Mauwatta Imam Malik

All 1,740 hadiths in order · Page 46 of 87

901Mauwatta Imam Malik

شہادت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُکْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُکْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلَّا جَائَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْکِ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے نہیں زخمی ہوگا کوئی شخص اللہ کی راہ میں اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو زخمی ہوتا ہے اس کے راستے میں، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون جاری ہوگا جس کا رنگ بھی خون جیسا ہوگا اور خوشبو مشک جیسی ہوگی۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "By He in whose hand my self is! None of you is wounded in the way of Allah - and Allah knows best who is wounded in HisWay, but that when the Day of Rising comes, blood will gush forth from his wound. It will be the colour of blood, but its scent will be that of musk."

902Mauwatta Imam Malik

شہادت کا بیان

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَتْلِي بِيَدِ رَجُلٍ صَلَّی لَکَ سَجْدَةً وَاحِدَةً يُحَاجُّنِي بِهَا عِنْدَکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

زید بن اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب فرماتے تھے اے پروردگار! میرا قاتل ایسے شخص کو نہ بنانا جس نے تجھے ایک سجدہ بھی کیا ہو تاکہ اس سجدہ کی وجہ سے قیامت کے دن تیرے سامنے مجھ سے جھگڑے۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that Umar ibn al-Khattab used to say, "O Allah! Do not let me be slain by the hand of a man who has prayed a single prostration to You with which he will dispute with me before You on the Day of Rising!"

903Mauwatta Imam Malik

شہادت کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ أَيُکَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَنُودِيَ لَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَيْفَ قُلْتَ فَأَعَادَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِلَّا الدَّيْنَ کَذَلِکَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ

ابوقتادہ انصاری سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ ﷺ کے پاس اور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ اگر میں قتل کیا جاؤں اللہ کی راہ میں جس حال میں کہ میں صبر کرنے والا ہوں مخلص ہوں منہ سامنے رکھنے والا ہوں نہ پیٹھ موڑنے والا ہوں، کیا بخش دے گا اللہ گناہ میرے؟ فرمایا آپ ﷺ نے ہاں، جب وہ شخص واپس لوٹا، آپ ﷺ نے اس کو بلایا یا بلانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ کیا کہا تو نے؟ اس نے اپنی بات کو دہرادیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں مگر قرض، ایسا ہی کہا مجھ سے جبرائیل نے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Said al-Maqburi from Abdullah ibn Abi Qatada that his father had said that a man came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, "O Messenger of Allah! ﷺ If I am killed in the way of Allah, expectant for reward, sincere, advancing, and not retreating, will Allah pardon my faults?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Yes." When the man turned away, the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, called him - or commanded him and he was called to him. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "What did you say?" He repeated his words to him, and the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "Yes, except for the debt. Jibril said that to me."

904Mauwatta Imam Malik

شہادت کا بیان

عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِشُهَدَائِ أُحُدٍ هَؤُلَائِ أَشْهَدُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ أَلَسْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ بِإِخْوَانِهِمْ أَسْلَمْنَا کَمَا أَسْلَمُوا وَجَاهَدْنَا کَمَا جَاهَدُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَی وَلَکِنْ لَا أَدْرِي مَا تُحْدِثُونَ بَعْدِي فَبَکَی أَبُو بَکْرٍ ثُمَّ بَکَی ثُمَّ قَالَ أَئِنَّا لَکَائِنُونَ بَعْدَکَ

ابو النصر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ احد کے شہیدوں کے لئے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کا میں گواہ ہوں حضرت ابوبکر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم ان کے بھائی نہیں ہیں مسلمان ہوئے ہم جیسے وہ مسلمان ہوئے اور جہاد کیا ہم نے جیسے انہوں نے جہاد کیا آپ ﷺ نے فرمایا ہاں مگر مجھے معلوم نہیں کہ بعد میرے کیا کرو گے تو ابوبکر رونے لگے اور فرمایا کہ ہم زندہ رہیں گے بعد آپ ﷺ کے۔

Yahya related to me from Malik from Abun-Nadr, the mawla of Umar ibn Ubaydullah that he had heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said over the martyrs of Uhud, "I testify for them." Abu Bakr (RA) as-Siddiq said, "Messenger of Allah! Are we not their brothers? We entered Islam as they entered Islam and we did jihad as they did jihad." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Yes, but I do not know what you will do after me." Abu Bakr (RA) wept profusely and said, "Are we really going to out-live you!"

905Mauwatta Imam Malik

شہادت کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَقَبْرٌ يُحْفَرُ بِالْمَدِينَةِ فَاطَّلَعَ رَجُلٌ فِي الْقَبْرِ فَقَالَ بِئْسَ مَضْجَعُ الْمُؤْمِنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِئْسَ مَا قُلْتَ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرَدْتُ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا مِثْلَ لِلْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا عَلَی الْأَرْضِ بُقْعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَکُونَ قَبْرِي بِهَا مِنْهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَعْنِي الْمَدِينَةَ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور قبر کھد رہی تھی، مدینہ میں ایک شخص قبر کو دیکھ کر بولا کیا بری جگہ ہے مسلمان کی! آپ ﷺ نے فرمایا بری بات کہی تو نے، وہ شخص بولا یا رسول اللہ ﷺ میرا یہ مطلب نہ تھا کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا اس سے بہتر ہے آپ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے برابر کوئی چیز نہیں مگر ساری زمین میں کوئی مقام ایسا نہیں کہ میں اپنی قبر وہاں پسند کرتا ہوں مدینہ سے تین بار آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا۔

Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was sitting by a grave which was being dug at Madina. A man looked into the grave and said, An awful bed for the mumin. The Messenger of Allah, may Allah blesshim and grant him peace, said, Evil? What you have said is absolutely wrong. The man said, I didnt mean that, Messenger of Allah. I meant being killed in the way of Allah. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Being killed in the way of Allah has no like! There is no place on the earth which I would prefer my grave to be than here (meaning Madina). He repeated it three times. "

906Mauwatta Imam Malik

شہادت کا بیان

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ شَهَادَةً فِي سَبِيلِکَ وَوَفَاةً بِبَلَدِ رَسُولِکَ

زید بن اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب فرمایا کرتے تھے اے پروردگار میں چاہتا ہوں کہ شہید ہوں تیری راہ میں اور مروں تیرے رسول کے شہر میں

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that Umar ibn al-Khattab used to say, "O Allah! I ask you for martyrdom in Your way and death in the city of Your Messenger!"

907Mauwatta Imam Malik

شہادت کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ کَرَمُ الْمُؤْمِنِ تَقْوَاهُ وَدِينُهُ حَسَبُهُ وَمُرُوئَتُهُ خُلُقُهُ وَالْجُرْأَةُ وَالْجُبْنُ غَرَائِزُ يَضَعُهَا اللَّهُ حَيْثُ شَائَ فَالْجَبَانُ يَفِرُّ عَنْ أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَالْجَرِيئُ يُقَاتِلُ عَمَّا لَا يَئُوبُ بِهِ إِلَی رَحْلِهِ وَالْقَتْلُ حَتْفٌ مِنْ الْحُتُوفِ وَالشَّهِيدُ مَنْ احْتَسَبَ نَفْسَهُ عَلَی اللَّهِ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب فرمایا کرتے تھے؛ عزت مومن کے تقوی میں ہے اور دین اس کی شرافت ہے اور مروت اس کا خلق ہے اور بہادری اور نامردی دونوں خلقی صفتیں ہیں جس شخص میں اللہ چاہتا ہے ان صفتوں کو رکھتا ہے تو نامرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے اور بہادر اس شخص سے لڑتا ہے جس کو جانتا ہے کہ گھر تک نہ جانے دے گا اور قتل ایک موت ہے موتوں میں سے اور شہید وہ ہے جو اپنی جان خوشی سے اللہ کے سپرد کر دے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Umar ibn al-Khattab said, "The nobility of the mumin is his taqwa. His deen is his noble descent. His manliness is his good character. Boldness and cowardice are but instincts which Allah places wherever He wills. The coward shrinks from defending even his father and mother, and the bold one fights for the sake of the combat not for the spoils. Being slain is but one way of meeting death, and the martyr is the one who gives himself, expectant of reward from Allah."

908Mauwatta Imam Malik

شہید کے غسل دینے کے بیان میں

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ غُسِّلَ وَکُفِّنَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ وَکَانَ شَهِيدًا يَرْحَمُهُ اللَّهُ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر غسل دئے گئے اور کفن پہنائے گئے اور نماز جنازہ ان پر پڑھی گئی حالانکہ وہ شہید تھے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that Umar ibn al-Khattab was washed and shrouded and prayed over, yet he was a martyr, may Allah have mercy on him .Yahya related to me from Malik that he had heard the people of knowledge say that martyrs in the way of Allah were not washed, nor were any of them prayed over. They were buried in the garments in which they were slain. Malik said, "That is the sunna for someone who is killed on the battleground and is not reached until he is already dead. Someone who is carried off and lives for as long as Allah wills after it, is washed and prayed over as was Umar ibn al-Khattab."

909Mauwatta Imam Malik

کونسی بات اللہ کے راستے میں بری ہے

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يَحْمِلُ فِي الْعَامِ الْوَاحِدِ عَلَی أَرْبَعِينَ أَلْفِ بَعِيرٍ يَحْمِلُ الرَّجُلَ إِلَی الشَّامِ عَلَی بَعِيرٍ وَيَحْمِلُ الرَّجُلَيْنِ إِلَی الْعِرَاقِ عَلَی بَعِيرٍ فَجَائَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَقَالَ احْمِلْنِي وَسُحَيْمًا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَشَدْتُکَ اللَّهَ أَسُحَيْمٌ زِقٌّ قَالَ لَهُ نَعَمْ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ایک برس میں چالیس ہزار اونٹ بھیجتے تھے شام کے جانے والوں کو فی آدمی ایک ایک اونٹ دیتے اور عراق کے جانے والوں کو دو آدمیوں میں ایک اونٹ دیتے تھے ایک شخص عراق کا رہنے والا آیا اور حضرت عمر سے بولا کہ مجھ کو اور سحیم کو ایک اونٹ دیجئے حضرت عمر نے فرمایا میں تجھ کو دیتا ہوں اللہ کی قسم سے تیری مراد کد ہے وہ بولا ہاں۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Umar ibn al-Khattab in one year gave 40,00O camels as mounts. Sometimes he would give one man a camel to himself. Sometimes he would give one camel between two men to take them to Iraq. A man from Iraq came to him and said, "Give Suhaym and I a mount.Umar ibn al-Khattab said to him,"l demand from you, by Allah!, is Suhaym a water skin?" He said, "Yes."

910Mauwatta Imam Malik

جہاد کی فضلیت کا بیان

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ إِلَی قُبَائٍ يَدْخُلُ عَلَی أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ وَکَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ وَجَلَسَتْ تَفْلِي فِي رَأْسِهِ فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ مَا يُضْحِکُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْکَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوکًا عَلَی الْأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّةِ يَشُکُّ إِسْحَقُ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُضْحِکُکَ قَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ مُلُوکًا عَلَی الْأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّةِ کَمَا قَالَ فِي الْأُولَی قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ أَنْتِ مِنْ الْأَوَّلِينَ قَالَ فَرَکِبَتْ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنْ الْبَحْرِ فَهَلَکَتْ

انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مسجد قبا کو جاتے تو ام حرام بنت ملحان کے گھر میں آپ تشریف لے جاتے وہ آپ کو کھانا کھلاتیں اور وہ اس زمانے میں عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں ایک روز آپ ان کے گھر میں گئے انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور بیٹھ کر آپ کے سر کے بال دیکھنے لگیں آپ ﷺ سو گئے پھر آپ ﷺ جاگے ہنستے ہوئے ام حرام نے پوچھا آپ ﷺ کیوں ہنستے ہیں یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا کچھ لوگ میرے امت کے پیش کئے گئے میرے اوپر جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے سوار ہو رہے تھے بڑے دریا میں جیسے بادشاہ تخت پر سوار ہوتے ہیں ام حرام نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ دعا کیجئے کہ اللہ جل جلالہ مجھ کو بھی ان میں سے کرے آپ ﷺ نے دعا کی پھر آپ ﷺ سر رکھ کے سو گئے پھر جاگے ہنستے ہوئے ام حرام نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ کیوں ہنستے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کچھ لوگ میری امت کے پیش کئے گئے میرے اوپر جو اللہ کی راہ میں جہاد کو جاتے تھے جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں ام حرام نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ آپ ﷺ دعا کیجئے اللہ جل جلالہ مجھ کو بھی ان میں سے کرے آپ ﷺ نے فرمایا تو پہلے لوگوں میں سے ہوچکی ام حرام معاویہ کے ساتھ دریا میں سوار ہوئیں جب دریا سے نکلیں تو جانور پر سے گر کر مرگئیں۔

Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha that Anas ibn Malik had said that when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, went to Quba, he visited Umm Haram bint Milhan and she fed him. Umm Haram was the wife of Ubadah ibn as-Samit. One day the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, had called on her and she had fed him, and sat down to delouse his hair. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, had dozed and woke up smiling. Umm Haram said, "What is making you smile, Messenger of Allah? ﷺ " He said, "Some of my community were presented to me, raiding in the way of Allah. They were riding in the middle of the sea, kings on thrones, or like kings on thrones." (Ishaq wasnt sure). She said, "O Messenger of Allah! ﷺ Ask Allah to put me among them!" So he had made a dua for her, and put his head down and slept. Then he had woken up smiling, and she said to him, "Messenger of Allah, why are you smiling?" He said, "Some of my community were presented to me, raiding in the way of Allah. They were kings on thrones or like kings on thrones," as he had said in the first one. She said, "O Messenger of Allah! ﷺ Ask Allah to put me among them!" He said, "You are among the first." Ishaq added, "She travelled on the sea in the time of Muawiya, and when she landed, she was thrown from her mount and killed."

911Mauwatta Imam Malik

جہاد کی فضلیت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَتَخَلَّفَ عَنْ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَکِنِّي لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ وَلَا يَجِدُونَ مَا يَتَحَمَّلُونَ عَلَيْهِ فَيَخْرُجُونَ وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي فَوَدِدْتُ أَنِّي أُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا فَأُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا فَأُقْتَلُ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اگر میری امت پر شاق نہ ہوتا تو میں کسی لشکر کا جو اللہ کی راہ میں نکلتا ہے ساتھ نہ چھوڑتا مگر نہ پاس اس قدر سواریاں ہیں کہ سب لوگوں کو ان پر سوار کروں نہ ان کے پاس اتنی سواریاں ہیں کہ وہ سب سوار ہو کر نکلیں اگر میں اکیلا جاؤں تو ان کو میرا چھوڑنا شاق ہوتا ہے میں تو یہ چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں لڑوں اور مارا جاؤں پھر جلایا جاؤں پھر مارا جاؤں پھر جلایا جاؤں پھر مارا جاؤں

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Abu Salih as-Samman from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Had I not been concerned for my community, I would have liked never to stay behind a raiding party going out in the way of Allah. However, I do not find the means to carry them to it, nor do they find anything on which to ride out and it is grievous for them that they should stay behind me. I would like to fight in the way of Allah and be killed, then brought to life so I could be killed and then brought to life so I could be killed."

912Mauwatta Imam Malik

جہاد کی فضلیت کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ أُحُدٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَهَبَ الرَّجُلُ يَطُوفُ بَيْنَ الْقَتْلَی فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ مَا شَأْنُکَ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ بَعَثَنِي إِلَيْکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِآتِيَهُ بِخَبَرِکَ قَالَ فَاذْهَبْ إِلَيْهِ فَاقْرَأْهُ مِنِّي السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُ أَنِّي قَدْ طُعِنْتُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ طَعْنَةً وَأَنِّي قَدْ أُنْفِذَتْ مَقَاتِلِي وَأَخْبِرْ قَوْمَکَ أَنَّهُ لَا عُذْرَ لَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ إِنْ قُتِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَاحِدٌ مِنْهُمْ حَيٌّ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ جنگ احد کے روز آپ ﷺ نے فرمایا کون خبر لا کردیتا ہے مجھ کو سعد بن ربیع انصاری کی ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں دوں گا وہ جا کر لاشوں میں ڈھونڈھنے لگا سعد نے کہا کہ کیا کام ہے؟ اس شخص نے کہا مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے تمہاری خبر لینے کو بھیجا ہے کہا کہ تم جاؤ رسول اللہ ﷺ کے پاس اور میرا سلام عرض کرو اور کہو کہ مجھے بارہ زخم برچھوں کے لگے ہیں اور میرے زخم کاری ہیں اپنی قوم سے کہ اللہ جل جلالہ کے سامنے تمہارا کوئی عذر قبول نہ ہوگا اگر رسول اللہ ﷺ شہید ہوئے اور تم میں سے ایک بھی زندہ رہا۔

Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said, "On the Day of Uhud, The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Who will bring me news of Sad ibn al-Rabi al-Ansari? a man said, Me, Messenger of Allah! ﷺ So the man went around among the slain, and Sad ibn al-Rabi said to him, What are you doing? The man said to him, The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sent me to bring him news of you. He said, Go to him, and give him my greetings, and tell him that I have been stabbed twelve times, and am mortally wounded. Tell your people that they will have no excuse with Allah if the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, is slain while one of them is still alive. "

913Mauwatta Imam Malik

جہاد کی فضلیت کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَغَّبَ فِي الْجِهَادِ وَذَکَرَ الْجَنَّةَ وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَأْکُلُ تَمَرَاتٍ فِي يَدِهِ فَقَالَ إِنِّي لَحَرِيصٌ عَلَی الدُّنْيَا إِنْ جَلَسْتُ حَتَّی أَفْرُغَ مِنْهُنَّ فَرَمَی مَا فِي يَدِهِ فَحَمَلَ بِسَيْفِهِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رغبیت دلائی جہاد میں اور بیان کیا جنت کا حال اتنے میں ایک شخص انصاری کھجوریں ہاتھ میں لئے ہوئے کھا رہا تھا وہ بولا مجھے بڑی حرص ہے دنیا کی اگر میں بیٹھا رہوں اس انتظار میں کہ کھجوریں کھالوں پھر کھجوریں پھینک دیں اور تلوار اٹھا کر لڑائی شروع کی اور شہید ہوا۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, stimulated people for jihad and mentioned the Garden. One of the Ansar was eating some dates in his hand, and said, "Am I so desirous of this world that I should sit until I finish them?" He threw aside what was in his hand and took his sword, and fought until he was slain .

914Mauwatta Imam Malik

جہاد کی فضلیت کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ قَالَ الْغَزْوُ غَزْوَانِ فَغَزْوٌ تُنْفَقُ فِيهِ الْکَرِيمَةُ وَيُيَاسَرُ فِيهِ الشَّرِيکُ وَيُطَاعُ فِيهِ ذُو الْأَمْرِ وَيُجْتَنَبُ فِيهِ الْفَسَادُ فَذَلِکَ الْغَزْوُ خَيْرٌ کُلُّهُ وَغَزْوٌ لَا تُنْفَقُ فِيهِ الْکَرِيمَةُ وَلَا يُيَاسَرُ فِيهِ الشَّرِيکُ وَلَا يُطَاعُ فِيهِ ذُو الْأَمْرِ وَلَا يُجْتَنَبُ فِيهِ الْفَسَادُ فَذَلِکَ الْغَزْوُ لَا يَرْجِعُ صَاحِبُهُ کَفَافًا

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل نے کہا جہاد دو قسم کے ہیں ایک وہ جس میں عمدہ سے عمدہ مال صرف کیا جاتا ہے اور رفیق کے ساتھ محبت کی جاتی ہے اور افسر کی اطاعت کی جاتی ہے اور فسار سے پرہیز رہتا ہے یہ جہاد سب کا سب ثواب ہے اور ایک وہ جہاد ہے جس میں اچھا مال صرف نہیں کیا جاتا اور رفیق سے محبت نہیں ہوتی اور افسر کی نافرمانی ہوتی ہے اور فسار سے پرہیز نہیں ہوتا یہ جہاد ایسا ہے اس میں جو کوئی جائے ثواب تو کیا خالی لوٹ کر آنا مشکل ہے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Muadh ibn Jabal said, "There are two military expeditions. There is one military expedition in which valuables are spent, the contributor is willing, the authorities are obeyed, and corruption is avoided. That military expedition is all good. There is a military expedition in which valuables are not spent, the contributor is not willing, the authorities are not obeyed, and corruption is not avoided. The one who fights in that military expedition does not return with reward."

915Mauwatta Imam Malik

گھوڑوں کا اور گھوڑ دوڑ کا بیان اور جہاد میں صرف کرنے کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں بہتری اور برکت بندھی ہوئی ہے قیامت تک۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Blessing is in the forelocks of horses until the Day of Rising."

916Mauwatta Imam Malik

گھوڑوں کا اور گھوڑ دوڑ کا بیان اور جہاد میں صرف کرنے کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ مِنْ الْحَفْيَائِ وَکَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ مِنْ الثَّنِيَّةِ إِلَی مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ مِمَّنْ سَابَقَ بِهَا

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شرط لگائی آگے بڑھنے کی ان گھوڑوں میں جو تیار کئے گئے تھے گھوڑ دوڑ کے لئے خفیا سے ثینہ الوداع تک اور جو گھوڑے تیار نہیں کئے گئے تھے ان کی حدی ثینہ الوداع سے مسجد بنی زریق تک مقرر کی عبداللہ بن عمر بھی گھوڑ دوڑ میں شریک تھے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, held a race between horses which had been made lean by training, from al-Hafya to Thaniyatu-lWada. He held a race between horses which had not been made lean from the Thaniya (a mountain pass near Madina) to the mosque of the Banu Zurayq. Abdullah ibn Umar was among those who raced them .

917Mauwatta Imam Malik

گھوڑوں کا اور گھوڑ دوڑ کا بیان اور جہاد میں صرف کرنے کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ لَيْسَ بِرِهَانِ الْخَيْلِ بَأْسٌ إِذَا دَخَلَ فِيهَا مُحَلِّلٌ فَإِنْ سَبَقَ أَخَذَ السَّبَقَ وَإِنْ سُبِقَ لَمْ يَکُنْ عَلَيْهِ شَيْئٌ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب کہتے تھے گھوڑ دوڑ کی شرط میں کچھ قباحت نہیں ہے جب دو شخصوں کے بیچ میں ایک اور شخص آجائے اگر وہ آگے بڑھ جائے تو شرط کا روپیہ لے لے اور جب پیچھے رہ کچھ نہ دے۔

Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said heard Said ibn al-Musayyab say, "There is no harm in placing stakes on horses if a third horse enters it. The winner takes the stake, and there is no fine against the loser."

918Mauwatta Imam Malik

گھوڑوں کا اور گھوڑ دوڑ کا بیان اور جہاد میں صرف کرنے کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُئِيَ وَهُوَ يَمْسَحُ وَجْهَ فَرَسِهِ بِرِدَائِهِ فَسُئِلَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ إِنِّي عُوتِبْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْخَيْلِ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو لوگوں نے دیکھا کہ اپنے گھوڑے کا منہ چادر سے صاف کر رہے ہیں لوگوں نے اس کا سبب پوچھا آپ ﷺ نے فرمایا کہ رات مجھ پر عتاب ہوا گھوڑے کی خبر نہ لینے پر۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was seen wiping the face of his horse with his cloak. He was questioned about it and said, "I was reproached in the night about horses." i.e. not taking care of them.

919Mauwatta Imam Malik

گھوڑوں کا اور گھوڑ دوڑ کا بیان اور جہاد میں صرف کرنے کا بیان

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَی خَيْبَرَ أَتَاهَا لَيْلًا وَکَانَ إِذَا أَتَی قَوْمًا بِلَيْلٍ لَمْ يُغِرْ حَتَّی يُصْبِحَ فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَتْ يَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَکَاتِلِهِمْ فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَکْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ

انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب چلے خیبر کو پہنچے وہاں رات کو اور آپ ﷺ جب کسی قوم پر رات کو پہنچتے تو جنگ شروع نہ کرتے یہاں تک کہ صبح ہو تو خیبر کے یہودی اپنی کدالیں اور زنبلیں لے کر نکلے جب انہوں نے آپ ﷺ کو دیکھا تو کہنے لگے قسم ہے اللہ کی محمد ہیں اور پورا لشکر ان کے ساتھ ہے تو فرمایا آپ ﷺ نے اللہ اکبر خراب ہو خیبر انا اذانزلنا بساحہ قوم فساء صباح المنذرین۔

Yahya related to me from Malik from Humayd at-Tawil from Anas ibn Malik that when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, went out to Khaybar, he arrived there at night, and when he came upon a people by night, he did not attack until morning. In the morning, the jews came out with their spades and baskets. When they saw him, they said, " Muhammad ﷺ ! By Allah, Muhammad and his army!" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said "Allah is greater! Khaybar is destroyed. When we come to a people, it is an evil morning for those who have been warned . "

920Mauwatta Imam Malik

گھوڑوں کا اور گھوڑ دوڑ کا بیان اور جہاد میں صرف کرنے کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ فَمَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ وَمَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ وَمَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلَی مَنْ يُدْعَی مِنْ هَذِهِ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ فَهَلْ يُدْعَی أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأَبْوَابِ کُلِّهَا قَالَ نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَکُونَ مِنْهُمْ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ایک جوڑا صرف کرے اللہ کی راہ میں تو قیامت کے روز جنت کے دروازے پر پکارا جائے گا اے بندے اللہ کے! یہ خیر ہے تو جو شخص نمازی ہوگا وہ نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا جو شخص جہادی ہوگا وہ شخص جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا جو شخص صدقہ دینے والا ہوگا وہ صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گا جو شخص روزے بہت رکھے گا اور باب الریان سے بلایا جائے گا حضرت ابوبکر صدیق نے کہا یا رسول اللہ ﷺ جو شخص کسی ایک دروازے سے بلایا جائے اس کو کچھ حزن نہ ہوگا مگر کوئی ایسا بھی جو سب دروازوں سے بلایا جائے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم ان میں سے ہوگے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Humayd ibn Abd ar-Rahman ibn Awf from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Whoever hands over two of any type of property in the way of Allah is called to the Garden, with the words O slave of Allah! This is good! Whoever is among the people of prayer, is called from the gate of prayer. Whoever is among the people of jihad is called from the gate of jihad. Whoever is among the people of sadaqa, is called from the gate of sadaqa. Whoever is among the people of fasting, is called from the gate of the well-watered. (Bab ar-Rayyan)." Abu Bakr (RA) as-Siddiq said, "Messenger of Allah! Is it absolutely necessary that one be called from one of these gates? Can someone be called from all of these gates?" He said, "Yes, and I hope you are among them ." 21.2O Acquisition of the Land of Those who Surrender from the People of Dhimma