Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 124 of 317

2461Mishkaat-al-Masabih

دنیا کی نعمت پوری نعمت نہیں ہے

وعن معاذ بن جبل قال : سمع النبي صلى الله عليه و سلم رجلا يدعو يقول : اللهم إني أسألك تمام النعمة فقال : أي شيء تمام النعمة ؟ قال : دعوة أرجو بها خيرا فقال : إن من تمام النعمة دخول الجنة والفوز من النار . وسمع رجلا يقول : يا ذا الجلال والإكرام فقال : قد استجيب لك فسل . وسمع النبي صلى الله عليه و سلم رجلا وهو يقول : اللهم إني أسألك الصبر فقال : سألت الله البلاء فاسأله العافية . رواه الترمذي

حضرت معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو دعا مانگتے سنا جو اس طرح کہہ رہا تھا اے اللہ میں تجھ سے پوری نعمت مانگتا ہوں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا پوری نعمت کیا چیز ہے؟ اس شخص نے کہا یہ دعا ہے جس کے ذریعہ میں زیادہ مال کے حصول کی امید رکھتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نادان! جان لے جنت میں داخل ہونا اور دو خ سے نجات پانا پوری نعمت ہے۔ نیز آپ ﷺ نے ایک شخص کو دعا مانگتے سنا جو بارگاہ حق میں ان الفاظ کے ذریعہ عرض رساں تھا یا ذالجلال والاکرام یعنی اے بزرگی و بخشش کے مالک آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری دعا قبول کی گئی لہٰذا جو مانگنا ہو مانگ لو۔ ایک دفعہ آپ ﷺ نے سنا ایک شخص یہ دعا مانگ رہا تھا اے اللہ میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں۔ آپ نے فرمایا تم تو اللہ تعالیٰ سے بلا مانگ رہے ہو۔ حالانکہ چاہئے تھا کہ تم اس سے عافیت مانگو۔ (ترمذی) تشریح حدیث کے پہلے جز کا حاصل یہ ہے کہ وہ شخص دنیا کی نعمت کو پوری نعمت سمجھ کر اللہ تعالیٰ سے اس کے حصول کی دعا مانگ رہا تھا چناچہ آنحضرت ﷺ نے اسے متنبہ فرمایا کہ دنیا کی نعمت ایسی نعمت نہیں ہے جس کو اس طرح طلب کیا جائے کیونکہ یہ فنا ہوجانے والی ہے پوری نعمت اور حقیقی نعمت تو جنت میں داخل ہونا اور دوزخ سے نجات پانا ہے اس لئے اس نعمت کے حصول کی دعا مانگنی چاہئے۔ حدیث کے آخری جز کا حاصل یہ ہے کہ وہ شخص صبر مانگ رہا تھا ظاہر ہے صبر کی ضرورت مصیبت و بلاء کے بعد ہی ہوتی ہے اس لئے صبر مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ بالواسطہ بلا مانگ رہا تھا۔ چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا صبر نہ مانگو کیونکہ اس طرح بلاء کا مانگنا مفہوم ہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو کہ وہ تمہیں تمام مصائب اور تمام بلاؤں سے محفوظ رکھے۔ ہاں اگر کسی مصیبت و بلاء میں مبتلا ہو تو پھر صبر کی طاقت مانگنا اور بلاء و مصیبت پر صبر کرنا چاہئے۔

2462Mishkaat-al-Masabih

کفار ۃ المجلس

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من جلس مجلسا فكثر فيه لغطه فقال قبل أن يقوم : سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك إلا غفر له ما كان في مجلسه ذلك . رواه الترمذي والبيهقي في الدعوات الكبير

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی ایسی مجلس میں شریک ہو جہاں بےفائدہ باتیں ہو رہی ہوں اور وہاں سے اٹھنے سے پہلے یہ دعا پڑھے تو اس مجلس میں جو کچھ ہوا وہ اس کے لئے بخش دیا جاتا ہے (دعا یہ ہے) سبحانک اللہم وبحمدک اشہد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک) یعنی تو پاک ہے اے الٰہی اور تیری تعریف کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور میں تیرے سامنے توبہ کرتا ہوں۔ ترمذی، بیہقی) تشریح لفظ لغط سے یہاں مراد ایسا کلام ہے اور ایسی بات چیت ہے جس کی وجہ سے گناہ ہوتا ہو اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ لغط کے معنی ہیں بےفائدہ کلام، بہرکیف حدیث بالا میں جو دعا ذکر کی گئی ہے اسے کفارۃ المجلس کہتے ہیں یعنی جس مجلس میں گناہ یا بےفائدہ باتیں ہوتی ہوں یا ہنسی ٹھٹھا ہوا ہو تو اس دعا کے پڑھنے سے اللہ تعالیٰ ان چیزوں کو معاف کردیتا ہے گویا یہ مجلس کی غیر شرع اور غیر پسندیدہ باتوں کا کفارہ ہوجاتی ہے۔

2463Mishkaat-al-Masabih

سوار ہونے کی دعا

وعن علي : أنه أتي بدابة ليركبها فلما وضع رجله في الركاب قال : بسم الله فلما استوى على ظهرها قال : الحمد لله ثم قال : ( سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون ) ثم قال : الحمد لله ثلاثا والله أكبر ثلاثا سبحانك إني ظلمت نفسي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت ثم ضحك فقيل : من أي شيء ضحكت يا أمير المؤمنين ؟ قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم صنع كما صنعت ثم ضحك فقلت : من أي شيء ضحكت يا رسول الله ؟ قال : إن ربك ليعجب من عبده إذا قال : رب اغفر لي ذنوبي يقول : يعلم أنه لا يغفر الذنوب غيري رواه أحمد والترمذي وأبو داود

حضرت علی ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ ان کی خدمت میں سواری کا جانور لایا گیا تاکہ وہ اس پر سوار ہوں چناچہ انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں ڈالا یعنی (سوار ہونے کے لئے رکاب میں پاؤں ڈالنے کا ارادہ کیا) تو کہا بسم اللہ پھر جب اس کی پیٹھ پر چڑھے تو کہا الحمدللہ یعنی سواری کی نعمتوں اور اس کے علاوہ دوسری نعمتوں پر اللہ کا شکر ہے۔ اور پھر یہ کلمات پڑھے آیت (سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون) (یعنی پاک ہے وہ ذات جس نے اس جانور کو ہمارا تابعدار کیا جب کہ ہمیں اس کی طاقت حاصل نہیں تھی اور بلاشبہ ہم اپنے پروردگار کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں) اس کے بعد انہوں نے تین مرتبہ الحمدللہ اور تین بار اللہ اکبر کہہ کر یہ پڑھا سبحانک انی ظلمت نفسی فاغفرلی فانہ لایغفر الذنوب الا انت (یعنی اے پروردگار تو پاک ہے بیشک میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے پس تو مجھے بخش دے بلاشک گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی بخشنے والا نہیں ہے) پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہنسے ان سے پوچھا گیا کہ امیر المؤمنین آپ کیوں ہنسے ہیں؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا میں نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا آپ ﷺ نے اسی طرح کیا جس طرح میں نے کیا اور پھر آپ ﷺ ہنسے میں نے عرض کیا! یا رسول اللہ! آپ کس چیز کی وجہ سے ہنسے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تمہارا پروردگار! اپنے بندہ سے راضی ہوتا ہے جب وہ یہ کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار میرے لئے گناہوں کو بخش دے۔ چناچہ جب بندہ پروردگار سے بخشش چاہتا ہے تو پروردگار فرماتا ہے کہ یہ بندہ جانتا ہے کہ گناہوں کو میرے سوا کوئی نہیں بخشتا۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد) تشریح نبی کریم ﷺ تو اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی وجہ سے ہنسے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ہنسنا آنحضرت ﷺ کی اتباع اور پیروی کی بناء پر تھا۔

2464Mishkaat-al-Masabih

دعاء رخصت ووداع

وعن ابن عمر قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا ودع رجلا أخذ بيده فلا يدعها حتى يكون الرجل هو يدع يد النبي صلى الله عليه و سلم ويقول : أستودع الله دينك وأمانتك وآخر عملك وفي رواية خواتيم عملك . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه وفي روايتهما لم يذكر : وآخر عملك

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب کسی شخص (مسافر) کو رخصت کرتے تو آپ ﷺ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھ میں لیتے اور اس کے ہاتھ کو اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک کہ وہ آنحضرت ﷺ کے دست مبارک کو نہ چھوڑ دیتا (یعنی آپ ﷺ بسبب حسن اخلاق و تواضع ایسا کرتے) اور پھر فرماتے استودع اللہ دینک وامانتک واخر عملک (میں نے تیرا دین، تیری امانت اور تیرا آخری عمل اللہ کے سپرد کیا (یعنی میں تیرے دین اور تیری امانت کی حفاظت کا طلبگار ہوں اور اللہ کرے تیرا خاتمہ بخیر ہو) اور ایک روایت میں واخر عملک کی بجائے وخواتیم عملک ہے یعنی تیرے آخری اعمال میں بھی اللہ کے سپرد کرتا ہوں (دونوں کا مطلب ایک ہی ہے) اس روایت کو ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے نقل کیا ہے لیکن ابوداؤد اور ابن ماجہ کی روایتوں میں واخر عملک کے الفاظ نہیں ہیں) تشریح امانت سے مراد وہ اموال ہیں جن سے لوگوں کے ساتھ لین دین کیا جاتا ہے اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ امانت سے مراد وہ اہل و اولاد ہیں جنہیں مسافر گھر میں چھوڑ کر راہ سفر اختیار کرتا ہے۔

2465Mishkaat-al-Masabih

دعاء رخصت ووداع

وعن عبد الله الخطمي قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أراد أن يستودع الجيش قال : أستودع الله دينكم وأمانتكم وخواتيم أعمالكم . رواه أبو داود

حضرت عبداللہ خطمی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب لشکر کو رخصت کرنے کا ارادہ فرماتے تو دعا فرماتے میں نے تمہارا دین، تمہاری امانت اور تمہارا آخری عمل اللہ کو سونپا۔

2466Mishkaat-al-Masabih

دعاء رخصت ووداع

وعن أنس قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : يا رسول الله إني أريد سفرا فزودني فقال : زودك الله التقوى . قال : زدني قال : وغفر ذنبك قال : زدني بأبي أنت وأمي قال : ويسر لك الخير حيثما كنت . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں سفر میں روانہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہوں مجھے توشہ عنایت فرمائیے (یعنی میرے لئے دعا فرمائیے) تاکہ اس کی برکت سفر میں توشہ کی مانند میرے ساتھ ہو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تقویٰ کو تمہارا توشہ بنائے (یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں پرہیزگاری نصیب کرے کہ یہ راہ آخرت کا توشہ ہے اس نے عرض کیا کہ آپ پر میرے ماں باپ قربان، میرے لئے مزید کوئی دعا کیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اور تم جہاں کہیں بھی رہو اللہ تعالیٰ دین و دنیا کی بھلائی کو تمہارے لئے آسان کرے اور اس کی توفیق بخشے، امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔

2467Mishkaat-al-Masabih

دعاء رخصت ووداع

وعن أبي هريرة قال : إن رجلا قال : يا رسول الله إني أريد أن أسافر فأوصني قال : عليك بتقوى الله والتكبير على كل شرف . قال : فلما ولى الرجل قال : اللهم اطو له البعد وهون عليه السفر . رواه الترمذي

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں سفر میں جانے کا ارادہ رکھتا ہوں مجھے کوئی نصیحت فرمائیے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ سے ڈرنے کو اور راہ سفر میں ہر بلند جگہ اللہ اکبر کہنے کو اپنے اوپر لازم کرو پھر جب وہ شخص آپ ﷺ کے پاس سے واپس ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ اس کے لئے سفر کی درازی کو لپیٹ دے (یعنی اس کی دراز مسافت کو مختصر فرما کر سفر کی مشقتوں کو دور کر دے اور اس کے سفر کے تمام امور کو اس پر آسان کر دے۔ (ترمذی) تشریح علیک بتقویٰ اللہ کا مطلب یہ ہے کہ خوف و خشیت الٰہی اختیار کرو یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرو، شرک و گناہ اور شبہ کی چیزوں کو ترک کرو اور ایسی چیزوں کو بھی اختیار نہ کرو جو ضرورت و حاجت سے زاید ہوں۔ عبادت و ذکر اللہ میں غفلت اور ماسوی اللہ کے دھیان سے بچو، نیز اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو حاجت روا اور مشکل کشا نہ جانو اور نہ غیر اللہ پر اعتماد کرو۔

2468Mishkaat-al-Masabih

سفر میں رات کے وقت آپ ﷺ کی دعا

وعن ابن عمر قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا سافر فأقبل الليل قال : يا أرض ربي وربك الله أعوذ بالله من شرك وشر ما فيك وشر ما خلق فيك وشر ما يدب عليك وأعوذ بالله من أسد وأسود ومن الحية والعقرب ومن شر ساكن البلد ومن والد وما ولد . رواه أبو داود

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب سفر کرتے اور رات آتی تو آپ ﷺ یہ فرماتے اے زمین میرا اور تیرا پروردگار اللہ ہے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں تیری ذات کی برائی سے مثلاً خسف وغیرہ سے اور اس چیز کی برائی سے جو تیرے اندر ہے جیسے پانی یا تجھ سے پیدا ہونے والی ایسی بوٹی وغیرہ جو کسی کو ہلاک کر دے اور اس چیز کی برائی سے جو تجھ میں پیدا کی گئی ہے جیسے زہریلے جانور اور ہلاک کردینے والی چیزیں اور ان چیزوں کی برائی سے جو تجھ پر چلتی پھرتی ہیں جیسے حشرات الارض اور حیوانات جو ضرر پہنچاتے ہیں اور اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیر سے، کالے سانپ سے دوسرے قسم کے سانپوں سے اور بچھو سے اور آبادی میں رہنے والوں کی برائی سے (بعض حضرات کہتے ہیں ان سے مراد جنات ہیں جو ہر آبادی اور ہر زمین میں رہتے ہیں) اور جننے والے کی برائی سے اور اس چیز کی برائی سے کہ جنا گیا یعنی ابلیس لعین اور اس کی اولاد کی شر سے یا ہر جننے والے اور اس کی اولاد کی شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ ( ابوداؤد )

2469Mishkaat-al-Masabih

جہاد کے وقت آپ ﷺ کی دعا

وعن أنس رضي الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا غزا قال : اللهم أنت عضدي ونصيري بك أحول وبك أصول وبك أقاتل . رواه الترمذي وأبو داود

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول پاک ﷺ جب جہاد کرتے تو یہ فرماتے دعا (اللہم انت عضدی ونصیری بک احول وبک اقاتل )۔ اے اللہ تو ہی میرا معتمد علیہ ہے۔ یعنی مجھے ہر معاملہ میں تجھی پر بھروسہ ہے اور تو ہی میرا پروردگار ہے کفار کے مکر و فریب کو دور کرنے کے لئے میں تیری قوت کے ساتھ حیلہ کرتا ہوں (یعنی ان کی طرف جنگ کے لئے متوجہ ہوں) اور تیری ہی قوت کے ساتھ دشمنان دین پر حملہ کرتا ہوں) اور تیری ہی مدد کے ساتھ دین کے ان دشمنوں سے لڑتا ہوں۔ (ترمذی، ابوداؤد )

2470Mishkaat-al-Masabih

دشمن کے خوف کے وقت کی دعا

وعن أبي موسى : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا خاف قوما قال : اللهم إنا نجعلك في نحورهم ونعوذ بك من شرورهم . رواه أحمد وأبو داود

حضرت ابوموسیٰ ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو جب کسی قوم (دشمن) سے اندیشہ ہوتا تو آپ ﷺ یہ دعا پڑھتے (اللہم انا نجعلک فی نحورہم ونعوذبک من شرورہم) اے اللہ ہم تجھ کو دشمن کے مقابل کرتے ہیں یعنی تجھ سے اس بات کی درخواست کرتے ہیں کہ تو ان کے شر سے ہمیں محفوظ رکھ اور ان کے اور ہمارے درمیان حائل ہو اور ہم ان کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔ (احمد، ابوداؤد) تشریح حصن حصین میں لکھا ہے کہ جو شخص دشمن یا کسی اور کے خوف میں مبتلاء ہو تو سورت لایلاف قریش پڑھنا ہر شر و خوف سے امان کا باعث ہوگا اور یہ عمل مجرب ہے۔

2471Mishkaat-al-Masabih

گھر سے نکلتے وقت آپ ﷺ کی دعا

وعن أم سلمة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا خرج من بيته قال : بسم الله توكلت على الله اللهم إنا نعوذ بك من أن نزل أو نضل أو نظلم أو نظلم أو نجهل أو يجهل علينا . رواه أحمد والترمذي والنسائي وقال الترمذي : هذا حديث حسن صحيح وفي رواية أبي داود وابن ماجه قالت أم سلمة : ما خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم من بيتي قط إلا رفع طرفه إلى السماء فقال : اللهم إني أعوذ بك أن أضل أو أضل أو أظلم أو أظلم أو أجهل أو يجهل علي

ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب اپنے گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے (بسم اللہ توکلت علی اللہ اللہم انا نعوذبک من ان نزل او نضل او نظلم او نظلم او نجہل او یجہل علینا)۔ گھر سے نکلتا ہوں اللہ کے نام کے ساتھ، بھروسہ کیا میں نے اللہ پر اے اللہ! ہم تیری پناہ چاہتے ہیں اس سے کہ پھسلیں یعنی بلا قصد گناہ میں مبتلا ہوجائیں یا ہم گمراہ ہوں یعنی قصدا گناہ کریں یا ہم ظلم کریں یا ہم پر طلم کیا جائے یا ہم پھر جہالت میں مبتلا ہوں یا ہمیں جہالت میں مبتلا کیا جائے۔ (احمد، ترمذی، نسائی) نیز امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابوداؤد اور ابن ماجہ کی روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے کہا رسول اللہ ﷺ جب بھی میرے گھر سے نکلتے آسمان کی طرف اپنی نگاہ اٹھا کر یوں فرماتے۔ دعا (اللہم انی اعوذبک ان اضل او اضل او اظلم او اظلم او اجہل او یجعل علی)۔ اے اللہ میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں گمراہ ہوں یا گمراہ کیا جاؤں (یعنی مجھے کوئی گمراہ کردے) یا میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے یا میں جہالت میں مبتلا ہوں یا مجھے جہالت میں مبتلا کیا جائے۔

2472Mishkaat-al-Masabih

گھر سے نکلتے وقت آپ ﷺ کی دعا

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا خرج الرجل من بيته فقال : بسم الله توكلت على الله لا حول ولا قوة إلا بالله يقال له حينئذ هديت وكفيت ووقيت فيتنحى له الشيطان ويقول شيطان آخر : كيف لك برجل قد هدي وكفي ووقي . رواه أبو داود وروى الترمذي إلى قوله : الشيطان

حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص اپنے گھر سے نکلتا ہے اور پھر یہ پڑھتا ہے۔ دعا (بسم اللہ توکلت علی اللہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ)۔ (یعنی نکلتا ہوں میں اللہ کے نام کے ساتھ بھروسہ کیا میں نے اللہ پر، گناہوں سے بچنے کی طاقت اور عبادت کرنے کی قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے تو اس وقت اس سے کہا جاتا ہے (یعنی فرشتہ اسے بتاتا ہے) کہ اے اللہ کے بندے! تجھے راہ راست دکھائی گئی تجھے (جمع مہمات اور تمام امور میں) غیر سے مستغنی کردیا گیا ہے اور تو تمام برائیوں سے محفوظ رہا، چناچہ یہ سن کر شیطان اس سے دور ہوجاتا ہے اور دوسرا شیطان اس شیطان کی تسلی کے لئے اس سے کہتا ہے کہ تو اس شخص پر کیونکر قابو پاسکتا ہے جسے راہ راست دکھائی گئی جسے غیر سے مستثنی کردیا گیا جو تمام برائیوں سے محفوظ رہا۔ (ابوداؤد) امام ترمذی نے اس روایت کو لفظ لہ الشیطان تک نقل کیا ہے۔ تشریح تجھے راہ راست دکھائی گئی۔ یعنی چونکہ تو نے اللہ کا نام لیا، اسی کی ذات پر توکل و اعتماد کیا اور لا حول پڑھ کر اپنے آپ کو عاجز جانا اس لئے تو نے راہ راست پائی کیونکہ راہ راست یہی ہے کہ بندہ اللہ کو یاد کرے اور اسی پر اعتماد و توکل کر کے اپنے تمام امور اس کی طرف سونپ دے۔ کار خود راہ واللہ باگزار کت نمی بینم ازیں بہتر کار امام نووی کی کتاب الاذکار کے مطابق کتاب ابن سنی میں حضرت عمر ؓ کی یہ روایت منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص معاشی تنگی میں مبتلا ہو تو اس کو کون سی چیز اس بات سے روکتی ہے کہ وہ جب گھر سے نکلے تو یہ دعا پڑھ لیا کرے۔ دعا (بسم اللہ علی نفسی ومالی ودینی اللہم رضنی بقضائک وبارک لی فیما قدرت لی حتی لا احب تعجیل ما اخرت ولا تاخیر ما عجلت)۔ میں گھر سے نکلا اللہ کے نام سے جو مالک ہے میری جان، میرے مال اور میرے دین کا اے اللہ! تو مجھے مطمئن کر دے اپنے فیصلہ پر اور تو مجھے برکت دے اس چیز میں جو تو نے میرا مقدر کردیا ہے یہاں تک کہ میں نہ پسند کروں اس چیز میں عجلت کو جس کو تو نے مؤخر کیا اور نہ چاہوں تاخیر اس چیز میں جس میں تو نے عجلت کو پسند کیا۔ نیز ابن ماجہ میں یہ روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص نماز کے لئے اپنے گھر سے نکلے اور پھر یہ دعا پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف بذات خود متوجہ ہوتا ہے اور ستر ہزار فرشتے اس کی مغفرت کے لئے دعا کرتے ہیں دعا یہ ہے۔ (اللہم انی اسألک بحق ممشای ہذا فانی لم اخرج اشرا ولا بطرا ولا ریاء ولا سمعۃ وخرجت اتقاء سکطک وابتغاء مرضتک فاسئلک ان تعیذنی من النار وان تغفر لی ذنوبی فانہ لا یغفر الذنوب الا انت)۔ اے اللہ! میں درخواست کرتا ہوں تجھ سے اپنے چلنے کے وسیلہ سے اس لئے میں نہیں نکلا تکبر کے ساتھ اور نہ اترا کر اور نہ ریا کاری کے لئے اور نہ نمود کے لئے بلکہ میں تیرے غضب سے ڈر کر اور تیری خوشنودی کی طلب میں اس لئے میں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ تو مجھے دوزخ کی آگ سے اپنی پناہ میں رکھ اور میرے تمام گناہوں کو بخش دے کیونکہ تیرے علاوہ اور کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔

2473Mishkaat-al-Masabih

گھر میں داخل ہونے کے وقت کی دعا

وعن أبي مالك الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا ولج الرجل بيته فليقل : اللهم إني أسألك خير المولج وخير المخرج بسم الله ولجنا وعلى الله ربنا توكلنا ثم ليسلم على أهله . رواه أبو داود

حضرت ابومالک اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہو تو اسے چاہئے کہ وہ یہ دعا پڑھے۔ (اللہم انی اسئلک خیر المولج وخیر المخرج بسم اللہ ولجنا وعلی اللہ ربنا توکلنا)۔ اے اللہ! میں تجھ سے گھر میں داخل ہونے اور گھر سے باہر نکلنے کی بھلائی مانگتا ہوں (یعنی گھر میں آنا اور گھر سے نکلنا خیر و برکت کے ساتھ ہو)۔ اللہ کے نام سے ہم گھر میں داخل ہوئے اور ہم نے اللہ پر کہ وہ ہمارا رب ہے بھروسہ کیا) اس کے بعد اسے چاہئے کہ وہ اپنے گھر والوں کو سلام کرے۔ (ابوداؤد) تشریح حصن حصین میں یہ دعا ابوداؤد ہی سے نقل کی گئی ہے اس میں بسم اللہ ولجنا کے بعد بسم اللہ خرجنا۔ اللہ کے نام سے ہم گھر سے نکلے۔ بھی ہے چناچہ اصل ابوداؤد کو دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس میں بھی یہ جملہ موجود ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ یا تو خود مؤلف مشکوۃ علیہ الرحمہ اس جملہ کو لکھنا بھول گئے ہوں یا پھر کاتب کی غلطی سے یہ جملہ نقل ہونے سے رہ گیا ہو، بہرکیف اس دعا کو پڑھتے وقت اس جملہ کو بھی پڑھنا چاہئے۔ علماء نے لکھا ہے کہ اپنے گھر میں داخل ہونے اور یہ دعا پڑھنے کے بعد اپنے گھر والوں کو تو سلام کرنا ہی چاہئے جیسا کہ حدیث نے وضاحت کے ساتھ بتایا ہے لیکن اگر گھر میں کوئی موجود نہ ہو تب بھی بہ نیت ملائکہ سلام کرلینا چاہئے کیونکہ وہاں ملائکہ تو بہر صورت ہوتے ہی ہیں اور اس صورت میں اس طرح سلام کرنا چاہئے۔ السلام علی عباد اللہ الصالحین۔

2474Mishkaat-al-Masabih

دولہا اور دلہن کے لئے دعا

وعن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا رفأ الإنسان إذا تزوج قال : بارك الله لك وبارك عليكما وجمع بينكما في خير رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص نکاح کرتا اور نبی کریم ﷺ اسے دعا دیتے تو یہ فرماتے (بارک اللہ لک وبارک علیکما وجمع بینکما فی خیر)۔ اللہ تعالیٰ تمہیں مبارک فرمائے اور تم دونوں میاں بیوی کو برکت دے یعنی تم پر اپنی رحمت نازل فرمائے اور اولاد رزق کی وسعت اور فراوانی سے نوازے اور تم دونوں میں بھلائی جمع کرے (یعنی تمہیں طاعت و عبادت کی توفیق بخشے صحت و عافیت کے ساتھ تمہاری زندگی گزارے تم دونوں میں پیار و محبت اور حسن سلوک ہمیشہ قائم رکھے تمہاری اولاد کو نیک و صالح بنائے۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)

2475Mishkaat-al-Masabih

نکاح کرنے والے کی دعا

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا تزوج أحدكم امرأة أو اشترى خادما فليقل اللهم إني أسألك خيرها وخير ما جبلتها عليه وأعوذ بك من شرها وشر ما جبلتها عليه وإذا اشترى بعيرا فليأخذ بذروة سنامه وليقل مثل ذلك . وفي رواية في المرأة والخادم : ثم ليأخذ بناصيتها وليدع بالبركة . رواه أبو داود وابن ماجه

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد حضرت شعیب سے اور وہ اپنے دادا یعنی حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے اور عبداللہ بن عمرو نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے یا کوئی غلام خریدے تو وہ یہ دعا پڑھے (اللہم انی اسئلک خیرہا وخیر ما جبلتہا علیہ واعوذبک من شرہا وشر ماجبلتہا)۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس کی ذات کی بھلائی مانگتا ہوں اور بھلائی اس چیز کی جس پر تو نے ان کو پیدا کیا یعنی اچھے اخلاق اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس کی برائی سے اور اس چیز کی برائی سے جس پر تو نے اسے پیدا کیا (یعنی برے اخلاق و افعال) اور جب اونٹ خریدے تو اس کے کوہان کی بلندی کو پکڑ کر اسی طرح کہے یعنی مذکورہ بالا دعا پڑھے۔ ایک اور روایت میں عورت اور غلام کے بارے میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ پھر عورت یا غلام کی پیشانی کے بال پکڑ کر خیر و برکت کی دعا کرے۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ) تشریح خیر و برکت کی دعا سے یہی مذکورہ بالا دعا ہے جیسا کہ حصن حصین سے مفہوم معلوم ہوتا ہے یعنی عورت یا غلام کی پیشانی کے بال پکڑ کر تب یہ دعا پڑھی جائے۔ علامہ جزری فرماتے ہیں کہ صرف اونٹ پر ہی منحصر نہیں ہے بلکہ جو بھی جانور خریدا جائے۔ یہ دعا پڑھی جائے اللہ تعالیٰ اس جانور میں برکت و ترقی عطا فرمائے گا۔

2476Mishkaat-al-Masabih

غم دور کرنے کی دعا

وعن أبي بكرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : دعوات المكروب اللهم رحمتك أرجو فلا تكلني إلى نفسي طرفة عين وأصلح لي شأني كله لا إله إلا أنت . رواه أبو داود

حضرت ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ غمزدہ کی دعا جس کو پڑھنے سے غم جاتا رہتا ہے۔ یہ ہے دعا (اللہم رحمتک ارجو فلا تکلنی الی نفسی طرفۃ عین واصلح لی شانی کلہ لا الہ الا انت)۔ اے اللہ! میں تیری رحمت کا طلبگار ہوں پس مجھے ایک لمحہ کے لئے بھی میرے نفس کے سپرد نہ کر (کیونکہ وہ میرا بڑا دشمن ہے اور عاجز ہے وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ حاجت روائی کرسکے) اور میرے سارے کاموں کو درست کر دے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ (ابوداؤد)

2477Mishkaat-al-Masabih

ادائیگی قرض کی دعا

وعن أبي سعيد الخدري قال : قال رجل : هموم لزمتني وديون يا رسول الله قال : أفلا أعلمك كلاما إذا قلته أذهب الله همك وقضى عنك دينك ؟ قال : قلت : بلي قال : قل إذا أصبحت وإذا أمسيت : اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن وأعوذ بك من غلبة الدين وقهر الرجال . قال : ففعلت ذلك فأذهب الله همي وقضى عن ديني . رواه أبو داود

حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے فکر و غم نے گھیر رکھا ہے اور قرض نے جکڑ رکھا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسی دعا نہ بتادوں جسے اگر تم پڑھ لیا کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارا فکر دور کر دے قرض کے بارے میں تمہیں نجات دے۔ حضرت ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ اس شخص نے مجھ سے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ ہاں ضرور بتائیے! آپ ﷺ نے فرمایا صبح شام دونوں وقت یہ دعا پڑھا کرو۔ (اللہم انی اعوذبک من الہم والحزن واعوذ بک من العجز والکسل واعوذ بک من البخل والجبن واعوذ بک من غلبۃ الدین وقہر الرجال)۔ اس شخص کا بیان ہے کہ میں نے ایسا ہی کیا ٠ یعنی یہ دعا پڑھنے لگا) چناچہ اللہ تعالیٰ نے میری فکر دور فرما دی اور میرے اوپر سے قرض کا بوجھ اتار دیا۔ (ابوداؤد) تشریح عاجزی سے پناہ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ ادائے طاعت و عبادت اور مصیبت و مشقت کے تحمل پر قادر نہ ہو سکوں اور ان سے عاجز رہو۔ بخل سے مراد یہ ہے زکوۃ، کفارات اور دوسرے واجبات مالیہ کی ادائیگی کا ترک کرنا، سائل و محتاج کو اپنے در سے نامراد واپس کردینا مہمان کی ضیافت نہ کرنا، سلام نہ کرنا اور سلام کا جواب نہ دینا، اگر کوئی علمی سوال کیا جائے یا کوئی دینی مسئلہ پوچھا جائے تو اس کو جانتے ہوئے اور اس کا علم رکھتے ہوئے بھی اس علمی سوال کا جواب نہ دینا اور وہ مسئلہ نہ بتانا۔ اور نبی کریم ﷺ کا اسم گرامی سن کر درود نہ پڑھنا۔ نامردی سے مراد یہ ہے کہ جہاد کے وقت دشمنوں سے ڈر کر مقابلہ کی ہمت ہار بیٹھنا، اسی طرح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے موقع پر جرات اور حق گوئی کا مظاہرہ نہ کرنا اور رزق وغیرہ کے معاملہ میں دل سے اللہ تعالیٰ پر توکل اور اعتماد نہ کرنا۔

2478Mishkaat-al-Masabih

ادائیگی قرض کی دعا

وعن علي : أنه جاءه مكاتب فقال : إني عجزت عن كتابي فأعني قال : ألا أعلمك كلمات علمنيهن رسول الله صلى الله عليه و سلم لو كان عليك مثل جبل كبير دينا أداه الله عنك . قل : اللهم اكفني بحلالك عن حرامك وأغنني بفضلك عمن سواك . رواه الترمذي والبيهقي في الدعوات الكبير وسنذكر حديث جابر : إذا سمعتم نباح الكلاب في باب تغطية الأواني إن شاء الله تعالى

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں منقول ہے کہ ان کے پاس ایک مکاتب آیا اور کہنے لگا کہ میں اپنا بدل کتابت ادا کرنے پر قادر نہیں ہوں (یعنی مال کتابت ادا کرنے کا وقت آگیا ہے مگر میرے پاس مال نہیں ہے اس لئے آپ مال و دعا سے میری مدد کیجئے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ کیا تمہیں وہ دعا نہ بتادوں جو نبی کریم ﷺ نے مجھے سکھائی تھی کہ جس کی برکت سے اگر تمہارے اوپر پہاڑ کی مانند بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے ذمہ سے ادا کر دے گا۔ تو سنو وہ دعا یہ ہے تم اس کو پڑھ لیا کرو۔ دعا (اللہم اکفنی بحلالک عن حرامک واغننی بفضلک عمن سواک)۔ اے اللہ! مجھے حلال مال کے ذریعہ حرام سے بےنیاز کر دے (یعنی مجھے حلال رزق عطا فرما تاکہ اس کی وجہ سے حرام مال سے بےنیاز ہوجاؤں۔ اور اپنے فضل و کرم کے ذریعہ اپنے ماسوا سے مجھے مستغنی کر دے۔ (ترمذی، بیہقی) تشریح مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس کا مالک اس سے لکھوالے کہ جب وہ اتنا مال یا اتنے روپے ادا کر دے گا تو اس وقت وہ آزاد ہوجائے گا اسی طرح بدل کتابت اس مال کو کہتے ہیں جس کو ادا کرنے کی ذمہ داری اس مکاتب غلام نے قبول کرلی ہو لہٰذا جب وہ مقررہ مال ادا کر دے گا تو اسی وقت آزاد ہوجائے گا۔ اور حضرت جابر ؓ کی روایت اذا سمعتم نباح الکلاب ہم انشاء اللہ باب تغطیۃ الاوانی میں ذکر کریں گے۔

2479Mishkaat-al-Masabih

کسی مجلس سے اٹھتے ہوئے پڑھی جانے والی دعا

وعن عائشة قالت : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا جلس مجلسا أو صلى تكلم بكلمات فسألته عن الكلمات فقال : إن تكلم بخير كان طابعا عليهن إلى يوم القيامة وإن تكلم بشر كان كفارة له : سبحانك اللهم وبحمدك لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك . رواه النسائي

ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو اس مجلس سے اٹھتے ہوئے یا نماز سے فراغت کے بعد چند کلمات پڑھا کرتے تھے ایک مرتبہ میں نے آپ ﷺ سے پوچھا (کہ ان کلمات کو پڑھنے سے کیا فائدہ ہوتا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر ان کلمات سے پہلے مجلس میں نیک باتیں ہوئی ہوں گی تو یہ کلمات ان نیک باتوں پر قیامت تک کے لئے مہر ہوجائیں گے (یعنی ان کلمات کو پڑھنے سے وہ نیک باتیں قیامت تک محفوظ رہیں گی کہ ان کا ثواب ضائع نہیں ہوگا) اگر ان کلمات سے پہلے مجلس میں بری باتیں ہوں گی) تو یہ کلمات ان بری باتوں کی معافی اور بخشش کا ذریعہ بن جائیں گے اور وہ کلمات یہ ہیں۔ دعا (سبحانک اللہم وبحمدک لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک)۔ پاک ہے تو اے اللہ! اور تیری تعریف کے ساتھ تیری پاکی بیان کی جاتی ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیرے سامنے توبہ کرتا ہوں۔ (نسائی)

2480Mishkaat-al-Masabih

ہلال دیکھ کر کہے جانے والے کلمات

وعن قتادة : بلغه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا رأى الهلال قال : هلال خير ورشد هلال خير ورشد هلال خير ورشد آمنت بالذي خلقك ثلاث مرات ثم يقول : الحمد لله الذي ذهب بشهر كذا وجاء بشهر كذا . رواه أبو داود

حضرت قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ ان تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول کریم ﷺ جب ماہ نو دیکھتے تو یہ کہتے ہلال خیر و رشد ہلال خیر و رشد ہلال خیر و رشد۔ یعنی چاند ہے بھلائی اور ہدایت کا، چاند ہے بھلائی اور ہدایت کا، چاند ہے بھلائی اور ہدایت کا (اسی کے ساتھ یہ کہتے) اٰمنت بالذی خلقک۔ یعنی اے چاند میں اس ذات پاک پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے پیدا کیا یہ بھی تین بار فرماتے اور پھر اس کے بعد کہتے۔ دعا (الحمدللہ الذی ذہب بشہر کذا وجاء بشہر کذا)۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے اس مہینہ کو ختم کیا اور اس مہینہ کی ابتدا کی۔ کذا کی جگہ گزشتہ اور آئندہ مہینہ کا نام لیتے۔ (ابوداؤد) تشریح جیسا کہ دارمی میں حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے واضح ہے آپ ﷺ ماہ نو کو دیکھ کر پہلے اللہ اکبر کہتے پھر اس کے بعد ہلال خیر و رشد الخ کہتے۔ چاند ہے بھلائی و ہدایت کا اس جملہ کے بارے میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ دعائیہ جملہ ہے یعنی اس کے معنی یہ ہیں کہ خدایا یہ چاند بھلائی اور ہدایت کا پیغام لے کر آیا ہو۔ یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جملہ بطور فال نیک جملہ خبریہ ہی ہے۔