وعن ابن مسعود أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من كثر همه فليقل : اللهم إني عبدك وابن عبدك وابن أمتك وفي قبضتك ناصيتي بيدك ماض في حكمك عدل في قضاؤك أسألك بكل اسم هو لك سميت به نفسك أو أنزلته في كتابك أو علمته أحدا من خلقك أو ألهمت عبادك أو استأثرت به في مكنون الغيب عندك أن تجعل القرآن ربيع قلبي وجلاء همي وغمي ما قالها عبد قط إلا أذهب الله غمه وأبدله فرجا . رواه رزين
حضرت ابن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کو بہت زیادہ فکروں نے گھیر رکھا ہو اسے چاہئے کہ وہ یہ دعا پڑھے۔ (اللہم انی عبدک وابن عبدک وابن امتک وفی قبضتک ناصیتی بیدک ماض فی حکمک عدل فی قضائک اسئلک بکل اسم ہو لک سمیت بہ نفسک او انزلتہ فی کتابک او علمتہ احدا من خلقک او الہمت عبادک او استأثرت بہ فی مکنون الغیب عند ان تجعل القرآن ربیع قلبی وجلاء ھمی وغمی)۔ اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں، تیری لونڈی کا بیٹا ہوں تیرے قبضہ میں ہوں، یعنی تیری ملک اور تیرے تصرف میں ہوں، میری پیشانی کے بال تیرے ہاتھ میں ہیں تیری مدد کے بغیر مجھے حرکت و سکون کی قوت بھی حاصل نہیں میرے حق میں تیرا حکم جاری ہے۔ یعنی تیرے حکم کو توقف اور کوئی روکنے والا نہیں جو تو کہتا ہے اور چاہتا ہے وہی ہوتا ہے میرے بارے میں تیرا فیصلہ عدل و انصاف ہے۔ یعنی میرے مقدر میں جو کچھ تو نے لکھ دیا ہے وہی عین انصاف ہے میں تجھ سے ہر نام کے وسیلہ سے مانگتا ہوں جسے تو نے اپنی ذات کے لئے اختیار کیا ہے یا اس کو اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا اس کو اپنی مخلوقات میں سے کسی کو سکھایا ہے یعنی کتاب میں ذکر کئے بغیر انبیاء کو الہام کیا ہے یا تو نے اسے اپنے ہاں پردہ غیب میں اختیار کیا ہے یعنی وہ تیرے علاوہ کسی کو معلوم نہیں یہ کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، میری آنکھوں کا نور اور میرے فکر و غم کو دور کرنے والا بنا دے۔ اس دعا کو جو بھی بندہ پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر غم دور کردیتا ہے اور اس کے بدلہ خوشی عطا فرماتا ہے۔ (رزین)
بلندی پر چڑھتے اور اترتے وقت تکبیر وتسبیح پڑھنا
وعن جابر قال : كنا إذا صعدنا كبرنا وإذا نزلنا سبحنا . رواه البخاري
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم بلندی پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب اترتے تو سبحان اللہ کہتے۔ (بخاری)
وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا كربه أمر يقول : يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب وليس بمحفوظ
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو جب معاملہ غمگین کرتا تو آپ ﷺ یہ فرماتے۔ دعا (یا حی یا قیوم برحمتک استغیث)۔ یعنی اے زندہ! اے قائم رکھنے والے میں تیری رحمت کے ذریعہ فریاد رسی چاہتا ہوں۔ اس روایت کو امام ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے یہ حدیث غریب ہے محفوظ نہیں ہے۔
تشریح
اس روایت کو حاکم اور ابن سنی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے۔ نیز حاکم اور نسائی نے اسے حضرت علی ؓ سے بطریق مرفوع نقل کیا ہے جس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ویکرر وہو ساجد یا حی یا قیوم یعنی آپ ﷺ سجدہ میں یا حی یا قیوم بار بار کہتے۔
وعن أبي سعيد الخدري قال : قلنا يوم الخندق : يا رسول الله هل من شيء نقوله ؟ فقد بلغت القلوب الحناجر قال : نعم اللهم استر عوراتنا وآمن روعاتنا قال : فضرب الله وجوه أعدائه بالريح وهزم الله بالريح . رواه أحمد
حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ خندق کے دن ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا کوئی ذکر و دعا ہے جسے ہم پڑھیں اور کامیاب ہوں کیونکہ ہمارے دل گردن کو پہنچ گئے ہیں (یعنی انتہائی دشواریوں اور مشقتوں نے ہمیں گھیر لیا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا ہاں! اور وہ یہ ہے۔ دعا (اللہم استر عوراتنا واٰمن روعاتنا)۔ یعنی اے اللہ ہمارے عیوب کی پردہ پوشی فرما اور ہمیں خوف سے امن میں رکھ! حضرت ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ چناچہ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے منہ پر ہوا کے تھپیڑے مارے اور ہوا ہی کے ذریعہ انہیں شکست دی۔ (احمد)
تشریح
خندق کے دن سے مراد غزوہ خندق ہے جسے غزوہ احزاب بھی کہتے ہیں اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بایں طور اپنی مدد و نصرت سے نوازا کہ ہوا کے تیز و تند تھپیڑے دشمنان دین پر مسلط کردیئے جنہوں نے ان کی ہانڈیاں الٹ دیں، ان کے خیمے اکھاڑ ڈالے اور انہیں طرح طرح کی تکلیفوں اور مصیبتوں میں مبتلا کر کے تباہ و برباد کردیا۔
بازار میں آنحضرت ﷺ کی دعا
وعن بريدة قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا دخل السوق قال : بسم الله اللهم إني أسألك خير هذه السوق وخير ما فيها وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها اللهم إني أعوذ بك أن أصيب فيها صفقة خاسرة . رواه البيهقي في الدعوات الكبير
حضرت بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب بازار میں آتے تو یہ دعا پڑھتے۔ (بسم اللہ اللہم انی اسألک خیر ہذہ السوق وخیر ما فیہا واعوذ بک من شرہا وشر ما فیہا اللہم انی اعوذبک من ان اصیب فیہا صفقۃ خاسرۃ)۔ آیا میں اللہ کے نام کے ساتھ! اے اللہ میں تجھ سے مانگتا ہوں بھلائی اس بازار کی (یعنی حلال رزق میسر ہو اور اس میں نفع و برکت ہو) اور اس چیز کی بھلائی جو اس میں ہے (یعنی لوگ) اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس کی برائی سے اور اس چیز کی برائی سے جو اس میں ہے (یعنی فاسد خریدو فروخت اور نقصان اور فاسد لوگ) اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ اس بازار میں کسی نقصان دہ معاملہ سے دو چار ہوں۔ (بیہقی)
اس باب میں ان دعاؤں پر مشتمل احادیث نقل کی گئی ہیں جن میں اکثر غیر پسندیدہ، غیر شرعی اور نقصان دہ چیزوں اور شیطان کے مکر و فریب سے اللہ رب العزت کی پناہ مانگنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ کلام اللہ پڑھنے سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنا افضل ہے یا استعیذ باللہ اکثر حضرات کہتے ہیں کہ استعیذ باللہ پڑھنا افضل ہے کیونکہ قرآن کریم سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے آیت (واذا قرأت القرآن فاستعذ باللہ)۔ تاہم احادیث وآثار سے چونکہ اعوذ باللہ پڑھنا بھی ثابت ہے اس لئے اس کو پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
بلاء، بدبختی، بری تقدیر، اور دشمن کی خوشی سے اللہ کی پناہ مانگو
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم تعوذوا بالله من جهد البلاء ودرك الشقاء وسوء القضاء وشماتة الأعداء
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ بلاء کی مشقت سے بدبختی کے پہنچنے سے، بری تقدر سے اور دشمنوں کے خوش ہونے سے اللہ کی پناہ مانگو۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
بلاء اس حالت کو کہتے ہیں جس میں انسان امتحان و آزمائش کے سخت کوش مرحلہ سے دوچار اور فتنہ دین و دنیا کی گٹھنا ئیوں اور دشواریوں میں مبتلا ہوتا ہے۔ جہد کے معنی ہیں مشقت وغایت لہٰذا جہد البلاء وبلاء کی مشقت سے مراد دین و دنیا کی وہ مصیبتیں ہیں جن میں انسان مبتلا ہوتا ہے اور وہ نہ صرف ان کو دور کرنے پر قادر نہیں ہوتا بلکہ ان مصیبتوں کے آنے پر بھی صبر نہیں کرسکتا۔ بری تقدیر سے مراد وہ چیز ہے جو انسان کے حق میں بری اور ناپسندیدہ ہو، اسی طرح دشمن کی خوشی سے پناہ مانگنے سے مراد یہ ہے کہ دین و دنیا کی کسی بھی ایسی مصیبت میں مبتلا نہ ہونے پائے جس سے دشمن خوش ہوتا ہو۔ بہرکیف اس حدیث میں جن چیزوں سے پناہ مانگنے کے لئے فرمایا جا رہا ہے اس میں غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ اس حدیث میں ایک ایسی جامع دعا کی طرف راہنمائی کی گئی ہے جو تمام دینی اور دنیوی مقاصد ومطالب پر حاوی ہے۔
آنحضرت ﷺ کن چیزوں سے پناہ مانگتے تھے
وعن أنس قال كان النبي صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والجبن والبخل وضلع الدين وغلبة الرجال
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ دعا (اللہم انی اعوذبک من الہم والحزن والعجز والکسل والجبن والبخل وضلع الدین وغلبۃ الرجال)۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ فکر سے، غم سے، عاجز ہونے سے، سستی سے، نامردی سے، بخل سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں (یعنی ظالموں) کے غلبہ سے۔ (بخاری ومسلم)
آنحضرت ﷺ کن چیزوں سے پناہ مانگتے تھے
وعن عائشة قالت : كان النبي صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمغرم والمأثم اللهم إني أعوذ بك من عذاب النار وفتنة النار وفتنة القبر وعذاب القبر ومن شر فتنة الغنى ومن شر فتنة الفقر ومن شر فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل خطاياي بماء الثلج والبرد ونق قلبي كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ بارگاہ رب العزت میں یوں عرض کیا کرتے تھے۔ دعا (اللہم انی اعوذبک من الکسل والہرم والمغرم والمأثم اللہم انی اعوذ بک من عذاب النار وفتنۃ النار وفتنۃ القبر و عذاب القبر ومن شر فتنۃ الغنی ومن شر فتنۃ الفقر ومن شر فتنۃ المسیح الدجال اللہم اغسل خطایای بماء الثلج والبرد ونق قلبی کما ینقی الثوب الابیض من الدنس وباعد بینی وبین خطایای کما باعدت بین المشرق والمغرب۔ اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں، طاعت میں سستی سے، بڑھاپے کے سبب سے مخبوط الحو اس اور اعضاء کے ناکارہ ہونے سے تاوان یا قرض سے اور گناہ سے، اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں آگ کے عذاب سے اور عذاب کے فتنہ سے۔ قبر کے فتنہ اور قبر کے عذاب سے، دولت کے فتنہ سے اور برائی سے، فقر کے فتنہ کی برائی سے اور کانے دجال کے فتنہ سے اے اللہ۔ برف اور اولے کے پانی سے میرے گناہ دھو دے (یعنی طرح طرح مغفرتوں کے ذریعہ مجھے گناہوں سے پاک کر دے جس طرح برف اور اولے کا پانی میل کچیل کو صاف کرتا ہے اور میرے دل کو برے اخلاق اور برے خیالات سے پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا پانی سے صاف کیا جاتا ہے اور میرے گناہوں کے درمیان اسی طرح بعد پیدا کر دے جس طرح تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان بعد پیدا کیا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
پناہ مانگتاہوں آگ کے عذاب سے کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میرا شمار ان لوگوں میں ہو جو دوزخی ہیں یا کفار۔ اس موقع پر یہ بات جان لینی چاہئے کہ عذاب الٰہی میں صرف کفار ہی مبتلا ہوں گے چناچہ موحدین جو اپنی بد عملیوں کی سزا آخرت میں پائیں گے اسے عذاب نہیں کہا جاتا بلکہ وہ تادیب ہے یعنی اگر ان کو دوزخ کی آگ میں ڈالا جائے گا اور ایسا عذاب کے لئے نہیں بلکہ تادیب یعنی ان کے گناہوں کو دھونے اور ختم کرنے کے لئے ہوگا۔ آگ کے فتنہ سے مراد وہ چیزیں ہیں جو آگ اور قبر کے عذاب کا باعث بنتی ہیں یعنی گناہ و معصیت۔ قبر کے فتنہ سے مراد ہے منکر و نکیر کے سوالات کا جواب دیتے وقت حو اس باختہ ہونا۔ قبر کے عذاب سے مراد ہے، فرشتوں کا، ان لوگوں کو لوہے کے گرزوں سے مارنا اور ان کا عذاب میں مبتلا ہونا۔ جو منکر نکیر کے سوالات کا جواب نہ دے سکیں گے۔ قبر سے مراد ہے عالم برزخ چاہے وہ قبر ہو یا کچھ اور ہو دولت کے فتنہ سے مراد ہے تکبر و سرکشی کرنا مال و زر حرام ذرائع سے حاصل کرنا اور ان کو گناہ کی جگہ خرچ کرنا اور مال و جاہ پر بےجا فخر کرنا اسی طرح فخر کے فتنے سے مراد ہے۔ دولت مندوں پر حسد کرنا، ان کے مال و زر کی ہوس اور طمع رکھنا، اس چیز پر راضی نہ ہونا جو اللہ نے اس کی قسمت میں لکھ دی ہے یعنی فقر اور اسی قسم کی وہ تمام چیزیں جو صبر و توکل اور قناعت کے منافی ہیں۔ اب آخر میں یہ بات بطور خاص ذہن نشین کرلیجئے۔ کہ آنحضرت ﷺ کا ان تمام چیزوں سے پناہ مانگنا اس کے معنی میں نہیں تھا کہ نعوذ باللہ آپ ﷺ ان چیزوں میں مبتلا تھے، یا ان میں مبتلا ہونے کا خوف تھا۔ کیونکہ آپ ﷺ معصوم تھے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو دائمی طور پر ان تمام چیزوں سے امن و حفاظت میں رکھا تھا بلکہ ان چیزوں سے پناہ مانگنا تعلیم امت کے طور پر تھا کہ امت کے لوگ ان چیزوں سے پناہ مانگیں اور ان سے بچیں۔
آنحضرت ﷺ کن چیزوں سے پناہ مانگتے تھے
وعن زيد بن أرقم قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم إني أعوذ بك من العجز والكسل والجبن والبخل والهرم وعذاب القبر اللهم آت نفسي تقواها وزكها أنت خير من زكاها أنت وليها ومولاها اللهم إني أعوذ بك من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعوة لا يستجاب لها . رواه مسلم
حضرت زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ دعا (اللہم انی اعوذبک من العجز والکسل والجبن والبخل والھرم و عذاب القبر اللہم اٰت نفسی تقواہا وزکہا انت خیر من زکھا انت ولیہا ومولاہا اللہم انی اعوذبک من علم لا ینفع ومن قلب لا یخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعوۃ لا یستجاب لہا)۔ اے اللہ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں عاجزی یعنی طاعت پر قادر نہ ہو کر اچھے کاموں میں سستی سے، نامردی سے، بخل سے، بڑھاپے کے سبب اعضاء کے ناکارہ اور حو اس باختہ ہونے سے اور قبر کے عذاب یعنی قبر کی تنگی، وہاں کی وحشت گرزوں کے مارے جانے سے، بچھوؤں کے ڈنگ مارنے، سانپوں کے ڈسنے اور اسی قسم کی دوسری ہولناکیوں سے اے اللہ میرے نفس کو اس کی پرہیزگاری عطا کر اور اس کو پاک کر، کیونکہ اس کو پاک کرنے والوں میں تیری ہی ذات بہترین ہے تو ہی اس کا کارساز اور مالک ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو نفع بخش نہ ہو اس دل سے جو نہ ڈرے (یا اسے ذکر اللہ سے تسکین نہ) اس نفس سے جو سیر نہ ہو (یعنی حریص ہو اللہ نے جو کچھ دیا ہے اس پر قناعت نہ کرے اور اس دعا سے جو مرتبہ قبولیت کو نہ پہنچے۔ (مسلم)
تشریح
غیر نفع بخش علم سے پناہ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ میں اس علم سے پناہ مانگتا ہوں جس پر عمل نہ کروں جو دوسروں کو نہ سکھاؤں اور جو اخلاق و افعال کو نہ سدھارے، یا پھر اس سے وہ علم مراد ہے جو دین کے لئے ضروری نہ ہو اس طرح وہ علم بھی مراد ہوسکتا ہے جس کو حاصل کرنے کی شریعت نے اجازت نہیں دی ہے۔ حضرت ابوطالب مکی فرماتے ہیں کہ جس طرح آنحضرت ﷺ نے شرک، نفاق اور برے افعال سے پناہ مانگی ہے اسی طرح آپ ﷺ نے علم کی (اس ایک قسم سے پناہ مانگی جو اسلامی عقائد و اعمال کے نقطہ نظر سے مضر ہے اور جو انسان کو تقویٰ اور خوف آخرت کی راہ پر لگانے کی بجائے دنیا کی حرص و محبت اللہ کے راستہ پر لے جائے چناچہ جس علم کے ساتھ تقویٰ اور خوف آخرت نہ ہو وہ دنیا کے دروازوں میں سے ایک دروازہ اور دنیاداری کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔
آنحضرت ﷺ کن چیزوں سے پناہ مانگتے تھے
وعن عبد بن عمر قال : كان من دعاء رسول الله صلى الله عليه سوسلم : اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك وتحول عافيتك وفجاءة نقمتك وجميع سخطك . رواه مسلم
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی دعاؤں میں ایک دعا یہ بھی ہوتی تھی۔ دعا (اللہم انی اعوذبک من زوال نعمتک وتحول عافیتک وفجاءۃ نعمتک و جمیع سخطک)۔ اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیری نعمت کے جاتے رہنے سے اور نعمت سے مراد ایمان و اسلام و نیکیاں اور عرفان ہے تیری عافیت کی تبدیلی سے مثلاً صحت کے بدلے بیمار اور غنا کے بدلے محتاجگی ہوجانے سے تیرے ناگہانی عذاب سے اور تمام غصوں سے۔ (مسلم )
آنحضرت ﷺ کن چیزوں سے پناہ مانگتے تھے
وعن عائشة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم إني أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل . رواه مسلم
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے دعا (اللہم انی اعوذبک من شر ما عملت ومن شر مالم اعمل)۔ اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس کام کی برائی سے جو میں نے کیا اور اس کام کی برائی سے جو میں نے نہیں کیا۔ (مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ میں نے جو برے کام کئے ہیں ان سے بھی پناہ مانگتا ہوں بایں معنی کہ ان کی وجہ سے عذاب میں مبتلا نہ ہوجاؤں اور وہ برے کام معاف فرما دئیے جائیں اور جو کام نہیں کئے ہیں ان سے بھی پناہ مانگتا ہوں بایں معنی کہ آئندہ ایسا کوئی کام نہ کرو جو تیری ناراضگی و خوشی کا باعث ہو یا یہ کہ برے کاموں کے ترک کو اپنا کمال نہ سمجھوں بلکہ اسے صرف تیرا فضل جانوں۔
آنحضرت ﷺ کن چیزوں سے پناہ مانگتے تھے
وعن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : اللهم لك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت وإليك أنبت وبك خاصمت اللهم إني أعوذ بعزتك لا إله إلا أنت أن تضلني أنت الحي الذي لا يموت والجن والإنس يموتون
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ یہ دعا کرتے تھے۔ اللہم لک اسلمت وبک اٰمنت وعلیک توکلت والیک انبت وبک خاصمت اللہم انی اعوذ بعزتک لاالہ الا انت من ان تضلنی انت الحی الذی لا یموت والجن والانس یموتون)۔ اے اللہ میں نے تیری اطاعت کی، میں تجھی پر ایمان لایا، میں نے تجھی پر توکل کیا، میں نے تیری ہی طرف رجوع کیا (یعنی گناہوں کو چھوڑ کر تیری ہی طرف متوجہ ہوا اور میں تیری مدد سے کافروں سے لڑتا ہوں۔ اے اللہ میں تیری عزت کے واسطے سے تیری پناہ مانگتا ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں، اس سے کہ گمراہ کرے تو مجھ کو تو زندہ ہے ایسا کہ تو نہیں مرے گا اور تمام جن انسان مریں گے۔ (بخاری)
آنحضرت ﷺ کن چیزوں سے پناہ مانگتے تھے
عن أبي هريرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم إني أعوذ بك من الأربع : من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعاء لا يسمع . رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ یوں دعا مانگتے تھے۔ دعا (اللہم انی اعوذبک من الاربع من علم لا ینفع ومن قلب لا یخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعاء لا یسمع)۔ اے اللہ میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو نفع نہ دے اس دل سے جو عاجزی نہ کرے اس نفس سے جو سیر نہ ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ کی جائے۔ (احمد، ابوداؤد، و ابن ماجہ) نیز اس روایت کو ترمذی نے حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ دونوں سے روایت کیا ہے۔
آنحضرت ﷺ کن چیزوں سے پناہ مانگتے تھے
وعن عمر قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يتعوذ من خمس : من الجبن والبخل وسوء العمر وفتنة الصدر وعذاب القبر . رواه أبو داود والنسائي
حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ پانچ چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ (١) نامردی سے۔ (٢) بخل سے (٣) عمر کی برائی سے یعنی عمر کی اتنی زیادتی سے کہ آخر میں قویٰ اور حو اس میں فرق آجائے اور عبادت وطاعت کی قوت نہ رہے۔ (٤) سینہ کے فتنہ سے یعنی اس چیز سے کہ سینہ کے اندر برے اخلاق اور برے عقائد جاگزیں ہوں یا حق بات قبول نہ ہو اور بلاؤں کا متحمل نہ ہو (٥) قبر کے عذاب سے۔ (ابوداؤد، نسائی)
آنحضرت ﷺ کن چیزوں سے پناہ مانگتے تھے
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : اللهم إني أعوذ بك من الفقر والقلة والذلة وأعوذ من أن أظلم أو أظلم رواه أبو داود والنسائي
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ یہ دعا کرتے۔ (اللہم انی اعوذبک من الفقر والقلۃ والذلۃ واعوذبک من ان اظلم او اظلم)۔ اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں، محتاجگی سے، قلت سے، ذلت سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے۔ (ابوداؤد، نسائی)
تشریح
محتاجگی سے مراد دل کی محتاجگی ہے یعنی دل مال و زر جمع کرنے کا حریص ہو، یا اس سے مراد مال کی محتاجگی (افلاس ہے کہ اس کی وجہ سے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے۔ لہٰذا حقیقت تو یہ ہے کہ آپ ﷺ نے محتاجگی کے فتنہ سے پناہ مانگی خواہ وہ دل کی محتاجگی ہو یا مال کی۔ قلت سے مراد نیکیوں کی قلت (کمی) ہے مال و زر کی قلت مراد نہیں ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ تو خود مال و زر میں قلت و کمی رکھتے تھے۔ اور مال کی کثرت و زیادتی کو ناپسند فرماتے تھے، یا پھر قلت سے مال کی اتنی قلت مراد ہے کہ وہ قوت لایموت (بقدر بقاء زندگی غذا کے لئے بھی کافی نہ ہو جس کی وجہ سے عبادات میں کوتاہی اور نقصان واقع ہو، بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہاں صبر کی کمی مراد ہے۔ ذلت سے مراد گناہوں کے نتیجہ میں ملنے والی ذلت ہے گنہگار اللہ تعالیٰ کے ہاں ذلیل ہوتا ہے یا پھر مالداروں کی مفلسی یا غربت کی بناء پر ذلیل ہونا مراد ہے۔
آنحضرت ﷺ کن چیزوں سے پناہ مانگتے تھے
وعنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : اللهم إني أعوذ بك من الشقاق والنفاق وسوء الأخلاق . رواه أبو داود والنسائي
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ دعا کرتے۔ (اللہم انی اعوذبک من الشقاق والنفاق وسوء الاخلاق) اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں، اختلاف سے، نفاق سے اور برے اخلاق سے۔ (ابوداؤد، نسائی)
تشریح
خلاف سے مراد ہے حق کی مخالفت اور بعض حضرات نے کہا کہ آپس میں اختلاف و عداوت مراد ہے۔ نفاق سے نفاق کی تمام قسمیں مراد ہیں خواہ عقیدہ میں نفاق ہو یا عمل میں۔ مثلاً دل میں کفر و شرک کی تاریکی رکھنا اور زبان سے اسلام کا اظہار کرنا، کسی سے زبان سے تو کچھ کہنا اور دل میں کچھ رکھنا، بہت زیادہ جھوٹ بولنا، امانت میں خیانت کرنا اور وعدہ کے خلاف کرنا، وغیرہ وغیرہ۔
آنحضرت ﷺ کن چیزوں سے پناہ مانگتے تھے
وعنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : اللهم إني أعوذ بك من الجوع فإنه بئس الضجيع وأعوذ بك من الخيانة فإنها بئست البطانة . رواه أبو داود والنسائي وابن ماجه
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ یہ دعا فرماتے تھے۔ (اللہم انی اعوزبک من الجوع فانہ بئس الضجیع واعوذبک من الخیانۃ فانہا بئست البطانۃ)۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بھوک سے کہ وہ بدترین ہم خواب ہے اور تیری پناہ مانگتا ہوں خیانت سے کہ وہ باطن کی بدترین خصلت ہے۔ (ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ)
تشریح
بھوک سے اس لئے پناہ مانگی کہ اس کی وجہ سے انسان کے بد، قوی اور حواس میں کمزوری ہوجاتی ہے اور اس کا اثر عبادت میں نقصان اور حضوری میں خلل کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے لہٰذا بد ترین بھوک وہی ہے جو نقصان و خلل کا باعث بنے اور اکثر ہو جب کہ وہ بھوک جو ریاضت و مجاہدہ کے مقصد سے بطریق اعتدال اور اپنی حالت کے موافق ہو بدترین نہیں ہے۔ بلکہ وہ باطن کی صفائی دل کی نورانیت اور بیماریوں سے بدن کی صحت و سلامتی کا سبب ہے۔ خیانت سے مراد ہے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا ارتکاب کرنا اور لوگوں کے اموال اور ان کے رازوں میں بےایمانی و خیانت کرنا چناچہ قرآن کریم کی یہ آیت اسی پر دلالت کرتی ہے۔ آیت (يٰ اَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْ ا اَمٰنٰتِكُمْ ) 8۔ الانفال 27)۔ اے ایمان والو! نافرمانی کے ذریعہ اللہ اور رسول کے حق میں خیانت نہ کرو اور نہ اپنے اموال میں خیانت کرو۔
آنحضرت ﷺ کن چیزوں سے پناہ مانگتے تھے
وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : اللهم إني أعوذ بك من البرص والجذام والجنون ومن سيئ الأسقام . رواه أبو داود والنسائي
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ یہ دعا مانگتے تھے (اللہم انی اعوذبک من البرص والجذام والجنون ومن سییء الاسقام)۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کوڑھ سے، جذام سے دیوانگی سے اور بری بیماریوں سے، (ابوداؤد، نسائی)
تشریح
سییء الاسقام (بری بیماریوں) کا ذکر تعمیم بعد تخصیص کے طور پر ہے یعنی پہلے تو آپ ﷺ نے خاص طور پر چند بری بیماریوں کا نام لیتے ہوئے پناہ مانگی۔ پھر عام طور پر ہر بری بیماری مثلاً استسقاء اور دق وغیرہ سے پناہ مانگی۔ ان بیماریوں سے آپ ﷺ نے پناہ اس لئے مانگی کہ جس شخص کو ان میں سے کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے اکثر لوگ اس سے گھبراتے ہیں اور اس کے پاس اٹھنے بیٹھنے سے بھی پرہیز کرتے ہیں۔ نیز برص اور کوڑھ تو ایسے مرض ہیں جن کی وجہ سے مریض کا جسم بد ہیئتی اور بدنمائی کا شکار ہوجاتا ہے اس طرح وہ جسم کے معاملہ میں اپنے ہی جیسے انسانوں کی صف سے باہر ہوجاتا ہے پھر یہ کہ مرض ہمیشہ کے لئے چپک کر رہ جاتے ہیں جو کبھی اچھے نہیں ہوتے برخلاف اور امراض کے مثلاً بخار، سردرد وغیرہ کا یہ حال نہیں ہوتا ان میں تکلیف بھی کم ہوتی ہے اور ثواب بھی بہت ملتا ہے۔ ابن مالک (رح) کہتے ہیں کہ اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جو مرض ایسا ہو کہ لوگ مریض سے احتراز کرتے ہوں۔ نہ خود مریض دوسروں سے منقطع ہوسکتا ہو اور نہ دوسرے اس سے کوئی فائدہ حاصل کرسکتے ہوں اور مریض اس مرض کی وجہ سے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی سے عاجز ہوجاتا ہو تو اس مرض سے پناہ مانگنی مستحب ہے۔ علماء کا خیال یہ ہے کہ اور جذام بالطبع متعدی نہیں ہیں یعنی یہ مرض کسی کو از خود نہیں لگتے مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوڑھی کے بدن سے اپنا بدن لگانے کی وجہ سے جذامی کی پیپ لگ کر یہ بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔
آنحضرت ﷺ کن چیزوں سے پناہ مانگتے تھے
وعن قطبة بن مالك قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم إني أعوذ بك من منكرات الأخلاق والأعمال والأهواء . رواه الترمذي
حضرت قطبہ بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فرماتے۔ (اللھم انی اعوذبک من منکرات الاخلاق والاعمال والاہواء)۔ اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں برے اخلاق سے برے اعمال سے اور بری خواہشات سے۔ (ترمذی)
تشریح
منکر اسے کہتے ہیں کہ جسے شریعت نے بھلائی میں شمار نہ کیا ہو یا شریعت نے جس کی برائی بیان کی ہو۔ اخلاق سے مراد باطنی اعمال ہیں لہٰذا منکر الاخلاق سے پناہ مانگنے کا مطلب یہ ہوا کہ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دل کے برے اعمال سے مثلا حسد وکینہ وغیرہ سے۔ برے اعمال سے مراد ظاہری برے افعال ہیں اور بری خواہشات سے مراد برے عقائد اور غلط افکار و نظریات ہیں۔