وعن ابن عمر قال : قلما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقوم من مجلس حتى يدعو بهؤلاء الدعوات لأصحابه : اللهم اقسم لنا من خشيتك ما تحول به بيننا وبين معاصيك ومن طاعتك ما تبلغنا به جنتك ومن اليقين ما تهون به علينا مصيبات الدنيا ومتعنا بأسماعنا وأبصارنا وقوتنا ما أحييتنا واجعله الوارث منا واجعل ثأرنا على من ظلمنا وانصرنا على من عادانا ولا تجعل مصيبتنا في ديننا ولا تجعل الدنيا أكبر همنا ولا مبلغ علمنا ولا تسلط علينا من لا يرحمنا . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ رسول ﷺ کسی مجلس سے اٹھتے ہوں اور ان کلمات کے ذریعے اپنے صحابہ ؓ کے لئے دعا نہ مانگتے ہوں۔ (کیونکہ مجلس اور دعا میں صحابہ بھی شامل ہوتے تھے۔ یا کہ ان کی تعلیم کے لئے یہ دعا مانگتے تے۔ (اللہم اقسم لنا من خشیتک ماتحول بہ بیننا وبین معاصیک ومن طاعتک ما تبلغنا بہ جنتک ومن الیقین ماتھون بہ علینا مصیبات الدنیا ومتعنا باسماعنا وابصارنا وقوتنا ما احییتنا واجعلہ الوارث منا واجعل ثارنا علی من ظلمنا وانصرنا علی من عادانا ولا تجعل مصیبتنا فی دیننا ولا تجعل الدنیا اکبر ہمنا ولا مبلغ علمنا ولا تسلط علینا من لا یرحمنا)۔ اے اللہ! تو ہم میں اپنا اتنا خوف پیدا کر دے کہ تو اس کی وجہ سے ہمارے اور گناہوں کے درمیان حائل ہوجائے (یعنی اس خوف کی وجہ سے ہم گناہوں سے بچیں) اور ہمیں اپنی اتنی اطاعت نصیب کر کہ اس کی وجہ سے، ہمیں بہشت کے (عالی درجات) میں پہنچا دے ہمیں اتنا یقین عطا فرما کہ اس کی وجہ سے تو ہم پر دنیا کی مصیبتیں آسان کر دے، ہمیں ہمارے سماعتوں، ہماری بینائیوں اور ہماری قوتوں سے اس وقت تک بہرہ مند رکھ جب تک کہ تو ہمیں زندہ رکھے اور بہرہ مندی کو ہمارا ورثہ قرار دے یعنی ہمارے تمام اعضاء و حو اس کو آخر تک برقرار و سلامت رکھ ہمارے کینہ و انتقال میں اس شخص کو مبتلا کر جس نے ہم پر ظلم کیا (یعنی ہمیں اتنی طاقت و قوت دے کہ ہم اپنے ظالموں سے بدلہ لے سکیں، یا ہماری طرف سے تو ان سے بدلہ لے) ہمیں فتح عطا فرما اس شخص سے جو ہم سے دشمنی رکھے خواہ وہ ہمارا دینی دشمن ہو یا دنیاوی دشمن ہماری مصیبتوں کو ہمارے دین میں مؤثر نہ کر (یعنی ہمیں ایسی مصیبتوں میں مبتلا نہ کر جو دین کے نقصان کا باعث ہوں۔ دنیا کو ہمارے لئے فکر کا مرکز اور ہمارے مبلغ علم کو ہمارا مطمع نظر بنا۔ اور ہم پر ان لوگوں کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کریں۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
ہمیں اتنا یقین عطا فرما کا مطلب یہ ہے کہ تو اپنی ذات وصفات پر اور سرکار دو عالم ﷺ کے ارشادات وتعلیم پر ہمیں اس درجہ کا یقین و اعتماد عطا فرما کہ دنیا کی سختیاں اور یہاں کے مصائب و آلام ہمارے لئے آسان ہوں۔ مثلاً جس شخص کو یہ یقین ہوگا کہ اللہ تعالیٰ رازق ہے ہر جاندار کی ضروریات زندگی پورا کرتا ہے تو اسے ہرگز کوئی فکر نہیں ہوگی اور وہ اس کی ذات پر بھروسہ و اعتماد کرے گا اسی طرح جسے اس یقین کی دولت حاصل ہوجائے گی کہ آخرت کی سختیاں اور وہاں کے مصائب زیادہ سخت ہیں۔ دنیا کی سختیاں بالکل ناپائیدار اور ختم ہوجانے والی ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے تو اس کے لئے دنیا کی مصیبتیں آسان ہوجائیں گی وہ بڑی سے بڑی دنیاوی مصیبت و سختی کا کوئی احساس نہیں کرے گا لہٰذا اے اللہ! تو ہمیں یقین و اعتماد و توکل و بھروسہ کی اسی عظیم دولت سے بہرہ ور فرما۔ دنیا کو ہمارے لئے فکروں کو مرکز نہ بنا کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا کی بہت زیادہ فکر و تدبیر میں نہ لگے رہیں۔ بلکہ آخرت کی فکر، وہیں کے اندیشہ کا زیادہ خیال رکھیں، دنیا کی صرف اتنی ہی فکر اور اپنے معاش کا صرف اتنا ہی خیال رکھیں جو ضروری ہے اور جس کے لئے نہ صرف ہمیں اجازت ہے بلکہ مستحب بھی ہے۔
وعن أبي هريرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما الحمد لله على كل حال وأعوذ بالله من حال أهل النار . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث غريب إسنادا
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ (اللہم انفعنی بما علمتنی وعلمنی ماینفعنی وزدنی علما الحمدللہ علی کل حال واعوذباللہ من حال اہل النار)۔ اے اللہ! تو نے مجھے جو کچھ سکھلایا ہے اسے میرے لئے نفع بخش کر (یعنی مجھے ایسا علم دے جس کو حاصل کرنا اور جس چیز پر عمل کرنا دنیا و آخرت میں میرے لئے نفع کا باعث ہو اور میرے علم (یعنی دینی علم) میں زیادتی کر۔ ہر حالت میں اللہ ہی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں دوزخیوں کی سی حالت سے (کہ دنیا میں فسق و فجور سے اور عقبی میں عذاب سے بچوں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث باعتبار سند کے غریب ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا أنزل عليه الوحي سمع عند وجهه دوي كدوي النحل فأنل عليه يوما فمكثنا ساعة فسري عنه فاستقبل القبلة ورفع يديه وقال : اللهم زدنا ولا تنقصنا وأكرمنا ولا تهنا وأعطنا ولا تحرمنا وآثرنا ولا تؤثر علينا وأرضنا وأرض عنا . ثم قال : أنزل علي عشر آيات من أقامهن دخل الجنة ثم قرأ : ( قد أفلح المؤمنون ) حتى ختم عشر آيات . رواه أحمد والترمذي
حضرت عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ کے مبارک منہ کی قریب شہد کی مکھی کی آواز کی مانند آواز سنی جاتی تھی چناچہ ایک دن (ہمارے سامنے) آپ ﷺ پر وحی نازل ہوئی ہم تھوڑی دیر ٹھہرے رہے (یعنی ہم اس انتظار میں رہے کہ نزول وحی کی جو سختی آپ ﷺ پر طاری ہے وہ ختم ہوجائے) جب سختی کی وہ کیفیت آپ ﷺ سے دور ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنا منہ قبلہ کی طرف کیا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر بارگاہ الٰہی میں یوں عرض رساں ہوئے۔ دعا (اللہم زدنا ولا تنقصنا واکرمنا ولا تہنا واعطنا ولا تحرمنا واٰثرنا ولا توثر علینا وارضنا وارض عنا)۔ اے اللہ! ہماری دنیاوی اور اخروی نعمتوں یا مسلمانوں کی تعداد میں زیادتی کر اور ان نعمتوں یا مسلمانوں میں کمی نہ کر ہمیں دیا میں حاجت روائی کے ساتھ اور عقبی میں بلندی درجات کے ذریعہ معزز بنا اور ہمیں ان چیزوں سے محروم رکھ کر ذلیل نہ کر ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرما اور ہمیں محروم نہ کر! ہمیں اپنی رحمت و عنایت کے ذریعہ برگزیدہ بنا اور ہم پر غیروں اپنے لطف و کرم کے ذریعہ برگزیدہ نہ بنایا کہ ہمارے دشمنوں کو ہم پر غالب نہ کر ہمیں اپنی قضاء قدر پر صبر و شکر کی توفیق عطا فرما کر راضی رکھ اور تو ہی ہماری تھوڑی سی بھی عبادت وطاعت پر ہم سے راضی ہو پھر آپنے فرمایا ابھی مجھ پر دس آیتیں نازل ہوئی ہیں جو شخص ان پر عمل کرتا رہے وہ جنت میں نیکیوں کے ساتھ داخل ہوگا اس کے بعد آپ ﷺ نے ( قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ) 23۔ المومنون 10-1) دس آیتوں تک پڑھی۔ (احمد، ترمذی)
تشریح
آنحضرت ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کلام الٰہی کو آپ ﷺ تک پہنچاتے تھے تو صحابہ حضرت جبرائیل کی آواز کو سنتے تو تھے مگر اسے سمجھ نہیں پاتے تھے جیسا کہ شہد کی مکھی کی آواز سنی تو جاتی ہے مگر سمجھ میں نہیں آتی اسی لئے حضرت جبرائیل کی اس آواز کو حضرت عمر فاروق ؓ نے شہد کی مکھی کی آواز سے مشابہت دی۔ وہ دس آیتیں اس وقت آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی تھیں اور جن پر عمل کرنے والے کے لئے مذکورہ بالا حدیث میں آپ ﷺ نے بشارت عطا فرمائی یہ ہیں۔ آیت (قد افلح المؤمنون۔ الذین ہم فی صلوتہم خاشعون۔ والذین ہم عن الغو معرضون۔ والذین ہم للذکوۃ فاعلون۔ والذین ہم لفروجہم حافظو ن۔ الا علی ازواجہم او ماملکت ایمانہم فانہم غیر ملومین۔ فمن ابتغی وراء ذلک فاولئک ہم العادون۔ والذین ہم لاماناتہم وعہدہم راعون۔ والذین ہم علی صلوتہم یحافظون۔ اولئک ہم الوارثون۔ الذین یرثون الفردوس ہم فیہا خالدون)۔ بیشک ایمان والے رستگار ہوگئے (یعنی انہوں نے فلاح پائی) جو نماز میں باطنی و ظاہری طور پر عجز و نیاز کرتے ہیں اور جو بےہودہ چیزوں سے خواہ وہ کہنے کی ہوں یا کرنے کی منہ موڑتے رہتے ہیں اور جو ذکوۃ ادا کرتے ہیں اور جو حرام کاری سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں سے یا اپنی کنیزوں سے صحبت کرتے ہیں تو ان پر کوئی ملامت نہیں۔ ہاں جو اس کے علاوہ کے طالب ہوں یعنی جو لوگ اپنی بیویوں سے اور کنیزوں کے علاوہ دوسرے افعال بد میں مبتلا ہوں۔ مثلا اغلام بازی، جلق یا متعہ وغیرہ کریں تو وہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے یعنی دائرہ حلال سے تجاوز کرنے والے اور حرام میں مبتلا ہونے والے ہیں اور جو امانتوں اور عہد و پیمان کی محافظت کرتے ہیں اور جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں یعنی شرائط و آداب کے ساتھ نمازیں پابندی سے ادا کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو وارث ہیں کہ یہی فردوس کے مالک ہوں گے جو جنت کا اعلیٰ درجہ ہے وہ لوگ (یعنی یہ مومنین جن کی یہ صفات بیان کی گئی ہیں) اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
عن عثمان بن حنيف قال : إن رجلا ضرير البصر أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ادع الله أن يعافيني فقال : إن شئت دعوت وإن شئت صبرت فهو خير لك . قال : فادعه قال : فأمره أن يتوضأ فيحسن الوضوء ويدعو بهذا الدعاء : اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة إني توجهت بك إلي ربي ليقضي لي في حاجتي هذه اللهم فشفعه في . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن صحيح غريب
حضرت عثمان بن حنیف ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے جسے کم نظر آتا تھا یا یہ کہ وہ بینائی سے محروم تھا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ بینائی کے نقصان سے عافیت بخشے آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم چاہو تو تمہارے لئے دعا کروں اور اگر تم صبر و رضا چاہتے ہو تو صبر کرو صبر کرنا ہی تمہارے لئے بہتر ہے اس شخص نے کہا کہ آپ ﷺ میرے لئے دعا ہی کر دیجئے۔ حضرت عثمان ؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر اسے حکم دیا کہ وضو کرے اور اچھا یعنی سنن و آداب کے ساتھ وضو کرے اور ایک دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے اسے دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم بھی دیا اور یہ کہ پھر ان کلمات کے ذریعہ دعا مانگنے۔ دعا (اللہم انی اسئللک واتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمۃ انی توجہت بک الی ربی لیقضی لی فی حاجتی ہذہ اللہم فشفعہ فی)۔ میں تجھ سے اپنا مقصود مانگتا ہوں اور متوجہ ہوتا ہوں تیری طرف تیرے نبی کے وسیلہ سے جن کا نام محمد ﷺ ہے جو نبی رحمت ہے اور متوجہ ہوتا ہوں اپنے پروردگار کی طرف اپنے نبی ﷺ کے وسیلہ سے تاکہ وہ میری حاجت کے بارے میں حکم کرے اور یہ کہ اے اللہ! میرے بارے میں اپنے نبی کی شفاعت قبول فرما امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
تشریح
صبر کرنے کو بہتر اس لئے فرمایا کہ بینائی سے محرومی پر صبر کا ثواب جنت ہے چناچہ حدیث شریف میں منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میں اپنے کسی بندے کو اس کی دونوں آنکھوں کی بینائی کے نقصان میں مبتلا کرتا ہوں اور وہ بندہ اس پر صبر کرتا ہے تو میں اس کے عوض اسے جنت عطا کرتا ہوں۔
داؤد (علیہ السلام) کی دعا
وعن أبي الدرداء قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم كان من دعاء داود يقول : اللهم إني أسألك حبك وحب من يحبك والعمل الذي يبلغني حبك اللهم اجعل حبك أحب إلي من نفسي ومالي وأهلي ومن الماء البارد . قال : وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا ذكر داود يحدث عنه يقول : كان أعبد البشر رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب
حضرت ابودرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حضرت داؤد (علیہ السلام) کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی تھی۔ دعا (اللہم انی اسئلک حبک وحب من یحبک والعمل الذی یبلغنی حبک اللہم اجعل حبک احب الی من نفسی ومالی واہلی ومن الماء البارد)۔ اے اللہ میں تجھ سے مانگتا ہوں تیری محبت اور اس شخص کی محبت جو تجھ سے محبت رکھے اور وہ عمل جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے اے اللہ تو اپنی محبت کو میرے لئے میری جان سے، میرے مال سے، میرے اہل و عیال سے اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ عزیز بنا دے۔ راوی کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ جب حضرت داؤد (علیہ السلام) کی باتیں بیان فرماتے تو فرماتے تھے کہ حضرت داؤد اپنے زمانہ کے آدمیوں میں بڑے عابد تھے امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
وعن عطاء بن السائب عن أبيه قال : صلى بنا عمار بن ياسر صلاة فأوجز فيها فقال له بعض القوم : لقد خففت وأوجزت الصلاة فقال أما علي ذلك لقد دعوت فيها بدعوات سمعتهن من رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما قام تبعه رجل من القوم هو أبي غير أنه كنى عن نفسه فسأله عن الدعاء ثم جاء فأخبر به القوم : اللهم بعلمك الغيب وقدرتك على الخلق أحيني ما علمت الحياة خيرا لي وتوفني إذا علمت الوفاة خيرا لي اللهم وأسألك خشيتك في الغيب والشهادة وأسألك كلمة الحق في الرضى والغضب وأسألك القصد في الفقر والغنى وأسألك نعيما لا ينفد وأسألك قرة عين لا تنقطع وأسألك الرضى بعد القضاء وأسألك برد العيش بعد الموت وأسألك لذة النظر إلى وجهك والشوق إلى لقائك في غير ضراء مضرة ولا فتنة مضلة اللهم زينا بزينة الإيمان واجعلنا هداة مهديين . رواه النسائي
حضرت عطاء بن سائب اپنے والد حضرت سائب سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا حضرت عمار بن یاسر ؓ نے ہمیں ایک نماز پڑھائی۔ نماز میں انہوں نے اختصار کیا یعنی نہ تو انہوں نے طویل قرأت کی اور نہ تسبیحات وغیرہ بہت زیادہ پڑھیں، چناچہ ان سے بعض لوگوں نے کہا آپ نے ہلکی نماز پر ھی اور نماز کو مختصر کردیا۔ حضرت عمار ؓ نے فرمایا کہ میرے لئے یہ تخفیف مضر نہیں کیونکہ میں نے اس نماز کے قعدہ میں یا سجدہ میں وہ کئی دعائیں پڑھی ہیں جن کو میں نے رسول کریم ﷺ سے سنا ہے پھر جب حضرت عمار ؓ اٹھ کر چلے تو جماعت میں سے ایک شخص ان کے ساتھ ہو لیا اور حدیث راوی حضرت عطاء ؓ کہتے ہیں کہ وہ میرے باپ حضرت عطاء ؓ ہی تھے، سوائے اس کے کہ انہوں نے اپنے آپ کو چھپایا یعنی انہوں نے اس طرح بیان نہیں کیا کہ حضرت عمار ؓ کے ساتھ میں گیا بلکہ اپنے کو پوشیدہ رکھنے کے لئے یوں کہا کہ ایک شخص ان کے ساتھ ہو لیا۔ بہرکیف انہوں نے حضرت عمار ؓ سے اس دعا کے بارے میں دریافت کیا۔ حضرت عمار ؓ نے انہیں وہ دعا بتادی جو انہوں نے نماز کے دوران پڑھی تھی پھر وہ آئے اور جماعت کو وہ دعا بتادی جو یہ ہے۔ دعا (اللہم بعلمک الغیب وقدرتک علی الخلق احیینی ماعلمت الحیوۃ خیرالی وتوفنی اذا علمت الوفاۃ خیرا لی اللہم واسئلک خشیتک فی الغیب والشہادۃ واسئلک کلمۃ الحق فی الرضا والغضب واسئلک القصد فی الفقر والغنی واسئلک نعیما لا ینفد واسئلک قرۃ عین لا تنقطع واسئلک الرضا بعد القضاء واسئلک برد العیش بعد الموت واسئلک لذۃ النظر الی وجہل والشوق الی لقائک فی غیر ضراء مضرۃ ولا فتنۃ مضلۃ اللہم زینا بزینۃ الایمان واجعلنا ہداۃ مہدیین)۔ اے اللہ! تو بحق اپنے علم غیب کے اور بحق قدرت کے اپنی مخلوق پر مجھ کو زندہ رکھ جب تک کہ تو زندگی کو میرے لئے بہتر جانے اور مجھے موت دے جب تو موت کو میرے لئے بہتر جانے یعنی جب تک نیکیاں برائیوں پر غالب ہیں اس وقت تک زندگی بہتر ہے اور جب برائیاں نیکیوں پر غلبہ پالیں اور ظاہری و باطنی فتنے گھیر لیں تو اس وقت موت بہتر ہے اے اللہ! اور میں مانگتا ہوں تجھ سے تیرا خوف باطن و ظاہر میں اور مانگتا ہوں کلمہ حق کہنے کی توفیق خوشی میں بھی اور تنگی میں بھی اور مانگتا ہوں تجھ سے میانہ روی فقر و افلاس میں بھی اور خوش حالی کے وقت میں بھی (یعنی نہ تو زیادہ فقر و افلاس اور رنج و تکلیف ہی میں مبتلا ہوں اور نہ اتنا تونگر و خوش حال ہوجاؤں کہ اسراف کرنے لگوں) اور مانگتا ہوں میں تجھ سے ایسی نعمت جو کبھی ختم نہ ہو۔ (یعنی غیب کی نعمتیں) اور مانگتا ہوں تجھ سے آنکھ کی ٹھنڈک جو کبھی ختم نہ ہو۔ اور مانگتا ہوں رضا مندی (یری) قضا (یعنی تقدیر) کے بعد اور مانگتا ہوں تجھ سے ٹھنڈک زندگی کی مرنے کے بعد یعنی ہمیشہ کی راحت برزخ اور قیامت میں۔ اور مانگتا ہوں لذت دیکھنے کی تیرے چہرہ کی طرف آخرت میں اور مانگتا ہوں تیری ملاقات کا شوق ایسی حالت میں جو ضرر نہ پہنچائے اور نہ گمراہی کے فتنہ میں مبتلا کرے اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت کے ساتھ مزین فرما یعنی ہمیں ایمان پر ثابت قدم رکھ اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں راہ راست دکھانے والے اور راہ راست پر چلنے والے بنا۔ (نسائی)
تشریح
اور مانگتا ہوں کلمہ حق کا مطلب یہ ہے کہ میرے اندر اتنی استقامت اور بےخوفی پیدا فرما کہ میں ہمیشہ کلمہ حق یعنی حق بات ہی کہوں چاہے مجھ سے لوگ خوش ہوں یا ناراض ہوں۔ یا یہ کہ اپنی خوشی کی حالت میں بھی اور خفگی کی حالت میں بھی کلمہ حق ہی کہوں عوام کی طرح نہ ہوجاؤں کہ جب وہ خفگی کی حالت میں ہوتے ہیں تو برا کہتے ہیں اور جب خوش ہوتے ہیں تو خوش آمد کرتے ہیں۔ آنکھ کی ٹھنڈک سے مراد وہ چیزیں ہیں جن سے جذبہ طاعت و عبادت کامل اور حقیقی لذت و کیف پاتا ہے۔ یا اس سے مراد دعا مانگنے والے کے مرنے کے بعد اس کی اولاد کا باقی رہنا ہے، اسی طرح آنکھ کی ٹھنڈک سے نماز پر پختگی اور اس کی پابندی بھی مراد ہوسکتی ہے اور اس کے مفہوم کو زیادہ وسعت دی جائے تو دونوں جہان کی بھلائیاں بھی مراد لی جاسکتی ہیں۔ فی غیر ضراء مضرۃ، ایسی حالت جو ضرر نہ پہنچائے۔ کا تعلق جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہے شوق ملاقات سے ہے یعنی میں تیری ملاقات کا ایسا شوق چاہتا ہوں۔ جو میری راہ سلوک، راہ ادب میں میری استقامت میں اور احکام و اعمال کی بجا آوری اور ادائیگی میں نقصان نہ پہنچائے کیونکہ جن لوگوں کو راہ سلوک و تصوف پر گامزن ہونے کا شرف حاصل ہے وہ جانتے ہیں کہ باری تعالیٰ کی ملاقات کا شوق بسا اوقات ورفتگی و بےخودی کی اس منزل تک پہنچ جاتا ہے جسے غلبہ حال کہا جاتا ہے اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب قدم راہ ادب کی استقامت سے بےنیاز ہوجاتے ہیں، سلوک میں کوتاہی پیدا ہوجاتی اور احکام و اعمال میں نقصان واقع ہوجاتا ہے چناچہ اگلے جملہ ولا فتنۃ مضلۃ کا بھی یہی مطلب ہے کہ ایسا شوق چاہتا ہوں جو راہ استقامت سے ہٹانے والی اور احکام و اعمال میں بےراہ روی پیدا کرنے والی آزمائش میں مبتلا نہ کرے۔ یا پھر یہ کہا جائے گا کہ اس جملہ کا تعلق دعا کے ابتدائی لفظ احیینی سے ہے تاکہ اس کا مفہوم دعا میں مذکور تمام چیزوں پر حاوی ہوجائے یعنی مجھ کو اس مذکورہ نعمتوں کے ساتھ اسی طرح زندہ رکھ کہ ایسی بلاء و آزمائش میں گرفتار نہ ہوجاؤں جس میں صبر و شکر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے اور میں گمراہی میں پڑجاؤں۔ راہ راست پر چلنے والے بنا کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم دوسروں کو اچھی راہ بتائیں اور دوسروں کو نیک زندگی اختیار کرنے کی تلقین کریں اسی طرح ہم خود بھی اس پر عمل کرتے ہوئے اچھی راہ اپنائی۔ اور نیک زندگی اختیار کریں۔ ہماری حالت خود رافضیحت و دیگرے نصیحت والی نہ ہو بلکہ ہمارا عمل ہمارے قول کے مطابق ہو۔
علم نافع وعمل مقبول اور حلال رزق کی دعا
وعن أم سلمة أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يقول في دبر صلاة الفجر : اللهم إني أسألك علما نافعا وعملا متقبلا ورزقا طيبا . رواه أحمد وابن ماجه والبيهقي في الدعوات الكبير
حضرت ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ فجر کی نماز کے بعد یہ دعا مانگتے تھے۔ دعا (اللہم انی اسئلک علما نافعا وعملا متقبلا ورز قا طیبا)۔ یعنی اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں نفع دینے والا علم، قبول کیا جانے والا عمل اور حلال رزق۔ (احمد، ابن ماجہ، بیہقی)
وعن أبي هريرة قال : دعاء حفظته من رسول الله صلى الله عليه و سلم لا أدعه : اللهم اجعلني أعظم شكرك وأكثر ذكرك وأتبع نصحك وأحفظ وصيتك . رواه الترمذي
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے یہ دعا یاد کی ہے جسے میں ترک نہیں کرتا۔ دعا (اللہم اجعلنی اعظم شکرک و اکثر ذکرک واتبع نصحک واحفظ وصیتک)۔ یعنی اے اللہ! مجھے توفیق دے کہ میں تیرا بڑا شکر ادا کروں، تیرا بہت ذکر کروں، تیری نصیحت کو پورا کروں اور تیری وصیت یاد رکھوں۔ (ترمذی)
تشریح
نصیحت سے مراد بندوں کے حقوق ہیں اور وصیت سے مراد اللہ تعالیٰ کے حقوق ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدایا! تو نے لوگوں کے حقوق ادا کرنے کا مجھے جو حکم دیا ہے اور اپنے حقوق کی ادائیگی کا جو فریضہ مجھ پر عائد کیا ہے اس پر محافظت کروں یعنی دونوں قسم کے حقوق ادا کرتا رہوں۔
وعن عبد الله بن عمرو قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم إني أسألك الصحة والعفة والأمانة وحسن الخلق والرضى بالقدر
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ یہ دعا کرتے تھے۔ دعا (اللہم انی اسئلک الصحۃ والعفۃ والامانہ وحسن الخلق وارضی بالقدر)۔ یعنی بری بیماریوں سے بدن کی سلامتی و تندرستی یا افعال و احوال اعمال کی درستی و اصلاح اور حرام سے اجتناب اور امانت (یعنی لوگوں کے اموال میں یا شریعت کے تمام حقوق میں خیانت نہ کروں اور بہتریں اخلاق اور تقدیر پر رضا۔
وعن أم معبد قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم طهر قلبي من النفاق وعملي من الرياء ولساني من الكذب وعيني من الخيانة فإنك تعلم خائنة الأعين وما تخفي الصدور . رواهما البيهقي في الدعوات الكبير
حضرت ام معبد ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ دعا مانگتے سنا ہے۔ (اللہم طہر قلبی من النفاق وعملی من الریاء ولسانی من الکذب وعینی من الخیانۃ فانک تعلم خائنۃ العین وما تخفی الصدور)۔ اے اللہ! پاک کر میرے دل کو نفاق سے، میرے عمل کو ریا سے، میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھ کو خیانت (یعنی نظر حرام) سے بیشک تو جانتا ہے آنکھوں کی خیانت کو اور اس چیز کو کہ دل میں پوشیدہ ہے یعنی خواہشات اور گناہ۔ یہ دونوں روایتیں بیہقی نے دعوات کبیر میں نقل کی ہیں۔
تشریح
(يَعْلَمُ خَا ى ِنَةَ الْاَعْيُنِ ) 40۔ غافر 19) قرآن کریم کی ایک آیت کا ٹکڑا ہے جس کے معنی ہیں آنکھوں کی خیانت۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے آیت کی تفسیر کے ضمن میں اس جملے کو بطور مثال یوں واضح کیا ہے کہ فرض کیجئے مردوں کی ایک جماعت کہیں بیٹھی ہوئی ہے اچانک ایک عورت ان کے سامنے سے گزرتی ہے اور وہ سب مرد ایک دوسرے کی شرم سے اس عورت کی طرف نظر اٹھانے کی ہمت نہیں کرتے ہیں، چناچہ جب وہ سب اپنی نظریں نیچی کرلیتے ہیں تو ان میں سے ایک شخص سب کی نگاہوں سے بچ کر اپنی نظر اٹھاتا ہے اور چوری سے اس عورت کو دیکھ لیتا ہے یہی آنکھوں کی خیانت ہے۔
دنیا وآخرت کی عافیت اور عذاب سے نجات کی دعا مانگو
وعن أنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم عاد رجلا من المسلمين قد خفت فصار مثل الفرخ فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : هل كنت تدعو الله بشيء أو تسأله إياه ؟ . قال : نعم كنت أقول : اللهم ما كنت معاقبي به في الآخرة فعجله لي في الدنيا . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سبحان الله لا تطيقه ولا تستطيعه أفلا قلت : اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار . قال : فدعا الله به فشفاه الله . رواه مسلم
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے ایک مسلمان کی عیادت کی جو پرندے کے ایک بچے کی مانند ضعیف ہوگیا تھا رسول کریم ﷺ نے اس کی حالت دیکھ کر فرمایا کہ کیا تم اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کی دعا مانگا کرتے تھے؟ یا فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کی دعا مانگتے تھے؟ اس نے کہا کہ ہاں! میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگا کرتا تھا کہ خدایا اگر تو آخرت میں مجھے عذاب میں مبتلا کرنے والا ہو تو اس کے بدلے دنیا ہی میں وہ عذاب دینے میں جلدی کر۔ آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا تم نے بڑی عجیب دعا مانگی نہ تم دنیا ہی میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کو برداشت کرنے کی طاقت رکھتے ہو اور نہ آخرت ہی میں تم اللہ کے عذاب کے متحمل ہوسکتے ہو۔ تم نے اس طرح کیوں نہ دعا مانگی۔ (اللہم اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرہ حسنہ وقنا عذاب النار)۔ اے اللہ! ہمیں عطا فرما دنیا میں بھللائی یعنی عافیت اور آخرت میں بھلائی یعنی عفو تقصیرات اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ راوی کا بیان ہے کہ اس شخص نے آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کے مطابق اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگنی شروع کی چناچہ اللہ تعالیٰ نے اسے شفاء عطا فرمائی۔ (مسلم)
غیر متحمل چیزوں کی دعا نہ مانگو
وعن حذيفة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه . قالوا : وكيف يذل نفسه ؟ قال : يتعرض من البلاء لما لا يطيق رواه الترمذي وابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان . وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب
حضرت حذیفہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مومن کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل و خوار کرے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اپنے آپ کو ذلیل و خوار کس طرح کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ایسی بلائیں اپنے سر لے لے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔ ترمذی، ابن ماجہ، بیہقی، امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
یہ بات مومن کی فراست کے منافی ہے کہ وہ ایسی چیز یا کسی ایسے کام کی ذمہ داری قبول کرے جو اس کی طاقت اور اس کی رسائی سے باہر ہو۔ ایسا کرنا اپنے آپ کو خوار کرنا اور اپنی سبکی کرانا ہے۔ مثلا کوئی شخص حساب کتاب کے فن سے ناواقف ہو اور ایسے امور اپنے ذمہ لے لے جن کا تعلق حساب کتاب سے ہو تو ظاہر ہے کہ وہ ذمہ داری کو پورا نہیں کرسکے گا، جس کا نتیجہ اپنی خواری و سبکی کے علاوہ اور کیا نکلے گا۔ چناچہ یہ ارشاد گرامی مسلمانوں کو اسی نکتہ کی طرف توجہ دلا رہا ہے کہ وہ صرف ایسے ہی امور اپنے ذمہ لیں جن کی انجام دہی کی وہ طاقت و لیاقت رکھتے ہوں۔ کسی غرض، کسی لالچ یا کسی جذبہ کی تسکین کی خاطر غیر متحمل چیزوں کی ذمہ داری قبول کرنا مآل کار اپنی ذلت و خواری میں مبتلا ہونا ہے۔ بظاہریہ حدیث اس باب سے متعلق معلوم نہیں ہوتی لیکن اگر اس حدیث کے مفہوم کو پچھلی حدیث کے مفہوم کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ معلوم ہوگا کہ اس باب سے اس حدیث کا گہرا تعلق ہے اور وہ یہ کہ آدمی جس چیز کا متحمل نہ ہو اس کی دعا بھی نہ مانگے۔
باطن کی ظاہر سے بہتری اور ظاہر کی شائستگی کی دعا
وعن عمر رضي الله عنه قال : علمني رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : قل : اللهم اجعل سريرتي خيرا من علانيتي واجعل علانيتي صالحة اللهم إني أسألك من صالح ما تؤتي الناس من الأهل والمال والولد غير الضال ولا المضل رواه الترمذي
حضرت عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھے تعلیم دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ دعا مانگو۔ دعا (اللہم اجعل سریرتی خیرا من علانیتی واجعل علانیتی صالحۃ اللہم انی اسئلک من صالح ماتوتی الناس من الاہل والمال والولد غیر الضال ولا المضل)۔ اے اللہ! میرے باطن کو میرے ظاہر سے بہتر بنا اور میرے ظاہر کو شائستگی عطا فرما اے اللہ! میں تجھ سے بھلائی مانگتا ہوں اس چیز کی جو تو لوگوں کو دیتا ہے یعنی اہل، مال، اولاد کہ نہ گمراہ ہوں اور نہ گمراہ کریں۔ (ترمذی)
لغت کے اعتبار سے حج کے معنی ہیں کسی باعظمت چیز کی طرف جانے کا قصد کرنا اور اصطلاح شریعت میں کعبہ مکرمہ کا طواف اور مقام عرفات میں قیام انہیں خاص طریقوں سے جو شارع نے بتائے ہیں اور اسی خاص زمانے میں جو شریعت سے منقول ہے، حج کہلاتا ہے۔ حج دین کے ان پانچ بنیادی ستونوں میں سے ایک عظیم القدر ستون ہے جن پر اسلم کے عقائد و اعمال کی پوری عمارت کھڑی ہوئی ہے حج کا ضروری ہونا (جس کو اصطلاح فقہ میں فرض کہا جاتا ہے) قرآن مجید سے اسی طرح صراحت کے ساتھ ثابت ہے جس طرح زکوٰۃ کی فرضیت ثابت ہے۔
فرضیت حج کی سعادت عظمی ہمارے آقا سرکار دو عالم ﷺ کی امت کے ساتھ مختص ہے گو کہنے کو تو حج کا رواج حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے ہے مگر اس وقت اس کی فرضیت کا حکم نہ تھا۔ چناچہ صحیح مسلک یہی ہے کہ حج صرف امت محمدیہ پر فرض ہوا ہے۔ حج کب فرض ہوا؟ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں، کچھ حضرات کہتے ہیں سن ٥ ھجری میں فرض ہوا، اکثر علما سن ٦ ھجری میں فرضیت کے قائل ہیں لیکن زیادہ صحیح قول ان علماء کا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حج سن ٩ ھ کے آخر میں فرض ہوا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم نازل ہوا آیت (وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا)۔ یعنی اللہ کی خوشنودی کے لئے لوگوں پر کعبہ کا حج (ضروری) ہے اور یہ اس شخص پر جو وہاں تک جاسکے۔ چونکہ یہ حکم سال کے آخر میں نازل ہوا تھا اس لئے آپ ﷺ تو فعال حج کی تعلیم میں مشغولیت اور آئندہ سال کے لئے سفر حج کے اسباب کی تیاری میں مصروفیت کی وجہ سے خود حج کے لئے تشریف نہیں لے جاسکے، بلکہ اس سال یعنی سن ٩ ھ میں حضرت ابوبکر ؓ کو حاجیوں کا امیر مقرر فرما کر مکہ بھیج دیا تاکہ وہ لوگوں کو حج کرا دیں اور پھر آپ ﷺ خود سال آئندہ یعنی سن ١٠ ھ میں اس حکم الٰہی کی تعمیل میں حج کے لئے تشریف لے گئے یہ عجیب اتفاق ہے کہ فرضیت کے بعد آپ ﷺ نے یہی پہلا حج کیا جو آخری حج بھی ثابت ہوا۔ چناچہ یہی حج حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے اسی حج کے بعد آپ ﷺ کے چہرہ عالمتاب اور وجود پر نور نے اس دنیا سے پردہ کیا۔
حج عمر میں ایک بار فرض ہے جب کہ وہ تمام شرائط پائی جائیں جن سے حج فرض ہوتا ہے ان شرائط کے پائے جانے کے باوجود جو شخص حج نہ کرے وہ فاسق و گنہگار ہے اور جو شخص حج کی فرضیت کا انکار کرے وہ کافر ہے۔ صحیح یہ ہے کہ جب حج کے شرائط پائے جائیں تو فی الفور حج کرنا فرض ہے۔ دوسرے سال تک اس میں تاخیر کرنا گناہ ہے۔ حج ہے اس شخص پر جو میقات کے اندر بغیر احرام باندھے چلا جائے اور اس کے بعد حج کا احرام باندھے اسی طرح اس شخص پر حج فرض ہے جس نے حج کی نذر کی ہو۔ ناجائز مال سے حج کرنا حرام ہے اور مکروہ تحریمی ہے اس شخص کے لئے جو ان لوگوں کو کی اجازت کے بغیر حج کرے جن سے اجازت لینا ضروری ہے اس شخص کے لئے بھی حج مکروہ تحریمی ہے جو ان لوگوں کے نفقہ کا انتظام کئے بغیر حج کرے جن کا نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے۔
حج ان شرائط کے پائے جانے کے بعد فرض ہوتا ہے۔ (١) مسلمان ہونا، کافر پر حج فرض نہیں ہے (٢) آزاد ہونا، لونڈی غلام پر حج فرض نہیں ہے۔ (٣) عاقل ہونا، مجنون، مست اور بےہوش پر حج فرض نہیں۔ (٤) بالغ ہونا، نابالغ بچوں پر حج فرض نہیں۔ (٥) صحت مند و تندرست ہونا، بیمار، اندھے، لنگڑے، اپاہج پر حج فرض نہیں (٦) قادر ہونا یعنی اس قدر مال کا مالک ہونا جو ضرورت اصلیہ اور قرض سے زائد ہو اور اس کے زاد راہ اور سواری کے کرایہ و خرچ کے لئے کافی ہوجائے نیز جن لوگوں کا نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے ان کے لئے بھی اس میں سے اس قدر چھوڑ جائے جو اس کی واپسی تک ان لوگوں کو کفایت کرسکے۔ (٧) راستے میں امن ہونا، اس بارے میں اکثر کا اعتبار ہے یعنی اگر اکثر لوگ امن وامان سے پہنچ جاتے ہوں تو حج فرض ہوگا، مثلا اگر اکثر لوگ راستے میں ڈاکہ زنی وغیرہ سے لٹ جاتے ہوں یا کوئی ایسا دریا اور سمندر حائل ہو جس میں بکثرت جہاز ڈوب جاتے ہوں اور اکثر ہلاک ہوجاتے ہوں یا راستے میں اور کسی قسم کا خوف ہو تو ایسی حالت میں حج فرض نہیں ہوگا، ہاں اگر یہ حادثات کبھی کبھی اتفاقی طور پر ہوجاتے ہیں تو پھر حج کی فرضیت ساقط نہیں ہوگی (٨) عورت کے لئے ہمراہی میں شوہر یا کسی اور محرم کا موجود ہونا جب کہ اس کے یہاں سے مکہ کی دوری بقدر مسافت سفر یعنی تین دن کی ہو۔ اگر شوہر یا محرم ہمراہی میں نہ ہوں۔ تو پھر عورت کے لئے سفر حج اختیار کرنا جائز نہیں ہے اور محرم کا عاقل بالغ ہونا اور مجوسی و فاسق نہ ہونا بھی شرط ہے۔ محرم کا نفقہ اس عورت پر ہوگا جو اپنے اپنے ساتھ حج میں لے جائے گی۔ نیز جس عورت پر حج فرض ہو وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر بھی محرم کے ساتھ حج کے لئے جاسکتی ہے۔ اگر کوئی نابالغ لڑکا یا غلام احرام باندھنے کے بعد بالغ ہوجائے یا آزاد ہوجائے اور پھر وہ حج پورا کرے تو اس صورت میں فرض ادا نہیں ہوگا! ہاں اگر لڑکا فرض حج کے لئے از سر نو احرام باندھے گا تو صحیح ہوجائے گا۔ لیکن غلام کا احرام فرض حج کے لئے اس صورت میں بھی درست نہیں ہوگا۔
حج میں پانچ چیزیں فرض ہیں۔ (١) احرام، یہ حج کے لئے شرط بھی ہے اور رکن یعنی فرض بھی ہے۔ (٢) وقوف عرفات یعنی عرفات میں ٹھہرنا خواہ ایک ہی منٹ کے بقدر ہو اور خواہ دن میں ہو یا رات میں (٣) طواف الزیارۃ اس کو طواف الافاضہ اور طواف الرکن بھی کہتے ہیں (٤) مذکورہ بالا فرائض میں ترتیب کا لحاظ یعنی احرام کو وقوف اور وقوف کو طواف زیارت پر مقدم کرنا (٥) ہر فرض کو اسی مکان مخصوص میں ادا کرنا یعنی وقوف کا خاص عرفات میں اور طواف کا حاصل مسجد حرام کعبہ مکرمہ کے گرد ہونا اور ہر فرض کا اسی خاص وقت میں ادا کرنا جو شریعت سے اس کے لئے مقرر ہے یعنی وقوف کا نویں ذی الحجہ کی ظہر کے وقت سے دسویں تاریخ کی فجر سے پہلے تک ادا کرنا اور طواف کا اس کے بعد ادا کرنا۔
حج میں یہ چیزیں واجب ہیں۔ (١) وقوف مزدلفہ (٢) صفا اور مروہ کے درمیان سعی (٣) رمی جمار (٤) آفاقی یعنی غیر مکی کے لئے طواف قدوم (٥) حلق یا تقصیر یعنی بال منڈوانا یا کترانا (٦) اور ہر وہ چیز جس کو ترک کردینے پر دم یعنی جانور ذبح کرنا واجب ہوجاتا ہو۔ ان فرائض و واجبات کے علاوہ اور بہت سی چیزیں جو حج کے سنن و آداب کے تحت آتی ہیں وہ آئندہ صفحات میں موقع بموقع بیان ہوں گی۔
حج عمر بھر میں ایک مرتبہ فرض ہے
عن أبي هريرة قال : : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا أيها الناس قد فرض عليكم الحج فحجوا فقال رجل : أكل عام يا رسول الله ؟ فسكت حتى قالها ثلاثا فقال : لو قلت : نعم لوجبت ولما استطعتم ثم قال : ذروني ما تركتكم فإنما هلك من كان قبلكم بكثرة سؤالهم واختلافهم على أنبيائهم فإذا أمرتكم بشيء فأتوا منه ما استطعتم وإذا نهيتكم عن شيء فدعوه . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ نے ہمارے سامنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے لھذا تم حج کرو یہ سن کر ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم ہر سال حج کریں؟ آپ ﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ اس شخص نے تین مرتبہ یہی بات کہی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا ہوں تو یقینا حج ہر سال کے لئے فرض ہوجاتا اور تم ہر سال حج کرنے پر قادر نہیں ہوسکتے تھے؟ پھر آپ ﷺ نے فرمایا جب تک میں تمہیں چھوڑوں تم مجھے چھوڑ دو (یعنی جو کچھ میں نہ کہا کروں مجھ سے مت پوچھا کرو) کیونکہ جو لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں یعنی یہود و نصاریٰ وہ اسی سبب سے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے انبیاء سے پوچھتے اور ان سے اختلاف کرتے تھے (جیسا کہ بنی اسرائیل کے بارے میں منقول ہے) لہٰذا جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اس میں سے جو کچھ تم کرنے کی طاقت رکھتے ہو کرو اور جب میں تمہیں کسی بات سے منع کروں تو اس کو چھوڑ دو۔ (مسلم)
تشریح
اللہ تعالیٰ نے جب حج کی فرضیت کا فرمان نازل فرمایا تو آنحضرت ﷺ نے اس کو امت کے اوپر نافذ کرنے کے لئے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ حج کریں چناچہ جب آپ ﷺ لوگوں کے سامنے حج کی فرضیت بیان فرما رہے تھے اور انہیں حج کرنے کا حکم دے رہے تھے تو ایک صحابی جن کا نام اقرع بن حابس ؓ تھا پوچھ بیٹھے کہ حج ہر سال کیا جائے گا؟ وہ یہ سمجھے کہ جس طرح دیگر عبادتیں یعنی نماز، روزہ، زکوٰۃ بار بار ادا کی جاتی ہیں اسی طرح یہ حج بھی مکرر ہی ہوگا اسی لئے انہوں نے یہ سوال کیا۔ لیکن آنحضرت ﷺ کو یہ بات ناگوار ہوئی اس لئے آپ ﷺ نے پہلے تو تنبیہا سکوت اختیار فرمایا اور کوئی جواب نہیں دیا۔ جب انہوں نے کئی بار پوچھا تو آخر کار آنحضرت ﷺ نے جواب دیا کہ اگر میں اس سوال کے جواب میں ہاں کہہ دیتا تو یقینا ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا کیونکہ میں یہ جواب اللہ تعالیٰ کے حکم کے بموجب دیتا بغیر اس کے حکم سے میری زبان سے کوئی تشریعی بات نہیں نکلتی اور اگر ہر سال حج فرض ہوجاتا تو تم میں اتنی طاقت نہ ہوتی کہ ہر سال اس کی ادائیگی پر قادر نہ ہوتے۔ پھر آپ ﷺ نے متنبہ فرمایا کہ کسی بھی دینی حکم کو مجھ پر چھوڑ دو، جب میں کسی فعل کا حکم دوں تو مجھ سے یہ نہ پوچھوں کہ یہ فعل کتنا ہے اور کیسا ہے جب تک میں خود یہ بیان نہ کروں کہ یہ فعل کتنا کیا جائے اور کس طرح کیا جائے۔ میں جس طرح کہوں تم اسی طرح ادا کرو۔ اگر کسی فعل کے بارے میں بلا قید و تعین اعداد کے مطلق حکم کروں تو اس حکم کی اسی طرح بجا آوری کرو اور اگر یہ بیان کروں کہ اس فعل کو اتنی بار اور اس طرح کرو تو اسے اتنی ہی بار اور اسی طرح کرو۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ میں دنیا میں اسی لئے آیا ہوں کہ تم تک اسلام کے احکام پوری وضاحت کے ساتھ پہنچا دوں اور شریعت کو بیان کر دوں جو بات جس طرح ہوتی ہے اسے اسی طرح بیان کردیتا ہوں۔ تمہارے سوال کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ پھر آخر میں آپ ﷺ نے احکام کی بجا آوری کے سلسلے میں تائید و مبالغہ کے طور پر فرمایا کہ فا توا منہ ما استطعتم (اس میں سے جو کچھ تم کرنے کی طاقت رکھتے ہو کرو) یعنی اللہ اور رسول ﷺ کے احکام پر عمل کرنے کی تم جتنی بھی طاقت رکھتے ہو اس کے مطابق عمل کرو یا پھر یہ کہ اس جملے کے ذریعہ آپ ﷺ نے رفع حرج پر اشارہ فرمایا کہ مثلاً نماز کے بعض شرائط و ارکان ادائیگی سے تم اگر عاجز ہو تو جس قدر ہو سکے اسی قدر کرو، جو تم سے نہ ہو سکے اسے چھوڑ دو جیسے اگر تم میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرسکو تو بیٹھ کر نماز پڑھو، اگر بیٹھ کر پڑھنے سے بھی عاجز ہو تو لیٹے ہی لیٹے پڑھو مگر پڑھو ضرور، اسی پر دوسرے احکام و اعمال کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے۔