عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ قِرَائَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّکُوعِ
حضرت علی سے روایت ہے کہ منع کیا حضرت نے ریشمی کپڑا اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے اور قرآن کو رکوع میں پڑھنے سے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Ibrahim ibn Abdullah ibn Hunayn from hisfatherfromAliibnAbiTalibthattheMessengerof Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade wearing the qassi (an Egyptian garment, stripedwithsilk),wearing gold rings, and reciting the Quran in ruku.
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَنْ أَبِي حَازِمٍ التَّمَّارِ عَنْ الْبَيَاضِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَی النَّاسِ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَقَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُهُمْ بِالْقِرَائَةِ فَقَالَ إِنَّ الْمُصَلِّيَ يُنَاجِي رَبَّهُ فَلْيَنْظُرْ بِمَا يُنَاجِيهِ بِهِ وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُکُمْ عَلَی بَعْضٍ بِالْقُرْآنِ
فروہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ آئے لوگوں کے پاس اور وہ نماز پڑھ رہے تھے آوازیں ان کی بلند تھیں کلام اللہ پڑھنے سے تو فرمایا آپ ﷺ نے نمازی کانا پھوسی کرتا ہے اپنے پروردگار سے تو چاہئے کہ سمجھ کر کانا پھوسی کرے اور نہ پکارے ایک تم میں دوسرے پر قرآن میں۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Muhammad ibn Ibrahim ibn al Harith at-Taymi from Abu Hazim at-Tammar from al Bayadi that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came out to the people while they were praying and their voices were raised in the recitation. He said, "When you pray you are talking confidentially to your Lord. So look to what you confide to Him, and do not say the Quran out loud so that others hear it."
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ قُمْتُ وَرَائَ أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَکُلُّهُمْ کَانَ لَا يَقْرَأُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ
انس بن مالک نے کہا نماز کو کھڑا ہوا میں پیچھے ابوبکر اور عمر اور عثمان کے جب نماز شروع کرتے تو کوئی ان میں سے بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ پڑھتا۔
Yahya related to me from Malik from Humayd at-Tawil that Anas ibn Malik said, "I stood behind Abu Bakr (RA) and Umar and Uthman and none of them used to recite In the name of Allah, the Merciful, the Compassionate when they began the prayer."
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ کُنَّا نَسْمَعُ قِرَائَةَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عِنْدَ دَارِ أَبِي جَهْمٍ بِالْبَلَاطِ
مالک بن ابی عامر اصبحی سے روایت ہے کہ ہم سنتے تھے قرأت عمر بن خطاب کی اور وہ ہوتے تھے نزدیک دار ابی جہم کے اور ہم ہوتے تھے بلاط میں
Yahya related to me from Malik from his paternal uncle Abu Suhayl ibn Malik that his father said, "We heard the recitation of Umar ibn al-Khattab when we were at the home of Abu Jahmin al-Balat." (Al-Balat was a place in Madina between the mosque and the market.)
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا فَاتَهُ شَيْئٌ مِنْ الصَّلَاةِ مَعَ الْإِمَامِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ الْإِمَامُ بِالْقِرَائَةِ أَنَّهُ إِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ قَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقَرَأَ لِنَفْسِهِ فِيمَا يَقْضِي وَجَهَرَ
نافع سے روایت ہے عبداللہ بن عمر جب فوت ہوجاتی کچھ نماز ان کی ساتھ امام کے جس میں پکار کر قرأت کی ہوتی تو جب سلام پھیرتا امام، اٹھتے عبداللہ بن عمر اور پڑھتے جو رہ گئی تھی نماز میں پکار کر۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that when Abdullah ibn Umar missed anything of the prayer in which the imam recited out loud, he would stand up when the imam had said the taslim and recite what he owed out loud to himself.
عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ أَؤُصَلِّ إِلَی جَانِبِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ فَيَغْمِزُنِي فَأَفْتَحُ عَلَيْهِ وَنَحْنُ نُصَلِّي
یزید بن رومان سے روایت ہے کہ میں نماز پڑھتا تھا نافع کے ایک جانب تو اشارہ کردیتے تھے مجھ کو واپس بتادیتا تھا میں ان کو جہاں وہ بھول جاتے تھے اور ہم نماز میں ہوتے تھے۔
Yahya related to me from Malik that Yazid ibn Ruman said, "I used to pray next to Nafi ibn Jubayr ibn Mutim and he would nudge me to prompt him while we were praying."
صبح کی نماز میں قرأت کا بیان
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ صَلَّی الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِيهَا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فِي الرَّکْعَتَيْنِ کِلْتَيْهِمَا
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق نے نماز پڑھائی صبح کی تو پڑھی اس میں سورت بقرہ دو رکعتوں میں
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that Abu Bakr (RA) as-Siddiq prayed subh and recited suratal-Baqara in the two rakas.
صبح کی نماز میں قرأت کا بیان
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يَقُولُ صَلَّيْنَا وَرَائَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِيهَا بِسُورَةِ يُوسُفَ وَسُورَةِ الْحَجِّ قِرَائَةً بَطِيئَةً فَقُلْتُ وَاللَّهِ إِذًا لَقَدْ کَانَ يَقُومُ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ قَالَ أَجَلْ
عروہ بن زبیر نے سنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے کہتے تھے نماز پڑھی ہم نے پیچھے عمر بن خطاب کے صبح کی تو پڑھی انہوں نے سورت یوسف اور سورت حج ٹھہر ٹھہر کر عروہ نے کہا قسم اللہ کی پس اس وقت کھڑے ہوتے ہوں گے نماز کو جب نکلتی ہے صبح صادق کہا عبداللہ نے ہاں
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father heard Abdullah ibn Amir ibn Rabia say, "We prayed subh behind Umar ibn al-Khattab and he recited suraYusuf (Sura 12) and surat al-Hajj (Sura 22) slowly." I (Hishams father) said, "By Allah, then it must have been his habit to get up at the crack of dawn." He said, "Of course."
صبح کی نماز میں قرأت کا بیان
عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ الْفُرَافِصَةَ بْنَ عُمَيْرٍ الْحَنَفِيَّ قَالَ مَا أَخَذْتُ سُورَةَ يُوسُفَ إِلَّا مِنْ قِرَائَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ إِيَّاهَا فِي الصُّبْحِ مِنْ کَثْرَةِ مَا کَانَ يُرَدِّدُهَا لَنَا
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ فرافصہ بن عمیر حنفی نے کہا کہ میں نے سورت یوسف یاد کرلی حضرت عثمان کے پڑھنے سے آپ صبح کی نماز میں اس کو بہت پڑھا کرتے تھے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said and Rabia ibn Abi Abd arRahman from al-Qasim ibn Muhammad that al Furafisa ibn Umayral-Hanafi said, "I only learnt Sura Yusuf (Sura 12) from the recitation of it by Uthman ibn Affan in the subh prayer because of the great number of times he repeated it to us."
صبح کی نماز میں قرأت کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ فِي السَّفَرِ بِالْعَشْرِ السُّوَرِ الْأُوَلِ مِنْ الْمُفَصَّلِ فِي کُلِّ رَکْعَةٍ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سفر میں مفصل کے پہلی دس سورتوں میں سے ہر ایک رکعت میں سورت فاتحہ اور ایک سورت پڑھا کرتے تھے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to recite the first ten suras of the mufassal in the subh prayer, and on a journey he would recite the ummal-Quran and a sura in every raka.
سورت فاتحہ کی فضلیت کا بیان
عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ مَوْلَی عَامِرِ بْنِ کُرَيْزٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَی أُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ لَحِقَهُ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَی يَدِهِ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنْ الْمَسْجِدِ حَتَّی تَعْلَمَ سُورَةً مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الْقُرْآنِ مِثْلَهَا قَالَ أُبَيٌّ فَجَعَلْتُ أُبْطِئُ فِي الْمَشْيِ رَجَائَ ذَلِکَ ثُمَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ السُّورَةَ الَّتِي وَعَدْتَنِي قَالَ کَيْفَ تَقْرَأُ إِذَا افْتَتَحْتَ الصَّلَاةَ قَالَ فَقَرَأْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّی أَتَيْتُ عَلَی آخِرِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ هَذِهِ السُّورَةُ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُ
ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پکارا ابی بن کعب کو اور وہ نماز پڑھ رہے تھے تو جب نماز سے فارغ ہوئے مل گئے آپ ﷺ سے پس رکھا رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ اپنا ابی کے ہاتھ پر اور وہ نکلنا چاہتے تھے مسجد کے دروازے سے سو فرمایا آپ ﷺ نے میں چاہتا ہوں کہ نہ نکلے تو مسجد کے دروازے سے یہاں تک کہ سیکھ لے ایک سورت ایسی کہ نہیں اتری تورات اور انجیل اور قرآن میں مثل اس کے کہا ابی نے پس ٹھہر ٹھہر کر چلنے لگا میں اسی امید میں پھر کہا میں نے اے اللہ کے رسول وہ سورت جس کا آپ ﷺ نے وعدہ کیا تھا بتلائیے مجھ کو فرمایا آپ ﷺ نے کیونکر پڑھتا ہے تو جب شروع کرتا ہے نماز کو کہا ابی نے تو میں پڑھنے لگا الحمد للہ رب العالمین یہاں تک کہ ختم کیا میں نے سورت کو پس فرمایا رسول اللہ ﷺ نے وہ یہی سورت ہے اور یہ سورت سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو میں دیا گیا۔
Yahya related to me from Malik from al-Ala ibn Abd ar-Rahman ibn Yaqub that Abu Said, the mawla of Amir ibn Kuraz told him that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, called toUbayy ibn Kab while he was praying. When Ubayy had finished his prayer he joined the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and the Messenger of Allah ﷺ put his hand upon his hand, and he was intending to leave by the door of the mosque, so the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "I hope that you will not leave the mosque until you know a sura whose like Allah has notsentdown in the Tawrah nor in the Injil nor in the Quran." Ubayysaid, "I began to slow down my pace in the hope of that. Then I said, Messenger of Allah, the sura you promised me! He said, What do you recite when you begin the prayer? I recited the Fatiha (Sura 1) until I came to the end of it, and the Messengerof Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, It is this sura, and it is the "seven oft-repeated" and the Great Quran which I was given. "
سورت فاتحہ کی فضلیت کا بیان
عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ مَنْ صَلَّی رَکْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا وَرَائَ الْإِمَامِ
ابی نعیم وہب بن کیسان سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا جابر بن عبداللہ انصاری سے کہتے تھے جس شخص نے ایک رکعت پڑھی اور اس میں سورت فاتحہ نہ پڑھی تو گویا اس نے نماز نہ پڑھی مگر جب امام کے پیچھے ہو
Yahya related to me from Malik from Abu Nuaym Wahb ibn Kaysan that he heard Jabir ibn Abdullah say, "Someone who prays a raka without reciting the umm al-Quran in it has not done the prayer except behind an imam."
سورت فاتحہ امام کے پیچھے سری نماز میں پڑھنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَلَّی صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ هِيَ خِدَاجٌ هِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ قَالَ فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَحْيَانًا أَکُونُ وَرَائَ الْإِمَامِ قَالَ فَغَمَزَ ذِرَاعِي ثُمَّ قَالَ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِکَ يَا فَارِسِيُّ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَئُوا يَقُولُ الْعَبْدُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی حَمِدَنِي عَبْدِي وَيَقُولُ الْعَبْدُ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يَقُولُ اللَّهُ أَثْنَی عَلَيَّ عَبْدِي وَيَقُولُ الْعَبْدُ مَالِکِ يَوْمِ الدِّينِ يَقُولُ اللَّهُ مَجَّدَنِي عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ إِيَّاکَ نَعْبُدُ وَإِيَّاکَ نَسْتَعِينُ فَهَذِهِ الْآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ يَقُولُ الْعَبْدُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَهَؤُلَائِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا نبی ﷺ نے جس شخص نے پڑھی نماز اور نہ پڑھی اس میں سورت فاتحہ تو نماز اس کی ناقص ہے ناقص ہے ہرگز تمام نہیں ہے ابوالسائب نے کہا اے ابوہریرہ ؓ کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو دبا دیا ابوہریرہ ؓ نے میرا بازو اور کہا پڑھ لے اپنے دل میں اے فارس کے رہنے والے کیونکہ میں نے سنا ہے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے تھے فرمایا اللہ تعالیٰ نے بٹ گئی نماز میرے اور میرے بندے کے بیچ میں آدھوں آدھ آدھی میری اور آدھی اس کی اور جو بندہ میرا مانگے اس کو دوں گا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے پڑھو بندہ کہتا ہے کہ سب تعریف اللہ کو ہے جو صاحب ہے سارے جہاں کا پروردگار کہتا ہے میری تعریف کی میرے بندے نے بندہ کہتا ہے بڑی رحمت کرنے والا مہربان پروردگار کہتا ہے خوبی بیان کی میرے بندے نے بندہ کہتا ہے کہ وہ مالک بدلے کے دن کا پروردگار کہتا ہے بڑائی کی میری میرے بندے نے بندہ کہتا ہے خاص تجھ کو پوجتے ہیں ہم اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں ہم تو یہ آیت میرے اور میرے بندے کے بیچ میں ہے بندہ کہتا ہے دکھا ہم کو سیدھی راہ ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے اپنا کرم کیا نہ دشمنوں کی اور گمراہوں کی تو یہ آیتیں بندہ کے لئے ہیں اور میر ابندہ جو مانگے سو دوں۔
Yahya related to me from Malik from al-Ala ibn Abd ar-Rahman ibn Yaqub that he heard Abus-Saib, the mawla of Hisham ibn Zuhra, say he had heard Abu Hurayra say, "I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, Whoever prays a prayer without reciting the umm al-Quran in it, his prayer is aborted, it is aborted, it is aborted, incomplete. So I said, Abu Hurayra, sometimes I am behind the imam.Hepulled my forearm and said, Recite it to yourself, O Persian, for I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say that Allah the Blessed, the Exalted, said, "I have divided the prayer into two halves between me and my slave. One half of it is for Me and one half of it is for IVly slave, and My slave has what he asks." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Recite." The slave says, Praise be to AIIah, the Lord of theWorlds. Allah the Blessed, the Exalted, says, My slave has praised Me. The slave says, The Merciful, the Compassionate. Allah says, My slave has spoken well of Me. The slave says, Master of the Day of the Deen. Allah says, My slave has glorified Me. The slave says, You alone we worship and You alone we askforhelp.Allahsays,This ayat is between Me and My slave, and for My slave is what he asks. The slave says, Guide us in the straight Path, the Path of those whom You have blessed, not of those with whom You are angry, nor those who are in error. Allah says, These are for My slaves, and for my slave is what he asks . " "
سورت فاتحہ امام کے پیچھے سری نماز میں پڑھنے کا بیان
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيمَا لَا يَجْهَرُ فِيهِ الْإِمَامُ بِالْقِرَائَةِ
عروہ بن زبیر سورت فاتحہ پڑھتے تھے امام کے پیچھے سری نماز میں
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father used to recite behind the imam when the imam did not recite aloud.
سورت فاتحہ امام کے پیچھے سری نماز میں پڑھنے کا بیان
عَنْ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ کَانَ يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيمَا لَا يَجْهَرُ فِيهِ بِالْقِرَائَةِ
نافع بن جبیر امام کے پیچھے سری نماز میں سورت فاتحہ پڑھتے تھے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said and from Rabia ibn Abi Abd ar Rahman that al-Qasim ibn Muhammad used to recite behind the imam when the imam did not recite aloud.
سورت فاتحہ جہری نماز میں امام کے پیچھے نہ پڑھنے کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا سُئِلَ هَلْ يَقْرَأُ أَحَدٌ خَلْفَ الْإِمَامِ قَالَ إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ خَلْفَ الْإِمَامِ فَحَسْبُهُ قِرَائَةُ الْإِمَامِ وَإِذَا صَلَّی وَحْدَهُ فَلْيَقْرَأْ قَالَ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَا يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سے جب کوئی پوچھتا کہ سورت فاتحہ پڑھی جائے امام کے پیچھے تو جواب دیتے کہ جب کوئی تم میں سے نماز پڑھے امام کے پیچھے تو کافی ہے اس کو قرأت امام کی اور جو اکیلے پڑھے تو پڑھ لے کہا نافع نے اور تھے عبداللہ بن عمر نہیں پڑھتے تھے پیچھے امام کے۔
Yahya related to me from Malik from Yazid ibn Ruman that Nafi ibn Jubayr ibn Mutim used to recite behind the imam when hedid not recite aloud . Malik said, "That is the most preferable to me of what I have heard about the matter."
سورت فاتحہ جہری نماز میں امام کے پیچھے نہ پڑھنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَائَةِ فَقَالَ هَلْ قَرَأَ مَعِي مِنْکُمْ أَحَدٌ آنِفًا فَقَالَ رَجُلٌ نَعَمْ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ فَانْتَهَی النَّاسُ عَنْ الْقِرَائَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِرَائَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِکَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فارغ ہوئے ایک نماز جہری سے پھر فرمایا کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ کلام اللہ پڑھا تھا ایک شخص بول اٹھا کہ ہاں میں نے یا رسول اللہ ﷺ فرمایا آپ ﷺ نے جب ہی میں کہتا تھا اپنے دل میں کیا ہوا ہے مجھ کو چھینا جاتا ہے مجھ سے کلام اللہ کہا ابن شہاب یا ابوہریرہ ؓ نے تب لوگوں نے موقوف کیا قرأت کو حضرت کے پیچھے نماز جہری میں جب سے یہ حدیث سنی آپ ﷺ سے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Ibn Ukayma al-Laythi from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, finished a prayer in which he had recited aloud and asked, "Did any of you recite with me just now?" One man said, "Yes, I did, Messenger of Allah." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "I was saying to myself, Why am I distracted from the Quran? " When the people heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say that, they refrained from reciting with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, when he recited aloud.
امام کے پیچھے آمین کہنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِکَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ آمِينَ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب امام کہے آمین تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین مل جائے گی ملائکہ کی آمین سے بخش دئیے جائیں گے اگلے گناہ اس کے کہا ابن شہاب نے اور رسول اللہ ﷺ آمین کہتے تھے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Said ibn al-Musayyab and Abu Salama ibn Abd ar-Rahman told him from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When the imam says Amin, say Amin, for the one whose Amin coincides with the Amin of the angels - his previous wrong actions are forgiven him." Ibn Shihab said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to say Aameen (extending it)."
امام کے پیچھے آمین کہنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِکَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب امام غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہے تو تم آمین کہو کیونکہ جس کا آمین کہنا برابر ہوجائے گا ملائکہ کے کہنے کے بخش دئیے جائیں گے اگلے گناہ اس کے۔
Yahya related to me from Malik from Sumayy, the mawla of Abu Bakr, from Abu Salih as Samman, from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When the imam has said, not of those with whom You are angry nor of those who are in error, say Amin, for the previous wrong actions of the one whose utterance coincides with that of the angels, are forgiven him."
امام کے پیچھے آمین کہنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَالَ أَحَدُکُمْ آمِينَ وَقَالَتْ الْمَلَائِکَةُ فِي السَّمَائِ آمِينَ فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَی غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
ابویرہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب تم میں سے کوئی آمین کہتا ہے فرشتے بھی آسمان میں آمین کہتے ہیں پس اگر برابر ہوجائے ایک آمین دوسری آمین سے تو بخش دئیے جاتے ہیں اگلے گناہ اس کے۔
Yahya related to me from Malik from Abuz Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When one of you says Amin and the angels in the sky say Amin so that one coincides with the other, his previous wrong actions are forgiven him."