Mishkaat-al-Masabih 3160

نکاح کے ولی اور عورت سے نکاح کی اجازت لینے کا بیان

3160Mishkaat-al-Masabih

غلام کا نکاح اس کے آقا کی اجازت کے بغیر صحیح نہیں ہوتا

وعن جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أيما عبد تزوج بغير إذن سيده فهو عاهر . رواه الترمذي وأبو داود والدرامي

اور حضرت جابر نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے وہ زانی ہے ( ترمذی، ابوداؤد، دارمی) تشریح مطلب یہ ہے کہ مملوک کا نکاح مالک کی اجازت کے بغیر صحیح نہیں ہوتا لہذا اگر کوئی مملوک اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے گا اور اس نکاح کے بعد منکوحہ سے مجامعت کرے گا تو یہ فعل حرام ہوگا اور وہ زنا کار کہلائے گا چناچہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد کا یہی مسلک ہے کہ غلام کا نکاح اس کے آقا کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہوتا اور نکاح کے بعد اگر آقا اجازت دے دے تب بھی وہ عقد صحیح نہیں ہوتا جبکہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ آقا کی اجازت کے بغیر نکاح تو ہوجاتا ہے مگر اس کا نافذ ہونا یعنی صحیح ہونا آقا کی اجازت پر موقوف رہتا ہے کہ جب آقا اجازت دے دے گا تو صحیح ہوجائے گا جیسا کہ فضولی کے نکاح کا حکم ہے۔