Mishkaat-al-Masabih 2618

مکہ میں داخل ہونے اور طواف کرنے کا بیان

2618Mishkaat-al-Masabih

سعی کے دوران صفا سے کعبہ کو دیکھنا اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا

وعن أبي هريرة قال : أقبل رسول الله صلى الله عليه و سلم فدخل مكة فأقبل إلى الحجر فاستلمه ثم طاف بالبيت ثم أتى الصفا فعلاه حتى ينظر إلى البيت فرفع يديه فجعل يذكر الله ما شاء ويدعو . رواه أبو داود

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب (حج وعمرہ کے لئے) تشریف لائے اور مکہ میں داخل ہوئے تو حجر اسود کے پاس گئے اور اس کو بوسہ دیا، پھر خانہ کعبہ کا طواف کیا اس کے بعد نماز طواف پڑھ کر صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ جب خانہ کعبہ کی طرف نظر اٹھائی تو دعا کے لئے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور جس قدر چاہا اللہ کا ذکر (یعنی تکبیر و تہلیل) کرتے رہے اور دعا مانگتے رہے۔ (ابوداؤد) تشریح سعی کے وقت جب صفا پر چڑھا جائے تو وہاں بیت اللہ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہونا چاہئے اور پھر تکبیر و تہلیل کرنے اور درود پڑھنے کے بعد دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنی چاہئے۔ کبھی یہ طریقہ رہا ہوگا اور شاید اب بھی ہو کہ بعض لوگ اس موقع پر تکبیر کے ساتھ ہاتھ اٹھاتے ہیں جیسا کہ نماز میں تکبیر کے ساتھ رفع یدین کیا جاتا ہے، خوب اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے یہ ایک غیر مشروع و غیر مسنون طریقہ ہے۔