد حج میں تاخیر کی اور اس عرصے میں اس کا مال و زر تلف ہوگیا تو وہ قرض لے کر حج کرے اگرچہ اس قرض کی ادائیگی پر وہ قادر نہ ہو اور اس بات کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قرض کی عدم ادائیگی پر مواخذہ نہیں کرے گا بشرطیکہ اس کی نیت یہ ہو کہ میرے پاس جب بھی مال آجائے گا میں یہ قرض ضرور ادا کروں گا۔

2562Mishkaat-al-Masabih

حج وعمرہ ساتھ کرنے کا حکم

وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تابعوا بين الحج والعمرة فإنهما ينفيان الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد والذهب والفضة وليس للحجة المبرورة ثواب إلا الجنة . رواه الترمذي والنسائيورواه أحمد وابن ماجه عن عمر إلى قوله : خبث الحديد

حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ حج اور عمرہ ایک ساتھ کرو اور اس لئے کہ یہ دونوں (یعنی ان میں سے ہر ایک) فقر اور گناہوں کو ایسا دور کرتے ہیں جیسے بھٹی لوہے سونے اور چاندی کے میل کو دور کرتی ہے اور حج مقبول کا ثواب جنت کے سوا کچھ نہیں۔ (ترمذی، نسائی امام احمد اور ابن ماجہ نے اس روایت کو حضرت عمر ؓ سے لفظ خبث الحدید تک نقل کیا ہے)۔ تشریح حج اور عمرہ ایک ساتھ کرو۔ کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کرو۔ یہ حج کی سب سے افضل قسم ہے جس میں حج وعمرہ دونوں ساتھ ہوتے ہیں اس کا تفصیلی بیان آگے آئے گا۔ یا پھر اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے عمرہ کیا ہے تو پھر حج بھی کرو اور حج کرلیا ہے تو پھر عمرہ بھی کرو۔ فقر سے مراد ظاہری فقر بھی ہوسکتا ہے اور باطنی بھی یعنی حج وعمرہ کرنے سے اللہ تعالیٰ مال و دولت کی نعمت سے نوازتا ہے یا یہ کہ دل غنی ہوجاتا ہے۔

2563Mishkaat-al-Masabih

حج کے شرائط

وعن ابن عمر قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله ما يوجب الحج ؟ قال : الزاد والراحلة . رواه الترمذي وابن ماجه

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کون سی چیز حج کو واجب کرتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا زاد راہ اور سواری۔ (ترمذی، ابن ماجہ) تشریح سوال کون سی چیز حج کو واجب کرتی ہے؟ کا مطلب یہ ہے کہ حج واجب ہونے کی شرط کیا ہے؟ چناچہ آپ ﷺ نے ایک چیز تو زاد راہ بتایا جس کی مراد یہ ہے کہ اتنا مال و زر جو سفر حج میں جانے اور آنے کے اخراجات اور تا واپسی اہل و عیال کی ضروریات کے لئے کافی ہو اور دوسری چیز سواری بتائی جس پر سوار ہو کر بیت اللہ تک پہنچا جاسکے اگرچہ حج کے واجب ہونے کی شرطیں اور بھی ہیں مگر یہاں بطور خاص ان ہی دونوں چیزوں کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اصل میں یہی دو شرائط ایسی ہیں جو حج کے لئے بنیادی اور ضروری اسباب کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہ حدیث حضرت امام مالک کے مسلک کی تردید کرتی ہے ان کے ہاں اس شخص پر بھی حج واجب ہوتا ہے جو پیادہ چلنے پر قادر ہو اور تجارت یا محنت مزدوری کے ذریعہ سفر حج کے اخراجات کے بقدر روپے پیسے حاصل کرسکتا ہو۔

2564Mishkaat-al-Masabih

حاجی کی صفت وکیفیت

وعنه قال : سأل رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ما الحاج ؟ فقال : الشعث النفل . فقام آخر فقال : يا رسول الله أي الحج أفضل ؟ قال : العج والثج . فقام آخر فقال : يا رسول الله ما السبيل ؟ قال : زاد وراحلة رواه في شرح السنة . وروى ابن ماجه في سننه إلا أنه لم يذكر الفصل الأخير

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے سوال کرتے ہوئے عرض کیا کہ حاجی کی صفت و کیفیت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ غبار آلود سر، پراگندہ بال اور پسینہ و میل کی وجہ سے بو آتی ہو (یعنی زیب وزینت سے مکمل اجتناب جیسا کہ کسی عاشق صادق اور محب مخلص کی علامت ہوتی ہے) پھر ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! حج میں (ارکان کے بعد) کون سی چیزیں بہت زیادہ ثواب کی حامل ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا لبیک کے ساتھ آواز بلند کرنا اور قربانی یا ہدی کے جانور کا خون بہانا۔ اس کے بعد ایک اور شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ سبیل کیا ہے؟ یعنی قرآن کریم میں حج کے سلسلہ میں جو یہ فرمایا گیا ہے آیت (من استطاع الیہ سبیلا) تو اس آیت میں سبیل سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا زاد راہ اور سواری۔ (شرح السنۃ) نیز اس روایت کو ابن ماجہ نے اپنی سنن میں نقل کیا ہے لیکن انہوں نے حدیث کا آخری حصہ یعنی فقام آخر (اس کے بعد ایک اور شخص کھڑا ہوا) سے آخر تک ذکر نہیں کیا ہے۔

2565Mishkaat-al-Masabih

باپ کی طرف سے حج کرنے کی اجازت

وعن أبي رزين العقيلي أنه أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله إن أبي شيخ كبير لا يستطيع الحج ولا العمرة ولا الظعن قال : حج عن أبيك واعتمر . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وقال الترمذي : هذا حديث حسن صحيح مرفوع

حضرت ابورزین عقیلی ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرا باپ بہت زیادہ بوڑھا ہوگیا ہے وہ نہ تو حج کی طاقت رکھتا ہے اور نہ عمرے کی اور نہ ہی سوار ہونے کی (یعنی بسبب ضعف و کبر سنی نہ تو حج وعمرہ کے افعال و ارکان کی ادائیگی پر قادر ہے اور نہ سوار ہو کر حج وعمرہ کے لئے جاسکتا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا اس کی طرف سے تم حج وعمرہ کرو۔ (ترمذی، ابوداؤد نسائی) نیز امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تشریح اس باب کی پہلی فصل میں حضرت ابن عباس ؓ کی روایت (حدیث نمبر سات) کی تشریح کے ضمن میں اس روایت کا تذکرہ آچکا ہے۔

2566Mishkaat-al-Masabih

دوسرے کی طرف سے حج کرنے سے پہلے کیا اپنا حج کئے ہونا ضروری ہے؟

وعن ابن عباس قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم سمع رجلا يقول لبيك عن شبرمة قال : من شبرمة قال : أخ لي أو قريب لي قال : أحججت عن نفسك ؟ قال : لا قال : حج عن نفسك ثم حج عن شبرمة . رواه الشافعي وأبو داود وابن ماجه

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (حج کے دوران) ایک شخص کو سنا کہ وہ شبرمہ کی طرف سے لبیک کہہ رہا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ شبرمہ کون ہے؟ اس شخص نے عرض کیا کہ میرا بھائی ہے یا کہا کہ میرا قریبی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا تم اپنی طرف سے حج کرچکے ہو؟ اس نے کہا کہ نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا تو پہلے تم اپنی طرف سے حج کرو پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔ (شافعی، ابوداؤد، ابن ماجہ) تشریح حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد فرماتے ہیں کہ جو شخص پہلے اپنا فرض حج نہ کرچکا ہو اس کو دوسرے کی طرف سے حج کرنا درست نہیں ہے، چناچہ یہ حدیث ان حضرات کی دلیل ہے، حضرت امام اعظم اور حضرت امام مالک کا مسلک یہ ہے کہ دوسرے کی طرف سے حج کرنا درست ہے چاہے خود اپنا فریضہ حج ادا نہ کر پایا ہو۔ لیکن ان حضرات کے نزدیک بھی اولیٰ یہی ہے کہ پہلے اپنا حج کرے اس کے بعد دوسرے کی طرف سے حج کرے چناچہ ان کے مسلک کے مطابق اس حدیث میں پہلے اپنا حج کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ استحباب کے طور پر ہے وجوب کے طور پر نہیں ہے۔ ویسے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے یا یہ کہ منسوخ ہے اس لئے انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ہے۔

2567Mishkaat-al-Masabih

مشرق والوں کی میقات

وعنه قال : وقت رسول الله صلى الله عليه و سلم لأهل المشرق العقيق . رواه الترمذي وأبو داود

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مشرق والوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ (یعنی میقات) عقیق کو متعین فرمایا ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد) تشریح عقیق ایک جگہ کا نام ہے جو ذات عرق کے محاذات میں واقع ہے یہ جگہ مشرق والوں کے لئے میقات ہے مشرق والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو حرم سے باہر مکہ کی مشرقی جانب کے علاقوں میں رہنے والے ہیں یہی لوگ عراقی بھی کہلاتے ہیں جن کا تذکرہ اگلی حدیث میں ہے، اس طرح مشرق والوں کے لئے احرام باندھنے کی دو جگہیں ہوئیں ایک تو عقیق اور ذات عرق۔ لہٰذا اس سمت سے آنے والے لوگ ان دونوں میں سے جس جگہ بھی گزریں وہیں سے احرام باندھیں۔

2568Mishkaat-al-Masabih

مشرق والوں کی میقات

وعن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وقت لأهل العراق ذات عرق . رواه أبو داود والنسائي

ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے عراق والوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ ذات عرق متعین فرمائی۔ (ابوداؤد، نسائی)

2569Mishkaat-al-Masabih

میقات سے پہلے احرام باندھنا افضل ہے

وعن أم سلمة قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أهل بحجة أو عمرة من المسجد الأقصى إلى المسجد الحرام غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر أو وجبت له الجنة . رواه أبو داود وابن ماجه

ام المؤمنین حضرت ام اسلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص حج یا عمرہ کے لئے مسجد اقصیٰ (ہی سے احرام باندھ کر چلے) تو اس کے وہ تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے جو اس نے پہلے کئے ہوں گے اور جو بعد میں کرے گا یا فرمایا کہ اس شخص کے لئے ابتداء ہی میں جنت واجب ہوجائے گی (یعنی وہ شروع ہی میں جنت میں داخل ہوگا۔ (ابوداؤد ابن ماجہ) تشریح من اہل بحجۃ او عمرۃ میں حرف او تنویع کے لئے ہے اور او وجبت لہ الجنۃ میں اور راوی کے شک کو ظاہر کرتا ہے۔ جب کوئی شخص بیت المقدس سے مکہ کے لئے چلتا ہے تو وہ راستہ میں مدینہ منورہ سے گزرتا ہے، اس طرح وہ شخص اپنے راستہ میں تینوں افضل ترین مقامات سے مشرف ہوتا ہے بایں طور کہ اس راستہ کے سفر کی ابتداء بیت المقدس سے ہوتی ہے درمیان میں مدینہ منورہ آتا ہے اور آخر میں مکہ مکرمہ پہنچتا ہے لہٰذا اس شخص کی خوش بختی کا اندازہ لگائیے جو اپنے سفر حج کی ابتداء بیت المقدس سے کرے کہ اول تو خود سفر مقدس و باعظمت پھر سفر کی ابتداء بیت المقدس سے درمیان میں مدینہ منورہ اور سفر کی انتہاء حرم محترم پر اس سبب سے مذکورہ بالا شخص یہ عظیم ثواب پاتا ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ احرام باندھنے کی جگہ حرم محترم سے جتنی دور ہوگی ثواب بھی اتنا زیادہ ہوگا اس بارے میں فقہی تفصیل یہ ہے کہ حضرت امام اعظم کے نزدیک مواقیت سے احرام کی تقدیم یعنی احرام باندھنے کی جگہوں سے پہلے ہی احرام باندھ لینا یا اپنے گھر ہی سے احرام باندھ کر چلنا افضل ہے حضرت امام شافعی کا ایک قول بھی یہی ہے لیکن یہ اس صورت میں ہے جب کہ ممنوعات احرام سے بچ سکے، ورنہ اگر یہ جانے کہ اس صورت میں ممنوعات احرام سے اجتناب ممکن نہیں ہوگا تو پھر میقات ہی سے احرام باندھنا افضل ہوگا۔ اسی طرح حج کے مہینوں میں (یعنی شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن) سے پہلے احرام باندھنے کے بارے میں حنفیہ کے ہاں جواز کا قول بھی ہے اور مکروہ کہا گیا ہے، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بھی کراہت ہی کے قائل ہیں۔ حضرت امام شافعی کا ایک قول اگرچہ یہ بھی ہے کہ حج کے مہینوں سے پہلے احرام باندھنے والوں کا احرام درست نہیں ہوگا لیکن ان کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی شخص حج کے مہینوں سے پہلے احرام باندھے گا تو اس کا وہ احرام حج کی بجائے عمرہ کا ہوجائے گا۔

2570Mishkaat-al-Masabih

حج میں لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے اجتناب کرو

عن ابن عباس قال : كان أهل اليمن يحجون فلا يتزودون ويقولون : نحن المتوكلون فإذا قدموا مكة سألوا الناس فأنزل الله تعالى : ( وتزودوا فإن خير الزاد التقوى ) رواه البخاري

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ یمن والے جب حج کرنے آئے تو زاد راہ ساتھ نہیں لائے تھے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم تو توکل کرنے والے ہیں اور پھر جب وہ مکہ میں آتے تو لوگوں سے مانگتے چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کرنے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی (ڼوَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى) 2۔ البقرۃ 197) اور جب حج کو جانے لگو تو زاد راہ ضرور ساتھ لے لیا کرو کیونکہ سب سے بڑی بات اور خوبی زاد راہ میں گداگری سے بچنا ہے۔ (بخاری) تشریح ان لوگوں نے توکل کو زارد راہ کا درجہ دے دیا تھا ور یہ سمجھتے تھے کہ حج کے ضروری اخراجات کی فراہمی سے قطع نظر توکل بہترین چیز ہے لیکن حقیقت میں نہ تو وہ توکل تھا اور نہ یہ کوئی اچھی بات تھی کہ حج کے لئے مکہ مکرمہ پہنچ کر لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلائے جائیں جو انسانی شرف و عظمت کے خلاف ہے اس لئے فرمایا گیا ہے کہ سب سے بڑی بات اور خوبی یہ ہے کہ زاد راہ اپنے ساتھ رکھو اور گداگری سے بچو۔ اس بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ حج کے ضروری اخراجات ساتھ رکھے بغیر اس شخص کے لئے جانا درست نہیں ہے جس کے نفس میں توکل کی قوت نہ ہو اور اس کو غالب گمان ہو کہ میں شکایت و بےصبری اور گداگری میں مبتلا ہو کر خود بھی پوری طمانینت اور سکون کے ساتھ افعال حج ادا نہ کرسکوں گا اور دوسروں کو بھی پریشانی میں مبتلا کروں گا۔ آیت اور حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ اتنا وسائل اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں ہے چناچہ کاملین کے نزدیک یہ افضل ہے کہ ہاں اگر کوئی بغیر اسباب کے صرف توکل ہی کو اختیار کرے تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے بشرطیکہ اپنے عزم و ارادہ پر مستحکم و مضبوط رہ کر صبر کرسکے اور ایسا کوئی بھی کام نہ کرے جو حقیقی توکل کے منافی ہو۔

2571Mishkaat-al-Masabih

عورتوں کا جہاد حج وعمرہ ہے

وعن عائشة قالت : قلت : يا رسول الله على النساء جهاد ؟ قال : نعم عليهن جهاد لا قتال فيه : الحج والعمرة . رواه ابن ماجه

ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں عورتوں پر ایسا جہاد ہے جس میں لڑائی نہیں ہے اور وہ حج وعمرہ ہے۔ (ابن ماجہ) تشریح اسلام نے عورتوں کے لئے جہاد واجب قرار نہیں دیا ہے لیکن چونکہ یہ ایک ایسی عظیم سعادت ہے جس سے عورتیں محروم رہیں اس لئے ان کے حق میں حج وعمرہ کو جہاد کا درجہ دے کر جہاد کے ثواب کی سعادت سے انہیں نوازا گیا، چناچہ حج وعمرہ میں اگرچہ جنگ و جدل اور قتل قتال نہیں ہے لیکن اس میں بھی مشقت سفر، گھر والوں سے مفارقت اور وطن کی جدائی اسی طرح ہوتی ہے جس طرح جہاد میں۔ اس لئے عورتوں کے حق میں حج وعمرہ بمنزلہ جہاد ہے۔

2572Mishkaat-al-Masabih

بغیر عذر فرض حج نہ کرنے والوں کے لئے وعید

وعن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من لم يمنعه من الحج حاجة ظاهرة أو سلطان جائر أو مرض حابس فمات ولم يحج فليمت إن شاء يهوديا وإن شاء نصرانيا . رواه الدارمي

حضرت ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس شخص کو ظاہری حاجت نے (کہ وہ زاد راہ اور سواری کا نہ ہونا ہے) یا ظالم بادشاہ نے یا خطرناک مرض نے حج سے نہ روک رکھا ہو اور وہ حج کئے بغیر مرجائے تو اسے اختیار ہے کہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر۔ (دارمی) تشریح اگر کسی شخص کو سفر حج کے راستہ میں کسی ظالم بادشاہ و حکمران کی طرف سے جان و مال کے اتلاف کا خوف ہو تو اس پر حج فرض نہیں رہتا باوجودیکہ اس میں حج کے دوسرے شرائط مثلاً اخراجات کے بقدر مال و زر اور سواری وغیرہ پائے جاتے ہوں اسی طرح وہ بیماریاں جن کی وجہ سے سفر کرنا ممکن نہ ہو حج کی فرضیت کو ساقط کردیتی ہیں۔ چناچہ اندھے و فالج زدہ وغیرہ پر باوجود مالی استطاعت وقدرت کے حج فرض نہیں ہوتا۔ اس تفصیل کی روشنی میں حدیث بالا کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص کے پاس زاد راہ ہو اور سواری کا انتظام ہو، راستہ میں کسی ظالم بادشاہ کا خوف نہ ہو، کوئی بیماری مانع سفر نہ ہو گویا کہ حج کے تمام شرائط موجود ہوں اور اس پر حج فرض ہو اور پھر وہ حج نہ کرے تو اب چاہئے وہ یہودی ہو کر مرے۔ اور چاہے عیسائی ہو کر اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہی اس وعید کے سلسلہ میں گزشتہ صفحات میں ایک موقع پر تفصیل بیان کی جا چکی ہے۔

2573Mishkaat-al-Masabih

حج وعمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہوتے ہیں

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : الحاج والعمار وفد الله إن دعوه أجابهم وإن استغفروه غفر لهم . رواه ابن ماجه

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں اگر وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول کرتا ہے اور اگر وہ اس سے مغفرت مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرماتا ہے۔ (ابن ماجہ) تشریح کعبہ مکرمہ کو بیت اللہ فرمایا گیا ہے یعنی وہ اللہ جل شانہ کا گھر ہے جو شخص اس کے گھر کی زیارت کے لئے جاتا ہے وہ اس کا مہمان ہوتا ہے جس طرح میزبان اپنے مہمان کی ہر جائز خواہش کا احترام کرتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنے مہمانوں کی لاج رکھتا ہے جو وہ مانگتے ہیں قبول فرماتا ہے وہ اگر اپنی مغفرت و بخشش چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں مغفرت و بخشش کی دولت سے نوازتا ہے۔

2574Mishkaat-al-Masabih

حج وعمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہوتے ہیں

وعنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : وفد الله ثلاثة الغازي والحاج والمعتمر . رواه النسائي والبيهقي في شعب الإيمان

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین قسم کے لوگ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔ (١) جہاد کرنے والے (٢) حج کرنے والے (٣) عمرہ کرنے والے۔ (نسائی، بیہقی)

2575Mishkaat-al-Masabih

حج کر کے واپس آنے والے سے سلام ومصافحہ کرو

وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا لقيت الحاج فسلم عليه وصافحه ومره أن يستغفر لك قبل أن يدخل بيته فإنه مغفور له . رواه أحمد

حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب تم حاجی سے ملاقات کرو تو اس کو سلام کرو اس سے مصافحہ کرو اور اس سے اپنے لئے بخشش کی دعا کرنے کو کہو اس سے پہلے کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہو اور یہ اس لئے کہ اس کی بخشش کی جا چکی ہے۔ (احمد) تشریح جیسا کہ ایک روایت سے ثابت ہوتا ہے حاجی مستجاب الدعوات ہوجاتے ہیں جس وقت کہ وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے ہیں اور گھر واپس آنے کے چالیس روز بعد تک ایسے ہی رہتے ہیں۔ چناچہ گزشتہ زمانہ میں دستور تھا اور اب بھی ہے کہ جب حجاج اپنے گھر واپس آتے تھے تو لوگ ان کے استقبال کے واسطے جایا کرتے تھے اور ان کی غرض یہ ہوتی تھی کہ چونکہ اس شخص کی مغفرت ہوچکی ہے اور یہ گناہوں سے پاک ہو کر آیا ہے اس سے مل کر مصافحہ کریں پیشتر اس کے کہ وہ دنیا میں ملوث ہوجائے تاکہ ہم کو بھی ان سے کچھ فیض پہنچے۔ اگرچہ آج کل یہ غرض کم اور نام و نمود کا جذبہ زیادہ ہوتا ہے۔ چناچہ اس حدیث میں بھی حاجی سے سلام و مصافحہ کرنے کے لئے گھر میں داخل ہونے سے پہلے کی قید اس لئے لگائی گئی ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ اس وقت تک دنیا میں ملوث اور اپنے اہل و عیال میں مشغول نہیں ہوتا بلکہ اس وقت تک وہ اللہ کے راستہ ہی میں ہوتا ہے اور گناہوں سے پاک و صاف ہوتا ہے اور اس صورت میں حاجی چونکہ مستجاب الدعوات ہوتا ہے اس لئے فرمایا کہ اس سے اپنے لئے مغفرت و بخشش کی دعا کراؤ تاکہ اللہ تعالیٰ اسے قبول کرے اور تمہیں مغفرت و بخشش سے نوازے۔ علماء لکھتے ہیں کہ عمرہ کرنے والا، جہاد کرنے والا اور دینی طالب علم بھی حاجی کے حکم میں یعنی جب یہ لوگ لوٹ کر اپنے گھر آئیں تو ان سے بھی گھر میں داخل ہونے سے پہلے سلام و مصافحہ کیا جائے اور دعاء بخشش و مغفرت کی درخواست کی جائے کیونکہ یہ لوگ بھی مغفور ہوتے ہیں۔

2576Mishkaat-al-Masabih

حج وعمرہ کی راہ میں مرجانے والے کو پورا ثواب ملتا ہے

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من خرج حاجا أو معتمرا أو غازيا ثم مات في طريقه كتب الله له أجر الغازي والحاج والمعتمر . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص حج یا عمرہ اور یا جہاد کے ارادہ سے گھر سے نکلا اور پھر اس کے راستہ میں مرگیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جہاد کرنے والے اور حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے ہی کا ثواب لکھتا ہے۔ (بیہقی) تشریح انہیں لوگوں کے حکم میں دینی طالب علم بھی ہے یعنی اگر کوئی شخص دین کا علم حاصل کرنے کے لئے اپنے گھر سے نکلا اور پھر وہ راستہ میں مرگیا تو اس کے لئے بھی عالموں کا ثواب لکھا جاتا ہے۔

2577Mishkaat-al-Masabih

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ

حج کے بارے میں چند بنیادی باتین اجمالی طور پر اس باب میں بیان ہوئی ہیں۔ مابعد کے ابواب میں حج کے تفصیلی احکام و مسائل آئیں گے چونکہ مکہ مکرمہ اس عظیم عبادت وسعادت کا بنیادی مقام و محور ہے اور مدینہ منورہ ایک ایک مسلمان کے دل کی دھڑکنوں کا مرکز اور دیار محبوب ہے اور جس کی زیارت بھی سفر حج کی ایک بنیادی خواہش ہے اس لئے اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں مقدس و بابرکت مقامات کا ایک مختصر سا تاریخی اور جغرافیائی خاکہ پیش کردیا جائے اگرچہ آگے ان مقامات کے فضائل و مسائل پر مشتمل الگ ابواب آئیں گے۔

2578Mishkaat-al-Masabih

مکہ مکرمہ

مکہ مکرمہ جہاں بیت اللہ شریف واقع ہے مملکت سعودی عرب کے علاقہ حجاز کا ایک شہر ہے جو وادی ابراہیم میں آباد ہے سطح سمندر سے اس کی بلندی تقریباً ساڑھے تین سو فٹ بتائی جاتی ہے اس کا عرض البلد اکیس درجہ شمالی اور طول البلد ساڑھے انتالیس درجہ مشرقی ہے، آبادی چار لاکھ یا اس سے متجاوز ہے اس کا محل وقوع ساحل سمندر سے تقریباً اڑتالیس میل (٧٨ کلو میٹر) کے فاصلہ پر ہے۔ مکہ کے علاوہ بکہ، ام القرای اور بلد الامین اسی شہر کے نام ہیں مشہور اور متعارف نام مکہ ہی ہے یہ جس جگہ واقع ہے وہ ناقابل کاشت، تنگ اور گہری وادی ہے جو کسی زمانہ میں بالکل جنگل اور بےآب وگیاہ ریگستان ہونے کے سبب لوگوں کی آبادی کا مرکز نہیں بنتی تھی اس وادی میں شہر مکہ مکرمہ مشرق سے مغرب تک پانچ میل سے زائد حصہ میں پھیلا ہوا ہے اس کا عرض دو میل سے زائد ہے اس کی زمین سیلاب کی گزرگاہ ہونے کے باعث بطحا بھی کہی جاتی ہے مکہ کی وادی دو پہاڑی سلسلوں میں گھری ہوئی ہے جو مغرب سے شروع ہو کر مشرق تک چلے گئے ہیں ان میں ایک سلسلہ شمالی ہے اور ایک جنوبی ان دونوں سلسلوں کو اخشیان کہتے ہیں ان پہاڑوں کو توریت میں جبال فاران کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ تقریباً چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ اور اپنے بیٹھے حضرت اسماعیل کو اس جنگل اور بےآب وگیاہ وادی میں لا کر آباد کیا اور اسی وقت کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی نیز انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اس جنکل کو آباد کر دے۔ جب ہی سے یہ بےآب وگیاہ میدان قرب و جوار بلکہ ساری دنیا کا مرکز بنا، اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار بندے اسی کا رخ بنا کر پانچ وقت اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ حضرت اسماعیل کی نسلیں یہاں مقیم ہوئی اور کچھ نسلیں قرب و جوار میں بھی پھیلیں آخر میں قریش یہاں کے متولی اور باشندے ہوئے اور پھر یہاں قریش میں دنیا کے سب سے عظیم رہنما اور اللہ کے سب سے آخری پیغمبر و رسول سرکار دو عالم ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی اور آپ ﷺ نے مبعوث ہونے کے بعد اسی مقدس شہر سے اللہ کے آخری دین اسلام کا پیغام دنیا کو سنایا اور یہیں سے اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی تمام تر جدو جہد کا آغاز ہوا۔ مکہ کی آبادی پہلے صرف خیموں میں رہتی تھی ہجرت سے صرف دو صدی پہلے آنحضرت ﷺ ایک جد قصی ابن کلاب جب شام سے آئے تو ان کے مشورہ سے مکانات کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا، پھر اسلام کے آنے کے بعد اس شہر کو برابر ترقی ہوتی رہی، اب یہ اپنے قرب و جوار میں دور دور تک سب سے بڑا اور پورے عالم اسلام کا سب سے اہم اور مرکزی شہر ہے۔ شہر میں پانی کا ایک ہی چشمہ ہے جسے زمزم کہتے ہیں اس کے علاوہ یہاں پانی کا اور کوئی کنواں نہیں ہے پانی کی کمی کی وجہ سے یہاں کی زمین میں کچھ کاشت نہیں ہوسکتی تھی، اب پانی کی افراط کی وجہ سے کچھ گھاس اور پودے لگائے گئے ہیں پہلے شہر میں پانی کی بہت قلت ہونے کی وجہ سے طائف کے قریب یہاں ایک نہر لائی گئی ہے جس کا نام نہر زبیدہ ہے۔ یہ نہر امین الرشید کی والدہ زبیدہ نے بنوائی تھی بعد میں اس کو ترقی دی جاتی رہی اس کے لئے پانی پہنچانے کے دوسرے ذرائع بھی اختیار کئے گئے اب موجودہ حکومت میں پانی کی سپلائی کا بہت معقول انتظام اور عمدہ ہونے کی وجہ سے یہ قلت بالکل جاتی رہی ہے۔ پہاڑوں کے درمیان گھرے ہونے کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں گرمی زیادہ اور سردی کم ہوتی ہے شہر کا موسم گرمیوں میں بڑا سخت ہوتا ہے اور بارش صرف جاڑوں میں ہوتی ہے جس کی سالانہ مقدار چار پانچ انچ سے زیادہ نہیں ہوتی لہٰذا گرمی کا موسم مارچ میں شروع ہو کر آخر اکتوبر تک رہتا ہے موسم سرما میں سردی کم ہوتی ہے۔

2579Mishkaat-al-Masabih

مدینہ منورہ :

مدینہ منورہ مکہ مکرمہ سے بجانب شمال تقریبا دو سو ستر میل (چار سو بتیس کلو میٹر) کے فاصلہ پر واقع اس کے مغربی جانب سو سو میل (سو کلو میٹر) کے فاصلہ پر سمندر اور اس علاقہ کا مشہور بندرگاہ ینبوع ہے۔ مدینہ منورہ مکہ مکرمہ اور شام کے درمیان راستہ کے تقریبا وسط پر واقع ہے اس کا طول البلد ساڑھے انتالیس درجہ مشرقی اور عرض البلد چوبیس درجہ شمالی ہے۔ جب اللہ کے نام لیواؤں پر مکہ کی زمین تنگ ہوئی اور کفار مکہ کی خطرناک انتقامی کاروائیوں، ایذاء رسانیوں اور سازشوں کی وجہ سے تبلیغ اسلام میں رکاوٹ اور مسلمانوں کی جان و آبرو کے لالے پڑگئے تو اللہ کے حکم سے آنحضرت ﷺ نے صحابہ ؓ کو مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دیا اور خود بھی مکہ چھوڑ کر مدینہ آگئے اس طرح اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا مرکز مدینہ منورہ منتقل ہوگیا اور پھر اسی سر زمین سے اسلام کی روشنی عرب کی حدود سے نکل کر پوری دنیا میں پہنچی۔ آپ کی تشریف آوری سے قبل اس شہر کا نام یثرب تھا یہاں قدیم زمانہ میں عمارز اور دوسری قومیں رہ چکی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام بدل دیا اور پھر اسے مدینۃ الرسول یعنی رسول اللہ ﷺ کا شہر کہا جانے لگا۔ اس کے علاوہ۔ طابہ، طیبہ، طائبہ، ارض اللہ، دارالہجرۃ۔ بیت رسول اللہ۔ حرم رسول اللہ۔ محبوبہ۔ حسنہ وغیرہ بھی نام احادیث وغیرہ میں آتے ہیں لیکن سب سے زیادہ مشہور اور متعارف نام مدینہ ہے۔ مدینہ منورہ مکہ مکرمہ کے برعکس سرسبز و شاداب اور ایک زراعتی شہر ہے۔ مغربی جانب کے علاوہ اس کے دوسرے اطراف میں باغات بکثرت ملتے ہیں جن میں کھجور، انگور انار سیب اور دوسرے پھل کافی مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس کی زمینوں میں کھیتی باڑی کی جاتی ہے مدینہ کی آب و ہوا مکہ کی آب و ہوا کے مقابلہ میں معتدل ہے ایک تو وجہ یہ ہے کہ وہ مکہ مکرمہ کی طرح پہاڑیوں سے گھرا ہوا نہیں ہے دوسرے یہ کہ اس کو مختلف سمتوں سے باغات نے گھیر رکھا ہے تیسرے یہ کہ شہر سطح سمندر سے ساڑھے بارہ ہزار فٹ بلند ہے یہاں جاڑا اور گرمی دونوں سخت ہوتے ہیں۔ یہ شہر ایک صحت پرور شہر سمجھا جاتا ہے منقول ہے کہ جب آنحضرت ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو اس وقت یہاں کی آب و ہوا نہایت ناقص اور خراب تھی اکثر وبائی بیماریاں ہوتی رہتی تھیں چناچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت بلال ؓ یہاں آتے ہی سخت بیمار ہوگئے آنحضرت ﷺ نے اس شہر کی آب و ہوا کی اصلاح اور درستی کے لئے دعا مانگی اور آپ کی دعا قبول ہوئی۔ مدینہ کی مشرقی جانب حرۃ الواقم اور مغربی جانب حرۃ الوبرہ نامی پہاڑ ہیں۔ شمالی جانب جبل احد ہے جس کے پاس احد کا معرکہ پیش آیا تھا اور وہاں متعدد صحابہ اور حضرت حمزہ ؓ کی قبریں ہیں یہ پہاڑ شہر سے تقریباً اڑھائی میل کے فاصلہ پر واقع ہے اور جنوبی جانب جبال گیر نامی دو پہاڑ ہیں اور قبا اور عوالی نامی دو بستیاں ہیں حرۃ الواقم اور حرۃ الوبرہ کے درمیان شمال میں لیکن ذرا علیحدہ جبل سلع ہے یہی وہ جگہ ہے یہاں چار ہجری میں آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کے ساتھ خندق کھودی تھی۔ اور مدینہ منورہ پر حملہ آور کفار کا راستہ بند کردیا تھا۔ یہ واقعہ غزوہ احزاب یا غزوہ خندق کہلاتا ہے یہ خندق حرۃ الواق سے حرۃ الوبرہ تک ہلالی شکل میں کھو دی گئی تھی اور جبل سلع کے پیچھے سے گزری تھی۔ مسلمانوں کا لشکر جبل سلع کے دامن میں مقیم ہوا تھا۔ شہر کے تقریباً وسط میں قدرے مستطیل شکل کی رسول اللہ ﷺ کی پر شکوہ مسجد ہے اس مسجد کے مشرقی پہلو اور جنوبی سرے پر روضہ اطہر ہے جس میں سرکار دو عالم ﷺ آرام فرما ہیں اور آپ کے دو معزز رفیق ابوبکر صدیق اور عمر فاروق ؓ بھی یہیں مدفون ہیں۔

2580Mishkaat-al-Masabih

احرام باندھنے اور لبیک کہنے کا بیان

احرام کے معنی ہیں حرام کردینا چونکہ حج کرنے والے پر کئی چیزیں حرام ہوجاتی ہیں لہٰذا اس اظہار کے واسطے کہ اس وقت یہ چیزیں حرام ہوگئی ہیں ایک لباس جو صرف ایک چادر اور تہبند ہوتا ہے۔ بہ نیت حج یا عمرہ باندھا جاتا ہے جس کو احرام کہتے ہیں۔ تلبیہ یعنی لبیک کہنے سے مراد یہ عبارت پڑھنا ہے۔ لبیک اللہم لبیک لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک