Mauwatta Imam Malik

All 1,740 hadiths in order · Page 73 of 87

1441Mauwatta Imam Malik

کافر ذمی کی دیت کا بیان

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ کَانَ يَقُولُ دِيَةُ الْمَجُوسِيِّ ثَمَانِيَ مِائَةِ دِرْهَمٍ قَالَ مَالِك وَهُوَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِك وَجِرَاحُ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ وَالْمَجُوسِيِّ فِي دِيَاتِهِمْ عَلَى حِسَابِ جِرَاحِ الْمُسْلِمِينَ فِي دِيَاتِهِمْ الْمُوضِحَةُ نِصْفُ عُشْرِ دِيَتِهِ وَالْمَأْمُومَةُ ثُلُثُ دِيَتِهِ وَالْجَائِفَةُ ثُلُثُ دِيَتِهِ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ جِرَاحَاتُهُمْ كُلُّهَا

سلیمان بن یسار کہتے تھے کہ مجوسی کی دیت آٹھ سو درہم ہے۔ کہا مالک نے یہودی یا نصرانی کے زخموں کی دیت اسی حساب سے ہے موضحہ میں بیسواں حصہ اور مامومہ اور جائفہ میں تیسرا حصہ وقس علی ہذا۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Sulayman ibn Yasar said, "The blood-money of a magian is eight hundred dirhams."

1442Mauwatta Imam Malik

جن جنایات کی دیت خاص قاتل کو اپنے مال میں سے ادا کرنی پڑتی ہے یعنی عاقلہ سے نہیں لی جاتی ان کا بیان

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ لَيْسَ عَلَی الْعَاقِلَةِ عَقْلٌ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ إِنَّمَا عَلَيْهِمْ عَقْلُ قَتْلِ الْخَطَإِ

عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ قتل عمد میں عاقلہ پر دیت نہیں ہے عاقلہ پر خطا کی دیت ہے۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father said, "The tribe is not obliged to pay blood-money for intentional murder. They pay blood-money for accidental killing."

1443Mauwatta Imam Malik

جن جنایات کی دیت خاص قاتل کو اپنے مال میں سے ادا کرنی پڑتی ہے یعنی عاقلہ سے نہیں لی جاتی ان کا بیان

و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ مَضَتْ السُّنَّةُ أَنَّ الْعَاقِلَةَ لَا تَحْمِلُ شَيْئًا مِنْ دِيَةِ الْعَمْدِ إِلَّا أَنْ يَشَاءُوا ذَلِكَ و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ مَالِك إِنَّ ابْنَ شِهَابٍ قَالَ مَضَتْ السُّنَّةُ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ حِينَ يَعْفُو أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ أَنَّ الدِّيَةَ تَكُونُ عَلَى الْقَاتِلِ فِي مَالِهِ خَاصَّةً إِلَّا أَنْ تُعِينَهُ الْعَاقِلَةُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ مِنْهَا قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الدِّيَةَ لَا تَجِبُ عَلَى الْعَاقِلَةِ حَتَّى تَبْلُغَ الثُّلُثَ فَصَاعِدًا فَمَا بَلَغَ الثُّلُثَ فَهُوَ عَلَى الْعَاقِلَةِ وَمَا كَانَ دُونَ الثُّلُثِ فَهُوَ فِي مَالِ الْجَارِحِ خَاصَّةً قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا فِيمَنْ قُبِلَتْ مِنْهُ الدِّيَةُ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ أَوْ فِي شَيْءٍ مِنْ الْجِرَاحِ الَّتِي فِيهَا الْقِصَاصُ أَنَّ عَقْلَ ذَلِكَ لَا يَكُونُ عَلَى الْعَاقِلَةِ إِلَّا أَنْ يَشَاءُوا وَإِنَّمَا عَقْلُ ذَلِكَ فِي مَالِ الْقَاتِلِ أَوْ الْجَارِحِ خَاصَّةً إِنْ وُجِدَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يُوجَدْ لَهُ مَالٌ كَانَ دَيْنًا عَلَيْهِ وَلَيْسَ عَلَى الْعَاقِلَةِ مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءُوا قَالَ مَالِك وَلَا تَعْقِلُ الْعَاقِلَةُ أَحَدًا أَصَابَ نَفْسَهُ عَمْدًا أَوْ خَطَأً بِشَيْءٍ وَعَلَى ذَلِكَ رَأْيُ أَهْلِ الْفِقْهِ عِنْدَنَا وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّ أَحَدًا ضَمَّنَ الْعَاقِلَةَ مِنْ دِيَةِ الْعَمْدِ شَيْئًا وَمِمَّا يُعْرَفُ بِهِ ذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ فَتَفْسِيرُ ذَلِكَ فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّهُ مَنْ أُعْطِيَ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ مِنْ الْعَقْلِ فَلْيَتْبَعْهُ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيُؤَدِّ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ قَالَ مَالِك فِي الصَّبِيِّ الَّذِي لَا مَالَ لَهُ وَالْمَرْأَةِ الَّتِي لَا مَالَ لَهَا إِذَا جَنَى أَحَدُهُمَا جِنَايَةً دُونَ الثُّلُثِ إِنَّهُ ضَامِنٌ عَلَى الصَّبِيِّ وَالْمَرْأَةِ فِي مَالِهِمَا خَاصَّةً إِنْ كَانَ لَهُمَا مَالٌ أُخِذَ مِنْهُ وَإِلَّا فَجِنَايَةُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا دَيْنٌ عَلَيْهِ لَيْسَ عَلَى الْعَاقِلَةِ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَا يُؤْخَذُ أَبُو الصَّبِيِّ بِعَقْلِ جِنَايَةِ الصَّبِيِّ وَلَيْسَ ذَلِكَ عَلَيْهِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا قُتِلَ كَانَتْ فِيهِ الْقِيمَةُ يَوْمَ يُقْتَلُ وَلَا تَحْمِلُ عَاقِلَةُ قَاتِلِهِ مِنْ قِيمَةِ الْعَبْدِ شَيْئًا قَلَّ أَوْ كَثُرَ وَإِنَّمَا ذَلِكَ عَلَى الَّذِي أَصَابَهُ فِي مَالِهِ خَاصَّةً بَالِغًا مَا بَلَغَ وَإِنْ كَانَتْ قِيمَةُ الْعَبْدِ الدِّيَةَ أَوْ أَكْثَرَ فَذَلِكَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ وَذَلِكَ لِأَنَّ الْعَبْدَ سِلْعَةٌ مِنْ السِّلَعِ

ابن شہاب نے کہا کہ عاقلہ پر عمداً خون کرنے کا بار نہیں ڈالا جاتا مگر خوشی سے دینا چاہیں۔ یحیی بن سعید نے بھی ایسا ہی کہا۔ کہا مالک نے ابن شہاب کہتے تھے سنت یوں ہی ہے کہ جب قتل عمد میں مقتول کے وارث قصاص کو عفو کر کے دیت پر راضی ہوجائیں تو وہ دیت قاتل کے مال سے لی جائے گی عاقلہ سے کچھ غرض نہیں مگر جب عاقلہ خود دینا چاہیں۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ دیت عاقلہ پر لازم نہیں آتی جب ایک ثلث یا زیادہ نہ ہو اگر ثلث سے کم ہو تو جنایت کرنے والے کے مال سے لی جائے گی۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ قتل عمد یا اور جراحات میں جن میں قصاص لازم آتا ہے اگر دیت قبول کرلی جائے تو قاتل یا جارح کی ذات پر ہوگی عاقلہ پر نہ ہوگی اگر اس کے پاس مال ہو اور جو مال ہو تو اس پر قصاص رہے گا البتہ اگر عاقلہ خوشی سے دینا چاہیں تو اور بات ہے۔ کہا مالک نے اگر کوئی شخص اپنے تئیں آپ عمداً یا خطاءً زخمی کرے تو اس کی دیت عاقلہ پر نہ ہوگی اور میں نے کسی کو نہیں سنا جو عمد کی دیت عاقلہ سے دلائے اس وجہ سے کہ اللہ جل جلالہ نے قتل عمد میں فرمایا جس کا بھائی معاف کردے کچھ (یعنی قصاص چھوڑ دے) تو چاہیے کہ دستور کے موافق چلے اور دیت اچھی طرح ادا کرے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ عمد کی دیت قاتل کو ادا کرنی چاہیے ) کہا مالک نے جس لڑکے کے پاس کچھ مال نہ ہو یا جس عورت کے پاس مال نہ ہو اور وہ کوئی جنایت کرے جس میں ثلث سے کم دیت واجب ہوتی ہے تو دیت انہی کے مال میں سے دی جائے گی اگر مال نہ ہو تو ان پر قرض کے طور پر رہے گی عاقلہ پر یا لڑکے کے باپ پر کچھ لازم نہیں آئے گا۔ کہا مالک نے جب غلام قتل کیا جائے تو اس کی قیمت جو قتل کے روز ہے دینی ہوگی قاتل کے عاقلہ پر کچھ لازم نہ آئے گا بلکہ قاتل کے خاص مال میں سے لیا جائے گا اگرچہ اس غلام کی قیمت دیت سے زیادہ ہو۔

Yahya related to me from Malik that Ibn Shihab said, "The precedent of the sunna is that the tribe are not liable for any blood-money of an intentional killing unless they wish that."

1444Mauwatta Imam Malik

دیت میں میراث کا بیان

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ نَشَدَ النَّاسَ بِمِنًی مَنْ کَانَ عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنْ الدِّيَةِ أَنْ يُخْبِرَنِي فَقَامَ الضَّحَّاکُ بْنُ سُفْيَانَ الْکِلَابِيُّ فَقَالَ کَتَبَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ادْخُلْ الْخِبَائَ حَتَّی آتِيَکَ فَلَمَّا نَزَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ الضَّحَّاکُ فَقَضَی بِذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَکَانَ قَتْلُ أَشْيَمَ خَطَأً

ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے بلایا لوگوں کو منیٰ میں اور کہا کہ جس شخص کو دیت کا مسئلہ معلوم ہو وہ بیان کرے مجھ سے، تو ضحاک بن سفیان کلابی کھڑے ہوئے اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے لکھ بھیجا تھا کہ اشیم ضبابی کی عورت کو میراث دلاؤں اشیم کی دیت میں سے حضرت عمر ؓ نے کہا تو خیمے میں جا جب تک میں آؤں جب تک حضرت عمر ؓ آئے تو ضحاک نے یہی بیان کیا حضرت عمر ؓ نے اسی کا حکم کیا ابن شہاب نے کہ اشیم خطا سے مارا گیا تھا۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Umar ibn al-Khattab demanded of the people at Mina, "If anyone has knowledge of blood-money, let him inform me." Ad-Dahhak ibn Sufyan al-Kilabi stood up and said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, wrote to me that the wife of Ashyam ad-Dibabi inherited from the blood-money of her husband." Umar ibn al-Khattab said to him, "Go into the tent until I come to you." When Umar ibn al-Khattab came in, ad-Dahhak told him about it and Umar ibn al-Khattab gave a decision based on that. Ibn Shihab said, "The killing of Ashyam was accidental."

1445Mauwatta Imam Malik

دیت میں میراث کا بیان

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يُقَالُ لَهُ قَتَادَةُ حَذَفَ ابْنَهُ بِالسَّيْفِ فَأَصَابَ سَاقَهُ فَنُزِيَ فِي جُرْحِهِ فَمَاتَ فَقَدِمَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ اعْدُدْ عَلَی مَائِ قُدَيْدٍ عِشْرِينَ وَمِائَةَ بَعِيرٍ حَتَّی أَقْدَمَ عَلَيْکَ فَلَمَّا قَدِمَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخَذَ مِنْ تِلْکَ الْإِبِلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً ثُمَّ قَالَ أَيْنَ أَخُو الْمَقْتُولِ قَالَ هَأَنَذَا قَالَ خُذْهَا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْئٌ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ سُئِلَا أَتُغَلَّظُ الدِّيَةُ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَقَالَا لَا وَلَكِنْ يُزَادُ فِيهَا لِلْحُرْمَةِ فَقِيلَ لِسَعِيدٍ هَلْ يُزَادُ فِي الْجِرَاحِ كَمَا يُزَادُ فِي النَّفْسِ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ مَالِك أُرَاهُمَا أَرَادَا مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عَقْلِ الْمُدْلِجِيِّ حِينَ أَصَابَ ابْنَهُ

عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بنی مدلج میں سے جس کا نام قتادہ تھا اپنے لڑکے کو تلوار ماری وہ اس کے پنڈلی میں لگی خون بند نہ ہوا آخر مرگیا تو سراقہ بن جعشم حضرت عمر ؓ کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا حضرت عمر ؓ نے کہا قدید کے پاس ایک سو بیس اونٹ تیار رکھ جب تک میں وہاں آؤں جب حضرت عمر ؓ وہاں آئے تو ان اونٹوں میں سے تین حقے اور بیس جزعے لئے اور چالیس حقے لئے پھر کہا کون ہے مقتول کا بھائی؟ اس نے کہا کیوں میں موجود ہوں نا! کہا تو یہ سب اونٹ لے لے اس واسطے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قاتل کو میراث نہیں ملتی سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا کہ ماہ حرام میں اگر کوئی قتل کرے تو دیت میں سختی کریں گے انہوں نے کہا نہیں بلکہ بڑھا دیں گے بوجہ ان مہینوں کی حرمت کے پھر سعید سے پوچھا کہ اگر کوئی زخمی کرے ان مہینوں میں تو اس کی بھی دیت بڑھا دیں گے جیسے قتل کی دیت بڑھا دیں گے سعید نے کہا ہاں۔

Malik related to me from Yahya ibn Said from Amr ibn Shuayb that a man of the Banu Mudlij called Qatada threw a sword at his son and it struck his thigh. The wound bled profusely and he died. Suraqa ibn Jusham came to Umar ibn al-Khattab and mentioned that to him Umar said to him, "At the watering place of Qudayd count one hundred and twenty camels and wait until I come to you." When Umar ibn al-Khattab came to him, he took thirty four-year-old camels, thirty five-year-old camels, and forty pregnant camels from them. Then he said, "Where is the brother of the slain man?" He said, "Here." He said, "Take them. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, The killer gets nothing. "

1446Mauwatta Imam Malik

دیت میں میراث کا بیان

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أُحَيْحَةُ بْنُ الْجُلَاحِ کَانَ لَهُ عَمٌّ صَغِيرٌ هُوَ أَصْغَرُ مِنْ أُحَيْحَةَ وَکَانَ عِنْدَ أَخْوَالِهِ فَأَخَذَهُ أُحَيْحَةُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ أَخْوَالُهُ کُنَّا أَهْلَ ثُمِّهِ وَرُمِّهِ حَتَّی إِذَا اسْتَوَی عَلَی عُمَمِهِ غَلَبَنَا حَقُّ امْرِئٍ فِي عَمِّهِ قَالَ عُرْوَةُ فَلِذَلِکَ لَا يَرِثُ قَاتِلٌ مَنْ قَتَلَ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّ قَاتِلَ الْعَمْدِ لَا يَرِثُ مِنْ دِيَةِ مَنْ قَتَلَ شَيْئًا وَلَا مِنْ مَالِهِ وَلَا يَحْجُبُ أَحَدًا وَقَعَ لَهُ مِيرَاثٌ وَأَنَّ الَّذِي يَقْتُلُ خَطَأً لَا يَرِثُ مِنْ الدِّيَةِ شَيْئًا وَقَدْ اخْتُلِفَ فِي أَنْ يَرِثَ مِنْ مَالِهِ لِأَنَّهُ لَا يُتَّهَمُ عَلَى أَنَّهُ قَتَلَهُ لِيَرِثَهُ وَلِيَأْخُذَ مَالَهُ فَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَرِثَ مِنْ مَالِهِ وَلَا يَرِثُ مِنْ دِيَتِهِ

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ایک شخص انصار کا جس کا نام احیحہ بن جلاح تھا اس سے چھوٹا چچا تھا وہ اپنی ننہیال میں تھا اس کو احیحہ نے لے کر مار ڈالا اس کے ننہیال کے لوگوں نے کہا ہم نے پالا پرورش کیا جب جوان ہوا تو اس کا بھتیجا ہم پر غالب آیا اور اسی نے لے لیا عروہ نے کہا اس وجہ سے قاتل مقتول کا وارث نہیں ہوتا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ قتل عمد کرنے والا مقتول کی دیت کا وارث نہیں ہوتا نہ اس کے مال کا نہ وہ کسی وارث کو محروم کرسکتا ہے اور قتل خطا کرنے والادیت کا وارث نہیں ہوتا لیکن اور مال کا وارث ہوتا ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے میرے نزدیک اور مال کا وارث ہوگا۔

11 Malik related to me from Yahya ibn Said from Urwa ibn az-Zubayr that a man of the Ansar called Uhayha ibn al-Julah had a young paternal uncle who was younger than him and who was living with his maternal uncles. Uhayha took him and killed him. His maternal uncles said, "We brought him up from a baby to a youth till he stood firm on his feet, and we have had the right of a man taken from us by his paternal uncle." Urwa said, "For that reason a killer does not inherit from the one he killed."

1447Mauwatta Imam Malik

دیت کے مختلف مسائل کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَرْحُ الْعَجْمَائِ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّکَازِ الْخُمُسُ و قَالَ مَالِك الْقَائِدُ وَالسَّائِقُ وَالرَّاكِبُ كُلُّهُمْ ضَامِنُونَ لِمَا أَصَابَتْ الدَّابَّةُ إِلَّا أَنْ تَرْمَحَ الدَّابَّةُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُفْعَلَ بِهَا شَيْءٌ تَرْمَحُ لَهُ وَقَدْ قَضَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي الَّذِي أَجْرَى فَرَسَهُ بِالْعَقْلِ قَالَ مَالِك فَالْقَائِدُ وَالرَّاكِبُ وَالسَّائِقُ أَحْرَى أَنْ يَغْرَمُوا مِنْ الَّذِي أَجْرَى فَرَسَهُ قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الَّذِي يَحْفِرُ الْبِئْرَ عَلَى الطَّرِيقِ أَوْ يَرْبِطُ الدَّابَّةَ أَوْ يَصْنَعُ أَشْبَاهَ هَذَا عَلَى طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ أَنَّ مَا صَنَعَ مِنْ ذَلِكَ مِمَّا لَا يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَصْنَعَهُ عَلَى طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ فَهُوَ ضَامِنٌ لِمَا أُصِيبَ فِي ذَلِكَ مِنْ جَرْحٍ أَوْ غَيْرِهِ فَمَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ عَقْلُهُ دُونَ ثُلُثِ الدِّيَةِ فَهُوَ فِي مَالِهِ خَاصَّةً وَمَا بَلَغَ الثُّلُثَ فَصَاعِدًا فَهُوَ عَلَى الْعَاقِلَةِ وَمَا صَنَعَ مِنْ ذَلِكَ مِمَّا يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَصْنَعَهُ عَلَى طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ فَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ فِيهِ وَلَا غُرْمَ وَمِنْ ذَلِكَ الْبِئْرُ يَحْفِرُهَا الرَّجُلُ لِلْمَطَرِ وَالدَّابَّةُ يَنْزِلُ عَنْهَا الرَّجُلُ لِلْحَاجَةِ فَيَقِفُهَا عَلَى الطَّرِيقِ فَلَيْسَ عَلَى أَحَدٍ فِي هَذَا غُرْمٌ و قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَنْزِلُ فِي الْبِئْرِ فَيُدْرِكُهُ رَجُلٌ آخَرُ فِي أَثَرِهِ فَيَجْبِذُ الْأَسْفَلُ الْأَعْلَى فَيَخِرَّانِ فِي الْبِئْرِ فَيَهْلِكَانِ جَمِيعًا أَنَّ عَلَى عَاقِلَةِ الَّذِي جَبَذَهُ الدِّيَةَ قَالَ مَالِك فِي الصَّبِيِّ يَأْمُرُهُ الرَّجُلُ يَنْزِلُ فِي الْبِئْرِ أَوْ يَرْقَى فِي النَّخْلَةِ فَيَهْلِكُ فِي ذَلِكَ أَنَّ الَّذِي أَمَرَهُ ضَامِنٌ لِمَا أَصَابَهُ مِنْ هَلَاكٍ أَوْ غَيْرِهِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ عَقْلٌ يَجِبُ عَلَيْهِمْ أَنْ يَعْقِلُوهُ مَعَ الْعَاقِلَةِ فِيمَا تَعْقِلُهُ الْعَاقِلَةُ مِنْ الدِّيَاتِ وَإِنَّمَا يَجِبُ الْعَقْلُ عَلَى مَنْ بَلَغَ الْحُلُمَ مِنْ الرِّجَالِ و قَالَ مَالِك فِي عَقْلِ الْمَوَالِي تُلْزَمُهُ الْعَاقِلَةُ إِنْ شَاءُوا وَإِنْ أَبَوْا كَانُوا أَهْلَ دِيوَانٍ أَوْ مُقْطَعِينَ وَقَدْ تَعَاقَلَ النَّاسُ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي زَمَانِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ دِيوَانٌ وَإِنَّمَا كَانَ الدِّيوَانُ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَعْقِلَ عَنْهُ غَيْرُ قَوْمِهِ وَمَوَالِيهِ لِأَنَّ الْوَلَاءَ لَا يَنْتَقِلُ وَلِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ قَالَ مَالِك وَالْوَلَاءُ نَسَبٌ ثَابِتٌ قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَا أُصِيبَ مِنْ الْبَهَائِمِ أَنَّ عَلَى مَنْ أَصَابَ مِنْهَا شَيْئًا قَدْرَ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهَا قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَكُونُ عَلَيْهِ الْقَتْلُ فَيُصِيبُ حَدًّا مِنْ الْحُدُودِ أَنَّهُ لَا يُؤْخَذُ بِهِ وَذَلِكَ أَنَّ الْقَتْلَ يَأْتِي عَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ إِلَّا الْفِرْيَةَ فَإِنَّهَا تَثْبُتُ عَلَى مَنْ قِيلَتْ لَهُ يُقَالُ لَهُ مَا لَكَ لَمْ تَجْلِدْ مَنْ افْتَرَى عَلَيْكَ فَأَرَى أَنْ يُجْلَدَ الْمَقْتُولُ الْحَدَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْتَلَ ثُمَّ يُقْتَلَ وَلَا أَرَى أَنْ يُقَادَ مِنْهُ فِي شَيْءٍ مِنْ الْجِرَاحِ إِلَّا الْقَتْلَ لِأَنَّ الْقَتْلَ يَأْتِي عَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ و قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْقَتِيلَ إِذَا وُجِدَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ قَوْمٍ فِي قَرْيَةٍ أَوْ غَيْرِهَا لَمْ يُؤْخَذْ بِهِ أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَيْهِ دَارًا وَلَا مَكَانًا وَذَلِكَ أَنَّهُ قَدْ يُقْتَلُ الْقَتِيلُ ثُمَّ يُلْقَى عَلَى بَابِ قَوْمٍ لِيُلَطَّخُوا بِهِ فَلَيْسَ يُؤَاخَذُ أَحَدٌ بِمِثْلِ ذَلِكَ قَالَ مَالِك فِي جَمَاعَةٍ مِنْ النَّاسِ اقْتَتَلُوا فَانْكَشَفُوا وَبَيْنَهُمْ قَتِيلٌ أَوْ جَرِيحٌ لَا يُدْرَى مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ بِهِ إِنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي ذَلِكَ أَنَّ عَلَيْهِ الْعَقْلَ وَأَنَّ عَقْلَهُ عَلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ نَازَعُوهُ وَإِنْ كَانَ الْجَرِيحُ أَوْ الْقَتِيلُ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيقَيْنِ فَعَقْلُهُ عَلَى الْفَرِيقَيْنِ جَمِيعًا

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جانور کسی کو صدمہ پہنچائے تو اس کا بدلہ نہیں کنوئیں میں کوئی گر کر مرجائے تو اس کا بدلہ نہیں اور کان کھودنے میں کوئی مزدور مرجائے تو بدلہ نہیں (کافروں کے) گڑے خزانے میں پانچواں حصہ لیا جائے گا۔ کہا مالک نے جو شخص جانور کو آگے سے کھینچ رہا ہے یا پیچھے سے ہانک رہا ہے یا جو اس پر سوار ہے وہ جرمانہ دے گا اگر جانور کسی کو صدمہ پہنچائے لیکن خود بخود وہ لات سے کسی کو مار دے تو تاوان نہیں ہے۔ حضرت عمرنے حکم کیا دیت کا اس شخص پر جس نے اپنا گھوڑا دوڑا کر کسی کو کچل ڈالا تھا۔ کہا مالک نے جب دوڑانے والا ضامن ہوا تو کھینچنے والا اور ہانکنے والا اور سوار تو ضرور ضامن ہوگا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو کوئی راستے میں کنواں کھودے یا جانور باندھے یا مشابہ اس کے کوئی کام کرے تو راہ میں کرنا درست نہیں ہے اور اس کی وجہ سے کسی کو صدمہ پہنچے تو وہ ضامن ہوگا ثلث دیت تک اپنے مال میں سے دے گا جو ثلث سے زیادہ ہو تو اس کے عاقلہ سے وصول کی جائے گی اور اگر ایسا کام کرے جو درست ہے تو اس پر ضمان نہ ہوگا جیسے گڑھا کھودے یا بارش کے واسطے یا اپنے جانور پر سے کسی کام کو اترے اور راہ پر کھڑا کردے۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص کنوئیں میں اترے پھر دوسرا شخص اترے اب نیچے والا اوپر والے کو کھینچے اور دونوں گر کر مرجائیں تو کھینچنے والے کے عاقلہ پر دیت لازم آئے گی۔ کہا مالک نے اگر کوئی شخص کسی بچے کو حکم کرے کنوئیں میں اترنے کا یا درخت پر چڑھنے کا اور وہ لڑکا ہلاک ہوجائے تو وہ شخص ضامن ہوگا اس کی دیت کا یا نقصان کا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ عاقلہ میں عورتیں اور بچے داخل نہ ہوں گے بلکہ بالغ مردوں سے دیت وصول کی جائے گی۔ کہا مالک نے مولیٰ کی دیت اس کے عاقلہ پر ہوگی اگرچہ وہ دفتر سرکار میں ماہوار یاب (ملازم) نہ ہوں جیسا رسول اللہ ﷺ کے اور ابوبکر صدیق ؓ کے وقت تھا کیونکہ دفتر حضرت عمر ؓ کے زمانے سے نکلا تو ہر ایک کی دیت اس کے موالی اور قوم ادا کریں گے کیونکہ ولاء بھی انہیں کو ملتی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔ کہا مالک نے جو کوئی شخص کسی کے جانور کو نقصان پہنچائے تو جس قدر قیمت اس نقصان کی وجہ سے کم ہوجائے اس کا تاوان لازم ہوگا۔ کہا مالک نے ایک شخص قصاصاً قتل کے لائق ہو پھر وہ کوئی کام ایسا کرے جس سے حد لازم آئے (مثلا زنا کرے کوڑے ورجم لازم آئے یا چوری کرے ہاتھ کاٹنا لازم ہو) تو کسی حد کا مواخذہ نہ کیا جائے صرف قتل کافی ہے مگر حد قذف کا، اس میں کوڑے مار کر پھر اس کو قتل کریں اگر اس نے کسی کو زخمی کیا تو زخمی کا قصاص لینا ضروری نہیں۔ قتل کرنا کافی ہے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ اگر کوئی نعش کسی گاؤں وغیرہ میں ملے یا کسی کے دروازے پر تو یہ ضروری نہیں کہ جو لوگ اس کے قریب ہوں وہ پکڑے جائیں کیونکہ اکثر ہوتا ہے کہ لوگ مار کر کسی کے دروازے پر ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ پکڑا جائے۔ کہا مالک نے اگر چند آدمی مل کر لڑے اس کے بعد جب جدا ہوئے تو ایک شخص ان میں مقتول یا مجروح پایا گیا لیکن ہنگامے میں معلوم نہیں ہوسکا کہ کس نے مارا یا زخمی کیا تو فریق ثانی (یعنی جن کا مقتول نہیں ہے) کی قوم پر اس کی دیت واجب ہوگی اور اگر وہ شخص دونوں فریق میں سے نہ ہو تو دونوں فریق پر دیت واجب ہوگی۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab and Abu Salama ibn Abd ar-Rahman from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The wound of an animal is of no account and no compensation is due for it. The well is of no account and no compensation is due for it. The mine is of no account and no compensation is due for it and a fifth is due for buried treasures." (Al-kanz: see Book 17).

1448Mauwatta Imam Malik

مکرو فریب سے مارنے یا جادو سے مارنے کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَتَلَ نَفَرًا خَمْسَةً أَوْ سَبْعَةً بِرَجُلٍ وَاحِدٍ قَتَلُوهُ قَتْلَ غِيلَةٍ وَقَالَ عُمَرُ لَوْ تَمَالَأَ عَلَيْهِ أَهْلُ صَنْعَائَ لَقَتَلْتُهُمْ جَمِيعًا

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے پانچ یا سات آدمیوں کو ایک شخص کے بدلے میں قتل کیا انہوں نے دھوکا دے کر اس کو مار ڈالا تھا پھر حضرت عمر ؓ نے کہا کہ اگر سارے صنعا والے اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کرتا۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Said ibn al-Musayyab that Umar ibn al-Khattab killed five or seven people for one man whom they had killed secretly by trickery. Umar said, "Had all the people of Sana joined forces against him, I would have killed them all."

1449Mauwatta Imam Malik

مکرو فریب سے مارنے یا جادو سے مارنے کا بیان

عَنْ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَتْ جَارِيَةً لَهَا سَحَرَتْهَا وَقَدْ کَانَتْ دَبَّرَتْهَا فَأَمَرَتْ بِهَا فَقُتِلَتْ قَالَ مَالِک السَّاحِرُ الَّذِي يَعْمَلُ السِّحْرَ وَلَمْ يَعْمَلْ ذَلِکَ لَهُ غَيْرُهُ هُوَ مَثَلُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی فِي کِتَابِهِ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنْ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ فَأَرَی أَنْ يُقْتَلَ ذَلِکَ إِذَا عَمِلَ ذَلِکَ هُوَ نَفْسُهُ

حضرت ام المومنین حفصہ نے ایک لونڈی کو قتل کیا جس نے ان پر جادو کیا تھا اور پہلے آپ اس کو مدبر کرچکی تھیں پھر حکم کیا اس کے قتل کا تو قتل کی گئیں۔ کہا مالک نے جو شخص جادو جانتا ہے اور اس کو کام میں لاتا ہے اس کا قتل کرنا مناسب ہے۔

Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn Abd ar-Rahman ibn Sad ibn Zurara that he had heard that Hafsa, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, killed one of her slave-girls who had used sorcery against her. She was a mudabbara. Hafsa gave the order, and she was killed.

1450Mauwatta Imam Malik

قتل عمد کا بیان

عَنْ مَالِک عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ أَقَادَ وَلِيَّ رَجُلٍ مِنْ رَجُلٍ قَتَلَهُ بِعَصًا فَقَتَلَهُ وَلِيُّهُ بِعَصًا قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا ضَرَبَ الرَّجُلَ بِعَصًا أَوْ رَمَاهُ بِحَجَرٍ أَوْ ضَرَبَهُ عَمْدًا فَمَاتَ مِنْ ذَلِكَ فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ الْعَمْدُ وَفِيهِ الْقِصَاصُ قَالَ مَالِك فَقَتْلُ الْعَمْدِ عِنْدَنَا أَنْ يَعْمِدَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فَيَضْرِبَهُ حَتَّى تَفِيظَ نَفْسُهُ وَمِنْ الْعَمْدِ أَيْضًا أَنْ يَضْرِبَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي النَّائِرَةِ تَكُونُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ عَنْهُ وَهُوَ حَيٌّ فَيُنْزَى فِي ضَرْبِهِ فَيَمُوتُ فَتَكُونُ فِي ذَلِكَ الْقَسَامَةُ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ يُقْتَلُ فِي الْعَمْدِ الرِّجَالُ الْأَحْرَارُ بِالرَّجُلِ الْحُرِّ الْوَاحِدِ وَالنِّسَاءُ بِالْمَرْأَةِ كَذَلِكَ وَالْعَبِيدُ بِالْعَبْدِ كَذَلِكَ

کہا مالک نے ایک شخص نے دوسرے کو لکڑی سے مار ڈالا عبدالملک بن مروان نے قاتل کو ولی مقتول کے حوالے کیا اس نے بھی اس کو لکڑی سے مار ڈالا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو لکڑی یا پتھر سے قصداً مارے اور وہ ہلاک ہوجائے تو قصاص لیا جائے گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک قتل عمد یہی ہے کہ ایک آدمی دوسرے کو قصداً مارے یہاں تک کہ اس کا دم نکل جائے اور یہ بھی قتل عمد ہے کہ ایک شخص سے دشمنی ہو اس کو ایک ضرب لگا کر چلا آئے اس وقت وہ زندہ ہو بعد اس کے اسی ضرب سے مرجائے اس میں قسامت واجب ہوگی۔ کہا مالک نے قتل عمد میں ایک شخص آزاد کے عوض میں کئی شخص آزاد مارے جائیں گے کہ جب سب قتل میں شریک ہوں اسی طرح عورتوں اور غلاموں میں بھی حکم ہوگا۔

Yahya related to me from Malik from Umar ibn Husayn, the mawla of Aisha bint Qudama, that Abdul Malik ibn Marwan imposed retaliation against a man who killed a mawla with a stick and so the mawlas patron killed the man with a stick.

1451Mauwatta Imam Malik

قصاص کا بیان

بَاب الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلِ حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ يَذْكُرُ أَنَّهُ أُتِيَ بِسَكْرَانَ قَدْ قَتَلَ رَجُلًا فَكَتَبَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ أَنْ اقْتُلْهُ بِهِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي تَأْوِيلِ هَذِهِ الْآيَةِ قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ فَهَؤُلَاءِ الذُّكُورُ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى أَنَّ الْقِصَاصَ يَكُونُ بَيْنَ الْإِنَاثِ كَمَا يَكُونُ بَيْنَ الذُّكُورِ وَالْمَرْأَةُ الْحُرَّةُ تُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ كَمَا يُقْتَلُ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْأَمَةُ تُقْتَلُ بِالْأَمَةِ كَمَا يُقْتَلُ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْقِصَاصُ يَكُونُ بَيْنَ النِّسَاءِ كَمَا يَكُونُ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالْقِصَاصُ أَيْضًا يَكُونُ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَذَكَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ فَنَفْسُ الْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ بِنَفْسِ الرَّجُلِ الْحُرِّ وَجُرْحُهَا بِجُرْحِهِ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يُمْسِكُ الرَّجُلَ لِلرَّجُلِ فَيَضْرِبُهُ فَيَمُوتُ مَكَانَهُ أَنَّهُ إِنْ أَمْسَكَهُ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ يُرِيدُ قَتْلَهُ قُتِلَا بِهِ جَمِيعًا وَإِنْ أَمْسَكَهُ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ إِنَّمَا يُرِيدُ الضَّرْبَ مِمَّا يَضْرِبُ بِهِ النَّاسُ لَا يَرَى أَنَّهُ عَمَدَ لِقَتْلِهِ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ الْقَاتِلُ وَيُعَاقَبُ الْمُمْسِكُ أَشَدَّ الْعُقُوبَةِ وَيُسْجَنُ سَنَةً لِأَنَّهُ أَمْسَكَهُ وَلَا يَكُونُ عَلَيْهِ الْقَتْلُ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَقْتُلُ الرَّجُلَ عَمْدًا أَوْ يَفْقَأُ عَيْنَهُ عَمْدًا فَيُقْتَلُ الْقَاتِلُ أَوْ تُفْقَأُ عَيْنُ الْفَاقِئِ قَبْلَ أَنْ يُقْتَصَّ مِنْهُ أَنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ دِيَةٌ وَلَا قِصَاصٌ وَإِنَّمَا كَانَ حَقُّ الَّذِي قُتِلَ أَوْ فُقِئَتْ عَيْنُهُ فِي الشَّيْءِ بِالَّذِي ذَهَبَ وَإِنَّمَا ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يَقْتُلُ الرَّجُلَ عَمْدًا ثُمَّ يَمُوتُ الْقَاتِلُ فَلَا يَكُونُ لِصَاحِبِ الدَّمِ إِذَا مَاتَ الْقَاتِلُ شَيْءٌ دِيَةٌ وَلَا غَيْرُهَا وَذَلِكَ لِقَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ قَالَ مَالِك فَإِنَّمَا يَكُونُ لَهُ الْقِصَاصُ عَلَى صَاحِبِهِ الَّذِي قَتَلَهُ وَإِذَا هَلَكَ قَاتِلُهُ الَّذِي قَتَلَهُ فَلَيْسَ لَهُ قِصَاصٌ وَلَا دِيَةٌ قَالَ مَالِك لَيْسَ بَيْنَ الْحُرِّ وَالْعَبْدِ قَوَدٌ فِي شَيْءٍ مِنْ الْجِرَاحِ وَالْعَبْدُ يُقْتَلُ بِالْحُرِّ إِذَا قَتَلَهُ عَمْدًا وَلَا يُقْتَلُ الْحُرُّ بِالْعَبْدِ وَإِنْ قَتَلَهُ عَمْدًا وَهُوَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ

امام مالک کو پہنچا کہ مروان بن حکم نے معاویہ بن ابی سفیان کو لکھا کہ ایک شخص نے نشے کی حالت میں ایک شخص کو مار ڈالا معاویہ نے جواب لکھا کہ تو بھی اس کو مار ڈال۔ کہا مالک نے میں نے اس کی تفسیر بہت اچھی سنی فرمایا اللہ تعالیٰ نے قتل کر آزاد کو آزاد کے بدلے میں اور غلام کو غلام کے بدلے میں اور عورت کو عورت کے بدلے میں تو قصاص عورتوں میں آپس میں لیا جائے گا جیسا کہ مردوں میں لیا جاتا ہے اور مرد اور عورت میں بھی لیا جائے گا کیونکہ اللہ جل جلالہ فرماتا ہے نفس بدلے نفس کے قتل کیا جائے گا تو عورت مرد کے بدلے میں قتل کی جائے گی اور مرد عورت کے بدلے میں مارا جائے گا اسی طرح ایک دوسرے کو اگر زخمی کرے گا تب بھی قصاص لیا جائے گا۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص ایک شخص کو پکڑ لے اور دوسرا اس کو آکر مار ڈالے اور معلوم ہوجائے کہ اس نے مار ڈالنے ہی کے واسطے پکڑا تھا تو دونوں شخص اس کے بدلے میں قتل کئے جائیں گے اگر اس نے اس نیت سے نہیں پکڑا تھا بلکہ اس کو یہ خیال تھا کہ دوسرا شخص یوں ہی اسے مارے گا تو پکڑنے والا قتل نہ کیا جائے گا لیکن اس کو سخت سزادی جائے گی۔ اور بعد سزا کے ایک برس تک قید کیا جائے گا۔ کہا مالک نے زید نے عمرو کو قتل کیا یا اس کی آنکھ پھوڑ ڈالی، قصداً اب قبل اس کے کہ زید سے قصاص لیا جائے اس کو بکر نے مار ڈالا یا زید کی آنکھ پھوڑ ڈالی تو اس پر دیت یا قصاص واجب نہ ہوگا کیونکہ عمرو کا حق زید کی جان میں تھا یا اس کی آنکھ میں اب زید ہی نہ رہا یا وہ آنکھ ہی نہ رہی۔ اس کی نظیر یہ ہے کہ زید عمرو کو عمداً مار ڈالے گا پھر زید بھی مرجائے تو عمرو کے وارثوں کو اب کچھ نہ ملے گا کیونکہ قصاص قاتل پر ہوتا ہے جب وہ خود مرگیا تو نہ قصاص ہے نہ دیت۔ کہا مالک نے آزاد اور غلام میں قصاص نہیں ہے زخموں میں لیکن اگر غلام آزاد کو مار ڈالے گا تو غلام مارا جائے گا اور جو آزاد غلام کو مار ڈالے گا تو آزاد نہ مارا جائے گا یہ میں نے بہت اچھا سنا۔

Yahya related to me from Malik that he had heard that Marwan ibn al-Hakam wrote to Muawiya ibn Abi Sufyan to mention to him that a drunkard was brought to him who had killed a man. Muawiya wrote to him to kill him in retaliation for the dead man.

1452Mauwatta Imam Malik

قتل عمد میں عفو کرنے کا بیان

بَاب الْعَفْوِ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ أَدْرَكَ مَنْ يَرْضَى مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ فِي الرَّجُلِ إِذَا أَوْصَى أَنْ يُعْفَى عَنْ قَاتِلِهِ إِذَا قَتَلَ عَمْدًا إِنَّ ذَلِكَ جَائِزٌ لَهُ وَأَنَّهُ أَوْلَى بِدَمِهِ مِنْ غَيْرِهِ مِنْ أَوْلِيَائِهِ مِنْ بَعْدِهِ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَعْفُو عَنْ قَتْلِ الْعَمْدِ بَعْدَ أَنْ يَسْتَحِقَّهُ وَيَجِبَ لَهُ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَى الْقَاتِلِ عَقْلٌ يَلْزَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الَّذِي عَفَا عَنْهُ اشْتَرَطَ ذَلِكَ عِنْدَ الْعَفْوِ عَنْهُ قَالَ مَالِك فِي الْقَاتِلِ عَمْدًا إِذَا عُفِيَ عَنْهُ أَنَّهُ يُجْلَدُ مِائَةَ جَلْدَةٍ وَيُسْجَنُ سَنَةً قَالَ مَالِك وَإِذَا قَتَلَ الرَّجُلُ عَمْدًا وَقَامَتْ عَلَى ذَلِكَ الْبَيِّنَةُ وَلِلْمَقْتُولِ بَنُونَ وَبَنَاتٌ فَعَفَا الْبَنُونَ وَأَبَى الْبَنَاتُ أَنْ يَعْفُونَ فَعَفْوُ الْبَنِينَ جَائِزٌ عَلَى الْبَنَاتِ وَلَا أَمْرَ لِلْبَنَاتِ مَعَ الْبَنِينَ فِي الْقِيَامِ بِالدَّمِ وَالْعَفْوِ عَنْهُ

امام مالک نے کئی اچھے عالموں سے سنا کہ وہ کہتے تھے کہ جب مقتول مرتے وقت اپنے قاتل کو معاف کر دے تو درست ہے قتل عمد میں اس کو اپنے خون کا زیادہ اختیار ہے وارثوں سے۔ کہا مالک نے جو شخص قاتل کو عمداً معاف کردے تو قاتل پر دیت لازم نہ ہوگی مگر جب کہ قصاص عفو (معاف) کر کے دیت ٹھہرا لے۔ کہا مالک نے اگر قاتل کو مقتول معاف کردے تب بھی قاتل کو سو کوڑے لگائیں گے اور ایک سال تک قید کریں گے۔ کہا مالک نے جب کوئی شخص عمداً مارا گیا اور گواہوں سے قتل ثابت ہوا اور مقتول کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں بیٹوں نے تو معاف کردیا لیکن بیٹیوں نے معاف نہ کیا تو بیٹیوں کے معاف کرنے سے کچھ خلل واقع نہ ہوگا بلکہ خون معاف ہوجائے گا کیونکہ بیٹوں کے ہوتے ہوئے ان کو اختیار نہیں ہے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو شخص کسی کا ہاتھ یا پاؤں توڑ ڈالے تو اس سے قصاص لیا جائے گا دیت لازم نہ آئے گی۔ کہا مالک نے زخم کا قصاص نہ لیا جائے گا جب تک کہ وہ شخص اچھا نہ ہو لے جب وہ اچھا جائے گا تو قصاص لیں گے اب اگر جارح کا بھی زخم اچھا ہو کر مجروح کے مثل ہوگیا تو بہتر نہیں تو اگر جارح کا زخم بڑھ گیا اور جارح اسی کی وجہ سے مرگیا تو مجروح پر کچھ تاوان نہ ہوگا اگر جارح کا زخم بالکل اچھا ہوگیا اور مجروح کا ہاتھ شل ہوگیا یا اور کوئی نقص رہ گیا تو پھر جارح سے قصاص نہ لیا جائے گا لیکن بقدر نقصان کے دیت اس سے وصول کی جائے گی۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے اپنی عورت کی آنکھ پھوڑ دی یا اس کا ہاتھ توڑ ڈالا یا اس کی انگلی کاٹ ڈالی قصداً تو اس سے قصاص لیا جائے گا البتہ اگر اپنی عورت کو تنبیہاً رسی یا کوڑے سے مارے اور بلاقصد کسی مقام پر لگ کر زخم ہوجائے یا نقصان ہوجائے تو دیت لازم آئے گی قصاص نہ ہوگا۔ امام مالک کو پہنچا کہ ابوبکر بن حزم نے قصاص لیا ران توڑنے کا۔

Yahya related to me from Malik that he saw whomever he was satisfied with among the people of knowledge say about a man who willed that his murderer be pardoned when he murdered him intentionally, "That is permitted for him. He is more entitled to the mans blood than any of his relatives after him."

1453Mauwatta Imam Malik

زخموں میں قصاص کا بیان

بَاب الْقِصَاصِ فِي الْجِرَاحِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ كَسَرَ يَدًا أَوْ رِجْلًا عَمْدًا أَنَّهُ يُقَادُ مِنْهُ وَلَا يَعْقِلُ قَالَ مَالِك وَلَا يُقَادُ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى تَبْرَأَ جِرَاحُ صَاحِبِهِ فَيُقَادُ مِنْهُ فَإِنْ جَاءَ جُرْحُ الْمُسْتَقَادِ مِنْهُ مِثْلَ جُرْحِ الْأَوَّلِ حِينَ يَصِحُّ فَهُوَ الْقَوَدُ وَإِنْ زَادَ جُرْحُ الْمُسْتَقَادِ مِنْهُ أَوْ مَاتَ فَلَيْسَ عَلَى الْمَجْرُوحِ الْأَوَّلِ الْمُسْتَقِيدِ شَيْءٌ وَإِنْ بَرَأَ جُرْحُ الْمُسْتَقَادِ مِنْهُ وَشَلَّ الْمَجْرُوحُ الْأَوَّلُ أَوْ بَرَأَتْ جِرَاحُهُ وَبِهَا عَيْبٌ أَوْ نَقْصٌ أَوْ عَثَلٌ فَإِنَّ الْمُسْتَقَادَ مِنْهُ لَا يَكْسِرُ الثَّانِيَةَ وَلَا يُقَادُ بِجُرْحِهِ قَالَ وَلَكِنَّهُ يُعْقَلُ لَهُ بِقَدْرِ مَا نَقَصَ مِنْ يَدِ الْأَوَّلِ أَوْ فَسَدَ مِنْهَا وَالْجِرَاحُ فِي الْجَسَدِ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ قَالَ مَالِك وَإِذَا عَمَدَ الرَّجُلُ إِلَى امْرَأَتِهِ فَفَقَأَ عَيْنَهَا أَوْ كَسَرَ يَدَهَا أَوْ قَطَعَ إِصْبَعَهَا أَوْ شِبْهَ ذَلِكَ مُتَعَمِّدًا لِذَلِكَ فَإِنَّهَا تُقَادُ مِنْهُ وَأَمَّا الرَّجُلُ يَضْرِبُ امْرَأَتَهُ بِالْحَبْلِ أَوْ بِالسَّوْطِ فَيُصِيبُهَا مِنْ ضَرْبِهِ مَا لَمْ يُرِدْ وَلَمْ يَتَعَمَّدْ فَإِنَّهُ يَعْقِلُ مَا أَصَابَ مِنْهَا عَلَى هَذَا الْوَجْهِ وَلَا يُقَادُ مِنْهُ و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَقَادَ مِنْ كَسْرِ الْفَخِذِ

کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو شخص کسی کا ہاتھ یا پاؤں توڑ ڈالے تو اس سے قصال لیا جائے گا دیت لازم نہ آئے گی۔ کہا مالک نے زخم کا قصاص نہ لیا جائے گا جب تک کہ وہ شخص اچھا نہ ہولے جب وہ اچھا ہوجائے تو قصاص لیں گے اب اگر جارح کا بھی زخم اچھا ہو کر مجروح کے مثل ہوگیا تو بہتر نہیں تو اگر جارح کا زخم بڑھ گیا اور جارح اسی کی وجہ سے مرگیا تو مجروح پر کچھ تاوان نہ ہوگا اگر جارح کا زخم بالکل اچھا ہوگیا اور مجروح کا ہاتھ شل ہوگیا یا اور کوئی نقص رہ گیا تو پھر جارح سے قصاص نہ لیا جائے گا لیکن بقدر نقصان کے دیت اس سے وصول کی جائے گی۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے اپنی عورت کی آنکھ پھوڑ دی یا اس کا ہاتھ توڑ ڈالا یا اس کی انگلی کاٹ ڈالی قصا تو اس سے قصاص لیا جائے گا البہ اگر اپنی عورت کو تنبیہا رسی یا کوڑے سے مارے اور بلا قصد کسی مقام پر لگ کر زخم ہوجائے یا نقصان ہوجائے تو دیت لازم آئے گی قصاص نہ ہوگا۔ حضرت امام مالک کو پہنچا کہ ابابکر بن حزم نے قصاص لیا ران توڑنے کا

1454Mauwatta Imam Malik

سائبہ کی دیت وجنایت کا بیان

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ سَائِبَةً أَعْتَقَهُ بَعْضُ الْحُجَّاجِ فَقَتَلَ ابْنَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَائِذٍ فَجَائَ الْعَائِذِيُّ أَبُو الْمَقْتُولِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَطْلُبُ دِيَةَ ابْنِهِ فَقَالَ عُمَرُ لَا دِيَةَ لَهُ فَقَالَ الْعَائِذِيُّ أَرَأَيْتَ لَوْ قَتَلَهُ ابْنِي فَقَالَ عُمَرُ إِذًا تُخْرِجُونَ دِيَتَهُ فَقَالَ هُوَ إِذًا کَالْأَرْقَمِ إِنْ يُتْرَکْ يَلْقَمْ وَإِنْ يُقْتَلْ يَنْقَمْ

سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ایک سائبہ نے جس کو کسی حاجی نے آزاد کردیا تھا ایک شخص کے بیٹے کو جو بنی عاذ میں تھا مار ڈالا مقتول کا باپ حضرت عمر ؓ کے پاس اپنے بیٹے کی دیت مانگنے آیا حضرت عمر ؓ نے کہا اس کے لئے دیت نہیں ہے وہ شخص بولا اگر میرا بیٹا سائبہ کو مار ڈالتا تو تم کیا حکم کرتے حضرت عمر ؓ نے کہا کہ اس وقت تم کو اس کی دیت ادا کرنی ہوتی وہ شخص بولا پھر تو سائبہ کیا ہے ایک چتلا سانپ ہے اگر چھوڑ دو تو ڈس لے اگر مارو تو بدلہ لے۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from Sulayman ibn Yasar that a slave was set free by one of the people on hajj and his master had abandoned the right to inherit from him. The ex-slave then killed a man from the Banu Aidh tribe. An Aidhi, the father of the slain man came to Umar ibn al-Khattab seeking the blood-money of his son. Umar said, "He has no blood-money." The Aidhi said, "What would you think if it had been my son who killed him?" Umar said, "Then you would pay his blood-money." He said, "He is then like the black and white Arqam snake. If it is left, it devours and if it is killed, it takes revenge."

1455Mauwatta Imam Malik

قسامت میں پہلے وارثوں سے قسم لینے کا بیان

عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ رِجَالٌ مِنْ کُبَرَائِ قَوْمِهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَی خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرِ بِئْرٍ أَوْ عَيْنٍ فَأَتَی يَهُودَ فَقَالَ أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ فَأَقْبَلَ حَتَّی قَدِمَ عَلَی قَوْمِهِ فَذَکَرَ لَهُمْ ذَلِکَ ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَکْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لِيَتَکَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي کَانَ بِخَيْبَرَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَبِّرْ کَبِّرْ يُرِيدُ السِّنَّ فَتَکَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَکَلَّمَ مُحَيِّصَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَکُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ فَکَتَبَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِکَ فَکَتَبُوا إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِکُمْ فَقَالُوا لَا قَالَ أَفَتَحْلِفُ لَکُمْ يَهُودُ قَالُوا لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّی أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمْ الدَّارَ قَالَ سَهْلٌ لَقَدْ رَکَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَائُ قَالَ مَالِک الْفَقِيرُ هُوَ الْبِئْرُ

سہل بن ابی حثمہ کو خبر دی کچھ لوگوں نے جو اس کی قوم کے معزز تھے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ فقر اور افلاس کی وجہ سے خبیر کو گئے محیصہ کے پاس ایک شخص آیا اور بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل کو کسی نے قتل کر کے کنوئیں میں یا چشمے میں ڈال دیا ہے محیصہ یہ سن کر خیبر کے یہودیوں کے پاس آئے اور کہا قسم اللہ کی تم نے اس کو قتل کیا ہے یہودیوں نے کہا قسم اللہ کی ہم نے قتل نہیں کیا اس کو، پھر محیصہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا بعد اس کے محیصہ اور ان کے بھائی حویصہ جو محیصہ سے بڑے تھے اور عبدالرحمن بن سہل (جو عبداللہ بن سہل مقتول کے بھائی تھے) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے محیصہ نے چاہا کہ میں بات کروں کیونکہ وہی خبیر کو گئے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بزرگی کی رعایت کر۔ حویصہ نے پہلے بیان کیا پھر محیصہ نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو یہودی تمہارے قتل کی دیت دیں یا جنگ کریں پھر آپ ﷺ نے یہودیوں کو اس بارے میں لکھا انہوں نے جواب میں لکھا کہ قسم اللہ کی ہم نے اس کو قتل نہیں کیا تب رسول اللہ ﷺ نے حویصہ اور محیصہ اور عبدالرحمن ؓ کہا تم قسم کھاؤ کہ یہودیوں نے اس کو مارا ہے تو دیت کے حقدار ہو گے انہوں نے کہا ہم قسم نہ کھائیں گے آپ ﷺ نے فرمایا اچھا اگر یہودی قسم کھالیں کہ ہم نے نہیں مارا انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ وہ مسلمان نہیں ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے دیت ادا کی سہل کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے پاس سو اونٹ بھیجے ان کے گھروں پر ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی۔

Yahya related to me from Malik from Abu Layla ibn Abdullah ibn Abd ar-Rahman ibn Sahl from Sahl ibn Abi Hathma that some of the great men of his people informed him that Abdullah ibn Sahl and Muhayyisa went out to Khaybar because extreme poverty had overtaken them. Muhayyisa returned and said that Abdullah ibn Sahl had been killed and thrown in a shallow well or spring. The jews came and he said, "By Allah! You have killed him." They said, "By Allah! We have not killed him!" Then he made for his people and mentioned that to them. Then he, his brother Huwayyisa, who was older than him, and Abd ar-Rahman, set out. Muhayyisa began to speak, as he had been at Khaybar. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "The greater first, the greater first," meaning in age. So Huwayyisa spoke and then Muhayyisa spoke. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Either they pay your companions blood-money or we will declare war against them." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, wrote that to them and they wrote, "By Allah, we did not kill him!" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to Huwayyisa, Muhayyisa, and Abd ar-Rahman, "Do you swear and claim the blood of your companion?" They said, "No." He said, "Shall the jews swear to you?" They said, "But they are not muslims." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, gave blood-money from his own property, and sent them one hundred camels to their house. Sahl added, "A red camel among them kicked me."

1456Mauwatta Imam Malik

قسامت میں پہلے وارثوں سے قسم لینے کا بیان

عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّ وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ خَرَجَا إِلَی خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِهِمَا فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ فَقَدِمَ مُحَيِّصَةُ فَأَتَی هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَکَلَّمَ لِمَکَانِهِ مِنْ أَخِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَبِّرْ کَبِّرْ فَتَکَلَّمَ حُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ فَذَکَرَا شَأْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِکُمْ أَوْ قَاتِلِکُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَحْضُرْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتُبْرِئُکُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ کُفَّارٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ فَزَعَمَ بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَاهُ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا وَالَّذِي سَمِعْتُ مِمَّنْ أَرْضَى فِي الْقَسَامَةِ وَالَّذِي اجْتَمَعَتْ عَلَيْهِ الْأَئِمَّةُ فِي الْقَدِيمِ وَالْحَدِيثِ أَنْ يَبْدَأَ بِالْأَيْمَانِ الْمُدَّعُونَ فِي الْقَسَامَةِ فَيَحْلِفُونَ وَأَنَّ الْقَسَامَةَ لَا تَجِبُ إِلَّا بِأَحَدِ أَمْرَيْنِ إِمَّا أَنْ يَقُولَ الْمَقْتُولُ دَمِي عِنْدَ فُلَانٍ أَوْ يَأْتِيَ وُلَاةُ الدَّمِ بِلَوْثٍ مِنْ بَيِّنَةٍ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ قَاطِعَةً عَلَى الَّذِي يُدَّعَى عَلَيْهِ الدَّمُ فَهَذَا يُوجِبُ الْقَسَامَةَ لِلْمُدَّعِينَ الدَّمَ عَلَى مَنْ ادَّعَوْهُ عَلَيْهِ وَلَا تَجِبُ الْقَسَامَةُ عِنْدَنَا إِلَّا بِأَحَدِ هَذَيْنِ الْوَجْهَيْنِ قَالَ مَالِك وَتِلْكَ السُّنَّةُ الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا عِنْدَنَا وَالَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ عَمَلُ النَّاسِ أَنَّ الْمُبَدَّئِينَ بِالْقَسَامَةِ أَهْلُ الدَّمِ وَالَّذِينَ يَدَّعُونَهُ فِي الْعَمْدِ وَالْخَطَإِ قَالَ مَالِك وَقَدْ بَدَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَارِثِيِّينَ فِي قَتْلِ صَاحِبِهِمْ الَّذِي قُتِلَ بِخَيْبَرَ قَالَ مَالِك فَإِنْ حَلَفَ الْمُدَّعُونَ اسْتَحَقُّوا دَمَ صَاحِبِهِمْ وَقَتَلُوا مَنْ حَلَفُوا عَلَيْهِ وَلَا يُقْتَلُ فِي الْقَسَامَةِ إِلَّا وَاحِدٌ لَا يُقْتَلُ فِيهَا اثْنَانِ يَحْلِفُ مِنْ وُلَاةِ الدَّمِ خَمْسُونَ رَجُلًا خَمْسِينَ يَمِينًا فَإِنْ قَلَّ عَدَدُهُمْ أَوْ نَكَلَ بَعْضُهُمْ رُدَّتْ الْأَيْمَانُ عَلَيْهِمْ إِلَّا أَنْ يَنْكُلَ أَحَدٌ مِنْ وُلَاةِ الْمَقْتُولِ وُلَاةِ الدَّمِ الَّذِينَ يَجُوزُ لَهُمْ الْعَفْوُ عَنْهُ فَإِنْ نَكَلَ أَحَدٌ مِنْ أُولَئِكَ فَلَا سَبِيلَ إِلَى الدَّمِ إِذَا نَكَلَ أَحَدٌ مِنْهُمْ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا تُرَدُّ الْأَيْمَانُ عَلَى مَنْ بَقِيَ مِنْهُمْ إِذَا نَكَلَ أَحَدٌ مِمَّنْ لَا يَجُوزُ لَهُ عَفْوٌ فَإِنْ نَكَلَ أَحَدٌ مِنْ وُلَاةِ الدَّمِ الَّذِينَ يَجُوزُ لَهُمْ الْعَفْوُ عَنْ الدَّمِ وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَإِنَّ الْأَيْمَانَ لَا تُرَدُّ عَلَى مَنْ بَقِيَ مِنْ وُلَاةِ الدَّمِ إِذَا نَكَلَ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ الْأَيْمَانِ وَلَكِنْ الْأَيْمَانُ إِذَا كَانَ ذَلِكَ تُرَدُّ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ فَيَحْلِفُ مِنْهُمْ خَمْسُونَ رَجُلًا خَمْسِينَ يَمِينًا فَإِنْ لَمْ يَبْلُغُوا خَمْسِينَ رَجُلًا رُدَّتْ الْأَيْمَانُ عَلَى مَنْ حَلَفَ مِنْهُمْ فَإِنْ لَمْ يُوجَدْ أَحَدٌ يَحْلِفُ إِلَّا الَّذِي ادُّعِيَ عَلَيْهِ حَلَفَ هُوَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَبَرِئَ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا فُرِقَ بَيْنَ الْقَسَامَةِ فِي الدَّمِ وَالْأَيْمَانِ فِي الْحُقُوقِ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا دَايَنَ الرَّجُلَ اسْتَثْبَتَ عَلَيْهِ فِي حَقِّهِ وَأَنَّ الرَّجُلَ إِذَا أَرَادَ قَتْلَ الرَّجُلِ لَمْ يَقْتُلْهُ فِي جَمَاعَةٍ مِنْ النَّاسِ وَإِنَّمَا يَلْتَمِسُ الْخَلْوَةَ قَالَ فَلَوْ لَمْ تَكُنِ الْقَسَامَةُ إِلَّا فِيمَا تَثْبُتُ فِيهِ الْبَيِّنَةُ وَلَوْ عُمِلَ فِيهَا كَمَا يُعْمَلُ فِي الْحُقُوقِ هَلَكَتْ الدِّمَاءُ وَاجْتَرَأَ النَّاسُ عَلَيْهَا إِذَا عَرَفُوا الْقَضَاءَ فِيهَا وَلَكِنْ إِنَّمَا جُعِلَتْ الْقَسَامَةُ إِلَى وُلَاةِ الْمَقْتُولِ يُبَدَّءُونَ بِهَا فِيهَا لِيَكُفَّ النَّاسُ عَنْ الدَّمِ وَلِيَحْذَرَ الْقَاتِلُ أَنْ يُؤْخَذَ فِي مِثْلِ ذَلِكَ بِقَوْلِ الْمَقْتُولِ قَالَ يَحْيَى وَقَدْ قَالَ مَالِك فِي الْقَوْمِ يَكُونُ لَهُمْ الْعَدَدُ يُتَّهَمُونَ بِالدَّمِ فَيَرُدُّ وُلَاةُ الْمَقْتُولِ الْأَيْمَانَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ نَفَرٌ لَهُمْ عَدَدٌ أَنَّهُ يَحْلِفُ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ عَنْ نَفْسِهِ خَمْسِينَ يَمِينًا وَلَا تُقْطَعُ الْأَيْمَانُ عَلَيْهِمْ بِقَدْرِ عَدَدِهِمْ وَلَا يَبْرَءُونَ دُونَ أَنْ يَحْلِفَ كُلُّ إِنْسَانٍ عَنْ نَفْسِهِ خَمْسِينَ يَمِينًا قَالَ مَالِك وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ قَالَ وَالْقَسَامَةُ تَصِيرُ إِلَى عَصَبَةِ الْمَقْتُولِ وَهُمْ وُلَاةُ الدَّمِ الَّذِينَ يَقْسِمُونَ عَلَيْهِ وَالَّذِينَ يُقْتَلُ بِقَسَامَتِهِمْ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا وَالَّذِي سَمِعْتُ مِمَّنْ أَرْضَى فِي الْقَسَامَةِ وَالَّذِي اجْتَمَعَتْ عَلَيْهِ الْأَئِمَّةُ فِي الْقَدِيمِ وَالْحَدِيثِ أَنْ يَبْدَأَ بِالْأَيْمَانِ الْمُدَّعُونَ فِي الْقَسَامَةِ فَيَحْلِفُونَ وَأَنَّ الْقَسَامَةَ لَا تَجِبُ إِلَّا بِأَحَدِ أَمْرَيْنِ إِمَّا أَنْ يَقُولَ الْمَقْتُولُ دَمِي عِنْدَ فُلَانٍ أَوْ يَأْتِيَ وُلَاةُ الدَّمِ بِلَوْثٍ مِنْ بَيِّنَةٍ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ قَاطِعَةً عَلَى الَّذِي يُدَّعَى عَلَيْهِ الدَّمُ فَهَذَا يُوجِبُ الْقَسَامَةَ لِلْمُدَّعِينَ الدَّمَ عَلَى مَنْ ادَّعَوْهُ عَلَيْهِ وَلَا تَجِبُ الْقَسَامَةُ عِنْدَنَا إِلَّا بِأَحَدِ هَذَيْنِ الْوَجْهَيْنِ قَالَ مَالِك وَتِلْكَ السُّنَّةُ الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا عِنْدَنَا وَالَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ عَمَلُ النَّاسِ أَنَّ الْمُبَدَّئِينَ بِالْقَسَامَةِ أَهْلُ الدَّمِ وَالَّذِينَ يَدَّعُونَهُ فِي الْعَمْدِ وَالْخَطَإِ قَالَ مَالِك وَقَدْ بَدَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَارِثِيِّينَ فِي قَتْلِ صَاحِبِهِمْ الَّذِي قُتِلَ بِخَيْبَرَ قَالَ مَالِك فَإِنْ حَلَفَ الْمُدَّعُونَ اسْتَحَقُّوا دَمَ صَاحِبِهِمْ وَقَتَلُوا مَنْ حَلَفُوا عَلَيْهِ وَلَا يُقْتَلُ فِي الْقَسَامَةِ إِلَّا وَاحِدٌ لَا يُقْتَلُ فِيهَا اثْنَانِ يَحْلِفُ مِنْ وُلَاةِ الدَّمِ خَمْسُونَ رَجُلًا خَمْسِينَ يَمِينًا فَإِنْ قَلَّ عَدَدُهُمْ أَوْ نَكَلَ بَعْضُهُمْ رُدَّتْ الْأَيْمَانُ عَلَيْهِمْ إِلَّا أَنْ يَنْكُلَ أَحَدٌ مِنْ وُلَاةِ الْمَقْتُولِ وُلَاةِ الدَّمِ الَّذِينَ يَجُوزُ لَهُمْ الْعَفْوُ عَنْهُ فَإِنْ نَكَلَ أَحَدٌ مِنْ أُولَئِكَ فَلَا سَبِيلَ إِلَى الدَّمِ إِذَا نَكَلَ أَحَدٌ مِنْهُمْ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا تُرَدُّ الْأَيْمَانُ عَلَى مَنْ بَقِيَ مِنْهُمْ إِذَا نَكَلَ أَحَدٌ مِمَّنْ لَا يَجُوزُ لَهُ عَفْوٌ فَإِنْ نَكَلَ أَحَدٌ مِنْ وُلَاةِ الدَّمِ الَّذِينَ يَجُوزُ لَهُمْ الْعَفْوُ عَنْ الدَّمِ وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَإِنَّ الْأَيْمَانَ لَا تُرَدُّ عَلَى مَنْ بَقِيَ مِنْ وُلَاةِ الدَّمِ إِذَا نَكَلَ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ الْأَيْمَانِ وَلَكِنْ الْأَيْمَانُ إِذَا كَانَ ذَلِكَ تُرَدُّ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ فَيَحْلِفُ مِنْهُمْ خَمْسُونَ رَجُلًا خَمْسِينَ يَمِينًا فَإِنْ لَمْ يَبْلُغُوا خَمْسِينَ رَجُلًا رُدَّتْ الْأَيْمَانُ عَلَى مَنْ حَلَفَ مِنْهُمْ فَإِنْ لَمْ يُوجَدْ أَحَدٌ يَحْلِفُ إِلَّا الَّذِي ادُّعِيَ عَلَيْهِ حَلَفَ هُوَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَبَرِئَ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا فُرِقَ بَيْنَ الْقَسَامَةِ فِي الدَّمِ وَالْأَيْمَانِ فِي الْحُقُوقِ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا دَايَنَ الرَّجُلَ اسْتَثْبَتَ عَلَيْهِ فِي حَقِّهِ وَأَنَّ الرَّجُلَ إِذَا أَرَادَ قَتْلَ الرَّجُلِ لَمْ يَقْتُلْهُ فِي جَمَاعَةٍ مِنْ النَّاسِ وَإِنَّمَا يَلْتَمِسُ الْخَلْوَةَ قَالَ فَلَوْ لَمْ تَكُنِ الْقَسَامَةُ إِلَّا فِيمَا تَثْبُتُ فِيهِ الْبَيِّنَةُ وَلَوْ عُمِلَ فِيهَا كَمَا يُعْمَلُ فِي الْحُقُوقِ هَلَكَتْ الدِّمَاءُ وَاجْتَرَأَ النَّاسُ عَلَيْهَا إِذَا عَرَفُوا الْقَضَاءَ فِيهَا وَلَكِنْ إِنَّمَا جُعِلَتْ الْقَسَامَةُ إِلَى وُلَاةِ الْمَقْتُولِ يُبَدَّءُونَ بِهَا فِيهَا لِيَكُفَّ النَّاسُ عَنْ الدَّمِ وَلِيَحْذَرَ الْقَاتِلُ أَنْ يُؤْخَذَ فِي مِثْلِ ذَلِكَ بِقَوْلِ الْمَقْتُولِ قَالَ يَحْيَى وَقَدْ قَالَ مَالِك فِي الْقَوْمِ يَكُونُ لَهُمْ الْعَدَدُ يُتَّهَمُونَ بِالدَّمِ فَيَرُدُّ وُلَاةُ الْمَقْتُولِ الْأَيْمَانَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ نَفَرٌ لَهُمْ عَدَدٌ أَنَّهُ يَحْلِفُ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ عَنْ نَفْسِهِ خَمْسِينَ يَمِينًا وَلَا تُقْطَعُ الْأَيْمَانُ عَلَيْهِمْ بِقَدْرِ عَدَدِهِمْ وَلَا يَبْرَءُونَ دُونَ أَنْ يَحْلِفَ كُلُّ إِنْسَانٍ عَنْ نَفْسِهِ خَمْسِينَ يَمِينًا قَالَ مَالِك وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ قَالَ وَالْقَسَامَةُ تَصِيرُ إِلَى عَصَبَةِ الْمَقْتُولِ وَهُمْ وُلَاةُ الدَّمِ الَّذِينَ يَقْسِمُونَ عَلَيْهِ وَالَّذِينَ يُقْتَلُ بِقَسَامَتِهِمْ

بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل انصاری اور محیصہ بن مسعود خبیر کو گئے اور عبداللہ بن سہل کو کسی نے مار ڈلا تو محیصہ اور ان کے بھائی حویصہ اور عبدالرحمن بن سہل رسول اللہ ﷺ کے پاس آ آئے تو عبدالرحمن نے بات کرنی چاہی اپنے بھائی کے مقدمے میں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بزرگی کی رعایت کر تو حویصہ اور محیصہ نے قصہ بیان کیا عبداللہ بن سہل کا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم پچاس قسمیں کھاتے ہو ( اس بات پر کہ فلاں شخص نے اس کو مار ڈالا ہے) اگر کھاؤ گے تو خون کا استحقاق (یا قاتل کا استحاق؟ ) تمہیں حاصل ہوگا انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ( ہم کیونکر کھائیں) ہم اس وقت موجود نہ تھے نہ ہم نے دیکھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو یہودی پچاس قسمیں کھا کر بری ہوجائیں گے انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وہ کافر ہیں ان کی قسمیں ہم کیونکر قبول کریں گے بشیر بن یسار نے کہا پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے دیت ادا کی۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے اور میں نے بہت سے اچھے عالموں سے سنا ہے اور اس پر اتفاق کیا ہے۔ اگلے اور پچھلے علماء نے کہا قسامت میں پہلے مدعیوں سے قسم لی جائے گی وہ قسم کھائیں ( اگر وہ قسم نہ کھائیں تو مدعی علیہم سے قسم لی جائے گی اگر وہ قسم کھالیں گے تو بری ہوجائیں گے) اور قسامت دو امروں میں ایک امر سے لازم ہوتی ہے یا تو مقتول خود کہے مجھ کو فلانے نے مارا ہے (اور گواہ نہ ہوں) یا مقتول کے وارث کسی پر اپنا اشتباہ ظاہر کریں اور گواہی کامل نہ ہو تو انہیں دو وجہوں سے قسامت لازم آئے گی۔ کہا مالک نے اس سنت میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ پہلے قسم ان لوگوں سے لی جائے گی جو خون کے مدعی ہوں۔ خواہ قتل عمد ہو یا قتل خطا اور رسول اللہ ﷺ نے بنی حارث سے جن کا عزیز خیبر میں مارا گیا تھا پہلے قسم کھانے کو فرمایا تھا۔ کہا مالک نے اگر مدعی قسم کھالیں تو ان کے خون کا مدعیوں سے پچاس قسمیں لی جائیں گی جب وہ پچاس آدمی ہوں تو ہر ایک سے ایک ایک قسم لی جائے گی اور پچاس سے کم ہوں یا بعض ان میں سے قسم کھانے سے انکار کریں تو مکرر قسمیں لے کر قسمیں پچاس پوری کریں گے مگر جب مقتول کے وارثوں میں جن کو عفو کا اختیار ہے کوئی قسم کھانے سے انکار کرے گا تو پھر قصاص لازم نہ ہوگا بلکہ جب ان لوگوں میں جن کو عفو کا اختیار نہیں کوئی قسم کھانے سے انکار کرے تو باقی لوگوں سے قسم لیں گے اور جن کو عفو کا اختیار ہے ان میں سے اگر کوئی ایک بھی قسم کھانے سے انکار کرے تو باقی وارثوں کو بھی قسم نہ دیں گے۔ بلکہ اس صورت میں مدعیٰ علیہم کو قسم دیں گے ان میں سے پچاس آدمیوں کو پچاس قسمیں دیں گے اگر پچاس سے کم ہوں تو مکرر کر کے پچاس پوری کریں گے اگر مدعیٰ علیہ ایک ہی ہو تو اس سے پچاس قسمیں لیں گے جب وہ پچاس قسمیں کھالے گا بری ہوجائے گا۔ کہا مالک نے اگر ایک قوم کی قوم کو جس میں بہت آدمی ہوں خون کی تہمت لگے اور مقتول کے وارث ان سے قسم لینا چاہیں تو ہر شخص ان میں سے پچاس پچاس قسمیں کھائے گا یہ نہ ہوگا کہ پچاس قسمیں سب پر تقسیم ہوجائیں یہ میں نے اچھا سنا۔ کہا مالک نے قسامت مقتول کی عصبوں کی طرف ہوگی جو خون کے مالک ہیں انہی کو قسم دی جاتی ہے اور انہی کی قسم کھانے سے قصاص لیا جاتا ہے۔

Yahya said from Malik from Yahya ibn Said that Bushayr ibn Yasar informed him that Abdullah ibn Sahl al-Ansari and Muhayyisa ibn Masud went out to Khaybar, and they separated on their various businesses and Abdullah ibn Sahl was killed. Muhayyisa, and his brother Huwayyisa and Abd ar-Rahman ibn Sahl went to the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, and Abd ar-Rahman began to speak before his brother. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The older first, the older first. Therefore Huwayyisa and then Muhayyisa spoke and mentioned the affair of Abdullah ibn Sahl. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to them, "Do you swear with fifty oaths and claim the blood-money of your companion or the life of the murderer?" They said, "Messenger of Allah, we did not see it and we were not present." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Will you acquit the jews for fifty oaths? They said, "Messenger of Allah, how can we accept the oaths of a people who are kafirun?" Yahya ibn Said said, "Bushayr ibn Yasar claimed that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, paid the blood-money from his own property."

1457Mauwatta Imam Malik

خون کے وارثوں میں سے کن کن لوگوں سے قسم لینی چاہے

بَاب مَنْ تَجُوزُ قَسَامَتُهُ فِي الْعَمْدِ مِنْ وُلَاةِ الدَّمِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا يَحْلِفُ فِي الْقَسَامَةِ فِي الْعَمْدِ أَحَدٌ مِنْ النِّسَاءِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لِلْمَقْتُولِ وُلَاةٌ إِلَّا النِّسَاءُ فَلَيْسَ لِلنِّسَاءِ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ قَسَامَةٌ وَلَا عَفْوٌ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يُقْتَلُ عَمْدًا أَنَّهُ إِذَا قَامَ عَصَبَةُ الْمَقْتُولِ أَوْ مَوَالِيهِ فَقَالُوا نَحْنُ نَحْلِفُ وَنَسْتَحِقُّ دَمَ صَاحِبِنَا فَذَلِكَ لَهُمْ قَالَ مَالِك فَإِنْ أَرَادَ النِّسَاءُ أَنْ يَعْفُونَ عَنْهُ فَلَيْسَ ذَلِكَ لَهُنَّ الْعَصَبَةُ وَالْمَوَالِي أَوْلَى بِذَلِكَ مِنْهُنَّ لِأَنَّهُمْ هُمْ الَّذِينَ اسْتَحَقُّوا الدَّمَ وَحَلَفُوا عَلَيْهِ قَالَ مَالِك وَإِنْ عَفَتْ الْعَصَبَةُ أَوْ الْمَوَالِي بَعْدَ أَنْ يَسْتَحِقُّوا الدَّمَ وَأَبَى النِّسَاءُ وَقُلْنَ لَا نَدَعُ دَمَ صَاحِبِنَا فَهُنَّ أَحَقُّ وَأَوْلَى بِذَلِكَ لِأَنَّ مَنْ أَخَذَ الْقَوَدَ أَحَقُّ مِمَّنْ تَرَكَهُ مِنْ النِّسَاءِ وَالْعَصَبَةِ إِذَا ثَبَتَ الدَّمُ وَوَجَبَ الْقَتْلُ قَالَ مَالِك لَا يُقْسِمُ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ مِنْ الْمُدَّعِينَ إِلَّا اثْنَانِ فَصَاعِدًا فَتُرَدُّ الْأَيْمَانُ عَلَيْهِمَا حَتَّى يَحْلِفَا خَمْسِينَ يَمِينًا ثُمَّ قَدْ اسْتَحَقَّا الدَّمَ وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِك وَإِذَا ضَرَبَ النَّفَرُ الرَّجُلَ حَتَّى يَمُوتَ تَحْتَ أَيْدِيهِمْ قُتِلُوا بِهِ جَمِيعًا فَإِنْ هُوَ مَاتَ بَعْدَ ضَرْبِهِمْ كَانَتْ الْقَسَامَةُ وَإِذَا كَانَتْ الْقَسَامَةُ لَمْ تَكُنْ إِلَّا عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ وَلَمْ يُقْتَلْ غَيْرُهُ وَلَمْ نَعْلَمْ قَسَامَةً كَانَتْ قَطُّ إِلَّا عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ

کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ قسامت میں عورتوں سے قسم نہ لی جائے گا اور جو مقتول کی وارث صرف عورتیں ہوں تو ان کو قتل عمد میں نہ قسامت کا اختیار ہوگا نہ عفو کا۔ کہا مالک نے ایک شخص عمداً مارا گیا اس کے عصبہ یا موالی نے کہا کہ ہم قسم کھا کر قصاص لیں گے تو ہوسکتا ہے اگرچہ عورتیں معاف کردیں تو ان سے کچھ نہ ہوگا بلکہ عص بےیا موالی ان سے زیادہ مستحق ہیں خون کے کیونکہ وہی قسم اٹھائیں گے۔ کہا مالک نے البتہ عصبات یا موالی نے خون معاف کردیا بعد حلف اٹھالینے کے اور خون کے مستحق ہوجانے کے اور عورتوں نے عفو سے انکار کیا تو عورتوں کو قصاص لینے کا استحقاق ہوگا۔ کہا مالک نے قتل عمد میں کم سے کم دو مدعیوں سے قسم لینا ضروری ہے انہیں سے پچاس قسمیں لے کر قصاص کا حکم کردیں گے۔ کہا مالک نے اگر کئی آدمی مل کر ایک آدمی کو مار ڈالیں اس طرح کہ وہ سب کی ضربوں سے اسی وقت مرے تو سب قصاصا قتل کئے جائیں گے اور جو بعد کئی دن کے مرے تو قسامت واجب ہوگی اس صورت میں قسامت کی وجہ سے صرف ایک شخص ان لوگوں میں سے قتل کیا جائے گا۔ کیونکہ ہمیشہ قسامت سے ایک ہی شخص مارا جاتا ہے۔ کہا مالک نے قتل خطاء میں بھی پہلی قسم خون کے مدعیوں پر ہوگی وہ پچاس قسمیں کھائیں گے اپنی حصے کے موافق ترکے میں سے اگر قسموں میں کسر پڑے تو جس وارث پر کسر کا زیادہ حصہ آئے وہ پوری قسم اس کے حصے میں رکھی جائے گی۔ کہا مالک نے اگر مقتول کی وارث صرف عورتیں ہوں تو وہی حلف اٹھا کے دیت لیں گی اور اگر مقتول کا وارث ایک ہی مرد ہو تو اسی کو پچاس قسمیں دیں گے اور وہ پچاس قسمیں کھا کر دیت لے لے گا یہ حکم قتل خطا میں ہے نہ کہ قتل عمد میں۔

Yahya said that Malik said, "The way of doing things in our community about which there is no dispute is that women do not swear in the swearing for the intentional act. If the murdered man only has female relatives, the women have no right to swear for blood and no pardon in murder."

1458Mauwatta Imam Malik

قسامت میں میراث کا بیان

بَاب الْمِيرَاثِ فِي الْقَسَامَةِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك إِذَا قَبِلَ وُلَاةُ الدَّمِ الدِّيَةَ فَهِيَ مَوْرُوثَةٌ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ يَرِثُهَا بَنَاتُ الْمَيِّتِ وَأَخَوَاتُهُ وَمَنْ يَرِثُهُ مِنْ النِّسَاءِ فَإِنْ لَمْ يُحْرِزْ النِّسَاءُ مِيرَاثَهُ كَانَ مَا بَقِيَ مِنْ دِيَتِهِ لِأَوْلَى النَّاسِ بِمِيرَاثِهِ مَعَ النِّسَاءِ قَالَ مَالِك إِذَا قَامَ بَعْضُ وَرَثَةِ الْمَقْتُولِ الَّذِي يُقْتَلُ خَطَأً يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ الدِّيَةِ بِقَدْرِ حَقِّهِ مِنْهَا وَأَصْحَابُهُ غَيَبٌ لَمْ يَأْخُذْ ذَلِكَ وَلَمْ يَسْتَحِقَّ مِنْ الدِّيَةِ شَيْئًا قَلَّ وَلَا كَثُرَ دُونَ أَنْ يَسْتَكْمِلَ الْقَسَامَةَ يَحْلِفُ خَمْسِينَ يَمِينًا فَإِنْ حَلَفَ خَمْسِينَ يَمِينًا اسْتَحَقَّ حِصَّتَهُ مِنْ الدِّيَةِ وَذَلِكَ أَنَّ الدَّمَ لَا يَثْبُتُ إِلَّا بِخَمْسِينَ يَمِينًا وَلَا تَثْبُتُ الدِّيَةُ حَتَّى يَثْبُتَ الدَّمُ فَإِنْ جَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْ الْوَرَثَةِ أَحَدٌ حَلَفَ مِنْ الْخَمْسِينَ يَمِينًا بِقَدْرِ مِيرَاثِهِ مِنْهَا وَأَخَذَ حَقَّهُ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ الْوَرَثَةُ حُقُوقَهُمْ إِنْ جَاءَ أَخٌ لِأُمٍّ فَلَهُ السُّدُسُ وَعَلَيْهِ مِنْ الْخَمْسِينَ يَمِينًا السُّدُسُ فَمَنْ حَلَفَ اسْتَحَقَّ مِنْ الدِّيَةِ وَمَنْ نَكَلَ بَطَلَ حَقُّهُ وَإِنْ كَانَ بَعْضُ الْوَرَثَةِ غَائِبًا أَوْ صَبِيًّا لَمْ يَبْلُغْ حَلَفَ الَّذِينَ حَضَرُوا خَمْسِينَ يَمِينًا فَإِنْ جَاءَ الْغَائِبُ بَعْدَ ذَلِكَ أَوْ بَلَغَ الصَّبِيُّ الْحُلُمَ حَلَفَ كُلٌّ مِنْهُمَا يَحْلِفُونَ عَلَى قَدْرِ حُقُوقِهِمْ مِنْ الدِّيَةِ وَعَلَى قَدْرِ مَوَارِيثِهِمْ مِنْهَا قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ

کہا مالک نے جب خون کے وارث دیت کو قبول کرلیں تو اس کی تقسیم موافق کتاب اللہ کے ہوگی دیت کے وارث مقتول کی بیٹیاں اور بہنیں اور جتنی عورتیں ترکہ پاتی ہیں وہ ہوں گی اگر عورتوں کے حصے ادا کرکے کچھ بچ رہے تو جو عصبہ قریب ہوگا وہ مابقی (باقی) کا وارث ہوگا۔ کہا مالک نے اگر مقتول کے بعض ورثاء غائب ہوں اور بعض حاضر جو حاضر ہوں وہ یہ چاہیں کہ اپنے حصے کی قسمیں کھا کر دیت کا حصہ وصول کرلیں تو یہ نہیں ہوسکتا جب تک کہ پوری قسمیں نہیں کھائیں گے اگر پوری پچاس قسمیں کھالیں تو دیت میں سے اپنا حصہ لے سکتے ہیں کیونکہ خون ثابت نہیں ہوتا بغیرپچاس قسموں کے اور جب تک خون ثابت نہ ہو دیت لازم نہیں آتی اب جو ورثاء غائب تھے ان میں سے اگر کوئی آجائے تو وہ اپنے حصے کے موافق قسمیں کھا کر دیت میں سے اپنا حصہ لے لے یہاں تک کہ سب وارثوں کا حق پورا ہوجائے۔ اگر اخیافی بھائی آئے تو پچاس قسموں کا چھٹا حصہ جو ہو اتنی ہی قسمیں کھائیں اور اپنا حصہ لے لے اگر انکار کرے گا تو اس کا حصہ باطل ہوگا اگر بعض ورثاء غائب ہوں جو نابالغ ہوں تو جو حاضر ہیں ان سے پچاس قسمیں لی جائیں گی اور جو غائب ہے وہ جب آئے گا اس سے بھی اس کے حصے کے موافق قسمیں لی جائیں گی اور جب وہ نابالغ بالغ ہوجائے وہ بھی اپنے حصے کے موافق قسم کھائے یہ میں نے اچھا سنا۔

Yahya said that Malik said, "When the relatives of the deceased accept the blood-money then it is inherited according to the Book of Allah. Daughters of the dead man inherit and so do sisters, and whichever women would inherit from him ordinarily. If the women do not take all his inheritance, then what remains goes to the agnatic relations who most deserve to inherit from him in conjunction with the women."

1459Mauwatta Imam Malik

غلام میں قسامت کا بیان۔

بَاب الْقَسَامَةِ فِي الْعَبِيدِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْعَبِيدِ أَنَّهُ إِذَا أُصِيبَ الْعَبْدُ عَمْدًا أَوْ خَطَأً ثُمَّ جَاءَ سَيِّدُهُ بِشَاهِدٍ حَلَفَ مَعَ شَاهِدِهِ يَمِينًا وَاحِدَةً ثُمَّ كَانَ لَهُ قِيمَةُ عَبْدِهِ وَلَيْسَ فِي الْعَبِيدِ قَسَامَةٌ فِي عَمْدٍ وَلَا خَطَإٍ وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالَ ذَلِكَ قَالَ مَالِك فَإِنْ قُتِلَ الْعَبْدُ عَبْدًا عَمْدًا أَوْ خَطَأً لَمْ يَكُنْ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ الْمَقْتُولِ قَسَامَةٌ وَلَا يَمِينٌ وَلَا يَسْتَحِقُّ سَيِّدُهُ ذَلِكَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ عَادِلَةٍ أَوْ بِشَاهِدٍ فَيَحْلِفُ مَعَ شَاهِدِهِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ

کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ جب غلام قصداً یا خطاء مارا جائے پھر اس کا مولیٰ ایک ایک گواہ لے کر آئے تو وہ اپنے گواہ کے ساتھ ایک قسم کھائے بعد اس کے اپنے غلام کی قیمت لے لے غلام میں قسامت نہیں ہے نہ عمد میں نہ خطا میں اور میں نے کسی اہل علم سے نہیں سنا۔ کہا مالک نے اگر غلام عمداً یا خطاء مارا گیا تو اس کے مولیٰ پر نہ قسامت ہے نہ قسم ہے اور مولیٰ کو قیمت کا اس وقت استحقاق ہوگا جب کہ وہ گواہ عادل لائے دو یا ایک لائے اور ایک قسم کھائے میں نے یہ اچھا سنا۔

Yahya said that Malik said, "What is done in our community about slaves is that when a slave is struck intentionally or accidentally and the master brings a witness, he swears with his witness one oath and then he has the value of the slave. There is no swearing for revenge in slaves, accidentally or intentionally, and I have not heard any of the people of knowledge say that there was."

1460Mauwatta Imam Malik

رجم کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مَالِک عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ جَائَتْ الْيَهُودُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ فَقَالُوا نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ کَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَی آيَةِ الرَّجْمِ ثُمَّ قَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ارْفَعْ يَدَکَ فَرَفَعَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَقَالُوا صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَحْنِي عَلَی الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ یہودی رسول اللہ کے پاس آئے اور بیان کیا کہ ہم میں سے ایک مرد اور عورت نے زنا کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تورات میں کیا حکم ہے رجم کا؟ یہودیوں نے کہا ہم میں جو کوئی زنا کرے اس کو ہم رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مارتے ہیں عبداللہ بن سلام نے کہا تم جھوٹ بولتے ہو تورات میں رجم ہے لاؤ تم تورات کو پڑھو اس کو، انہوں نے تورات کو کھولا اور ایک شخص نے ان میں سے اپنا ہاتھ رجم کی آیت پر رکھ لیا اور اس کے اول اور آخر کی آیتیں پڑھیں عبداللہ بن سلام نے اس سے کہا اپنا ہاتھ اٹھا اس نے جو ہاتھ اٹھایا تو رجم کی آیت نکلی تب سب یہودی کہنے لگے کہ سچ کہا عبداللہ بن سلام نے آیت رجم کی موجود ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے حکم کیا رجم کا تو وہ مرد اور عورت رجم کئے گئے عبداللہ بن عمر نے کہا کہ میں نے مرد کو دیکھا کہ وہ عورت کی طرف جھکتا تھا اس کو بچانے پتھروں سے۔

Malik related to me from Nafi that Abdullah ibn Umar said, "The Jews came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and mentioned to him that a man and woman from among them had committed adultery. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, asked them, What do you find in the Torah about stoning? They said, We make their wrong action known and flog them. Abdullah ibn Salam said, You have lied! It has stoning for it, so bring the Torah. They spread it out and one of them placed his hand over the ayat of stoning. Then he read what was before it and what was after it. Abdullah ibn Salam told him to lift his hand. He lifted his hand and there was the ayat of stoning. They said, He has spoken the truth, Muhammad. The ayat of stoning is in it. So the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, gave the order and they were stoned . " Abdullah ibn Umar added, "I saw the man leaning over the woman to protect her from the stones." Malik commented, "By leaning he meant throwing himself over her so that the stones fell on him."