Mishkaat-al-Masabih 2590

احرام باندھنے اور لبیک کہنے کا بیان

2590Mishkaat-al-Masabih

تلبیہ میں آواز بلند کرنے کا حکم

وعن خلاد بن السائب عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أتاني جبريل فأمرني أن آمر أصحابي أن يرفعوا أصواتهم بالإهلال أو التلبية . رواه مالك والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي

حضرت خلاد بن سائب اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے یہ امر کیا کہ میں اپنے صحابہ کو اس بات کا حکم دوں کہ وہ اہلال یا تلبیہ میں اپنی آوازیں بلند کریں۔ ٠ مالک، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی) تشریح بالاہلا او التلبیۃ میں حرف اور راوی کے شک کو ظاہر کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یا تو بالاہلال فرمایا یا بالتلبیۃ کہا معنی دونوں کے ایک ہی ہیں یعنی لبیک کہنا۔ بآواز بلند لبیک کہنا مردوں کے لئے مستحب ہے لیکن آواز کو اتنا بلند نہ کرنا چاہئے جس سے تکلیف پہنچے، عورتیں اتنی آہستہ آواز سے لبیک کہیں کہ وہ خود ہی سن سکیں دوسروں تک ان کی آواز نہ پہنچے۔