عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَی لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَإِنَّهَا لِلَّذِي يُعْطَاهَا لَا تَرْجِعُ إِلَی الَّذِي أَعْطَاهَا أَبَدًا لِأَنَّهُ أَعْطَی عَطَائً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ
جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی کو عمریٰ دے اس کے واسطے اور اس کے وارثوں کے واسطے تو پھر وہ عمرہ اس کا ہوجاتا ہے دینے ولاے کو پھر نہیں مل سکتا۔
Malik related to me from Ibn Shihab from Abu Salama ibn Abd ar-Rahman ibn Awf from Jabir ibn Abdullah al-Ansari that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If someone is given a life pension, for him and his posterity, it belongs to the person to whom it has been given. It never reverts to the one who gave it because he gave a gift and the rules of inheritance apply to it."
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ أَنَّهُ سَمِعَ مَکْحُولًا الدِّمَشْقِيَّ يَسْأَلُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعُمْرَی وَمَا يَقُولُ النَّاسُ فِيهَا فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ مَا أَدْرَکْتُ النَّاسَ إِلَّا وَهُمْ عَلَی شُرُوطِهِمْ فِي أَمْوَالِهِمْ وَفِيمَا أُعْطُوا
عبدالرحمن بن قاسم نے سنا مکحول سے پوچھتے ہوئے قاسم سے عمریٰ کے متعلق کیا قول ہے لوگوں کا اس میں قاسم نے کہا میں نے تو لوگوں کو اپنی شرطین پوری کرتے وہئے پایا اپنے مالوں میں اور جو کچھ وہ دیا رکتے تھے اس کو بھی پورا کرتے تھے۔
Malik related to me from Yahya ibn Said that Abd ar-Rahman ibn al-Qasim ibn Muhammad heard Makhul ad-Dimashqi ask al-Qasim ibn Muhammad about the life pension and what people said about it. Al-Qasim ibn Muhammad said, "I have only come upon people who keep to the conditions they make about their property and what they are given." Yahya said that he heard Malik say, "What is done in our community is that the life pension reverts to the one who makes it a life pension unless he says, It belongs to you and your posterity. "
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَرِثَ مِنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ دَارَهَا قَالَ وَکَانَتْ حَفْصَةُ قَدْ أَسْکَنَتْ بِنْتَ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ مَا عَاشَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ بِنْتُ زَيْدٍ قَبَضَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْمَسْکَنَ وَرَأَی أَنَّهُ لَهُ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر وارث ہوئے ام المومنین حفصہ کے وہ اپنا گھر زید بن خطاب کی بیٹی کو زندگی پھر رہنے کر دے گئی تھیں جب وہ مرگئیں تو عبداللہ بن عمر نے اس گھر کو لے لیا اپنا سمجھ کر۔
Malik related to me from Nafi that Abdullah ibn Umar inherited the house of Hafsa bint Umar. He said, "Hafsa gave lodging to the daughter of Zayd ibn al-Khattab for as long as she lived. When the daughter of Zayd died, Abdullah ibn Umar took possession of the dwelling and considered that it was his."
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ اللُّقَطَةِ فَقَالَ اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِکَائَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَائَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنَکَ بِهَا قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هِيَ لَکَ أَوْ لِأَخِيکَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ فَضَالَّةُ الْإِبِلِ قَالَ مَا لَکَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَائَ وَتَأْکُلُ الشَّجَرَ حَتَّی يَلْقَاهَا رَبُّهَا
زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ ﷺ کے پاس اور پوچھا آپ ﷺ سے لقطہ کو فرمایا آپ ﷺ نے پہچان رکھ طرف اس کا لقطہ ہو خواہ چمڑے میں ہو یا کپڑے میں ہو پاور پہچان رکھ بندھن اس کا پھر ایک برس تک لوگوں سے اس کا حال کہا کر اگر اس کا مالک مل جائے تو اس کے دے دے نہیں تو لے لے پھر اس نے کہا گر کوئی بکری بہکی بھٹکی مل جائے یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا بکری تیرے کام میں آئے گی یا تیرے بھائی کے نہیں تو بھیڑیا کھاجائے گا پھر اس شخص نے کہا اگر اونٹ بھولا ملے آپ ﷺ نے فرمایا اونٹ سے تجھے کیا کام وہ تو اپنے ساتھ اپنا پانی رکھتا ہے اور موزے رکھتا ہے جہاں اس کو پانی مل جاتا ہے پی لیتا ہے جو درخت ملتا ہے کھالیتا ہے یہاں تک کہ مالک اس کا اس کو پا لیاتا ہے
Malik related to me from Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman from Yazid, the mawla of al-Munbaith that Zayd ibn Khalid al-Juhani said, "A man came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and asked him about finds. He said, Memorize the characteristics of the object found, then publicise it for a year. If the owner comes, give it to him. If not, then it is your business. He said, What about lost sheep, Messenger of Allah? ﷺ He said, They are yours, your brothers or the wolfs. He said, And the lost camel? He said, Its none of your concern. It has its water and its feet. It will reach water and eat trees until its owner finds it. "
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ نَزَلَ مَنْزِلَ قَوْمٍ بِطَرِيقِ الشَّامِ فَوَجَدَ صُرَّةً فِيهَا ثَمَانُونَ دِينَارًا فَذَکَرَهَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ عَرِّفْهَا عَلَی أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ وَاذْکُرْهَا لِکُلِّ مَنْ يَأْتِي مِنْ الشَّأْمِ سَنَةً فَإِذَا مَضَتْ السَّنَةُ فَشَأْنَکَ بِهَا
معاویہ بن عبداللہ بن بدر الجہنی (رح) سے روایت ہے ان کے باپ نے بیان کیا کہ انہوں نے شام کے راستہ میں ایک منزل میں جہاں لوگ اتر چکے تھے ایک تھیلی پائی جس میں اسی دینار تھے انہوں نے حضرت عمر ؓ سے بیان کیا آپ نے کہا مسجدوں کے دروازوں پر لوگوں سے کہا کر اور جو شخص شام سے آئے اس سے بیان کیا کر ایک برس تک جب ایک برس گزر جائے پھر تجھ کو اختیار ہے۔
Malik related to me from Ayyub ibn Musa from Muawiya ibn Abdullah ibn Badr al-Juhani that his father informed him that he stopped with a people on the way to Syria and he found a purse which had eighty dinars in it. He mentioned that to Umar ibn al-Khattab. Umar said to him, "Announce it at the doors of the mosques and mention it to everyone who comes from Syria for a year. When a year passes, it is your business."
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ لُقَطَةً فَجَائَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ إِنِّي وَجَدْتُ لُقَطَةً فَمَاذَا تَرَی فِيهَا فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَرِّفْهَا قَالَ قَدْ فَعَلْتُ قَالَ زِدْ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا آمُرُکَ أَنْ تَأْکُلَهَا وَلَوْ شِئْتَ لَمْ تَأْخُذْهَا
نافع سے روایت ہے کہ ایک شخص نے لقطہ پایا اس کو عبداللہ بن عمر کے پاس لے آیا اور پوچھا کیا کہتے ہو اس باب میں عبداللہ بن عمر نے کہا لوگوں سے پوچھا اور بتا اس نے کہا میں پوچھ اور بتاچکا عبداللہ بن عمر نے کہا اور سہی اس نے کہا میں پوچھ بتاچکا ہوں عبداللہ نے کہا میں کبھی تجھ کو حکم نہ کروں گا اس کے کھانے کا اگر تو چاہتا تو اس کو نہ لیتا۔
Malik related to me from Nafi that a man found something and went to Abdullah ibn Umar and said to him, "I have found something. What do you think I should do about it?" Abdullah ibn Umar said to him, "Publicise it!" He said, "I have done so." He said, "Do it again." He said, "I have done so." Abdullah said, "I do not order you to use it. If you wished, you could have left it."
غلام لقطے کو پا کر خرچ کر ڈالے تو کیا حکم ہے۔
قَالَ مَالِک عِنْدَنَا فِي الْعَبْدِ يَجِدُ اللُّقَطَةَ فَيَسْتَهْلِکُهَا قَبْلَ أَنْ تَبْلُغَ الْأَجَلَ الَّذِي أُجِّلَ فِي اللُّقَطَةِ وَذَلِکَ سَنَةٌ أَنَّهَا فِي رَقَبَتِهِ إِمَّا أَنْ يُعْطِيَ سَيِّدُهُ ثَمَنَ مَا اسْتَهْلَکَ غُلَامُهُ وَإِمَّا أَنْ يُسَلِّمَ إِلَيْهِمْ غُلَامَهُ وَإِنْ أَمْسَکَهَا حَتَّی يَأْتِيَ الْأَجَلُ الَّذِي أُجِّلَ فِي اللُّقَطَةِ ثُمَّ اسْتَهْلَکَهَا کَانَتْ دَيْنًا عَلَيْهِ يُتْبَعُ بِهِ وَلَمْ تَکُنْ فِي رَقَبَتِهِ وَلَمْ يَکُنْ عَلَی سَيِّدِهِ فِيهَا شَيْئٌ
کہا مالک نے ہمارے نزدیک حکم یہ ہے غلام اگر لفظ پائے اور اس کو خرچ کر ڈالے میعاد گزرنے سے پہلے یعنی ایک برس سے پہلے تو وہ اس کے ذمہ رہے گا اب جب اس کا مالک آئے تو غلام کامولیٰ لقطے کی قیمت ادا کرے یا غلام کو حوالے کر دے اگر غلام نے میعاد گزرنے کے بعد اس کو صرف کیا تو وہ اس کے ذمے قرض رہے گا جب آزاد ہو اس سے لے لے فی الحال کچھ نہیں لے سکتا نہ مولیٰ کو اس کا دینالازم ہے۔
Yahya said that he heard Malik say, "What is done in our community about a slave who finds something and uses it before the term which is set for finds has been reached, and that is a year, is that it is against his person. Either his master gives the price of what his slave has used, or he surrenders his slave to them as compensation. If he withheld it until the term was reached which is set for finds and he used it, it is a debt against him which follows him and it is not against his person and there is nothing against his master in it."
جو جانور مالک کے پاس سے گم ہوگئے ہوں اس کا بیان
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاکِ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَجَدَ بَعِيرًا بِالْحَرَّةِ فَعَقَلَهُ ثُمَّ ذَکَرَهُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يُعَرِّفَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ إِنَّهُ قَدْ شَغَلَنِي عَنْ ضَيْعَتِي فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَرْسِلْهُ حَيْثُ وَجَدْتَهُ
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ثابت بن ضحاک انصاری نے ایک اونٹ پایا حرہ میں اس کو رسی سے باندھا اور حضرت عمر سے بیان کیا حضرت عمر نے کہا تین مرتبہ اس کو بتاؤ ثابت نے کہا اپنی زمین کی خبر لیتے سے میں مجبور ہوگیا حضرت عمر نے کہا جہاں سے تو نے اس اونٹ کو پایا ہے وہیں چھوڑ دے۔
Malik related to me from Yahya ibn Said from Sulayman ibn Yasar that Thabit ibn ad-Dahhak al-Ansari told him that he had found a camel at Harra, so he hobbled it and mentioned it to Umar ibn al-Khattab and Umar ordered him to make it known three times. Thabit said to him, "That would distract me from the running of my estate." Umar said to him, "Then let it go where you found it."
جو جانور مالک کے پاس سے گم ہوگئے ہوں اس کا بیان
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَی الْکَعْبَةِ مَنْ أَخَذَ ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کعبہ سے اپنی پیٹھ لگائے ہوئے بیٹھے تھے فرمایا جو شخص گم ہوئی چیز اٹھائے وہ خود گمراہ ہے۔
Malik related to me from Yahya ibn Said from Said ibn al-Musayyab that Umar ibn al-Khattab said while he was leaning his back against the Kaba, "Whoever takes a stray is astray."
جو جانور مالک کے پاس سے گم ہوگئے ہوں اس کا بیان
ابْنَ شِهَابٍ يَقُولُ کَانَتْ ضَوَالُّ الْإِبِلِ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِبِلًا مُؤَبَّلَةً تَنَاتَجُ لَا يَمَسُّهَا أَحَدٌ حَتَّی إِذَا کَانَ زَمَانُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَمَرَ بِتَعْرِيفِهَا ثُمَّ تُبَاعُ فَإِذَا جَائَ صَاحِبُهَا أُعْطِيَ ثَمَنَهَا
ابن شہاب کہتے تھے کہ حضرت عمر کے زمانے میں جو اونٹ گمے ہوئے ملتے تھے وہ چھوڑ دئے جاتے تھے بچے جنا کرتے تھے کوئی انہیں نہ لیتا تھا۔ جب حضرت عثمان کا زمانہ ہوا تو انہوں نے حکم کیا کہ بتائے جائیں پھر بیچ کر ان کی قیمت بیت المال میں رکھی جائے۔ جب مالک آئے تو اس کو دیدی جائے۔
Malik related to me that he heard Ibn Shihab say, "The stray camels in the time of Umar ibn al-Khattab were numerous and left alone. No one touched them until the time of Uthman ibn Affan. He ordered that they be publicised and then sold, and if the owner came afterwards, he was given their price."
زندہ مردے کی طرف سے صدقہ دے تو مردے کو ثواب پہچنتا ہے۔
عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ قَالَ خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَحَضَرَتْ أُمَّهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ فَقِيلَ لَهَا أَوْصِي فَقَالَتْ فِيمَ أُوصِي إِنَّمَا الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ سَعْدٌ فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ذُکِرَ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فَقَالَ سَعْدٌ حَائِطُ کَذَا وَکَذَا صَدَقَةٌ عَنْهَا لِحَائِطٍ سَمَّاهُ
شرجیل بن سعید بن سعد بن عبادہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کر نکلے ان کی ماں مدینہ میں مرنے لگیں لوگوں نے ان سے کہا وصیت کروں انہوں نے کہا کیا وصیت کروں مال تو سعد کا ہے پھر مرگئیں سعد کے آنے سے پہلے۔ جب سعد آئے لوگوں نے بیان کیا سعد نے رسول سے پوچھا کہ اگر میں اپنی ماں کی طرف سے لللہ دوں تو اس کو فائدہ ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں پھر سعد نے کہا فلاں فلاں باغ صدقہ ہے میرے ماں کی طرف سے۔
Malik related to me from Said ibn Amr Shurahbil ibn Said ibn Sad ibn Ubadah from his father that his father said, Sad ibn Ubadah went out with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, in one of his raids and his mother was dying in Madina. Someone said to her, Leave a testament. She said, In what shall I leave a testament? The property is Sads property. Then she died before Sad returned. When Sad ibn Ubadah returned, that was mentioned to him. Sad said, Messenger of Allah! Will it help her if I give sadaqa for her? The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Yes Sad said, Such-and-such a garden is sadaqa for her, naming the garden."
زندہ مردے کی طرف سے صدقہ دے تو مردے کو ثواب پہچنتا ہے۔
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَأُرَاهَا لَوْ تَکَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ تَصَدَّقَ عَلَی أَبَوَيْهِ بِصَدَقَةٍ فَهَلَکَا فَوَرِثَ ابْنُهُمَا الْمَالَ وَهُوَ نَخْلٌ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ أُجِرْتَ فِي صَدَقَتِکَ وَخُذْهَا بِمِيرَاثِکَ
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میرے ماں کا دم یکایک نکل گیا اگر بات کرنے پاتی تو ضرور صدقہ کرتی کیا میں اس کی طرف سے صدقہ کروں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ ایک شخص انصاری نے اپنے والدین کو کھجور کے درخت صدقہ میں دئیے پھر والدین مرگئے تو وہی شخص اس کا وارث ہو اس نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا اتجھے صدقہ کا ثواب ہوا اب میراث میں اس کو لے لے
Malik related to me from Hisham ibn Urwa from his father from Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, that a man said to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, "My mother died suddenly, and I think that had she spoken, she would have given sadaqa. Shall I give sadaqa for her?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Yes."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْئٌ يُوصَی فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَکْتُوبَةٌ قَالَ مَالِک فَلَوْ کَانَ الْمُوصِي لَا يَقْدِرُ عَلَی تَغْيِيرِ وَصِيَّتِهِ وَلَا مَا ذُکِرَ فِيهَا مِنْ الْعَتَاقَةِ کَانَ کُلُّ مُوصٍ قَدْ حَبَسَ مَالَهُ الَّذِي أَوْصَی فِيهِ مِنْ الْعَتَاقَةِ وَغَيْرِهَا وَقَدْ يُوصِي الرَّجُلُ فِي صِحَّتِهِ وَعِنْدَ سَفَرِهِ قَالَ مَالِک فَالْأَمْرُ عِنْدَنَا الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ أَنَّهُ يُغَيِّرُ مِنْ ذَلِکَ مَا شَائَ غَيْرَ التَّدْبِيرِ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں لائق ہے آدمی کو جس کے پاس چیز یا معاملہ ایسا ہو جس میں وصیت کرنا ضروری ہو اور وہ دو راتیں گزارے بغیر وصیت لکھے ہؤے کہا مالک نے اگر موصی اپنی وصیت کے بدلنے پر قادر نہ ہوتا تو چاہیے تھا کہ ہر وصیت کرنے والے کا مال اس کے اختیار سے نکل کر رکا رہتا حالانکہ ایسا نہیں ہے کبھی آدمی اپنی صحت کو بدل سکتا ہے سوائے تدبیر کے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک ہر وصیت کو بدل سکتا ہے سائے تدبیر کے۔
Malik related to me from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "It is the duty of a muslim man who has something to be given as a bequest not to spend two nights without writing a will about it."
ضعیف اور کم سن اور مجنوں اور احمق کی وصیت کا بیان
عَنْ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِنَّ هَاهُنَا غُلَامًا يَفَاعًا لَمْ يَحْتَلِمْ مِنْ غَسَّانَ وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ وَهُوَ ذُو مَالٍ وَلَيْسَ لَهُ هَاهُنَا إِلَّا ابْنَةُ عَمٍّ لَهُ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَلْيُوصِ لَهَا قَالَ فَأَوْصَی لَهَا بِمَالٍ يُقَالُ لَهُ بِئْرُ جُشَمٍ قَالَ عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ فَبِيعَ ذَلِکَ الْمَالُ بِثَلَاثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ وَابْنَةُ عَمِّهِ الَّتِي أَوْصَی لَهَا هِيَ أُمُّ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ أَنَّ غُلَامًا مِنْ غَسَّانَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ فُلَانًا يَمُوتُ أَفَيُوصِي قَالَ فَلْيُوصِ قَالَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ وَکَانَ الْغُلَامُ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ أَوْ اثْنَتَيْ عَشَرَةَ سَنَةً قَالَ فَأَوْصَی بِبِئْرِ جُشَمٍ فَبَاعَهَا أَهْلُهَا بِثَلَاثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الضَّعِيفَ فِي عَقْلِهِ وَالسَّفِيهَ وَالْمُصَابَ الَّذِي يُفِيقُ أَحْيَانًا تَجُوزُ وَصَايَاهُمْ إِذَا کَانَ مَعَهُمْ مِنْ عُقُولِهِمْ مَا يَعْرِفُونَ مَا يُوصُونَ بِهِ فَأَمَّا مَنْ لَيْسَ مَعَهُ مِنْ عَقْلِهِ مَا يَعْرِفُ بِذَلِکَ مَا يُوصِي بِهِ وَکَانَ مَغْلُوبًا عَلَی عَقْلِهِ فَلَا وَصِيَّةَ لَهُ
عمرو بن سلیم زرقی سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب سے کہا گیا کہ اس جگہ مدینہ میں ایک لڑکا ہے قریب بلوغ کے مگر بالغ نہیں ہوا قبیلہ غسان سے اور اس کے وارث شام میں ہیں اور اس کے پاس مال ہے اور یہاں اس کا کوئی وارث نہیں سوائے ایک چچا زاد بہن کے تو حضرت عمر نے کہا اس کو وصیت کرے اس لڑکے نے مال کی وصیت جس کا نام بیر جشم تھا اپنی چچا زاد بہن کے واسطے کی عمرو بن سلیم نے کہا وہ مال تیس ہزار درہم کا بکا اور اس کی چچا زاد بہن عمرو بن سلیم کی ماں تھی۔ ابوبکر بن حزم سے روایت ہے کہ ایک لڑکا غسان کا مرنے لگا مدینہ میں اور وارث اس کے شام میں تھے حضرت عمر سے اس کا ذکر ہوا اور پوچھا گیا کیا وصیت کرے آپ نے فرمایا وصیت کرے یحییٰ بن سعید نے کہا وہ لڑکا دس برس کا تھا یا بارہ برس کا اور بیر جشم چھوڑ گیا اس کی وصیت کر گیا لوگوں نے اسے تیس ہزار درہم کا بیچا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ ضعیف العقل اور نادان اور مجنوں کی جس کو کبھی آفاقہ ہوجاتا ہے وصیت درست ہے جب اتنی عقل رکھتے ہوں کہ وصیت جو کریں اس کو سمجھیں اگر اتنی بھی عقل نہ ہو تو اس کی وصیت درست نہیں ہے۔
Malik related to me from Abdullah ibn Abi Bakr ibn Hazm that Amr ibn Sulaym az-Zuraqi informed his father that it had been said to Umar ibn al-Khattab, "There is here an adolescent boy who has not yet reached puberty. He is from the Ghassan tribe and his heir is in ash-Sham. He has property. Here he only has the daughter of one of his paternal uncles." Umar ibn al-Khattab instructed, "Let him leave her a bequest." He willed her a property called the well of Jusham. Malik added, "That property was sold for 30,00O dirhams, and the daughter of the paternal uncle to whom he willed it was the mother of Amr ibn Sulaym az-Zuraqi."
ثلث سے زیادہ وصیت درست نہ ہونے کا بیان
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ جَائَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَلَغَ بِي مِنْ الْوَجَعِ مَا تَرَی وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا فَقُلْتُ فَالشَّطْرُ قَالَ لَا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِيرٌ إِنَّکَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ أَغْنِيَائَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّکَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ حَتَّی مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِکَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَأُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا صَالِحًا إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّکَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّی يَنْتَفِعَ بِکَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَی أَعْقَابِهِمْ لَکِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَکَّةَ قَالَ مَالِک يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يُوصِي بِثُلُثِ مَالِهِ لِرَجُلٍ وَيَقُولُ غُلَامِي يَخْدُمُ فُلَانًا مَا عَاشَ ثُمَّ هُوَ حُرٌّ فَيُنْظَرُ فِي ذَلِکَ فَيُوجَدُ الْعَبْدُ ثُلُثَ مَالِ الْمَيِّتِ قَالَ فَإِنَّ خِدْمَةَ الْعَبْدِ تُقَوَّمُ ثُمَّ يَتَحَاصَّانِ يُحَاصُّ الَّذِي أُوصِيَ لَهُ بِالثُّلُثِ بِثُلُثِهِ وَيُحَاصُّ الَّذِي أُوصِيَ لَهُ بِخِدْمَةِ الْعَبْدِ بِمَا قُوِّمَ لَهُ مِنْ خِدْمَةِ الْعَبْدِ فَيَأْخُذُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ خِدْمَةِ الْعَبْدِ أَوْ مِنْ إِجَارَتِهِ إِنْ کَانَتْ لَهُ إِجَارَةٌ بِقَدْرِ حِصَّتِهِ فَإِذَا مَاتَ الَّذِي جُعِلَتْ لَهُ خِدْمَةُ الْعَبْدِ مَا عَاشَ عَتَقَ الْعَبْدُ قَالَ مَالِک يَقُولُ فِي الَّذِي يُوصِي فِي ثُلُثِهِ فَيَقُولُ لِفُلَانٍ کَذَا وَکَذَا وَلِفُلَانٍ کَذَا وَکَذَا يُسَمِّي مَالًا مِنْ مَالِهِ فَيَقُولُ وَرَثَتُهُ قَدْ زَادَ عَلَی ثُلُثِهِ فَإِنَّ الْوَرَثَةَ يُخَيَّرُونَ بَيْنَ أَنْ يُعْطُوا أَهْلَ الْوَصَايَا وَصَايَاهُمْ وَيَأْخُذُوا جَمِيعَ مَالِ الْمَيِّتِ وَبَيْنَ أَنْ يَقْسِمُوا لِأَهْلِ الْوَصَايَا ثُلُثَ مَالِ الْمَيِّتِ فَيُسَلِّمُوا إِلَيْهِمْ ثُلُثَهُ فَتَکُونُ حُقُوقُهُمْ فِيهِ إِنْ أَرَادُوا بَالِغًا مَا بَلَغَ
سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میری عیادت کو آئے (یعنی بیمار پرسی کے لئے) حجہ الوداع کے سال میں اور میرا مرض شدید تھا میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میری بیماری کا حال تو آپ دیکھتے ہیں اور میں مالدار ہوں اور میری وارث صرف میری ایک بیٹی ہے کیا میں دو ثلث مال للہ دے دوں آپ نے فرمایا نہیں میں نے کہا آدھا مال دے دوں۔ آپ نے فرمایا نہیں پھر خود آپ نے فرمایا تہائی مال للہ دے دے اور تہائی بہت ہے اگر تو اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ جائے تو بہتر ہے اس سے کہ فقیر بھیک منگا چھوڑ جائے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں اور تو جو چیز صرف کرے گا اللہ کی رضامندی کے واسطے تجھ کو اس کا ثواب ملے گا یہاں تک کہ تو جو اپنی بی بی کے منہ میں دیتا ہے اس کا بھی ثواب ملے گا پھر میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اپنے ساتھیوں کے پیچھے رہ جاؤں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تو پیچھے رہ جائے گا اور نیک کام کرے گا تیرا درجہ بلند ہوگا اور شاید تو زندہ رہے (مکہ میں نہ مرے) یہاں تک کہ نفع دے اللہ جل جلالہ تیرے سبب سے ایک قوم کو اور نقصان دے ایک قوم ہے۔ کہا مالک نے اگر کوئی وصیت کرے تہائی مال کی ایک شخص کو اور کہے غلام میرا فلاں شخص کی خدمت کرے جب تک وہ شخص زندہ رہے پھر آزاد ہے بعد اس کے اس غلام کی قیمت ثلث مال نکلے تو غلام کی خدمت کی قیمت لگادیں گے اور اس غلام میں حصہ کرلیں گے جس کو ثلث مال کی وصیت کی ہے اس کا حصہ ایک ثلث ہوگا اور جس کو خدمت کی وصیت کی ہے اس کا حصہ خدمت کے موافق ہوگا بعد اس کے دونوں شخص کی خدمت یا کمائی میں سے اپنا حصہ لیا کریں گے۔ جب وہ شخص مرجائے گا جس کے واسطے خدمت کی تھی تو غلام آزاد ہوجائے گا۔ کہا مالک نے اگر کوئی وصیت کرے تہائی مال کی ایک شخص کو اور کہے غلام میرا فلاں شخص کی خدمت کرے جب تک وہ شخص زندہ رہے پھر آزاد ہے بعد اس کے اس غلام کی قیمت ثلث مال نکلے تو غلام کی خدمت کی قیمت لگادیں گے اور اس غلام میں حصہ کرلیں گے جس کو ثلث مال کی وصیت کی ہے اس کا حصہ ایک ثلث ہوگا اور جس کو خدمت کی وصیت کی ہے اس کا حصہ خدمت کے موافق ہوگا بعد اس کے دونوں شخص کی خدمت یا کمائی میں سے اپنا حصہ لیا کریں گے۔ جب وہ شخص مرجائے گا جس کے واسطے خدمت کی تھی تو غلام آزاد ہوجائے گا۔ کہا مالک نے جو شخص وصیت کرے کئی آدمیوں کے لئے پھر اس کے وارث یہ دعویٰ کریں کہ وصیت ثلث سے زیادہ ہے تو وارثوں کو اختیار ہوگا چاہے ہر ایک موصی لہ کو اس کی وصیت ادا کریں اور میت کا پورا ترکہ آلے لیں یا تہائی مال موصی لہ جتنے ہوں ان کے حوالہ کردیں اور اپنے حصوں کے موافق اس کو تقسیم کرلیں گے۔
Malik related to me from Ibn Shihab from Amir ibn Sad ibn Abi Waqqas that his father said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came to me to treat me for a pain which became hard to bear in the year of the farewell hajj. I said, Messenger of Allah, you can see how far the pain has reached me. I have property and only my daughter inherits from me. Shall I give two thirds of my property as sadaqa? The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, No. I said, Half? He said, No. Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, A third, and a third is a lot. Leaving your heirs rich is better than leaving them poor to beg from people. You never spend anything on maintenance desiring the Face of Allah by it, but that you are rewarded for it, even what you appoint for your wife. Sad said, Messenger of Allah, will I be left here in Makka after my companions have departed for Madina? The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, If you are left behind, and do sound deeds you will increase your degree and elevation by them. Perhaps you will be left behind so that some people may benefit by you and others may be harmed by you. O Allah! complete their hijra for my companions, and do not turn them back on their heels. The unfortunate one is Said ibn Khawla. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was distressed on his account for he had died at Makka."
حاملہ اور بیمار کو اور اس شخص کو جو میدان جنگ میں کھڑا ہو اپنے مال میں کتنا اختیار ہے۔
بَاب أَمْرِ الْحَامِلِ وَالْمَرِيضِ وَالَّذِي يَحْضُرُ الْقِتَالَ فِي أَمْوَالِهِمْ قَالَ يَحْيَى سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي وَصِيَّةِ الْحَامِلِ وَفِي قَضَايَاهَا فِي مَالِهَا وَمَا يَجُوزُ لَهَا أَنَّ الْحَامِلَ كَالْمَرِيضِ فَإِذَا كَانَ الْمَرَضُ الْخَفِيفُ غَيْرُ الْمَخُوفِ عَلَى صَاحِبِهِ فَإِنَّ صَاحِبَهُ يَصْنَعُ فِي مَالِهِ مَا يَشَاءُ وَإِذَا كَانَ الْمَرَضُ الْمَخُوفُ عَلَيْهِ لَمْ يَجُزْ لِصَاحِبِهِ شَيْءٌ إِلَّا فِي ثُلُثِهِ قَالَ وَكَذَلِكَ الْمَرْأَةُ الْحَامِلُ أَوَّلُ حَمْلِهَا بِشْرٌ وَسُرُورٌ وَلَيْسَ بِمَرَضٍ وَلَا خَوْفٍ لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَقَ يَعْقُوبَ وَقَالَ حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ فَلَمَّا أَثْقَلَتْ دَعَوَا اللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَنَكُونَنَّ مِنْ الشَّاكِرِينَ فَالْمَرْأَةُ الْحَامِلُ إِذَا أَثْقَلَتْ لَمْ يَجُزْ لَهَا قَضَاءٌ إِلَّا فِي ثُلُثِهَا فَأَوَّلُ الْإِتْمَامِ سِتَّةُ أَشْهُرٍ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي كِتَابِهِ وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ وَقَالَ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا فَإِذَا مَضَتْ لِلْحَامِلِ سِتَّةُ أَشْهُرٍ مِنْ يَوْمَ حَمَلَتْ لَمْ يَجُزْ لَهَا قَضَاءٌ فِي مَالِهَا إِلَّا فِي الثُّلُثِ قَالَ و سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَحْضُرُ الْقِتَالَ إِنَّهُ إِذَا زَحَفَ فِي الصَّفِّ لِلْقِتَالِ لَمْ يَجُزْ لَهُ أَنْ يَقْضِيَ فِي مَالِهِ شَيْئًا إِلَّا فِي الثُّلُثِ وَإِنَّهُ بِمَنْزِلَةِ الْحَامِلِ وَالْمَرِيضِ الْمَخُوفِ عَلَيْهِ مَا كَانَ بِتِلْكَ الْحَالِ
کہا مالک نے حاملہ بھی مثل بیمار کے ہے اگر بیماری خفیف ہو جس میں موت کا خوف نہ ہو تو مالک مال کو اختیار ہے جیسا چاہے تصرف کرے البتہ جس بیماری میں موت کا خوف ہو تو ثلث سے زیادہ تصرف درست نہیں۔ کہا مالک نے اسی طرح حاملہ بھی اوائل حمل میں جب تک خوشی اور سرور اور صحت سے رہے نہ مرض ہو نہ خوف اپنے کل مال میں اختیار رکھے گی۔ اللہ جل جلالہ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے ہم نے بشارت دی سارہ کو اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔ اور فرمایا اللہ جل جلالہ نے جب آدمی نے عورت سے جماع کیا تو اس کو حمل ہوگیا ہلکا ہلکا چلتے پھرتے رہے جب حمل بھاری ہوا تو دونوں نے دعا کی اللہ سے جو ان کا رب تھا کہ اگر تو ہم کو نیک (یا صحیح وسالم) بچہ دے گا تو ہم تیرا شکر ادا کریں گے۔ پس عورت حاملہ جب بوجھل ہوجائے تو اس وقت ثلث مال سے زیادہ اختیار نہیں رہتا اور یہ بعد چھ مہینے کے ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ فرماتا ہے مائیں اپنے بچے کو دو برس کامل دودھ پلائیں جو شخص دودھ کی مدت پوری کرنا چاہے۔ اور پھر فرماتا ہے حمل اور دودھ چھڑائی اس کی تیس مہینے میں ہوتی ہے۔ تو جب حاملہ پر چھ مہینے گزر جائیں حمل کے روز سے اس وقت سے اس کا تصرف ثلث مال سے زیادہ میں درست نہ ہوگا۔ کہا مالک نے جو شخص صف جنگ میں کھڑا ہو اور لڑائی کو جائے اس کو بھی ثلث مال سے زیادہ اپنے مال میں تصرف درست نہیں وہ بھی حاملہ اور بیمار کے حکم میں ہے۔
Yahya said that he heard Malik say, "The best of what I have heard about the testament of a pregnant woman and about what settlements she is permitted in her property is that the pregnant woman is like the sick person. When the illness is light, and one does not fear for the sick person, he does with his property what he likes. If the illness is such that his life is feared for, he can only dispose of a third of his estate."
وارث کے واسطے وصیت کا بیان اور وارث کو کچھ مال دے جانے کا بیان
بَاب الْوَصِيَّةِ لِلْوَارِثِ وَالْحِيَازَةِ قَالَ يَحْيَى سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ إِنَّهَا مَنْسُوخَةٌ قَوْلُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ نَسَخَهَا مَا نَزَلَ مِنْ قِسْمَةِ الْفَرَائِضِ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ و سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ السُّنَّةُ الثَّابِتَةُ عِنْدَنَا الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا أَنَّهُ لَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ إِلَّا أَنْ يُجِيزَ لَهُ ذَلِكَ وَرَثَةُ الْمَيِّتِ وَأَنَّهُ إِنْ أَجَازَ لَهُ بَعْضُهُمْ وَأَبَى بَعْضٌ جَازَ لَهُ حَقُّ مَنْ أَجَازَ مِنْهُمْ وَمَنْ أَبَى أَخَذَ حَقَّهُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ و سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ فِي الْمَرِيضِ الَّذِي يُوصِي فَيَسْتَأْذِنُ وَرَثَتَهُ فِي وَصِيَّتِهِ وَهُوَ مَرِيضٌ لَيْسَ لَهُ مِنْ مَالِهِ إِلَّا ثُلُثُهُ فَيَأْذَنُونَ لَهُ أَنْ يُوصِيَ لِبَعْضِ وَرَثَتِهِ بِأَكْثَرَ مِنْ ثُلُثِهِ إِنَّهُ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَرْجِعُوا فِي ذَلِكَ وَلَوْ جَازَ ذَلِكَ لَهُمْ صَنَعَ كُلُّ وَارِثٍ ذَلِكَ فَإِذَا هَلَكَ الْمُوصِي أَخَذُوا ذَلِكَ لِأَنْفُسِهِمْ وَمَنَعُوهُ الْوَصِيَّةَ فِي ثُلُثِهِ وَمَا أُذِنَ لَهُ بِهِ فِي مَالِهِ قَالَ فَأَمَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ وَرَثَتَهُ فِي وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا لِوَارِثٍ فِي صِحَّتِهِ فَيَأْذَنُونَ لَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَلْزَمُهُمْ وَلِوَرَثَتِهِ أَنْ يَرُدُّوا ذَلِكَ إِنْ شَاءُوا وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا كَانَ صَحِيحًا كَانَ أَحَقَّ بِجَمِيعِ مَالِهِ يَصْنَعُ فِيهِ مَا شَاءَ إِنْ شَاءَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ جَمِيعِهِ خَرَجَ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ أَوْ يُعْطِيهِ مَنْ شَاءَ وَإِنَّمَا يَكُونُ اسْتِئْذَانُهُ وَرَثَتَهُ جَائِزًا عَلَى الْوَرَثَةِ إِذَا أَذِنُوا لَهُ حِينَ يُحْجَبُ عَنْهُ مَالُهُ وَلَا يَجُوزُ لَهُ شَيْءٌ إِلَّا فِي ثُلُثِهِ وَحِينَ هُمْ أَحَقُّ بِثُلُثَيْ مَالِهِ مِنْهُ فَذَلِكَ حِينَ يَجُوزُ عَلَيْهِمْ أَمْرُهُمْ وَمَا أَذِنُوا لَهُ بِهِ فَإِنْ سَأَلَ بَعْضُ وَرَثَتِهِ أَنْ يَهَبَ لَهُ مِيرَاثَهُ حِينَ تَحْضُرُهُ الْوَفَاةُ فَيَفْعَلُ ثُمَّ لَا يَقْضِي فِيهِ الْهَالِكُ شَيْئًا فَإِنَّهُ رَدٌّ عَلَى مَنْ وَهَبَهُ إِلَّا أَنْ يَقُولَ لَهُ الْمَيِّتُ فُلَانٌ لِبَعْضِ وَرَثَتِهِ ضَعِيفٌ وَقَدْ أَحْبَبْتُ أَنْ تَهَبَ لَهُ مِيرَاثَكَ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَإِنَّ ذَلِكَ جَائِزٌ إِذَا سَمَّاهُ الْمَيِّتُ لَهُ قَالَ وَإِنْ وَهَبَ لَهُ مِيرَاثَهُ ثُمَّ أَنْفَذَ الْهَالِكُ بَعْضَهُ وَبَقِيَ بَعْضٌ فَهُوَ رَدٌّ عَلَى الَّذِي وَهَبَ يَرْجِعُ إِلَيْهِ مَا بَقِيَ بَعْدَ وَفَاةِ الَّذِي أُعْطِيَهُ قَالَ و سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ فِيمَنْ أَوْصَى بِوَصِيَّةٍ فَذَكَرَ أَنَّهُ قَدْ كَانَ أَعْطَى بَعْضَ وَرَثَتِهِ شَيْئًا لَمْ يَقْبِضْهُ فَأَبَى الْوَرَثَةُ أَنْ يُجِيزُوا ذَلِكَ فَإِنَّ ذَلِكَ يَرْجِعُ إِلَى الْوَرَثَةِ مِيرَاثًا عَلَى كِتَابِ اللَّهِ لِأَنَّ الْمَيِّتَ لَمْ يُرِدْ أَنْ يَقَعَ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ فِي ثُلُثِهِ وَلَا يُحَاصُّ أَهْلُ الْوَصَايَا فِي ثُلُثِهِ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ
کہا مالک نے ہمارے نزدیک وارث کے واسطے وصیت درست نہیں ہے مگر جب اور ورثاء اجازت دیں اور اگر بعض ورثاء اجازت دیں اور بعض نہ دیں تو جو اجازت دیں گے ان کے حصے میں سے وصیت ادا کی جائے گی۔ کہا مالک نے جو شخص بیمار ہو وہ اپنے وارثوں سے اجازت چاہے ثلث سے زیادہ وصیت کرنے کی اور وارث اجازت دیں اس بات کی کہ ثلث سے زیادہ کسی وارث کے لئے وصیت کرے تو پھر ان وارثوں کو رجوع کا اختیار نہیں اگر رجوع درست ہوتا تو ہر وارث یہی کیا کرتا جب موصی مرجاتا تو مال وصیت آپ لے لیا کرتے اور اس کی وصیت روک دیتے البتہ اگر کوئی شخص صحت کی حالت میں اپنے وارثوں سے اجازت چاہے وارث کے واسطے وصیت کرنے کی اور وہ اجازت دے دے تو اس سے رجوع کرسکتے ہیں کیونکہ جب آدمی صحیح ہے تو اپنے کل مال میں اختیار رکھتا ہے چاہے سب صدقہ دے چاہے سب کسی کے حوالے کردے تو یہ اذن لینا لغو ہوا اور وارثوں کا اذن دینا بھی اپنے وقت سے پیشتر ہوا اس واسطے ان کو رجوع درست ہے بلکہ اذن لینا اس وقت درست ہے جب وہ اپنے مال میں اختیار نہ رکھتا ہو اور ثلث سے زیادہ صرف کرنے پر قادر نہ ہو اس وقت وارثوں کو دو ثلث کا اختیار ہوگا وہ اجازت بھی دے سکتے ہیں اگر مریض نے اپنے وارث سے کہا تو اپنا حصہ میراث کا مجھے ہبہ کردے اس نے ہبہ کردیا لیکن مریض نے اس میں کچھ تصرف نہیں کیا یوں ہی مرگیا تو وہ حصہ پھر اسی وارث کا ہوجائے گا البتہ اگر میت یوں کہے ایک وارث سے کہ فلانا وارث بہت ضعیف ہے تو بھی اپنا حصہ اس کو ہبہ کردے اور اگر وہ ہبہ کردے تو درست ہوجائے گا اگر وارث نے اپنا حصہ میراث میت کو ہبہ کرد یا اس نے کچھ اس میں سے کسی کو دلایا کچھ بچ رہا تو جو بچ رہا وہ اسی وارث کا ہوگا۔
Yahya said that he heard Malik say, "This ayat is abrogated. It is the word of Allah, the Blessed, the Exalted, If he leaves goods, the testament is for parents and kinsmen. What came down about the division of the fixed shares of inheritance in the Book of Allah, the Mighty, the Exalted, abrogated it." Yahya said that he heard Malik say, "The established sunna with us, in which there is no dispute, is that it is not permitted for a testator to make a bequest (in addition to the fixed share) in favour of an heir, unless the other heirs permit him. If some of them permit him and others refuse, he is allowed to diminish the share of those who have given their permission. Those who refuse take their full share from the inheritance.
جو مرد عورت کی مثل ہو اس کا بیان اور لڑکے کا کون حقدار ہے ماں یا باپ
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ مُخَنَّثًا کَانَ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْکُمْ الطَّائِفَ غَدًا فَأَنَا أَدُلُّکَ عَلَی ابْنَةِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلَنَّ هَؤُلَائِ عَلَيْکُمْ
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ایک مخنث خلقی حضرت ام سلمہ کے پاس تھا اس نے عبداللہ بن امیہ سے کہا اور رسول اللہ ﷺ سن رہے تھے اے عبداللہ اگر کل اللہ جل جلالہ تمہارے ہاتھ سے طائف کو فتح کرا دے تو تم غیلان کی بیٹی کو ضرور لینا جب وہ سامنے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار بٹیں معلوم ہوتی ہیں اور جب پیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو چار کی آٹھ بٹیں معلوم ہوتی ہیں (دونوں جانب پہلو سے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں۔
Malik said from Hisham ibn Urwa from his father that an effeminate man was with Umm Salama, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace. He said to Abdullah ibn Abi Umayya while the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was listening. "Abdullah! If Allah grants you victory over Taif tomorrow, I will lead you to the daughter of Ghailan. She has four folds on her front and eight folds on her back." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "This sort of man should not enter freely with you." (It was customary to allow men with no sexual inclination to enter freely where there were women).
جو مرد عورت کی مثل ہو اس کا بیان اور لڑکے کا کون حقدار ہے ماں یا باپ
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ کَانَتْ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَوَلَدَتْ لَهُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ ثُمَّ إِنَّهُ فَارَقَهَا فَجَائَ عُمَرُ قُبَائً فَوَجَدَ ابْنَهُ عَاصِمًا يَلْعَبُ بِفِنَائِ الْمَسْجِدِ فَأَخَذَ بِعَضُدِهِ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَی الدَّابَّةِ فَأَدْرَکَتْهُ جَدَّةُ الْغُلَامِ فَنَازَعَتْهُ إِيَّاهُ حَتَّی أَتَيَا أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ فَقَالَ عُمَرُ ابْنِي وَقَالَتْ الْمَرْأَةُ ابْنِي فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ خَلِّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ قَالَ فَمَا رَاجَعَهُ عُمَرُ الْکَلَامَ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ میں نے قاسم بن محمد سے سنا کہتے تھے حضرت عمر بن خطاب کے پاس ایک انصاری عورت تھی اس سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام عاصم بن عمر رکھا تھا پھر حضرت عمر نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور مسجد قبا میں آئے وہاں عاصم کو لڑکوں کے ساتھ کھیلتا ہوا پایا مسجد کے صحن میں حضرت عمرنے اس کا بازو پکڑ کر اپنے جانور پر سوار کرلیا لڑکے کی نانی نے یہ دیکھ کر ان سے جھگڑا کیا اور اپنا لڑکا طلب کیا پھر دونوں حضرت ابوبکر صدیق کے پاس آئے حضرت عمر نے کہا میرا بیٹا ہے عورت نے کہا میرا بچہ ہے ابوبکر صدیق نے کہا عمر اسے چھوڑ دو بچے کو اور دے دو اس کی نانی کو حضرت عمرچپ ہو رہے اور کچھ تکرار نہ کی۔
Malik related to me that Yahya ibn Said said that he heard al-Qasim ibn Muhammad say, "A woman of the Ansar was married to Umar ibn al-Khattab. She bore Asim ibn Umar to him, and then he separated from her. Umar came to Quba and found his son Asim playing in the courtyard of the mosque. He took him by the arm and placed him before him on his mount. The grandmother of the child saw him and argued with Umar about the child so they went to Abu Bakr (RA) as-Siddiq. Umar said, My son. The woman said, My son. Abu Bakr (RA) said, Do not interfere between a child and its mother. Umar did not repeat his words." Yahya said that he heard Malik say, "This is what I would have done in that situation."
اس میں عیب نکلنے کا بیان اور اس کا تاوان کس پر ہے۔
بَاب الْعَيْبِ فِي السِّلْعَةِ وَضَمَانِهَا قَالَ يَحْيَى سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَبْتَاعُ السِّلْعَةَ مِنْ الْحَيَوَانِ أَوْ الثِّيَابِ أَوْ الْعُرُوضِ فَيُوجَدُ ذَلِكَ الْبَيْعُ غَيْرَ جَائِزٍ فَيُرَدُّ وَيُؤْمَرُ الَّذِي قَبَضَ السِّلْعَةَ أَنْ يَرُدَّ إِلَى صَاحِبِهِ سِلْعَتَهُ قَالَ مَالِك فَلَيْسَ لِصَاحِبِ السِّلْعَةِ إِلَّا قِيمَتُهَا يَوْمَ قُبِضَتْ مِنْهُ وَلَيْسَ يَوْمَ يَرُدُّ ذَلِكَ إِلَيْهِ وَذَلِكَ أَنَّهُ ضَمِنَهَا مِنْ يَوْمَ قَبَضَهَا فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ نُقْصَانٍ بَعْدَ ذَلِكَ كَانَ عَلَيْهِ فَبِذَلِكَ كَانَ نِمَاؤُهَا وَزِيَادَتُهَا لَهُ وَإِنَّ الرَّجُلَ يَقْبِضُ السِّلْعَةَ فِي زَمَانٍ هِيَ فِيهِ نَافِقَةٌ مَرْغُوبٌ فِيهَا ثُمَّ يَرُدُّهَا فِي زَمَانٍ هِيَ فِيهِ سَاقِطَةٌ لَا يُرِيدُهَا أَحَدٌ فَيَقْبِضُ الرَّجُلُ السِّلْعَةَ مِنْ الرَّجُلِ فَيَبِيعُهَا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ وَيُمْسِكُهَا وَثَمَنُهَا ذَلِكَ ثُمَّ يَرُدُّهَا وَإِنَّمَا ثَمَنُهَا دِينَارٌ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَذْهَبَ مِنْ مَالِ الرَّجُلِ بِتِسْعَةِ دَنَانِيرَ أَوْ يَقْبِضُهَا مِنْهُ الرَّجُلُ فَيَبِيعُهَا بِدِينَارٍ أَوْ يُمْسِكُهَا وَإِنَّمَا ثَمَنُهَا دِينَارٌ ثُمَّ يَرُدُّهَا وَقِيمَتُهَا يَوْمَ يَرُدُّهَا عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَلَيْسَ عَلَى الَّذِي قَبَضَهَا أَنْ يَغْرَمَ لِصَاحِبِهَا مِنْ مَالِهِ تِسْعَةَ دَنَانِيرَ إِنَّمَا عَلَيْهِ قِيمَةُ مَا قَبَضَ يَوْمَ قَبْضِهِ قَالَ وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ أَنَّ السَّارِقَ إِذَا سَرَقَ السِّلْعَةَ فَإِنَّمَا يُنْظَرُ إِلَى ثَمَنِهَا يَوْمَ يَسْرِقُهَا فَإِنْ كَانَ يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ كَانَ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَإِنْ اسْتَأْخَرَ قَطْعُهُ إِمَّا فِي سِجْنٍ يُحْبَسُ فِيهِ حَتَّى يُنْظَرَ فِي شَأْنِهِ وَإِمَّا أَنْ يَهْرُبَ السَّارِقُ ثُمَّ يُؤْخَذَ بَعْدَ ذَلِكَ فَلَيْسَ اسْتِئْخَارُ قَطْعِهِ بِالَّذِي يَضَعُ عَنْهُ حَدًّا قَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ يَوْمَ سَرَقَ وَإِنْ رَخُصَتْ تِلْكَ السِّلْعَةُ بَعْدَ ذَلِكَ وَلَا بِالَّذِي يُوجِبُ عَلَيْهِ قَطْعًا لَمْ يَكُنْ وَجَبَ عَلَيْهِ يَوْمَ أَخَذَهَا إِنْ غَلَتْ تِلْكَ السِّلْعَةُ بَعْدَ ذَلِكَ
کہا مالک نے ایک شخص جانور یا کپڑا یا اور کوئی اسباب خریدے پھر یہ بیع ناجائز معلوم ہو اور مشتری (خریدنے والا) کو حکم ہو کہ وہ چیز بائع (بچنے والا) کو پھیر دے (حالانکہ اس شئے میں کوئی عیب ہوجائے) تو بائع (بچنے والا) کو اس شئے کی قیمت ملے گی اس دن کی جس دن کہ وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کے قبضے میں آئی تھی نہ کہ اس دن کی جس دن وہ پھیرتا ہے کیونکہ جس دن سے وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کے قبضے میں آئی تھی اس دن سے وہ اس کا ضامن ہوگیا تھا اب جو کچھ اس میں نقصان ہوجائے وہ اسی پر ہوگا اور جو کچھ زیادتی ہوجائے وہ بھی اسی کی ہوگی اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی مال ایسے وقت میں لیتا ہے جب اس کی قدر اور تلاش ہو پھر اس کو وقت میں پھیر دیتا ہے جب کہ وہ بےقدر ہو کوئی اس کو نہ پوچھے تو آدمی ایک شئے خریدتا ہے دس دینار کو پھر اس کو رکھ چھوڑتا ہے اور پھیرتا ہے ایسے وقت میں جب اس کی قیمت ایک دینار ہو تو یہ نہیں ہوسکتا کہ بےچارے بائع (بچنے والا) کا نو دینار کا نقصان کرے یا جس دن خریدا اسی دن اس کی قیمت ایک دینار تھی پھر پھیرتے وقت اس کی قیمت دس دینار ہوگئی تو بائع (بچنے والا) مشتری (خریدنے والا) کو ناحق نو دینار کا نقصان دے اسی واسطے وہ قیمت اس دن کی واجب ہوئی جس دن کہ وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کے قبضے میں آئی ہو۔
Yahya said that he heard Malik speak about a man who bought goods - animals or clothes or wares, and the sale was found not to be permitted so it was revoked and the one who had taken the goods was ordered to return the owner his goods. Malik said, "The owner of the goods only has their value on the day they were taken from him, and not on the day they are returned to him. That is because the man is liable for them from the day he took them and whatever loss is in them after that is against him. For that reason, their increase and growth are also his. A man may take the goods at a time when they are selling well and are in demand, and then have to return them at a time when they have fallen in price and no one wants them. For instance, the man may take the goods from the other man, and sell them for ten dinars or keep them while their price is that. Then he may have to return them while their price is only a dinar. He should not go off with nine dinars from the mans property. Or perhaps they are taken by the man, and he sells them for a dinar or keeps them, while their price is only a dinar, then he has to return them, and their value on the day he returns them is ten dinars. The one who took them does not have to pay nine dinars from his property to the owner. He is only obliged to pay the value of what he took possession of on the day it was taken ." He said, "Part of what clarifies this is that when a thief steals goods, only their price on the day he stole them is looked at. If cutting off the hand is necessary because of it, that is done. If the cutting off is delayed, either because the thief is imprisoned until his situation is examined or he flees and then is caught, the delay of the cutting off of the hand does not make the hadd, which was obliged for him on the day he stole, fall from him even if those goods become cheap after that. Nor does delay oblige cutting off the hand if it was not obliged on the day he took those goods, even if they become expensive after that."