Mishkaat-al-Masabih 2588

احرام باندھنے اور لبیک کہنے کا بیان

2588Mishkaat-al-Masabih

احرام کے کپڑے

عن زيد بن ثابت أنه رأى النبي صلى الله عليه و سلم تجرد لإهلاله واغتسل . رواه الترمذي والدارمي

حضرت زید بن ثابت ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ رسول کریم ﷺ اپنے احرام کے لئے ننگے ہوئے اور غسل کیا۔ (ترمذی، دارمی) تشریح ننگے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے سلے ہوئے کپڑے اپنے بدن سے اتار دیئے اور تہمد باندھ کر چادر اوڑھ لی جو احرام کے کپڑے ہیں چناچہ احرام کی حالت میں سلا ہوا کپڑا مثلاً کرتا، پائجامہ، ٹوپی عبا، قبا اور موزہ وغیرہ پہننا منع ہے۔ جیسا کہ حدیث سے معلوم ہوا احرام کے لئے غسل کرنا مسنون و افضل ہے، اگر غسل نہ ہو سکے تو پھر وضو پر اکتفا بھی جائز ہے حیض و نفاس والی عورت اور نابالغ بچوں کے لئے بھی غسل مسنون ہے۔