حج کی مختلف احادیث کا بیان
عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِامْرَأَةٍ وَهِيَ فِي مِحَفَّتِهَا فَقِيلَ لَهَا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَتْ بِضَبْعَيْ صَبِيٍّ کَانَ مَعَهَا فَقَالَتْ أَلِهَذَا حَجٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَلَکِ أَجْرٌ
کریب سے روایت ہے جو مولیٰ ہیں عبداللہ بن عباس کے، کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ہوا ایک عورت پر اور وہ اپنے محافہ میں تھی تو کہا گیا اس سے کہ یہ رسول اللہ ﷺ ہیں اس نے اپنے لڑکے کا بازو پکڑ کر کہا یا رسول اللہ ﷺ لڑکے کا بھی حج ہے فرمایا ہاں اور تجھ کو اجر ہے۔
Yahya related to me from Malik from Ibrahim ibn Uqba from Kurayb the mawla of Abdullah ibn Abbas from Ibn Abbas (RA) that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, passed a woman in a litter and it was said to her, "This is the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace," and she took the forearms of a young boy who was with her and said, "Does this one have a hajj, Messenger of Allah? ﷺ " and he said, "Yes, and you have a reward."
حج کی مختلف احادیث کا بیان
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ کَرِيزٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا رُئِيَ الشَّيْطَانُ يَوْمًا هُوَ فِيهِ أَصْغَرُ وَلَا أَدْحَرُ وَلَا أَحْقَرُ وَلَا أَغْيَظُ مِنْهُ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ وَمَا ذَاکَ إِلَّا لِمَا رَأَی مِنْ تَنَزُّلِ الرَّحْمَةِ وَتَجَاوُزِ اللَّهِ عَنْ الذُّنُوبِ الْعِظَامِ إِلَّا مَا أُرِيَ يَوْمَ بَدْرٍ قِيلَ وَمَا رَأَی يَوْمَ بَدْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَمَا إِنَّهُ قَدْ رَأَی جِبْرِيلَ يَزَعُ الْمَلَائِکَةَ
طلحہ بن عبیداللہ بن کریز سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں دیکھا جاتا شیطان کسی روز ذلیل اور منحوس اور غضبناک زیادہ عرفے کے روز سے اس وجہ سے کہ دیکھتا ہے اس دن اللہ کی رحمت اترتی ہوئی اور بڑے بڑے گناہ معاف ہوتے ہوئے مگر بدر کے روز بھی شیطان کا یہی حال تھا لوگوں نے کہا اس دن کیا تھا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دیکھا اس نے جبرائیل کو فرشتوں کی صف باندھے ہوئے۔
Yahya related to me from Malik from Ibrahim ibn Abi Abla from Talha ibn Ubaydullah ibn Kariyz that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Shaytan is not considered more abased or more cast out or more contemptible or more angry on any day than on the Day of Arafa. That is only because he sees the descent of the Mercy and Allahs disregard for great wrong actions. That is except from what he was shown on the Day of Badr." Someone said, "What was he shown on the Day of Badr, Messenger of Allah? ﷺ " He said, "Didnt he see Jibril arranging the ranks of the angels?"
حج کی مختلف احادیث کا بیان
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ کَرِيزٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ الدُّعَائِ دُعَائُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَأَفْضَلُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ
عبیداللہ بن کریز سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہتر دعاؤں میں عرفے کی دعا ہے اور بہتر اس میں جو کہا میں نے اور میرے سے پہلے پیغمبروں نے لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے۔
Yahya related to me from Malik from Zihad ibn Abi Ziyad the mawla of Abdullah ibn Ayyash ibn Abi Rabia from Talha ibn Ubaydullah ibn Kariyz that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The most excellent dua is the dua on the Day of Arafa, and the best of what I and the prophets before me have said, is There is no god but Allah, alone, without partner."
حج کی مختلف احادیث کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَکَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَی رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَائَهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوهُ قَالَ مَالِک وَلَمْ يَکُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ داخل ہوئے مکے میں جس سال مکہ فتح ہوا آپ ﷺ کے سر پر خود تھا جب آپ ﷺ نے خود اتارا تو ایک شخص آیا اور بولا کہ یا رسول اللہ ﷺ ابن خطل کعبے کے پردے پکڑے ہوئے لٹک رہا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس کو مار ڈالو۔ امام مالک نے کہا کہ اس دن رسول اللہ ﷺ محرم نہیں تھے
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Anas ibn Malik that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, entered Makka, in the Year of Victory, wearing a helmet, and when he took it off a man came to him and said, "Messenger of Allah, Ibn Khatal is clinging to the covers of the Kaba, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Kill him." Malik commented, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was not in ihram at the time, and Allah knows best."
حج کی مختلف احادیث کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَقْبَلَ مِنْ مَکَّةَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِقُدَيْدٍ جَائَهُ خَبَرٌ مِنْ الْمَدِينَةِ فَرَجَعَ فَدَخَلَ مَکَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ عَنْ مَالِك عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر آئے مکے سے جب قدید میں پہنچے تو مدینے کے فساد کی خبر پہنچی پس آپ مکہ میں بغیر احرام کے لوٹ آئے۔ ابن شہاب سے ایسی ہی روایت ہے
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar was coming from Makka and when he was at Qudayd, news came to him from Madina and he returned and entered Makka without ihram.
حج کی مختلف احادیث کا بیان
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ عَدَلَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَةٍ بِطَرِيقِ مَکَّةَ فَقَالَ مَا أَنْزَلَکَ تَحْتَ هَذِهِ السَّرْحَةِ فَقُلْتُ أَرَدْتُ ظِلَّهَا فَقَالَ هَلْ غَيْرُ ذَلِکَ فَقُلْتُ لَا مَا أَنْزَلَنِي إِلَّا ذَلِکَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کُنْتَ بَيْنَ الْأَخْشَبَيْنِ مِنْ مِنًی وَنَفَخَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَإِنَّ هُنَاکَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ السِّرَرُ بِهِ شَجَرَةٌ سُرَّ تَحْتَهَا سَبْعُونَ نَبِيًّا
عمران انصاری سے روایت ہے کہ میرے پاس عبداللہ بن عمر آئے اور میں مکے کی راستے میں ایک درخت کے تلے ٹھہرا ہوا تھا، تو انہوں نے پوچھا کیوں ٹھہرا تو اس درخت کے تلے، میں نے کہا سایہ کے واسطے انہوں نے کہا یا اور کسی کام کے واسطے میں نے کہا نہیں، میں صرف سایہ کے واسطے ٹھہرا ہوں، عبداللہ بن عمر نے کہا: فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب تو منیٰ میں دو پہاڑوں کے بیچ میں پہنچے اور اشارہ کیا ہاتھ سے پورب کی طرف وہاں ایک جگہ ہے جس کو سُرر کہتے ہیں وہاں ایک درخت ہے اس کے تلے ستر نبیوں کی نال کاٹی گئی یا ستر نبیوں کو نبوت ملی پس وہ اس سبب سے خوش ہوئے۔
Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn Amr ibn Halhala ad-Dili from Muhammad ibn lmran al-Ansari that his father said that Abdullah ibn Umar came upon him while he stopped for a rest under a tall tree on the road to Makka, and he said, "What has made you stop under this tall tree?" He replied that he sought its shade. Abdullah ibn Umar said, "Anything besides that?" and he said, "No, that was the only. reason he stopped for a rest," and Abdullah ibn Umar said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, If you are between al-Akhshabayn (which are two mountains) near Mina, indicating the east with his outspread hand, you will find a valley called as-Surar with a tree in it beneath which the umbilical cords of seventy prophets have been cut. "
حج کی مختلف احادیث کا بیان
عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مَرَّ بِامْرَأَةٍ مَجْذُومَةٍ وَهِيَ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَقَالَ لَهَا يَا أَمَةَ اللَّهِ لَا تُؤْذِي النَّاسَ لَوْ جَلَسْتِ فِي بَيْتِکِ فَجَلَسَتْ فَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِکَ فَقَالَ لَهَا إِنَّ الَّذِي کَانَ قَدْ نَهَاکِ قَدْ مَاتَ فَاخْرُجِي فَقَالَتْ مَا کُنْتُ لِأُطِيعَهُ حَيًّا وَأَعْصِيَهُ مَيِّتًا عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ کَانَ يَقُولُ مَا بَيْنَ الرُّکْنِ وَالْبَابِ الْمُلْتَزَمُ
ابن ابی ملکیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ایک جذامی عورت کے پاس سے گزرے جو خانہ کعبہ کا طواف کر رہی تھی، تو (عمر نے) کہا اے اللہ کی لونڈی لوگوں کو تکلیف مت دے، کاش تو اپنے گھر میں بیٹھتی، وہ اپنے گھر میں بیٹھی رہی یہاں تک کہ ایک شخص اس سے ملا اور بولا کہ جس شخص نے تجھ کو منع کیا تھا وہ مرگیا، اب نکل ؛ عورت بولی میں ایسی نہیں کہ زندگی میں تو میں اس شخص کی اطاعت کروں اور مرنے کے بعد اس کی نافرمانی کروں۔ امام مالک کو یہ روایت پہنچی کہ عبداللہ بن عباس کہتے تھے کہ " ملتزم " حجر اسود اور کعبہ کے دروازہ کے درمیان میں ہے۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr ibn Hazm from Ibn Abi Mulayka that Umar ibn al-Khattab passed a leprous woman doing tawaf of the House, and he said to her, "Slave of Allah, do not make people uneasy. Better that you stay in your house," so she did so. A man passed by her after that and said to her, "The one who forbade you has died, so come out," and she replied, "I am not going to obey him when he is alive and disobey him when he is dead."
حج کی مختلف احادیث کا بیان
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَذْکُرُ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَی أَبِي ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ وَأَنَّ أَبَا ذَرٍّ سَأَلَهُ أَيْنَ تُرِيدُ فَقَالَ أَرَدْتُ الْحَجَّ فَقَالَ هَلْ نَزَعَکَ غَيْرُهُ فَقَالَ لَا قَالَ فَأْتَنِفْ الْعَمَلَ قَالَ الرَّجُلُ فَخَرَجْتُ حَتَّی قَدِمْتُ مَکَّةَ فَمَکَثْتُ مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ إِذَا أَنَا بِالنَّاسِ مُنْقَصِفِينَ عَلَی رَجُلٍ فَضَاغَطْتُ عَلَيْهِ النَّاسَ فَإِذَا أَنَا بِالشَّيْخِ الَّذِي وَجَدْتُ بِالرَّبَذَةِ يَعْنِي أَبَا ذَرٍّ قَالَ فَلَمَّا رَآنِي عَرَفَنِي فَقَالَ هُوَ الَّذِي حَدَّثْتُکَ
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ ایک شخص ابوذر کے پاس سے گزرے ربذہ میں (ایک مقام کا نام ہے)، ابوذر نے پوچھا کہاں کا قصد ہے؟ اس نے کہا حج کا، ابوذر نے پوچھا اور کسی نیت سے تو نہیں نکلا؟ بولا نہیں، ابوذر نے کہا پس شروع کر کام، اس شخص نے کہا میں نکلا یہاں تک کہ مکہ میں آیا اور وہاں ٹھہرا رہا پھر دیکھا میں نے لوگوں کو کہ گھیرے ہوئے ہیں ایک شخص کو، تو میں لوگوں کو چیر کے اندر گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ وہی شخص جو ربذہ میں مجھ کو ملا تھا موجود ہے یعنی ابوذر انہوں نے مجھ کو دیکھ کر پہچانا اور کہا تو وہی ہے جس سے میں نے حدیث بیان کی تھی۔
Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said heard Muhammad ibn Yahya ibn Habban mentioning that a certain man passed Abu Dharr (RA) at ar-Rabadha (which was about 3O miles from Madina) and Abu Dharr (RA) asked him, "Where are you heading to?" and he replied, "I am intending to do hajj." Abu Dharr (RA) questioned, "Has anything else brought you out?" and he said, "No," so Abu Dharr (RA) said "Resume what you are doing wholeheartedly." The man related, "I went on till I came to Makka and I stayed as long as Allah willed. Suddenly, one time, I was with a crowd of people thronging about a man and I pushed through the people to him and it was the old man that I had come across at ar-Rabadha. When he saw me, he recognized me and said, Ah, you have done what I told you. "
حج کی مختلف احادیث کا بیان
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ الْاسْتِثْنَائِ فِي الْحَجِّ فَقَالَ أَوَ يَصْنَعُ ذَلِکَ أَحَدٌ وَأَنْکَرَ ذَلِکَ
امام مالک نے ابن شہاب سے پوچھا کہ حج میں شرط لگانا درست ہے؟ بولے کیا کوئی ایسا کرتا ہے؟ اور اس سے انکار کیا۔
Yahya related to me from Malik that he asked Ibn Shihab about making a condition in the hajj that one could leave ihram at any place where an obstacle befell one and he said, "Does anyone do that? and disapproved of it. Malik was asked whether a man could cut plants from the Haram for his mount, and he said, "No."
عورت کو بغیر محرم کے حج کرنے کا بیان
قَالَ مَالِک فِي الصَّرُورَةِ مِنْ النِّسَائِ الَّتِي لَمْ تَحُجَّ قَطُّ إِنَّهَا إِنْ لَمْ يَکُنْ لَهَا ذُو مَحْرَمٍ يَخْرُجُ مَعَهَا أَوْ کَانَ لَهَا فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا أَنَّهَا لَا تَتْرُکُ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَيْهَا فِي الْحَجِّ لِتَخْرُجْ فِي جَمَاعَةِ النِّسَائِ
امام مالک نے کہا کہ جن عورتوں کے خاوند نہیں ہیں اور انہوں نے حج نہیں کیا، اگر ان کا کوئی محرم نہ ہو یا ہو لیکن ساتھ نہ جاسکے تو فرض حج کو ترک نہ کرے بلکہ عورتوں کے ساتھ حج کو جائے۔
Malik said, concerning a woman who had never been on hajj, "If she doesnt have a mahram, or if she has, but he cannot come with her, she does not abandon Allahs making of the hajj obligatory for her. Let her go in a group of women."
جو شخص تمتع کرے اس کے روزوں کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا کَانَتْ تَقُولُ الصِّيَامُ لِمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَی الْحَجِّ لِمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا مَا بَيْنَ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ إِلَی يَوْمِ عَرَفَةَ فَإِنْ لَمْ يَصُمْ صَامَ أَيَّامَ مِنًی عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ فِي ذَلِکَ مِثْلَ قَوْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَی عَنْهَا
ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے ؛ وہ کہتی تھیں روزہ اس شخص کے اوپر ہے جو تمتع کرے یعنی عمرہ کر کے حج کرے اور ہدی نہ پائے حج کے احرام سے لے کر عرفہ تک روزے رکھے اگر ان دنوں میں نہ رکھے تو منیٰ کے دنوں میں رکھے۔ عبداللہ بن عمر بھی اس مقدمے میں مثل قول عائشہ کے کہتے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Urwa ibn az-Zubayr that Aisha umm al-muminin used to say, "Someone performing hajj at-tamattu who does not have a sacrificial animal fasts (three days) from the time he enters ihram for the hajj till the Day of Arafa, and if he does not fast then, he fasts the days of Mina."
جہاد کی طرف رغبت دلانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ کَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَفْتُرُ مِنْ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ حَتَّی يَرْجِعَ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی دن بھر روزہ رکھے اور رات بھر عبادت کرے، نہ تھکے نماز سے اور نہ روزے سے یہاں تک کہ لوٹے جہاد سے
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said "Someone who does jihad in the way of Allah is like someone who fasts and prays constantly and who does not slacken from his prayer and fasting until he returns."
جہاد کی طرف رغبت دلانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَکَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ کَلِمَاتِهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ إِلَی مَسْکَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ ضامن ہے اس شخص کا جو جہاد کرے اس کی راہ میں اور نہ نکلے گھر سے مگر جہاد کی نیت سے، اللہ کے کلام کو سچا جان کر ؛ اس بات کا کہ داخل کرے گا اللہ اس کو جنت میں یا پھیر لائے گا اس کو اس کے گھر میں جہاں سے نکلا ہے ثواب اور غنیمت کے ساتھ۔
Yahya related to me from Malik from Abuz Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Allah guarantees either the Garden or a safe return to his home with whatever he has obtained of reward or booty, for the one who does jihad in His way, if it is solely jihad and trust in his promise that brings him out of his house."
جہاد کی طرف رغبت دلانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَعَلَی رَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِکَ مِنْ الْمَرْجِ أَوْ الرَّوْضَةِ کَانَ لَهُ حَسَنَاتٌ وَلَوْ أَنَّهَا قُطِعَتْ طِيَلَهَا ذَلِکَ فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ کَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَ بِهِ کَانَ ذَلِکَ لَهُ حَسَنَاتٍ فَهِيَ لَهُ أَجْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَتَعَفُّفًا وَلَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَلَا فِي ظُهُورِهَا فَهِيَ لِذَلِکَ سِتْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَائً وَنِوَائً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ فَهِيَ عَلَی ذَلِکَ وِزْرٌ وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحُمُرِ فَقَالَ لَمْ يُنْزَلْ عَلَيَّ فِيهَا شَيْئٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گھوڑے ایک شخص کے واسطے اجر ہیں اور ایک شخص کے واسطے درست ہیں اور ایک شخص کے واسطے گناہ ہیں؛ اجر اس کے واسطے ہیں جو باندھے ان کو جہاد کے واسطے پھر لمبی کردے اس کی رسی، ان کی کسی موضع یا چراگاہ میں تو جس قدر دور تک اس رسی کے سبب سے چرے اس کی واسطے نیکیاں لکھی جائیں گی، اگر وہ رسی توڑا کر ایک اونچان یا نیچان چڑھیں ان کے ہر قدم اور لید پر نیکیاں لکھی جائیں گی اور اگر وہ کسی نہر پر جا نکلے اور پانی پائے اور مالک کا ارادہ پانی پلانے کا نہ تھا تب بھی اس کے واسطے نیکیاں لکھی جائیں۔ اور درست اس کے واسطے ہیں جو تجارت کے واسطے باندھے اور ان کی زکوٰۃ ادا کرے۔ اور گناہ اس کے واسطے ہیں جو فخر اور ریا اور مسلمانوں کی دشمنی کے لئے باندھے۔ اور حضرت سے سوال ہوا گدھوں کے باب میں، آپ نے فرمایا کہ اس مقدمے میں میرے اوپر کچھ نہیں اترا مگر یہ آیت جو اکیلی تمام نیکیوں کو شامل ہے " فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَه۔ وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَه۔ " 99۔ الزلہ۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Abu Salih as-Samman from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Horses are a reward for one man, a protection for another, a burden for another. The one who has them as a reward is the one who dedicates them for use in the way of Allah, and tethers them in a meadow or grassland. Whatever the horse enjoys of the grassland or meadow in the length of its tether are good deeds for him. If it breaks its tether and goes over a hillock or two, its tracks and droppings are good deeds for him. If it crosses a river and drinks from it while he did not mean to allow it to drink it, that counts as good deeds for him, and the horse is a reward for him. Another man uses his horse to gain self reliance and up-standingness and does not forget Allahs right on their necks and backs (i.e. he does not ill treat or over-work them). Horses are a protection for him . Another man uses them out of pride to show them off and in hostility to the people of Islam. They are a burden on that man." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was asked about donkeys, and he said, "Nothing has been revealed to me about them except this single all-inclusive ayat, Whoever does an atom of good will see it, and whoever does an atom of evil, will see it. " (Sura 99 Ayats 7,8) .
جہاد کی طرف رغبت دلانے کا بیان
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلًا رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلًا بَعْدَهُ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي غُنَيْمَتِهِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّکَاةَ وَيَعْبُدُ اللَّهَ لَا يُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں نہ بتاؤں تم کو وہ شخص جو سب سے بڑھ کر درجہ رکھتا ہے؛ وہ شخص ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے جہاد کرتا ہے اللہ کی راہ میں، کیا نہ بتاؤں میں تم کو اس کے بعد جو سب سے بڑھ کر درجہ رکھتا ہے وہ شخص ہے جو ایک گوشے میں بکریوں کا غلہ لے کر نماز پڑھتا ہے اور اللہ کو پوجتا ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔
Yahya related to me from Abdullah ibn Abd ar-Rahman ibn Mamar al-Ansari that Ata ibn Yasar said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Shall I tell you who has the best degree among people? A man who takes the rein of his horse to do jihad in the way of Allah. Shall I tell you who has the best degree among people after him? A man who lives alone with a few sheep, performs the prayer, pays the zakat, and worships Allah without associating anything with him."
جہاد کی طرف رغبت دلانے کا بیان
عَنْ عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَهِ وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَأَنْ نَقُولَ أَوْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا کُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ ہم نے بیعت کی رسول اللہ ﷺ سے سننے اور اطاعت کرنے پر آسانی اور سختی میں خوشی اور غم میں اور بیعت کی ہم نے اس بات پر کہ جو مسلماں حکومت کے لائق ہوگا اس سے نہ جھگڑیں گے اور اس امر پر کہ ہم سچ کہیں گے یا سچ پر جمے رہیں گے جہاں ہوں گے، اللہ کے کام میں کسی کے برا کہنے سے نہ ڈریں گے۔
Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said, Ubadah ibn al-Walid ibn Ubadah ibn as-Samit informed me from his father that his grandfather (Ubadah) said, We made a contract with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, to hear and obey in ease and hardship, enthusiasm and reluctance, and not to dispute with people in authority and to speak or establish the truth wherever we were without worrying about criticism."
جہاد کی طرف رغبت دلانے کا بیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ کَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَذْکُرُ لَهُ جُمُوعًا مِنْ الرُّومِ وَمَا يَتَخَوَّفُ مِنْهُمْ فَکَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ مَهْمَا يَنْزِلْ بِعَبْدٍ مُؤْمِنٍ مِنْ مُنْزَلِ شِدَّةٍ يَجْعَلْ اللَّهُ بَعْدَهُ فَرَجًا وَإِنَّهُ لَنْ يَغْلِبَ عُسْرٌ يُسْرَيْنِ وَأَنَّ اللَّهَ تَعَالَی يَقُولُ فِي کِتَابِهِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ابوعبیدہ بن جراح نے حضرت عمر کو روم کے لشکروں کا اور اپنے خوف کا حال لکھا ؛ حضرت عمر نے جواب لکھا کہ بعد حمد ونعت کے معلوم ہو کہ بندہ مومن پر جب کوئی سختی اترتی ہے تو اس کے بعد اللہ پاک خوشی دیتا ہے؛ اور ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں ہو سکتی؛ اور بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ؛ " اے ایمان والو صبر کرو مصیبتوں پر اور صبر کرو کفار کے مقابلہ میں اور قائم رہو جہاد پر اور ڈرو اللہ سے شاید کہ تم نجات پاؤ "۔
Yahya related to me from Malik that Zayd ibn Aslam had said that Ubayda ibn al-Jarrah had written to Umar ibn al-Khattab mentioning to him a great array of Byzantine troops and the anxiety they were causing him. Umar ibn al-Khattab wrote in reply to him, "Whatever hardship befalls a believing slave, Allah will make an opening for him after it, and a hardship will not overcome two eases. Allah the Exalted says in His Book, O you who trust, be patient, and vie in patience; be steadfast and fear Allah, perhaps you will profit. " (Sura 3 ayat 200).
دشمن کے ملک میں کلام اللہ لے جانے کی ممانعت ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَی أَرْضِ الْعَدُوِّ قَالَ مَالِک وَإِنَّمَا ذَلِکَ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا قرآن شریف کو دشمن کے ملک میں لے جانے سے؛ کہا مالک نے منع اس واسطے کیا " تاکہ ایسا نہ ہو کہ دشمن قرآن شریف کو لے کر اس کی توہین کرے "۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade travelling with a Quran in the land of the enemy. Malik commented, "That is out of fear that the enemy will get hold of it."
بچون اور عورتوں کو مارنے کی ممانعت لڑائی میں
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کَعْبٍ أَنَّهُ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ قَتَلُوا ابْنَ أَبِي الْحُقَيْقِ عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ قَالَ فَکَانَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يَقُولُ بَرَّحَتْ بِنَا امْرَأَةُ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ بِالصِّيَاحِ فَأَرْفَعُ السَّيْفَ عَلَيْهَا ثُمَّ أَذْکُرُ نَهْيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَکُفُّ وَلَوْلَا ذَلِکَ اسْتَرَحْنَا مِنْهَا
عبدالرحمن بن کعب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا تھا ان لوگوں کو جہنوں نے قتل کیا ابن ابی حقیق کو عورتوں اور بچوں کے قتل کرنے سے ; ابن کعب نے کہا کہ ایک شخص ان میں سے کہتا تھا کہ ابن ابی حقیق کی عورت نے چیخ کر ہمارا حال کھول دیا تھا ; تو میں تلوار اس پر اٹھاتا تھا پھر رسول اللہ ﷺ کی ممانعت کو یاد کر کے رک جاتا تھا، اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم اسے بھی قتل کردیتے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that a son of Kab ibn Malik (Malik believed that ibn Shihab said it was Abd ar-Rahman ibn Kab) said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade those who fought ibn Abi Huqayq (a treacherous jew from Madina) to kill women and children. He said that one of the men fighting had said, The wife of ibn Abi Huqayq began screaming and I repeatedly raised my sword against her. Then I would remember the prohibition of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, so I would stop. Had it not been for that, we would have been rid of her. "
بچون اور عورتوں کو مارنے کی ممانعت لڑائی میں
عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ امْرَأَةً مَقْتُولَةً فَأَنْکَرَ ذَلِکَ وَنَهَی عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالصِّبْيَانِ
نافع سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض لڑائیوں میں ایک عورت کو قتل کئے ہوئے پایا تو ناپسند کیا اس کے قتل کو اور منع کیا عورتوں اور بچوں کے قتل سے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, saw the corpse of a woman who had been slain in one of the raids, and he disapproved of it and forbade the killing of women and children.