Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 128 of 317

2541Mishkaat-al-Masabih

کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟

وعنه قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم : أي العمل أفضل ؟ قال : إيمان بالله ورسوله قيل : ثم ماذا ؟ قال : الجهاد في سبيل الله . قيل : ثم ماذا ؟ قال : حج مبرور

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ پوچھا گیا کہ پھر کون سا عمل؟ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، پوچھا گیا کہ پھر کون سا، فرمایا حج مقبول۔ (بخاری ومسلم) تشریح افضل اعمال کے سلسلے میں سب سے بہتر عمل کون سا ہے۔ مختلف احادیث منقول ہیں کسی حدیث میں کسی عمل کو افضل فرمایا گیا ہے اور کسی میں کسی کو، ان سب میں مطابقت و موافقت یوں پیدا کی جاتی ہے کہ یہ اختلاف بیان سائلین کے اقوال، حیثیات اور مقامات کے فرق و تفاوت کی بناء پر ہے، اس حدیث کو تفصیل کے ساتھ کتاب الصلوۃ میں بھی ایک موقع پر بیان کیا جا چکا ہے۔

2542Mishkaat-al-Masabih

صرف اللہ کے لئے حج کرنے والے کی سعادت

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حج فلم يرفث ولم يفسق رجع كيوم ولدته أمه

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کے لئے حج کرے اور حج کے دوران نہ ہم بستری اپنی عورت سے کرے اور نہ فسق میں مبتلا ہو تو وہ اس طرح بےگناہ ہو کر واپس آتا ہے جیسے اس دن بےگناہ تھا کہ جس دن اس کو اس کی ماں نے جنا تھا۔ (بخاری ومسلم) تشریح جو شخص اللہ کے لئے حج کرے کا مطلب یہ ہے کہ وہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی اور صرف اس کے حکم کی بجا آوری کے لئے حج کرے، دکھانے، سنانے کا جذبہ یا غرض و مقصد پیش نظر نہ ہو۔ اس سلسلے میں اتنی بات ضرور جان لینی چاہئے کہ جو شخص حج اور تجارت یا مال وغیرہ لانے، دونوں کے قصد سے حج کے لئے جائے گا تو اسے ثواب کم ملے گا بہ نسبت اس شخص کے جو صرف حج کے لئے جائے گا کہ اسے ثواب زیادہ ملے گا۔ رفث کے معنی ہیں جماع کرنا، فحش گوئی میں مبتلا ہونا اور عورتوں کے ساتھ ایسی باتیں کرنا جو جماع کا داعیہ اور اس کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ اور نہ فسق میں مبتلا ہو کا مطلب یہ ہے کہ حج کے دوران گناہ کبیرہ کا ارتکاب نہ کرے اور صغیرہ گناہوں پر اصرار نہ کرے۔ یہ ذہن میں رہے کہ گناہوں سے توبہ نہ کرنا بھی کبیرہ گناہوں ہی میں شمار ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد ربانی سے واضح ہوتا ہے آیت (ومن لم یتب فاولئک ہم الظالمون)۔ اور جس نے توبہ نہیں کی تو یہی وہ ہیں جو اپنے حق میں ظالم ہیں۔ حاصل یہ کہ جو شخص خالصۃ للہ حج کرے اور اس حج کے دوران جماع اور فحش گوئی میں مبتلا نہ ہو اور نہ گناہ کی دوسری چیزوں کو اختیار کرے تو گناہ سے ایسا ہی پاک و صاف ہو کر حج سے واپس آتا ہے جیسا کہ گناہوں سے پاک و صاف ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔

2543Mishkaat-al-Masabih

حج کا ثمرہ جنت ہے

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : العمرة إلى العمرة كفارة لما بينهما والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک کفارہ ہے ان صغیرہ گناہوں کے لئے جو ان دونوں عمروں کے درمیان ہوں اور حج مقبول کا بدلہ جنت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ (بخاری ومسلم )

2544Mishkaat-al-Masabih

رمضان میں عمرہ کا ثواب

وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن عمرة في رمضان تعدل حجة

حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے ثواب کے برابر ہے۔ (بخاری ومسلم )

2545Mishkaat-al-Masabih

نابالغ کو بھی حج کا ثواب ملتا ہے

وعنه قال : إن النبي صلى الله عليه و سلم لقي ركبا بالروحاء فقال : من القوم ؟ قالوا : المسلمون . فقالوا : من أنت ؟ قال : رسول الله فرفعت إليه امرأة صبيا فقالت : ألهذا حج ؟ قال : نعم ولك أجر . رواه مسلم

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سفر حج کے دوران روحاء میں جو مدینہ سے ٣٦ کوس کے فاصلے پر ایک جگہ کا نام تھا ایک قافلے سے ملے، آپ ﷺ نے پوچھا کہ تم کون قوم ہو؟ قافلے والوں نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں پھر قافلے والوں نے پوچھا کہ آپ ﷺ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ہوں یہ سن کر ایک عورت نے ایک لڑکے کو ہاتھ میں لے کر کجاوے سے آنحضرت ﷺ کی طرف پکڑ کر بلند کیا یعنی آپ ﷺ کو دکھلایا پھر آپ ﷺ سے پوچھا کہ کیا اس کے لئے حج کا ثواب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں! اور تمہارے لئے بھی ثواب ہے۔ (مسلم) تشریح عورت کے سوال کے جواب میں آپ ﷺ کے ہاں کا مطلب یہ تھا کہ لڑکا اگرچہ نابالغ ہے اور اس پر حج فرض نہیں ہے۔ لیکن اگر یہ حج میں جائے گا تو اسے نفلی حج کا ثواب ملے گا اور چونکہ تم اس بچے کو افعال حج سکھلاؤگی، اس کی خبر گیری کروگی اور پھر یہ کہ تم ہی اس کے حج کا باعث بنوگی اس لئے تمہیں بھی ثواب ملے گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی نابالغ حج کرے تو اس کے ذمہ سے فرض ساقط نہیں ہوگا اگر بالغ ہونے کے بعد فرضیت حج کے شرائط پائے جائیں گے تو اسے دوبارہ پھر کرنا ہوگا، اسی طرح اگر غلام حج کرے تو اس کے ذمہ سے بھی فرض ساقط نہیں ہوتا، آزاد ہونے کے بعد فرضیت حج کے شرائط پائے جانے کی صورت میں اس کے لئے دوبارہ حج کرنا ضروری ہوگا۔ ان کے برخلاف اگر کوئی مفلس حج کرے تو اس کے ذمہ سے فرض ساقط ہوجائے گا۔ مال دار ہونے کے بعد اس پر دوبارہ حج کرنا واجب نہیں ہوگا۔

2546Mishkaat-al-Masabih

دوسرے کی طرف سے حج کرنے کا مسئلہ

وعنه قال : إن امرأة من خثعم قالت : يا رسول الله إن فريضة الله عبادة في الحج أدركت أبي شيخا كبيرا لا يثبت على الراحلة أفأحج عنه ؟ قال : نعم ذلك حجة الوداع

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ کے ایک فریضہ نے جو اس کے بندوں پر ہے میرے باپ کو بڑا بوڑھا پایا ہے یا جو سواری پر جم کر بیٹھ بھی نہیں سکتا تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ہاں! اس کی طرف سے حج کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ اور اس عورت کے درمیان یہ سوال جواب حجۃ الوداع میں ہوا تھا۔ (بخاری و مسلم) تشریح اس عورت کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ میرے باپ پر بڑھاپے میں حج فرض ہوا ہے۔ بایں سبب کہ وہ بڑھاپے میں اس کو اتنا مال مل گیا ہے اور اس کے پاس اتنا مال ہے کہ جس کی وجہ سے اس پر حج فرض ہوجاتا ہے یا یہ کہ اب بڑھاپے میں اس کو اتنا مال مل گیا ہے کہ اس پر حج فرض ہوگیا ہے مگر وہ اتنا ضعیف اور کمزور ہے کہ ارکان و افعال حج کی ادائیگی تو الگ ہے وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتا تو کیا میں اس کی طرف سے نیابتہ حج کرلوں؟ چناچہ آپ ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں! اس کی طرف سے تم حج کرلو۔ مسئلہ یہ ہے کہ کسی شخص پر اگر حج فرض ہو اور وہ بذات خود حج کرنے سے معذور ہو نیز یہ کہ اس کی وہ معذوری ایسی ہو جو موت تک زائل نہ ہونے والی ہو۔ جیسے بڑھاپے کا ضعف، نابینا ہونا، یا پیروں کا کٹا ہونا وغیرہ تو اس کی طرف سے کسی دوسرے شخص کا حج کرلینا جائز ہے۔ بشرطیکہ وہ معذور اپنی طرف سے حج کرنے والے کو حج کے اخراجات بھی دے اور اسے اپنی طرف سے حج کرنے کا حکم بھی دے۔ نیز اس کی موت کے بعد بھی اس کی طرف سے کسی دوسرے شخص کا حج کرنا جائز ہے جب کہ وہ اس کی وصیت کر کے مرا ہو۔ لیکن بعض علماء کہتنے ہیں کہ اولاد اگر اپنے والدین کی طرف سے فرض حج کرے تو اس صورت میں حکم اور وصیت شرط نہیں ہے یعنی والدین کی طرف سے حج کرنا۔ بغیر حکم اور بغیر وصیت کے بھی جائز ہے، یہ تو فرض حج کی بات تھی نفل حج کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی طرف سے کسی دوسرے سے نفل حج کرائے۔ تو معذوری شرط نہیں ہے۔ یعنی اگر بذات خود اسے حج کرنے کی قدرت و طاقت حاصل ہے تو اس کے باوجود وہ کسی دوسرے سے اپنا نفل حج کرا سکتا ہے۔ مذکورہ بالا مسئلہ کو ذہن میں رکھ کر حدیث کی طرف آئیے۔ عورت اپنے باپ کی طرف سے حج کرنے کے بارے میں آنحضرت ﷺ سے پوچھ رہی ہے۔ لیکن وہ چونکہ وضاحت نہیں کر رہی ہے اس لئے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے باپ نے نہ تو اس کو اپنی طرف سے حج کرنے کا حکم دیا ہے اور نہ اسے اخراجات دئیے ہیں۔ گویا اس طرح حدیث کے ظاہری مفہوم اور مذکورہ بالا اس فقہی روایت میں کہ جس کی طرف سے حج کیا جائے اس کا حکم اور اس کی طرف سے اخراجات کی ادائیگی حج کے صحیح ہونے کی شرط ہے، تضاد نظر آتا ہے، لہٰذا اس تضاد کو اس تاویل کے ذریعے ختم کیا جائے گا کہ اس عورت کے باپ نے اس کو اپنی طرف سے حج کرنے کی اجازت بھی دی ہوگی اور اسے اخراجات بھی دئیے ہوں گے مگر اس نے اس کا تذکرہ نہیں کیا۔ اس تاویل کی بنیاد حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی وہ تقریر ہے کہ انہوں نے حضرت ابورزین کی روایت کی وضاحت کے ضمن میں بیان کی ہے یہ روایت اسی باب کی دوسری فصل میں آئے گی۔ بعض علماء کے قول کہ والدین کی طرف سے حج کرنا بغیر حکم و وصیت کے بھی جائز ہے۔ کے پیش منظر اس تاویل کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس صورت میں تو یہ حدیث اس فقہی روایت کی دلیل بن جائے گی۔

2547Mishkaat-al-Masabih

دوسرے کی طرف سے حج کرنے کا مسئلہ

وعنه قال : أتى رجل النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إن أختي نذرت أن تحج وإنها ماتت فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لو كان عليها دين أكنت قاضيه ؟ قال : نعم قال : فاقض دين الله فهو أحق بالقضاء

حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میری بہن نے حج کرنے کی نذر مانی تھی مگر وہ مرگئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کے ذمہ اگر کوئی مطالب (مثلاً قرض وغیرہ) ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟ اس نے کہا ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر اللہ کا مطالبہ (یعنی حج نذر) ادا کرو کیونکہ اس کا ادا کرنا زیادہ ضروری ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس کی بہن کے ورثہ میں کچھ مال ملا ہوگا۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے حق اللہ کو حق العباد پر قیاس فرماتے ہوئے اس کو بہن کا حج نذر کرنے کا حکم دیا۔ مسئلہ وارث کے لئے جائز ہے کہ وہ مورث کی طرف سے اس کی اجازت و وصیت کے بغیر بھی حج کرسکتا ہے، یا اس کی طرف سے خود حج کرسکتا ہے۔ لیکن دوسروں کے لئے اجازت و وصیت شرط ہے کہ اس کے بغیر حج درست نہ ہوگا۔

2548Mishkaat-al-Masabih

عورت خاوند یا محرم کے بغیر حج کو نہیں جاسکتی

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يخلون رجل بامرأة ولا تسافرن امرأة إلا ومعها محرم . فقال رجل : يا رسول الله اكتتبت في غزوة كذا وكذا وخرجت امرأتي حاجة قال : اذهب فاحجج مع امرأتك

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کوئی شخص عورت کے ساتھ خلوت نہ کرے (یعنی اجنبی مرد و عورت کسی جگہ تنہا جمع نہ ہوں) اور کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ یہ سن کر ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! فلاں غزوہ میں میرا نام لکھا جا چکا ہے (یعنی فلاں جہاد جو درپیش ہے اور وہاں جو لشکر جانے والا ہے اس میں میرا نام بھی لکھا جا چکا ہے کہ میں بھی لشکر کے ہمراہ جاؤں) اور حالانکہ میری بیوی نے سفر حج کا ارادہ کرلیا ہے؟ تو کیا کروں؟ آیا جہاد کو جاؤں اور بیوی کو اکیلا حج کے لئے جانے دوں یا بیوی کے ساتھ جاؤں اور جہاد میں نہ جاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ (کیونکہ جہاد میں جانے والے تو بہت ہیں لیکن تمہاری بیوی کے ساتھ جانے والا تمہارے علاوہ اور کوئی محرم نہیں ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح اجنبی عورت و مرد کے لئے حرام ہے کہ وہ تنہائی میں یک جا ہوں۔ اسی طرح عورت کو بقدر مسافت سفر (یعنی ٤٨ میل یا ٧٨ کلو میٹر) یا اس سے زائد مسافت میں خاوند یا محرم کے بغیر سفر کرنا حرام ہے حتی کہ سفر حج میں بھی عورت کے لئے اس کے خاوند یا کسی محرم کا ساتھ ہونا وجوب حج کے لئے شرط ہے یعنی عورت پر حج اسی وقت فرض ہوتا ہے جب کہ اس کے ساتھ خاوند یا محرم ہو۔ محرم اصطلاح شریعت میں اس کو کہتے ہیں جس کے ساتھ نکاح ہمیشہ کے لئے حرام ہو خواہ قرابت کے لحاظ سے ہو یا دودھ کے رشتے سے یا سسرال کے ناطے سے، نیز محرم کا عاقل و بالغ ہونا اور مجوسی و فاسق نہ ہونا بھی شرط ہے۔

2549Mishkaat-al-Masabih

عورتوں کا جہاد، حج ہے

وعن عائشة قالت : استأذنت النبي صلى الله عليه و سلم في الجهاد . فقال : جهادكن الحج

ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے جہاد میں جانے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا جہاد حج ہے۔ (یعنی تم عورتوں پر جہاد واجب نہیں ہے اس کی بجائے حج بشرطیکہ نفل حج کرنے کی استطاعت ہو۔ (بخاری ومسلم)

2550Mishkaat-al-Masabih

خاوند یا محرم کے بغیر عورت کے سفر کی حد

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تسافر امرأة مسيرة يوم وليلة إلا ومعها ذو محرم

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ کوئی عورت ایک دن و ایک رات کی مسافت کے بقدر بھی سفر نہ کرے علاوہ یہ کہ اس کے ساتھ محرم ہو۔ (بخاری ومسلم) تشریح اس موقع پر حدیث اور فقہی روایت کا تضاد سامنے آسکتا ہے وہ یوں کہ ہدایہ میں جو فقہ حنفی کی مشہور تین کتاب ہے لکھا ہے کہ عورتوں کو بغیر خاوند یا محرم کسی ایسی جگہ کا سفر مباح ہے جس کی مسافت حد سفر سے (کہ وہ تین منزل یعن ٤٨ میل سے کم ہو) لیکن یہاں حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی عورت بغیر خاوند یا محرم کسی ایسی جگہ کا سفر بھی نہیں کرسکتی جس کی مسافت ایک دن و ایک رات (ایک منزل یا ١٦ میل کے سفر کے بقدر ہو۔ نیز بخاری و مسلم میں بھی یہ ایک روایت منقول ہے کہ کوئی عورت دو دن کی مسافت کے بقدر بھی سفر نہ کرے الاّ یہ کہ اس کے ساتھ اس کا خاوند یا محرم ہو۔ لہٰذا فقہاء کا قول بظاہر ان روایات کے مخالف نظر آتا ہے لیکن اس تضاد و اختلاف کو دور کرنے کے لئے علماء یہ کہتے ہیں کہ حدیث میں مطلق طور پر جو یہ منقول ہے کہ کوئی عورت اپنے خاوند یا محرم کے بغیر سفر نہ کرے تو چونکہ شرعی طور پر سفر کا اطلاق تین دن سے کم پر نہیں ہوتا اس لئے فقہاء نے اس حدیث کو تین دن (٤٨ میل) کی مسافت کے بقدر سفر پر محمول کیا ہے اور یہ فقہی قاعدہ مرتب کردیا کہ کوئی عورت اتنی دور کا سفر کہ جو تین دن کی مسافت کے بقدر ہو بغیر خاوند یا محرم کے نہ کرے اور جب تین دن کی مسافت کے بقدر تنمہا سفر نہیں کرسکتی تو اس سے زائد مسافت کا سفر کرنا تو بدرجہ اولیٰ جائز نہیں ہوگا۔ اور جن حدیثوں میں دو دن یا ایک دن کی مسافت کے بقدر سفر سے بھی منع کیا گیا ہے تو اس کو فتنہ و فساد پر محمول کیا ہے کہ اگر سفر تین دن کی مسافت سے بھی کم یعنی دو دن یا ایک دن کی مسافت کے بقدر ہو اور کسی فتنہ و فساد مثلاً عورت کی عزت و آبرو پر حرف آنے کا گمان ہو تو اس صورت میں بھی عوت کو تنہا سفر نہیں کرنا چاہئے۔ یا پھر یہ کہا جائے گا کہ جہاں تین دن کی مسافت کے بقدر سفر کی ممانعت منقول ہے تو اس کی مراد یہ ہے کہ ہر منزل (یعنی ١٦ میل) ایک دن کے اکثر حصے میں طے ہوتی ہو تو اس طرح تین دن میں تین منزلیں طے ہوں گی اور جہاں دو دن کے سفر کی ممانعت ہے۔ تو اس کی مراد یہ ہے کہ تمام دن چلے یعنی ایک دن میں ڈیڑھ منزل (٢٤ میل) طے ہو اس طرح دو دن میں تین منزلیں طے ہوں گی اور جہاں ایک دن و رات کے سفر کی ممانعت ہے تو اس کی مراد یہ ہے کہ شب و روز چلے، یعنی ڈیڑھ منزل پورے دن میں طے ہو ڈیڑھ منزل پوری رات میں طے ہو اس طرح ایک دن و رات میں تین منزلیں طے ہوں گی۔ اس تاویل کی وجہ سے ان تمام روایات کا مقصد تین دن کی مسافت کے بقدر عورت کو تنہا سفر کرنے سے روکنا ثابت ہوجائے گا اور تمام روایات میں باہم کوئی تضاد بھی باقی نہیں رہے گا۔ اس سلسلے میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی یہ بات دل کو زیادہ لگتی ہے کہ ان تمام روایات ( کہ جن سے عورت کو تنہا سفر کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے اور جن میں حد سفر کے بارے میں اختلاف نظر آ رہا ہے) کا مقصد سفر کی کسی حد اور مدت کو متعین کرنا نہیں ہے بلکہ ان روایات کا مجموعی حاصل یہ ہے کہ عورت بغیر خاوند یا محرم تنہا سفر مطلقاً نہ کرے مسافت چاہے طویل ہو اور چاہے کتنی ہی مختصر ہو۔ لہٰذا موجودہ دور میں جب کہ فتنہ فساد کا خوف عام ہے اور انسانی ذہن غلط طریقہ تعلیم و تربیت اور فاسد ماحول کی وجہ سے بےحیائی اور فحاشی کا مرکز بن گئے ہیں تو احتیاط کا تقاضہ یہی ہے کہ عورت مطلقاً تنہا سفر نہ کرے سفر چاہے تھوڑی دور کا ہو چاہے زیادہ فاصلے کا۔ اس لئے کہ فتنہ و فساد کا خوف بہر صورت رہتا ہے۔

2551Mishkaat-al-Masabih

مواقیت حج

وعن ابن عباس قال : وقت رسول الله صلى الله عليه و سلم لأهل المدينة : ذا الحليفة ولأهل الشام : الجحفة ولأهل نجد : قرن المنازل ولأهل اليمن : يلملم فهن لهن ولمن أتي عليهن من غير أهلهن لمن كان يريد الحج والعمرة فمن كان دونهن فمهله من أهله وكذاك وكذاك حتى أهل مكة يهلون منها

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے آفاقی یعنی غیر مکی کے لئے احرام باندھنے کی جگہ (میقات) اس طرح متعین فرمائیں۔ اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لئے جحفہ، نجد والوں کے لئے قرن منازل اور یمن والوں کے لئے یلملم۔ یہ سب مذکورہ علاقوں کے لوگوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ ہیں اور ان مقامات سے گزرنے والے ان لوگوں کے لئے بھی یہی میقات ہیں جو ان علاقوں کے علاوہ ہوں مثلا ہندوستانی کہ جب یمن کے راستے پر پہنچیں تو یلملم سے احرام باندھیں۔ اسی طرح دوسرے ملکوں کے لوگوں کے لئے بھی یہی ہے کہ ان کے راستے میں جو میقات آئے وہیں سے احرام باندھیں اور یہ (احرام اور احرام باندھنے کی جگہیں) ان لوگوں کے لئے ہیں جو حج اور عمرہ کا ارادہ کریں۔ اور جو شخص ان مقامات کے اندر رہتا ہے اس کے احرام باندھنے کی جگہ اس کے گھر سے ہے اسی طرح اور اسی طرح یہاں تک کہ مکہ والے مکہ ہی سے احرام باندھیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح احرام کے معنی ہیں حرام کردینا) چونکہ حج کرنے والے پر کئی چیزیں حرام ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا اس اظہار کے واسطے کہ اس وقت سے یہ چیزیں حرام ہوگئی ہیں ایک لباس جو صرف ایک چادر اور ایک تہبند ہوتا ہے بہ نیت حج پہنا جاتا ہے۔ جس کو احرام کہتے ہیں۔ لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ احرام کا عمل اس وقت سے شروع ہوتا ہے جس وقت احرام پہننے کے بعد حج کی نیت کی جائے اور لبیک کہی جائے یا کوئی ایسا فعل کیا جائے جو تلبیہ (لبیک کہنے) کے مثل ہو جیسے (یعنی قربانی کا جانور) روانہ کرنا، ورنہ صرف احرام کا لباس پہننے پھرنے سے کوئی شخص محرم نہیں ہوسکتا۔

2552Mishkaat-al-Masabih

مواقیت

مواقیت میقات کی جمع ہے۔ میقات اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں سے مکہ مکرمہ میں جانے والے احرام باندھتے ہیں اور مکہ مکرمہ جانے والے کے لئے وہاں سے بغیر احرام آگے بڑھنا منع ہے۔ ذوالحلیفہ ایک مقام کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے جنوب میں تقریباً ١١٥ میل ١٨٨ کلو میٹر کے فاصلے پر اور رابغ سے چند میل جنوب میں واقع ہے یہ قریش کی تجارتی شاہراہ کا ایک اسٹیشن رہ چکا ہے اب غیر آباد ہے، یہ مقام شام و مصر کی طرف سے آنے والوں کے واسطے میقات ہے۔ نجد اصل میں تو بلند زمین کو کہتے ہیں مگر اصطلاحی طور جزیرۃ العرب کے ایک علاقے کا نام ہے جو مملکت سعوی عرب کا ایک حصہ ہے۔ اس علاقے کو نجد غالباً اسی لئے کہا جاتا ہے کہ سطح سمندر سے یہ علاقہ اچھا خاصا بلند ہے اس وقت جزیرۃ العرب کا سارا وسطی علاقہ جسے نجد کہا جاتا ہے۔ شمال میں بادیۃ الشام کے جنوبی سرے سے شروع ہو کر جنوب میں وادی الاواسر یا الربع الخال تک اور عرضا احساء سے حجاز تک پھیلا ہوا ہے، حکومت سعودی عرب کا دارالسلطنت ریاض نجد ہی کے علاقے میں ہے۔

2553Mishkaat-al-Masabih

قرن المنازل

قرن المنازل یہ ایک پہاری ہے جو مکہ سے تقریباً تیس میل (٤٨ کلو میٹر) جنوب میں تہامہ کی ایک پہاڑی ہے یہ پہاری یمن سے مکہ آنے والے راستے پر واقع ہے اس پہاڑی سے متصل سعدیہ نامی ایک بستی ہے یہ یمن کی طرف سے آنے والوں کی میقات ہے۔ ہندوستان سے جانے والے اس پہاڑی کے سامنے سے گزرتے ہیں اس لئے ہندوستان والوں کے لئے بھی یہی میقات ہے۔ امن مواقیت کے علاوہ ایک میقات ذات عرق) یہ مکہ مکرمہ سے تقریباً ساٹھ میل (٩٧ کلو میٹر) کے فاصلے پر شمال مشرقی جانب عراق جانے والے راستے پر واقع ہے۔ اور عراق کی طرف سے آنے والوں کے واسطے میقات ہے۔ حدیث کے الفاظ لمن کان یرید الحج والعمرۃ (اور یہ احرام کی جگہیں ان لوگوں کے لئے ہیں جو حج وعمرہ کا ارادہ کریں) سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص (یعنی غیر مکی) حج وعمرہ کے ارادے کے بغیر میقات سے گزرے تو اس کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ مکہ میں داخل ہونے کے لئے احرام باندھے۔ جیسا کہ امام شافعی کا مسلک ہے، لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک کے مطابق مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہونا جائز نہیں ہے۔ خواہ حج وعمرہ کا ارادہ ہو یا نہ ہو۔ یعنی اگر کوئی غیر مکی شخص مکہ مکرمہ میں داخل ہونا چاہے خواہ وہ حج کے لئے جاتا ہو یا کسی اور غرض سے تو اس پر واجب ہے کہ وہ میقات سے احرام باندھ کر جائے احرام کے بغیر وہ مکہ میں داخل نہیں ہوسکتا۔ حنفی مسلک کی دلیل آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ۔ لا یجاوز حد المیقات الا محرما۔ کوئی شخص (مکہ میں داخل ہونے کے لئے) میقات کے آگے بغیر احرام کے نہ بڑھے۔ یہ حدیث اس بارے میں مطلق ہے کہ اس میں حج وعمرہ کے ارادے کی قید نہیں ہے، پھر یہ کہ احرام اس مقدس و محترم مکان یعنی کعبہ مکرمہ کی تعظیم و احترام کی غرض سے باندھا جاتا ہے۔ حج وعمرہ کیا جائے یا نہ کیا جائے لہٰذا اس حکم کا تعلق جس طرح حج وعمرہ کرنے والے سے ہے اسی طرح یہ حکم تاجر و سیاح وغیرہ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ہاں جو لوگ میقات کے اندر ہیں ان کو اپنی حاجت کے لئے بغیر احرام مکہ میں داخل ہونا جائز ہے کیونکہ ان کو بارہا مکہ مکرمہ میں آنا جانا پڑتا ہے۔ اس واسطے ان کے لئے ہر بار احرام کا واجب ہونا دقت و تکلیف سے خالی نہیں ہوگا، لہٰذا اس معاملے میں وہ اہل مکہ کے حکم میں داخل ہیں کہ جس طرح ان کے لئے جائز ہے کہ اگر وہ کسی کام سے مکہ مکرمہ سے باہر نکلیں اور پھر مکہ میں داخل ہوں تو بغیر احرام چلے آئیں اسی طرح میقات کے اندر والوں کو بھی احرام کے بغیر مکہ میں داخل ہونا جائز ہے۔ فمن کان دونہن (اور جو شخص ان مقامات کے اندر رہتا ہے الخ) کا مطلب یہ ہے کہ لوگ میقات کے اندر مگر حدود حرم سے باہر رہتے ہوں تو ان کے لئے احرام باندھنے کی جگہ ان کے گھر سے تاحد حرم ہے ان کو احرام باندھنے کے لئے میقات پر جانا ضروری نہیں ہے اگرچہ وہ میقات کے قریب ہی کیوں نہ ہوں۔ جو لوگ خاص میقات میں ہی رہتے ہوں ان کے بارے میں اس حدیث میں کوئی حکم نہیں ہے۔ لیکن جمہور علماء کہتے ہیں کہ ان کا حکم بھی وہی ہے جو میقات کے اندر رہنے والوں کا ہے۔ وکذاک وکذاک (اور اسی طرح اور اسی طرح) اس کا تعلق پہلے ہی جملے سے ہے کہ حل (حدود حرم سے باہر سے موقیت تک جو زمین ہے) اس میں جو جہاں رہتا ہے وہیں سے احرام باندھے یعنی میقات اور حد حرم کے درمیان جو لوگ رہنے والے ہیں وہ اپنے اپنے گھر ہی سے احرام باندھیں گے چاہے وہ میقات کے بالکل قریب ہوں اور چاہے میقات سے کتنے ہی دور اور حد حرم کے کتنے ہی قریب ہوں۔ حتی اہل مکۃ یہلون منہا کا مطلب یہ ہے کہ اہل مکہ یعنی اہل حرم مکہ سے احرام باندھیں جو لوگ خاص مکہ شہر میں رہتے ہیں وہ تو خاص مکہ ہی سے احرام باندھیں گے اور جو لوگ خاص مکہ شہر میں نہیں بلکہ شہر سے باہر مگر حدود حرم میں رہتے ہیں وہ حرم مکہ سے احرام باندھیں گے۔ حدیث کے آخری الفاظ سے بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل مکہ کے لئے احرام باندھنے کی جگہ مکہ ہے خواہ احرام حج کے لئے خواہ عمرہ کے لئے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عمرہ کرنے والا حل کی طرف جائے اور وہاں سے احرام باندھ کر پھر حرم میں داخل ہو کیونکہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو حکم دیا تھا کہ وہ عمرہ کا احرام باندھنے کے لئے تنعیم جائیں جو حل میں ہے لہٰذا یہی کہا جائے گا کہ اس حدیث کا تعلق صرف حج کے ساتھ ہے یعنی یہ حکم اہل مکہ کے لئے ہے کہ وہ جب حج کرنے کا ارادہ کریں تو احرام مکہ ہی سے باندھیں اور اگر عمرہ کرنے کا ارادہ ہو تو پھر حل میں آ کر احرام باندھیں جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔

2554Mishkaat-al-Masabih

قرن المنازل

وعن جابر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : مهل أهل المدينة من ذي الحليفة والطريق الآخر الجحفة ومهل أهل العراق من ذات عرق ومهل أهل نجد قرن ومهل أهل اليمن يلملم . رواه مسلم

حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ مدینہ والوں کے احرام کی جگہ ذوالحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ جحفہ ہے، عراق والوں کے لئے احرام کی جگہ ذات عرق ہے، نجد والوں کے لئے احرام کی جگہ قرن ہے اور یمن والوں کے لئے احرام کی جگہ یلملم ہے۔ (مسلم) تشریح اور دوسرا راستہ جحفہ ہے کا مطلب یہ ہے کہ مدینہ والوں کے لئے احرام باندھنے کی دوسری جگہ جحفہ ہے اگر وہ مکہ کے لئے مدینہ سے وہ راہ اختیار کریں جس میں جحفہ ملتا ہے تو وہ پھر جحفہ ہی سے احرام باندھیں، ذوالحلیفہ جانے کی ضرورت نہیں ہے اصل بات یہ ہے کہ پہلے مدینہ سے مکہ آنے کے لئے دو راستے تھے ایک راستے میں تو ذوالحلیفہ ملتا تھا اور دوسرے راستے میں جحفہ۔ اسی لئے یہ حکم دیا گیا کہ اگر وہ راہ اختیار کی جائے جس میں ذوالحلیفہ ملتا ہے تو احرام ذوالحلیفہ سے باندھا جائے اور اگر وہ راہ اختیار کی جائے جس میں جحفہ ملتا ہے تو پھر جحفہ سے احرام باندھا جائے، لیکن اب ایک ہی راستہ ہوگیا ہے جس میں پہلے تو ذوالحلیفہ آتا ہے اور پھر جحفہ، اسی طرح اہل مدینہ کے لئے دو میقات ہوگئی ہیں۔ اس صورت میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ اب اہل مدینہ احرام کہاں سے باندھیں؟ تو علماء لکھتے ہیں کہ اس جگہ سے باندھنا اولیٰ ہے جو مکہ سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے یعنی ذوالحلیفہ اور اگر کوئی شخص جحفہ سے احرام باندھے تو یہ بھی جائز ہے۔

2555Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے حج وعمرہ کی تعداد

وعن أنس قال : اعتمر رسول الله صلى الله عليه و سلم أربع عمر كلهن في ذي القعدة إلا التي كانت مع حجته : عمرة من الحديبية في ذي القعدة وعمرة من العام المقبل في ذي القعدة وعمرة من الجعرانة حيث قسم غنائم حنين في ذي القعدة وعمرة مع حجته

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے چار عمرے کئے ہیں اور وہ سب ذی قعدہ کے مہینے میں کئے گئے تھے علاوہ اس ایک عمرہ کے جو حج کے ساتھ کیا گیا تھا اور ذی الحجہ کے مہینے میں ہوا تھا (اور ان چار عمروں کی تفصیل یہ ہے کہ) ایک عمرہ حدیبیہ سے ذی قعدہ کے مہینے میں، دوسرا عمرہ اس کے اگلے سال وہ بھی ذی قعدہ میں ہوا، تیسرا عمرہ جعرانہ سے جہاں غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا گیا یہ عمرہ بھی ذی قعدہ میں ہوا اور چوتھا عمرہ حج کے ساتھ جو ذی الحجہ میں ہوا تھا۔ (بخاری ومسلم) تشریح حدیبیہ ایک جگہ کا نام ہے جو مکہ مکرمہ سے مغربی جانب تقریبا پندرہ سولہ میل (٢٦ کلو میٹر) کے فاصلے پر جدہ جاتے ہوئے ملتی ہے یہ مکہ سے شمال مغربی جانب ہے یہیں جبل الشمیسی نامی ایک پہاڑ ہے جس کی وجہ سے اب اس مقام کو شمیسہ بھی کہتے ہیں۔ حدود حرم یہاں سے بھی گزرتے ہیں اس لئے اس جگہ کا اکثر حصہ حرم میں ہے اور کچھ حصہ حل میں (یعنی حرم سے باہر) ہے۔ عمرہ حدیبیہ کا (اجمالی) بیان یہ ہے کہ سن ٦ ھ میں ذی قعدہ کی پہلی تاریخ کو دوشنبہ کے دن نبی کریم ﷺ عمرہ کے قصد سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے چودہ سو یا اس سے کچھ زائد رفقاء آپ ﷺ کے ساتھ تھے جب آپ ﷺ حدیبیہ پہنچے تو قریش مکہ جمع ہو کر آپ ﷺ کے پاس آئے اور زیارت بیت اللہ سے آپ ﷺ کو روکا، کافی ردو قدح کے بعد کہ جس کی تفصیل تاریخ و سیر کی کتابوں میں ملتی ہے۔ آنحضرت ﷺ اور قریش مکہ کے درمیان ایک معاہدہ عمل میں آیا جو معاہدہ حدیبیہ اور صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے اس معاہدے کی رو سے یہ طے پایا کہ آنحضرت ﷺ مع رفقاء اس سال تو مدینہ واپس چلے جائیں اور آئندہ سال آ کر عمرہ کریں۔ چناچہ آپ ﷺ قریش سے صلح کر کے عمرہ کئے بغیر مدینہ منورہ واپس ہوگئے لہٰذا حقیقت میں تو آپ ﷺ نے عمرہ ادا نہیں کیا مگر عمرہ کا ثواب مل جانے کی وجہ سے یہ آپ ﷺ کا پہلا عمرہ شمار کیا گیا۔ اسی موقع پر احصار کا حکم مشروع ہوا۔ چناچہ آئندہ سال اسی عمرہ کی قضاء کے لئے آپ ﷺ مکہ تشریف لائے تین روز مکہ میں قیام فرمایا عمرہ ادا کیا اور چوتھے روز وہاں سے واپس ہوئے۔ یہ دوسرا عمرہ ہوا اسی عمرہ کو عمرۃ القضاء کہتے ہیں یہ نام احادیث میں بھی منقول ہے۔ حنفیہ اس سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محرم احصار کی وجہ سے احرام سے باہر آجائے تو اس کی قضا اس پر واجب ہوگی حضرت امام شافعی کے نزدیک قضا واجب نہیں ہوتی۔ آپ ﷺ کا تیسرا عمرہ وہ ہے جو آپ ﷺ نے جعرانہ سے مکہ مکرمہ جا کر ادا کیا۔ جہاں آپ ﷺ نے غزوہ حنین کا مال تقسیم کیا تھا اس کی تفصیل یہ ہے کہ جعرانہ، مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے جب فتح مکہ کے بعد سن ٨ ھ میں غزوہ حنین کا واقعہ پیش آیا تو اس وقت بیشمار مال غنیمت ہاتھ لگا، اسی موقع پر آپ ﷺ جعرانہ میں پندرہ سولہ روز قیام پذیر رہے اور وہ مال غنیمت صحابہ میں تقسیم فرمایا انہیں دنوں میں ایک روز رات میں بعد نماز عشاء آپ ﷺ مکہ تشریف لے گئے اور عمرہ کیا اور اسی رات میں واپس آئے اور جعرانہ میں نماز فجر پڑھی۔ چوتھا عمرہ وہ ہے جو آپ ﷺ نے حج فرض ہونے کے بعد سن ١٠ ھ میں حج کے ساتھ کیا، لہٰذا یہ عمرہ تو ذی الحجہ میں ہوا اور بقیہ عمرے ذی قعدہ میں کئے اس طرح آپ ﷺ نے جو چار عمرے کئے تھے وہ یہ تھے، البتہ زمانہ اسلام میں حج آپ ﷺ نے ایک مرتبہ کیا ہے جب کہ وہ فرض ہوا ہے ایام جاہلیت میں قریش حج کرتے تھے۔ آپ ﷺ بھی اس وقت حج کرتے تھے لیکن ان کی تعداد علماء کو صحیح طور پر معلوم نہیں ہے۔

2556Mishkaat-al-Masabih

حج وعمرہ کا فرق

حج اور عمرہ کی کیفیت اور ان کے متعلقات کا تفصیلی بیان تو آگے آئے گا، اس موقع پر صرف اتنی بات جان لینی چاہئے کہ حج وعمرہ میں فرق کیا ہے؟ حج میں وقوف عرفات، طواف بیت اللہ اور صفا ومروہ کے درمیان سعی ہوتی ہے جب کہ عمرہ میں صرف طواف بیت اللہ اور سعی بین الصفا و المروہ ہوتی ہے احرام دونوں کے لئے شرط ہے جس طرح حج احرام کے بغیر صحیح نہیں اسی طرح عمرہ بھی احرام کے بغیر صحیح نہیں ہوتا، حج فرض بھی ہوتا ہے سنت بھی اور نفل بھی جب کہ عمرہ فرض نہیں ہوتا۔ صرف سنت اور نفل ہوتا ہے، ہاں اگر کوئی عمرہ کی نذر مانے تو پھر عمرہ کرنا واجب ہوجاتا ہے۔

2557Mishkaat-al-Masabih

حج سے پہلے آپ ﷺ نے دو عمرے کئے یا تین؟

وعن البراء بن عازب قال : اعتمر رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذي القعدة قبل أن يحج مرتين . رواه البخاري

حضرت براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ذی قعدہ کے مہینے میں حج سے پہلے دو مرتبہ عمرہ کیا ہے۔ (بخاری) تشریح اس سے پہلی حدیث سے تو یہ معلوم ہوا تھا کہ آپ ﷺ نے حج سے پہلے تین عمرے کئے تھے۔ جب کہ یہ حدیث حج سے پہلے آپ ﷺ کے عمرے کی تعداد دو بتارہی۔ ان دونوں حدیثوں کے تضاد کو یوں دور کیجئے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر اگرچہ بظاہر آپ ﷺ نے عمرہ نہیں کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ آپ احرام سے باہر آ جائیے آپ کو عمرے کا ثواب حاصل ہوگیا، گویا آپ ﷺ نے عمرہ کے افعال ادا نہیں کئے ہیں لہٰذ جس روایت میں حج سے پہلے عمرے کی تعداد تین بتائی گئی ہے اس میں اس عمرہ سے مراد عمرہ کا ثواب ہے اس اعتبار سے تین عمرے شمار کئے گئے ہیں اور جس روایت میں حج سے پہلے عمرہ کی تعداد دو بتائی گئی ہے اس کی مراد یہ ہے کہ اگرچہ آپ ﷺ کو ثواب تین عمرے کے ملے ہیں۔ لیکن ظاہری طور پر عمرے آپ ﷺ نے دو ہی کئے ہیں۔

2558Mishkaat-al-Masabih

حج صرف ایک مرتبہ فرض ہے

وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أيها الناس إن الله كتب عليكم الحج . فقام الأقرع بن حابس فقال : أفي كل عام يا رسول الله ؟ قال : لو قلتها : نعم لوجبت ولو وجبت لم تعملوا بها ولم تستطيعوا والحج مرة فمن زاد فتطوع . رواه أحمد والنسائي والدارمي

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جب فرمایا کہ لوگو! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے تو اقرع بن حابس کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا ہر سال (حج کرنا فرض ہوا ہے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا اگرچہ میں اس حج کے (ہر سال فرض ہونے کے سوال) کے بارے میں ہاں کہہ دیتا تو یقینا (ہر سال حج کرنا) واجب (یعنی فرض) ہوجاتا تو نہ تم اس حکم پر عمل کر پاتے اور نہ تم اس کی استطاعت ہی رکھتے، حج پوری زندگی میں بشرط قدرت ایک ہی مرتبہ فرض ہے ہاں جو شخص ایک بار سے زیادہ کرے وہ نفل ہوگا (جس پر اسے بہت زیادہ ثواب ملے گا)۔ (احمد، نسائی، دارمی)

2559Mishkaat-al-Masabih

باوجود قدرت کے حج نہ کرنے والے کے لئے وعید

وعن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ملك زادا وراحلة تبلغه إلى بيت الله ولم يحج فلا عليه أن يموت يهوديا أو نصرانيا وذلك أن الله تبارك وتعالى يقول : ( ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا ) رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب . وفي إسناده مقال وهلال بن عبد الله مجهول والحارث يضعف في الحديث

حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص زاد راہ اور سواری کا مالک ہو جو اسے بیت اللہ تک پہنچا دے (یعنی جو شخص حج کرنے کی استطاعت وقدرت رکھتا ہو) اور (پھر بھی) وہ حج نہ کرے تو اس کے یہودی یا نصرانی ہو کر مرجانے (اور بےحج مرجانے) میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ (یعنی حج کے لئے زاد راہ و سواری کا شرط ہونا اور اس عظیم عبادت کو ترک کردینے پر مذکورہ بالا وعید) اس لئے ہے کہ اللہ بزرگ و برتر فرماتا ہے۔ آیت (وَلِلّٰهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْ تَ طَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا) 3۔ ال عمران 97)۔ اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے لوگوں پر کعبہ کا حج کرنا ضروری ہے جو وہاں جاسکتا ہو۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند محل کلام ہے ہلال ابن عبداللہ مجہول ہیں اور حارث روایت حدیث میں ضعیف شمار کئے جاتے ہیں۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے پاس اتنا روپیہ ہو کہ وہ سفر حج میں جانے اور آنے کے اخراجات کے لئے کافی بھی ہوجائے اور اپنے اہل و عیال کو بھی اس قدر دے جائے جو اس کی واپسی تک ان کی ضروریات زندگی کو پورا کرسکے نیز اس کے پاس ایسی سواری ہو جو بیت اللہ تک پہنچا سکے، چاہے وہ اپنی ہو یا کرایہ کی ہو اور وہ اتنی استطاعت وقدرت کے باوجود بھی حج نہ کرے اور مرجائے تو وہ یہودی و نصرانی ہو کر مرتا ہے۔ اب اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر اس نے استطاعت وقدرت کے باوجود حج اس لئے نہیں کیا کہ وہ اس کی فرضیت ہی کا منکر ہو تو پھر یہودی اور نصرانی کی اس مشابہت کا تعلق کفر سے ہوگا۔ یعنی جس طرح یہودی و نصرانی کفر کی حالت میں مرتے ہیں، اسی طرح وہ بھی کفر کی حالت میں مرے گا اور اگر فرضیت کا منکر ہوئے بغیر حج نہ کرے تو اس مشابہت کا تعلق گناہ سے ہوگا کہ یہودی و نصرانی جتنے سخت گناہ کی حالت میں مرتے ہیں وہ بھی اتنے ہی شدید گناہ کا بار لئے موت کی نذر ہوگا۔ اگرچہ بعض علماء کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے یہ وعید از راہ تغلیظ و تشدید یعنی ترک حج کے گناہ کی شدت وہیبت ناکی کے اظہار کے لئے فرمائی ہے۔ لیکن بہر نوع ترک حج ایک ایسا گناہ ہے اور اتنا شدید جرم ہے کہ نبی کریم ﷺ کو اتنی شدید اور سخت وعید بیان فرمانی پڑی کہ حج نہ کرنے والا یہودی یا نصرانی ہو کر مرتا ہے العیاذ باللہ منہ۔ الیہ سبیلا کے بعد آیت کا بقیہ حصہ یہ ہے آیت (وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِىٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ ) 3۔ آل عمران 97)۔ اور کوئی کفر کرے (اور طاعات و عبادات نہ کر کے) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفران کرے تو اللہ تعالیٰ عالم کے لوگوں سے بےنیاز ہے۔ یعنی لوگ طاعت و عبادت کریں یا نہ کریں اس سے اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں، نفع نقصان تو انہیں لوگوں کو ہے کہ اگر طاعت و عبادت کریں تو فلاح و نجات پائیں گے اور اگر نہ کریں گے تو خسران و عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ بظاہر تو معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ پوری آیت پڑھی ہوگی کیونکہ استدلال تو پوری ہی آیت سے ہوتا ہے لیکن راوی نے الیہ سبیلا ہی تک اس آیت کو نقل کیا۔

2560Mishkaat-al-Masabih

باوجود قدرت کے حج نہ کرنے والے کے لئے وعید

وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا صرورة في الإسلام . رواه أبو داود

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ صیرورت اسلام میں داخل نہیں۔ (ابوداؤد) تشریح صیرورت کا مفہوم ہے۔ وہ شخص جس نے کبھی حج نہ کیا ہو۔ لہٰذا اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے حج واجب ہونے کے باوجود حج نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا ظاہری مفہوم تو یہی ہے کہ جو شخص حج کرنے کی استطاعت رکھے اور پھر بھی حج نہ کرے تو وہ مسلمان نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ارشاد یا تو از راہ تغلیظ و تشدید ہے یا پھر اس کی مراد یہ ہے کہ ایسا شخص کامل مسلمان نہیں ہوتا۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ صیرورت کے معنی ہیں نکاح اور حج کو ترک کرنا، اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نکاح اور حج کو ترک کرنا اسلام کا طریقہ نہیں ہے بلکہ یہ رہبانیت میں داخل ہے اس لئے مسلمان کو نکاح و حج ترک نہ کرنا چاہئے۔