زکوة دیکر پھر اس کو خرید کرنے یا پھیرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَمَلَ عَلَی فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَبْتَعْهُ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِکَ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے ایک گھوڑا دیا اللہ کی راہ میں پھر قصد کیا اس کے خرید نے کا تو پوچھا رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ نے فرمایا مت خرید اس کو اور نہ پھیر صدقہ کو۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that Umaribnal-Khattab gave a horse to carry some one in the way of Allah, and then he wished to buy it back. So he asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, about it, and he said, "Do not buy or take back your sadaqa." Yahya said that Malik was asked about whether a man who gave some sadaqa, and then found it being offered back to him for sale by some one other than the man to whom he had given it, could buy it or not, and he said, "I prefer that he leaves it."
جن لوگوں پر صدقہ فطر واجب ہے ان کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يُخْرِجُ زَکَاةَ الْفِطْرِ عَنْ غِلْمَانِهِ الَّذِينَ بِوَادِي الْقُرَی وَبِخَيْبَرَ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّ أَحْسَنَ مَا سَمِعْتُ فِيمَا يَجِبُ عَلَی الرَّجُلِ مِنْ زَکَاةِ الْفِطْرِ أَنَّ الرَّجُلَ يُؤَدِّي ذَلِکَ عَنْ کُلِّ مَنْ يَضْمَنُ نَفَقَتَهُ وَلَا بُدَّ لَهُ مِنْ أَنْ يُنْفِقَ عَلَيْهِ وَالرَّجُلُ يُؤَدِّي عَنْ مُکَاتَبِهِ وَمُدَبَّرِهِ وَرَقِيقِهِ کُلِّهِمْ غَائِبِهِمْ وَشَاهِدِهِمْ مَنْ کَانَ مِنْهُمْ مُسْلِمًا وَمَنْ کَانَ مِنْهُمْ لِتِجَارَةٍ أَوْ لِغَيْرِ تِجَارَةٍ وَمَنْ لَمْ يَکُنْ مِنْهُمْ مُسْلِمًا فَلَا زَکَاةَ عَلَيْهِ فِيهِ قَالَ مَالِک فِي الْعَبْدِ الْآبِقِ إِنَّ سَيِّدَهُ إِنْ عَلِمَ مَکَانَهُ أَوْ لَمْ يَعْلَمْ وَکَانَتْ غَيْبَتُهُ قَرِيبَةً وَهُوَ يَرْجُو حَيَاتَهُ وَرَجْعَتَهُ فَإِنِّي أَرَی أَنْ يُزَکِّيَ عَنْهُ وَإِنْ کَانَ إِبَاقُهُ قَدْ طَالَ وَيَئِسَ مِنْهُ فَلَا أَرَی أَنْ يُزَکِّيَ عَنْهُ قَالَ مَالِک تَجِبُ زَکَاةُ الْفِطْرِ عَلَی أَهْلِ الْبَادِيَةِ کَمَا تَجِبُ عَلَی أَهْلِ الْقُرَی وَذَلِکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَکَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَی النَّاسِ عَلَی کُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثَی مِنْ الْمُسْلِمِينَ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر صدقہ فطر نکالتے اپنے غلاموں کی طرف سے جو وادی قری اور خیبر میں تھے۔ کہا مالک نے جو بہتر سنا ہے اس باب میں وہ یہ ہے کہ آدمی اس شخص کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے جس کا نان ونفقہ اس پر واجب ہے اور اس پر خرچ کرنا ضروری ہے اور اپنے غلام اور مکاتب اور مدبر اور سب کی طرف سے صدقہ ادا کرے خواہ یہ غلام حاضر ہوں یا غائب شرط یہ ہے کہ وہ مسلمان ہوں تجارت کے واسطے ہوں یا نہ ہوں اور جو ان میں مسلمان نہ ہو اس کی طرف سے صدقہ فطر نہ دے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to pay the zakat al-fitr for those slaves of his that were at Wadil-Qura and Khaybar.
صدقہ فطر کی مقدار کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَکَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَی النَّاسِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَی کُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثَی مِنْ الْمُسْلِمِينَ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر مقرر کیا لوگوں پر ایک صاع کھجور کا اور ایک صاع جَو کا ہر آزاد اور ہر غلام پر مرد ہو یا عورت مسلمانوں میں سے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, made the zakat of breaking the fast at the end of Ramadan obligatory on every muslim, whether freeman or slave, male or female, and stipulated it as a sa of dates or a sa of barley.
صدقہ فطر کی مقدار کا بیان
عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ الْعَامِرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ کُنَّا نُخْرِجُ زَکَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ وَذَلِکَ بِصَاعِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عیاض بن عبداللہ نے سنا ابوسعید خدری ؓ سے ہم نکالتے تھے صدقہ فطر ایک صاع گیہوں سے یا ایک صاع جَو سے یا ایک صاع کھجور سے یا ایک صاع پنیر سے یا ایک صاع انگور خشک سے نبی ﷺ کے صاع سے۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from lyad ibn Abdullah ibn Sad ibn Abi Sarh al-Amiri that he had heard Abu Said al-Khudri say, "We used to pay the zakat al-fitr with a sa of wheat, or a sa of barley, or a sa of dates, or a sa of dried sour milk, or a sa of raisins, using the sa of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace . "
صدقہ فطر کی مقدار کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ لَا يُخْرِجُ فِي زَکَاةِ الْفِطْرِ إِلَّا التَّمْرَ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً فَإِنَّهُ أَخْرَجَ شَعِيرًا
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر صدقہ فطر میں ہمیشہ کھجور دیا کرتے تھے مگر ایک بار جو دئیے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar would always pay the zakat al-fitr in dates, except once, when he paid it in barley. Maliksaid, "Payment of all types of kaffara, of zakat al-fitr and of the zakat on grains for which a tenth or a twentieth is due, is made using the smaller mudd, which is the mudd of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, except in the case of dhihar divorce, when the kaffara is paid using the mudd of Hisham, which is the larger mudd."
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَبْعَثُ بِزَکَاةِ الْفِطْرِ إِلَی الَّذِي تُجْمَعُ عِنْدَهُ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ رَأَی أَهْلَ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يُخْرِجُوا زَکَاةَ الْفِطْرِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ مِنْ يَوْمِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوا إِلَی الْمُصَلَّی
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر صدقہ فطر بھیج دیا کرتے تھے عید سے دو تین روز پہلے اس شخص کے پاس جہاں صدقہ فطر جمع ہوا کرتا تھا۔ کہا مالک نے میں نے دیکھا اہل علم کو وہ مستحب جانتے تھے صدقہ فطر کو نکالنا جب فجر ہو عید کی قبل نماز کے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to send the zakat al-fitr to the one with whom it was collected together two or three days before the day of breaking the fast.
احرام کے لئے غسل کرنے کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَيْسٍ أَنَّهَا وَلَدَتْ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَکْرٍ بِالْبَيْدَائِ فَذَکَرَ ذَلِکَ أَبُو بَکْرٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرْهَا فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتُهِلَّ
اسما بنت عمیس سے روایت ہے کہ انہوں نے جنا محمد بن ابی بکر کو مقام بیدا میں تو ذکر کیا ابوبکر نے رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ نے فرمایا کہ غسل کر کے احرام باندھ لے۔
Yahya related to me from Malik from Abd ar-Rahman ibn al-Qasim from his father from Asma bint Umays that she gave birth to Muhammad ibn Abi Bakr at al-Bayda. Abu Bakr (RA) mentioned this to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he said, "Tell her to do ghusl and then enter ihram."
احرام کے لئے غسل کرنے کا بیان
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ عُمَيْسٍ وَلَدَتْ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَکْرٍ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَأَمَرَهَا أَبُو بَکْرٍ أَنْ تَغْتَسِلَ ثُمَّ تُهِلَّ
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ اسماء بنت عمیس نے جنا محمد بن ابی بکر کو ذوالحلیفہ میں تو حکم کیا ان کو ابوبکر نے غسل کر کے احرام باندھنے کا۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Said ibn al-Musayyab that Asma bint Umays gave birth to Muhammad ibn Abi Bakr at Dhul-Hulayfa and Abu Bakr (RA) told her to do ghusl and then enter ihram.
احرام کے لئے غسل کرنے کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَغْتَسِلُ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَلِدُخُولِهِ مَکَّةَ وَلِوُقُوفِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر غسل کرتے تھے احرام کے واسطے احرام باندھنے سے پہلے اور غسل کرتے تھے مکہ میں داخل ہونے کے واسطے اور غسل کرتے تھے نویں تاریخ کو عرفات میں ٹھہرنے کے واسطے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to do ghusl for ihram before he entered ihram, and for entering Makka, and for standing on the afternoon of Arafa.
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ اخْتَلَفَا بِالْأَبْوَائِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ وَقَالَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ لَا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ قَالَ فَأَرْسَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ إِلَی أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يُسْتَرُ بِثَوْبٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْکَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُکَ کَيْفَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَی الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّی بَدَا لِي رَأْسُهُ ثُمَّ قَالَ لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ اصْبُبْ فَصَبَّ عَلَی رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّکَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ هَکَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ
عبداللہ بن حنین سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ نے اختلاف کیا ابوا میں تو کہا عبداللہ بن عباس نے محرم اپنا سر دھو سکتا ہے مسور بن مخرمہ نے کہا نہیں دھو سکتا ہے کہ عبداللہ بن حنین کو بھیجا عبداللہ بن عباس نے ابوایوب انصاری کے پاس تو پایا میں نے ان کو غسل کرتے ہوئے دو لکڑیوں کے بیچ میں جو کنوئیں پر لگی ہوتی ہیں اور وہ پردہ کئے ہوئے تھے ایک کپڑے کو تو سلام کیا میں نے ان کو، پوچھا انہوں نے کون ہے یہ میں نے کہا عبداللہ بن حنین ہوں مجھ کو بھیجا ہے عبداللہ بن عباس نے تاکہ تم سے پوچھوں کس طرح غسل کرتے تھے رسول اللہ ﷺ جب وہ محرم ہوتے تھے تو ابوایوب نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھ کر سر سے کپڑا ہٹایا یہاں تک کہ ان کا سر مجھ کو دکھائی دینے لگا پھر کہا انہوں نے ایک آدمی سے جو پانی ڈالتا تھا ان پر کہ پانی ڈال تو پانی ڈالا اس نے ان کے سر پر اور انہوں نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے ملا کر آگے لائے پھر پیچھے لے گئے اور کہا کہ ایسا ہی دیکھا تھا میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے ہوئے۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ibrahim ibn Abdullah ibn Hunayn from his father Abdullah ibn Hunayn that Abdullah ibn Abbas and al-Miswar ibn Makhrama once had a disagreement at al-Abwa. Abdullah said that some one in ihram could wash his head, and al Miswar ibn Makhrama maintained that some one in ihram could not wash his head. Abdullah ibn Hunayn continued, "Abdullah ibn Abbas sent me to Abu Ayyub al-Ansari, and I found him doing ghusl between the posts of a well, screened by a garment. I greeted him and hesaid, Who is that? I replied, I am Abdullah ibn Hunayn. Abdullah ibn Abbas sent me to you to ask how the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to wash his head when he was in ihram. " He continued, "Abu Ayyub put his hand on the garment and pulled it down until I could see his head. He said to the man who was pouring out the water for him, Pour, and he poured some over his head. Then he passed his hands over his head from the front to the back and then to the front again, and then said, I saw the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, doing it like this. "
عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِيَعْلَی بْنِ مُنْيَةَ وَهُوَ يَصُبُّ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مَائً وَهُوَ يَغْتَسِلُ اصْبُبْ عَلَی رَأْسِي فَقَالَ يَعْلَی أَتُرِيدُ أَنْ تَجْعَلَهَا بِي إِنْ أَمَرْتَنِي صَبَبْتُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اصْبُبْ فَلَنْ يَزِيدَهُ الْمَائُ إِلَّا شَعَثًا
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے کہا یعلی بن منبہ کے اور وہ پانی ڈالا کرتے جب حضرت عمر غسل کرتے تھے کہ پانی ڈال میرے سر پر یعلی نے کہا تم چاہتے ہو کہ گناہ مجھ پر ہو اگر تم حکم کرو تو میں ڈالوں حضرت عمر نے کہا ڈال کیونکہ پانی ڈالنے سے اور کچھ نہ ہوگا مگر بال اور زیادہ پریشان ہوں گے۔
Malik related to me from Humayd ibn Qays from Ata ibn Abi Rabah that Umar ibn alKhattab once asked Yala ibn Munya, who was pouring out water for him while he was having a ghusl, to pour some on his head. Yala said, "Are you trying to make me responsible? I will only pour it out if you tell me to do so." Umar ibn al-Khattab said, "Pour. It will only make (my head) more unkempt."
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا دَنَا مِنْ مَکَّةَ بَاتَ بِذِي طُوًی بَيْنَ الثَّنِيَّتَيْنِ حَتَّی يُصْبِحَ ثُمَّ يُصَلِّي الصُّبْحَ ثُمَّ يَدْخُلُ مِنْ الثَّنِيَّةِ الَّتِي بِأَعْلَی مَکَّةَ وَلَا يَدْخُلُ إِذَا خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا حَتَّی يَغْتَسِلَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَکَّةَ إِذَا دَنَا مِنْ مَکَّةَ بِذِي طُوًی وَيَأْمُرُ مَنْ مَعَهُ فَيَغْتَسِلُونَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلُوامکه عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ لَا يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ إِلَّا مِنْ الْاحْتِلَامِ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب نزدیک ہوتے مکہ کے ٹھہر جاتے ذی طوی میں دو گھاٹیوں کے بیچ میں یہاں تک کہ صبح ہوجاتی تو نماز پڑھتے صبح کی پھر داخل ہوتے مکہ میں اس گھاٹی کی طرف سے جو مکہ کے اوپر کی جانب میں ہے اور جب حج یا عمرہ کے ارادے سے آتے تو مکہ میں داخل نہ ہوتے جب تک غسل نہ کرلیتے ذی طوی میں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہوتے ان کو بھی غسل کا حکم کرتے قبل مکہ میں داخل ہونے کے۔
Malik related to me from Nafi that Abdullah ibn Umar would spend the night between the two trails in the valley of Dhu Tuwa when he was approaching Makka. Then he would pray subh, and after that he would enter Makka by the trail which is at the highest part of Makka. He would never enter Makka, if he was coming for hajj or umra, without doing ghusl beforehand when he was near Makka at Dhu Tuwa, and he would tell whoever was with him to do likewise.
و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ لَا يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ إِلَّا مِنْ الْاحْتِلَامِ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نہیں دھوتے تھے اپنے سر کو احرام کی حالت میں مگر جب احتلام ہوتا۔
جن کپڑوں کا احرام میں پہننا ممنوع ہے ان کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنْ الثِّيَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنْ الْکَعْبَيْنِ وَلَا تَلْبَسُوا مِنْ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا رسول اللہ ﷺ سے محرم کون سے کپڑے پہنے تو فرمایا آپ ﷺ نے نہ پہنو قمیص اور نہ باندھو عمامہ اور نہ پہنو پائجامہ اور نہ ٹوپی اور نہ موزہ مگر جس کو چپل نہ ملے تو وہ اپنے موزوں کو پہن لے اور ان کو کاٹ ڈالے اس طرح کہ ٹخنے کھلے رہیں اور نہ پہنو ان کپڑوں کو جن میں زعفران لگی ہو اور ورس۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that a man once asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, what clothes someone in ihram could wear, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do not wear shirts, turbans, trousers, burnouses, or leather socks, except if you cannot find sandals. In that case you can wear leather socks, but cut them off below the ankles. Do not wear any clothes that have been touched by saffron or yellow dye." Yahya said that Malik was asked about the hadith attributed to the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, "Whoever cannot find a waist wrapper should wear trousers," and he said, "I have never heard this, and I do not think that some one who is in ihram can wear trousers, because among the things which the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, forbade some one in ihram to wear were trousers, and he did not make any exception for them although he did make an exception for leather socks." 20.4 Wearing Clothes when in Ihram
احرام میں رنگین کپڑے پہننے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ وَقَالَ مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنْ الْکَعْبَيْنِ
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے کہ محرم رنگا ہوا کپڑا زعفران میں ورس میں پہنے اور فرمایا آپ ﷺ نے جس کو نعلین نہ ملیں وہ موزے پہن لے مگر اس کو ٹخنوں سے نیچا کر کے کاٹ لے۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Dinar that Abdullah ibn Umar said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade anyone in ihram to wear a garment which had been dyed with saffron or yellow dye, and said, Anyone that cannot find sandals can wear leather socks, but he should cut them off below the ankles. "
احرام میں رنگین کپڑے پہننے کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَسْلَمَ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَی عَلَی طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ثَوْبًا مَصْبُوغًا وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ عُمَرُ مَا هَذَا الثَّوْبُ الْمَصْبُوغُ يَا طَلْحَةُ فَقَالَ طَلْحَةُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّمَا هُوَ مَدَرٌ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّکُمْ أَيُّهَا الرَّهْطُ أَئِمَّةٌ يَقْتَدِي بِکُمْ النَّاسُ فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا جَاهِلًا رَأَی هَذَا الثَّوْبَ لَقَالَ إِنَّ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ کَانَ يَلْبَسُ الثِّيَابَ الْمُصَبَّغَةَ فِي الْإِحْرَامِ فَلَا تَلْبَسُوا أَيُّهَا الرَّهْطُ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الثِّيَابِ الْمُصَبَّغَةِ
نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا اسلم سے جو مولیٰ تھے عمر بن خطاب کے حدیث بیان کرتے تھے عبداللہ بن عمر سے کہ عمر بن خطاب نے دیکھا طلحہ بن عبیداللہ کو رنگین کپڑے پہنے ہوئے احرام میں تو پوچھا حضرت عمر نے کیا یہ کپڑا رنگا ہوا ہے طلحہ، طلحہ نے کہا اے امیر المومنین یہ مٹی کا رنگ ہے حضرت عمر نے کہا تم لوگ پیشوا ہو لوگ تمہاری پیروی کرتے ہیں اگر کوئی جاہل جو اس رنگ سے واقف نہ ہو اس کپڑے کو دیکھے تو یہی کہے گا کہ طلحہ بن عبیداللہ رنگین کپڑے پہنتے تھے احرام میں، تو نہ پہنو تم لوگ ان رنگین کپڑوں میں سے کچھ۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that he had heard Aslam, the mawla of Umar ibn al-Khattab, telling Abdullah ibn Umar that Umar ibn al-Khattab once saw a dyed garment on Talha ibn Ubaydullah while he was in ihram and Umar said, "What is this dyed garment, Talha?", and Talha said, "Amir al-muminin, it is only mud. Umar said, "You and your like are taken by people as imams, and if an ignorant man were to see this garment he would say that Talha ibn Ubaydullah used to wear a dyed robe while he was in ihram. So do not wear any form of dyed clothes."
احرام میں رنگین کپڑے پہننے کا بیان
عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّهَا کَانَتْ تَلْبَسُ الثِّيَابَ الْمُعَصْفَرَاتِ الْمُشَبَّعَاتِ وَهِيَ مُحْرِمَةٌ لَيْسَ فِيهَا زَعْفَرَانٌ
اسما بنت ابوبکر خوب گہرے کسم کے رنگے ہوئے کپڑے پہنتی تھیں احرام میں لیکن زعفران اس میں نہ ہوتی تھیں۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that Asma bint Abi Bakr had worn clothes that were completely dyed with safflower while she was in ihram, though there was not any saffron in them. Yahya said that Malik was asked if a garment which had been perfumed could be used for ihram if the smell of the perfume had gone, and he said, "Yes, as long as there is no saffron or yellow dye in it."
محرم کو پیٹی باندھنے کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَکْرَهُ لُبْسَ الْمِنْطَقَةِ لِلْمُحْرِمِ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر مکروہ جانتے تھے پیٹی کا باندھنا واسطے محرم کے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to disapprove of anybody wearing a belt or girdle while in ihram.
محرم کو پیٹی باندھنے کا بیان
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ فِي الْمِنْطَقَةِ يَلْبَسُهَا الْمُحْرِمُ تَحْتَ ثِيَابِهِ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِکَ إِذَا جَعَلَ طَرَفَيْهَا جَمِيعًا سُيُورًا يَعْقِدُ بَعْضَهَا إِلَی بَعْضٍ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سعد بن مسیب کہتے تھے کہ اگر محرم اپنے کپڑوں کے نیچے پیٹی باندھے تو کچھ قباحت نہیں ہے جب اس کے دونوں کناروں میں تسمے ہوں وہ ایک دوسرے سے باندھ دیئے جاتے ہوں۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that he heard Said ibn al Musayyab say, about the girdle worn by some one in ihram under his clothes, "There is no harm in it if he ties the ends together as a belt." Malik said, "This is what I like most out of what I have heard about the matter."
محرم کو اپنا منہ ڈھانپنا کیسا ہے
عَنْ الْفُرَافِصَةُ بْنُ عُمَيْرٍ الْحَنَفِيُّ أَنَّهُ رَأَی عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ بِالْعَرْجِ يُغَطِّي وَجْهَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ
فرافصہ بن عمیر حنفی سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا عثمان بن عفان کو عرج (ایک گاؤں کا نام ہے مدینہ سے تین منزل پر) میں ڈھانپتے تھے منہ اپنا احرام میں
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that al-Qasim ibn Muhammad said that al-Furafisa ibn Umayr al-Hanafi saw Uthman ibn Affan at al-Arj, and he was covering his face while in ihram.