پناہ مانگنے کے سلسلے میں ایک جامع دعا کی تعلیم
وعن شتير بن شكل بن حميد عن أبيه قال : قلت : يا نبي الله علمني تعويذا أتعوذ به قال : قل اللهم إني أعوذ بك من شر سمعي ومن شر بصري وشر لساني وشر قلبي وشر منيي . رواه أبو داود والترمذي والنسائي
حضرت شتیر بن شکل بن حمید اپنے والد (حضرت شکل ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی ایسا تعویذ (یعنی ایسی دعا) بتا دیجئے جس کے ذریعہ سے میں پناہ مانگوں آپ ﷺ نے فرمایا یہ دعا پڑھو۔ دعا (اللہم انی اعوذبک من شر سمعی وشر بصری وشر لسانی وشر قلبی وشرمنیی)۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنی سماعت کی برائی سے۔ (کہ اپنے کان سے بری باتیں نہ سنوں) اپنی بینائی کی برائی سے (کہ اپنی آنکھوں سے بری چیزیں نہ دیکھوں) اپنی زبان کی برائی سے کہ اپنی زبان سے برے برے اور بےفائدہ کلمات نہ نکالوں اپنے دل کی برائی سے کہ میرے دل میں برے عقیدے اور حسد اور کینہ وغیرہ کا گزر نہ ہو اور برے کام میں عزم مصمم نہ کروں اور اپنی منی کی برائی سے کہ وہ حرام کاری میں صرف نہ ہو اور میں بنظر شہوت کسی کو نہ دیکھوں۔ (ابوداؤد، ترمذی، نسائی)
آنحضرت ﷺ مہلک حادثات سے پناہ مانگتے تھے
وعن أبي اليسر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يدعو : اللهم إني أعوذ بك من الهدم وأعوذ بك من التردي ومن الغرق والحرق والهرم وأعوذ بك من أن يتخبطني الشيطان عند الموت وأعوذ بك من أن أموت في سبيلك مدبرا وأعوذ بك من أن أموت لديغا رواه أبو داود والنسائي وزاد في رواية أخرى الغم
حضرت ابوالیسر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ دعا (اللہم انی اعوذبک من الہدم واعوذبک من التردی ومن الغرق والحرق واعوذبک من ان یتخبطنی الشیطان عندالموت واعوذبک من ان اموت فی سبیلک مدبرا واعوذبک من ان اموت لدیغا)۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں مکان گرنے سے یعنی کوئی مکان یا دیوار مجھ پر نہ گرپڑے کہ جس کی وجہ سے میں ہلاک ہوجاؤں۔ اور تیری پناہ مانگتا ہوں کسی بلند جگہ سے گر پڑنے سے، ڈوبنے سے، جلنے سے، زیادہ بڑھاپے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ موت کے وقت شیطان مجھے حو اس باختہ کرے (یعنی وسوے پیدا کر کے میرے دین کو تباہ کر دے) تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ تیری راہ میں پشت پھیر کر (یعنی جہاد میں کفار کے مقابلے سے بھاگ کر) مروں اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ لدیغ (یعنی سانپ بچھو اور دوسرے زہریلے جانوروں) کے کاٹنے سے مروں۔ (ابوداؤد، نسائی) نسائی نے ایک روایت میں والغم بھی نقل کیا ہے۔ (یعنی تیری پناہ مانگتا ہوں غم سے)
تشریح
اگرچہ یہ اشکال پیدا ہو کہ حدیث میں مذکورہ بالا چیزیں بعض تو ایسی ہیں جن کے سبب سے موت واقع ہوجانے کی صورت میں شہادت کا درجہ ملتا ہے پھر آنحضرت ﷺ نے ان سے پناہ کیوں مانگی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان چیزوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے مصیبت و تکلیف اور پریشانیوں کا گویا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایسے نازک اور سخت موقع پر کوئی صبر کا دامن چھوڑ بیٹھے اور شیطان کو موقع مل جائے اور وہ بہکا کر دینی و اخروی سعادتوں کو ملیا میٹ کر دے اس لئے آپ ﷺ نے ان سے بھی پناہ مانگی تاکہ امت کے لوگ ان چیزوں سے پناہ مانگیں۔ زیادہ بڑھاپے سے پناہ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ بڑھاپے کی برائی سے کہ حو اس و قوی میں فرق آجائے بےہودہ و لایعنی کلام زبان سے نکلنے لگیں اور عبادت میں فتور آجائے ان سے پناہ مانگتا ہوں، منقول ہے کہ جو شخص کلام اللہ یاد کرلیتا ہے وہ ان آفات سے محفوظ رہتا ہے۔
طمع سے پناہ مانگنے کا حکم
وعن معاذ عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أستعيذ بالله من طمع يهدي إلى طبع ) رواه أحمد والبيهقي في الدعوات الكبير
حضرت معاذ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ کی پناہ مانگو طمع سے جو طبع تک پہنچا دے۔ (احمد، بیہقی)
تشریح
طمع کے معنی ہیں مخلوق اللہ سے مال و زر کی امید رکھنا! اور طمع کے اصل معنی تو ہیں تلوار کو زنگ لگنا۔ لیکن یہاں اس لفظ سے مراد عیب ہے لہٰذا حدیث بالا کے مطابق طمع سے پناہ مانگنے کا مفہوم یہ ہے کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں طمع سے جو مجھے اس مقام پر پہنچا دے جہاں میری زندگی عیب دار ہوجائے اور وہ عیب ہے، اہل دنیا کے سامنے تواضع و انکساری اختیار کرنا، کم ظرف، پست خیال اور بد کردار دنیاداروں کے آگے اپنے آپ کو ذلیل کرنا، سمعہ وریا (کسی بھی کام کے وقت دکھانے سنانے کے جذبہ) کو ظاہر کرنا، سرمایہ داروں کی بےجا تعریف و مدح اور ان کی چاپلوسی میں مبتلا ہونا اور اسی قسم کی وہ ذلیل حرکتیں جو طمع کی حالت میں صادر ہوتی ہیں۔ حاصل یہ کہ طمع سے اجتناب ضروری ہے کیونکہ یہی وہ حقیر جذبہ ہے جو انسان کی عزت نفس، خود داری اور ضمیر کے شرف و وقار کے لئے بہت بڑا عیب ہے جس کی وجہ سے انسان نہ صرف دنیاوی طور پر ذلیل و حقیر اور بےوقعت ہوجاتا ہے بلکہ دینی طور پر بھی اس کی روح کی بالیدگی اور پاکیزگی کے لئے ایک ناسور سے کم نہیں ہے جو آہستہ آہستہ دین کے تمام گوشوں میں مختلف طریقوں سے زہر کی آمیزش کرتا رہتا ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ طمع دین کے فساد کی جڑ ہے اور ورع (پرہیز گاری) دین کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ حضرت شیخ علی متقی ؓ فرماتے ہیں کہ طمع اسے کہتے ہیں کہ اس مال کی امید رکھی جائے جس کے حاصل ہونے میں شک ہو اگر اس کے حصول کا یقین ہو جیسے کسی پر کوئی حق ہو یا کسی کا وعدہ صادق ہو اور یا کسی سے اتنی راسخ محبت ہو کہ وہ اس کی ہر خواہش کی تکمیل ضرور کرتا ہو تو اسی صورت میں اس سے توقع رکھنے کو طمع نہیں کہتے۔
چاند کے بے نور ہونے سے پناہ مانگو
وعن عائشة أن النبي صلى الله عليه و سلم نظر إلى القمر فقال : يا عائشة استعيذي بالله من شر هذا فإن هذا هو الغاسق إذا وقب . رواه الترمذي
ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ عائشہ اللہ کی پناہ مانگو! اس چاند کی برائی سے کیونکہ یہ غاسق اندھیرا پھیلانے والا ہے جب بےنور ہوجائے۔ (ترمذی)
تشریح
قرآن مجید کی سورت آیت (قل اعوذ برب الفلق) میں جہاں اور کئی چیزوں سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے وہیں۔ غاسق اذا وقب کا بھی ذکر ہے یعنی پناہ مانگو اندھیرا پھیلانے والے کی برائی سے جب وہ بےنور ہوجائے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی نے غاسق اذا وقب کی وضاحت فرمائی کہ اس سے مراد چاند ہے جب وہ گہن میں آجاتا ہے لہٰذا اس سے پناہ مانگنے کا سبب یہ ہے کہ اس کا گرہن میں آنا اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ یہ بلاؤں کے نازل ہونے کا اشارہ دیتا ہے، چناچہ احادیث میں آتا ہے کہ جب چاند کو گرہن لگتا تو اس وقت آنحضرت ﷺ لرزاں و ترساں اٹھ کھڑے ہوتے۔ لیکن اتنی بات ذہن نشین رہے کہ بلاؤں کے نازل ہونے سے وہ بلائیں اور حادثات مراد نہیں ہیں جو منجم یا بد عقیدہ لوگ کسوف و خسوف (چاند سورج کے گرہن لگنے) کے سلسلہ میں بتاتے ہیں کیونکہ اہل اسلام کے نزدیک ان کا کوئی اعتبار نہیں بلکہ اس سے مراد عبرت کے مواقع ہیں۔ مثلا جب چاند گرہن میں آتا ہے تو وہ ایک بڑی عبرت کا وقت ہوتا ہے جو ہر انسان کو احساس دلاتا ہے کہ جب چاند باوجود اپنی اس نورانیت کے اپنے نور کو کھو چکا ہے اور اس کے اپنے نور کی بقاء پر کوئی قدرت حاصل نہیں ہے تو ایسا نہ ہو کہ میرے ایمان اور میرے عمل کا نور بھی جاتا رہے اسی اعتبار سے اس سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس حدیث سے تو معلوم ہوا کہ غاسق اذا وقب سے مراد گرہن میں آیا ہوا چاند ہے لیکن اکثر مفسرین نے آیت (من شر غاسق اذا وقب) کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے مراد تاریک رات ہے۔ واللہ اعلم۔
نفس کی برائی سے پناہ مانگو
وعن عمران بن حصين قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم لأبي : يا حصين كم تعبد اليوم إلها ؟ قال أبي : سبعة : ستا في الأرض وواحدا في السماء قال : فأيهم تعد لرغبتك ورهبتك ؟ قال : الذي في السماء قال : يا حصين أما إنك لو أسلمت علمتك كلمتين تنفعانك قال : فلما أسلم حصين قال : يا رسول الله علمني الكلمتين اللتين وعدتني فقال : قل اللهم ألهمني رشدي وأعذني من شر نفسي . رواه الترمذي
حضرت عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے میرے باپ (حضرت حصین) سے جو اس وقت تک ایمان و اسلام کی دولت سے بہرہ مند نہیں تھے فرمایا۔ حصین آج کل تم کتنے معبودوں کی بندگی کرتے ہو۔ میرے باپ نے عرض کیا کہ سات معبودوں کی جن میں سے چھ تو زمین پر ہیں (اور ان کے نام یہ ہیں) یغوث، یعوق، نسر، لات، منات اور عزی اور ایک آسمان میں ہے (جو سب کا خالق ہے) آپ ﷺ نے فرمایا۔ پھر ان میں سے کون سا معبود تمہاری امید اور تمہارے خوف کا مرجع ہے؟ یعنی ان میں سے کس معبود سے تم ڈرتے ہو اور اس سے بھلائی کی امید رکھتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا جو آسمان میں ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ حصین! جان لو اگر تم مسلمان ہوجاتے تو میں تمہیں دو کلمے سکھاتا جو تمہیں دنیا و آخرت میں فائدہ پہنچاتے حضرت عمران کہتے ہیں کہ چناچہ جب میرے باپ حضرت حصین مسلمان ہوگئے تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے اب وہ دو کلمے بتائیے جس کا آپ نے وعدہ کیا تھا؟ آپ نے فرمایا یہ پڑھو۔ اللہم الہمنی رشدی واعذنی من شر نفسی۔ اے اللہ میرے دل میں میری ہدایت ڈال دے اور میرے نفس کی برائی سے مجھے پناہ دے۔ (ترمذی)
تشریح
اور ایک آسمان میں ہے یہ بات حضرت حصین ؓ نے اپنے گمان کے مطابق کی تھی کیونکہ وہ ایمان و اسلام کی دولت سے اس وقت تک بہرہ ور نہیں تھے انہیں کیا معلوم تھا کہ اللہ کے لئے کوئی جگہ اور کوئی مکان مقرر نہیں ہے۔ وہ تو زمین اور آسمان کے ایک ایک ذرہ پر حاوی ہے اور محیط ہے اس کی ذات کسی مقام اور کسی جگہ کے ساتھ مختص نہیں ہے یا پھر یہ کہا جائے گا کہ ان کی اس بات کا مفہوم یہ تھا کہ وہ اللہ جس کی آسمان میں فرشتے عبادت کرتے ہیں۔
نیند میں ڈرنے سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا فزع أحدكم في النوم فليقل : أعوذ بكلمات الله التامات من غضبه وعقابه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون فإنها لن تضره وكان عبد الله بن عمرو يعلمها من بلغ من ولده ومن لم يبلغ منهم كتبها في صك ثم علقها في عنقه . رواه أبو داود والترمذي وهذا لفظه
حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ (حضرت شیعب) سے اور وہ اپنے دادا (یعنی حضرت عبداللہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی شخص نیند میں ڈرے تو اسے چاہئے کہ یہ کلمات پڑھے۔ دعا (اعوذب کلمات اللہ التامات من غضبہ و عقابہ وشر عبادہ ومن ہمزات الشیاطین وان یحضرون)۔ میں اللہ کے پورے کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں اس کے غضب سے اس کے عذاب سے اس کے بندوں کی برائی سے شیطان کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ شیطان میرے پاس آئیں۔ لہٰذا ان کلمات کے کہنے والے کو شیطان ہرگز کوئی ضرر نہیں پہنچائے گا چناچہ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ ان کلمات کو اپنی اولاد میں سے ہر اس شخص کو سکھاتے جو بالغ ہوتا اور ان کی اولاد میں جو نابالغ ہوتے ان کلمات کو کاغذ کے ٹکڑے پر لکھ کر ان کے گلے میں ڈال دیتے۔ اس روایت کو ابوداؤد ترمذی نے روایت کیا ہے لیکن الفاظ ترمذی کے ہیں)
تشریح
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نیند میں ڈرنا شیطان کے تصرف اور اس کی شرارت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ نیز یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ گلے میں تعویذ ڈالنا اور لٹکانا جائز ہے۔ اس مسئلہ میں اگرچہ علماء کے اختلافی اقوال ہیں لیکن زیادہ صحیح اور مختار بات یہی ہے کہ حرزات وغیرہ تو گلے میں لٹکانا حرام اور مکروہ ہیں لیکن ایسے تعویذ لٹکانا جائز ہیں جن میں آیات قرآنی یا اسمائے الٰہی لکھے ہوں۔
جنت مانگنے اور آگے سے پناہ چاہنے والوں کے لئے جنت وآگ کی سفارش
وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سأل الله الجنة ثلاث مرات قالت الجنة : اللهم أدخله الجنة ومن استجار من النار ثلاث مرات قالت النار : اللهم أجره من النار رواه الترمذي والنسائي
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے تین مرتبہ جنت مانگتا ہے (یعنی تین مرتبہ یہ دعا کرتا ہے۔ (اللہم انی اسئلک الجنۃ) اے اللہ میں تجھ سے جنت مانگتا ہوں یا یوں کہے۔ دعا (اللہم ادخلنی الجنۃ )۔ اے اللہ مجھے جنت میں داخل کر۔ اور یا کسی بھی زبان میں اس مفہوم و مضمون کو تین مرتبہ کہتا ہے) تو جنت کہتی ہے کہ اے اللہ تو اس کو جنت میں داخل کر۔ اور جو شخص تین بار آگ سے پناہ مانگتا ہے۔ یعنی تین مرتبہ یوں کہتا ہے دعا (اللہم اجرنی من النار)! اے اللہ مجھے آگ سے محفوظ رکھ۔ یا اسی مفہوم و مضمون کو کسی بھی زبان میں تین مرتبہ ادا کرتا ہے تو آگ کہتی ہے کہ اے اللہ! تو اس شخص کو آگ سے محفوظ رکھ۔ یا اسی مفہوم و مضمون کو کسی بھی زبان میں تین مرتبہ ادا کرتا ہے تو آگ کہتی ہے کہ اے اللہ! تو اس شخص کو آگ سے محفوظ رکھ۔ (ترمذی، نسائی)
تشریح
تین مرتبہ چاہے تو ایک ہی مجلس میں یہ دعا مانگی جائے اور چاہئے کئی مجلسوں میں، لیکن ضروری ہے کہ دعا کے وقت حضور اخلاص، تضرع، عجز اور انکساری و لجاجت زبان کے ہم نوا ہوں۔
عن القعقاع : أن كعب الأحبار قال : لولا كلمات أقولهن لجعلتني يهود حمارا فقيل له : ما هن ؟ قال : أعوذ بوجه الله العظيم الذي ليس شيء أعظم منه وبكلمات الله التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر وبأسماء الله الحسنى ما علمت منها وما لم أعلم من شر ما خلق وذرأ وبرأ . رواه مالك
حضرت قعقاع کہتے ہیں کہ حضرت کعب احبار فرماتے تھے کہ اگر میں وہ کلمات نہ کہا کرتا تو یہود مجھے گدھا بنا ڈالتے۔ ان سے پوچھا گیا وہ کلمات کیا ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ یہ ہیں۔ دعا (اعوذ بوجہ اللہ العظیم الذی لیس شیء اعظم منہ وب کلمات اللہ التامات التی لایجاوزہن بر ولا فاجر وباسماء اللہ الحسنی ماعلمت منہا ومال اعلم من شر ماخلق وذرأ وبرأ)۔ میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی ذات کے ذریعہ جو بہت بڑا ہے وہ اللہ کہ کوئی چیز اس سے بڑی نہیں، اس کے کامل کلمات کے ذریعے کہ ان سے نہ کوئی نیک تجاوز کرتا ہے اور نہ کوئی بد، اللہ کے ناموں کے ذریعہ جو پاک و نیک ہیں اور ان میں سے جو کچھ میں جانتا ہوں اور جو کچھ میں نہیں جانتا اس چیز کی برائی سے جو اس پیدا کی اور پراگندہ و برابر کی (یعنی متناسب الاعضاء بنائی) (مالک)
تشریح
کعب الاحبار قوم یہود کے ایک بڑے دانشمند فرد تھے وہ اگرچہ آنحضرت ﷺ کے مبارک زمانہ میں تھے لیکن آپ ﷺ کے دیدار اور آپ ﷺ کی صحبت کے شرف سے محروم رہے۔ پھر بعد میں حضرت عمر ؓ کی خلافت کے زمانہ میں ایمان و اسلام کی دولت سے مالامال ہوئے انہیں کعب کا بیان ہے کہ جب میں ایمان لایا اور مسلمان ہوا تو یہود میرے مخالف ہوگئے وہ میرے بارے میں اس قدر بغض و کینہ رکھتے تھے کہ اگر ان کی حرکتیں کامیاب ہوجاتیں اور میں یہ دعا نہ پڑھتا تو وہ سحر کر کے مجھے گدھا بنا دیتے یعنی مجھے ذلیل و بیوقوف اور گدھے کی مانند مسلوب العقل کردیتے۔ اللہ کے کامل کلمات سے مراد قرآن ہے چناچہ ان سے تجاوز نہ کرنے کے معنی ہیں کہ اس کے ثواب و عذاب وغیرہ سے کوئی بھی خارج نہیں ہے مثلاً اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جس شخص کو اجر وثواب دینے کا وعدہ کیا ہے یا جس شخص کو عذاب میں مبتلا کردینے کا فیصلہ کیا ہے یا اور جن چیزوں کا بیان کیا ہے وہ سب بلاشبہ انجام پذیر ہوتا ہے اور اس میں کوئی تغیر و تبدل ممکن نہیں۔ یا پھر اللہ کے کلمات سے مراد صفات الٰہی اور علوم الٰہی ہیں کہ ان سے بھی کوئی چیز باہر نہیں یہ سب کو محیط یعنی گھیرے ہوئے ہیں۔
وعن مسلم بن أبي بكرة قال : كان أبي يقول في دبر الصلاة : اللهم إن أعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر فكنت أقولهن فقال : أي بني عمن أخذت هذا ؟ قلت : عنك قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقولهن في دبر الصلاة . رواه النسائي والترمذي إلا أنه لم يذكر في دبر الصلاة وروى أحمد لفظ الحديث وعنده : في دبر كل صلاة
حضرت مسلم بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ مرے والد ہر نماز یا فرض نماز کے بعد یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ دعا (اللہم انی اعوذبک من الکفر والفقر و عذاب القبر) اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کفر سے، فقر سے (یعنی قلبی فقر کے فتنہ سے کہ جو بےصبری اور کفران نعمت وغیرہ ہے) اور عذاب قبر سے چناچہ میں بھی ان کلمات کو پڑھا کرتا تھا ایک دن میرے والد نے مجھ سے پوچھا کہ میرے بیٹے تم نے یہ کلمات کس سے سیکھے؟ میں نے کہا آپ سے! انہوں نے فرمایا کہ رسول ﷺ نماز کے بعد یہ کلمات کہا کرتے تھے۔ اس روایت کو نسائی اور ترمذی نے نقل کیا ہے۔ لیکن ترمذی نے فی دبر الصلوۃ (نماز کے بعد) کے الفاظ نقل نہیں کئے ہیں۔ امام احمد نے صرف حدیث کے الفاظ نقل کئے ہیں۔ (یعنی ان کی روایت میں مسلم بن ابی بکرہ اور ان کے باپ کا ذکر نہیں ہے) نیز ان کی روایت میں فی دبر کل الصلوۃ (ہر نماز کے بعد) کے الفاظ ہیں یعنی ان کی روایت میں لفظ کل بھی ہے۔
وعن أبي سعيد قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أعوذ بالله من الكفر والدين فقال رجل : يا رسول الله أتعدل الكفر بالدين ؟ قال : نعم . وفي رواية اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر . قال رجل : ويعدلان ؟ قال : نعم . رواه النسائي
حضرت ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ کلمات فرماتے سنا ہے۔ دعا (اعوذ باللہ من الکفر والدین)۔ یعنی میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں کفر اور قرض سے۔ ایک شخص نے یہ سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا آپ نے کفر کو قرض کے برابر کردیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ اور ایک روایت میں یہ دعا منقول ہے۔ دعا (اللہم انی اعوذبک من الکفر والفقر)۔ یعنی اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں کفر سے اور فقر سے۔ یہ سن کر ایک شخص نے عرض کیا کہ کیا کفر اور فقر دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں!۔ (نسائی)
تشریح
کفر اور قرض کو برابر اس لئے فرمایا کہ قرض کی وجہ سے انسان جھوٹ بولتا ہے، مکاری کرتا ہے اور وعدہ کے خلاف کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ بدترین خصلتیں کفار اور منافقین ہی میں ہوتی ہیں۔ کفر اور فقر کو برابر بایں معنی کیا گیا ہے کہ فقر کی وجہ سے انسان بےصبری کرتا ہے، اپنی قسمت کو کوستا ہے، تقدیر کا گلہ کرتا ہے اپنی زبان سے ایسے الفاظ نکال بیٹھتا ہے جو کفر کا باعث ہوتے ہیں۔
عن أبي موسى الأشعري عن النبي صلى الله عليه و سلم : أنه كان يدعو بهذا الدعاء : اللهم اغفر لي خطيئتي وجهلي وإسرافي في أمري وما أنت أعلم به مني اللهم اغفر لي جدي وهزلي وخطئي وعمدي وكل ذلك عندي اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أنت به أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر وأنت على كل شيء قدير
حضرت ابوموسی اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ دعا (اللہم اغفرلی خطیتئتی وجہلی واسرافی فی امری وما انت اعلم بہ منی اللہم اغفرلی جدی وہزلی وخطائی وعمدی وکل ذلک عندی اللہم اغفرلی وماقدمت ومااخرت وما اسررت ومااعلنت وماانت اعلم بہ منی انت المقدم وانت المؤخر وانت علی کل شیء قدیر)۔ اے اللہ! معاف فرما میری خطا کو میری نادانی کو (یعنی جن چیزوں کو جاننا یا ان پر عمل کرنا واجب تھا اور میں نے ان کو نہیں جانا اسے معاف فرما) کاموں میں میری زیادتی کو اور اس گناہ سے جس کا علم مجھ سے زیادہ تجھ کو ہے۔ اے اللہ! معاف فرما میرے اس برے کام کو جسے میں نے قصداً کیا ہے، اس کام کو جسے میں نے ہنسی دل لگی میں کیا ہو اور اس کام کو جسے میں نے دانستہ یا نادانستہ کیا ہو اور یہ سب باتیں مجھ میں ہیں۔ اے اللہ بخشش فرما میرے ان گناہوں کو جو میں نے پہلے کئے ہیں ان گناہوں کی جو (بالفرض والتقدیر) بعد میں ہوں گے۔ ان گناہوں کی جو پوشیدہ سرزد ہوئے ہوں ان گناہوں کی جو کھلم کھلا کئے ہوں اور ان گناہوں کی جن کا علم مجھ سے زیادہ تجھ کو ہے۔ تو ہی (جس کو چاہے اپنی توفیق کے ساتھ اپنی رحمت کی طرف آگے کرنے والا ہے اور تو ہی) جس کو چاہے اپنی رحمت سے پیچھے ڈالنے والا ہے اور تو ہی ہر چیز پر قادر ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
وکل ذالک عندی (اور یہ سب باتیں مجھ میں ہیں) یہ الفاظ آپ ﷺ نے بارگاہ رب العزت میں اپنے عجز و انکساری اور اپنے مقام عبدیت کے اظہار نیز از راہ تواضع کہے، ورنہ تو آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی تمام گناہوں سے پاک اور تمام خطاؤں سے مبرا تھی اور حقیقت میں تعلیم یہ ہے امت کے لئے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ سے بخشش و مغفرت مانگی جائے۔
وعن أبي هريرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم أصلح لي ديني الذي هو عصمة أمري وأصلح لي دنياي التي فيها معاشي وأصلح لي آخرتي التي فيها معادي واجعل الحياة زيادة لي في كل خير واجعل الموت راحة لي من كل شر . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ یہ دعا کرتے۔ دعا (اللہم اصلح لی دینی الذی ہو عصمۃ امری واصلح لی دنیای التی فیہا معاشی واصلح لی آخرتی التی فیہا معادی وا جعل الحیوۃ زیادۃ لی فی کل خیر واجعل الموت راحۃ لی من کل شر)۔ اے اللہ! درست کر میرے دین کو جو میرے امور کا محافظ ہے (یعنی دین کی وجہ سے جان، مال اور آبرو کی حفاظت ہوتی ہے اور آخرت کے عذاب سے نجات ملتی ہے) درست کر میری آخرت کو جہاں مجھے لوٹ کر جانا ہے) میری زندگی کو سبب بنا ہر نیکی میں زیادتی کا (یعنی طویل عمر عطا فرما تاکہ بہت سی نیکیاں کروں) اور میرے لئے موت کو ہر برائی سے راحت اور آرام کا سبب بنا۔ (مسلم)
تشریح
دنیا کی درستی و اصلاح اس رزق سے ہوتی ہے جو حلال ذرائع سے اور غیر مشتبہ وسائل کے راستے حاصل ہوا ہو، اس رزق سے گزارا اچھی طرح ہوتا ہے، طاعت کی قوت حاصل ہوتی ہے قلب کو سکون و اطمینان کی دولت میسر آتی ہے اور عبادت میں خلل و تشویش کا گزر نہیں ہوتا۔ آخرت کی درستی و اصلاح کا انحصار ان امور (نیک عقائد، اچھے اعمال و کردار کی توفیق پر ہوتا ہے جو عذاب سے نجات کا سبب اور اس جہان کی سعادتوں تک پہنچنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ دعا کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ میری زندگی کا خاتمہ کلمہ شہادت، اچھے اعتقاد اور توبہ کرنے کے بعد ہو تاکہ میری موت دنیا کی مشقتوں اور مصائب سے نجات اور آخرت کی راحت کے حصول کا باعث ہو۔
وعن عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان يقول : اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى . رواه مسلم
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نبی ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ یہ دعا مانگتے تھے۔ (اللہم انی اسئلک الہدی والتقی والعفاف والغنی)۔ اے اللہ میں تجھ سے مانگتا ہوں، ہدایت، تقویٰ اور حرام و مکروہ سے نفس کی حفاظت نیز قلبی اور ظاہری استغناء۔ (مسلم)
وعن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قل اللهم اهدني وسددني واذكر بالهدى هدايتك الطريق وبالسداد سداد السهم . رواه مسلم
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ یہ دعا مانگو۔ (اللہم اہدنی وسددنی)۔ اے اللہ مجھے سیدھی راہ دکھا کر ہدایت یافتہ بنا اور میرے اعمال اور افعال کو راست درست فرما کر، مجھے سیدھا کر (نیز آپ ﷺ نے فرمایا) جب تم ہدایت کی طلب کرو تو راستہ کے سیدھا چلنے کا اور جب راستی کی طلب کرو تو تیر کی سی راستی کا تصور کرو۔ (مسلم)
تشریح
حدیث کے آخری ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جب تم بارگاہ رب العزت میں طلب ہدایت کی درخواست کرو تو تمہارے ذہن میں بات رہنی چاہئے کہ مجھے وہی راہنمائی اور ہدایت حاصل ہو، جو سیدھی راہ پر چلنے والے شخص کو حاصل ہوتی ہے اور جب تم راستی مانگو تو یہ خیال رکھو کہ مجھے ایسی ہی راستی اور استقامت حاصل ہو جس طرح تیر راست و سیدھا ہوتا ہے مقصد یہ ہے کہ آخری درجہ کی اور مکمل ہدایت اور آخری درجہ کی مکمل راستی طلب کرو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں مکمل ہدایت اور مکمل راستی ہی کی سعادت سے نوازے۔
وعن أبي مالك الأشجعي عن أبيه قال : كان الرجل إذا أسلم علمه النبي صلى الله عليه و سلم الصلاة ثم أمره أن يدعو بهؤلاء الكلمات : اللهم اغفر لي وارحمني واهدني وعافني وارزقني . رواه مسلم
حضرت ابومالک اشجعی اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تو نبی کریم ﷺ اسے نماز کی تعلیم دیتے پھر اس کو حکم دیتے کہ وہ ان کلمات کے ذریعہ دعا مانگے۔ (اللہم اغفر لی وارحمنی واہدنی وعافنی وارزقنی)۔ یعنی اے اللہ میری مغفرت فرما میرے عیوب کو ڈھانک کر، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت یافتہ بنا اور مجھے حلال روزی عطا فرما۔ (مسلم)
دنیا وآخرت کے تمام مقاصد کی جامع دعا
وعن أنس قال : كان أكثر دعاء النبي صلى الله عليه و سلم اللهم أتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔ (اللہم اٰتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار)۔ اے اللہ ہمیں دنیا میں نیکی و بھلائی یعنی نعمتیں اور اچھی حالت عطا کر اور آخرت میں یعنی موت کے بعد بھی نیکی و بھلائی یعنی اچھے مراتب عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ (بخاری ومسلم )
تشریح
آنحضرت ﷺ کثرت سے یہ دعا اس لئے پڑھا کرتے تھے کہ یہ ایک جامع دعا ہے جس میں دین و دنیا کے تمام مقاصد آجاتے ہیں پھر یہ کہ یہ دعا قرآن کریم میں نازل کی گئی ہے۔ طالب صادق اگر حضور مناجات کے وقت خلوت میں بیٹھ کر باطن کی صفائی کے ساتھ دنیا و آخرت کے حسنات کے ہر ہر گوشے کا تصور کر کے یہ دعا پڑھے تو وہ دیکھے گا کہ کیا کچھ ذوق و جمعیت، سکون و اطمینان اور نورانیت وسعادت حاصل ہوتی ہے۔
عن ابن عباس قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يدعو يقول : رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامكر لي ولا تمكر علي واهدني ويسر الهدى لي وانصرني علي من بغى علي رب اجعلني لك شاكرا لك ذاكرا لك راهبا لك مطواعا لك مخبتا إليك أواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي وثبت حجتي وسدد لساني واهد قلبي واسلل سخيمة صدري . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگتے تھے۔ (رب اعنی ولا تعن علی وانصرنی ولا تنصر علی وام کرلی ولا تمکر علی واہدنی ویسر الہدا لی وانصرنی علی من بغی علی رب اجعلنی لک شاکرا لک ذاکرا لک راہبا لک مطواعا لک مخبتا الیک اواہا منیبا رب تقبل توبتی واغسل حوبتی واجب دعوتی وثبت حجتی وسدد لسانی وہد قلبی واسلل سخیمۃ صدری)۔ اے پروردگار! میری مدد کر (یعنی اپنے ذکر، شکر اور اپنی عبادت کے حسن کی مجھے توفیق دے میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر (یعنی جو طاقتیں مجھے تیری طاعت عبادت سے باز رکھیں خواہ شیطان ہو، خواہ نفس اور خواہ کفار ان کو مجھ پر غالب نہ کر مجھے فتح دے مجھ پر کسی کو فتحیاب نہ کر (یعنی مجھے کفار پر غالب کر کفار کو مجھ پر غلبہ نہ دے) اور میری مدد کرنے کے دشمنوں کے حق میں میرے لئے مکر کر، میرے ضرر کے لئے مکر نہ کر مجھے سیدھی راہ دکھا سیدھی راہ پر چلنا میرے لئے آسان کر اور اس کے خلاف میری مدد کر جو مجھ پر زیادتی کرے۔ اے میرے رب! مجھے ہر وقت، تیرا شکر گزار (ہر حال میں) تیرا ذکر کرنے والا تجھ سے ڈرنے والا، تیری بہت فرمانبرداری کرنے والا بنا، اے اللہ! میری توبہ قبول کر، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول کر (دنیا و آخرت میں اپنے دشمنوں کے سامنے) میری دلیل و حجت کو ثابت کر، میری زبان کو سچی اور درست رکھ (یعنی اس سے سچ و حقا بات کے علاوہ کچھ نہ نکلے) میرے دل کو ہدایت بخش اور میرے سینہ کی سیاہی دور کر دے۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
مکر کے معنی ہیں فریب۔ لیکن جب اس لفظ کی نسبت اللہ کی طرف ہوتی ہے تو اس سے مراد ہوتا ہے (دشمنان دین اسلام پر ایسی جگہ سے بلاؤں کا اترنا جہاں سے انہیں گمان بھی نہ ہو)۔ سینہ کی سیاہی سے مراد ہے کینہ، بغض، حسد اور اسی قسم کی دوسری خصلتیں۔
ایمان کے بعد عافیت سے بہتر کوئی دولت نہیں
وعن أبي بكر قال : قام رسول الله صلى الله عليه و سلم على المنبر ثم بكى فقال : سلوا الله العفو والعافية فإن أحدا لم يعط بعد اليقين خيرا من العافية . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب إسنادا
حضرت ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے رونے لگے اور پھر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ سے بخشش و عافیت مانگو کیونکہ کسی کو ایقان (ایمان) کے بعد عافیت سے بہتر کوئی عمل نہیں اس روایت کو ترمذی اور ابن ماجہ نے نقل کیا ہے، نیز امام ترمذی نے کہا ہے یہ حدیث باعتبار سند کے حسن غریب ہے۔
تشریح
آنحضرت ﷺ جانتے تھے کہ میری امت کے افراد خواہشات نفس، ہوس و حرص اور غلبہ شہوت کے فتنوں میں مبتلا ہوں گے اس لئے آپ ﷺ اس کے تصور سے بھی رونے لگے کہ جس امت کے لوگوں کو ایمان و ایقان کی دولت اسلام کی ہدایت اور میری تربیت نے ضبط نفس ایثار و استغناء، دیانت و امانت، عزت و خدداری، پاک دامنی و پرہیزگاری کے معیار پر نہ صرف پورا اتارا بلکہ انہیں ان اخلاق حمیدہ اور خصائل شریفہ کا بذات خود معیار بنادیا ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب اسی امت کے لوگ شیطان کے مکر و فریب میں پھنس کر اور اپنے نفس کے تابع ہو کر حرص و ہوس کے مجسمے، بددیانتی و بد کرداری کے پیکر اور خواہشات نفسانیہ کے غلام بن جائیں گے چناچہ آپ ﷺ نے منبر رشد و ہدایت سے یہ حکم فرمایا کہ لوگ اللہ تعالیٰ سے اپنی مغفرت و بخشش کی طلب کریں اور عافیت مانگیں تاکہ پروردگار انہیں ان آفات و بلاء سے محفوظ و مامون رکھے۔ عافیت کے معنی ہیں سلامتی حاصل ہونا دین میں فتنہ سے اور جسم و بدن کو بری بیماریوں، شدید مصائب اور سخت رنج و تکلیف سے۔
وعن أنس أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله أي الدعاء أفضل ؟ قال : سل ربك العافية والمعافاة في الدنيا والآخرة ثم أتاه في اليوم الثاني فقال : يا رسول الله أي الدعاء أفضل ؟ فقال له مثل ذلك ثم أتاه في اليوم الثالث فقال له مثل ذلك قال : فإذا أعطيت العافية والمعافاة في الدنيا والآخرة فقد أفلحت . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب إسنادا
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اپنے رب سے عافیت (یعنی دین و بدن کی سلامتی اور دنیا آخرت میں معافات مانگو) معافات کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں تمہیں لوگوں سے اور لوگوں کو تم سے عافیت و حفاظت میں رکھے۔ وہ شخص پھر دوسرے دن آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے اس سے وہی فرمایا جو (پہلے دن کہا تھا، پھر وہ شخص تیسرے دن آیا) اور اس نے وہی پوچھا آپ ﷺ نے اس کو وہی جواب دیا اور فرمایا کہ اگر تمہیں عافیت اور دنیا و آخرت میں معافات عطا کردی جائے تو تم نجات پا گئے اور تم نے اپنے مقصد کو حاصل کرلیا اس روایت کو ترمذی اور ابن ماجہ نے نقل کیا ہے۔ نیز امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث باعتبار سند کے غریب ہے۔
محبت الٰہی کی طلب کے لئے دعا۔
وعن عبد الله يزيد الخطمي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان يقول في دعائه : اللهم ارزقني حبك وحب من ينفعني حبه عندك اللهم ما رزقتني مما أحب فاجعله قوة لي فيما تحب اللهم ما زويت عني مما أحب فاجعله فراغا ي فيما تحب . رواه الترمذي
حضرت عبداللہ بن یزید خطمی ؓ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنی دعا میں یہ فرمایا کرتے تھے۔ (اللہم ارزقنی حبک وحب من ینفعنی حبہ عندک اللہم ما رزقتنی مما احب فاجعلہ قوۃ لی فیما تحب اللہم ما زویت عنی ممااحب فاجعلہ فراغالی مماتحب)۔ اے اللہ! مجھے نصیب کر اپنی محبت اور اس شخص کی محبت جس کی محبت تیرے نزدیک مجھے نفع دے اے اللہ تو نے مجھے اس چیز میں سے جسے میں پسند کرتا ہوں جو کچھ بھی عطا کیا ہے اس کو میرے لئے اس چیز میں قوت کا سبب بنا جسے تو پسند کرتا ہے۔ (یعنی تو نے مال و زر، عافیت و اطمینان اور دوسری دنیاوی نعمتوں میں سے جو کچھ بھی عطا فرمایا ہے اور ان کو شکر گزاری اور اپنی طاعت کا سبب بنا کہ میں اسے تیری راہ میں اور تیری خوشنودی کے لئے خرچ کرو۔ اے اللہ! تو نے مجھے اس چیز میں سے جسے میں پسند کرتا ہوں جو کچھ نہیں دیا ہے اس کو میرے لئے اس میں فراغت کا سبب بنا جسے تو پسند کرتا ہے۔ (ترمذی)
تشریح
دعا کے آخری جز کا مطلب یہ ہے کہ تو نے مجھے مال و زر میں سے جو کچھ نہیں دیا ہے اس کو میرے لئے اپنی عبادت میں مشغولیت کا سبب بنا کہ مجھے قناعت و توکل کی دولت حاصل رہے اور وہ مال و زر جو مجھے حاصل نہیں ہوا ہے اس سے بےپرواہ ہو کر بغیر مانع کے تیری عبات میں مشغول رہوں اور حاصل دعا کے آخری دونوں جملوں کا یہ ہے کہ اگر تو مجھے دنیا کی نعمتیں عطا کرے تو پھر ان کا شکر ادا کرنے کی توفیق بھی عطا فرما تاکہ میرا شمار شکر کرنے والے اغنیا کے زمرہ میں ہو اور اگر مجھے وہ نعمتیں حاصل نہ ہو تو میرے دل کو فارغ رکھ بایں طور کہ میں ان سے بےپرواہ ہوجاؤں میرا دل ان میں نہ لگا رہے۔ میں پورے اطمینان کے ساتھ تیری عبادت میں مشغول رہوں اور جزع فزع، شکوہ و شکایت نہ کروں تاکہ میرا شمار صبر کرنے والے فقراء میں ہو۔