Mishkaat-al-Masabih 3186

جو عورتیں مرد پر حرام ہیں ان کا بیان

3186Mishkaat-al-Masabih

پھوپھی اور بھتیجی یا خالہ اور بھانجی کو ایک وقت میں اپنے نکاح میں نہ رکھا جائے

عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يجمع بين المرأة وعمتها ولا بين المرأة وخالتها

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کسی عورت کو اس کی پھوپھی کے ساتھ اپنے نکاح میں نہ رکھا جائے اور نہ کسی عورت کو اس کی خالہ کے ساتھ اپنے نکاح میں رکھا جائے ( بخاری و مسلم) تشریح پھوپھی اور خالہ سے عمومیت مراد ہے یعنی خواہ حقیقی پھوپھی اور خالہ ہوں جیسے اس عورت کے باپ اور ماں کی بہن یا مجازی ہوں جیسے اس عورت کے دادا اور پڑ دادا یا اس سے اوپر کے درجہ کی بہن اور نانی و پڑنانی یا اس سے اوپر کی درجہ کی بہن۔ حدیث میں پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کی تخصیص محض اتفاقی ہے کہ کسی شخص نے ان دونوں ہی کے بارے میں پوچھا ہوگا اس لئے آنحضرت ﷺ نے صرف انہی دو کا تذکرہ فرمایا ورنہ ان دونوں کے علاوہ اور بھی کچھ عورتیں ایسی ہیں جن کو بیک وقت اپنے نکاح میں رکھنا حرام ہے گزشتہ صفحات میں اس کا تفصیل ذکر ہوچکا ہوگا۔